بتدریج حرمت شراب اور پس منظر
اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے ایمان دار بندوں کو نشے کی حالت میں نماز پڑھنے سے روک رہا ہے کیونکہ اس وقت نمازی کو معلوم ہی نہیں ہوتا کہ وہ کیا کہہ رہا ہے اور ساتھ ہی محل نماز یعنی مسجد میں آنے سے روکا جا رہا ہے اور ساتھ جنبی شخص جسے نہانے کی حاجت کو محل نماز یعنی مسجد میں آنے سے روکا جا رہا ہے۔ ہاں ایسا شخص کسی کام کی وجہ سے مسجد کے ایک دروازے سے داخل ہو کر دوسرے دروازے سے نکل جائے تو جائز ہے نشے کی حالت میں نماز کی قریب نہ جانے کا حکم شراب کی حرمت سے پہلے تھا جیسے اس حدیث سے ظاہر ہے جو ہم نے سورة بقرہ کی (يَسْــَٔـلُوْنَكَ عَنِ الْخَــمْرِ وَالْمَيْسِرِ ۭ قُلْ فِيْهِمَآ…
Read the full tafseer →سورة النِّسَآء 65
یہ شراب کے متعلق دوسرا حکم ہے۔ پہلا حکم وہ تھا جو سورة بقرہ (آیت 219) میں گزرا۔ اس میں صرف یہ ظاہر کر کے چھوڑ دیا گیا تھا کہ شراب بری چیز ہے، اللہ کو پسند نہیں۔ چناچہ مسلمانوں میں سے ایک گروہ اس کے بعد ہی شراب سے پرہیز کرنے لگا تھا۔ مگر بہت سے لوگ اسے بدستور استعمال کرتے رہے تھے حتّٰی کہ بسا اوقات نشے کی حالت ہی میں نماز پڑھنے کھڑے ہوجاتے تھے اور کچھ کا کچھ پڑھ جاتے تھے۔ غالباً 4 ہجری کی ابتدا میں یہ دوسرا حکم آیا اور نشے میں نماز پڑھنے کی ممانعت کردی گئی۔ اس کا اثر یہ ہوا کہ لوگوں نے اپنے شراب پینے کے اوقات بدل دیے اور ایسے اوقات میں شراب پینی چھوڑ دی جن میں یہ اندیشہ ہوتا…
Read the full tafseer →شان نزول
ترمذی میں حضرت علی ؓ کا یہ واقعہ مذکور ہے کہ شراب کی حرمت سے پہلے ایک دفعہ حضرت عبدالرحمن بن عوف نے بعض صحابہ کرام کی دعوت کر رکھ تھی جس میں مے نوشی کا بھی انتظام تھا، جب یہ سب حضرات کھا پی چکے تو مغرب کی نماز کا وقت ہوگیا اور حضرت علی ؓ کو امام بنادیا گیا، ان سے نماز میں قل یایھا الکفرون کی تلاوت میں بوجہ نشہ کے سخت غلطی ہوگئی اس پر یہ آیت نازل ہوئی جس میں تنبیہ کردی گئی کہ نشہ کی حالت میں نماز نہ پڑھی جائے۔
خلاصہ تفسیر
اے ایمان والو تم نماز کے پاس بھی ایسی حالت میں مت جاؤ (یعنی ایسی حالت میں نماز مت پڑھو کہ تم نشہ میں ہو یہاں تک کہ تم سمجھنے لگو کہ منہ سے کیا کہتے ہو (اس وقت تک…
Read the full tafseer →يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقْرَبُوا الصَّلٰوةَ وَاَنْتُمْ سُكٰرٰى حَتّٰى تَعْلَمُوْا مَا تَقُوْلُوْنَ وَلَا جُنُبًا اِلَّا عَابِرِيْ سَبِيْلٍ حَتّٰى تَغْتَسِلُوْا ۭ وَاِنْ كُنْتُمْ مَّرْضٰٓى اَوْ عَلٰي سَفَرٍ اَوْ جَاۗءَ اَحَدٌ مِّنْكُمْ مِّنَ الْغَاۗىِٕطِ اَوْ لٰمَسْتُمُ النِّسَاۗءَ فَلَمْ تَجِدُوْا مَاۗءً فَتَيَمَّمُوْا صَعِيْدًا طَيِّبًا فَامْسَحُوْا بِوُجُوْهِكُمْ وَاَيْدِيْكُمْ ۭ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَفُوًّا غَفُوْرًا۔
صلوۃ کے معنی نماز کے ہیں لیکن جس طرح کبھی ظرف بولتے ہیں اور مظروف اس کے مفہوم میں آپ سے آپ شامل ہوتا ہے اسی طرح کبھی مظروج، اگر قرائن موجود ہوں، ظرف پر بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–45
43۔ 1 یہ حکم اس وقت دیا گیا کہ ابھی شراب کی حرمت نازل نہیں ہوئی تھی۔ چناچہ ایک دعوت میں شراب نوشی کے بعد جب نماز لئے کھڑے ہوئے تو نشے میں قرآن کے الفاظ بھی امام صاحب غلط پڑھ گئے (تفصیل کے لئے دیکھئے ترمذی، تفسیر سورة النساء) جس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ نشے کی حالت میں نماز مت پڑھا کرو۔ گویا اسوقت صرف نماز کے وقت کے قریب شراب نوشی سے منع کیا گیا۔ بالکل ممانعت اور حرمت کا حکم اس کے بعد نازل ہوا۔ (یہ شراب کی بابت دوسرا حکم ہے جو مشروطہ ہے)
43۔ 2 یعنی ناپاکی کی حالت میں بھی نماز مت پڑھو۔ کیونکہ نماز کے لئے طہارت بہت ضروری ہے۔
43۔ 3 اس کا مطلب یہ نہیں کہ مسافری کی حالت میں اگر پانی نہ ملے تو جنابت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–45
32: یہ اس وقت کی بات ہے جب شراب کی حرمت کا حکم نہیں آیا تھا ؛ لیکن اسی آیت کے ذریعے یہ اشارہ دے دیا گیا کہ وہ کوئی اچھی چیز نہیں ہے ؛ کیونکہ اس کو پینے کی حالت میں نماز پڑھنے سے روکا گیا ہے، لہذا کسی وقت اس کو بالکل حرام بھی کیا جاسکتا ہے۔
Read the full tafseer →یہ بھی جماعت مسلمہ کی تربیت کی ایک اہل کڑی ہے جسے اسلامی نظام حیات نے جاہلیت کی پستیوں سے سربلند کیا ۔ شراب نوشی جاہلی معاشرے کی ایک عام اور بنیادی عادت تھی بلکہ قدیم اور جدید جاہلیتوں کی یہ امتیازی خصوصیت رہی ہے ۔ رومی معاشرہ جب اپنی ترقی کے انتہائی عروج پر تھا تو شراب نوشی اس کی ممتاز ترین خصوصیات میں سے ایک تھی ، اسی طرح فارس کے جاہلی معاشرے کی اہم خصوصیات میں سے شراب نوشی ایک اہم خصوصیت تھی ۔ آج امریکی اور یورپین تہذیب اور جاہلیت اپنے عروج پر ہیں اور شراب نوشی انکی ممتاز ترین صفت ہے ۔ افریقہ میں جو ترقی یافتہ معاشرے گزرے ہیں ان کی خصوصیات میں بھی یہ اہم خصوصیت رہی ہے ۔
سویڈن آج کے ترقی…
Read the full tafseer →3 پہلی آیات میں مسلمانوں کو خطاب تھا واعبدوا اللّٰہ ولا تشرکوابہ شیأا الیٰ آخرہ الآیات اور اسی کے ذیل میں کفار کی مذمت بیان فرمائی تھی جو کہ امور مذکورہ سابقہ کی مخالفت کرتے تھے اب اس کے بعد پھر مسلمانوں کو دربارہ صلوٰۃ بعض خاص ہدایتیں کی جاتی ہیں اور ان ہدایات کو ماقبل کے ساتھ یہ مناسبت ہے کہ اس سے پہلے کفار اور اہل کتاب کی دو خرابیوں کا خاص طور پر ذکر تھا ایک اللہ پر ایمان نہ لانا دوسرے اپنا مال اللہ کے لئے خرچ نہ کرنا بلکہ لوگوں کے دکھانے کو اور اپنی عزت بڑھانے کو مال خرچ کرنا اور ظاہر ہے کہ پہلی خرابی کا منشاء تو علم کا نقصان اور جہل کا غلبہ ہے اور دوسری خرابی کی وجہ ہوائے نفس اور اپنی…
Read the full tafseer →آیت 43 یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لاَ تَقْرَبُوا الصَّلٰوۃَ وَاَنْتُمْ سُکٰرٰی حَتّٰی تَعْلَمُوْا مَا تَقُوْلُوْنَ
سورۃ البقرۃ آیت 219 میں شراب اور جوئے کے بارے میں محض اظہار ناراضگی فرمایا گیا تھا کہ اِثْمُھُمَا اَکْبَرُ مِنْ نَّفْعِھِمَا ط ان کا گناہ کا پہلو نفع کے پہلو سے بڑا ہے۔ اب اگلے قدم کے طور پر شراب کے اندر جو خباثت ‘ شناعت اور برائی کا پہلو ہے اسے ایک مرتبہ اور اجاگر کیا گیا کہ نشے کی حالت میں نماز کے قریب نہ جایا کرو۔ جب تک نشہ اتر نہ جائے اور تمہیں معلوم ہو کہ تم کیا کہہ رہے ہو اس وقت تک نماز نہ پڑھا کرو۔ چونکہ شراب کی حرمت کا حکم ابھی نہیں آیا تھا لہٰذا بعض اوقات لوگ نشے…
Read the full tafseer →75 حرمت شراب کے احکام میں تدریج :۔ یہ آیت حرمت شراب کے تدریجی احکام کی دوسری کڑی ہے۔ اس سلسلہ میں پہلی آیت جو نازل ہوئی وہ سورة بقرہ کی آیت نمبر 219 ہے جس میں فقط یہ بتایا گیا کہ شراب اور جوئے میں گو کچھ فائدے بھی ہیں تاہم ان کے نقصانات ان کے فوائد سے زیادہ ہیں۔ چند محتاط صحابہ کرام نے اسی وقت سے شراب چھوڑ دی تھی۔ پھر اس کے بعد یہ آیت نازل ہوئی۔ جس کے شان نزول کے متعلق درج ذیل حدیث ملاحظہ فرمائیے :
سیدنا علی ؓ بن ابی طالب سے روایت ہے کہ عبدالرحمن ؓ بن عوف نے ہمارے لیے کھانا بنایا، دعوت دی اور ہمیں شراب پلائی۔ شراب نے ہمیں مدہوش کردیا، اتنے میں نماز کا وقت آگیا۔ انہوں نے مجھے امام بنایا۔ میں…
Read the full tafseer →139 ۔ یعنی نشہ اترجائے اور زبان قابو میں آجائے۔ آیت اس وقت کی ہے جب کہ حرمت شراب کا حکم ابھی نازل نہیں ہوا تھا، مطلب آیت کا یہ کہ اوقات نماز میں تو شراب پینے سے باز رہو، یہ مطلب نہیں کہ شراب تو اسی طرح پیتے چلے جاؤ اور نشہ کی حالت میں نماز چھوڑے رہو۔
140 ۔ یعنی حالت جنابت کے بعد غسل کرنا فرض ہے، بغیر اس کے نماز درست نہ ہوگی، مرد کو انزال ہوجانا، عورت کو حیض آجانا، مرد و عورت دونوں کا عمل مباشرت کرنا (خواہ انزال کے بغیر ہو) یہ سب حالتیں جنابت کی ہیں (آیت) ” الصلوۃ “ سے مراد مواضع الصلوۃ بھی لی گئی ہے۔ یعنی مسجدیں ای مواضع الصلوۃ وھی المساجد (مدارک) المراد مواضع الصلوۃ وھو قول الشافعی (…
Read the full tafseer →آیت نمبر 43 تا 50
ترجمہ : اے ایمان والو ! نشے کی حالت میں نماز کے قریب مت جاؤ یعنی نماز مت پڑھو، اس لئے کہ اس آیت کے نزول کا سبب حالت نشے میں جماعت سے نماز پڑھنا تھا، یہاں تک کہ تم سمجھنے لگو کہ تم کیا کہہ رہے ہو ؟ یعنی ہوش میں آجاؤ، اور نہ حالت جنابت میں جب تک کہ تم غسل نہ کرلو (نماز پڑھو) حالت جنابت خواہ ادخال کی وجہ سے ہو یا انزال کی وجہ سے جنبًا کا اطلاق مفرد اور غیرمفرد دونوں پر ہوتا ہے، بجز اس کے کہ تم حالت سفر میں ہو تو تمہارے لئے (بغیر غسل) نماز پڑھنا جائز ہے، مسافر کو مستثنیٰ کیا ہے اسلئے کہ مسافر کا حکم عنقریب آتا ہے (اور وہ تیمّم ہے) اور کہا گیا ہے کہ ممانعت نماز گاہوں یعنی مسجد…
Read the full tafseer →یایہا الذین امنوا . ابوداؤد ‘ حاکم اور ترمذی نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا قول نقل کیا ہے اور ترمذی نے اس کو حسن کیا ہے کہ عبدالرحمن بن عوف نے ہمارے لئے کھانا تیار کرایا اور ہم کو بلایا اور شراب پلائی۔ یہ واقعہ شراب حرام ہونے سے پہلے کا ہے اور شراب کا نشہ ہم کو اتنا چڑھا اور نماز کا وقت آگیا تو لوگوں نے مجھ کو آگے بڑھایا میں نے پڑھا قُلْ یٰاَیُّہَا الْکَافِرُون اَعْبُدُ مَا تَعْبُدُوْنَآخر تک اسی طرح (بغیر لا کے) پڑھا اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔
لا تقربوا الصلوۃ وانتم سکاری تم نشہ کی حالت میں ہو تو نماز کے قریب نہ جاؤ۔
حتی تعلموا ما تقولون یہاں تک کہ جو کچھ منہ سے نکال رہے ہو اس کو سمجھ لو۔ نشہ جس…
Read the full tafseer →(43) شراب کی حرمت سے پہلے یہ حکم نازل ہوا ہے کہ مسجد نبوی میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایسی حالت میں مت آؤ بغیر غسل کے بھی جنابت کی حالت میں مسجد میں نہ آؤ کہ ماسوا تمہارے راہ گزر یا مسافر ہونے کی حالت کے یا جس نے اپنی بیوی کے ساتھ قربت کی ہو اور مذکورہ صورتوں میں اگر پانی نہ ملے تو پاک مٹی سے تیمم کرو، ایک مرتبہ مٹی پر ہاتھ مار کر اپنے چہروں پر پھیر لیاکرو، اور دوسری مرتبہ ہاتھ مار کر اپنے ہاتھوں پر پھیر لیاکرو، اللہ تعالیٰ دینی امور میں تمہیں اس طرح سہولت دیتا ہے اور اس میں جو تم سے کوتاہی ہوجائے اس کو معاف فرمانے والا ہے۔
شان نزول : (آیت) ”یایھا الذین امنوا لاتقربوا الصلوۃ“۔ (الخ)
ابوداؤد،…
Read the full tafseer →لَا تَقْرَبُوا الصَّلٰوةَ وَاَنْتُمْ سُكٰرٰى : شراب کی مذمت اور قباحت کے سلسلے میں سب سے پہلے سورة بقرہ کی آیت (219) نازل ہوئی، جس میں شراب اور جوئے کے گناہ کو ان کے نفع سے بڑا قرار دیا، اس پر بہت سے مسلمانوں نے شراب چھوڑ دی، تاہم بعض بدستور پیتے رہے کہ ہم اس سے نفع اٹھاتے ہیں۔ علی ؓ بیان کرتے ہیں کہ عبد الرحمن بن عوف ؓ نے ہمارے لیے کھانا پکایا، پھر ہمیں بلایا اور ہمیں شراب پلائی، شراب نے ہمیں مدہوش کردیا، اتنے میں نماز کا وقت آگیا اور انھوں نے مجھے امام بنادیا، میں نے پڑھا : ”قُلْ یَا اَیُّہَا الْکَافِرُوْنَ لاَ اَعْبُدُ مَا تَعْبُدُوْنَ وَ نَحْنُ نَعْبُدُ مَا تَعْبُدُوْنَ“ ”کہہ دے اے کافرو…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 43۔
اس میں چوالیس مسائل ہیں۔
مسئلہ نمبر : (1) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” یایھا الذین امنوا لا تقربوا الصلوۃ وانتم سکری “۔ اللہ تعالیٰ نے اس خطاب کے ساتھ مومنین کو خاص فرمایا، کیونکہ وہ نماز پڑھتے تھے اور انہوں نے شراب پی تھی اور اس نے ان کے ذہنوں کو ختم کردیا تھا پس وہ اس خطاب سے خاص کیے گئے، کیونکہ کفار تو نہ ہوش میں نماز پڑھتے تھے، نہ حالت نشہ میں، ابو داؤد نے حضرت عمر بن خطاب سے روایت کیا ہے فرمایا : جب شراب کی حرمت نازل ہوئی تو حضرت عمر ؓ نے دعا کی : اے اللہ ! شراب کے بارے میں ہمارے لیے واضح حکم بیان فرما، تو سورة بقرہ کی آیت (آیت) ” یسئلونک عن الخمر والمیسر “۔ (بقرہ :…
Read the full tafseer →نماز کے لئے طہارت ضروری ہے
(1) عبد بن حمید وابو داؤد والترمذی نے (اس کو حسن کہا) والنسائی وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم والنحاس اور حاکم نے (اس کو صحیح کہا) اور حضرت علی بن ابی طالب ؓ سے روایت کیا کہ ہمارے لئے عبد الرحمن بن عوف ؓ نے کھانا تیار کیا ہم کو دعوت دی اور شراب بھی پلائی ہم کو نشہ ہوگیا نماز کا وقت ہوگیا تو مجھے آگے کھڑا کردیا میں نے لفظ آیت ” قل یا ایھا الذین لا اعبدو ما تعبدون ونحن نعبد ما تعبدون “ تو اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ” یایھا الذین امنو لا تقربوا الصلوۃ وانتم سکری حتی تعلموا ما تقولون “۔
(2) ابن جریر وابن المنذر نے حضرت علی ؓ سے روایت کیا کہ وہ اور عبد…
Read the full tafseer →[ یٰٓـــاَیـُّـہَا الَّذِیْنَ : اے وہ لوگو جو ] [ اٰمَنُوْا : ایمان لائے ] [ لاَ تَقْرَبُوا : تم قریب مت جائو ] [ الصَّلٰوۃَ : نماز کے ] [ وَ : اس حال میں کہ ] [ اَنْــتُمْ : تم ] [ سُکٰرٰی : مدہوش ہو ] [ حَتّٰی : یہاں تک کہ ] [ تَعْلَمُوْا : تم جانو ] [ مَا : اس کو جو ] [ تَقُوْلُوْنَ : تم کہتے ہو ] [ وَلاَ جُنُبًا : اور نہ ہی ناپاک ہوتے ہوئے ] [ اِلاَّ : مگر ] [ عَابِرِیْ سَبِیْلٍ : کسی راستے کے گزرنے والے ہوتے ہوئے ] [ حَتّٰی : یہاں تک کہ ] [ تَغْتَسِلُوْا : تم غسل کرلو ] [ وَاِنْ : اور اگر ] [ کُنْتُمْ : تم ہو ] [ مَّرْضٰٓی : مریض ] [ اَوْ عَلٰی سَفَرٍ : یا کسی سفر پر ] [ اَوْ جَآئَ : یا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–45
حالت نشہ میں نماز پڑھنے کی ممانعت
اس آیت شریفہ میں اولاً تو یہ فرمایا کہ نشہ کی حالت میں نماز کے قریب مت جاؤ اگر کوئی حالت نشہ میں ہو تو اس وقت تک نماز نہ پڑھے جب تک کہ ہوش نہ آجائے اور یہ نہ جان لے کہ میں کیا کہہ رہا ہوں۔ ابتداء اسلام میں جب تک شراب پینا حرام قرار نہیں دیا گیا تھا اس عرصہ میں ایک واقعہ پیش آیا جو حضرت علی ؓ سے مروی ہے انہوں نے بیان فرمایا کہ حضرت عبدالرحمن بن عوف ؓ نے کھانا تیار کیا اور ہم لوگوں کو کھانے پر بلایا، کھانا کھلایا اور شراب پلا دی۔ شراب نے اپنا اثر دکھایا پینے والوں کو نشہ آگیا اور اسی وقت نماز کا وقت ہوگیا۔ حاضرین نے مجھے امامت کے لیے آگے بڑھا دیا میں نے (قُلْ…
Read the full tafseer →حکم ہشتدہم متعلق بہ صلوۃ و طہارت۔
قال تعالیٰ یا ایھا الذین۔۔۔ الی۔۔ عفوا غفورا۔ آیت۔
ربط) گزشتہ آیت میں عبادت کا ذکر تھا اور ایمان کے بعد تمام عبادتوں میں سب سے بڑی عبادت نماز ہے اس لیے اس آیت میں نماز کے آداب کو بیان فرماتے ہیں کہ نشہ کی حالت میں نماز نہ پڑھو کیونکہ نشہ کی حالت میں آدمی کو یہ علم نہیں رہتا کہ میں نماز میں کیا پڑھ رہا ہوں اور کس ذات بابرکات کے سامنے کھڑا ہوں اور اس سے کیا عرض ومعروض کررہا ہوں یہ حکم اس وقت تھا کہ جب تک شراب کی حرمت نازل نہیں ہوئی تھی چند صحابہ ایک دعوت میں جمع تھے چونکہ ابھی تک شراب حرام نہیں ہوئی تھی اس لیے ان لوگوں نے شراب پی مغرب کا وقت آگیا تو اسی حالت…
Read the full tafseer →33 یہ امر مصلح ہے چودہ امور انتظامیہ برائے رعیت بیان کر کے فرمایا صرف ایک اللہ کی عبادت کرو شرک سے بچو۔ اس کے بعد احسان کرنے اور ظلم سے بچنے کی تلقین فرمائی اور زجر و تخویف کے ذریعے احسان و انفاق پر اکسایا اور سب سے آخر میں امر مصلح یعنی نماز کا ذکر فرمایا کیونکہ نماز احسان کرنے ظلم و حق تلفی سے بچنے اور توحید پر قائم رہنے میں ممد و معاون ہے نماز سے دلوں میں الفت و محبت کا جذبہ پیدا ہوتا ہے خصوصاً نماز با جماعت کی برکت سے دلوں کی تمام کدورتیں صاف ہوجاتی ہیں اور آدمی اپنے بھائی بندوں اور رشتہ داروں پر آمادہ انعام و احسان ہوجاتا ہے جیسا کہحضور ﷺ کا ارشاد ہے سَوُّوْا صُفُوْفَکُمْ او لیخالفن اللہ…
Read the full tafseer →رابط آیات
گزشتہ دروس میں اعبدواللہ کا بنیادی عقیدہ بیان ہوچکا ہے کہ عبادت صرف اللہ ہی کی کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بناؤ ، اس کے بعد والدین ، قرابتداروں اور دیگر ایسے لوگوں کے حقوق کا تذکرہ ہواجن سے زندگی میں اکثر واسطہ پڑتا ہے پھر اللہ تعالیٰ نے بخل کی مذمت بیان فرمائی۔ اور ریاکاری سے منع کیا۔ گزشتہ درس میں پھر ایمان اور انفاق فی سبیل اللہ کے تذکرہ کے بعد اللہ اور رسول کے ان نافرمانوں کی حسرت بیان کی گئی کہ قیامت کے دن وہ آرزو کریں گے کہ کاش وہ مٹی ہوجاتے تو جہنم کے ابدی عذاب سے بچ جاتے۔
نماز کی اہمیت
آج کے درس میں اللہ تعالیٰ نے عبادت ہی کے سلسلہ میں نماز کا ذکر کیا ہے۔ کیونکہ عبادت…
Read the full tafseer →يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقْرَبُوا الصَّلٰوۃَ وَاَنْتُمْ سُكٰرٰى حَتّٰى تَعْلَمُوْا مَا تَقُوْلُوْنَ وَلَا جُنُبًا اِلَّا عَابِرِيْ سَبِيْلٍ حَتّٰى تَغْتَسِلُوْا 0ۭ وَاِنْ كُنْتُمْ مَّرْضٰٓى اَوْ عَلٰي سَفَرٍ اَوْ جَاۗءَ اَحَدٌ مِّنْكُمْ مِّنَ الْغَاۗىِٕطِ اَوْ لٰمَسْتُمُ النِّسَاۗءَ فَلَمْ تَجِدُوْا مَاۗءً فَتَيَمَّمُوْا صَعِيْدًا طَيِّبًا فَامْسَحُوْا بِوُجُوْہِكُمْ وَاَيْدِيْكُمْ 0ۭ اِنَّ اللہَ كَانَ عَفُوًّا غَفُوْرًا 43
أیمان
يستعمل اسما للشریعة التي جاء بها محمّد عليه الصلاة والسلام، وعلی ذلك : الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ [ المائدة/ 69] ، ويوصف…
Read the full tafseer →1 ؎ یہ شراب کی حرمت سے پہلے کا مسئلہ ہے اور شراب کی حرمت کی طرف یہیں سے اشارہ ہے کہ یہ نماز سے روکتی ہے۔ 12 منہ
2 ؎ سفر میں نہانے کی حاجت ہو اور پانی نہ ملے تو بغیر غسل کے تیمم کے ساتھ نماز درست ہے۔ 12 منہ
ماتعبدون ونحن نعبد ماتعبدون پڑھ دیا۔ تب یہ آیت نازل ہوئی بعض روایات میں ہے کہ عبدالرحمن بن عوف ؓ نے نماز پڑھائی تھی بعض میں ہے کہ نماز مغرب کا وقت تھا۔
ترکیب : وانتم الخ جملہ حال ہے فاعل لا تقربوا سے۔ سکاری جمع سکران ‘ حتی تعلموا بمعنی الی ان ولا جنبا حال ہے والتقدیر ولا تصلوا جنباجنب میں جماعت اور ایک دونوں شامل ہیں علی لغۃ فصیحی الاعابری ن بسبب اضافت کے گر پڑا یہ بھی حال ہے ولا تقربوا ھا…
Read the full tafseer →یٰٓاَیُّھَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَاتَقْرَبُوا الصَّلٰوۃَ وَاَنْتُمْ سُکٰرٰی حَتّٰی تَعْلَمُوْا مَا تَقُوْلُوْنَ وَلاَ جُنُبًا اِلَّا عَابِرِیْ سَبِیْلٍ حَتّٰی تَغْتَسِلُوْا وَاِنْ کُنْـتُمْ مَّرْضٰٓی اَوْعَلٰی سَفَرٍ اَوْجَآئَ اَحَدٌ مِّنْـکُمْ مِّنَ الْغَآئِِطِ اَوْلٰـمَسْتُمُ النِّسَآئَ فَلَمْ تَجِدُوْا مَـآئً فَتَیَمَّمُوْا صَعِیْدًا طَـیِّـبًا فَامْسَحُوْا بِوُجُوْھِکُمْ وَاَیْدِیْکُمْ ط اِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَفُوًّاغَفُوْرًا
(اے ایمان والو ! مت قریب جاؤ نماز کے جس وقت تم نشہ کی حالت میں ہو یہاں تک کہ جو کچھ تم زبان سے کہتے ہو اس کو سمجھنے لگو اور نہ اس وقت جب جنابت کی حالت میں ہو مگر یہ…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : آخرت کی تیاری کے لیے سچا ایمان اور پاکیزگی کی حالت میں نماز پڑھنا فرض ہے۔ پہلے بھی عرض کیا گیا ہے کہ قرآن مجید محض قانون کی کتاب نہیں۔ بلکہ قرآن مجید قانون اور ضابطے بیان کرنے کے بعد نصیحت کرتا ہے تاکہ ان پر عمل کرنا آسان ہو۔ سورة البقرۃ آیت 219 میں فقط اتنا احساس دلایا تھا کہ شراب میں فائدے کم اور نقصانات زیادہ ہیں۔ اب حکم ہوتا ہے کہ شراب پی کر نماز کے قریب نہ جاؤ۔ یہاں تک کہ تمہیں معلوم ہوجائے کہ تم کیا کہہ اور مانگ رہے ہو۔ ساتھ ہی طہارت اور وضو کا طریقہ بتلایا گیا ہے۔
سکارٰی کا لفظ استعمال فرماکر بتلایا گیا ہے کہ بےہوشی نشہ کی ہو یا نیند کی ایسی حالت میں نماز نہیں…
Read the full tafseer →آیت 43: پس یہ آیت اتری : یٰٓـاَ ۔ یُّہَا الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا لَا تَقْرَبُوا الصَّلٰوۃَ وَاَنْتُمْ سُکٰرٰی حَتّٰی تَعْلَمُوْا مَا تَقُوْلُوْنَ (اے ایمان والو ! تم نماز کے قریب نہ جائو اس حال میں کہ تم نشہ میں ہو۔ یہاں تک کہ جانو۔ جو کچھ تم کہتے ہو) یعنی نشے کی حالت میں نماز کے قریب نہ جائو۔ تقولون کا مطلب تقرء ون ہے۔
نشہ میں کلمہ کفر کا حکم :
فائدہ : اس میں دلیل ہے کہ نشے والے کا ارتداد ارتداد شمار نہ ہوگا کیونکہ لفظ لا کو گرا کر سورة کافرون کا پڑھنا کفر ہے۔ حالانکہ ان پر کفر کا حکم نہیں لگایا گیا۔ بلکہ یٰٓـاَ ۔ یُّہَا الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا سے خطاب فرمایا۔ اور آنحضرت ﷺ نے بھی ان کے اور ان کی…
Read the full tafseer →(تفسیر) 43۔:
(آیت)” ایا ایھا الذین امنوا لا تقربوا الصلوۃ وانتم سکاری “۔
(آیت)” ایا ایھا الذین امنوا لا تقربوا الصلوۃ وانتم سکاری “۔ کی تفسیر)
سکاری سے مراد سکر (نشہ) ہے، یہاں سکر سے مراد شراب کا ہے، اکثر حضرات کے نزدیک یہی قول ہے، حضرت عبدالرحمن بن عوف ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے کھانا تیار کروایا اور ہم کو بلوایا اور شراب پلائی ، یہ واقعہ حرمت شراب سے پہلے کا ہے ، شراب کا نشہ جب ہم کو چڑھا اور نماز کا وقت آگیا تو لوگوں نے مجھ کو آگے بڑھایا میں نے پڑھا ” قل یایھا الکافرون ، اعبد ماتعبدون “۔ آخر تک اسی طرح بغیر لا کے پڑھا ہے، اس پر یہ آیت نازل ہوئی ، اس آیت کے نزول کے بعد نمازوں کے اوقات میں…
Read the full tafseer →ترمذی ابو داؤد نسائی اور حاکم میں حضرت علی ؓ سے روایت ہے کہ عبد الرحمن بن عوف ؓ نے ہم لوگوں کی دعوت کی اس وقت تک شراب حرام نہ تھی۔ اس سبب سے ہم لوگوں نے خوب شراب پی اتنے میں مغرب کی نماز کا وقت آیا۔ سب نے مجھ کو امام بنایا میں نے قل یا یھا الکفرون نحن نعبد ما نعبد ما تعبدون یعنی جس کی بندگی تم کرتے ہو اس کی ہم بھی کرتے ہیں پڑھ دیا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ ترمذی نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے اس آیت کے نازل ہونے کے بعد نماز کے وقت لوگوں نے شراب کا پینا موقوف کردیا تھا۔ ایسے وقت شراب پیتے تھے کہ نماز کے وقت تک نشہ کی حالت باقی نہ ر ہے یہاں تک کہ سورة مائدہ کی آیت یا ایھا الذین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–43
آیت 42
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے کامل عدل و فضل کے بارے میں خبر دیتا اور آگاہ فرماتا ہے کہ وہ عدل کے متضاد صفات، یعنی ظلم سے خواہ وہ قلیل ہو یا کثیر پاک ہے۔ چناچہ فرمایا : (ان اللہ لایظلم مثقال ذرۃ) ” اللہ کسی کی ذرہ بھر بھی حق تلفی نہیں کرتا۔ “ یعنی اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی نیکیوں میں ذرہ بھر کمی کرے گا نہ اس کی برائیوں میں ذرہ بھر اضافہ کرے گا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے (فمن یعمل مثقال ذرۃ خیرا یرہ، ومن یعمل مثقال ذرۃ شرایرہ) (الزلزال :8-8-99) ” جس نے ذرہ بھر نیکی کی ہوگی وہ اسے دیکھ لے گا اور جس نے ذرہ بھر برائی کی ہوگی وہ بھی اسے دیکھ لے گا۔
(وان تک حسنۃ یضعفھا) ” اور اگر نیکی ہو تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–48
کسی شخص کا حالت جنابت میں مسجد کے اندر سے گزرجانا
قول باری ہے (یا ایھا الذین امنوالاتقربوالصلوۃ وانتم سکاری حتی تعلموا ماتقولون ولاجنبا الاعابری سبیل حتی تغتسلوا، اے ایمان والو، جب تم نشے کی حالت میں ہو تو نماز کے قریب نہ جاؤ جب تک غسل نہ کرلو الایہ کہ راستہ سے گزرتے ہو) ۔
ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ آیت میں سکر یعنی نشہ کے مفہوم ومراد میں اختلاف رائے ہے حضرت ابن عباس ، مجاہد، ابراہیم اور قتادہ کا قول ہے کہ شراب کی وجہ سے پیدا ہونے والانشہ مراد ہے مجاہد اور حسن کا قول ہے کہ تحریم خمر کے حکم نے اسے منسوخ کردیا ہے ضحاک کا قول ہے کہ اس سے خاص کر نیند کی وجہ سے پیدا ہونے والی مدہوشی مراد ہے۔
اگریہ…
Read the full tafseer →106 حرمت شراب کے حکم کے دوسرے مرحلے کا ذکر وبیان : سو اہل ایمان کو خطاب کر کے ارشاد فرمایا گیا کہ تم لوگ نماز کے قریب بھی نہ جایا کرو جبکہ تم نشے کی حالت میں ہوا کرو۔ یہاں تک کہ تم سمجھنے لگو کہ تم کیا کہہ رہے ہو۔ سو یہ اس وقت کا حکم ہے جبکہ شراب ابھی حرام نہیں ہوئی تھی۔ بعد میں حرمت شراب کے بعد یہ حکم بھی منسوخ ہوگیا۔ سنن ترمذی (رح) وغیرہ میں حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ حرمت شراب کے حکم سے پہلے ایک مرتبہ حضرت عبدالرحمان بن عوف ؓ نے ایک دعوت میں ہمیں مدعو کیا، اور پھر کھانے کے بعد شراب پلائی، جو ہم میں سے بعض کے سروں پر چڑھ گئی۔ اس دوران نماز کا وقت آگیا، تو امامت کیلئے ان سب نے مجھے آگے کیا،…
Read the full tafseer →حالت نشہ میں نماز اور تیمم کا حکم
تشریح : اس سورت میں بہت ضروری احکامات گزر چکے ہیں، مثلاً : حقوق العباد، ناجائز مال کی ممانعت، قتل کی برائی، تکبر، غرور اور ریاکاری کی ممانعت اور اب نماز کا حکم ہے جس کے لیے دو باتوں کا خیال رکھنا ضروری ہے ایک یہ کہ نشہ کی حالت میں نہ ہو تاکہ نماز کا مطلب سمجھ سکو۔ دوسرا یہ کہ نماز کے لیے طہارت، یعنی جسم کی پاکیزگی ضروری ہے۔ اس آیت میں شراب کے متعلق دوسری دفعہ حکم دیا گیا ہے۔ پہلی دفعہ سورة ٔ بقرہ کی آیت 219 میں گزر چکا ہے جس میں شراب کو صرف برا کہا گیا تھا۔ جس پر کچھ مسلمانوں نے اس کو چھوڑ دیا تھا مگر اکثر نے نہ چھوڑی بلکہ نشے کی حالت میں ہی نماز کے لیے کھڑے…
Read the full tafseer →رکوع نمبر 7 ۔ آیات 43 تا 50 ۔ والمحصنت۔ 5/4
اسرار و معارف
آیت نمبر 43 ۔ یا ایھا الذین امنوا لا تقربوا الصلوۃ وانتم سکاری۔ ۔۔۔ کان عفوا غفورا۔
نزول اسلام میں تدریج ہے ہے اور مسلس تئیس برسوں میں ایک مکمل ضابطہ حیات امت مرحومہ کو عطا فرمایا گیا ہے عرب میں شراب نوشی عام تھی سوائے چند سلیم الفطرت لوگوں کے ہر کوئی نشہ کرتا تھا اور یہ نشہ کرنا بھی اللہ اور رسول کی نافرمانی کا ایک بہت بڑا سبب تھا جس سے اللہ کریم امت کو محفوظ فرمانا چاہتا تھا کہ نشے میں نفع و نقصان کی پرواہ نہیں رہتی تو ابتداء یہ حکم دیا گیا کہ نشے کی حالت میں نماز ادا نہ کی جائے حتی کہ جب حواس درست ہوں اور جو لفظ منہ سے سے نکلے اور…
Read the full tafseer →ف 1 شراب کی مذمت اور قباحت کے سلسلے میں سب سے پہلے سورت بقرۃ کی آیت 219 نازل ہوئی جس میں شراب کو مضرت رساں قرار دیا ہے۔ اس پر بہت سے مسلمانوں نے شراب چھوڑدی۔ تاہم بعض لوگ بدستور پیتے رہے۔ اس اثنا میں ایک صحابی نشے کی حالت میں نماز کے لیے کھڑے ہوئے تو سورت کافرون میں لاعبد کی بجائے اعبد پڑھا جس آیت کے معنی کچھ کے کچھ ہوگئے اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور لوگوں نے نماز کے اوقات شراب تر کردی تآنکہ سورت مائدہ کی آیت 90 ۔ 91 نازل ہوئی جس سے شراب قطعی طور پر حرام کردی گئی (ابن کثیر) بعض علما نے یہاں وانتم سکا دی (جمع سکران سے نیند کا غلبہ مراد لیا ہے اور اس کے مناسب صحیح بخاری کی وہ حدیث ذکر کردی جس میں…
Read the full tafseer →(4:43) سکاری۔ سکران کی جمع سکر وسکر سکر (سمع) سکرا من الشراب۔ شراب سے مدحوش ہوجانا۔ وانتم سکاری۔ دراں حالیکہ تم شراب کے نشہ میں ہو۔
ولاجنبا۔ اور نہ حالت جنابت میں۔ درآں حال یہ کہ تم پر غسل واجب ہو۔
عابری سبیل۔ عابری۔ اسم فاعل جمع مذکر۔ گزرنے والے۔ عبور کرنے والے۔ راہ چلتے مسافر۔ عابری۔ اصل میں عابرین تھا بوجہ اضافت نون جمع ساقط ہوگیا۔
الغائط۔ نشیبی وسیع میدان۔ مراد قضائے حاجت کا مقام ۔ یا قضائے حاجت۔ عرب قضائے حاجت کے لئے نشیبی میدان میں جایا کرتے تھے کہ لوگوں کی نظرون سے پوشیدہ رہیں۔ اس لئے بطور کنایہ براز قضائے حاجت کا مقام ہے۔ عمرو بن معدی کرب کا شعر ہے :
وکم من غائط دون سلمی
اور سلمیٰ سے…
Read the full tafseer →آیت نمبر 43
لغات القرآن : لا تقربوا، تم قریب نہ جانا۔ سکاری، نشے کی حالت (سکر، نشہ) ۔ ما تقولون، تم کیا کہہ رہے ہو۔ جنبا، جب غسل کی حاجت ہو (ناپاک ہو) ۔ عابدی، گزرنے والا۔ حتی تغتسلوا، جب تک غسل نہ کرو۔ مرضی، مریض۔ الغائط، قضائے حاجت۔ لمستم، تم نے چھوا (صحبت کی ہو) ۔ لم تجدوا، تم نے نہیں پایا۔ ماء، پانی۔ یتمموا، تم تیمم کرلو۔ صعید، مٹی۔ طیب، پاک۔ امسحوا، مسح کرو۔ وجوہ، چہرے (وجہ، چہرہ) ۔ ایدیکم، اپنے ہاتھ۔
تشریح : اس آیت میں بہت سے مسئلے طے ہوجاتے ہیں۔ اگرچہ اس آیت میں نشہ مطلقاً حرام نہیں کیا گیا بلکہ اس کے متعلق حرام
ہونے پر ذہنوں کو تیار کیا گیا ہے یہ آیت اس وقت نازل ہوئی تھی جب مکمل طور…
Read the full tafseer →شراب کے حرام ہونے کا حکم ان آیتوں میں نشہ کی حالت میں نماز پڑھنے سے منع فرمایا گیا تو مسلمانوں نے نماز کے اوقات میں شراب ترک کردی لیکن اس کے بعد شراب بالکل حرام کردی گئی۔ ناپاکی کی حالت میں مسجد سے گزرنے کا بڑاگردد ہوتا تھا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما کر ناپاک آدمی کو مسجد سے گزرجانے کی اجازت فرمائی ۔ ناپاک آدمی کے حکم میں حیض ونفاس والی عورت بھی ہے ۔ اکثر علماء کا قول ہے کہ ناپاک آدمی کو مسجد میں ٹھہرنا جائز نہیں ہے اسی طرح قرات قرآن اور طواف بھی منع ہے ۔ تیمم کا طریقہ شان نزول : ایک سفر میں حضرت عائشہ ؓ آنحضرت ﷺ کے ساتھ تھیں، حضرت عائشہ رضی للہ عنہا کے گلے کا ہار گر پڑا ۔ اس کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–45
[34] حرمت شراب کے بارے میں یہ ابتدائی قدم تھا۔ اس سے پہلے سورة بقرہ کی آیت 219 میں شراب کے بارے میں صرف اظہار ناپسندیدگی کیا گیا تھا۔
[35] یعنی ناپاکی کی حالت میں۔ مرد کو احتلام ہوجانا، عورت کو حیض آنا، مرد و عورت دونوں کا مباشرت کرنا۔ یہ سب حالتیں جنابت کی ہیں۔
[36] تیمم کے معنی قصد کرنے کے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ جب پانی نہ ملے یا پانی ہو اور اس کا استعمال ممکن نہ ہو تو
پاک مٹی کا قصد کرو۔ تیمم کے طریقے میں فقہاء کے درمیان اختلاف ہے ایک گروہ کے نزدیک اس کا طریقہ یہ ہے کہ ایک دفعہ مٹی پر ہاتھ مار کر منہ پر پھیرلیا جائے، پھر دوسری دفعہ ہاتھ مار کر ہاتھوں سے کہنیوں تک پھیرلیا جائے۔ دوسرے گروہ کے…
Read the full tafseer →(ف 1) اس آیت میں بتایا ہے کہ نماز کے وقت سکرو مستی میں نہ رہو ۔
بات یہ تھی کہ تحریم خمر کی آیات کے نزول سے پہلے شراب عام طور پر استعمال کی جاتی تھی ، حضرت عبداللہ بن عوف ؓ نے صحابہ ؓ اجمعین کی دعوت کی اور اس میں شراب میں بھی انتظام کیا ، سب نے پی اور مست ہوگئے ، مغرب کی نماز میں امام جب قرآن پڑھنے لگا تو غلط ملط آیا پڑھ گیا جس پر یہ آیات نازل ہوئیں ۔
(آیت) ” حتی تعلموا ما تقولون “ ۔ کے ایک معنی تو یہ ہیں کہ الفاظ کی صحت کا خیال رہے اور دوسرے معنی یہ ہیں کہ نماز پڑھتے وقت نماز کی روح ومعنویت سے واقف رہنا نہایت ضروری ہے ۔ وہ شخص جو نماز کا سادہ سے سادہ ترجمہ بھی نہیں جانتا وہ کیونکر صحیح معنوں…
Read the full tafseer →ف 2 اے ایمان والو جب تم نشے کی حالت میں ہو تو اس وقت تک کہ جو کچھ تم زبان سے کہتے ہو اس کو سمھنے نہ لگو نماز کے قریب نہ جائو یعنی اس وقت تک کہ دماغ صحیح نہ ہوجائے اور جو منہ سے کہتے ہو اس کو سمجھنے نہ لگو نماز مت پڑھو اور اسی طرح جب تم جنابت کی حالت میں ہو تو بھی اس وقت تک نماز پڑھو جب تک تم غسل نہ کرلو مگر یہ کہ تم مسافر ہو تو مسافر کے غسل کا حکم آگے آتا ہے اور اگر تم کبھی بیمار ہو یا کبھی سفر میں ہو اور غسل کی یا وضو کی ضرورت پیش آجائے اور یا بغیر مرض اور سفر کے تم میں سے کوئی شخص جائے ضرورت سے فارغ ہو کر آئے اور تم کو وضو کی ضرورت پیش آجائے یا تم نے عورتوں سے قربت کی ہو اور ان سے ملے ہو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–45
ف 1۔ یعنی جن لوگوں نے خدائی احکام دنیا میں نہ مانے ہوں گے ان کے مقدمہ کی پیشی کے وقت بطور سرکاری گواہ کے انبیاء علہیم السلام کے اظہارات سنے جائیں گے جو جو معاملات انبیاء انبیاء کی موجودگی میں پیش آئے تھے سب ظاہر کردیں گے اس شہادت کے بعد ان مخالفین پر جرم ثابت ہو کر سزادی جائے گی۔
Read the full tafseer →حالت سکر میں نماز ادا کرنے کی ممانعت :
91: گزشتہ آیات کریمات میں معاشرتی زندگی کے جو حقوق و فرائض بیان کیے گئے ہیں اگر تم چاہتے ہو کہ ان کی اخلاقی ذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہو تو چاہئے کہ خدا کے شکر و عبادت سے اپنی ایمانی قوت مضبوط کرتے رہو مطلب واضح ہے کہ جو جماعت نماز کی حقیقت سے محروم ہوگی یینا عبادت کے خشوع و خضوع کا اس میں ذوق نہ ہوگا وہ کبھی عملی زندگی کی اخلاقی مشکلوں پر قابو نہیں پا سکتی۔ اسلام کے ظہور سے پہلے عرب کے باشندے صدیوں سے شراب نوشی کے عادی چلے آ رہے تھے۔ اس لیے ان کا ایک دفعہ باز آجانا نہایت مشکل تھا اس لیے بتدریج ممانعت کے احکام نازل ہوتے رہے اور بالآخر قطعی طور پر اس کا…
Read the full tafseer →The Background of this Revelation
This is about an incident relating to Sayyidna Ali رضی اللہ تعالیٰ عنہ which has been mentioned in Tirmidhi. It was before liquor was forbidden that Sayyidna ` Abdul-Rahman ibn ` Awf ؓ had invited some Companions for dinner at this home. As customary, liquor was served before dinner. When everybody had finished eating, time came for the Maghrib salah. Sayyidna ` Ali ؓ was asked to lead the prayer. He made a grave error while reciting the well-known Surah al-Kafirun in the salah under the effect of intoxication. Thereupon, this verse was revealed in which…
Read the full tafseer →65. This is the second in the chronological sequence of injunctions concerning intoxicants. We came across the first injunction in Surah al-Baqarah 2: 219. In that verse God merely indicated that drinking wine was a great sin, making it clear that it was reprehensible in His sight. This was quite enough to make some Muslims give up liquor altogether, though many others still took intoxicating drinks: they sometimes stood up to pray while still under the influence of alcohol, so that they even made mistakes in their recitations. This second injunction was probably revealed at the beginning of…
Read the full tafseer →