Explained with ayahs 47–50
قرآن حکیم کا اعجاز تاثیر
اللہ عزوجل یہود و نصاریٰ کو حکم دیتا ہے کہ میں نے اپنی زبردست کتاب اپنے بہترین نبی کے ساتھ نازل فرمائی ہے جس میں خود تمہاری اپنی کتاب کی تصدیق بھی ہے اس پر ایمان لاؤ اس سے پہلے کہ ہم تمہاری صورتیں مسخ کردیں یعنی منہ بگاڑ کردیں آنکھیں بجائے ادھر کے ادھر ہوجائیں، یا یہ مطلب کہ تمہارے چہرے مٹادیں آنکھیں کان ناک سب مٹ جائیں پھر یہ مسخ چہرہ بھی الٹا ہوجائے۔ یہ عذاب ان کے بد اعمال کا بدلہ ہے یہی وجہ ہے کہ یہ حق سے ہٹ کر باطل کی طرف ہدایت سے پھر کر ضلالت کی جانب بڑھے چلے جا رہے ہیں بایں ہمہ اللہ تعالیٰ انہیں احساس دلا رہے ہیں کہ اب بھی باز آجاؤ اور اپنے سے پہلے ایسی حرکت…
Read the full tafseer →سورة النِّسَآء 77
تشریح کے لیے ملاحظہ ہو آل عمران 2۔
سورة النِّسَآء 78
ملاحظہ ہو سورة بقرہ 82 و 83۔
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
اے وہ لوگو جو کتاب (توریت) دیئے گئے ہو تم اس کتاب (یعنی قرآن پر ایمان لاؤ جس کو ہم نے نازل فرمایا ہے (اور تم کو اس پر ایمان لانے سے وحشت نہ ہونی چاہئے، کیونکہ ہم نے اس کو) ایسی حالت پر (نازل فرمایا) کہ وہ سچ بتلاتی ہے اس کتاب کو جو تمہارے پاس ہے (یعنی تمہاری اصل کتاب کے لئے وہ مصدق ہے، باقی تحریف کا حصہ اس سے الگ ہے سو تم قرآن پر) اس (امر غیر یقینی کے ہونے) سے پہلے پہلے (ایمان لے آؤ) کہ ہم (تمہارے) چہروں (پر کے نقش ونگار یعنی آنکھ ناک وغیرہ) کو بالکل مٹا ڈالیں اور ان (چہروں) کو الٹی جانب (یعنی گدی) کی طرح (صفا چٹ) بنادیں یا ان (ایمان نہ لانے والوں) پر ہم ایسی (خاص طور کی) لعنت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–50
يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ اٰمِنُوْا بِمَا نَزَّلْنَا مُصَدِّقًا لِّمَا مَعَكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ نَّطْمِسَ وُجُوْهًا فَنَرُدَّھَا عَلٰٓي اَدْبَارِھَآ اَوْ نَلْعَنَھُمْ كَمَا لَعَنَّآ اَصْحٰبَ السَّبْتِ ۭوَكَانَ اَمْرُ اللّٰهِ مَفْعُوْلًا۔
چہروں کو مسخ کردینے کی علت : ’ طمس الشیء ‘ کے معنی ہیں کسی شے کے آثار و علامات کو مٹا دینا۔ چہروں کو مٹا دینے کے معنی یہ ہیں کہ یہ جو آنکھ، کان، ناک اور منہ کے نشانات ہیں یہ سب مٹا کر برابر کردیے جائیں اس لیے کہ اللہ نے یہ قوتیں نہایت اعلی مقصد سے بخشی تھیں لیکن جب ان سے وہ کام نہیں لیا گیا جس کے لیے یہ عطا ہوئیں تھیں بلکہ اس کے بالکل برعکس…
Read the full tafseer →47۔ 1 یعنی اگر اللہ چاہے تو تمہیں تمہارے کرتوتوں کی پاداش میں یہ سزا دے سکتا ہے۔
47۔ 2 یہ قصہ سورة اعراف میں آئے گا، کچھ اشارہ پہلے بھی گزر چکا ہے۔ یعنی تم بھی ان کی طرح ملعون قرار پاسکتے ہو۔
47۔ 3 یعنی جب وہ کسی بات کا حکم کر دے تو نہ کوئی اس کی مخالفت کرسکتا ہے اور نہ اسے روک ہی سکتا ہے۔
Read the full tafseer →34: سبت سنیچر کے دن کو کہتے ہیں تورات میں بنی اسرائیل کو اس دن روزگار کا کام کرنے سے منع کیا گیا تھا ؛ لیکن ایک بستی کے لوگوں نے اس حکم کی نافرمانی کی جس کے نتیجے میں ان پر عذاب آیا اور ان کو مسخ کردیا گیا اس واقعے کی تفصیل کے لئے دیکھئے سورة اعراف (7: 163)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–47
درس نمبر 43 تشریح آیات :
44۔۔۔۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 57
مدینہ کی نوخیز تحریک اسلامی کا جو گھیراؤ مخالف اسلام کیمپوں نے کر رکھا تھا ‘ اس سبق کے ساتھ ان کیمپوں کے خلاف یہاں معرکہ آرائی شروع ہو رہی ہے ۔ اس سبق کے اندر اس بات پر تعجب کا اظہار کیا گیا ہے کہ مدینہ کے یہودی اس دین جدید اور جامعت مسلمہ کے خلاف کیا کیا اوچھے ہتھکنڈے استعمال کر رہے ہیں ۔ اس سے اگلے سبق میں بتایا گیا ہے کہ جماعت مسلمہ کے فرائض کیا ہیں اور یہ کہ اسلامی نظام کا مزاج کیا ہے ‘ اسلام کی تعریف کیا ہے اور ایمان کی شرائط کیا ہیں جس کی وجہ سے اسلامی زندگی اور اسلامی نظام حیات دوسرے لوگوں کی زندگی اور نظام سے متمیز ہوتا ہے ۔ اس سے…
Read the full tafseer →4 آیات سابقہ میں یہود کی ضلالت اور مختلف قبائح کا ذکر فرما کر اب ان کو بطور خطاب ایمان اور تصدیق قرآن کا حکم کیا جاتا ہے اور اسکی مخالفت سے ڈرایا جاتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اے اہل کتاب ایمان لاؤ قرآن پر جس کے احکام مصدق اور موافق ہیں تورات کے ایمان لاؤ اس سے پہلے کہ مٹا ڈالیں ہم تمہارے چہروں کے نشانات یعنی آنکھ ناک وغیرہ مطلب یہ کہ تمہاری صورتیں بدل دی جائیں پھر الٹ دیں تمہارے چہروں کو پیٹھ کی طرف یعنی چہرہ کو مطموس اور ہموار کر کے پیچھے کی طرف اور گدی کو آگے کی طرف کردیں یا ہفتہ کے دن والوں کی طرح تم کو مسخ کر کے جانور بنادیں۔ اصحاب سبت کا قصہ سورة اعراف میں مذکور ہے۔
Read the full tafseer →آیت 47 یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ اٰمِنُوْا بِمَا نَزَّلْنَا
یہود کی شرارتوں پر لعنت و ملامت کے ساتھ ہی انہیں قرآن کریم پر ایمان کی دعوت بھی دی جا رہی ہے۔
مُصَدِّقًا لِّمَا مَعَکُمْ
مِّنْ قَبْلِ اَنْ نَّطْمِسَ وُجُوْہًا فَنَرُدَّہَا عَلآی اَدْبَارِہَآ یعنی چہرے اس طرح مسخ کردیے جائیں کہ بالکل سپاٹ ہوجائیں ‘ ان پر کوئی نشان باقی نہ رہے اور پھر انہیں پشت کی طرف موڑ دیا جائے کہ چہرہ پیچھے اور گدی سامنے۔ُ ّ
اَوْ نَلْعَنَہُمْ کَمَا لَعَنَّآ اَصْحٰبَ السَّبْتِ ط
اصحاب سبت کے واقعے کی تفصیل سورة الاعراف میں آئے گی ‘ لیکن اجمالاً یہ واقعہ سورة البقرۃ میں آچکا ہے
Read the full tafseer →79 یعنی تمہارے جرائم اتنے شدید ہوچکے ہیں کہ تمہیں وہی سزا دی جانی چاہیے جو اصحاب سبت کو دی گئی تھی۔ یا تو تمہاری شکلیں یوں مسخ کردی جائیں کہ تمہارے چہرے پشتوں کی طرف موڑ دیئے جائیں یا پھر تمہیں بھی بندر بنادیا جائے۔ لہذا ان کے لیے بہتر یہی ہے کہ کسی ایسی ذلت کے مسلط ہونے سے پہلے ہی ایمان لے آئیں۔
لفظی اعتبار سے تو (فَنَرُدَّھَا عَلٰٓي اَدْبَارِھَآ 47) 4 ۔ النسآء :47) کا ظاہری مفہوم وہی ہے جو مذکور ہوا۔ تاہم یہ الفاظ مح اور تاً بھی استعمال ہوتے ہیں اس صورت میں اس کا معنی یہ ہوگا کہ جو اقبال اور ترقی ہم نے تمہیں دے رکھی تھی اسے الٹ کر تمہیں قعر مذلت میں دھکیل دیں گے اور جس غلامی اور اسیری کے…
Read the full tafseer →154 ۔ (آیت) ” اوتوالکتب “۔ میں کتاب سے مراد توریت ہے (آیت) ” بمانزلنا “۔ اس کتاب پر جسے ہم نے اب اپنے رسول پر نازل کیا ہے یعنی قرآن پر (آیت) ” مصدقالما معکم “۔ یعنی قرآن تو اصل توریت کی تصدیق ہی کرنے والا ہے، اس کے محرف اجزا ظاہر ہے کہ اس عام تصدیق سے مستثنی ہیں۔
155 ۔ (غرض اسی طرح کے کسی عذاب شدید وہولناک میں مبتلا کردیں) (آیت) ” نطمس وجوھا “۔ طمس وجہ سے مراد ہے چہرہ کے نقش ونگار اور آنکھ وناک منہ وغیرہ اعضا کو مٹا دینا (آیت) ” فنردھا علی ادبارھا “۔ یعنی ان لوگوں کے چہروں کو گدیوں کی طرف صفاچٹ کردیں۔ ف۔ ہمیشہ تعجب ہی کے لیے نہیں ہوتی کبھی تفصیل اجمال کے لیے بھی ہوتی ہے۔ چناچہ یہاں اسی غرض سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–50
الم تَرَالی الذین اوتوانصیباً من الکتاب، (الآ یة) علماء اہل کتاب کے متعلق قرآن نے اکثر یہ الفاظ استعمال کئے ہیں کہ '' انھیں کتاب کے علم کا کچھ حصہ دیا گیا ہے '' اس کی وجہ یہ ہے کہ اول تو انہوں نے کتاب الہٰی کا ایک بڑا حصہ گم کردیا تھا، پھر کتاب الہٰی کا جو کچھ حصہ ان کے پاس موجود تھا اس کی روح اور اس کے مقصد و مدعا سے وہ بیگانے ہوچکے تھے۔
یُحَرِّ فون الکلمَ عن مواضعہ، اس کے تین مطلب ہیں، ایک یہ کہ کتاب اللہ کے الفاظ میں ردوبدل کردیتے، دوسرے یہ کہ تاویلات فاسدہ سے کتاب اللہ کے معنی کچھ سے کچھ بنا دیتے، تیسرے یہ کہ لوگ محمد ﷺ کی صحبت میں آکر آپ کی باتیں سنتے اور واپس جا کر غلط طریقہ سے بیان…
Read the full tafseer →یایہا الذین اوتوا الکتب امنوا بما نزلنا مصدقا لما معکم . اے اہل کتاب اس قرآن کو مانو جو ہم نے محمد ﷺ پر نازل کیا ہے اور وہ تمہاری کتاب یعنی توریت کی تصدیق کرتا ہے (کہ توریت واقعی خدا کی کتاب ہے)
من قبل ان نطمس وجوہا فنردہا علی ادبارہا . اس سے پہلے کہ ہم چہروں کو بالکل مٹا ڈالیں اور پشت پر ان کو الٹا دیں۔ وجوہا میں تنوین۔ مضاف الیہ کے عوض آئی ہے یعنی تمہارے چہروں کو طمس کا حقیقی معنی ہے نشان کو مٹا دینا یہاں مراد ہے ناک آنکھیں ‘ ابرو اور منہ کے نشانات کو مٹا دینا۔
بعض علماء نے نردہا علی ادبارہاکا یہ معنی بیان کیا ہے کہ ہم چہروں پر گدی کی طرح بال پیدا کردیں جیسے بندروں کے چہرے ہوتے ہیں کیونکہ…
Read the full tafseer →(47) ان لوگوں میں سے تو عبداللہ بن سلام اور ان کے ساتھی ہی ایمان قبول کریں گے جن کو توریت کا علم رسول اللہ ﷺ کی نعت و صفت میں بالکل موافق ہے، اس کا علم دیا گیا ہے اس سے پہلے کہ ان کے دل تبدیل ہو کر گمراہ ہوجائیں اور ہدایت کی روشنیوں سے پھرجائیں اور ان کی اور ان کی صورتیں پچھلی طرف ہوجائیں یا ان کی شکلیں ہم تبدیل کر کے ان کو بندر بنا دیں، ان کو ایمان لے آنا چاہئے، چناچہ اس آیت کے نازل ہونے کے بعد عبداللہ بن سلام اور ان کے ساتھی مشرف بااسلام ہوئے۔
شان نزول : (آیت) ”یایھا الذین اوتو الکتب امنوا“۔ (الخ)
ابن اسحاق ؒ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے علماء یہود عبداللہ بن صوریا اور…
Read the full tafseer →يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ۔۔ : یہود کی شرارتوں کو بیان کرنے کے بعد اب اس آیت میں انھیں ایمان کی دعوت دی اور ہٹ دھرمی سے احکام خداوندی بجا نہ لانے پر وعید سنائی، کیونکہ یہود عالم تھے اور علم و معرفت کے باوجود ہٹ دھرمی سے کام لے رہے تھے۔ (رازی) اس وعید کا تعلق یا تو قیامت کے دن سے ہے، یا دنیا میں چہروں کو مسخ کردینا مراد ہے اور اصحاب سبت جیسی لعنت سے مراد یہ ہے کہ جس طرح ان کو بندر اور خنزیر بنادیا تھا، تمہیں بھی ویسا ہی بنادیا جائے۔ اصحاب سبت کے قصہ کے لیے دیکھیے سورة اعراف (163) اس وقت یہودی ہوں یا نصرانی یا مسلمان سب رسول اللہ ﷺ کی امت ہیں، کلمہ پڑھنے والے امت اجابت، یعنی قبول…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–53
سابقہ آیت کی بقیہ تفسیر
اور ترمذی میں حضرت علی بن ابی طالب سے مروی ہے فرمایا : ” قرآن میں مجھے اس آیت سے زیادہ کوئی محبوب آیت نہیں ہے۔ (آیت) ” ان اللہ لا یغفر ان یشرک بہ ویغفر ما دون ذالک لمن یشآء “۔ فرمایا : یہ حدیث حسن غریب ہے (3) (جامع ترمذی، ابواب التفسیر جلد 2، صفحہ 129)
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” الم ترالی الذین یزکون انفسھم “۔
اس میں تین مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر : (1) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” الم ترالی الذین یزکون انفسھم “۔ یہ لفظ اپنے ظاہر میں عام ہے اور کبھی اور حسن نے کہا : ان کا یہ قول ہے۔ (آیت) ” نحن ابنؤا اللہ واحبآؤہ “۔ (المائدہ : 18) (ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے محبوب…
Read the full tafseer →(1) ابن اسحاق وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم والبیہقی نے دلائل میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول ﷺ نے یہود کے بڑے علماء سے گفتگو کی ان میں عبد اللہ بن صوریا اور کعب بن اسد تھے آپ نے ان سے فرمایا اے یہود کے گروہ اللہ سے ڈرو اور اسلام لے آؤ اللہ کی قسم ! تم جانتے ہو اس بات کو کہ تمہارے پاس حق لے کر آیا ہوں۔ وہ کہنے لگے اے محمد ! ہم اس کو نہیں جانتے تو اس بارے میں (یہ آیت) نازل ہوئی۔ لفظ آیت ” یایھا الذین اوتوا الکتب امنوا بما نزلنا “۔
(2) ابن جریر وابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے ” یایھا الذین اوتوا الکتب “ کے بارے میں روایت کیا کہ (یہ آیت) مالک بن صیف اور رفاعہ بن زید بن تابوت کے بارے میں…
Read the full tafseer →[ یٰٓـــاَیـُّــہَا الَّذِیْنَ : اے لوگو جن کو ] [ اُوْتُوا : دی گئی ] [ الْکِتٰبَ : کتاب ] [ اٰمِنُوْا : تم ایمان لائو ] [ بِمَا : اس پر جو ] [ نَزَّلْـنَا : ہم نے اتارا ] [ مُصَدِّقًا : تصدیق کرنے والا ہوتے ہوئے ] [ لِّمَا : اس کی جو ] [ مَعَکُمْ : تمہارے ساتھ ہے ] [ مِّنْ قَـبْلِ : اس سے پہلے ] [ اَنْ : کہ ] [ نَّطْمِسَ : ہم بگاڑ دیں ] [ وُجُوْہًا : کچھ چہروں کو ] [ فَنَرُدَّہَا : پس ہم لوٹا دیں ان کو ] [ عَلٰٓی اَدْبَارِہَآ : ان کی پیٹھوں پر ] [ اَوْ : یا ] [ نَلْعَنَہُمْ : پھر ہم لعنت کریں ] [ کَمَا : جیسے کہ ] [ لَعَنَّــآ : ہم نے لعنت کی ] [ اَصْحٰبَ السَّبْتِ : ہفتے کے دن والوں پر ] […
Read the full tafseer →یہود کا ملعون ہونا
در منثور صفحہ 168: ج 2 میں حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ آنحضرت سرور عالم ﷺ نے رؤساء یہود سے بات کی جن میں عبداللہ بن صوریا اور کعب بن اسد بھی تھے۔ آپ نے ان سے فرمایا کہ اے یہودیو ! اللہ سے ڈرو اور اسلام قبول کرو۔ اللہ کی قسم تم جانتے ہو کہ جو دین میں لے کر آیا ہوں وہ حق ہے، کہنے لگے کہ اے محمد ! کہ ہم اس کو نہیں پہچانتے اس پر اللہ تعالیٰ نے آیت بالا نازل فرمائی اور فرمایا کہ اے اہل کتاب ! جو کتاب ہم نے نازل کی ہے اس پر ایمان لاؤ جو کتاب تمہیں دی گئی تھی یعنی توریت شریف یہ کتاب اس کی بھی تصدیق کرتی ہے اس سے پہلے ایمان لے کر آؤ کہ ہم (سزا کے طور پر ) چہروں کو بالکل مٹا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–48
اہل کتاب کو نصیحت اور ایمان کی دعوت۔
قال تعالی، یا ایھا الذین اوتوالکتاب۔۔۔ الی۔۔۔۔ عظیما۔ آیت۔
ربط۔ گزشتہ آیات میں اللہ نے اہل کتاب کی باطنی خباثتوں اور ظاہری شرارتوں کو بیان فرمایا اب بمقتضائے رحمت عامہ اور شفقت تامہ ان کو اسلام اور ایمان کی دعوت دیتے ہیں اور بطور نصیحت تحریف اور تکبر اور تمسخر کے برے انجام سے ڈراتے ہیں کہ قبل اس کے کہ ہم تمہارے چہروں کو مٹائیں اور اصحاب سبت کی طرح تم پر لعنت کریں تم کو چاہیے کہ ایمان لے آو تاکہ اس ذلت اور رسوائی سے محفوظ ہوجاؤ اور بطور الزام اور اتمام حجت یہ فرمایا کہ یہ قرآن کتب سابقہ کی تصدیق کرتی ہے اس پر ایمان لاناکتب سابقہ پر ایمان لانا ہے اور اس کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–48
37 یہ اہل کتاب کو ایمان لانے اور توحید کو مان لینے کی ترغیب ہے اور ساتھ ہی اخروی تخویف ہے یعنی اب وقت ہے ایمان لے آؤ قبل اس کے کہ ہمارا عذاب آجائے جب عذاب نازل ہوجائیگا پھر ایمان لانے سے کچھ فائدہ نہیں ہوگا۔ اِنَّ اللہَ لَا یَغْفِرُ اَنْ یُّشْرَکَ بِہٖ زجروں اور تخویفوں کے درمیان ایک بار پھر زور دار الفاظ میں مقصود اصلی پر تنبیہ فرمادی کہ شرک کرنا اور توحید سے منہ موڑنا اتنا بڑا جرم اور کبیرہ گناہ ہے کہ وہ کسی کو بھی معاف نہیں ہوگا۔ یہ ناصحانہ انداز ایسا ہی ہے جیسا کہ کوئی واعظ حکیم اور ناصح مشفق دوران وعظ بہت سے مسائل بیان کرے اور درمیان میں کہہ دے کہ فلاں کام نہایت اہم اور ضرور ہے اور اس کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–50
رابط آیات
گزشتہ درس میں اہل کتاب کی بعض قبیح خصلتوں کا تذکرہ ہوا تھا کہ وہ حق و صداقت کے مقابلے میں باطل پرستی کا شیوہ اختیار کرتے ہیں ، اللہ کی کتاب کی تحریف کے مرتکب ہوتے ہیں ، اللہ اور رسول کی نافرمانی کرتے ہیں ، بلکہ اللہ کے نبی کی توہین کے مرتکب ہوتے ہیں۔ زبان کو پیچ دیکر ذومعنی الفاظ استعمال کرتے ہیں اور دین میں طرح طرح کی نکتہ چینی کرتے ہیں۔ آب آج کے درس کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب کو وعید سنائی ہے کہ اس قرآن پاک پر ایمان لے آؤ ورنہ ہو سکتا ہے کہ تمہاری شکلیں بگاڑدی جائیں اور تم پر اس طرح لعنت بھیجی جائے جس طرح اصحاب سبت پر بھیجی گئی اور انہیں بندر اور خنزیر بنا دیا گیا۔ ان…
Read the full tafseer →يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ اٰمِنُوْا بِمَا نَزَّلْنَا مُصَدِّقًا لِّمَا مَعَكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ نَّطْمِسَ وُجُوْہًا فَنَرُدَّھَا عَلٰٓي اَدْبَارِھَآ اَوْ نَلْعَنَھُمْ كَـمَا لَعَنَّآ اَصْحٰبَ السَّبْتِ 0ۭ وَكَانَ اَمْرُ اللہِ مَفْعُوْلًا 47
نزل
النُّزُولُ في الأصل هو انحِطَاطٌ من عُلْوّ.
يقال : نَزَلَ عن دابَّته، والفَرْقُ بَيْنَ الإِنْزَالِ والتَّنْزِيلِ في وَصْفِ القُرآنِ والملائكةِ أنّ التَّنْزِيل يختصّ بالموضع الذي يُشِيرُ إليه إنزالُهُ مفرَّقاً ، ومرَّةً بعد أُخْرَى، والإنزالُ عَامٌّ ، فممَّا ذُكِرَ فيه التَّنزیلُ قولُه : نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ [ الشعراء/…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–49
ترکیب : من قبل متعلق ہے امنوا سے ‘ علی ادبارھا حال ہے وجوھا ‘ سے ‘ ویغفر جملہ مستانفہ ہے۔ مادون ذلک مفعول ہے یغفر کا مادون کے معنی سوا کے ہیں اور دون بمعنی کمتر بھی ہوسکتا ہے او نلعنہم والضمیر عائد الی اصحاب الوجوہ افتریٰ اختلق وفعل لانہ کما یطلق حقیقۃ علی القول یطلق علی الفعل ایضا مجازا۔
تفسیر : اہل کتاب کے قبائح بیان فرما کر ان کو سعادت دارین کی طرف بلاتا ہے کہ تم ایمان لائو۔ پہلے قبائح بیان کرنا اور پھر اس کی اصلاح کی تدبیر بتلانا حکمت الہامیہ کا دستور ہے کیونکہ جب تک طبیب مریض کے امراض مہلکہ کو بیان نہیں کرتا اور اس کے مآل کار موت سے نہیں ڈراتا تو مریض کی طبیعت تلخ دوائوں کے پینے پر مائل…
Read the full tafseer →یٰٓـاَیُّھَاالَّذِیْنَ اُوتُوا الْکِتٰبَ اٰمِنُوْا بِمَا نَزَّلْـنَا مُصَدِّقًا لِّمَا مَعَکُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ نَّطْمِسَ وُجُوْھًا فَنَرُدَّھَا عَلٰٓی اَدْبَارِھَآ اَوْنَلْعَنَھُمْ کَمَا لَعَنَّـآ اَصْحٰبَ السَّبْتِ ط وَکَانَ اَمْرُاللّٰہِ مَفْعُوْلاً
(اے وہ لوگو ! جن کو کتاب دی گئی اس چیز پر ایمان لائو جو ہم نے اتاری ہے تصدیق کرنے والی ان پیشگوئیوں کی جو خود تمہارے پاس موجود ہیں اس سے پہلے کہ ہم چہروں کو بگاڑ دیں اور ان کو ان کے پیچھے کی جانب الٹ دیں یا ان پر بھی اسی طرح لعنت کریں جس طرح ہم نے سبت والوں پر لعنت کی اور اللہ کی بات شدنی ہے) (النسآء : 47)
اتمام حجت
گزشتہ آیت کے آخر میں آپ نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–47
فہم القرآن
ربط کلام : اس آیت میں یہودیوں پر فرد جرم عائد کرتے ہوئے ان کی بد ترین عادتوں کا ذکر کیا گیا ہے۔
جس شخص یا گروہ میں یہ عادتیں پائی جائیں وہ معاشرے کے لیے ناسور، مذہب کا بدترین دشمن اور لوگوں کی ہدایت میں سب سے بڑی رکاوٹ ثابت ہوتا ہے۔ ایسے لوگ اللہ تعالیٰ کی رحمت کی بجائے اس کی لعنت کے سزاوار ہوتے ہیں۔ ان سے چھٹکارا پائے بغیر معاشرہ جرائم سے پاک نہیں ہوسکتا۔ اس لیے رسول اللہ ﷺ نے یہودیوں کو ہمیشہ کے لیے مدینہ سے نکل جانے کا حکم دیا تھا اور اپنی حیات مبارکہ کے آخری لمحات میں ان پر لعنت اور پھٹکار کی۔
جن عادتوں کی وجہ سے یہودیوں پر لعنت کی گئی وہ یہ ہیں :
1 ۔ اللہ تعالیٰ کے کلام کو اس…
Read the full tafseer →آیت 47 : جب وہ ایمان نہ لائے تو یہ آیت اتری : یٰٓـاَ ۔ یُّہَا الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ ٰامِنُوْا بِمَا نَزَّلْنَا (اے اہل کتاب تم ایمان لائو اس پر جو ہم نے اتارا) نزلنا سے مراد قرآن ہے۔ مُصَدِّقًا لِّمَا مَعَکُمْ (وہ تصدیق کرنے والا ہے، اس کتاب کی جو تمہارے پاس ہے) مراد تورات ہے۔
طمس وجوہ کا معنی :
مِنْ قَبْلِ اَنْ نَّطْمِسَ وُجُوْہًا (اس سے پہلے کہ ہم چہروں کو بالکل مٹا ڈالیں) یعنی عین ٗ ابرو ٗ ناک ٗ منہ کے نشانات کو مٹا ڈالیں۔ فَنَرُدَّہَا عَلٰٓی اَدْبَارِہَآ (اور ہم ان کو گد ّی کی طرح کردیں) کہ نشان مٹ کر وہ بھی گد ّی کی طرح سپاٹ ہوجائیں فا اس میں سببیہ ہے اور فا تعقیب کے لئے بھی…
Read the full tafseer →47۔ (آیت)” یایھا الذین اتوالکتاب “ اس سے خطاب یہود کو تھا (آیت)” امنوا بما نزلنا “ اس سے مراد قرآن پاک ہے ۔ (آیت)” مصدقالما معکم “۔ اس سے تورات مراد ہے یہ کہ نبی کریم ﷺ نے یہود کے احبار سے بات کی ، ان میں عبداللہ بن صوریا اور کعب بن اشرف بھی تھے ۔ فرمایا اے یہود کی جماعت کہ تم اللہ سے ڈرو اور اسلام لے آؤ ، اللہ کی قسم ! بیشک تم جانتے ہو کہ جو کچھ میں تمہارے پاس لایا ہوں وہ محض حق ہی تو ہے ، وہ کہنے لگے ہم تو نہیں جانتے اور وہ کفر پر ڈٹے رہے۔ پھر یہ آیت نازل ہوئی (آیت)” من قبل ان نطمس وجوھا “۔ حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ کا قول ہے کہ اونٹ اپنے کھروں سے ان کو کچلیں گے ، قتادہ اور ضحاک رحمہما…
Read the full tafseer →ابن اسحاق وغیرہ نے حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ ایک روز آنحضرت ﷺ نے عبد اللہ صوریا اور کعب بن اسید یہود کے علماء سے کہا کہ تورات سے تم کو میری نبوت بخوبی معلوم ہوچکی ہے پھر تم خدا سے کیوں نہیں ڈرتے اور نبی برحق پر ایمان کیوں نہیں لاتے۔ انہوں نے جواب دیا کہ ہم کو تورات سے آپ کی نبوت ہرگز معلوم نہیں ہوئی۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی 3۔ اور فرمایا کہ ان لوگوں کو تورات کی ہدایت کے موافق قرآن اور نبی آخر الزمان پر ایمان لانا ہے تو یہ لوگ جلدی کریں ورنہ جس طرح ان لوگوں نے جان بوجھ کر حق باتوں سے منہ پھیرا ہے اسی طرح ہم بھی ان کہ یہ سزاد دیں گے کہ ان کا چہرہ۔ آنکھ۔ ناک سب…
Read the full tafseer →آیت 47
اللہ تعالیٰ یہود و نصاریٰ کو حکم دیتا ہے کہ وہ رسول اللہ اور اس قرآن عظیم پر ایمان لائیں جو آپ پر نازل کیا گیا ہے جو دوسری کتابوں کا نگہبان ہے۔ جن کی یہ تصدیق کرتا ہے ان کتابوں نے اس رسول کی خبر دی ہے۔ جب وہ امر واقع ہوگیا جس کے بارے میں خبر دی گئی تھی تو یہ چیز اس خبر کی تصدیق ہے، نیز اگر وہ اس قرآن پر ایمان نہیں لاتے تو گویا ان کا اپنی کتابوں پر بھی ایمان نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ کی کتابیں ایک دوسری کی تصدیق اور ایک دوسری کی تائید کرتی ہیں، اس لئے بعض کتابوں پر ایمان کا دعویٰ اور بعض پر ایمان نہ رکھنا، محض باطل دعویٰ ہے جس کی صداقت کا ہرگز امکان نہیں ہے۔
اللہ تعالیٰ کے ارشاد (امنوا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–48
کسی شخص کا حالت جنابت میں مسجد کے اندر سے گزرجانا
قول باری ہے (یا ایھا الذین امنوالاتقربوالصلوۃ وانتم سکاری حتی تعلموا ماتقولون ولاجنبا الاعابری سبیل حتی تغتسلوا، اے ایمان والو، جب تم نشے کی حالت میں ہو تو نماز کے قریب نہ جاؤ جب تک غسل نہ کرلو الایہ کہ راستہ سے گزرتے ہو) ۔
ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ آیت میں سکر یعنی نشہ کے مفہوم ومراد میں اختلاف رائے ہے حضرت ابن عباس ، مجاہد، ابراہیم اور قتادہ کا قول ہے کہ شراب کی وجہ سے پیدا ہونے والانشہ مراد ہے مجاہد اور حسن کا قول ہے کہ تحریم خمر کے حکم نے اسے منسوخ کردیا ہے ضحاک کا قول ہے کہ اس سے خاص کر نیند کی وجہ سے پیدا ہونے والی مدہوشی مراد ہے۔
اگریہ…
Read the full tafseer →120 قرآن حکیم کی تصدیق تورات و انجیل کیلئے تین طرح سے : قرآن حکیم سے تورات و انجیل کی یہ تصدیق تین طرح سے ہوتی ہے۔ ایک تو اس طرح کہ تورات و انجیل میں آخری پیغمبر اور ان پر نازل ہونے والی اس وحی کی خبر دی گئی تھی۔ تو اس طرح اس کتاب کا محض نزول ہی تورات و انجیل کی تصدیق ہے۔ کیونکہ اگر بالفرض یہ کتاب حکیم نازل نہ ہوتی تو اس سے متعلق تورات و انجیل کی ایسی تمام پیشینگوئیاں جھوٹی پڑجاتیں۔ اور دوسرے اس طرح کہ اس کتاب حکیم میں بھی انہی بنیادی حقائق و عقائد کی تعلیم و تلقین فرمائی گئی ہے جو کہ ان کتابوں میں مذکور تھے، اور اس میں یہ تعلیم بطریق احسن اور بدرجہ کمال فرمائی گئی ہے۔ اور تیسرے اس طرح کہ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–48
یہودیوں کو ایمان کی دعوت
تشریح : ان آیات کی پوری تفصیلات آل عمران اور سورة ٔ بقرہ میں بیان ہوچکی ہیں۔ یہاں اللہ رب العزت حکم دیتے ہیں کہ اگر تم نے راہ راست اختیار نہ کی تو پھر جیسے تمہارے اجداد اصحاب السبت کو سزا کے طور پر بندر بنا دیا گیا تھا تمہیں بھی ایسی ہی سزا ملے گی تمہارے چہرے بھی بگاڑ دیئے جائیں گے اور پھر مزید خبردار کیا کہ اللہ کا حکم ضرور پورا ہو کر رہتا ہے۔ نافرمانی سے بچو تاکہ عذاب سے بچ سکو۔ اللہ رب العزت مزید خبردار کر رہے ہیں کہ شرک اتنا شدید گناہ ہے کہ اس کو ہرگز معاف نہیں کیا جائے گا۔ شرک کا مطلب ہے اللہ رب العالمین کو معبود مانتے ہوئے کسی اور کو بھی معبود ماننا۔ شرک کو تین…
Read the full tafseer →آیت نمبر 47: یا ایہا الذین اوتوا الکتب ۔ وکان امر اللہ مفعولا۔
اے اہل کتاب تمہیں تو ماننے میں کوئی دشواری نہیں ہونی چاہئے کہ نبی کریم ﷺ پر جو کچھ نازل ہوا وہ انہیں عقائد کی تصدیق و تائید فرماتا ہے جن سے تم پہلے آشنا ہو اور جو تم پر نازل ہونے والی کتاب میں موجود ہیں توحید آخرت عذاب وثواب فرشتہ وغیرہ عقائد تو سب وہی ہیں صرف رسالت نئی ہے سو اس کا ذکر بھی تمہاری کتاب میں موجود ہے اب اس کے باوجود روگردانی ایسا جرم ہے کہ اگر اللہ چاہے تو چہرے مسخ کردے یا الٹ دے جس طرح تم نے اپنا رویہ الٹا رکھا ہے یا ایسی لعنت میں گرفتار کرے جس میں ہفتہ کے دن والوں کو کیا تھا انہوں نے بھی اپنی رائے کو جواز مہیا کرنے…
Read the full tafseer →ف 1 کی شرارتوں کو بیان کرنے بعد اب اس آیت میں ان کو ایمان کی دعوت دی اور ہٹ دھرمی کی بنا پر احکام خداوندی بجا نہ لانے پر وعید سنائی کیونکہ یہود عالم تھے اور علم و معروف کے باوجود ہٹ دھرمی سے کام لے رہے تھے ( ْ کبیر) اس وعید کا تعلق یا تو قیامت کے کے دن سے ہے یا دنیا میں چہروں کو مسخ کردینا مراد ہے اور اصحاب سبت جیسی لعنت سے مراد یہ ہے کہ جس طرح ان کو بندر خنزیر منادیا تھا تمہیں ویسا ہے بنادیا جائے۔ اصحاب سبت کے قصہ کے لیے دیکھئے سورت اعراف آیت 163)
Read the full tafseer →(4:47) نطمس۔ مضارع منصوب بوجہ عمل ان۔ جمع متکلم۔ طمس مصدر باب ضرب ونصر۔ کہ ہم صورت بگاڑ دیں۔ طمس کے اصل معنی مٹانا۔ بگاڑنا اور پلٹ دینا کے ہیں متعدی اور غیر متعدی دونوں طرح استعمال ہوتا ہے۔
فنردھا۔ مضارع جمع متکلم رد سے باب نصر۔ ھا ضمیر مفعول واحد مؤنث غائب جو وجوھا کی طرف راجع ہے۔ ان کو پھیر دیں ان کا رخ ان کی پیٹھوں کی طرف۔ علی ادبارھا اربار جمع دبر کی ۔ بمعنی پیٹھ۔ پھیر دیں۔
نلعنہم۔ مضارع جمع متکلم لعن مصدر (فتح) ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب۔ ہم ان پر لعنت کریں۔ لعنا۔ ماضی جمع متکلم ۔ ہم نے لعنت کی۔
اصحب السبت۔ ہفتہ کے دن والے۔ 536ء سے 628ء کے درمیان یہودیوں کے نبی یر میاہ اور نبی حز قیل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–47
آیت نمبر 44-47
لغات القرآن : الم تر، کیا تو نے نہیں دیکھا ؟ ۔ یشترون، خریدتے ہیں۔ اعداء، دشمن (عدو کی جمع ہے) ۔ مواضع، موقع و محل (موضع، جگہ، موقع) ۔ غیر مسمع، نہ ہو سننے والا۔ لی، مروڑنا۔ السنۃ، زبانیں (لسان کی جمع ہے) ۔ طعن، طعنہ دینا، عیب لگانا۔ اقوم، زیادہ بہتر۔ نطمس، ہم مٹا دیں ہم بگاڑ دیں۔ نرد، ہم پھیر دیں۔ ادبار، پیٹھ (دبر، پیٹھ) ۔ اصحاب السبت، ہفتہ والے (بنی اسرائیل میں سے جن کو مچھلیوں کے شکار سے آزمایا گیا) ۔ امر اللہ، اللہ کا حکم۔
تشریح : ان آیات میں مجلسی آدب بتائے گئے ہیں۔ جان بوجھ کر ذومعنی الفاظ کہنا سخت منع ہے جو بظاہر احترام اور عزت کے ہیں لیکن حقیقتاً حقارت اور ذلت کے الفاظ…
Read the full tafseer →یہ آیت نازل فرمائی اور فرمایا کہ ان لوگوں کو توریت کی ہدایت کے موافق قرآن اور نب آخر الزمان (ﷺ) پر ایمان لانا ہے تو یہ لوگ جلدی کریں ، ورنہ پچھلے لوگوں کی طرح ملعون ٹھہرا کر ان کی شکلیں بدل دی جاویں گی۔ اس کا حکم ایسا زبردست ہے کہ ایک کن کے کہنے سے سب کچھ ہوگیا ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–50
[42] اس کی تشریح سورة بقرہ کے حاشیہ 51 صفحہ 99 میں گزر چکی ہے۔
Read the full tafseer →(ف 1) اس آیت میں یہود کو دعوت ایمان دی ہے اور کہا ہے قرآن حکیم سابقہ حقائق ومعارف کا مصدق ہے ۔ یہ انہیں معارف وحکم کو پیش کرتا ہے جن سے تمہارے کان آشنا ہیں ۔ اس لئے تم پر لازم ہے کہ اس کو مانو اور یاد رکھو ، نہ مانو گے تو ایک وقت ایسا آئے گا جب تمہارے چہرے مسخ کر دئے جائیں گے ۔
طمس کے معنی مٹانے کے ہیں ” مفازۃ طامسۃ “ اس جنگل کو کہتے ہیں جس میں کوئی اثرونشان نہ رہ گیا ہو ۔ طمس اللہ علی بصرہ “ سے مراد ہے خدا نے اس کی بصارت کو ضائع کردیا ،
وجوہ ۔ وجہ کی جمع ہے جس کے معنی چہرے کے ہیں ۔ کبھی کبھی وجوہ کا اطلاق اعیان وزعماء قوم پر بھی ہوتا ہے ۔
اس لئے بعض لوگوں نے اس کے یہ معنی بھی لئے ہیں کہ وقت…
Read the full tafseer →ف 2 اے وہ لوگو ! جن کو توریت نامی کتاب دی گئی ہے تم اس قرآن پر ایمان لائو جو ہم نے نازل فرمایا ہے اور جس کی شان یہ ہے کہ وہ قرآن اس کتاب کی تصدیق کرنے والا ہے جو تمہارے پاس ہے یا اس کتاب کی پیشنگوئی کے موافق ہے جو تمہارے پاس ہے اور یہ ایمان بھی اس بات سے پہلے پہلے لے آئو کہ ہم تمہارے چہروں کے نشانات کو مٹا کر بالکل سپاٹ کردیں پھر ان چہروں نے نقش و نگار مٹان یکے بعد ان کو ان کے پیچھے کی جانب پلٹ دیں اور پھر دیں یا ان ایمان نہ لانے والوں پر ہم ایسی خاص لعنت کریں جس طرح ہم نے ہفتہ والوں پر لعنت کی تھی اور جس طرح وہ لوگ جو ہفتہ کے دن زیادتی کیا کرتے تھے ملعون قار دیئے گئے تھے اور اللہ تعالیٰ جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–47
ف 7۔ نبی کے ساتھ طعن وستہزاء عین دین کے ساتھ طعن و استہزاء ہے۔
8۔ جس کے معنی یہ ہیں کہ ہم نے سن لیا اور مان لیا۔
9۔ اسمع کے معنی یہ ہیں کہ آپ سن لیجیے اور انظرنا کے معنی یہ ہیں کہ ہماری مصلحت پر نظر فرمائیے۔
10۔ یہ لایومنون ان ہی کی نسبت فرمایا جو علم الہی میں کفر پر مرنے والے تھے پس نومسلموں کے ایمان لانے سے کوئی شبہ نہیں ہوسکتا اور جو ایمان لے آتا ہے اگر وہ کسی وقت میں بےادبی و نافرمانی بھی کرچکا ہو لیکن جب اس سے باز آگیا تو وہ کالعدم ہوگیا۔
Read the full tafseer →اپنی بنائی ہوئی ہدایت کو چھوڑ کر اللہ کی دی ہوئی ہدایت کی طرف آئو :
98ـ: ” کتاب اللہ “ سے مراد اس جگہ ” قرآن کریم “ بھی ہو سکتا ہے اور ” توراۃ “ بھی۔ پہلی صورت میں مطلب یہ ہے کہ نبی اعظم و آخر ﷺ کو دی گئی کتاب اللہ یعنی قرآن کریم کی طرف آئو اس لئے کہ اب یہ دنیا میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے آخری ہدایت ہے جس کے بعد کوئی اور ہدایت اللہ کی طرف سے نہیں آئے گی اور اگر اس سے ” توراۃ “ مراد ہے تو بھی بات وہی ہے کہ اگر تم توراۃ کے احکام کو مان لو تو قرآن کریم کی تعلیمات سے انکار کر ہی نہیں سکتے اس لئے کہ قرآن کریم میں وہی بیان ہے جو توراۃ میں تھا کوئی نئی تعلیم نہیں ہے ہاں ! وہ چیزیں اور باتیں جو تم نے…
Read the full tafseer →Commentary
Note 1: The Qur’ anic expression: فَنَرُدَّهَا عَلَىٰ أَدْبَارِهَا (and turn them shaped like their backs) admits of two probabilities in this act of turning. It could either be that the features of the face are eliminated and the whole face is turned around towards the back; or, it may be that the face is flattened like the nape of the neck, devoid of all features, 'effaced.' (Mazhari, Ruh al-Ma` ani)
Note 2: When will this be is a question posed and answered by Commentators in great details. Discussing this deconfiguration (tams) and transmutation (maskh), some of them have…
Read the full tafseer →77. See ibid., Surah 3, n. 2.
78. See ibid., Surah 2, nn. 82 and 83.
Read the full tafseer →