Explained with ayahs 44–46
یہودیوں کی ایک مذموم خصلت
اللہ تبارک وتعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ یہودیوں کی ایک مذموم خصلت یہ بھی ہے کہ وہ گمراہی کو ہدایت پر ترجیح دیتے ہیں، نبی آخر الزماں ﷺ پر جو کتاب نازل ہوئی اس سے بھی روگردانی کرتے ہیں اور اللہ کا دیا ہوا جو علم ان کے پاس ہے اسے بھی پس پشت ڈال دیتے ہیں خود اپنی کتابوں میں نبی موعود کی بشارتیں پڑھتے ہیں لیکن اپنے مریدوں سے چڑھاوا لینے کے لالچ میں ظاہر نہیں کرتے بلکہ ساتھ ہی یہ چاہتے ہیں کہ خود مسلمان بھی راہ راست سے بھٹک جائیں اللہ کی کتاب کے مخالف ہوجائیں ہدایت کو اور سچے علم کو چھوڑ دیں، اللہ تعالیٰ تمہارے دشمنوں سے خوب باخبر ہے وہ تمہیں ان سے مطلع کر رہا ہے کہ کہیں تم…
Read the full tafseer →سورة النِّسَآء 72
یہ نہیں فرمایا کہ ”یہودی ہیں“ بلکہ یہ فرمایا کہ ”یہودی بن گئے ہیں“۔ کیونکہ ابتداءً تو وہ بھی مسلمان ہی تھے، جس طرح ہر نبی کی امت اصل میں مسلمان ہوتی ہے، مگر بعد میں وہ صرف یہودی بن کر رہ گئے۔
سورة النِّسَآء 73
اس کے تین مطلب ہیں ایک یہ کہ کتاب اللہ کے الفاظ میں رد و بدل کرتے ہیں۔ دوسرے یہ کہ اپنی تاویلات سے آیات کتاب کے معنی کچھ سے کچھ بنا دیتے ہیں۔ تیسرے یہ کہ یہ لوگ محمد ﷺ اور آپ ﷺ کے پیرو وں کی صحبت میں آکر ان کی باتیں سنتے ہیں اور واپس جا کر لوگوں کے سامنے غلط طریقہ سے روایت کرتے ہیں۔ بات کچھ کہی جاتی ہے اور وہ اسے اپنی شرارت سے کچھ کا کچھ بنا کر لوگوں میں مشہور کرتے ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–46
خلاصہ تفسیر
(اے مخاطب) کیا تو نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا (یعنی دیکھنے کے قابل ہیں دیکھو تو تعجب کرو جن کو کتاب (اللہ یعنی توریت کے علم) کا ایک بڑا حصہ ملا ہے (یعنی توریت کا علم رکھتے ہیں باوجود اس کے) کہ وہ لوگ گمراہی (یعنی کفر) کو اختیار کر رہے ہیں اور (خود تو گمراہ ہوئے ہی تھے مگر وہ) یوں چاہتے ہیں کہ تم (بھی) راہ (راست) سے (علیحدہ ہو کر) بےراہ ہوجاؤ (یعنی طرح طرح کی تدبیریں اس کی کرتے ہیں جیسا کہ تیسرے پارہ کے آخر اور چوتھے کے شروع میں کچھ ذکر ہو بھی چکا ہے) اور تم کو اگر ان لوگوں کی اب تک خبر نہ ہو تو کیا ہوا) اللہ تعالیٰ (تو) تمہارے (ان) دشمنوں کو خوب جانتے ہیں (اس لئے تم کو بتلا دیا سو…
Read the full tafseer →مِنَ الَّذِيْنَ ھَادُوْا يُحَرِّفُوْنَ الْكَلِمَ عَنْ مَّوَاضِعِهٖ وَيَقُوْلُوْنَ سَمِعْنَا وَعَصَيْنَا وَاسْمَعْ غَيْرَ مُسْمَعٍ وَّرَاعِنَا لَيًّــۢا بِاَلْسِنَتِهِمْ وَطَعْنًا فِي الدِّيْنِ ۭ وَلَوْ اَنَّھُمْ قَالُوْا سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا وَاسْمَعْ وَانْظُرْنَا لَكَانَ خَيْرًا لَّھُمْ وَاَقْوَمَ ۙ وَلٰكِنْ لَّعَنَھُمُ اللّٰهُ بِكُفْرِهِمْ فَلَا يُؤْمِنُوْنَ اِلَّا قَلِيْلًا۔
اس آیت کے تمام الفاظ سورة بقرہ کی تفسیر میں زیر بحث آ چکے ہیں۔ یہ ان شرارتوں کی طرف اجمالاً اشارہ ہے جو یہودی اشرار نبی کریم ﷺ کو لوگوں کی نگاہوں سے گرانے اور اسلام کو بےوزن اور حقیر بنانے کے لیے کرتے تھے۔
یہود کی ایک…
Read the full tafseer →46۔ 1 یہودیوں کی خباثتوں اور شرارتوں میں سے ایک یہ بھی تھی کہ ' ہم نے سنا ' کے ساتھ ہی کہہ دیتے لیکن ہم نافرمانی کریں گے یعنی اطاعت نہیں کریں گے۔ یہ دل میں کہتے یا اپنے ساتھیوں سے کہتے یا شوخ جسارت کا ارتکاب کرتے ہوئے منہ پر کہتے اسی طرح غیر مُسْمَعٍ (تیری بات نہ سنی جائے) یہ بد دعا کے طور پر کہتے۔ یعنی تیری بات قبول نہ ہو۔ راعنا۔ کی بابت دیکھئے سورة البقرہ آیت 14۔ کا حاشیہ۔
46۔ 2 یعنی ایمان لانے والے بہت ہی قلیل ہیں پہلے گزر چکا ہے کہ یہود میں سے ایمان لانے والوں کی تعداد دس تک بھی نہیں پہنچی۔ یا یہ معنی ہیں کہ بہت ہی کم باتوں پر ایمان لاتے۔ جب کہ ایمان نافع یہ ہے کہ سب باتوں پر ایمان لایا…
Read the full tafseer →33: اس آیت میں بعض یہودیوں کی دو شرارتوں کا ذکر کیا گیا ہے ایک شرارت یہ ہے کہ وہ تورات کے الفاظ کو اپنے موقع محل سے ہٹاکر اس میں لفظی یا معنوی تحریف کا ارتکاب کرتے ہیں، یعنی بعض اوقات اس کے الفاظ ہی کو کسی اور لفظ سے بدل دیتے ہیں اور بعض اوقات اس لفظ کو غلط معنی پہنا کر اس کی من مانی تفسیر کرتے ہیں اور دوسری شرارت یہ ہے کہ جب وہ آنحضرت ﷺ کے پاس آتے ہیں تو ایسے مبہم اور منافقانہ الفاظ استعمال کرتے ہیں جن کا ظاہری مفہوم برا نہیں ہوتا ؛ لیکن وہ اندرونی طور پر ان الفاظ سے وہ دوسرے معنی مراد لیتے ہیں جو ان الفاظ میں چھپے ہوئے ہوتے ہیں، قرآن کریم نے اس کی تین مثالیں اس آیت میں ذکر کی ہیں، ایک یہ کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–47
درس نمبر 43 تشریح آیات :
44۔۔۔۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 57
مدینہ کی نوخیز تحریک اسلامی کا جو گھیراؤ مخالف اسلام کیمپوں نے کر رکھا تھا ‘ اس سبق کے ساتھ ان کیمپوں کے خلاف یہاں معرکہ آرائی شروع ہو رہی ہے ۔ اس سبق کے اندر اس بات پر تعجب کا اظہار کیا گیا ہے کہ مدینہ کے یہودی اس دین جدید اور جامعت مسلمہ کے خلاف کیا کیا اوچھے ہتھکنڈے استعمال کر رہے ہیں ۔ اس سے اگلے سبق میں بتایا گیا ہے کہ جماعت مسلمہ کے فرائض کیا ہیں اور یہ کہ اسلامی نظام کا مزاج کیا ہے ‘ اسلام کی تعریف کیا ہے اور ایمان کی شرائط کیا ہیں جس کی وجہ سے اسلامی زندگی اور اسلامی نظام حیات دوسرے لوگوں کی زندگی اور نظام سے متمیز ہوتا ہے ۔ اس سے…
Read the full tafseer →7 یعنی یہود میں ایسے لوگ بھی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے جو تورات میں نازل فرمایا اس کو اپنے ٹھکانے سے پھیرتے اور بدلتے ہیں یعنی تحریف لفظی اور معنوی کرتے ہیں۔
8 یعنی جب رسول اللہ ﷺ ان کو کوئی حکم سناتے تو یہود جواب میں کہتے ہم نے سن لیا مطلب یہ ہوا کہ قبول کرلیا لیکن آہستہ سے کہتے تھے کہ نہ مانا یعنی ہم نے فقط کان سے سنا دل سے نہیں مانا۔
9 یعنی اور جب یہود حضرت ﷺ سے خطاب کرتے ہیں تو کہتے ہیں سن نہ سنایا جائیو تو یعنی ایسے کلام بولتے جس کے دو معنے ہوں ایک معنی کے اعتبار سے دعاء یا تعظیم ہو تو دوسرے معنی کی رو سے بد دعاء اور تحقیر ہو سکے۔ چناچہ یہ کلام بظاہر دعائے خیر ہے۔ مطلب یہ کہ تو ہمیشہ غالب…
Read the full tafseer →آیت 46 مِنَ الَّذِیْنَ ہَادُوْا یُحَرِّفُوْنَ الْکَلِمَ عَنْ مَّوَاضِعِہٖ
وَیَقُوْلُوْنَ سَمِعْنَا وَعَصَیْنَا
یہود اپنی زبانوں کو توڑ مروڑکر الفاظ کو کچھ کا کچھ بنا دیتے۔ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوتے تو احکام الٰہی سن کر کہتے سَمِعْنَا وَعَصَیْنَا۔ بظاہر وہ اہل ایمان کی طرح سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا ہم نے سنا اور ہم نے قبول کیا کہہ رہے ہوتے لیکن زبان کو مروڑ کر حقیقت میں سَمِعْنَا وَعَصَیْنَا کہتے۔
وَاسْمَعْ غَیْرَ مُسْمَعٍ
وہ حضور ﷺ کی مجلس میں آپ ﷺ ‘ کو مخاطب کرکے کہتے ذرا ہماری بات سنیے ! ساتھ ہی چپکے سے کہہ دیتے کہ آپ سے سنا نہ جائے ‘ ہمیں آپ کو سنانا مطلوب نہیں ہے۔ اس طرح وہ شان رسالت…
Read the full tafseer →77۔ الف تورات عبرانی زبان میں نازل ہوئی تھی لیکن اصل تورات تو دو دفعہ گم ہوئی۔ پھر مختلف زبانوں میں اس کے تراجم پر انحصار کیا گیا۔ آج کل تورات اور انجیل کے مجموعہ کو بائیبل مقدس کا نام دیا گیا ہے۔ تورات کے حصہ کو عہد نامہ عتیق اور انجیل کے حصہ کو عہد نامہ جدید کہتے ہیں۔ ان میں تحریف کے علاوہ بہت سے الحاقی مضامین بھی شامل ہوچکے ہیں جن سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہ عبارت الہامی نہیں ہوسکتی۔ جیسا کہ درج ذیل عبارتوں سے معلوم ہوتا ہے :
1۔ سو موسیٰ خداوند کا بندہ خداوند کے حکم کے موافق موآب کی سرزمین میں مرگیا۔ اسے اس نے موآب کی ایک وادی میں بیت فغور کے مقابل گاڑا۔ پر آج کے دن تک کوئی اس کی قبر کو…
Read the full tafseer →150 ۔ (اور لفظی ومعنوی ہر قسم کی تحریف کرتے رہتے ہیں) (آیت) ” الکم “۔ کلام سے مراد کلام الہی یا توریت ہے۔ (آیت) ” الذین ھادوا “۔ یہ وہ لوگ تھے جو نسلا اسرائیلی نہیں، بلکہ عرب تھے لیکن یہود کی طویل صحبت سے متاثر ہو کر خود بھی یہود کے شعائر و عقائد اختیار کرکے رفتہ رفتہ ان میں جذب ہوچکے تھے، شرارت وخباثت میں یہ بھی نسلی یہود سے کچھ کم نہ تھے تفصیل پارۂ اول میں گزر چکی۔ نحویین کہتے ہیں کہ (آیت) ” ھادوا “۔ اور ” یحرفون “۔ کے درمیان ” من “۔ محذوف ہے۔ قال الفراء المحذوف من المعنی من الذین ھادو امن یحرفون (قرطبی)
151 ۔ (یعنی ان کے حق میں نافع بھی اور مطابق واقعہ بھی) عرب یہود کی مستمر شرارتوں اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–50
الم تَرَالی الذین اوتوانصیباً من الکتاب، (الآ یة) علماء اہل کتاب کے متعلق قرآن نے اکثر یہ الفاظ استعمال کئے ہیں کہ '' انھیں کتاب کے علم کا کچھ حصہ دیا گیا ہے '' اس کی وجہ یہ ہے کہ اول تو انہوں نے کتاب الہٰی کا ایک بڑا حصہ گم کردیا تھا، پھر کتاب الہٰی کا جو کچھ حصہ ان کے پاس موجود تھا اس کی روح اور اس کے مقصد و مدعا سے وہ بیگانے ہوچکے تھے۔
یُحَرِّ فون الکلمَ عن مواضعہ، اس کے تین مطلب ہیں، ایک یہ کہ کتاب اللہ کے الفاظ میں ردوبدل کردیتے، دوسرے یہ کہ تاویلات فاسدہ سے کتاب اللہ کے معنی کچھ سے کچھ بنا دیتے، تیسرے یہ کہ لوگ محمد ﷺ کی صحبت میں آکر آپ کی باتیں سنتے اور واپس جا کر غلط طریقہ سے بیان…
Read the full tafseer →من الذین ہادوا یحرفون الکلم . ان یہودیوں میں سے کچھ لوگ (تورات کے) بعض الفاظ کو (ان کے مقام سے) پھیر دیتے ہیں۔
مِنَ الَّذِیْنَ یا الَّذِیْنَ اُوْتُوا کا بیان ہے۔ یعنی یہ تحریف کرنے والے یہودی انہی میں سے ہیں جن کو کتاب دی گئی ہے یا اعدائکمکا بیان ہے یعنی تمہارے دشمن ان تحریف کرنے والوں میں سے ہیں۔ یا اس کا تعلق نصیراً سے ہے یعنی اللہ تمہاری نصرت ان یہودیوں سے کرنے والا ہے جو تحریف کرتے ہیں۔ الکلمجمع ہے کلمہ کی یا اسم جنس ہے جمع نہیں ہے کیونکہ آئندہ لفظ میں واحد مذکر کی ضمیر آئی ہے جو الکلم کی طرف راجع ہے۔
عن مواضعہ . اس کے مقامات سے۔ جو لوگ الکلم کو جمع کہتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ الکلم سے پہلے…
Read the full tafseer →(46) یہودیوں کے دوعالموں یسبع اور رافع بن حرملہ کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی، انہوں نے عبداللہ بن ابی اور ان کے ساتھیوں کو اپنے دین کو دعوت دی تھی، مالک بن صیف یہودی اور اس کے ساتھی باوجود یہ کہ رسول اکرم ﷺ کی نعت وصفت توریت میں موجود ہے۔ مگر پھر بھی اس میں ترمیم کرتے اور چھپاتے ہیں اور رسول اکرم کی خدمت میں آکر اپنی زبانوں کو توہین کے لہجہ میں تبدیل کرکے اور دین میں عیب جوئی کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ظاہرا تو آپ کی بات کو سنتے ہیں مگر حقیقت میں ہم اس کی نافرمانی کرتے ہیں اور اگر یہ یہودی ”سمعنا“ وغیرہ کہتے ہیں تو اگر یہ اس طرح کے تحقیری جملوں سے گریز کرتے تو یہ بات ان کے لیے بہتر ہوتی، لیکن اللہ…
Read the full tafseer →مِنَ الَّذِيْنَ ھَادُوْا يُحَرِّفُوْنَ۔۔ : اوپر کی آیت میں فرمایا کہ وہ گمراہی مول لیتے ہیں، اب اس آیت میں چند امور کے ساتھ اس گمراہی کی تشریح فرمائی۔ یعنی وہ تورات کے احکام میں تحریف کرتے ہیں۔ [ دیکھیے المائدۃ : 13، 41 ]
سورۂ مائدہ میں ”عن مواضعہ“ کے علاوہ ”من بعد مواضعہ“ بھی ہے، جس کا معنی تحریف لفظی ہے، یہاں ”عن مواضعہ“ ہے، اس سے مراد تحریف معنوی ہے، یعنی تاویلات فاسدہ سے کام لیتے ہیں، مثلاً قصۂ ذبیح کا تعلق اسماعیل ؑ کی بجائے اسحاق ؑ کے ساتھ جوڑنا۔ (رازی۔ شوکانی) ہمارے زمانے میں بھی تمام بدعتیوں کا شیوہ ہوگیا ہے کہ جو آیت یا حدیث امام، مجتہد یا پیرو مرشد کے قول کے خلاف نظر آتی ہے، اس کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–53
سابقہ آیت کی بقیہ تفسیر
اور ترمذی میں حضرت علی بن ابی طالب سے مروی ہے فرمایا : ” قرآن میں مجھے اس آیت سے زیادہ کوئی محبوب آیت نہیں ہے۔ (آیت) ” ان اللہ لا یغفر ان یشرک بہ ویغفر ما دون ذالک لمن یشآء “۔ فرمایا : یہ حدیث حسن غریب ہے (3) (جامع ترمذی، ابواب التفسیر جلد 2، صفحہ 129)
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” الم ترالی الذین یزکون انفسھم “۔
اس میں تین مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر : (1) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” الم ترالی الذین یزکون انفسھم “۔ یہ لفظ اپنے ظاہر میں عام ہے اور کبھی اور حسن نے کہا : ان کا یہ قول ہے۔ (آیت) ” نحن ابنؤا اللہ واحبآؤہ “۔ (المائدہ : 18) (ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے محبوب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–46
(1) ابن اسحاق وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم والبیہقی نے دلائل میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رفاعہ بن زید بن تابوت یہود کے بڑے لوگوں میں سے تھا جب وہ رسول اللہ ﷺ سے بات کرتا تو اپنی زبان کو مروڑ کر کہتا اے محمد ! ہمارے بات توجہ سے سنئے تاکہ ہم آپ کو بات سمجھائیں پھر وہ اسلام میں طعن کرتا اور عیب جوئی کرتا تو اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا لفظ آیت ” الم تر الی الذین اوتوا نصیبا من الکتب یشترون الضللۃ “ سے لے کر ” فلا یؤمنون الا قلیلا “ تک۔
(2) ابن جریر وابن المنذر نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ (یہ آیت) ” الم تر الی الذین اوتوا نصیبا من الکتب “ سے لے کر ” یحرفون الکلم عن مواضعہ…
Read the full tafseer →[ مِنَ الَّذِیْنَ ہَادُوْا : جو یہودی ہوئے ان میں وہ بھی ہیں ] [ یُحَرِّفُوْنَ : جو پھیرتے ہیں ] [ الْکَلِمَ : کلاموں کو ] [ عَنْ مَّوَاضِعِہٖ : ان کے رکھنے کی جگہوں سے ] [ وَیَـقُوْلُوْنَ : اور کہتے ہیں ] [ سَمِعْنَا : ہم نے سنا ] [ وَعَصَیْنَا : اور ہم نے نافرمانی کی ] [ وَاسْمَعْ : اور (کہتے ہیں) تو سن ] [ غَیْرَ مُسْمَعٍ : نہ سنایا ہوا ہوتے ہوئے ] [ وَّرَاعِنَا : اور (کہتے ہیں) راعنا ] [ لَـیًّا : مروڑتے ہوئے ] [ بِاَلْسِنَتِہِمْ : اپنی زبانوں کو ] [ وَطَعْنًا : اور طعنہ دیتے ہوئے ] [ فِی الدِّیْنِ : دین میں ] [ وَلَوْ اَنَّـہُمْ : اور یہ کہ اگر وہ ] [ قَالُوْا : کہتے ] [ سَمِعْنَا : ہم…
Read the full tafseer →یہودیوں کی شرارت اور شقاوت
تفسیر در منثور صفحہ 168: ج 2 میں حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ رفاعہ بن زید یہودیوں کا ایک چودھری تھا۔ وہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آتا تو اپنی زبان موڑ کر بات کرتا پھر اس نے اسلام میں طعنہ زنی شروع کردی اور احکام اسلام میں عیب نکالنے لگا اس پر یہ آیت شریفہ الا قلیلاً تک نازل ہوئی۔ یہودیوں کو اللہ تعالیٰ نے تورات کا علم دیا تھا باوجودیکہ اس میں تحریف کرلی تھی پھر بھی اس میں آنحضرت سرور عالم ﷺ کی بعثت اور نبوت و رسالت کا ذکر موجود تھا۔ ہر قوم کے چھوٹے اپنے بڑوں کے پیچھے لگتے ہیں۔ یہودیوں کے علماء اور زعماء حق جانتے ہوئے نہ اسلام کی طرف آتے تھے اور نہ عوام کو اس کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–46
ذکر بعض قبائح یہود۔
قال تعالی۔ الم ترالی الذین۔۔۔۔ الی۔۔۔۔ الاقلیلا۔ آیت۔
ربط) یہاں تک مواقع تقوی اور حدود اللہ سے ان تعدیوں کا بیان تھا جن کا تعلق مسلمانوں سے تھا اب آئندہ آیات میں اہل کتاب کی تعدی کو بیان فرماتے ہیں اور مسلمانوں کو متنبہ کرنے کے لیے یہود کی بعض قبائح اور ان کے مکروفریب اور ان کی پرانی اور جبلی شرارتوں کا ذکر کرتے ہیں کہ یہود ہمیشہ اس کوشش میں رہتے ہیں کہ مسلمانوں کو دین سے پھیر دیں اور توریت میں تحریف کرتے ہیں اور دین اسلام پر طرح طرح کے طعن اور اعتراضات کرتے ہیں تاکہ لوگ شک میں پڑجائیں اور جب نبی ﷺ کے ساتھ گفتگو کرتے ہیں تو نہایت گستاخانہ اور تمسخر آمیز ہوتی ہے مال و دولت…
Read the full tafseer →36 یہ یہود کی ایک دوسری شرارت کا بیان ہے۔ منافقین و یہود ان الفاظ سے آنحضرت ﷺ کو خطاب کرتے یہ الفاظ ذو وجہین ہیں اور ان میں ایک پہلو مدح کا ہے دوسرا ذم کا۔ مدح کی صورت میں یہ اسمع فلان فلانا اذا سبہ سے ماخوذ ہے اور مطلب یہ ہے اِسْمَعْ غَیْرَ مُسْمَعٍ مکروھا (مدارک ج 1 ص 178) یعنی خدا کرے آپ کوئی اور ناپسندیدہ بات نہ سننے پائیں اور ذم کی صورت میں اس کا مفہوم یہ ہے خدا کرے تمہارے کانوں تک بھلائی کی کوئی آواز نہ پہنچے یعنی (عیاذاً باللہ) تم بہرے ہوجاؤ ان الفاظ سے ان کی مراد تو دوسرے معنی ہوتے لیکن ظاہر یوں کرتے کہ وہ پہلے معنی مراد لے رہے ہیں اسی طرح لفظ رَاعِنَا بھی ذو وجہین ہے ایک مفہوم تو یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–46
ربط آیات
اہل کتاب کی برائیوں کا تذکرہ گزشتہ آیات میں بھی گزر چکا ہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے وراثت کے مسائل اور محرکات نکاح بیان کیے۔ پھر معاشرتی مسائل کی تشریح ، اہل کتاب کے مال و علم میں بخل اور دوسروں کو بخل کی ترغیب کا بیان تھا۔ اس کے بعد نیکی بدی کا انجام اور قیامت کے محاسبے کا تذکرہ ہوا۔ درمیان میں اللہ تعالیٰ نے خاص مناسبت سے نماز کا ذکر کیا کہ نشے اور جنابت کی حالت میں نماز کے قریب نہ جاؤ ۔ پھر پانی کی عدم موجودگی میں طہارت کے لیے تیمم کا طریقہ بتلایا اور اب ان آیات میں پھر اہل کتاب کی مکاری اور اسلام دشمنی کا ذکر فرمایا ہے ، اس تذکرہ کے دو بنیادی مقاصد ہیں۔ ایک مقصد تو یہ ہے کہ اہل…
Read the full tafseer →مِنَ الَّذِيْنَ ھَادُوْا يُحَرِّفُوْنَ الْكَلِمَ عَنْ مَّوَاضِعِہٖ وَيَقُوْلُوْنَ سَمِعْنَا وَعَصَيْنَا وَاسْمَعْ غَيْرَ مُسْمَعٍ وَّرَاعِنَا لَيًّۢا بِاَلْسِنَتِہِمْ وَطَعْنًا فِي الدِّيْنِ 0ۭ وَلَوْ اَنَّھُمْ قَالُوْا سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا وَاسْمَعْ وَانْظُرْنَا لَكَانَ خَيْرًا لَّھُمْ وَاَقْوَمَ 0ۙ وَلٰكِنْ لَّعَنَھُمُ اللہُ بِكُفْرِہِمْ فَلَا يُؤْمِنُوْنَ اِلَّا قَلِيْلًا 46
هَادَ ( یہودی)
فلان : إذا تحرّى طریقة الْيَهُودِ في الدّين، قال اللہ عزّ وجلّ : إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا
[ البقرة/ 62] والاسم العلم قد يتصوّر منه معنی ما يتعاطاه المسمّى به . أي : المنسوب إليه،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–46
ترکیب : الم تر فعل انت فاعل الی الذین مفعول اول یشترون مفعول ثانی۔ من الذین ھادوا خبر ہے مبتداء محذوف کی اے الہم۔ من الذین الخ یحرفون حال ہے فاعل ھادوا سے یا یوں کہو کہ من الذین نصیرا سے متعلق ہے۔ والذین اوتوا نصیبا کا بیان بھی ہوسکتا ہے۔ عن مواضعہ متعلق ہے یحرفون سے ویقولون معطوف ہے ‘ یحرفون پر غیر مسمع حال ہے اور قولا محذوف کی صفت بھی ہوسکتا ہے۔
تفسیر : جبکہ تیمم کا مسئلہ پہلی آیت میں ہوا تو یہودی علماء نے اپنے ہاں کے سخت احکام کے مقابلہ پر اس پر تمسخر کیا اور کہنے لگے پانی سے نجاست کا دور ہونا تو ایک معقول بات تھی بھلا خاک پر ہاتھ مار کے ہاتھ منہ پر پھیرنے سے کیا ہوتا ہے ؟ اس سے معلوم ہوا…
Read the full tafseer →مِنَ الَّذِیْنَ ھَادُوْا یُحَرِّفُوْنَ الْـکَلِمَ عَنْ مَّوَاضِعِہٖ وَیَقُوْلُوْنَ سَمِعْنَا وَعَصَیْنَا وَاسْمَعْ غَیْرَ مُسْمَعٍ وَّرَاعِنَا لَـیًّا م بِاَلْسِنَتِھِمْ وَطَعْنًا فِی الدِّیْنِ ط وَلَوْ اَنَّھُمْ قَالُوْا سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا وَاسْمَعْ وَانْظُرْنَا لَـکَانَ خَیْرًا لَّھُمْ وَاَقْوَمَ لا وَلٰـکِنْ لَّعَنَھُمُ اللّٰہُ بِکُفْرِھِمْ فَلاَ یُؤْمِنُوْنَ اِلَّا قَلِیْلاً
(یہود میں سے ایک گروہ زبان کو تروڑ مروڑ کر اور دین پر طعن کرتے ہوئے الفاظ کو ان کے موقع ومحل سے ہٹا دیتا ہے اور سَمِعْنَا وَعَصَیْنَا، اِسْمَعْ غَیْرَ مُسْمَعٍ اور رَاعِنَا کہتا ہے اور اگر وہ سَمِعْنَا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–47
فہم القرآن
ربط کلام : اس آیت میں یہودیوں پر فرد جرم عائد کرتے ہوئے ان کی بد ترین عادتوں کا ذکر کیا گیا ہے۔
جس شخص یا گروہ میں یہ عادتیں پائی جائیں وہ معاشرے کے لیے ناسور، مذہب کا بدترین دشمن اور لوگوں کی ہدایت میں سب سے بڑی رکاوٹ ثابت ہوتا ہے۔ ایسے لوگ اللہ تعالیٰ کی رحمت کی بجائے اس کی لعنت کے سزاوار ہوتے ہیں۔ ان سے چھٹکارا پائے بغیر معاشرہ جرائم سے پاک نہیں ہوسکتا۔ اس لیے رسول اللہ ﷺ نے یہودیوں کو ہمیشہ کے لیے مدینہ سے نکل جانے کا حکم دیا تھا اور اپنی حیات مبارکہ کے آخری لمحات میں ان پر لعنت اور پھٹکار کی۔
جن عادتوں کی وجہ سے یہودیوں پر لعنت کی گئی وہ یہ ہیں :
1 ۔ اللہ تعالیٰ کے کلام کو اس…
Read the full tafseer →آیت 46: مِنَ الَّذِیْنَ ہَادُوْا یُحَرِّفُوْنَ الْکَلِمَ عَنْ مَّوَاضِعِہٖ (کچھ یہود تبدیل کرتے ہیں کلمات (تورات) کو اس کے مقامات سے) ۔
ایک نحوی تحقیق :
نمبر 1۔ یہ الذین اوتوا الکتاب کا بیان ہے۔ یا نمبر 2۔ اعدائکم کا بیان ہے اور درمیان میں جملہ معترضہ ہے۔ یا نمبر 3۔ نصیرًا کے متعلق ہے۔ تقدیر کلام یہ ہے ینصرکم من الذین ہادوا جیسا کہ دوسری آیت میں ہے : وَنَصَرْنٰہُ مِنَ الْقَوْمِ الَّذِیْنَ کَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا [ لانبیاء : 77]
نمبر 4۔ محذوف سے متعلق ہے۔ تقدیر عبارت یہ ہے : من الذین ہادوا قوم یحرفون الکلم۔ پس قوم مبتداء اور یحرفون اس کی صفت اور من الذین ہادوا اس کی خبر مقدم۔ اس صورت میں موصوف…
Read the full tafseer →46۔ (آیت)” من الذین ھادوا “ یہ متصلہ ہے اس جملہ کے ساتھ (آیت)” الم تر الی الذین اوتوا نصیبا من الکتاب “۔ بعض نے کہا کہ یہ جملہ مستانفہ ہے ، معنی اس کا یہ ہوگا کیا وہ ہدایت یافتہ لوگ ہیں جو اس میں تحریف کرتے ہیں ، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان (آیت)” وما منا الا لہ مقام معلوم “۔ ان کی منزل کسی کو معلوم نہیں ۔ ان میں سے ایک فریق یہ ارادہ کرتا ہے (آیت)” یحرفون الکلم “۔ اللہ کی باتوں کو متغیر کرنے والے ” عن مواضعہ “۔ آپ ﷺ کی صفات کو تبدیل کرنے والے ۔ حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ یہود آپ ﷺ کے پاس تشریف لاتے تھے اور کسی کام کے بارے میں سوال کرتے تھے ، آپ ﷺ ان کو خبر دیتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–46
(44 ۔ 46) ۔ ابن اسحاق نے حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ رفاعہ بن زید اور مالک بن و خشم یہودیوں میں دو بڑے سردار تھے وہ طرح طرح کی شرارتیں آنحضرت ﷺ سے کرتے تھے کبھی آپ سے کوئی مسئلہ پوچھتے اور آپ جو جواب دیتے اس کو بدل کر اور طرح پر لوگوں سے بیان کرتے اور کبھی زبان دبا کر دو معنی کلمات آپ کو کہتے مثلاً راعنا کو ان معنوں میں بدلتے جن کا ذکر سورة بقر میں گذرا اور ظاہر میں سمعنا واطعنا کہہ کر چپکے سے کہتے سنا ہم نے اور نہ مانا۔ اور واسمع غیر مسمع سے یہ مطلب نکالتے۔ آپ بہرے ہوجائیں غرض ان دونوں شخصوں اور اس قسم کے شریر النفس جو یہود تھے ان سب کی تنبیہ میں اللہ تعالیٰنے یہ آیت نازل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–46
آیت 44
اس آیت کریمہ میں ان لوگوں کی مذمت ہے جنہیں کتاب عطا کی گئی اور اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو ڈرایا ہے کہ وہ ان کی وجہ سے دھوکے میں نہپڑیں اور ان کا ساتھی بننے سے بچیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی بابت آگاہ فرمایا کہ وہ اپنے بارے (یشترون الضلۃ) گمراہی خریدتے ہیں یعنی گمراہی سے بہت زیادہ محبت کترے ہیں اور اسے ترجیح دیتے ہیں جیسے کوئی شخص اپنی محبوب چیز کی طلب میں مال کثیر خرچ کرنے کو ترجیح دیتا ہے۔ پس یہ لوگ ہدایت پر گمراہی کو، ایمان پر کفر کو اور سعادت پر شقاوت کو ترجیح دیتے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ (ویریدون ان تضلوا السبیل) ” اور وہ چاہتے ہیں کہ تم بھی راستہ گم کرلو۔ “ پس وہ تمہیں گماہ کرنے کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–48
کسی شخص کا حالت جنابت میں مسجد کے اندر سے گزرجانا
قول باری ہے (یا ایھا الذین امنوالاتقربوالصلوۃ وانتم سکاری حتی تعلموا ماتقولون ولاجنبا الاعابری سبیل حتی تغتسلوا، اے ایمان والو، جب تم نشے کی حالت میں ہو تو نماز کے قریب نہ جاؤ جب تک غسل نہ کرلو الایہ کہ راستہ سے گزرتے ہو) ۔
ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ آیت میں سکر یعنی نشہ کے مفہوم ومراد میں اختلاف رائے ہے حضرت ابن عباس ، مجاہد، ابراہیم اور قتادہ کا قول ہے کہ شراب کی وجہ سے پیدا ہونے والانشہ مراد ہے مجاہد اور حسن کا قول ہے کہ تحریم خمر کے حکم نے اسے منسوخ کردیا ہے ضحاک کا قول ہے کہ اس سے خاص کر نیند کی وجہ سے پیدا ہونے والی مدہوشی مراد ہے۔
اگریہ…
Read the full tafseer →115 یہود کی ایک خصلت بد کا ذکر : سو اس سے یہود کی اس خصلت بد کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ یعنی یہ ایسے بدبخت لوگ ہیں کہا آنحضرت ﷺ سے بات سن کر کہتے ہیں کہ ہم نے آپ کی بات سن لی لیکن مانیں گے نہیں۔ یعنی کانوں سے تو سن لیا لیکن دل سے مانا نہیں۔ (معارف، مدارک اور محاسن وغیرہ) ۔ سو اس سے ان لوگوں کی شقاوت و بدبختی کا اندازہ کیا جاسکتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو ایسے لفظ بولنا جن کے ظاہری معنیٰ تو صحیح اور درست ہوں مگر تحریف کے ذریعے ان کو برے اور غلط معنوں میں استعمال کیا جائے تو یہ ایک یہودیانہ طریقہ اور بگڑی ہوئی ذہنیت کا نمونہ ہے، جس کے نمونے آج بھی یہاں اور وہاں طرح طرح سے ملتے ہیں ۔ والعیاذ…
Read the full tafseer →یہود کی مکاریاں
تشریح : یہودیوں کی بدتمیزیوں کے بارے میں سورة ٔ بقرہ اور آل عمران میں بڑی تفصیل سے بیان کیا جا چکا ہے۔ یہاں پھر بتایا جارہا ہے کہ وہ جب نبی کریم ﷺ سے ملتے تو بظاہر تو ادب کے الفاظ استعمال کرتے مگر دراصل الفاظ کو ذرا دبا کر بولتے جس سے اسی لفظ کا مطلب راعِیْنَا کہ ہمارا چرواہا ہوجاتا، جب کہ راعِنَا کا مطلب ہے ہم پر شفقت کی نظر کریں۔ اسی طرح کی خرابیاں اور خباثتیں یہودی کرتے رہتے تھے اسی لیے اللہ رب العزت نے ان پر لعنت بھیجی ہے اور ان پر کامیابی کے دروازے بند کردیئے گئے۔ بہت تھوڑے ایسے لوگ تھے جو ایمان لائے اور یہودیوں کی خباثتوں میں ان کے ساتھ شامل نہ ہوئے اور اللہ کی لعنت سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–46
آیت نمبر 44 تا 46: الم تر الی الذین ۔۔۔ فلا یومنون الا قلیلا۔
اے مخاطب ان لوگوں کا حال دیکھ لیجئے جن کو پہلے کتاب اللہ میں سے حصہ نصیب ہوا یعنی یہود ونصاریٰ تو انہوں نے اس پر عمل کرنے میں کوتاہی کی اپنی خواہشات کے تابع ہوگئے یعنی کتاب کے ساتھ ایمان کا دعوی تو قائم رکھا مگر عملی زندگی میں کتاب سے نہ صرف بیگانہ رہے بلکہ اپنی رائے کو جواز مہیا کرنے کے لیے کتاب اللہ کے کلمات تبدیل کردئیے تو نتیجہ الٹ گیا وہ کتاب جو سراسر ہدایت تھی اس کو بدل کر اور اس کی اطاعت سے نکل کر گمراہ ہوگئے یعنی انہوں نے گمراہی خرید لی کہ ان پر مسلط نہیں کی گئی بلکہ انہوں نے اپنی رائے اور پسند سے اختیار کی تو اب ان کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–46
ف 6 اوپر کی آیت میں بیان فرمایا ہے کہ وہ گمراہی مول لیتے ہیں اب اس آیت میں چند امور کے ساتھ اس گمراہی کی تشریح فرمائی اور ان کلو توا نصیبامن الکتاب اس لیے فرمایا کہ انہوں نے توراۃ میں موسیٰ ٰ ( علیہ السلام) کی نبوت تو معلوم کرلی مگر آنحضرت ﷺ کی نبوت کا ادراک نہ کر سے (کبیر) یعنی تورات کے احکام میں تحریف کرتے ہیں یعنی تورات کے احکام میں تحریف کرتے ہیں (دیکھئے سورت مائدہ :13 ۔ 41) سورت مائدہ میں من بعد مواضعہ ہے یعنی تحریف لفظی کرتے ہیں اور ان الفاظ کو تورات سے نکال ڈالتے ہیں مثلا یہاں عن مواضعہ سے مراد تحریف معنوی ہے یعنی تاویلات فسدہ سے کام لتیے ہیں مگر حضرت ابراہیم کی اپنے اکلوتے بیٹے کی…
Read the full tafseer →(4:46) ھادوا۔ ماضی جمع مذکر غائب۔ ھود۔ مصدر۔ باب نصر۔ وہ یہودی ہوئے من الذین ھادوا۔ جو یہودی ہیں ان میں سے بعض لوگ۔
یحرفون۔ مضارع جمع مذکر غائب۔ تحریف (تفعیل) مصدر۔ تحریف کرتے ہیں۔ بدل ڈالتے ہیں۔ بگاڑ دیتے ہیں۔ تحریف خواہ لفظی ہو یا معنوی یہاں دونوں مراد ہیں۔
الکلم۔ جنس جمع ہے۔ کلمۃ واحد ہے۔ یحرفون الکلم عن مواضعہ کلمات کو ان کے مقام سے بدل دیتے ہیں (یہاں کلمات سے مراد کلمات توارۃ ہیں)
مواضعہ۔ اسم ظرف جمع موضع واحد۔ وضع مصدر۔ باب فتح۔ رکھنے کے مقامات۔ اصلی جگہوں سے وضع اتار کر رکھ دینا۔
اسمع۔ تو سن۔ سماع وسماعۃ۔ سے امر کا صیغہ۔ واحد مذکر حاضر۔
غیر مسمع۔ مسمع اسم مفعول واحد مذکر۔ باب افعال۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–47
آیت نمبر 44-47
لغات القرآن : الم تر، کیا تو نے نہیں دیکھا ؟ ۔ یشترون، خریدتے ہیں۔ اعداء، دشمن (عدو کی جمع ہے) ۔ مواضع، موقع و محل (موضع، جگہ، موقع) ۔ غیر مسمع، نہ ہو سننے والا۔ لی، مروڑنا۔ السنۃ، زبانیں (لسان کی جمع ہے) ۔ طعن، طعنہ دینا، عیب لگانا۔ اقوم، زیادہ بہتر۔ نطمس، ہم مٹا دیں ہم بگاڑ دیں۔ نرد، ہم پھیر دیں۔ ادبار، پیٹھ (دبر، پیٹھ) ۔ اصحاب السبت، ہفتہ والے (بنی اسرائیل میں سے جن کو مچھلیوں کے شکار سے آزمایا گیا) ۔ امر اللہ، اللہ کا حکم۔
تشریح : ان آیات میں مجلسی آدب بتائے گئے ہیں۔ جان بوجھ کر ذومعنی الفاظ کہنا سخت منع ہے جو بظاہر احترام اور عزت کے ہیں لیکن حقیقتاً حقارت اور ذلت کے الفاظ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–46
توریت سے انہوں نے صرف حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت کو پہچانا اور آنحضرت ﷺ کا جو بیان تھا اس حصہ سے وہ محروم رہے اور آپ کی نبوت کے منکر ہوگئے ۔ شان نزول : یہ آیت رفاعہ بن زید اور مالک بن وخشم یہودیوں کے حق میں نازل ہوئی ۔ یہ دونوں جب رسول اللہ ﷺ سے بات کرتے تو زبان ٹیڑھی کرکے بولتے ۔ اس قسم کی شرارتیں کرتے تھے۔ اے مسلمانو ! اس نے تمہیں بھی ان کی عداوت سے خبردار کردیا تو چاہیے کہ ان سے بچے رہو ۔ جس کا کارساز اللہ ہو اسے کیا اندیشہ ہے۔ اللہ کی لعنت اور پھٹکار کا مطلب یہ ہے کہ ایسے لوگوں پر اللہ کی رحمت نہ ہوگی ۔ اگرچہ یہ قصہ یہود کا ہے لیکن اس امت میں بھی اب وہ حالت یعنی گناہوں کی کثرت اور…
Read the full tafseer →[37] یعنی لفظی اور معنوی ہر قسم کی تحریف کرتے ہیں۔
[38] یعنی جب انہیں اللہ کے احکام سنائے جاتے تو زور سے کہتے سَمِعْنَا (ہم نے سن لیا) پھر آہستہ سے کہتے عَصَیْنَا (ہم نے نہیں مانا) ۔
[39] رسول اکرم ﷺ سے دوران گفتگو میں کہتے اِسْمَعْ (سنئے) اور ساتھ ہی غَیْرَ مُسْمَعٍ بھی بڑھا دیتے جو دعائیہ ہے اور کو سنا بھی ہوسکتا ہے۔ اس کے اصل معنی ہیں کہ اللہ تم کو نہ سنوائے مگر کیا نہ سنوائے ؟ دوست ہوگا تو اس کی یہ مراد ہوگی کہ تم کو کسی بری بات سننے کا اتفاق نہ ہو اور دشمن ہوگا تو اس نیت سے کہے گا کہ تم بہرے ہوجاؤ۔
[40] اس کی تشریح سورة بقرہ کے حاشیہ 72 صفحہ 101 میں گزر چکی ہے۔
[41] ایضاً
Read the full tafseer →تحریف کلمات :
(ف 1) ان آیات میں یہود کی عادت تحریف کی طرف اشارہ ہے کہ یہ لوگ ذوق حق سے قطعا محروم ہیں ، یہ باتیں سنتے ہیں اور اسے بالکل بدل دیتے ہیں پھر طبعتیں اس درجہ مسخ ہوچکی ہیں کہ گستاخی ودل آزاری سے بھی باز نہیں آتے ۔
راعنا کی تفصیل گزر چکی ہے ، ان کا مقصد بہرحال ایذاء رسول ﷺ اور اپنی گستاخی کا اظہار ہوتا تھا ۔ وہ اس لفظ کو ذرا زبان داب کر کہتے ہیں جس سے ذم کا پہلو زیادہ نمایاں ہوجاتا اور اتنی سی بات سے خوش ہوجاتے ۔
قرآن حکیم کہتا ہے کہ ایسے لوگ اللہ کی رحمت سے دور رہتے ہیں اور بوجہ اپنی گستاخی وملعونیت کے نور ایمان سے ہمیشہ دور رہتے ہیں ۔
حل لغات :
مواضع : جمع موضع ، جگہ ، مقام ۔ راعنا…
Read the full tafseer →ف 1 اور اللہ تعالیٰ نے تمہارے ان دشمنوں کو خوب جانتا ہے اور ان دشمنوں سے خوب واقف ہے اور اللہ تعالیٰ تمہارا سرپرست ہے اور تمہاری حمایت کرنے کو کافی ہے اور وہ با اعتبار ایک مددگار کے تمہاری مدد کو کافی ہے۔ ان یہود میں سے کچھ لوگ وہ ہیں جو کلام الٰہی کو اور توریت کے الفاظ کو اس کے محل اور موقع سے پھیر دیتے ہیں یعنی الفاظ کی لفظی اور معنوی تحریف کرتے ہیں اور نیز نبی کریم ﷺ کی مجلس میں گفتگو کرتے وقت اپنی زبانوں کو پیچ دیکر دین میں طعنہ زنی کرنے کی غرض سے ذومعینین الفاظ بولتے ہیں اور یوں کہتے ہیں سنا ہم نے اور نہ مانا ہم نے آپ سنیے نہ سنائے جائیں آپ اور آپ ہماری رعایت فرمائیے اور اگر یہ لوگ بجائے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–47
ف 7۔ نبی کے ساتھ طعن وستہزاء عین دین کے ساتھ طعن و استہزاء ہے۔
8۔ جس کے معنی یہ ہیں کہ ہم نے سن لیا اور مان لیا۔
9۔ اسمع کے معنی یہ ہیں کہ آپ سن لیجیے اور انظرنا کے معنی یہ ہیں کہ ہماری مصلحت پر نظر فرمائیے۔
10۔ یہ لایومنون ان ہی کی نسبت فرمایا جو علم الہی میں کفر پر مرنے والے تھے پس نومسلموں کے ایمان لانے سے کوئی شبہ نہیں ہوسکتا اور جو ایمان لے آتا ہے اگر وہ کسی وقت میں بےادبی و نافرمانی بھی کرچکا ہو لیکن جب اس سے باز آگیا تو وہ کالعدم ہوگیا۔
Read the full tafseer →یہودیوں کی شرارتوں کا ذکر جو وہ وقتاً فوقتاً کرتے رہتے تھے :
97: یہودیوں کی شرارتوں کا ذکر سورة بقرہ اور آل عمران میں بڑی تفصیل سے گزر چکا ہے اور اس آیت میں بھی ان کی انہی شرارتوں کا ذکر ہے۔ کبھی وہ کوئی شرارت کرتے کبھی کوئی متعدد روایات میں بھی یہ بات آئی ہے کہ کچھ یہودی نبی کریم ﷺ کی خدمت میں آتے تو السلام علمکا کی بجائے سام علیکم کہتے یعنی السلام کا تلفظ اس طرح کرتے کہ سننے والا سمجھے کہ سلام کہا ہے مگر دراصل وہ سام کہتے ہیں جس کے معنی موت کے ہیں۔ نبی اعظم و آخر ﷺ ان کو جواب دیتے تو صرف اتنا ارشاد فرماتے کہ ” وعلیکم “ یعنی انہوں نے کہا تمہیں موت آئے اور اللہ کی لعنت اور پھٹکار پڑے نبی کریم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–46
The present verses take up the matter of dealings with enemies. It brings into sharp focus the wicked tricks, in word and deed, as practiced by the Jews, and then gives a view of what is true and correct. This last aspect is in a way an exhortation to Muslims that they should be careful in choosing the words they use to say what they have to say, for mincing words is not their style.
In the previous verse (46), there was a description of the Jewish stance against Islam which ranged from flat denial to laboured falsification, something born out of the desire to misrepresent, alter and…
Read the full tafseer →72. It is to be noted that this expression means 'they became Jews', rather than 'they were Jews'. For, originally, they were nothing but Muslims, just as the followers of every Prophet are Muslims. Only later on did they become merely 'Jews'.
73. This signifies three things. First, that they tampered with the text of the Scripture. Second, that they misinterpreted the Scripture and thereby distorted the meanings of the verses of the Book. Third, that they came and stayed in the company of the Prophet (peace be on him) and his Companions and listened to the conversations which took place…
Read the full tafseer →