Explained with ayahs 60–63
حسن سلوک اور دوغلے لوگ
اوپر کی آیت میں اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے دعوے کو جھٹلایا ہے جو زبانی تو اقرار کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی تمام اگلی کتابوں پر اور اس قرآن و حدیث کی طرف رجوع نہیں کرتے بلکہ کسی اور طرف لے جاتے ہیں، چناچہ یہ آیت ان دو شخصوں کے بارے میں نازل ہوئی جن میں کچھ اختلاف تھا ایک تو یہودی تھا دوسرا انصاری، یہودی تو کہتا تھا کہ چل محمد ﷺ سے فیصلہ کرالیں اور انصاری کہتا تھا کعب بن اشرف کے پاس چلو یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ آیت ان منافقوں کے بارے میں اتری ہے بظاہر مسلمان کہلاتے ہیں ان منافقوں کے بارے میں اتری ہے جو بھی مسلمان ہونے کا دعویٰ کرتے تھے لیکن درپردہ احکام جاہلیت کی طرف جھکنا…
Read the full tafseer →سورة النِّسَآء 92
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ منافقین کی عام روش تھی کہ جس مقدمہ میں اندیشہ ہوتا تھا کہ فیصلہ ان کے حق میں ہوگا اس کو تو نبی ﷺ کے پاس لے آتے تھے اور جس مقدمہ میں اندیشہ ہوتا تھا کہ فیصلہ ان کے خلاف ہوگا اس کو آپ ﷺ کے پاس لانے سے انکار کردیتے تھے۔ یہی حال اب بھی منافقوں کا ہے کہ اگر شریعت کا فیصلہ ان کے حق میں ہو تو سر آنکھوں پر ورنہ ہر اس قانون، ہر اس رسم و رواج اور ہر اس عدالت کے دامن میں جا پناہ لیں گے جس سے انہیں اپنے منشاء کے مطابق فیصلہ حاصل ہونے کی توقع ہو۔
Read the full tafseer →دوسری آیت میں بتلا دیا کہ باہمی خصوصیت اور جھگڑے کے وقت رسول کریم ﷺ کے شرعی فیصلہ سے اعراض کرنا کسی مسلمان کا کام نہیں ہوسکتا ایسا کام کرنے والا منافق ہی ہوسکتا ہے اور جب اس منافق کا کفر عملاً اس طرح کھل گیا کہ آنحضرت ﷺ کے فیصلہ پر راضی نہ ہوا تو فاروق اعظم کا اس کو قتل کرنا صحیح ہوگیا، کیونکہ اب وہ منافق نہ رہا بلکہ کھلا کافر ہوگیا، اس لئے ارشاد فرمایا کہ یہ لوگ ایسے ہیں کہ جب ان سے کہا جائے کہ آجاؤ اس حکم کی طرف جو اللہ تعالیٰ نے اتارا ہے اور اس کے رسول کی طرف، تو یہ منافقیت آپ کی طرف آنے سے رک جاتے ہیں۔
Read the full tafseer →منافقین کو دھمکی : وَاِذَا قِيْلَ لَھُمْ تَعَالَوْا اِلٰى مَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ وَاِلَى الرَّسُوْلِ رَاَيْتَ الْمُنٰفِقِيْنَ يَصُدُّوْنَ عَنْكَ صُدُوْدًا۔ فرمایا کہ آج تو جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اپنے معاملات اللہ اور رسول ہی کے سامنے پیش کرو، ایمان کا یہی تقاضا ہے، تو کسی نہ کسی بہانے سے کترا جاتے ہیں لیکن اس وقت کیا ہوگا جب ان کی ان شرارتوں کی پاداش میں ان پر ایسا وقت آجائے گا کہ یہ بھاگے ہوئے تمہارے پاس آئیں گے اور قسمیں کھا کھا کے یقین دلائیں گے کہ جو کچھ یہ کرتے رہے ہیں کسی بری نیت سے نہیں کرتے رہے ہیں بلکہ بھلائی اور سازگاری کی نیت سے کرتے رہے ہیں۔
Read the full tafseer →61۔ 1 یہ آیات ایسے لوگوں کے بارے میں نازل ہوئیں جو اپنا فیصلہ عدالت میں لے جانے کی بجائے سرداران یہود یا سرداران قریش کی طرف لے جانا چاہتے تھے تاہم اس کا حکم عام ہے اس میں تمام وہ لوگ شامل ہیں جو کتاب و سنت سے اعراض کرتے ہیں اور اپنے فیصلوں کے لئے ان دونوں کو چھوڑ کر کسی اور کی طرف جاتے ہیں۔ ورنہ مسلمانوں کا تو یہ حال ہوتا ہے (اِنَّمَا كَانَ قَوْلَ الْمُؤْمِنِيْنَ اِذَا دُعُوْٓا اِلَى اللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ لِيَحْكُمَ بَيْنَهُمْ اَنْ يَّقُوْلُوْا سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا) 24:51 کہ جب انہیں اللہ اور رسول ﷺ کی طرف بلایا جاتا ہے تو وہ ان کے درمیان فیصلہ کریں تو وہ کہتے ہیں کہ سَمِنَا وَ اَطَعْنَا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–61
42: یہاں سے ان منافقوں کا ذکر ہورہا ہے جو اصل دل سے تو یہودی تھے مگر مسلمانوں کو دکھانے کے لئے اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرتے تھے، ان کا حال یہ تھا کہ جس معاملے میں ان کی توقع ہوتی کہ آنحضرت ﷺ ان کے فائدے کا فیصلہ کریں گے ان کا مقدمہ تو آپ کے پاس لے جاتے ؛ لیکن جس مسئلے میں ان کو خیال ہوتا کہ آنحضرت ﷺ کا فیصلہ ان کے خلاف ہوگا وہ مقدمہ آپ کے بجائے کسی یہودی سردار کے پاس لے جاتے، جسے اس آیت میں طاغوت کہا گیا ہے، منافقین کی طرف سے ایسے کئی واقعات پیش آئے تھے جو متعدد روایات میں منقول ہیں، طاغوت کے لفظی معنی ہیں نہایت سرکش ؛ لیکن یہ لفظ شیطان کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے اور ہر باطل کے لئے بھی، یہاں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–62
(آیت) ” نمبر 60 تا 65۔
بعض لوگوں کی یہ تصویر جو ان آیات میں کھینچی گئی ہے ‘ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ آیات ہجرت کے ابتدائی ایام میں نازل ہوئی تھیں ۔ اس دور میں جس میں نفاق کا بہت زور تھا اور یہودی منافقین کے ساھت ملک کر ایک زور آور قوت تھے۔
یہ لوگ جو یہ ارادہ رکھتے تھے کہ قانونی فیصلے طاغوت کے مطابق ہوں ‘ یہ لوگ منافقین تھے جیسا کہ آیات کے اس مجموعے کی دوسری آیت میں اس کی تصریح بھی کردی گئی ہے ۔ ان سے مراد یہودی بھی ہو سکتے ہیں اس لئے کہ جب ان کو یہ دعوت دی جاتی تھی کہ وہ کتاب اللہ کے مطابق فیصلے کرانا تسلیم کریں تو وہ انکار کردیتے تھے اور اس بات کی خواہش رکھتے تھے کہ اس قانون کے مطابق فیصلے…
Read the full tafseer →1 یعنی جب کسی جھگڑے میں منافقوں سے کہا جائے کہ اللہ نے جو حکم نازل فرمایا ہے اس کی طرف آؤ اور اس کے رسول ﷺ کے روبرو اپنے جھگڑے کو لاؤ تو ظاہر میں چونکہ مدعی اسلام ہیں اس لئے صاف طور پر تو انکار نہیں کرسکتے مگر آپ کے پاس آنے سے اور حکم الٰہی پر چلنے سے بچتے ہیں اور رکتے ہیں کہ کسی ترکیب سے جان بچ جائے اور رسول ﷺ کو چھوڑ کر جہاں ہمارا جی چاہے اپنا جھگڑا لے جائیں۔
Read the full tafseer →آیت 61 وَاِذَا قِیْلَ لَہُمْ تَعَالَوْا اِلٰی مَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ وَاِلَی الرَّسُوْلِ
اپنے مقدمات کے فیصلے اللہ کے رسول ﷺ سے کراؤ۔
رَاَیْتَ الْمُنٰفِقِیْنَ یَصُدُّوْنَ عَنْکَ صُدُوْدًا
صَدَّ یَصُدُّ کے بارے میں عرض کرچکا ہوں کہ یہ رکنے کے معنی میں بھی آتا ہے اور روکنے کے معنی میں بھی۔
Read the full tafseer →93 سیدنا عمر کا منافق کے حق میں فیصلہ :۔ ہوا یہ تھا کہ ایک یہودی اور ایک منافق (مسلمان) کا کسی معاملہ میں جھگڑا ہوگیا۔ یہودی چونکہ حق بجانب تھا لہذا اس نے منافق سے کہا کہ چلو اس کا فیصلہ تمہارے رسول سے کرا لیتے ہیں (یعنی یہودیوں کا بھی یہ ایمان ضرور تھا کہ یہ نبی حق ہی کا ساتھ دیتا ہے) مگر منافق اس سے پس و پیش کرنے لگا۔ اسے بھی یہ خطرہ تھا کہ آپ حق کا ساتھ دیں گے اور فیصلہ میرے خلاف ہوجائے گا لہذا وہ لیت و لعل کرنے لگا اور کہنے لگا کہ یہ مقدمہ تمہارے سردار کعب بن اشرف کے پاس لے چلتے ہیں جہاں اس منافق کو توقع تھی کہ مکر و فریب اور رشوت سے فیصلہ میرے حق میں ہوسکتا ہے۔ مگر یہودی یہ بات نہ مانا…
Read the full tafseer →188 ۔ منافقین یوں تو اسلام کے مدعی تھے۔ لیکن جب کبھی کوئی مقدمہ معاملہ آپڑتا تو فیصلہ کے لئے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہونے سے بہت ہی گھبراتے کہ یہاں تو بہرحال بلا ردودرعایت دودھ کا دودھ، پانی کا پانی ہو کر رہے گا۔ اور کسی قسم کی سخن سازی وخیانت نہ چل سکے گی۔ تعالوا الی الرسول۔ رسول کی طرف آؤ، کہ آپ قانون شریعت کے موافق فیصلہ کردیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–70
آیت نمبر 60 تا 70
ترجمہ : (آئندہ آیت) اس وقت نازل ہوئی جب ایک یہودی اور منافق کے درمیان ایک مقتول کے معاملہ میں نزاع پیدا ہوگیا، منافق نے کعب بن اشرف کے پاس جانے کے لئے کہا تاکہ وہ ان کے درمیان فیصلہ کرے، اور یہودی نے رسول اللہ ﷺ کے پاس جانے کے لئے کہا، چناچہ جب یہ لوگ آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ ﷺ نے فیصلہ یہودی کے حق میں فرمایا، مگر منافق اس پر راضی نہ ہوا، اور دونوں حضرت عمر ؓ کے پاس آئے، اور یہودی نے آپ ﷺ کے فیصلہ کا تذکرہ حضرت عمر ؓ کے روبرو کردیا، (حضرت عمر نے) منافق سے کہا کیا بات ایسی ہی ہے ؟ منافق نے اقرار کیا چناچہ حضرت عمر نے منافق کو قتل کردیا، کیا آپ نے ان معاملہ میں غور کیا…
Read the full tafseer →واذا قیل لہم اور جب ان سے کہا جاتا ہے یعنی جب ان منافقوں سے جو اسلام کے مدعی ہیں کہا جاتا ہے کہ تعالوا الی ما انزل اللہ والی الرسول اس قرآن کی طرف آؤ جو اللہ نے اتارا ہے اور رسول (کے فیصلہ) کی طرف آؤ۔ الی الرسولکا عطف ما انزل اللہ پر ہے اس عطف سے ظاہر ہوتا ہے کہ کبھی رسول اللہ ﷺ قرآن کے علاوہ وحی خفی اور اجتہاد کے ذریعہ سے بھی فیصلہ کرتے تھے۔
رایت المنفقین یصدون عنک صدودا تو آپ منافقوں کو دیکھیں گے کہ وہ آپ کی طرف سے بالکل منہ موڑ لیتے ہیں۔ بجائے ضمیر کے صراحت کے ساتھ المنافقین : کہنے سے ان لوگوں کی برائی اور رسوائی کا اظہار مقصود ہے۔ رسول اللہ ﷺ کو چھوڑ کر دوسروں کی طرف راغب ہونے کی وجہ یہ…
Read the full tafseer →(61) یہ آیت بشر نامی منافق شخص کے بارے میں نازل ہوئی، اس کا ایک یہودی سے جھگڑا تھا اور حضرت عمر فاروق ؓ نے اس کو قتل کردیا تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–61
اوپر کی آیات میں مسلمانوں پر واجب کیا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت کریں، یہاں فرمایا کہ منافق ہمیشہ رسول اللہ ﷺ کی نافرمانی کرتے ہیں اور کبھی آپ ﷺ کے فیصلے اور حکم پر راضی نہیں ہوتے، بلکہ ان کی کوشش ہوتی ہے کہ کسی مشرک سردار یا یہودی یا نصرانی عدالت یا کسی کاہن سے فیصلہ کروایا جائے، حالانکہ اسلام ان سب کے انکار کا حکم دیتا ہے اور اللہ اور اس کے رسول کے حکم پر عمل نہ کرنے والی ہر عدالت کو طاغوت قرار دیتا ہے۔ مومن کا کام اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا فیصلہ سننا اور ماننا ہے۔ [ دیکھیے النور : 51 ] اور منافقوں کا حال اس کے برعکس ہے۔ [ دیکھیے النور : 48، لقمان : 21 ] افسوس کہ اس وقت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–61
آیت نمبر : 60 تا 61۔
یزید بن زریع عن داؤد بن ابی ھند عن الشعبی کے سلسلہ سے مروی ہے شعبی نے فرمایا : ایک منافق اور ایک یہودی کے درمیان جھگڑا ہوا یہودی نے منافق کو نبی مکرم ﷺ سے فیصلہ کرانے کی طرف بلایا، کیونکہ وہ جانتا تھا کہ آپ ﷺ رشوت قبول نہیں کرتے، منافق نے یہودی کو یہود کے حکام سے فیصلہ کرانے کی طرف بلایا ک، کیونکہ جانتا تھا کہ وہ اپنے فیصلوں میں رشوت لیتے ہیں، جب اختلاف ہوا تو دونوں نے جہینۃ قبیلہ میں ایک کاہن کو اپنا حکم بنانے پر اتفاق کیا، اس وقت اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : (آیت) ” الم ترالی الذین یزعمون انھم امنوا بما انزل الیک “۔ یعنی منافق اور ” وما انزل من قبلک “۔ یعنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–63
(1) ابن ابی حاتم والطبرانی نے صحیح سند کے ساتھ ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ابو برزہ سلمی کا ہن تھا یہود کے درمیان فیصلے کیا کرتا تھا ان معاملات میں کہ جن میں وہ آپس میں اختلاف کرتے تھے مسلمانوں میں سے کچھ لوگ اس کی طرف فیصلہ کے لئے گئے تو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا لفظ آیت ” الم تر الی الذین یزعمون انہم امنوا “ سے لے کر ” احسانا وتوفیقا “ تک۔
(2) ابن اسحاق وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جلاس بن صامت اپنی توبہ سے پہلے اور مقیب بن مشتیر اور رافع بن زید اور بشر مسلمان ہونے کا دعوی کرتے تھے ان کی قوم کے مسلمانوں نے ایک جھگڑے میں حضور ﷺ کے پاس حاضر ہونے کے لئے کہا جبکہ…
Read the full tafseer →[ وَاِذَا : اور جب بھی ] [ قِیْلَ : کہا جاتا ہے ] [ لَہُمْ : ان سے ] [ تَـعَالَــوْا : تم لوگ آئو ] [ اِلٰی مَــآ : اس کی طرف جو ] [ اَنْزَلَ : اتارا ] [ اللّٰہُ : اللہ نے ] [ وَاِلَی الرَّسُوْلِ : اور ان رسول ﷺ کی طرف ] [ رَاَیْتَ : تو آپ ﷺ دیکھتے ہیں ] [ الْمُنٰفِقِیْنَ : منافقوں کو ] [ یَصُدُّوْنَ : (کہ) وہ لوگ رکتے ہیں ] [ عَنْکَ : آپ ﷺ سے ] [ صُدُوْدًا : جیسے کہ رکا جاتا ہے ]
Read the full tafseer →بشر منافق کا جو واقعہ پیش آیا اس کو الفاظ کے عموم میں اس طرح بیان فرمایا (وَ اِذَا قِیْلَ لَھُمْ تَعَالَوْا اِلٰی مَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ وَاِلَی الرَّسُوْلِ رَاَیْتَ الْمُنٰفِقِیْنَ یَصُدُّوْنَ عَنْکَ صُدُوْدًا) کہ جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اس حکم کی طرف آؤ جو اللہ نے نازل کیا اور اللہ کے رسول کی طرف آؤ تو منافقین رسول کے پاس آنے سے بچتے ہیں اور کٹتے ہیں، مسلمان ہونے کے دعوے تو بڑھ چڑھ کر کرتے ہیں لیکن فیصلے کرانے کے لیے کسی دوسرے کا منہ دیکھتے ہیں اور رسول اللہ ﷺ کو حکم بنانے کی بجائے دوسروں سے فیصلہ چاہتے ہیں، اس طرح کے لوگ بشر کے علاوہ بھی پائے جاتے ہیں اس لیے آیت شریفہ میں عام الفاظ استعمال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–70
مذمت منافقین برانحراف از فیصلہ شریعت۔
قال تعالیٰ الم تر الی الذین یزعمون۔۔۔ الی۔۔۔ علیما۔ آیت۔
ربط) یہ آیت بھی اہل کتاب سے متعلق ہے ان میں کے کچھ لوگ منافقانہ طور پر مسلمان بن گئے تھے اور فصل خصومات میں رعایت اور رشوت کے عادی ہوگئے تھے ان لوگوں کے دل میں کفر والحاد تھا محض زبان سے توحید و رسالت کا اقرار کرلیا تھا جب کوئی مقدمہ پیش آتا تو اپنا معاملہ یہودیوں کے عالموں اور سرداروں کے پاس لے جانا پسند کرتے کہ وہ ان کی رعایت کریں گے اور رسول اللہ کے پاس فیصلہ کے لیے جانے سے گریز کرتے اس لیے کہ آپ جو فیصلہ کریں گے وہ غایت درجہ عادلانہ ہوگا اس میں ذرہ برابر کسی کی رعایت نہ ہوگی چناچہ مدینہ منورہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–61
44 یہ اَطِیْعُوْا اللہَ وَ اَطِیْعُوْ الرَّسُوْلَ سے متعلق ہے اور ان منافقین یہود کیلئے زجر ہے جو دعوے کرتے تھے کہ وہ تورات کی تعلیم کے مطابق قرآن پر اور آخری پیغمبر پر دل و جان سے ایمان لا چکے ہیں مگر ان کا عمل ان کے اس دعویٰ کے سراسر خلاف تھا۔ امام ثعلبی اور ابن ابی حاتم نے حضرت عبداللہ بن عباس سے نقل کی ہے کہ ایک منافق بشر نامی کا ایک یہودی سے جھگڑا ہوگیا تو اس یہودی اور اس کے متعلقین نے اس منافق سے کہا کہ چلو یہ جھگڑا ہم تمہارے پیغمبر کے پاس لے چلتے ہیں تو اس منافق نے کہا کہ نہیں یہودیوں کے سردار کعب بن اشرف کے پاس چلو۔ آخر مقدمہ عدالت نبوی میں پہنچا آپ نے فریقین کے بیانات سن کر یہودی کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–63
ربط آیات
گزشتہ سے پیوستہ درس میں اللہ تعالیٰ نے دو باتوں کا حکم دیا تھا۔ ایک یہ کہ امانت اس کے اہل تک پہنچاؤ اور دوسری یہ کہ لوگوں کے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ کرو۔ ان دونوں احکام کے مخاطبین اولاً مسلمان حکام بنتے ہیں اور ثانیاً عام مسلمان ، پھر گزشتہ درس میں یہ ارشاد ہوا کہ مذکورہ دو احکام کی تعمیل اسی صورت میں ممکن ہو سکتی ہے جبکہ اہل ایمان اللہ کی اطاعت کریں رسول کی اطاعت کریں اور مسلمان حکام کی اطاعت کریں۔ جب کہ وہ نیکی کا حکم دیں۔ پھر فرمایا اگر کسی معاملہ میں جھگڑا پیدا ہوجائے ، حکام اور رعایا کے درمیان کسی مسئلہ میں اختلاف رائے ہوجائے تو فرمایا کہ ایسے معاملہ کو واپس اللہ اور اس کے…
Read the full tafseer →وَاِذَا قِيْلَ لَھُمْ تَعَالَوْا اِلٰى مَآ اَنْزَلَ اللہُ وَاِلَى الرَّسُوْلِ رَاَيْتَ الْمُنٰفِقِيْنَ يَصُدُّوْنَ عَنْكَ صُدُوْدًا 61ۚ
إذا
إذا يعبّر به عن کلّ زمان مستقبل، وقد يضمّن معنی الشرط فيجزم به، وذلک في الشعر أكثر، و «إذ» يعبر به عن الزمان الماضي، ولا يجازی به إلا إذا ضمّ إليه «ما» نحو :إذ ما أتيت علی الرّسول فقل له
( اذ ا ) اذ ا
۔ ( ظرف زماں ) زمانہ مستقبل پر دلالت کرتا ہے کبھی جب اس میں شرطیت کا مفہوم پایا جاتا ہے تو فعل مضارع کو جزم دیتا ہے اور یہ عام طور پر نظم میں آتا ہے اور اذ ( ظرف ) ماضی کیلئے آتا ہے اور جب ما کے ساتھ مرکب ہو ( اذما) تو معنی شرط کو متضمن ہوتا ہے جیسا کہ شاعر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–63
ترکیب : یریدون حال ہے الذین یزعمون سے۔ انہم اور اس کا معمول قائم مقام دو مفعولوں کے ہیں۔ وقد امروا حال ہے فاعل یریدون سے ضلالاً اے فیضلوا ضلالا اور بمعنی اضلال بھی ہوسکتا ہے فی انفسہم متعلق ہے قل سے۔
تفسیر : پہلی آیتوں میں تھا کہ اللہ اور رسول کی اطاعت کرو اور قضایا کے فیصلے انہیں کے سپرد کر دو ۔ یہاں اس بات کو ظاہر کیا جاتا ہے کہ ایسے بھی تیرہ باطن لوگ ہیں کہ باوجود ان کو اس بات کا اقرار ہے کہ ہم قرآن اور سب اگلی کتابوں پر ایمان رکھتے ہیں مگر اس وجہ سے کہ ان کے دلوں میں نور ایمان نہیں صرف ظاہری ایمان ہے۔ اپنے قضا یا ناپاک اور شیطانی لوگوں کے پاس فیصلے کے لئے لے جانا چاہتے ہیں۔ اس امید سے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–61
اَلَمْ تَرَ اِلَی الَّذِیْنَ یَزْعُمُوْنَ اَنَّھُمْ اٰمَنُوْا بِمَـآ اُنْزِلَ اِلَیْـکَ وَمَـآ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِـکَ یُرِیْدُوْنَ اَنْ یَّتَحَاکَمُوْٓا اِلَی الطَّاغُوْتِ وَقَدْ اُمِرُوْٓا اَنْ یَّکْفُرُوْ بِہٖ ط وَیُرِیْدُالشَّیْطٰنُ اَنْ یُّضِلَّھُمْ ضَلٰلـاً م بَعِیْدًا وَاِذَا قِیْلَ لَھُمْ تَعَالَوْا اِلٰی مَـآ اَنْزَلَ اللّٰہُ وَاِلَی الرَّسُوْلِ رَاَیْتَ الْمُنٰـفِقِیْنَ یَصُدُّوْنَ عَنْـکَ صُدُوْدًا ج
(اے نبی تم نے دیکھا نہیں ان لوگوں کو جو دعویٰ تو کرتے ہیں کہ ہم ایمان لائے اس کتاب پر جو تمہاری طرف نازل کی گئی ہے اور ان کتابوں پر جو تم سے پہلے نازل کی گئی تھیں مگر چاہتے یہ ہیں کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–61
فہم القرآن
ربط کلام : اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کا حکم دے کر من گھڑت ایمان ‘ نمائشی اطاعت کی تردید اور شیطان کی اتباع سے منع کیا گیا ہے۔ اہل کتاب کے بعد خطاب کا رخ منافقین کی طرف کردیا گیا۔
منافقین کا دعویٰ اور خیال تھا کہ وہ قرآن مجید اور پہلی کتابوں پر ایمان رکھتے ہیں حالانکہ ان کا حال یہ ہے کہ منع کرنے کے باوجود چاہتے ہیں کہ ان کے فیصلے طاغوت کے ذریعے ہوں۔ یہ اس لیے کہ شیطان چاہتا ہے کہ انہیں دور کی گمراہی میں دھکیل دے تاکہ یہ ہدایت کی طرف نہ پلٹ سکیں۔
حافظ ابن حجر ؓ نے اس آیت کے تحت ایک واقعہ نقل کیا ہے جس سے منافقوں کی ذہنیت کھل کر سامنے آجاتی ہے۔ ہوا یوں کہ ایک منافق اور یہودی کے…
Read the full tafseer →آیت 61 :
وَاِذَا قِیْلَ لَہُمْ (جب منافقین کو کہا جاتا ہے) تَعَالَوْ اِلٰی مَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ وَاِلَی الرَّسُوْلِ (آئو فیصلہ کرانے کے لئے اس حکم کی طرف جو اللہ تعالیٰ نے اتارا اور رسول کی طرف) رَاَیْتَ الْمُنٰفِقِیْنَ یَصُدُّوْنَ عَنْکَ صُدُوْدًا (تم دیکھو گے کہ منافقین تم سے رکتے ہیں رکنا) یعنی وہ آپ سے اعراض کر کے دوسرے کی طرف جاتے ہیں۔ تاکہ اس کو رشوت دے کر اپنے حق میں فیصلہ کرا لیں۔
Read the full tafseer →(تفسیر) 61۔:
(آیت)” واذا قلیل لھم ۔۔۔۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عنک صدودا “۔ اعراض کرتے ہیں ان سے اعراض کرنا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–63
(60 ۔ 63) ۔ اوپر اللہ و رسول کے حکم کے موافق عمل کرنے کی تاکیدتھی ان آیتوں میں ان لوگوں کا ذکر ہے جو اس تاکید کے پابند نہیں ہیں ان آیتوں کی شان نزول میں سلف کا اختلاف ہے مگر حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کی ایک روایت کے موافق جس شان نزول کو حافظ ابن کثیر (رح) نے صحیح ٹھہرا کر اپنی تفسیر میں بیان کیا ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ ایک منافق اور یہودی میں کچھ جھگڑا تھا یہود کہتا تھا کہ اس جھگڑے کا فیصلہ محمد ﷺ کی پیشی میں ہونا چاہیے اور منافق کعب بن اشرف یہودیوں کے سردار کی پیشی کا اصرار کرتا تھا۔ آخر مقدمہ آنحضرت ﷺ کی پیشی میں آیا۔ اور آپ نے یہودی کی طرف اس مقدمہ کا فیصلہ کردیا۔ منافق نے اس خیال سے کہ حضرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–62
آیت 58-59
ہر وہ چیز جس پر انسان کو امین بنایا جائے اور اس کے انتظام کی ذمہ داری اس کے سپرد کی جائے، امانت کہلاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو حکم دیا ہے کہ وہ امانتیں بغیر کسی کمی اور بغیر کسی ٹال مٹول کے پوری کی پوری ادا کردیں۔ اس میں عہدوں کی امانت، اموال کی امانت، بھید اور رازوں کی امانت اور ان مامورات کی امانت جنہیں اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا، سب شامل ہیں۔ فقہاء کہتے ہیں کہ جس کسی کے پاس کوئی امانت جنہیں اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا، سب شامل ہیں۔ فقہاء کہتے ہیں کہ جس کسی کے پاس کوئی امانت رکھی جائے اس پر اس کی حفاظت کرنا واجب ہے۔ چونکہ امانت کی حفاظت کئے بغیر اس کو واپس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–70
اولی الامر کی اطاعت کا بیان
ارشاد باری ہے (ایا ایھا الذین امنوا اطیعوا اللہ واطیعوالرسول واولی الامر منکم، اے ایمان لانے والو، اطاعت کرو اللہ کی اور اطاعت کرورسول کی اور ان لوگوں کی جو تم میں سے صاحب امر ہوں) ۔
ابوبکرجصاص کہتے ہیں کہ اولی الامر کی تاویل میں اختلاف رائے ہے حضرت جابر بن عبداللہ حضرت ابن عباس ، ایک روایت کے مطابق) حسن ، عطا، اور مجاہد سے مروی ہے کہ اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو فقہ یعنی دین کی سمجھ اور علم رکھنے والے ہوں۔
حضرت ابن عباس (ایک اور روایت کے مطابق) اور حضڑت ابوہریرہ سے مروی ہے اس سے مراد جہاد پر جانے والے فوجی دستوں کے سالار ہیں یہ بھی درست ہے کہ آیت میں یہ تمام لوگ مراد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–62
146 صدّ کا معنیٰ و مطلب اور حق سے روکنے کا نتیجہ و انجام ؟ : یعنی " صَدَّ یَصُدُّ صَدًّا " لازمی بھی آتا ہے اور متعدی بھی۔ اس کا معنی " رکنا " بھی ہے اور " روکنا " بھی۔ اور ان لوگوں میں یہ دونوں باتیں پائی جاتی تھیں کہ یہ لوگ دین حق اور نور ہدایت سے خود بھی رکتے اور دور ہوتے تھے اور دوسروں کو بھی روکتے اور دور رکھنے کی کوشش کرتے تھے۔ جیسا کہ دوسری جگہ ارشاد فرمایا گیا { وَہُمْ یَنْہَوْنَ عَنْہُ وَ یَنْئَوْنَ عَنْہٗ } الایۃ (الانعام : 26) روایات کے مطابق مدینہ منورہ میں ایک یہودی اور ایک منافق کا آپس میں تنازع ہوگیا، جسمیں یہودی نے کہا چلو چلتے ہیں محمد ﷺ کے پاس اور ان سے فیصلہ کراتے ہیں۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–62
منافقین کا وطیرہ
تشریح : پچھلی آیت میں بیان کیا جا چکا ہے کہ خود ہی نافرمانی کرکے اپنے لیے مصیبت کھڑی کرتے ہیں اور پھر خود ہی روتے پھرتے ہیں اور جھوٹی سچی تاویلیں پیش کرتے ہیں۔ بہرحال ان آیات میں منافقوں کی نشانیاں اور پھر ان کا انجام خوب کھول کر بیان کردیا گیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–66
اسرار و معارف
آیات 60 تا 65 الم تر الی الذین۔۔۔ و یسلموا تسلیما
اب ایسے لوگوں کی حالت ملاحظہ ہو جو اپنے دعوے اسلام میں تو نہ صرف قرآن حکیم پر ایمان لانے کا اقرار کرتے ہیں بلکہ اس سے پہلے جو کچھ بھی اللہ کریم کی طرف سے نازل ہوا تھا اس پر بھی یقین رکھتے ہیں مگر میدان عمل میں انہیں شیطان کی رائے پسند ہے حالانکہ قرآن حکیم ہو یا پہلی منزل کتابیں سب کا مقصد ہی شیطان کی غلامی سے روکنا ہے ورنہ تو گمراہی میں پڑنے کا نہ صرف سخت خطرہ ہے بلکہ شیطان تو چاہتا ہی یہ ہے کہ جو انسان بھی اس کی مانے اسے وہاں تک گمراہ کرکے لے جائے جہاں تک ممکن ہو نزول آیات کا سبب اگرچہ خاص واقعہ ہے ذرا وہ بھی سن لیں کہ ایک یہودی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–62
ف 3 آیت کا پہلا حصہ جملہ معترضہ ہے اور ثم جاعوت سے پہلی آیت کے ساتھ مربوط ہے ان آیات کی دوسری شان نزول یہ بھی بیان کی گئے ی ہے کہ مدینے میں ایک یہودی اور ایک مسلمان (منافق) کی کسی معاملہ میں نزاع ہوگئی یہو دی کو معلوم تھا کہ آنحضرت ﷺ حق فیصلہ کریں گے اور رعایت سے کام نہیں لیں گے اس لیے منافق سے کہا کہ چلو محمد ﷺ سے فیصلہ کرواتے ہیں منانفق کہا تم یہودیوں کے عالم رکعب بن اشرف کے پاس چلیں آخر دونوں آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے نبی اکرم ﷺ نے بیان سن کر یہودی کو سچاقرار دیا۔ منا فق نے باہر آکر کہا کہ اچھا اب عمر ؓ کے پاس چلیں یہ آنحضرت ﷺ کے حکم سے مدینے میں فیصلہ کرتے تھے۔ منافق نے غالبا یہ خیلا…
Read the full tafseer →(4:61) تعالوا۔ تعالیٰ (تفاعل) جس کے معنی بلند ہونے اور آنے کے ہیں۔ امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ اصل میں تعال کا مطلب یہ ہے کہ انسان کو بلند مقام کی طرف بلایا جائے ۔ پھر ہر جگہ بلانے کے لئے استعمال کیا گیا۔ بعض علماء کے نزدیک یہ علو سے ماخوذ ہے جس کے معنی رفعت منزل کے ہیں گو یا تعالوا میں رفعت منزل کے حصول کی دعوت ہے قرآن مجید میں جہاں تعلوا کا استعمال ہوا ہے وہاں یہ چیز موجود ہے۔ اہل لغت نے تعال کو مطلقاً علم (چلے آؤ۔ آؤ) کے معنی میں لیا ہے۔
یصدون عنک صدودا۔ صد۔ مصدر بمعنی رکنا۔ باز رہنا۔ روک دینا۔ باز رکھنا ۔ فعل لازم و متعدی ہر دو صورت میں استعمال ہوتا ہے۔ صد یصد (نصر) بواسطہ عن منہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–64
آیت نمبر 60-64
لغات القرآن : یزعمون، دعوی کرتے ہیں، گھمنڈ رکھتے ہیں۔ یتحاکموا، وہ فیصلہ کے لئے جائیں۔ امروا، حکم دیا گیا۔ ضلال بعیدا، گم راہی میں دور۔ تعالوا، آؤ۔ رایت، تو نے دیکھا (تو دیکھے گا) ۔ صدود، اٹک کر، روک رک کر۔ یحلفون، وہ قسم کھاتے ہیں۔ توفیق، باہمی میل ملاپ۔ لیطاع، تاکہ اطاعت کی جائے۔ لوجدوا، البتہ وہ پاتے۔
تشریح : اس حکم کے بعد کہ حکومت کے عہدے عیش و عشرت کے لئے نہیں بلکہ امانت داری کے لئے ہیں اور ان پر وہی مقرر کئے جائیں گے جو انہیں اللہ کی امانت سمجھیں گے۔ فرمایا گیا کہ اس حکم کے بعد جب کسی معاملہ کا فیصلہ کرنے لگو تو بےلاگ اور بےلوث کرو۔ پھر اس حکم کے بعد اللہ کا حکم مانو،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–62
ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ منافق لوگ ایمان کا دعوٰی کرتے ہیں لیکن ان کا ایمان پورا نہیں ہے ، کیونکہ اس سے پہلے اللہ نے انہیں رسول وقت کے حکم کو چھوڑ کر کسی دوسرے کی بات ماننے سے منع کیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–64
[50] '' طاغوت '' سے یہاں مراد وہ حاکم ہے جو قانون الٰہی کے سوا کسی دوسرے قانون کے مطابق فیصلہ کرتا ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–61
(ف 2) طاغوت سے مراد ہر غیر شرعی ادارہ حکومت ہے ، مسلمان مجبور ہے کہ اس کی مخالفت کرے ، البتہ شیطان یہ چاہتا ہے کہ مسلمان بزدل رہے اور اس کی گردن ہمیشہ ماسوی اللہ کے ڈر سے جھکی رہے ۔
حل لغات :
تاویل : انجام نتیجہ ۔ صدود : رکنا ہٹنا ۔
Read the full tafseer →ف 1 اے پیغمبر ﷺ ! کیا آپ نے ان لوگوں کو ملاحظہ نہیں کیا جو اپنی زبانوں سے تو یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ جو کچھ آپ پر نازل ہوا ہے وہ اس پر ایمان رکھتے ہیں یعنی قرآن پر ہمارا ایمان ہے اور وہ ان کتابوں پر بھی ایمان رکھتے ہیں جو آپ سے پہلے نازل کی گئی ہیں یعنی توریت و انجیل پر بھی ہمارا اعتقاد ہے لیکن ان دعاویٰ اور اس کہنے کے باوجود ان کا حال یہ ہے کہ وہ لوگ اپنے مقدمات کا شیطان سے فیصلہ کرانا چاہتے ہیں اور اپنے مقدمات شیطان کے پاس لے جانا چاہتے ہیں حالانکہ ان کو یہ حکم دیا جا چکا ہے کہ وہ شیطان کو نہ مانیں اور اس شیطان پر اعتقاد نہ رکھیں اور شیطان کی خواہش تو یہ ہے اور وہ تو یہ چاہتا ہے کہ ان کو گمراہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–62
ف 3۔ یہ اہل حکومت کو خطاب ہے۔
4۔ وہ بات بہت اچھی ہے دنیا کے اعتبار سے بھی کہ اس میں بقاء حکومت ہے اور آخرت کے اعتبار سے بھی کہ موجب قرب وثواب ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–61
دعوائے اسلام کے بعد رسول اللہ ﷺ کے فیصلہ قبول نہ کرنے والوں کا فیصلہ :
112: روایات میں اس طرح کے بہت سے فیصلوں کا ذکرد کیا گیا ہے جن میں لوگوں نے رسول اللہ ﷺ کی موجودگی میں آپ ﷺ کو چھوڑ کر سرادر ان یہود کے پاس اپنے مقدمہ کو لے جانے کی کوشش کی ان میں سے ایک کا ذکر اس جگہ کردینا مناسب خیال کیا جاتا ہے تاکہ بات اچھی طرح سمجھ میں آسکے۔ ابو صالح نے ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ ایک یہودی سے ایک نام کے مسلمان کا جھگڑا ہوگیا۔ یہودی نے اپنا فیصلہ کرانے کے لئے اس نام کے مسلمان سے رسول اللہ ﷺ کے پاس مقدمہ لے جانے میں پہل کی اور کہا کہ چلو رسول اللہ ﷺ سے اپنے اس قضیہ کا فیصلہ کرا لیں لیکن مسلمان مصر تھا…
Read the full tafseer →The second verse (61) tells us that turning away from the decision of the Holy Prophet ﷺ ، given under the dictates of the Shari’ ah in matters relating to mutual quarrels and disputes, can never be the response of a Muslim. One who does it has to be a munafiq (hypocrite). Thus, when the disbelief of this hypocrite was practically exposed through his dissatisfaction with the decision of the Holy Prophet ﷺ ، his being killed by Sayyidna ` Umar ؓ became all the more justified, because he no more remained a munafiq (hypocrite) and, in fact, became an open Kafir (or apostate). Therefore, it was…
Read the full tafseer →92. This shows that the hypocrites were inclined to refer to the Prophet (peace be on him) those cases in which they expected a favourable decision. When they feared an adverse judgement they refused to refer to the Prophet (peace be on him). This continues to be the practice of many hypocrites even now. Whenever they feel that Islamic Law would further their interests they turn to it but when they feel it would militate against them they refer their disputes to whichever legal systems and courts of law, customs and usages they anticipate most likely to give them a favourable decision.
Read the full tafseer →