Explained with ayahs 40–42
بےمثال خریدار ؟
باری تعالیٰ رب العالمین فرماتا ہے کہ میں کسی پر ظلم نہیں کرتا، کسی کی نیکی کو ضائع نہیں کرتا، بلکہ بڑھا چڑھا کر قیامت کے روز اس کا اجر وثواب عطا فرماؤں گا جیسے اور آیت میں ہے (وَنَضَعُ الْمَوَازِيْنَ الْقِسْطَ لِيَوْمِ الْقِيٰمَةِ فَلَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَـيْــــــًٔا) 21۔ الانبیآء :47) ہم عدل کی ترازو رکھیں گے۔ اور فرمایا کہ حضرت لقمان نے اپنے صاحبزادے سے فرمایا تھا (يٰبُنَيَّ اِنَّهَآ اِنْ تَكُ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ فَتَكُنْ فِيْ صَخْـرَةٍ اَوْ فِي السَّمٰوٰتِ اَوْ فِي الْاَرْضِ يَاْتِ بِهَا اللّٰهُ ۭ اِنَّ اللّٰهَ لَطِيْفٌ خَبِيْرٌ) 31۔ لقمان :16) اے بیٹے اگر کوئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–42
سورة النِّسَآء 64
یعنی ہر دور کا پیغمبر اپنے دور کے لوگوں پر اللہ کی عدالت میں گواہی دے گا کہ زندگی کا وہ سیدھا راستہ اور فکر و عمل کا وہ صحیح طریق، جس کی تعلیم آپ نے مجھے دی تھی، اسے میں نے ان لوگوں تک پہنچا دیا تھا۔ پھر یہی شہادت محمد ﷺ اپنے دور کے لوگوں پر دیں گے، اور قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ ﷺ کا دور آپ ﷺ کی بعثت کے وقت سے قیامت تک ہے۔ (آل عمران، 69)
Read the full tafseer →یومئذ یود الذین کفروا میں میدان آخرت میں کافروں کی بدحالی کا ذکر ہے، کہ یہ لوگ قیامت کے دن تمنا کریں گے کہ کاش ہم زمین کا پیوند بن گئے ہوتے، کاش زمین پھٹ جاتی اور ہم اس میں دھنس کر مٹی بن جاتے اور اس وقت کی پوچھ گچھ اور عذاب و حساب سے نجات پا جاتے۔
میدان حشر میں جب کفار دیکھیں گے کہ تمام جانور ایک دوسرے کے مظالم کا بدلہ لینے دینے کے بعد مٹی بنا دیئے گئے تو ان کو حسرت ہوگی اور تمنا کریں گے کہ کاش ہم بھی مٹی ہوجاتے، جیسا کہ سورة نباء میں فرمایاویقول الکفر یلیتنی کنت ترباً ط
آخر میں فرمایا ولایکتمون اللہ حدیثاً یعنی یہ کفار اپنے عقائد و اعمال سے متعلق کچھ بھی پوشیدہ نہ رکھ سکیں گے ان کے اپنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–42
تفسیر آیت 41 تا 42:۔ فَكَيْفَ اِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ اُمَّةٍۢ بِشَهِيْدٍ وَّجِئْنَا بِكَ عَلٰي هٰٓؤُلَاۗءِ شَهِيْدًا۔ يَوْمَىِٕذٍ يَّوَدُّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَعَصَوُا الرَّسُوْلَ لَوْ تُـسَوّٰى بِهِمُ الْاَرْضُ ۭ وَلَا يَكْتُمُوْنَ اللّٰهَ حَدِيْثًا
قیامت میں انبیاء کی شہادت اپنی امتوں پر : مطلب یہ ہے کہ جہاں تک اتمام حجت کا تعلق ہے اللہ نے اپنے رسول کے ذریعے سے ان کو اپنے دین سے آگاہ کردیا اور ان پر حجّت تمام کردی۔ اب دین و شریعت سے آگاہ کرنے کے معاملے میں کوئی کسر نہیں رہ گئی ہے۔ اس اتمام حجت کے بعد بھی اگر یہ لوگ اللہ اور رسول سے منحرف ہی رہے تو آج تو یہ اپنے کفر و نفاق کو چھپا سکتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–42
41۔ 1 ہر امت میں سے اس کا پیغمبر اللہ کی بارگاہ میں گواہی دے گا کہ یا اللہ ! ہم نے تو تیرا پیغام اپنی قوم کو پہنچا دیا تھا، اب انہوں نے نہیں مانا تو ہمارا کیا قصور ؟ پھر ان سب پر نبی کریم ﷺ گواہی دیں گے کہ یا اللہ سچے ہیں۔ آپ ﷺ یہ گواہی اس قرآن کی وجہ سے دیں گے جو آپ ﷺ پر نازل ہوا اور جس میں گزشتہ انبیاء اور ان کی قوموں کی سرگزشت بھی حسب ضرورت بیان کی گئی ہے۔ یہ ایک سخت مقام ہوگا، اس کا تصور ہی لرزہ براندام کردینے والا ہے، حدیث میں آتا ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ سے قرآن سننے کی خواہش ظاہر فرمائی وہ سناتے ہوئے جب اس آیت پر پہنچے تو آپ ﷺ نے فرمایا بس اب کافی ہے، حضرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–42
31: تمام انبیاء کرام قیامت کے روز اپنی اپنی امتوں کے اچھے برے اعمال پر گواہی دیں گے اور آنحضرت ﷺ کو اپنی امت کے لوگوں پر گواہ بناکر پیش کیا جائے گا۔
Read the full tafseer →(آیت) ” یومئذ یود الذین کفروا وعصوا الرسول لو تسوی بھم الارض ولا یکتمون اللہ حدیثا (4 : 42) ” اس وقت جنہوں نے رسول کی بات نہ مانی اور اس کی نافرمانی کرتے رہے ‘ تمنا کریں گے کہ کاش زمین پھٹ جائے اور وہ اس میں سما جائیں ۔ وہاں یہ اپنی کوئی بات اللہ سے نہ چھپا سکیں گے۔
اس زندہ اور متحرک انداز تعبیر کی جھلکیوں کے درمیان سے ہم ان تمام معانی کو پاتے ہیں اور یہ سب تاثرات کو چشم تصور سے دیکھ لیتے ہیں جو حشر میں کھڑے ان لوگوں کے چہروں سے عیاں ہوں گے ۔ یہ تاثرات ہم نہایت ہی گہرے ادراک کے ساتھ زندہ اور متحرک پاتے ہیں۔ دنیا کے تمام ادب پاروں کو کھنگال لیجئے ! آپ کو کسی بھی بیانیہ کلام یا تجزیہ نگاری میں…
Read the full tafseer →2 یعنی جس دن ہر امت میں سے ان کے حالات بیان کرنے والا بلایا جائے گا اس دن کافر اور نافرمان لوگ اس بات کی تمنا کریں گے کہ کاش ہم زمین میں ملا دیے جاتے اور مٹی میں مل کر نیست و نابود ہوجاتے، آج پیدا نہ ہوتے اور ہم سے حساب و کتاب نہ ہوتا اور وہ لوگ اللہ تعالیٰ سے کسی بات کا اخفا نہ کرسکیں گے اور ذرہ ذرہ کا حساب ہوگا۔ شروع سورت سے مسلمانوں کو اقارب اور زوجین وغیرہ کے ادائے حقوق کی تاکید اور کسی کی حق تلفی کرنے اور جانی و مالی نقصان پہنچانے کی ممانعت اور معاصی کی خرابی پر مطلع کر کے اس کے بعد (وَاعْبُدُوا اللّٰهَ وَلَا تُشْرِكُوْا بِهٖ شَـيْـــــًٔـا) 4 ۔ النسآء :36) فرما کر اقارب اور یتامی اور…
Read the full tafseer →آیت 42 یَوْمَءِذٍ یَّوَدُّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَعَصَوُا الرَّسُوْلَ لَوْ تُسَوّٰی بِہِمُ الْاَرْضُ ط۔
یعنی کسی طرح زمین پھٹ جائے اور ہم اس میں دفن ہوجائیں ‘ ہمیں نسیاً منسیّا کردیا جائے۔
Read the full tafseer →74 پھر جب اللہ تعالیٰ کے روبرو ایسے نافرمان لوگوں پر شہادتیں مکمل ہوجائیں گی اور شہادتوں کی بنا پر ان کا جرم ثابت ہوجائے گا تو اس وقت یہ آرزو کریں گے کہ کاش زمین پھٹ جائے اور ہم اس میں سما جائیں تاکہ اپنی نافرمانیوں کے برے نتائج اور عذاب سے نجات حاصل کرسکیں۔ لیکن یہ کسی صورت ممکن نہ ہوگا۔
Read the full tafseer →138 ۔ (بلکہ ہر چھپا ہوا راز اس روز ظاہر ہو کر رہے گا) (آیت) ’ ’ یومئذ “۔ اس روز سے ظاہر ہے کہ روز حشر مراد ہے۔ (آیت) ” لوتسوی بھم الارض “۔ تاکہ وہ پیوند زمین ہو کر حشر کی رسوائی اور عذاب سے محفوظ ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–42
فکَیْفَ اذا جِئْنا مِنْ کُلِّ اُمّةٍ بشھیدٍ وجِئْنَا بکَ علیٰ ھٰؤ لا ئِ شَھِیْدًا، ہر امت میں سے اس کا پیغمبر اللہ کی بارگاہ میں گواہی دیگا کہ یا اللہ ہم نے تیرا پیغام اپنی قوم کو پہنچا دیا تھا اب انہوں نے نہیں مانا تو ہمارا کیا قصور ؟ پھر ان سب پر نبی کریم ﷺ گواہی دیں گے یا اللہ یہ سچے ہیں اور آپ یہ گواہی قرآن کی بنیاد پر دیں گے جس میں گذشتہ تمام امتوں اور ان کے نبیوں کے حالات بیان فرمائے ہیں جن میں اس بات کی شہادت دی گئی ہے کہ تمام نبیوں نے خدائی پیغام اپنی اپنی امتوں کو کما حقہ پہنچا دیا۔
Read the full tafseer →یومئذ یود الذین کفروا وعصوا الرسول لو تسوی بہم الارض اس روز جن لوگوں نے کفر کیا ہوگا اور پیغمبر کا کہنا نہ مانا ہوگا آرزو کریں گے کہ کاش وہ زمین کا پیوند ہوجائیں یعنی جن لوگوں نے رسول کی رسالت کا انکار کیا ہوگا اور رسول کا حکم نہ مانا ہوگا یا صرف ایک جرم کیا ہوگا یعنی انکار کیا ہوگا یا رسول کا کہنا نہ مانا ہوگا وہ آرزو کریں گے کہ زمین پھٹ جائے اور وہ سما جائیں اور پھر زمین برابر کردی جائے یا خاک کے ساتھ خاک ہوگئے ہوتے اور جانوروں کی طرح معدوم کردیا جاتا۔
اوّل مطلب قتادہ اور ابو عبیدہ نے بیان کیا ہے اور دوسرا مطلب کلبی نے بیان کیا ہے کلبی نے لکھا ہے کہ چوپایوں ‘ مویشیوں ‘ درندوں اور پرندوں کو…
Read the full tafseer →(42) اور قیامت کے دن کفار اس بات کی تمنا کریں گے، کہ کاش ہم بھی جانوروں کی طرح خاک ہوجائیں اور ہمارا حساب کتاب بالکل نہ ہو۔
Read the full tafseer →يَوْمَىِٕذٍ يَّوَدُّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا۔۔ : اس سے مقصود کفار کو وعید سنانا ہے جو اس موقع پر آرزو کریں گے کہ کاش ! ہم انسان نہ ہوتے بلکہ زمین میں مل کر خاک ہوجاتے۔ دیکھیے سورة نبا کی آخری آیت۔ (ابن کثیر)
وَلَا يَكْتُمُوْنَ اللّٰهَ حَدِيْثًا : کفار کے متعلق قرآن میں یہ بھی ہے کہ وہ اپنے شرک سے انکار کردیں گے کہ ہم نے شرک کیا ہی نہیں۔ (انعام : 23) مگر یہ آیت اس کے خلاف نہیں ہے کیونکہ وہ پہلے واقعی شرک کرنے سے انکار کریں گے مگر جب ان کے ہاتھ پاؤں ان کے خلاف گواہی دیں گے۔ (حم السجدۃ : 21 تا 23) تو پھر وہ اللہ تعالیٰ سے کوئی چیز چھپا نہ سکیں گے۔ ابن عباس ؓ نے فرمایا : ”قیامت کا دن بہت لمبا دن ہے،…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 42۔
” عصوا “ میں واؤ کو التقاء ساکنین کی وجہ سے ضمہ دیا گیا ہے اور اس کو کسرہ دینا جائز ہے نافع ابن عامر نے تسوی تا کے فتحہ اور سین کی تشدید کے ساتھ پڑھا ہے، حمزہ اور کسائی نے بھی اسی طرح پڑھا ہے مگر انہوں نے سین کی تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے (1) (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 55 دارالکتب العلمیہ) اور باقیوں نے تا کے ضمہ اور سین کی تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے جس کے فاعل کا ذکر نہیں مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ان پر زمین کو برابر کردیتا، یعنی انہیں اور زمین کو برابر کردیتا، دوسرا معنی یہ ہے کہ وہ خواہش کریں گے کاش اللہ تعالیٰ انہیں دوبارہ نہ اٹھاتا ار ان پر زمین برابر رہتی، کیونکہ وہ مٹی سے نقل…
Read the full tafseer →(1) ابن جریر وابن ابی حاتم نے عوفی کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” لو تسوی بہم الارض “ سے مراد ہے کہ زمین اور پہاڑ ان پر برابر کر دئیے جاتے۔
قیامت کا انتہائی ہولناک منظر ہوگا
(2) عبد بن حمید وابن المنذر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ وہ لوگ اس بات کو پسند کرتے ہوں گے کہ زمین ان کے لئے پھٹ جاتی اور وہ اس میں دھنس جاتے۔
(3) ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” لو تسوی بہم الارض “ سے مراد ہے کہ زمین ان کے لئے پھٹ جاتی اور وہ اس میں داخل ہوجاتے اور پھر زمین ان پر برابر ہوجاتی۔
(4) عبد الرزاق وعبد بن حمید وابن جریر وابن…
Read the full tafseer →[ یَوْمَئِذٍ : اس دن ] [ یَّوَدُّ : چاہیں گے ] [ الَّذِیْنَ : وہ (لوگ) جنہوں نے ] [ کَفَرُوْا : کفر کیا ] [ وَعَصَوُا : اور نافرمانی کی ] [ الرَّسُوْلَ : اِن رسول ﷺ کی ] [ لَوْ : کہ کاش ] [ تُسَوّٰی : ہموار کردیا جائے ] [ بِہِمُ : ان پر ] [ الْاَرْضُ : زمین کو ] [ وَلاَ یَکْتُمُوْنَ : اور وہ نہیں چھپائیں گے ] [ اللّٰہَ : اللہ سے ] [ حَدِیْثًا : کوئی بات ]
نوٹ 1 : آیت 41 میں ” ہٰٓــؤُلَآئِ “ کا اشارہ رسول اللہ ﷺ کی امت کی طرف ہے ۔ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ امت کے اعمال آپ ﷺ پر پیش کیے جاتے ہیں۔ اس طرح اس آیت سے معلوم ہوا کہ گزشتہ امتوں کے انبیاء اپنی اپنی امت پر بطور گواہ پیش ہوں گے اور…
Read the full tafseer →قیامت کے دن کافروں کی آرزو کہ کاش زمین کا پیوند ہو جاتے
گزشتہ آیت میں جس دن کی گواہی کا ذکر ہے اس دن کی مصیبت اور شدت اور بد حالی اس آیت میں بیان فرمائی ہے اور فرمایا ہے کہ جس دن یہ گواہیاں ہوں گی اس دن کفار اور وہ لوگ جنہوں نے رسولوں کی نافرمانی کی (علی ارادۃ الجنس) اس بات کی تمنا کریں گے کہ ہائے کاش ! ہم آج کے دن دفن کردیے جاتے اور زمین کا پیوند بنا دیے جاتے اور جس عذاب اور مصیبت میں مبتلا ہیں اس سے رہائی ہوجاتی۔ اور اس دن اللہ سے کوئی بات نہ چھپا سکیں گے خود اپنے اقرار اور اپنے اعضا وجوارح کے اقرار سے دوزخ میں داخل ہوں گے اس دن حالات مختلف ہوں گے کبھی تو پوشیدہ رکھیں گے اور کہیں گے واللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–42
حکم شانزدہم بابت معاشرہ زوجین۔
قال تعالی، الرجال قوامون۔۔۔ الی۔۔۔ خبیرا۔
ربط) گزشتہ آیات میں میراث کے باب میں عورتوں پر مردوں کی فضیلت بیان کی اب ان آیات میں مطلقا مردوں کی فضیلت بیان فرماتے ہیں کہ مردوں کو عورتوں پر ہر طرح کی فضیلت حاصل ہے ذاتی اور عرضی دونوں قسم کی فضیلتیں مردوں کو خدا تعالیٰ نے عطا کی ہیں اور مردوں کو عورتوں پر حاکم بنایا ہے اور ان کو اجازت دی ہے کہ بغرض تادیب واصلاح عورتوں کو تنبہ کریں اور اگر ضرورت پیش آئے تو مارنے کی بھی اجازت ہے تاکہ عورتوں کا شبہ بھی دور ہوجائے کہ مردوں کو دھری میراث کیوں ملتی ہے چناچہ فرماتے کہ مردعورتوں پر دو وجہ سے حاکم اور قائم ہیں مردوں کی وجہ سے…
Read the full tafseer →ٖ 32 یہاں کافروں اور نافرمانوں کا حال بیان کیا گیا ہے جس کی طرف پہلے اشارہ کیا گیا تھا استئناف لبیان حالھم التی اشیر الی شدقھا و نظاع تھا (روح ج 5 ص 34) لَوْ تُسَوّٰی میں لَوْ مصدریہ ہے اور جملہ بتاویل مفرد یَوَدُّ کا مفعول ہے۔ لو مصدریۃ ای یودون ان یدفنوا وتسی الارض ملتبسۃ بہم (روح) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–42
ربط آیات
گزشتہ دروس میں یہ بنیادی عقیدہ بیان ہوچکا ہے کہ عبادت صرف اللہ ہی کی کرو۔ اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ ۔ اسی بنیاد پر پھر حقوق العباد کا ذکر کیا کہ والدین کے ساتھ احسان کرو۔ اور یتیموں ، مسکینوں ، پڑوسیوں ، ہم نشینوں ، مسافروں اور غلاموں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آؤ ۔ اسی ضمن میں پھر بخل کی مذمت کی گئی کیونکہ بخیل آدمی اپنے بخل کی وجہ سے دوسروں کے حقوق ادا نہیں کرتا ، بلکہ اپنا مال ریاکاری پر خرچ کرنے کے لیے تیار ہوجاتا ہے۔ ایسا شخص دراصل شیطانی پھندے کا شکار ہوتا ہے جو کہ اسے بنیادی عقیدئہ توحید سے برگشتہ کردیتا ہے جس کی وجہ سے نہ تو اس کا ایمان اللہ کے ساتھ درست ہوتا ہے اور…
Read the full tafseer →يَوْمَىِٕذٍ يَّوَدُّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَعَصَوُا الرَّسُوْلَ لَوْ تُـسَوّٰى بِہِمُ الْاَرْضُ 0ۭ وَلَا يَكْتُمُوْنَ اللہَ حَدِيْثًا 42ۧ
يَوْمَئِذٍ
ويركّب يَوْمٌ مع «إذ» ، فيقال : يَوْمَئِذٍ نحو قوله عزّ وجلّ : فَذلِكَ يَوْمَئِذٍ يَوْمٌ عَسِيرٌ [ المدثر/ 9] وربّما يعرب ويبنی، وإذا بني فللإضافة إلى إذ .
اور کبھی یوم کے بعد اذ بڑھا دیاجاتا ہے اور ( اضافت کے ساتھ ) یومئذ پڑھا جاتا ہے اور یہ کسی معین زمانہ کی طرف اشارہ کے لئے آتا ہے اس صورت میں یہ معرب بھی ہوسکتا ہے اور اذ کی طرف مضاف ہونے کی وجہ سے مبنی بھی ۔ جیسے فرمایا : وَأَلْقَوْا إِلَى اللَّهِ يَوْمَئِذٍ السَّلَمَ [ النحل/ 87] اور اس روز…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–42
ترکیب : ماذا مبتداء علیہم خبر اور صرف ما مبتدا اور ذاموصول علیہم صلہ مجموعہ بھی خبر ہوسکتی ہے۔ لوامنوا الخ شرط لم یضرھم خبر محذوف اس سے ترغیب مقصود ہے لو مصدر یہ بھی ہوسکتا ہے۔ مثقال صفۃ ہے مصدر محذوف کی ای لا یظلم ظلما قدر مثقال ذرۃ ای وزن ذرۃ مصدر اور اس کی صفت کو حذف کرکے مضاف الیہ کو اس کی جگہ قائم کردیا۔ وان تَکُ اصل میں تکن تھا نون صرف کثرت استعمال کی وجہ سے حذف کردیا گیا ہے کیونکہ نون غنہ سکون کی وجہ سے مشابہ ہے اگر حرکت دی جائے گی نون حذف نہ ہوگا جیسا کہ لم یکن الذین وغیرہ میں۔ یومئذ ظرف یودالذین کفروا وعصوا الرسول اس کا فاعل لوتسوی بہم الخ اس کا مفعول لو بمعنی ان۔ تسوی فعل مجہول…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–42
فَکَیْفَ اِذَا جِئْنَا مِنْ کُلِّ اُمَّۃٍ م بِشَھِیْدٍ وَّجِئْنَا بِکَ عَلٰی ھٰٓـؤُلَآ ئِ شَھِیْدًا ط یَوْمَئِذٍ یَّوَدُّالَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَعَصَوُا الرَّسُوْلَ لَوْتُسَوّٰی بِہِمُ الْاَرْضُ ط وَلاَ یَکْتُمُوْنَ اللّٰہَ حَدِیْثًا ع
(اس دن ان کا کیا حال ہوگا ؟ جب ہم ہر امت میں سے ایک گواہ کھڑا کریں گے اور تم کو ان لوگوں پر گواہ بناکرکھڑاکریں گے اس دن وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا اور جنھوں نے رسول کی نافرمانی کی، تمنا کریں گے کہ کاش ! ان پر زمین برابر کردی جائے اور اس دن وہ اللہ سے کوئی بات بھی چھپا نہ سکیں گے) (النسآء : 41 تا 42)
سابقہ آیات میں جہاں تک حقوق وفرائض، بنیادی اعتقادات اور اخلاقی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–42
فہم القرآن
ربط کلام : آخرت کے دن ظالم اپنا انجام دیکھ کر اپنے اعمال کا انکار کرتے ہوئے یہاں تک کہیں گے کہ دنیا میں ہمیں کسی نبی اور مبلغ نے کچھ سمجھایا ہی نہیں تھا۔ اے رب ! ورنہ ہم تیری نافرمانی نہ کرتے۔ اس دن خدا کے باغی یہ آرزو کریں گے کاش ! ہم زمین میں دھنس جائیں اور ہم پر زمین برابر کردی جائے۔ خواہش کے باوجود نہ چھپ سکیں گے اور نہ ہی وہ کوئی بات چھپا سکیں گے۔
محشر کا دن پچاس ہزار سال کے برابر ہوگا۔ اس میں کئی مراحل ہوں گے ہر مرحلہ دنیا کے سینکڑوں سالوں کے برابر ہوگا۔ ان مراحل میں ایک مرحلہ ایسا بھی آئے گا کہ جب مجرم قسمیں اٹھا اٹھا کر اس بات کا انکار کریں گے کہ الٰہی ہم نے تیری ذات کا نہ…
Read the full tafseer →آیت 42 : یَوْمَئِذٍ یَّوَدُّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَعَصَوُا الرَّسُوْلَ لَوْ تُسَوّٰی بِہِمُ الْاَرْضُ (اس دن کافر چاہیں گے اور وہ جنہوں نے رسول کی نافرمانی کی کاش وہ پیوندزمین ہوجائیں)
قراءت و نحو :
یومئذ۔ ظرف ہے یودالذین کا تَسَوَّی تا مفتوحہ اور تخفیف سین اور امالہ کے ساتھ اصل میں تتسوی ہے یہ حمزہ وعلی رحمہما اللہ نے پڑھا۔ تَسَّوّٰی۔ تا کا سین میں ادغام کر کے مدنی و شامی رحمہما اللہ نے پڑھا ہے۔
وَلَا یَکْتُمُوْنَ اللہَ حَدِیْثًا (اور اللہ تعالیٰ سے وہ کوئی بات نہ چھپا سکیں گے) یہ جملہ مستانفہ ہے۔ یعنی وہ اللہ تعالیٰ سے چھپانے کی قدرت نہ پائیں گے۔ کیونکہ ان کے جوارح خود ان پر گواہ…
Read the full tafseer →42۔ (آیت)” یومئذ “۔ قیامت کا دن (آیت)” یود الذین کفروا وعصوا الرسول لو تسوی بھم الارض “۔ ابن عامر اور اہل مدینہ کے قراء نے ” تسوی “ تاء کے فتحہ سین کی تشدید کے ساتھ پڑھا ہے ، اصل میں ” تسوی “ تھا ایک تاء کو سین میں مدغم کیا تو تسوی بن گیا ۔
حمزہ اور کسائی (رح) اللہ نے تاء کے فتحہ اور سین کی تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے ، انہوں نے تاء تفعل کو حذف کردیا، مطلب یہ ہوگا کہ اگر زمین کو ہمارے ساتھ برابر کردیا جائے تو ہم اور زمین ایک ہی چیز ہوجائیں گے ، قتادہ (رح) کا قول ہے کہ یعنی زمین پھٹ جائے اور اس میں وہ سما جائیں اور پھر زمین برابر کردی جائے ، جیسا کہ وہ زمین سے پیدا کیے گئے، بعض حضرات نے کہا کہ وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–42
(41 ۔ 42) ۔ جس طرح اوپر کی آیت میں اللہ تعالیٰ نے قیامت کے دن کی ایک حالت کو بیان فرمایا ہے اسی طرح اس آیت میں ایک دوسری حالت قیامت کے دن کی بیان فرمائی ہے۔ تاکہ سمجھانے بجھانے سے ایک ذراہ برابر جن کو ایمان نصیب ہوا ہے جس طرح ان کی نجات کی حالت معلوم ہوئی ہے۔ اسی طرح جو لوگ باوجود سمجھانے کے حضرت نوح ( علیہ السلام) سے لے کر اب تک صاحب شریعت انبیاء کو جھٹلاتے رہے ہیں ان کی حالت بھی معلوم ہوجائے۔ بخاری، ابن ماجہ، نسائی، مسند امام احمد بن حنبل میں اس حالت کا جو ذکر ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ حساب کے وقت حضرت نوح ( علیہ السلام) سے لے کر حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) ٰ تک کے منکر لوگوں سے اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–43
آیت 42
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے کامل عدل و فضل کے بارے میں خبر دیتا اور آگاہ فرماتا ہے کہ وہ عدل کے متضاد صفات، یعنی ظلم سے خواہ وہ قلیل ہو یا کثیر پاک ہے۔ چناچہ فرمایا : (ان اللہ لایظلم مثقال ذرۃ) ” اللہ کسی کی ذرہ بھر بھی حق تلفی نہیں کرتا۔ “ یعنی اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی نیکیوں میں ذرہ بھر کمی کرے گا نہ اس کی برائیوں میں ذرہ بھر اضافہ کرے گا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے (فمن یعمل مثقال ذرۃ خیرا یرہ، ومن یعمل مثقال ذرۃ شرایرہ) (الزلزال :8-8-99) ” جس نے ذرہ بھر نیکی کی ہوگی وہ اسے دیکھ لے گا اور جس نے ذرہ بھر برائی کی ہوگی وہ بھی اسے دیکھ لے گا۔
(وان تک حسنۃ یضعفھا) ” اور اگر نیکی ہو تو…
Read the full tafseer →قول باری ہے (یومئذ یود الذین کفروا وعصوالرسول لوتسوی بھم الارض ولایکتمون اللہ حدیثا) اس وقت وہ سب لوگ جنہوں نے رسول کی بات نہ مانی اور اس کی نافرمانی کرتے رہے تمناکریں گے کہ کاش زمین پھٹ جائے اور وہ اسمیں سماجائیں وہاں یہ اپنی کوئی بات اللہ سے چھپا نہیں سکیں گے ) ۔ اللہ تعالیٰ نے یہ بتادیا کہ وہاں یہ لوگ اپنا کوئی حال اور اپنا کوئی عمل اللہ سے چھپا نہیں سکیں گے کیونکہ انہیں معلوم ہوگا کہ اللہ کو ان کے تمام اعمال کی اطلاع ہے اور وہ ان کی تمام پوشیدہ باتوں سے آگاہ ہے اس لیے وہ اپنے ان اعمال کا اعتراف کرلیں گے اور انہیں پوشیدہ نہیں رکھیں گے ایک قول ہے کہ یہ کہنا بھی درست ہے کہ یہ لوگ وہاں اپنی…
Read the full tafseer →104 قیامت کے روز کفار کی انتہائی یاس و حسرت کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس روز کافر و نافرمان لوگ یہ تمنا کریں گے کہ ان کے ساتھ برابر کردیا جائے زمین کو۔ کہ زمین پھٹ کر ان کو نگل لے، اور پھر اوپر سے جڑ کر برابر ہوجائے، تاکہ اس طرح یہ لوگ اس ہولناک انجام سے بچ سکیں۔ مگر ایسے کہاں اور کیونکر ؟ یا یہ مطلب ہے کہ یہ لوگ اس روز یہ تمنا کریں گے کہ یہ مٹی ہوجائیں تاکہ مٹی میں مل کر نیست و نابود ہوجائیں، جیسا کہ دوسرے مقام پر فرمایا گیا۔ نتیجہ و مآل ان دونوں مطلبوں کا ایک ہی نکلتا ہے یعنی اس طرح وہ لوگ اپنی نہایت ہی یاس و حسرت کا اظہار کریں گے مگر اس کا ان کو کوئی فائدہ بہرحال نہیں ہوگا، سوائے یاس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–42
حساب کے دن کفار کی تمنا
تشریح : اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اس وقت ان کفار و منکرین کا کیا حال ہوگا ؟ جب حساب کتاب کا دن آئے گا تمام لوگ اور سب امتیں اللہ کے حضور پیش کی جائیں گی اور ان کے رسول اس بات کی گواہی دیں گے کہ ہم نے آپ کا پیغام، نیکی و بدی کا فرق اور اچھے برے راستوں کی راہنمائی پوری طرح کردی تھی۔ اس کے بعد نبی کریم ﷺ اپنی امت کی اور تمام انبیاء کی سچائی کی گواہی دیں گے اور جو کچھ ان کی امتوں نے ان کے ساتھ سلوک کیا اور بداعمالیاں کیں ان سب کی گواہی پیغمبر دیں گے۔ وہ دن بڑاسخت دن ہوگا، نافرمان اور منکرین کو اپنا انجام صاف دکھائی دے رہا ہوگا۔ تب حسرت اور پریشانی میں وہ لوگ بچنے کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–42
آیت 39 تا 42: وما ذا علیہم لو امنوا۔۔ ولا یکتمون اللہ حدیثا۔
اگر یہ اللہ پر اور آخرت پر ایمان ہی لے آتے تو ان کا کیا بگڑ جاتا اگر اللہ کے دئیے کو اسی کے حکم کے مطابق خرچ کرتے تو انہیں کوئی نقصان اٹھانا نہ پڑتا بلکہ ایمان باللہ ہی وہ نعمت ہے جو زندگی آسان کردیتی ہے اور ایک ایسا سہارا نصیب ہوجاتا ہے جو مزید کسی سہارے کا محتاج نہیں رہنے دیتا ایمان بالآخرت ہی انسانی معاشرے کی اصلاح کا بنیادی پتھر ہے اگر اللہ اور آخرت پر ایمان نہ ہو تو زندگی جہنم کا نمونہ بن جاتی ہے جس پر مغرب کا خدا فراموش معاشرہ پکار پکار کر شہادت دے رہا ہے کہ حکومت اور اس کے وسائل سب کچھ ہے مگر جرائم پہ قابو نہیں پایا جا رہا کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–42
ف 7 اوپر کی آیتوں میں قیامت کے دن ظلم کی نفی اور کئی گہا اجر کا وعدہ فرمایا اب یہاں بیان فرما جارہا ہے کہا اچھا یا برا بدلہ پیغمبر کی شہادت سے ملے گا جن کو اللہ تعالیٰ نے مخلوق پر حجت بنا کر بھیجا ہے۔ (کبیر) اس مقصود اکفار کو وعید سنانا ہے جو اس موقعہ پر آزاد کرنیگے کاش ہم آدمی نہ ہوتے اور زمین میں مل کر خاک ہوجاتے۔ دیکھئے سورت النبا : 40 بقرۃ : 143 ۔ (ابن کثیر)8 کفار کے متعلق یہ بھی ہے کہ وہ اپنے شرک سے انکار کرینگے (الا نعام :23) مگر یہ آیت اس کے خلاف نہیں ہے کہ انکار کے بعد جب ان کے ہاتھ پاوں ان کے خلاف گواہی دینگے۔ ( سورت فصٰلت آیت :21 ۔ 23) تو پھر اللہ تعالیٰ سے کوئی بات نہیں چھپا سکیں…
Read the full tafseer →(4:42) یود۔ مضارع واحد مذکر غائب مودۃ (باب سمع) مصدر۔ وہ پسند کرتا ہے وہ آرزو کرتا ہے یا کرے گا۔
لو تسوی بھم الارض کاش انہیں دبا کر اوپر سے مٹی برابر کردی گئی ہوتی۔ تو سی وہ برابر کردی گئی۔ وہ برابر کردی جائے۔ وہ ملا دی جائے۔ مضارع مجہول واحد مؤنث غائب۔ زمین ان کو اپنے اندر لے کر برابر ہوجاتی۔ لو مصدریہ بھی ہوسکتا ہے جملہ ب تاویل مفرد بود کا مفعول ہوگا۔ ای یودون ان یدفنوا۔ حدیثا۔ بات۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–42
آیت نمبر 41-42
لغات القرآن : جئنا، ہم لے آئے۔ امۃ، جماعت، گروہ۔ شھید، گواہ۔ یود، پسند کرتا ہے۔ عصوا، انہوں نے نافرمانی کی۔ لوتسوی، کاش برابر ہوجائے۔ حدیث، بات۔
تشریح : یہ بات گزشتہ آیات میں کہہ دی گئی تھی کہ کنجوسی کرنے والا اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان نہیں رکھتا۔ وہ شیطان کی باتوں پر چلتا ہے۔ اس طرح وہ کفر سے قریب ہے۔ آیات 41-42 میں قیامت کا منظر کھینچا گیا ہے کہ میدان محشر میں باری باری ہر نبی کی امت آئے گی۔ وہ نبی بتائیں گے کہ انہوں نے لوگوں تک اللہ کا پیغام پہنچانے میں کوئی کمی نہیں کی لیکن بہت سے لوگ کافر رہے۔ وہ ان کافروں کی نشان دہی کریں گے۔ سب سے آخر میں حضور نبی کریم ﷺ آئیں گے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–42
حساب کے وقت حضرت نوح سے لے کر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) تک کے منکر لوگوں سے اللہ تعالیٰ پوچھا گا کہ باوجود انببیاء (علیہم السلام) کی ہدایتوں کے تم لوگ منکر کیوں رہے، یہ لوگ انبیاء کی ہدایت کا انکار کرکے صاف مکر جاویں کے، اس پر سب انبیاء کہیں گے کہ ھضرت محمد آخرالزماں نبی ﷺ ہیں، ان کی شریعت مین ہر زمانہ کے نبی کی ہدایت کرنے کی تصدیق موجود ہے، پھر آنحضرت ﷺ اور آپ کی امت کے لوگ حاضر کئے جاویں گے وہ گواہی دیں گے ۔ اس پر نادم ہوکر یہ منکر گوگ جانوروں کی خاک ہوتا ہوا دیکھ کر اپنے خاک ہونے کی آرزو کریں گے ۔ اس گواہی کے بعد آنحضرت ﷺ اپنی امت کی نیکیوں کی گواہی قیامت تک کی ادا فرماویں گے ۔ اسی واسطے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–42
[33] یعنی ہر امت کا رسول گواہی دے گا کہ اس نے اللہ تعالیٰ کے احکام بےکم وکاست اپنی امت کو پہنچا دیئے تھے۔ پھر یہی گواہی محمد ﷺ اپنی امت کے بارے میں دیں گے۔
Read the full tafseer →(ف 4) اس وقت وہ لوگ جنہوں نے آپ ﷺ کے مرتبہ ودرجہ کو نہیں پہچاتا ، پچتائیں گے اور کھلے لفظوں میں اپنے کتمان حق کا اعتراف کریں گے ۔ ﷺ
حل لغات :
شھید : گواہ ۔ مبلغ ، حاضر ۔
Read the full tafseer →ف 1 بھلا اس وقت ان لوگوں کا کیا حال ہوگا جب ہم ہر ایک امت میں سے ایک ایک گواہ یعنی احوال بتانے والا میدان حشر میں طلب کریں گے اور اے پیغمبر ﷺ آپ کو ان لوگوں پر یعنی آپ کی امت پر گواہی دینے اور ان کے احوال بتانے کی غرض سے طلب کریں گے۔ اس دن ان لوگوں کا جنہوں نے دنیا میں کفر کیا ہوگا اور اللہ کے رسول کا کہنا نہ مانا ہوگا یہ حال ہوگا کہ وہ اس اس بات کی تمنا اور آرزو کریں گے کہ کاش ! ان پر زمین پٹ جاتی اور وہ اس میں سما جاتے اور ان پر زمین برابر کردی جاتی اور وہ زمین کے پیوند ہوجاتے اور وہ اللہ تعالیٰ سے کوئی بات پوشیدہ نہ رکھ سکیں گے۔ کیونکہ معتبر گواہوں کی شہادت کے بعد اس کے سوا چارہ بھی کیا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–45
ف 1۔ یعنی جن لوگوں نے خدائی احکام دنیا میں نہ مانے ہوں گے ان کے مقدمہ کی پیشی کے وقت بطور سرکاری گواہ کے انبیاء علہیم السلام کے اظہارات سنے جائیں گے جو جو معاملات انبیاء انبیاء کی موجودگی میں پیش آئے تھے سب ظاہر کردیں گے اس شہادت کے بعد ان مخالفین پر جرم ثابت ہو کر سزادی جائے گی۔
Read the full tafseer →رسول اللہ ﷺ کے احکام کی نافرمانی کرنے والوں کا انجام :
90: یہ غلطی بھی مدت سے قوموں کو لگتی آئی ہے کہ ہم بداعتدالیاں کرتے ہیں اور اللہ کے بھیجے ہوئے رسول کی ہر لحاظ سے ہم نے مخالفت کی لیکن ہمیں تو کچھ بھی نہیں ہوا۔ قرآن کریم کہتا ہے کہ اللہ کا قانون یہ ہے کہ وہ فوراً کسی کو کبھی نہیں پکڑتا بلکہ وہ ایسے نافرمانوں کو جو رسول کی نافرمانی کرتے ہیں ایک وقت تک مہلت دیتا رہتا ہے۔ پھر یہ نادان لوگ کیوں اس غلط فہمی میں مبتلا ہیں کہ نبی کے ساتھ تکذیب و استہزاء کی جو روش انہوں نے اختیار کر رکھی ہے اس پر چونکہ ابھی تک انہیں سزا نہیں دی گئی اس لیے یہ نبی سرے سے نبی ہی نہیں ج۔ ہمارا قاعدہ یہ ہے کہ ہم ہر…
Read the full tafseer →In يَوْمَئِذٍ يَوَدُّ الَّذِينَ كَفَرُوا ، the text mentions the state of utter despair faced by disbelievers on the Last Day. That day they would wish to go extinct rather than face its ordeal, to become a patch of the earth underneath, or wish that the earth would crack open, suck them in leaving nothing on top but dust mingled with dust, so that they would be delivered of the scrutiny and retribution of that fateful time. (The statement: لَوْ تُسَوَّىٰ بِهِمُ الْأَرْضُ (42) has been translated here literally to express, in some measure at least, the power and poignancy of the original…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–42
64. The Prophet of each age will stand as a witness before God against his people; he will testify that he conveyed to them the true way of life, and showed them the right outlook and the fundamentals of moral conduct revealed to him by God. The testimony of the Prophet Muhammad (peace be on him) will be to the same effect, and the Qur'an indicates that he will stand as a witness to the period beginning with his advent as a Prophet right through to the Day of Judgement. (See Towards Understanding the Qur'an, vol. I, Surah 3, n. 69.)
Read the full tafseer →