An-Nisaa 4:48

An-Nisaa · from ayah 48

4:48

اِنَّ اللّٰهَ لَا یَغْفِرُ اَنْ یُّشْرَكَ بِهٖ وَیَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِكَ لِمَنْ یَّشَآءُ ۚ— وَمَنْ یُّشْرِكْ بِاللّٰهِ فَقَدِ افْتَرٰۤی اِثْمًا عَظِیْمًا ۟اِنَّ اللّٰهَ لَا يَغۡفِرُ اَنۡ يُّشۡرَكَ بِهٖ وَيَغۡفِرُ مَا دُوۡنَ ذٰ لِكَ لِمَنۡ يَّشَآءُ‌ ۚ وَمَنۡ يُّشۡرِكۡ بِاللّٰهِ فَقَدِ افۡتَـرٰۤى اِثۡمًا عَظِيۡمًا‏

خدا اس گناہ کو نہیں بخشے گا کہ کسی کو اس کا شریک بنایا جائے اور اس کے سوا اور گناہ جس کو چاہے معاف کردے اور جس نے خدا کا شریک مقرر کیا اس نے بڑا بہتان باندھا

— Fateh Muhammad Jalandhari

Indeed, Allah does not forgive association with Him, but He forgives what is less than that for whom He wills. And he who associates others with Allah has certainly fabricated a tremendous sin.

— Saheeh International

Juz 5 · Ruku 7 of surah · Ruku 4 of juz

Read the whole surah · Surah An-Nisaa

All translations of 4:48

اللہ بس شرک ہی کو معاف نہیں کرتا، اِس کے ماسوا دوسرے جس قدر گناہ ہیں وہ جس کے لیے چاہتا ہے معاف کر دیتا ہے اللہ کے ساتھ جس نے کسی اور کو شریک ٹھیرایا اُس نے تو بہت ہی بڑا جھوٹ تصنیف کیا اور بڑے سخت گناہ کی بات کی

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

خدا اس گناہ کو نہیں بخشے گا کہ کسی کو اس کا شریک بنایا جائے اور اس کے سوا اور گناہ جس کو چاہے معاف کردے اور جس نے خدا کا شریک مقرر کیا اس نے بڑا بہتان باندھا

— مولانا فتح محمد جالندہری

یقیناً اللہ تعالیٰ اپنے ساتھ شریک کئے جانے کو نہیں بخشتا اور اس کے سوا جسے چاہے بخش دیتا ہے اور جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک مقرر کرے اس نے بہت بڑا گناه اور بہتان باندھا

— مولانا محمد جوناگڑہی

بیشک اللہ اس بات کو معاف نہیں کرتا کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرایا جائے، اور اس سے کمتر ہر بات کو جس کے لیے چاہتا ہے معاف کردیتا ہے۔ اور جو شخص اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہراتا ہے وہ ایسا بہتان باندھتا ہے جو بڑا زبردست گناہ ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

بیشک اللہ اسے نہیں بخشتا کہ اس کے ساتھ کفر کیا جائے اور کفر سے نیچے جو کچھ ہے جسے چاہے معاف فرمادیتا ہے اور جس نے خدا کا شریک ٹھہرایا اس نے بڑا گناہ کا طوفان باندھا،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

بیشک اللہ اِس بات کو نہیں بخشتا کہ اس کے ساتھ شرک کیا جائے اور اس سے کم تر (جو گناہ بھی ہو) جس کے لئے چاہتا ہے بخش دیتا ہے، اور جس نے اللہ کے ساتھ شرک کیا اس نے واقعۃً زبردست گناہ کا بہتان باندھا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

بیشک اللہ اس بات کو نہیں بخشے گا کہ اس کا شریک بنایا جائے اور وہ بخش دے گا جو اس کے علاوہ ہے، جسے چاہے گا اور جو اللہ کا شریک بنائے تو یقینا اس نے بہت بڑا گناہ گھڑا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اگر اللہ کے ساتھ کسی کو شریک کیا جائے تو یہ گناہ وہ کبھی معاف نہ کرے گا اور اس کے علاوہ جو گناہ ہیں، وہ جسے چاہے معاف بھی کردیتا ہے اور جس نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک بنایا اس نے بہتان باندھا۔ اور بہت بڑے گناہ کا کام کیا

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اللہ اس بات کو نہیں بخشے گا کہ اس کا شریک ٹھہرایا جائے۔ اس کے سوا جو کچھ ہے اس کو جس کے لیے چاہے گا بخش دے گا اور جو اللہ کا شریک ٹھہراتا ہے وہ ایک بہت بڑے گناہ کا افترا کرتا ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

بیشک اللہ نہیں بخشتا اس (جرم) کو اس کے ساتھ شرک کیا جائے (کہ شرک بغاوت ہے) اور وہ بخش دے گا اسکے سوا دوسرے گناہوں کو جس کے لیے چاہے گا، اور جس نے شرک کیا اللہ کے ساتھ تو یقینا اس نے ارتکاب کیا بہت بڑے گناہ کا،

— مولانا اسحاق مدنی

اللہ اس کو تو بیشک نہ بخشے گا کہ اس کے ساتھ شرک کیا جائے۔ لیکن اس کے علاوہ جس کسی کو بھی چاہے گا بخش دے گا اور جو کوئی (کسی کو) اللہ کا شریک ٹھہراتا ہے اس نے یقیناً ایک بڑا گناہ سمیٹا۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

یقیناً اللہ اس بات کو ہرگز نہیں بخشے گا کہ اس کے ساتھ شرک کیا جائے اس سے کم تر جو کچھ ہے وہ جس کے لیے چاہے گا بخش دے گا اور جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرتا ہے اس نے تو بہت بڑے گناہ کا افترا کیا

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اللہ بس شرک کو ہی معاف نہیں کرتا، اس کے ماسوا دوسرے جس قدر گناہ ہیں وہ جس کے لیے چاہتا ہے معاف کردیتا ہے۔ اللہ کے ساتھ جس نے کسی اور کو شریک ٹھہرایا اس نے تو بہت ہی بڑا جھوٹ باندھا اور بڑے سخت گناہ کی بات کی

— محترمہ رفعت اعجاز

Surely Allah does not forgive that a partner be ascribed to Him, although He forgives any other sins for whomever He wills. He who associates anyone with Allah in His divinity has indeed forged a mighty lie and committed an awesome sin.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Surely, Allah does not forgive that a partner is ascribed to Him, and He forgives anything short of that for whomsoever He wills. Whoever ascribes a partner to Allah commits a terrible sin.

— Muhammad Taqi Usmani

Surely, Allah does not forgive that a partner is ascribed to Him, and He forgives anything short of that for whomsoever He wills. Whoever ascribes a partner to Allah commits a terrible sin.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Verily, Allah forgives not that partners should be set up with Him (in worship), but He forgives except that to whom He wills; and whoever sets up partners with Allah in worship, he has indeed invented a tremendous sin.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Lo! Allah forgiveth not that a partner should be ascribed unto Him. He forgiveth (all) save that to whom He will. Whoso ascribeth partners to Allah, he hath indeed invented a tremendous sin.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Indeed, Allah does not forgive association with Him, but He forgives what is less than that for whom He wills. And he who associates others with Allah has certainly fabricated a tremendous sin.

— Saheeh International

God does not forgive the sin of considering others equal to Him, but He may choose to forgive other sins. Whoever believes in other gods besides Him has indulged in a great sin.

— Muhammad Sarwar

Surely Allah does not forgive that anything should be associated with Him, and forgives what is besides that to whomsoever He pleases; and whoever associates anything with Allah, he devises indeed a great sin.

— Muhammad Habib Shakir

Verily Allah shall not Forgive that aught be associated with Him, and He will forgive all else unto whomsoever He listeth. And whosoever associateth aught with Allah, he hath of a surety fabricated a mighty sin.

— Abdul Majid Daryabadi

Allah forgiveth not that partners should be set up with Him; but He forgiveth anything else, to whom He pleaseth; to set up partners with Allah is to devise a sin Most heinous indeed.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 4:48

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 47–50

قرآن حکیم کا اعجاز تاثیر اللہ عزوجل یہود و نصاریٰ کو حکم دیتا ہے کہ میں نے اپنی زبردست کتاب اپنے بہترین نبی کے ساتھ نازل فرمائی ہے جس میں خود تمہاری اپنی کتاب کی تصدیق بھی ہے اس پر ایمان لاؤ اس سے پہلے کہ ہم تمہاری صورتیں مسخ کردیں یعنی منہ بگاڑ کردیں آنکھیں بجائے ادھر کے ادھر ہوجائیں، یا یہ مطلب کہ تمہارے چہرے مٹادیں آنکھیں کان ناک سب مٹ جائیں پھر یہ مسخ چہرہ بھی الٹا ہوجائے۔ یہ عذاب ان کے بد اعمال کا بدلہ ہے یہی وجہ ہے کہ یہ حق سے ہٹ کر باطل کی طرف ہدایت سے پھر کر ضلالت کی جانب بڑھے چلے جا رہے ہیں بایں ہمہ اللہ تعالیٰ انہیں احساس دلا رہے ہیں کہ اب بھی باز آجاؤ اور اپنے سے پہلے ایسی حرکت…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 48–50

سورة النِّسَآء 79 یہ اس لیے فرمایا کہ اہل کتاب اگرچہ انبیاء اور کتب آسمانی کی پیروی کے مدعی تھے مگر شرک میں مبتلا ہوگئے تھے۔ سورة النِّسَآء 80 اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آدمی بس شرک نہ کرے باقی دوسرے گناہ دل کھول کر کرتا رہے۔ بلکہ دراصل اس سے یہ بات ذہن نشین کرانی مقصود ہے کہ شرک، جس کو ان لوگوں نے بہت معمولی چیز سمجھ رکھا تھا، تمام گناہوں سے بڑا گناہ ہے حتٰی کہ اور گناہوں کی معافی تو ممکن ہے مگر یہ ایسا گناہ ہے کہ معاف نہیں کیا جاسکتا۔ علماء یہود شریعت کے چھوٹے چھوٹے احکام کا تو بڑا اہتمام کرتے تھے، بلکہ ان کا سارا وقت ان جزئیات کی ناپ تول ہی میں گزرتا تھا جو ان کے فقیہوں سے استنباط در استنباط…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

خلاصہ تفسیر بیشک اللہ تعالیٰ اس بات کو (سزا دے کر بھی) نہ بخشیں گے کہ ان کے ساتھ کسی کو شریک قرار دیا جائے (بلکہ ہمیشہ دائمی سزا میں مبتلا رکھیں گے) اور اس کے سوا اور جتنے گناہ ہیں (خواہ صغیر ہوں یا کبیرہ) جس کے لئے منظور ہوگا (بلا سزا) وہ گناہ بخش دیں گے، (البتہ اگر وہ مشرک مسلمان ہوجائے تو پھر مشرک ہی نہ رہا اب وہ سزا دائمی بھی نہ رہے گی) اور (وجہ اس شرک کے نہ بخشنے کی یہ ہے کہ) جو شخص اللہ تعالیٰ کے ساتھ (کسی کو) شریک ٹھہراتا ہے وہ بڑے جرم کا مرتکب ہوا (جو اپنے عظیم ہونے کی وجہ سے قابل مغفرت نہیں۔) (اے مخاطب) کیا تو نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا (یعنی تعجب کے قابل ہیں) جو اپنے کو مقدس بتلاتے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 47–50

يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ اٰمِنُوْا بِمَا نَزَّلْنَا مُصَدِّقًا لِّمَا مَعَكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ نَّطْمِسَ وُجُوْهًا فَنَرُدَّھَا عَلٰٓي اَدْبَارِھَآ اَوْ نَلْعَنَھُمْ كَمَا لَعَنَّآ اَصْحٰبَ السَّبْتِ ۭوَكَانَ اَمْرُ اللّٰهِ مَفْعُوْلًا۔ چہروں کو مسخ کردینے کی علت : ’ طمس الشیء ‘ کے معنی ہیں کسی شے کے آثار و علامات کو مٹا دینا۔ چہروں کو مٹا دینے کے معنی یہ ہیں کہ یہ جو آنکھ، کان، ناک اور منہ کے نشانات ہیں یہ سب مٹا کر برابر کردیے جائیں اس لیے کہ اللہ نے یہ قوتیں نہایت اعلی مقصد سے بخشی تھیں لیکن جب ان سے وہ کام نہیں لیا گیا جس کے لیے یہ عطا ہوئیں تھیں بلکہ اس کے بالکل برعکس…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

48۔ 1 یعنی ایسے گناہ جن سے مومن توبہ کئے بغیر مرجائیں، اللہ تعالیٰ اگر کسی کے لئے چاہے گا، تو بغیر کسی قسم کی سزا دیئے معاف فرما دے گا اور بہت سوں کو نبی ﷺ کی شفاعت پر معاف فرما دے گا۔ لیکن شرک کسی صورت میں معاف نہیں ہوگا کیونکہ مشرک پر اللہ نے جنت حرام کردی ہے۔ (2) دوسرے مقام پر فرمایا (اِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيْمٌ) 31:13" شرک ظلم عظیم ہے " حدیث میں اسے سب سے بڑا گناہ قرار دیا گیا ہے۔ اکبر الکبائر الشرک باللہ۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

35: یعنی شرک سے کم کسی گناہ کو اللہ تعالیٰ جب چاہے توبہ کے بغیر بھی محض اپنے فضل سے معاف کرسکتا ہے ؛ لیکن شرک کی معافی اس کے بغیر ممکن نہیں کہ مشرک اپنے شرک سے سچی توبہ کرکے موت سے پہلے پہلے اسلام قبول کرکے توحید پر ایمان لے آئے

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

(آیت) ” نمبر : 47 تا 48۔ اہل کتاب کو ان کی صفت اہل کتاب سے پکارا گیا ‘ اس لئے کہ اس صفت کا تقاضا یہ تھا کہ وہ سب سے پہلے دعوت اسلامی کو قبول کرتے اور سب سے پہلے مسلمان بن جاتے ۔ (آیت) ” یایھا الذین اوتوالکتب امنوا بما نزلنا مصدقالما معکم “۔ (4 : 47) ” اے وہ لوگو جنہیں کتاب دی گئی تھی ‘ مان لو اس کتاب کو جو ہم نے اب نازل کی ہے اور جو اس کتاب کی تصدیق وتائید کرتی ہے جو تمہارے پاس پہلے سے موجود تھی “۔ چونکہ ان کو کتاب دی گئی ہے ‘ اس لئے انکے لئے ہدایت قبول کرنا کوئی انوکھی بات نہیں ہے اس لئے کہ جس اللہ نے انہیں کتاب دی ہے وہی اب انہیں دعوت ایمان دے رہا ہے کہ اس کتاب پر بھی ایمان لاؤ جو تمہارے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

5 یعنی مشرک کبھی نہیں بخشا جاتا بلکہ اس کی سزا دائمی ہے البتہ شرک سے نیچے جو گناہ ہیں صغیرہ ہوں یا کبیرہ وہ سب قابل مغفرت ہیں۔ اللہ تعالیٰ جس کی مغفرت چاہے اس کے صغیرہ کبیرہ گناہ بخش دیتا ہے کچھ عذاب دیکر یا بلا عذاب دیے۔ اشارہ اسکی طرف ہے کہ یہود چونکہ کفر اور شرک میں مبتلا ہیں وہ مغفرت کی توقع نہ رکھیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 48 اِنَّ اللّٰہَ لاَ یَغْفِرُ اَنْ یُّشْرَکَ بِہٖ وَیَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِکَ لِمَنْ یَّشَآءُ ج گویا یہ بھی کھلا لائسنس نہیں ہے کہ آپ سمجھ لیں کہ باقی سب گناہ تو معاف ہو ہی جائیں گے۔ اس کی امید دلائی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ باقی تمام گناہوں کو بغیر توبہ کے بھی معاف کرسکتا ہے ‘ لیکن شرک کے معاف ہونے کا کوئی امکان نہیں۔ وَمَنْ یُّشْرِکْ باللّٰہِ فَقَدِ افْتَرآی اِثْمًا عَظِیْمًا اللہ تعالیٰ تو واحد و یکتا ہے۔ اس کی ذات وصفات میں کسی اور کو شریک کرنا بہت بڑا جھوٹ ‘ افترا اور بہتان ہے ‘ اور عظیم ترین گناہ ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

80 شرک ناقابل معافی جرم :۔ یہاں شرک کا ذکر اس لیے آیا ہے کہ یہود و نصاریٰ دونوں ہی مشرک تھے۔ اگرچہ دعویٰ توحید کا کرتے تھے اور شرک ہی سب گناہوں سے بڑا گناہ ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے حتمی طور پر وعید سنا دی ہے کہ یہ ناقابل معافی جرم ہے۔ اب شرک سے متعلق چند احادیث ملاحظہ فرمائیے : 1۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے پوچھا یا رسول اللہ ﷺ ! سب سے بڑا گناہ کونسا ہے ؟ آپ نے فرمایا یہ کہ تم اللہ کا شریک بناؤ۔ حالانکہ اس نے تمہیں پیدا کیا ہے۔ (بخاری، کتاب المحاربین۔ باب اثم الزناۃ۔۔ ، مسلم۔ کتاب الایمان۔ باب بیان کون الشرک اقبح الذنوب 2۔ سیدنا ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ آپ نے فرمایا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

158 ۔ (سو مشرک عذاب دائمی میں مبتلا رہے گا) مشرک کی نجات کی کوئی صورت ہی نہیں، اس نے جنت کی نعمتوں کے قبول کرنے کی استعداد وصلاحیت ہی اپنے میں باقی نہ رکھی۔ 159 ۔ (اور اس جرم عظیم کی بنا پر وہ قابل مغفرت نہ ہوگا) (آیت) ” افتری اثما “۔ گناہ سمیٹا کا محاورہ خاص اس مفہوم کے ادا کرنے کو ہے۔ (آیت) ” مادون ذلک “۔ یعنی اور جتنے بھی گناہ ہوسکتے ہیں، وہ بہرحال شرک سے کمتر ہی ہوں گے۔ (آیت) ” یغفرلمن یشآء “۔ یعنی شرک تو آسمانی حکومت سے صریح بغاوت کے مرادف ہے، بس اسے چھوڑ کر باقی ہر معصیت مغفرت کی گنجائش رکھتی ہے اور جس کسی کے حق میں مشیت الہی ہوگی اسے معافی مل جائے گی، خواہ اس نے توبہ نہ بھی کی، وقد…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 44–50

الم تَرَالی الذین اوتوانصیباً من الکتاب، (الآ یة) علماء اہل کتاب کے متعلق قرآن نے اکثر یہ الفاظ استعمال کئے ہیں کہ '' انھیں کتاب کے علم کا کچھ حصہ دیا گیا ہے '' اس کی وجہ یہ ہے کہ اول تو انہوں نے کتاب الہٰی کا ایک بڑا حصہ گم کردیا تھا، پھر کتاب الہٰی کا جو کچھ حصہ ان کے پاس موجود تھا اس کی روح اور اس کے مقصد و مدعا سے وہ بیگانے ہوچکے تھے۔ یُحَرِّ فون الکلمَ عن مواضعہ، اس کے تین مطلب ہیں، ایک یہ کہ کتاب اللہ کے الفاظ میں ردوبدل کردیتے، دوسرے یہ کہ تاویلات فاسدہ سے کتاب اللہ کے معنی کچھ سے کچھ بنا دیتے، تیسرے یہ کہ لوگ محمد ﷺ کی صحبت میں آکر آپ کی باتیں سنتے اور واپس جا کر غلط طریقہ سے بیان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ان اللہ لا یغفر ان یشرک بہ . اللہ تعالیٰ شرک کو معاف نہیں کرے گا خواہ شرک اس طرح ہو کہ کسی دوسرے کو واجب الوجود (ازلی ابدی لافانی) مانا جائے یا معبود قرار دیا جائے لیکن شرک کی عدم مغفرت اس شرط پر ہے کہ مرتے دم تک مشرک شرک پر قائم رہا ہو لیکن اگر شرک سے توبہ کرلی ہو اور ایمان لے آیا ہو تو گزشتہ شرک و معصیت کو بخش دیا جائے گا۔ اجماع علماء یہی ہے۔ گناہ سے توبہ کرنے والا بےگناہ کی طرح ہوجاتا ہے گویا اس سے کبھی گناہ ہوا ہی نہ تھا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے قُلْ لِلَّذِیْنَ کَفَرُوْا اِنْ یَنْتَہُوْا یُغْفَرْ لَہُمْ مَا قَدْ سَلَفَکافروں سے کہہ دو کہ اگر وہ کفر سے باز آجائیں گے تو گزشتہ کفر و گناہ معاف…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(48) اگر تمہیں کفر پر موت آجائے تو تمہاری ہرگز مغفرت نہیں ہوگی، یہ آیت حضرت حمزہ ؓ رسول اکرم ﷺ کے چچا کے قاتل وحشی کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ شان : (آیت) ”ان اللہ لایغفر ان یشرک بہ“۔ (الخ) ابن ابی حاتم ؒ اور طبرانی ؒ نے ابو ایوب انصاری ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آکر عرض کیا کہ میرا بھتیجا حرام کاموں سے باز نہیں آتا آپ نے فرمایا اس کا دین کیا ہے اس شخص نے کہا کہ وہ توحید خداوندی کا قائل ہے اور نماز پڑھتا ہے، حضور ﷺ نے فرمایا اس سے اس کا دین مفت مانگو اور اگر مفت دینے سے انکار کرے تو اس سے خرید لو (مفت سے مراد یہ ہے کہ اگر دین اس کے نزدیک بےقدر بےوقعت ہو تو وہ دین…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

اِنَّ اللّٰهَ لَا يَغْفِرُ۔۔ : یہود کو وعید اور ڈانٹ سنانے کے بعد اب اس آیت میں اشارہ فرمایا کہ یہ وعید ایمان نہ لانے اور کفر و شرک کی وجہ سے ہے، ورنہ دوسرے گناہ تو قابل معافی ہیں اور اللہ تعالیٰ کی مرضی کے تحت ہیں، جسے اللہ چاہے گا معاف فرما دے گا، جسے چاہے گا سزا دے کر چھوڑ دے گا، مگر شرک کی معافی نہیں، کیونکہ مشرک پر اللہ تعالیٰ نے جنت حرام کردی ہے۔ (دیکھیے مائدہ : 72) یہود و نصاریٰ کی طرح نام کے مسلمان، جو ایسے شرک کا ارتکاب کرتے ہیں جس سے انسان ملت اسلام سے خارج ہوجاتا ہے، جو مصیبت کے وقت غیر اللہ کو پکارتے، اٹھتے بیٹھتے ان کے نام کا وظیفہ کرتے ہیں، ان کے نام کا روزہ رکھتے، ان کی قبروں…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 45–53

سابقہ آیت کی بقیہ تفسیر اور ترمذی میں حضرت علی بن ابی طالب سے مروی ہے فرمایا : ” قرآن میں مجھے اس آیت سے زیادہ کوئی محبوب آیت نہیں ہے۔ (آیت) ” ان اللہ لا یغفر ان یشرک بہ ویغفر ما دون ذالک لمن یشآء “۔ فرمایا : یہ حدیث حسن غریب ہے (3) (جامع ترمذی، ابواب التفسیر جلد 2، صفحہ 129) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” الم ترالی الذین یزکون انفسھم “۔ اس میں تین مسائل ہیں : مسئلہ نمبر : (1) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” الم ترالی الذین یزکون انفسھم “۔ یہ لفظ اپنے ظاہر میں عام ہے اور کبھی اور حسن نے کہا : ان کا یہ قول ہے۔ (آیت) ” نحن ابنؤا اللہ واحبآؤہ “۔ (المائدہ : 18) (ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے محبوب…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

(1) ابن ابی حاتم والطبرانی نے ابو ایوب انصاری ؓ سے روایت کیا کہ ایک آدمی نبی ﷺ کے پاس آیا اور کہا کہ میرا ایک بھتیجا ہے جو حرام سے نہیں رکتا، آپ نے فرمایا اس کا دین کیا ہے اس نے کہا وہ نماز پڑھتا ہے اور اللہ تعالیٰ کو ایک مانتا ہے آپ نے فرمایا جاؤ اس سے اس کا دین ہبہ کے طور پر لے لو اگر وہ انکار کرے تو اس سے خرید لو۔ آدمی نے جا کر اس سے مطالبہ کیا تو اس نے انکار کردیا وہ آدمی نبی ﷺ کے پاس آیا اور آپ کو خبر دی تو آپ نے فرمایا میں نے اسے اپنے دین پر حریص پایا تو (یہ آیت) نازل ہوئی لفظ آیت ” ان اللہ لا یغفر ان یشرک بہ ویغفر ما دون ذلک لمن یشاء “۔ (2) ابن جریر وابن ابی حاتم والبزار نے ابن عمر ؓ…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ اِنَّ اللّٰہَ : یقینا اللہ ] [ لاَ یَغْفِرُ : نہیں بخشے گا ] [ اَنْ : (اس کو) کہ ] [ یُّشْرَکَ : شریک کیا جائے (کچھ بھی) ] [ بِہٖ : اس کے ساتھ ] [ وَیَغْفِرُ : اور وہ بخش دے گا ] [ مَا : اس کو جو ] [ دُوْنَ ذٰلِکَ : اس کے علاوہ ہے ] [ لِمَنْ : جس کے لیے ] [ یَّشَآئُ : وہ چاہے گا ] [ وَمَنْ : اور جو ] [ یُّشْرِکْ : شرک کرتا ہے ] [ بِاللّٰہِ : اللہ کے ساتھ ] [ فَقَدِ افْتَرٰٓی : تو اس نے جھوٹ گھڑا ہے ] [ اِثْمًا عَظِیْمًا : ایک عظیم گناہ ہوتے ہوئے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

شرک بہت بڑا گناہ ہے اور مشرک کی بخشش نہیں ہو گی اس آیت میں اس بات کا واضح طور پر اعلان فرما دیا کہ شرک کرنے والا جو بغیر ایمان لائے مرجائے اس کی بخشش کبھی نہ ہوگی۔ اور شرک کے علاوہ دوسرے جو گناہ ہیں اللہ جن کو چاہے گا معاف فرما دے گا اور جس گناہ پر چاہے گا عذاب دے گا، شرک بہت ہی بڑا جرم ہے۔ پیدا کیا اللہ نے زندہ وہ رکھے کھانے پینے کو وہ دے حاجتیں وہ پوری کرے اور عبادت میں یا استعانت میں یا ایسی تعظیم میں جو اللہ تعالیٰ ہی کے لیے زیبا ہے دوسروں کو شریک کرلیا جائے عقلی طور پر بھی یہ بہت بڑی حماقت ہے اور سفاہت ہے اور ناانصافی ہے قرآن مجید میں جگہ جگہ توحید کا حکم فرمایا صرف اللہ تعالیٰ کو خالق…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 47–48

اہل کتاب کو نصیحت اور ایمان کی دعوت۔ قال تعالی، یا ایھا الذین اوتوالکتاب۔۔۔ الی۔۔۔۔ عظیما۔ آیت۔ ربط۔ گزشتہ آیات میں اللہ نے اہل کتاب کی باطنی خباثتوں اور ظاہری شرارتوں کو بیان فرمایا اب بمقتضائے رحمت عامہ اور شفقت تامہ ان کو اسلام اور ایمان کی دعوت دیتے ہیں اور بطور نصیحت تحریف اور تکبر اور تمسخر کے برے انجام سے ڈراتے ہیں کہ قبل اس کے کہ ہم تمہارے چہروں کو مٹائیں اور اصحاب سبت کی طرح تم پر لعنت کریں تم کو چاہیے کہ ایمان لے آو تاکہ اس ذلت اور رسوائی سے محفوظ ہوجاؤ اور بطور الزام اور اتمام حجت یہ فرمایا کہ یہ قرآن کتب سابقہ کی تصدیق کرتی ہے اس پر ایمان لاناکتب سابقہ پر ایمان لانا ہے اور اس کی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 47–48

37 یہ اہل کتاب کو ایمان لانے اور توحید کو مان لینے کی ترغیب ہے اور ساتھ ہی اخروی تخویف ہے یعنی اب وقت ہے ایمان لے آؤ قبل اس کے کہ ہمارا عذاب آجائے جب عذاب نازل ہوجائیگا پھر ایمان لانے سے کچھ فائدہ نہیں ہوگا۔ اِنَّ اللہَ لَا یَغْفِرُ اَنْ یُّشْرَکَ بِہٖ زجروں اور تخویفوں کے درمیان ایک بار پھر زور دار الفاظ میں مقصود اصلی پر تنبیہ فرمادی کہ شرک کرنا اور توحید سے منہ موڑنا اتنا بڑا جرم اور کبیرہ گناہ ہے کہ وہ کسی کو بھی معاف نہیں ہوگا۔ یہ ناصحانہ انداز ایسا ہی ہے جیسا کہ کوئی واعظ حکیم اور ناصح مشفق دوران وعظ بہت سے مسائل بیان کرے اور درمیان میں کہہ دے کہ فلاں کام نہایت اہم اور ضرور ہے اور اس کا…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 47–50

رابط آیات گزشتہ درس میں اہل کتاب کی بعض قبیح خصلتوں کا تذکرہ ہوا تھا کہ وہ حق و صداقت کے مقابلے میں باطل پرستی کا شیوہ اختیار کرتے ہیں ، اللہ کی کتاب کی تحریف کے مرتکب ہوتے ہیں ، اللہ اور رسول کی نافرمانی کرتے ہیں ، بلکہ اللہ کے نبی کی توہین کے مرتکب ہوتے ہیں۔ زبان کو پیچ دیکر ذومعنی الفاظ استعمال کرتے ہیں اور دین میں طرح طرح کی نکتہ چینی کرتے ہیں۔ آب آج کے درس کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب کو وعید سنائی ہے کہ اس قرآن پاک پر ایمان لے آؤ ورنہ ہو سکتا ہے کہ تمہاری شکلیں بگاڑدی جائیں اور تم پر اس طرح لعنت بھیجی جائے جس طرح اصحاب سبت پر بھیجی گئی اور انہیں بندر اور خنزیر بنا دیا گیا۔ ان…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اِنَّ اللہَ لَا يَغْفِرُ اَنْ يُّشْرَكَ بِہٖ وَيَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِكَ لِمَنْ يَّشَاۗءُ۝ 0ۚ وَمَنْ يُّشْرِكْ بِاللہِ فَقَدِ افْتَرٰٓى اِثْمًا عَظِيْمًا۝ 48 شرك وشِرْكُ الإنسان في الدّين ضربان : أحدهما : الشِّرْكُ العظیم، وهو : إثبات شريك لله تعالی. يقال : أَشْرَكَ فلان بالله، وذلک أعظم کفر . قال تعالی: إِنَّ اللَّهَ لا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ [ النساء/ 48] ، والثاني : الشِّرْكُ الصّغير، وهو مراعاة غير اللہ معه في بعض الأمور، وهو الرّياء والنّفاق المشار إليه بقوله : جَعَلا لَهُ شُرَكاءَ فِيما آتاهُما فَتَعالَى اللَّهُ عَمَّا يُشْرِكُونَ [ الأعراف/ 190] ، ( ش ر ک ) الشرکۃ والمشارکۃ دین…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 47–49

ترکیب : من قبل متعلق ہے امنوا سے ‘ علی ادبارھا حال ہے وجوھا ‘ سے ‘ ویغفر جملہ مستانفہ ہے۔ مادون ذلک مفعول ہے یغفر کا مادون کے معنی سوا کے ہیں اور دون بمعنی کمتر بھی ہوسکتا ہے او نلعنہم والضمیر عائد الی اصحاب الوجوہ افتریٰ اختلق وفعل لانہ کما یطلق حقیقۃ علی القول یطلق علی الفعل ایضا مجازا۔ تفسیر : اہل کتاب کے قبائح بیان فرما کر ان کو سعادت دارین کی طرف بلاتا ہے کہ تم ایمان لائو۔ پہلے قبائح بیان کرنا اور پھر اس کی اصلاح کی تدبیر بتلانا حکمت الہامیہ کا دستور ہے کیونکہ جب تک طبیب مریض کے امراض مہلکہ کو بیان نہیں کرتا اور اس کے مآل کار موت سے نہیں ڈراتا تو مریض کی طبیعت تلخ دوائوں کے پینے پر مائل…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

اِنَّ اللّٰہَ لَایَغْفِرُ اَنْ یُّشْرَکَ بِہٖ وَیَغْفِرُ مَادُوْنَ ذٰلِکَ لِمَنْ یَّشَآئُ ج وَمَنْ یُّشْرِکْ بِاللّٰہِ فَقَدِافْتَرٰٓی اِثْمًا عِظِیْمًا (بےشک اللہ نہیں بخشے گا اس بات کو کہ اس کے ساتھ شرک کیا جائے اور بخش دے گا اس کے علاوہ جس کے لیے چاہے گا اور جو شخص اللہ کا شریک ٹھہراتا ہے وہ ایک بہت بڑے گناہ کا افتراء کرتا ہے) (النسآء : 48) یہود پر لعنت کا اصل سبب شرک ہے سابقہ آیات میں ہم پڑھ چکے ہیں کہ یہود کی بداعمالیوں اور نافرمانیوں کے نتیجے میں اللہ نے صرف ان پر لعنت ہی نہیں فرمائی بلکہ یہ بھی فرمایا کہ تم اپنی سرکشی کے باعث اس بات کے مستحق ہوچکے ہو کہ تمہارے چہرے بگا ڑدیئے جائیں اور…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : یہودی اخلاقی جرائم کے ساتھ شرک جیسے بدترین گناہ میں ملوث تھے اور ہیں۔ لیکن اس کے باوجود یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ ہم اللہ تعالیٰ کے چہیتے ہیں اور اس نے ہمارے تمام گناہ معاف کردیے ہیں۔ اخلاقی جرائم کی سزا کا ذکر کرنے کے بعد شرک کے بارے میں واضح کیا ہے کہ جو شخص شرک کی حالت میں فوت ہوگا اسے ہرگز معاف نہیں کیا جائے گا۔ تمام انبیاء کرام کے کلمے کے پہلے جز میں شرک کی نفی اور دوسرے جز میں توحید کا اثبات ہے۔ اس لیے ان کی دعوت کا آغاز یہاں سے ہوتا کہ اللہ تعالیٰ کی ذات، صفات اور عبادات میں کسی قسم کا شرک نہ کیا جائے۔ شرک نام ہے اللہ تعالیٰ کی ذات کے ساتھ کسی کو ملانا یا اس کی صفات و…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 48: اِنَّ اللّٰہَ لَا یَغْفِرُ اَنْ یُّشْرَکَ بِہٖ وَ یَغْفِرُ مَادُوْنَ ذٰلِکَ (بیشک اللہ نہ بخشے گا یہ کہ اس کے ساتھ شریک ٹھہرایا جائے اور بخش دے گا اس کے علاوہ کو) نہ بخشنے کا مطلب یہ ہے کہ اگر موت شرک پر آگئی۔ ذلک کا مشارٌ الیہ مادون الشرک ہے۔ خواہ کبیرہ بدون توبہ ہو۔ شرک مغفور بالتوبہ : الحاصل : شرک مغفور بالتوبہ ہے۔ اور جو توبہ نہ کرے مگر گناہ شرک کے علاوہ ہوں تو اس سے بخشش کا وعدہ ہے۔ مطلب یہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نہ بخشے گا اس کو جو شرک کرتا ہے۔ اس لئے کہ وہ مشرک ہے۔ اور گنہگار کو گناہ ہونے کے باوجود بخش دے گا۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا۔ جو شخص ایسی حالت میں اللہ تعالیٰ سے ملے گا کہ وہ اللہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

(ان اللہ لا یغفر کا شان نزول) (تفسیر) 48۔: (آیت)” ان اللہ لا یغفر ان یشرک بہ “۔ اس آیت کا نزول وحشی بن حرب اور اس کے ساتھیوں کے متعلق ہوا ، وحشی نے حضرت حمزہ ؓ کو شہید کردیا ، حضرت حمزہ ؓ کی شہادت پر اس سے آزادی کا وعدہ کیا گیا تھا لیکن یہ وعدہ پورا نہیں کیا گیا ، جب وہ لوٹ کر مکہ پہنچا تو اس کو اور اس کے ساتھیوں کو حضرت حمزہ ؓ کو شہید کرنے پر بڑی پشیمانی ہوئی اور ان لوگوں نے رسول اللہ ﷺ کو لکھا کہ ہم کو اپنی کی ہوئی حرکت پر پشیمانی ہے اور مسلمان ہونے سے ہم کو صرف یہ امر مانع ہے کہ جب آپ مکہ میں تھے تو کہتے تھے (آیت)” والذین لا یدعون مع اللہ الھا اخر “۔ ہم نے دوسروں کو معبود بھی بنایا ہے اور…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

طبرانی 1 اور ابن ابی حاتم نے ابو ایوب انصاری ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص آنحضرت ﷺ کے پاس آیا اور اس نے کہا کہ میرا ایک بھتیجا ہے وہ رات دن برے کاموں میں مصروف رہتا ہے آپ نے فرمایا اس کا دین کیا ہے اس شخص نے عرض کیا خدا کو ایک جانتا ہے۔ نماز پڑہتا ہے۔ آپ نے فرمایا پہلے اس کو اس کے دین سے مفت پھر کچھ لالچ دے کر ہٹانا چاہیے۔ تاکہ معلوم ہو کہ باوجود برے کام کرنے کے وہ دین پر کہاں تک پکا ہے۔ تھوڑے دنوں کے بعد اس شخص نے پھر آنحضرت ﷺ کے پاس آکر بیان کیا کہ وہ اپنا دین کسی طرح نہیں چھوڑتا اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی 2۔ حاصل معنی آیت کے وہی ہیں جو آنحضرت ﷺ نے خود بیان فرمائے ہیں چناچہ مسند…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

آیت 48 اللہ تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ وہ اس شخص کو کبھی نہیں بخشے گا جس نے مخلوق میں سے کسی کو اس کا شریک ٹھہرایا۔ اس کے علاوہ اگر اس نے چاہا اور اس کی حکمت مقتضی ہوئی تو وہ تمام چھوٹے بڑے گناہ بخش دے گا۔ شرک سے کمتر گناہوں کی مغفرت کے لئے اللہ تعالیٰ نے بہت سے اسباب مقرر فرمائے ہیں مثلاً برائیوں کو مٹانے والی نیکیاں، دنیا اور برزخ میں نیز قیامت کے روز گناہوں کا کفارہ بننے والے مصائب، اہل ایمان کی ایک دوسرے کے لئے مفغرت کی دعائیں، شفاعت اور اس کے علاوہ اللہ تعالیٰ کی بےپایاں رحمت جس کے سب سے زیادہ مستحق اہل ایمان و توحید ہیں۔ جب کہ شرک کا معاملہ اس کے برعکس ہے مشرک نے خود اپنے لئے مغفرت کا…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 43–48

کسی شخص کا حالت جنابت میں مسجد کے اندر سے گزرجانا قول باری ہے (یا ایھا الذین امنوالاتقربوالصلوۃ وانتم سکاری حتی تعلموا ماتقولون ولاجنبا الاعابری سبیل حتی تغتسلوا، اے ایمان والو، جب تم نشے کی حالت میں ہو تو نماز کے قریب نہ جاؤ جب تک غسل نہ کرلو الایہ کہ راستہ سے گزرتے ہو) ۔ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ آیت میں سکر یعنی نشہ کے مفہوم ومراد میں اختلاف رائے ہے حضرت ابن عباس ، مجاہد، ابراہیم اور قتادہ کا قول ہے کہ شراب کی وجہ سے پیدا ہونے والانشہ مراد ہے مجاہد اور حسن کا قول ہے کہ تحریم خمر کے حکم نے اسے منسوخ کردیا ہے ضحاک کا قول ہے کہ اس سے خاص کر نیند کی وجہ سے پیدا ہونے والی مدہوشی مراد ہے۔ اگریہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 48–49

123 شرک کا جرم ناقابل معافی جرم ہے ۔ والعیاذ باللہ : کہ شرک کا یہ جرم دراصل بغاوت کا اور سب سے بڑا اور سنگین جرم ہے۔ اس لئے یہ ناقابل معافی ہے۔ اور یہی سزا کفر کی ہے کہ وہ بھی بغاوت ہے۔ قرآن حکیم میں ان دونوں جرموں کا یہی انجام بیان فرمایا گیا ہے، لیکن ذکر کہیں صرف شرک کا فرمایا گیا، جیسا کہ اس آیت کریمہ میں ہے اور کہیں صرف کفر کا۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا { اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَظَلَمُوْا لََمْ یَکُن اللّٰہُ لِیَغْفِرَ لَہُمْ وَلا لِیَھْدِیَہُمْ طَرِیْقًا، اِلَّا طَرِیْقَ جَہَنَّمَ خَالِدِیْنَ فِیْْہَا اَبَدًا وَکَانَ ذَالِکَ عَلَی اللّٰہ یَسِیْراً } (النسائ : 167 ۔ 168)…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 47–48

یہودیوں کو ایمان کی دعوت تشریح : ان آیات کی پوری تفصیلات آل عمران اور سورة ٔ بقرہ میں بیان ہوچکی ہیں۔ یہاں اللہ رب العزت حکم دیتے ہیں کہ اگر تم نے راہ راست اختیار نہ کی تو پھر جیسے تمہارے اجداد اصحاب السبت کو سزا کے طور پر بندر بنا دیا گیا تھا تمہیں بھی ایسی ہی سزا ملے گی تمہارے چہرے بھی بگاڑ دیئے جائیں گے اور پھر مزید خبردار کیا کہ اللہ کا حکم ضرور پورا ہو کر رہتا ہے۔ نافرمانی سے بچو تاکہ عذاب سے بچ سکو۔ اللہ رب العزت مزید خبردار کر رہے ہیں کہ شرک اتنا شدید گناہ ہے کہ اس کو ہرگز معاف نہیں کیا جائے گا۔ شرک کا مطلب ہے اللہ رب العالمین کو معبود مانتے ہوئے کسی اور کو بھی معبود ماننا۔ شرک کو تین…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 48–50

آیت نمبر 48 تا 50: ان اللہ لا یغفر ۔۔۔۔ وکفی بہ اثما مبینا۔ اللہ کریم اپنی ذات وصفات میں کسی کو شریک کرنے والے کو کبھی نہیں بخشتے اس کے لیے سزا پا کر بھی کبھی عذاب ختم نہ ہوگا کہ یہ بہت بڑا ظلم اور انتہائی بڑا جرم ہے علم میں کسی کو اللہ کی طرح غیب دان جاننا یا نفع و نقصان پہنچانے والا گمان کرنا یا اللہ کی طرح کسی اور کی عبادت کرنا یہ ایسے جرائم ہیں کہ اللہ کی بخشش سے ہمیشہ کیلئے محروم کردیتے ہیں بعض اوقات کیا اکثر اوقات ہم اللہ کی اطاعت چھوڑ کر بعض انسانوں کی اطاعت کرتے ہیں اس کے پیچھے یا ان کا خوف ہوتا ہے یا ان سے کسی نفع کی امید یہی شرک کی اصل ہے ہاں انبیاء اور صلحاء کی اطاعت اس لیے شرک…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 2 یہود کو تہدید وعید فرمانے کے بعد اس آیت میں اشارہ فرمایا کہ یہ تہدید شرک وکفر کی وجہ سے ہے ورنہ دوسرے گناہ تو قابل عفو و مغفرت ہی اور اللہ تعالیٰ کی مشیت کے تحت ہیں جسے چاہے اللہ تعالیٰ معاف فرماسکتے ہیں (کبیر) یہود نصاریٰ کی طرح نام کے مسلمان جو شرک میں گرفتار ہیں اولیا اللہ کے نام کا روزہ رکھتے ہیں ان کی قبروں کو پو جتے ہیں ان کے نام پر جا نور کا ٹتے اور اسکی منتیں مانتے ہیں اٹھتے بیٹھتے ان کو پکار تے ہیں وہ بھی مشرکوں کے حکم میں آتے ہیں (وحیدٰ3 یعنی ناقابل عفو گناہ کا ارتکاب کیا۔ (مزید دیکھئے سورت لقمان 130)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 48–49

(4:48) افتری۔ اس نے جھوٹ باندھا۔ اس نے بہتان تراشا۔ افتراء (افتعال) سے ماضی واحد مذکر غائب۔ یعنی اس نے گناہ عظیم کا ارتکاب کیا۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 48–50

آیت نمبر 48-50 لغات القرآن : لایغفر، معاف نہیں کرے گا۔ ان یشرک، یہ کہ شریک کیا جائے۔ مادون ذلک، اس کے علاوہ۔ افتری، اس نے گھڑ لیا۔ یذکون، وہ پاک باز بنتے ہیں۔ فتیلا، دھاگہ برابر۔ تشریح : یہاں شرک کی حقیقت کھول کر بیان کردی گئی ہے کہ شرک سب سے بڑا گناہ ہے بلکہ تمام گناہوں کی جڑ ہے۔ اس لئے بالکل صاف صاف بیان فرما دیا ہے کہ اللہ تعالیٰ اسی ایک گناہ کو معاف نہیں کرتا۔ اس کے علاوہ جس گناہ کو چاہے معاف کرسکتا ہے شرک کیا ہے ؟ اللہ کے علاوہ کسی اور کو معبود تسلیم کرلینا جب کہ وہ اللہ ایک ہے اس کی ذات اور صفات میں کسی کو شریک کرنا گناہ عظیم ہے۔ جس نے اس وحدت کو خراب کیا وہ مشرک ہے ۔ کافر اور مشرک میں…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ جو کفر پر مرے اس کی بخشش نہیں اس کے لئے ہمیشگی کا عذاب ہے، اور جس نے کفر نہ کیا ہو خواہ کتنا ہی گنہگار ہو اور بےتبہ بھی مرجائے تو اس کے لئے مغفرت اللہ کے اختیار میں ہے ۔ چاہے معاف فرمادے یا اس کے گناہوں پر عذاب کرے پھر اپنی رحمت سے جنت میں داخ فرمائے ۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

ناقابل معافی جرم : (ف 2) اس آیت میں بتایا ہے کہ اللہ کے ساتھ کسی دوسرے کو شریک وسہیم ٹھہرانا ناقابل عفو گناہ ہے ، سارے گناہ ، تمام عیب بخشے جاسکتے ہیں ، مگر جو اللہ کے جلال وجبروت پر کھلا حملہ ہے کسی طرح بھی نہیں بخشا جاسکتا ہے ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

Explained with ayahs 48–49

ف 3 بیشک اللہ تعالیٰ اس بات کو نہیں بخشے گا کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک قرار دیا جائے اور اس کے سوا جتنے گناہ خواہ وہ صغیرہ ہوں یا کبیرہ جس کے لئے چاہے گا بخش دے گا اور بات بھی یہی ہے کہ جس شخص نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کیا اور کسی کو اس کے ساتھ شریک قرار دیا تو اس نے بہت ہی بڑے جرم کا ارتکاب کیا اور یہی وجہ ہے کہ اس کو معاف نہیں کیا جائے گا اور وہ دائمی عذاب میں رہے گا۔ مطلب یہ ہے کہ شرک ایسا بڑا گناہ ہے کہ عذاب کرنے اور سزا دینے کے بعد بھی نہیں بخشا جاتا البتہ جو گناہ شرک کے علاوہ ہوں اور شرک سے کم درجے کے ہوں ان کی بخشش کی توقع ہے۔ اللہ تعالیٰ جس کو چاہے بغیر عذاب اور بدون سزا کے عاف کر دے…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 48–50

ف 1۔ قرآن و حدیث واجماع سے یہ مسئلہ ضروریات شرع سے ہے کہ شرک اور کفردونوں غیر مغفور ہیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

شرک سے بڑا کوئی گناہ اور مشرک سے بڑا کوئی گنہگار نہیں ہوتا : 100: یہود و نصاریٰ بلاشبہ اہل کتاب ہیں اور اس رشتہ کی بناء پر اسلام نے ان کا اتنا احترام کیا کہ ان کے ساتھ کھانا پینا اور ان کی عورتوں کے ساتھ نکاح کرنا جائز قرار دیا گیا لیکن یہ اس وقت ہے جب کہ وہ مشرک نہ ہوں۔ جب وہ مشرک ہوئے یا جو جو ان میں شرک کا مرتکب ہوا وہ اس بنیادی قاعدہ سے بھی خود بخود نکلتا چلا گیا زیر نظر آیت اس بات پر مکمل اور واضح دلیل ہے کہ اہل کتاب کا بہت گروہ بڑا مشرک ہوگیا تھا۔ اور اس لحاظ سے وہ عرفاً اہل کتاب نہیں رہے تھے بلکہ مشرک ہو کر اہل کتاب سے خود بخود خارج ہوگئے تھے رہی یہ بات کہ یہود کا شرک کیا تھا ؟ ان کے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

The previous verse carried an admonition for those who refused to believe. But, from among those to whom this admonition has been addressed, some could finally be forgiven, which admits of the probability that all these other addressees may, perhaps, be also forgiven. Therefore, the text goes on to explain that this group of people will not be forgiven because of their kufr or disbelief. This also refutes the Jewish claim that they shall be forgiven. Commentary Shirk: A definition, and some forms The words of the Qur'anic text in إِنَّ اللَّـهَ لَا يَغْفِرُ‌ أَن يُشْرَ‌كَ بِهِ (Surely, Allah…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 48–50

79. Although the People of the Book claimed to follow the Prophets and the Divine Books they had, in fact, fallen a prey to polytheism. 80. The purpose of this verse is not to tell man that he may commit any sin as long as he does not associate others with God in His divinity. The object is rather to impress upon those who had begun to regard polytheism as a trivial matter that it constitutes the most serious offence in God's sight, an offence so serious that while other sins may be pardoned this will not. Jewish religious scholars were meticulous about questions of subsidiary importance, and…

Read the full tafseer →