An-Nisaa 4:41

An-Nisaa · from ayah 41

4:41

فَكَیْفَ اِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ اُمَّةٍ بِشَهِیْدٍ وَّجِئْنَا بِكَ عَلٰی هٰۤؤُلَآءِ شَهِیْدًا ۟ؕؔفَكَيۡـفَ اِذَا جِئۡـنَا مِنۡ كُلِّ اُمَّةٍ ۭ بِشَهِيۡدٍ وَّجِئۡـنَا بِكَ عَلٰى هٰٓؤُلَاۤءِ شَهِيۡدًا

بھلا اس دن کا کیا حال ہوگا جب ہم ہر امت میں سے احوال بتائے والے کو بلائیں گے اور تم کو ان لوگوں کا حال (بتانے کو) گواہ طلب کریں گے

— Fateh Muhammad Jalandhari

So how [will it be] when We bring from every nation a witness and we bring you, [O Muhammad] against these [people] as a witness?

— Saheeh International

Juz 5 · Ruku 6 of surah · Ruku 3 of juz

Read the whole surah · Surah An-Nisaa

All translations of 4:41

پھر سوچو کہ اُس وقت یہ کیا کریں گے جب ہم ہر امت میں سے ایک گواہ لائیں گے اور اِن لوگوں پر تمہیں (یعنی محمد ﷺ کو) گواہ کی حیثیت سے کھڑا کریں گے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

بھلا اس دن کا کیا حال ہوگا جب ہم ہر امت میں سے احوال بتائے والے کو بلائیں گے اور تم کو ان لوگوں کا حال (بتانے کو) گواہ طلب کریں گے

— مولانا فتح محمد جالندہری

پس کیا حال ہوگا جس وقت کہ ہر امت میں سے ایک گواه ہم ﻻئیں گے اور آپ کو ان لوگوں پر گواه بناکر ﻻئیں گے

— مولانا محمد جوناگڑہی

پھر (یہ لوگ سوچ رکھیں کہ) اس وقت (ان کا) کیا حال ہوگا جب ہم ہر امت میں سے ایک گواہ لے کر آئیں گے اور (اے پیغمبر) ہم تم کو ان لوگوں کے خلاف گواہ کے طور پر پیش کریں گے ؟

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تو کیسی ہوگی جب ہم ہر امت سے ایک گواہ لائیں اور اے محبوب! تمہیں ان سب پر گواہ اور نگہبان بناکر لائیں

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

پھر اس دن کیا حال ہوگا جب ہم ہر امت سے ایک گواہ لائیں گے اور (اے حبیب!) ہم آپ کو ان سب پر گواہ لائیں گے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

پھر کیا حال ہوگا جب ہم ہر امت سے ایک گواہ لائیں گے اور تجھے ان لوگوں پر گواہ لائیں گے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

(ذرا سوچو) اس وقت ان لوگوں کا کیا حال ہوگا جب ہم ہر امت سے ایک گواہ لائیں گے، پھر ان گواہوں پر (اے نبی آپ کو گواہ بنادیں گے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اس دن ان کا کیا حال ہوگا جب ہم ہر امت میں سے ایک گواہ کھڑا کریں گے اور تم کو ان لوگوں پر گواہ بنا کر کھڑا کریں گے !

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

پھر کیا حال ہوگا (ان کا اس وقت) جب کہ ہم لائیں گے ہر امت سے ایک گواہ، اور آپ کو (اے پیغمبر ﷺ !) ہم ان سب پر گواہ بناکر لائیں گے

— مولانا اسحاق مدنی

سو اس وقت کیا حال ہوگا جب ہم ہر امت سے ایک ایک گواہ حاضر کریں گے۔ اور ان لوگوں پر آپ کو بہ طور گواہ پیش کریں گے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

تو اس دن کیا صورت حال ہوگی جب ہم ہر امت میں سے ایک گواہ کھڑا کریں گے اور (اے نبی) آپ کو لائیں گے ہم ان پر گواہ بناکر

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

پھر سوچو کہ اس وقت کیا ہوگا جب ہم ہر امت میں سے ایک گواہ لائیں گے اور ان لوگوں پر آپ ﷺ کو گواہ کی حیثیت سے کھڑا کریں گے

— محترمہ رفعت اعجاز

Consider, then, when We shall bring forward witnesses from every community, and will bring you (O Muhammad!) as a witness against them all.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Then, how (awful a spectacle) would it be when We shall bring a witness from every community, and shall bring you over them as a witness.

— Muhammad Taqi Usmani

Then, how (awful a spectacle) would it be when We shall bring a witness from every community, and shall bring you over them as a witness.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

How (will it be) then, when We bring from each nation a witness and We bring you (O Muhammad) as a witness against these people

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

But how (will it be with them) when We bring of every people a witness, and We bring thee (O Muhammad) a witness against these?

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

So how [will it be] when We bring from every nation a witness and we bring you, [O Muhammad] against these [people] as a witness?

— Saheeh International

How will it be when We call for a witness from every nation and have you, (Muhammad), testify against them all?

— Muhammad Sarwar

How will it be, then, when We bring from every people a witness and bring you as a witness against these?

— Muhammad Habib Shakir

How will it be then, when We shall bring, out of each community, a witness, and We shall bring thee against these as a witness?

— Abdul Majid Daryabadi

How then if We brought from each people a witness, and We brought thee as a witness against these people!

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 4:41

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 40–42

بےمثال خریدار ؟ باری تعالیٰ رب العالمین فرماتا ہے کہ میں کسی پر ظلم نہیں کرتا، کسی کی نیکی کو ضائع نہیں کرتا، بلکہ بڑھا چڑھا کر قیامت کے روز اس کا اجر وثواب عطا فرماؤں گا جیسے اور آیت میں ہے (وَنَضَعُ الْمَوَازِيْنَ الْقِسْطَ لِيَوْمِ الْقِيٰمَةِ فَلَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَـيْــــــًٔا) 21۔ الانبیآء :47) ہم عدل کی ترازو رکھیں گے۔ اور فرمایا کہ حضرت لقمان نے اپنے صاحبزادے سے فرمایا تھا (يٰبُنَيَّ اِنَّهَآ اِنْ تَكُ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ فَتَكُنْ فِيْ صَخْـرَةٍ اَوْ فِي السَّمٰوٰتِ اَوْ فِي الْاَرْضِ يَاْتِ بِهَا اللّٰهُ ۭ اِنَّ اللّٰهَ لَطِيْفٌ خَبِيْرٌ) 31۔ لقمان :16) اے بیٹے اگر کوئی…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 41–42

سورة النِّسَآء 64 یعنی ہر دور کا پیغمبر اپنے دور کے لوگوں پر اللہ کی عدالت میں گواہی دے گا کہ زندگی کا وہ سیدھا راستہ اور فکر و عمل کا وہ صحیح طریق، جس کی تعلیم آپ نے مجھے دی تھی، اسے میں نے ان لوگوں تک پہنچا دیا تھا۔ پھر یہی شہادت محمد ﷺ اپنے دور کے لوگوں پر دیں گے، اور قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ ﷺ کا دور آپ ﷺ کی بعثت کے وقت سے قیامت تک ہے۔ (آل عمران، 69)

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

فکیف اذا جئنا من کل امة سے میدان آخرت کے استحضار کی طرف توجہ دلائی گئی ہے اور کفار قریش کی توبیخ بھی مقصود ہے۔ ان لوگوں کا کیا حال ہوگا جب میدان حشر میں ہر ہر امت کا نبی اپنی امت کے نیک و بد اعمال پر بطور گواہ پیش ہوگا اور آپ بھی اپنی امت پر گواہ بن کر حاضر ہوں گے اور بطور خاص ان کفار و مشرکین کے متعلق خدائی عدالت میں گواہی دیں گے کہ انہوں نے کھلے کھلے معجزات دیکھ کر بھی تکذیب کی اور آپ کی وحدانیت اور میری رسالت پر ایمان نہ لائے۔ بخاری شریف میں روایت ہے حضو راقدس ﷺ نے عبداللہ بن مسعود سے فرمایا کہ مجھے قرآن سناؤ، حضرت عبداللہ نے عرض کیا آپ مجھ سے سننا چاہتے ہیں ؟ حالانکہ قرآن آپ ہی پر نازل…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 41–42

تفسیر آیت 41 تا 42:۔ فَكَيْفَ اِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ اُمَّةٍۢ بِشَهِيْدٍ وَّجِئْنَا بِكَ عَلٰي هٰٓؤُلَاۗءِ شَهِيْدًا۔ يَوْمَىِٕذٍ يَّوَدُّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَعَصَوُا الرَّسُوْلَ لَوْ تُـسَوّٰى بِهِمُ الْاَرْضُ ۭ وَلَا يَكْتُمُوْنَ اللّٰهَ حَدِيْثًا قیامت میں انبیاء کی شہادت اپنی امتوں پر : مطلب یہ ہے کہ جہاں تک اتمام حجت کا تعلق ہے اللہ نے اپنے رسول کے ذریعے سے ان کو اپنے دین سے آگاہ کردیا اور ان پر حجّت تمام کردی۔ اب دین و شریعت سے آگاہ کرنے کے معاملے میں کوئی کسر نہیں رہ گئی ہے۔ اس اتمام حجت کے بعد بھی اگر یہ لوگ اللہ اور رسول سے منحرف ہی رہے تو آج تو یہ اپنے کفر و نفاق کو چھپا سکتے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 41–42

41۔ 1 ہر امت میں سے اس کا پیغمبر اللہ کی بارگاہ میں گواہی دے گا کہ یا اللہ ! ہم نے تو تیرا پیغام اپنی قوم کو پہنچا دیا تھا، اب انہوں نے نہیں مانا تو ہمارا کیا قصور ؟ پھر ان سب پر نبی کریم ﷺ گواہی دیں گے کہ یا اللہ سچے ہیں۔ آپ ﷺ یہ گواہی اس قرآن کی وجہ سے دیں گے جو آپ ﷺ پر نازل ہوا اور جس میں گزشتہ انبیاء اور ان کی قوموں کی سرگزشت بھی حسب ضرورت بیان کی گئی ہے۔ یہ ایک سخت مقام ہوگا، اس کا تصور ہی لرزہ براندام کردینے والا ہے، حدیث میں آتا ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ سے قرآن سننے کی خواہش ظاہر فرمائی وہ سناتے ہوئے جب اس آیت پر پہنچے تو آپ ﷺ نے فرمایا بس اب کافی ہے، حضرت…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 41–42

31: تمام انبیاء کرام قیامت کے روز اپنی اپنی امتوں کے اچھے برے اعمال پر گواہی دیں گے اور آنحضرت ﷺ کو اپنی امت کے لوگوں پر گواہ بناکر پیش کیا جائے گا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

(آیت) ” فکیف اذا جئنا من کل امۃ بشھید وجئنا بک علی ھولاء شھیدا (41) یومئذ یود الذین کفروا وعصوا الرسول لو تسوی بھم الارض ولا یکتمون اللہ حدیثا “۔ (42) (4 : 41۔ 42) ” پھر سوچو کہ اس وقت یہ لوگ کیا کریں گے جب ہم ہر امت میں سے ایک گواہ لائیں گے اور ان لوگوں پر تمہیں (یعنی آپ کو اے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) گواہ کی حیثیت سے کھڑا کریں گے ۔ اس وقت وہ سب لوگ جنہوں نے رسول کی بات نہ مانی اور اس کی نافرمانی کرتے رہے ‘ تمنا کریں گے کہ کاش زمین پھٹ جائے اور وہ اس میں سما جائیں ۔ وہاں یہ اپنی کوئی بات اللہ سے نہ چھپا سکیں گے ۔ پہلی آیت میں بطور تمہید کہا گیا تھا کہ اللہ تعالیٰ کسی پر ذرہ برابر بھی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

1 یعنی ان کافروں کا کیا براحال ہوگا جس وقت کہ بلائیں گے ہم ہر امت اور ہر قوم میں سے گواہ ان کے حالات بیان کرنے والا۔ اور ان کے واقعی معاملات ظاہر کرنے والا اس سے مراد ہر امت کا نبی اور ہر عہد کے صالح اور معتبر لوگ ہیں کہ وہ قیامت کو نافرمانوں کی نافرمانی اور فرمانبرداروں کی فرمانبرداری بیان کریں گے اور سب کے حالات کی گواہی دیں گے اور تم کو اے محمد ﷺ ! ان پر یعنی تمہاری امت پر مثل دیگر انبیاء (علیہم السلام) کے احوال بتانے والا اور گواہ بنا کر لاویں گے اور یہ بھی احتمال ہے کہ ھٰـــؤلاء کا اشارہ انبیائے سابقین یا کفار مذکورہ بالا کی طرف ہو۔ اول صورت میں انبیاء مراد ہوں تو مطلب یہ ہے کہ رسول اللہ…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 41 فَکَیْفَ اِذَا جِءْنَا مِنْ کُلِّ اُمَّۃٍم بِشَہِیْدٍ یعنی اس نبی اور رسول کو گواہ بنا کر کھڑا کریں گے جس نے اس امت کو دعوت پہنچائی ہوگی۔ وَّجِءْنَا بِکَ عَلٰی ہٰٓؤُلَآءِ شَہِیْدًا۔ ۔ یعنی آپ ﷺ ‘ کو کھڑے ہو کر کہنا ہوگا کہ اے اللہ ! میں نے ان تک تیرا پیغام پہنچا دیا تھا۔ ہماری عدالتی اصطلاح میں اسے استغاثہ کا گواہ prosecution witness کہا جاتا ہے۔ گویا عدالت خداوندی میں نبی مکرم ﷺ استغاثہ کے گواہ کی حیثیت سے پیش ہو کر کہیں گے کہ اے اللہ ‘ تیرا پیغام جو مجھ تک پہنچا تھا میں نے انہیں پہنچادیا تھا ‘ اب یہ خود ذمہ دار اور جواب دہ ہیں۔ چناچہ اپنی ہی قوم کے خلاف گواہی آگئی نا ؟ یہاں الفاظ نوٹ…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

7 سابقہ امتوں پر آپ کی گواہی :۔ اس آیت میں میدان حشر کی کیفیت اور اللہ تعالیٰ کی عدالت کا ذکر ہو رہا ہے۔ اس وقت ہر امت میں سے ایک گواہ لایا جائے گا جو اس امت کا نبی ہوگا اور وہ یہ گواہی دے گا کہ یا اللہ ! میں نے تیرا پیغام اور تیرے احکام امت کو من و عن پہنچا دیئے تھے اور فلاں فلاں لوگوں نے تو انہیں تسلیم کرلیا تھا اور فلاں فلاں نے نافرمانی اور کفر کیا تھا لیکن اس امت کے نافرمان لوگ صاف مکر جائیں گے اور کہہ دیں گے کہ ہمارے پاس تو کوئی ڈرانے والا آیا ہی نہ تھا۔ بالفاظ دیگر یہ نافرمان لوگ اللہ تعالیٰ کے دربار میں بھی جھوٹ بولنے سے باز نہیں آئیں گے اور اپنے نبی کی شہادت کو جھٹلا کر اسے مشکوک بنا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

136 ۔ (قیامت کے دن، اس امت سے متعلق اظہار دینے) یہ گواہ ہر امت کے مقابل اس امت کے رسول ہوں گے۔ جو اس کی شہادت دیں گے کہ وہ احکام کی پوری پوری تبلیغ کر آئے تھے۔ 137 ۔ (اے پیغمبر ! ) (آیت) ” ھولآء “۔ (ان لوگوں) کا اشارہ کس جانب ہے ؟ بہ ظاہر وہ لوگ مراد معلوم ہوتے ہیں۔ جو قرآن کے بر اہ راست یا بالواسطہ مخاطب تھے، اور جن سے رسول اللہ ﷺ کا سابقہ تھا۔ ای علی امتک (ابن جریر) یعنی قومہ المخاطبین بالقران (کبیر) دوسری تفسیر یہ ہے کہ اشارہ ان گواہوں کی جانب ہے، یعنی ان گواہوں کے صدق بیان پر گواہ ہوکر، نشھد علی صدق ھولآء الشھداء لعلمک بعقائدھم (بیضاوی) بہرصورت جب رسول اللہ ﷺ اس آیت پر پہنچے تھے تو اپنی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 41–42

فکَیْفَ اذا جِئْنا مِنْ کُلِّ اُمّةٍ بشھیدٍ وجِئْنَا بکَ علیٰ ھٰؤ لا ئِ شَھِیْدًا، ہر امت میں سے اس کا پیغمبر اللہ کی بارگاہ میں گواہی دیگا کہ یا اللہ ہم نے تیرا پیغام اپنی قوم کو پہنچا دیا تھا اب انہوں نے نہیں مانا تو ہمارا کیا قصور ؟ پھر ان سب پر نبی کریم ﷺ گواہی دیں گے یا اللہ یہ سچے ہیں اور آپ یہ گواہی قرآن کی بنیاد پر دیں گے جس میں گذشتہ تمام امتوں اور ان کے نبیوں کے حالات بیان فرمائے ہیں جن میں اس بات کی شہادت دی گئی ہے کہ تمام نبیوں نے خدائی پیغام اپنی اپنی امتوں کو کما حقہ پہنچا دیا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

فکیف پس ان کافروں کی کیا حالت ہوگی یعنی جب یہ معلوم ہوگیا کہ اللہ کسی پر ظلم نہیں کرے گا اور ہر مظلوم کا ظالم سے حق دلوائے گا تو اس ہولناک وقت میں ان کافروں کا کیا حال ہوگا۔ جنہوں نے نہ اللہ کے حقوق ادا کئے نہ بندوں کے۔ اذا جئنا من کل امۃ بشہید جب ہر امت میں سے ایک گواہ کو ہم حاضر کریں گے یعنی ہر امت کے پیغمبر کو حاضر کریں گے جو امت کے اچھے برے اعمال اور تصدیق و تکذیب کی شہادت دے گا۔ وجئنابک علی ہولآء شہیدا اور اس تمام امت پر آپ کو شہادت دینے کے لئے حاضر کریں گے ہولآئ سے مراد ہے امت اسلامیہ رسول اللہ ﷺ : تمام امت اسلامیہ پر شہادت دیں گے جس نے حضور ﷺ کو دیکھا ہوگا اور جس نے نہ دیکھا ہوگا سب کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(41) کفار اس وقت کیا کریں گے جب کہ ہر قوم پر ان کا نبی احکام خداوندی پہنچانے کی گواہی دے گا اور یہ معنی بھی بیان کیے گئے ہیں اور رسول اللہ ﷺ اپنی امت کی گواہی دیں گے اور تصدیق کریں گے کیوں کہ دیگر انبیاء کرام کی قومیں جب ان کو جھٹلایں گی تو حضور ﷺ کی امت حضور ﷺ کی نبوت کی تصدیق کرنے کے ساتھ ساتھ ان انبیاء کی نبوت کی بھی تصدیق کرے گی۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

اوپر کی آیتوں میں قیامت کے ظلم کی نفی اور کئی گنا اجر کا وعدہ فرمایا، اب یہاں بیان فرمایا جا رہا ہے کہ اچھا یا برا بدلہ پیغمبروں یا ان لوگوں کی گواہی سے ملے گا جن کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے اپنا پیغام اپنی مخلوق تک پہنچایا ہے، تفصیل کے لیے دیکھیے سورة بقرہ (143) اور رسول اللہ ﷺ اپنی امت پر اور پہلی امتوں پر دین پہنچانے کی گواہی دیں گے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر : 41۔ فاء کو التقاء ساکنین کی وجہ سے فتحہ دیا گیا ہے اور (اذا) ظرف زمان ہے اور اس میں عامل (آیت) ” جئنا “ ہے۔ ابو اللیث سمرقندی نے ذکر کیا ہے کہ ہمیں خلیل بن احمد نے بتایا فرمایا : ہمیں ابن منیع نے بتایا فرمایا : ہمیں ابو کامل نے بتایا فرمایا : ہمیں فضیل نے بتایا، انہوں نے یونس بن محمد بن فضالہ سے روایت کیا، انہوں نے اپنے باپ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ ان کے پاس بنی ظفر میں تشریف لائے، آپ اس چٹان پر بیٹھ گئے جو بنی ظفر میں تھی اور آپ کے ساتھ حضرت ابن مسعود ؓ حضرت معاذ ؓ اور دوسرے چند صحابہ تھے آپ نے ایک قاری کو قرآن پڑھنے کا حکم دیا حتی کہ جب وہ اس آیت پر پہنچا (آیت) ” فکیف اذا جئنا…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

(1) ابن ابی شیبہ واحمد وعبد بن حمید والبخاری والترمذی و نسائی وابن المنذر وابن ابی حاتم والبیہقی نے دلائل میں ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ مجھ کو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مجھے قرآن پڑھ کر سناؤ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! میں آپ پر پڑھوں حالانکہ آپ پر نازل ہوا آپ نے فرمایا ہاں میں پسند کرتا ہوں کہ میں اپنے علاوہ کسی اور سے سنوں میں نے سورة نساء پڑھی یہاں تک کہ میں اس آیت پر پہنچا لفظ آیت ” فکیف اذا جئنا من کل امۃ بشھید وجئنا بک علی ھؤلاء شھیدا “ آپ نے فرمایا اب کافی ہے اور آپ کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔ (2) حاکم نے (اس کو صحیح کہا) عمرو بن حریث ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ابن مسعود ؓ کو…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ فَکَیْفَ : تو کیسا ہوگا (ان کا حال) ] [ اِذَا : جب ] [ جِئْنَا : ہم لائیں گے ] [ مِنْ کُلِّ اُمَّۃٍ : ہر امت سے ] [ بِشَہِیْدٍ : ایک گواہ کو ] [ وَّجِئْنَا : اور ہم لائیں گے ] [ بِکَ : آپ ﷺ کو ] [ عَلٰی ہٰٓــؤُلَآئِ : ان لوگوں پر ] [ شَہِیْدًا : بطور گواہ ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

قیامت کے دن ہر امت کے ساتھ ایک گواہ ہوگا اس آیت میں میدان آخرت کا ایک منظر بتایا ہے کہ قیامت کے دن حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) اپنی اپنی امتوں کے ساتھ آئیں گے اور ہر نبی اپنی اپنی امت کے بارے میں گواہی دے گا کہ یہ لوگ عقائد و اعمال کے لحاظ سے ایسے ایسے تھے ان لوگوں کی گواہیوں پر حضرت خاتم الانبیاء سرور عالم ﷺ گواہی دیں گے کہ یہ حضرات سچ فرما رہے ہیں اور ان کی گواہی صحیح ہے۔ سورة بقرہ میں (لِّتَکُوْنُوْا شُھَدَآءَ عَلَی النَّاسِ وَ یَکُوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَیْکُمْ شَھِیْدًا) کی تفسیر میں گزر چکا ہے کہ حضرات انبیاء (علیہ السلام) کی امتیں جب منکر ہوجائیں گی کہ کسی نے ہم کو تبلیغ نہیں کی تو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 34–42

حکم شانزدہم بابت معاشرہ زوجین۔ قال تعالی، الرجال قوامون۔۔۔ الی۔۔۔ خبیرا۔ ربط) گزشتہ آیات میں میراث کے باب میں عورتوں پر مردوں کی فضیلت بیان کی اب ان آیات میں مطلقا مردوں کی فضیلت بیان فرماتے ہیں کہ مردوں کو عورتوں پر ہر طرح کی فضیلت حاصل ہے ذاتی اور عرضی دونوں قسم کی فضیلتیں مردوں کو خدا تعالیٰ نے عطا کی ہیں اور مردوں کو عورتوں پر حاکم بنایا ہے اور ان کو اجازت دی ہے کہ بغرض تادیب واصلاح عورتوں کو تنبہ کریں اور اگر ضرورت پیش آئے تو مارنے کی بھی اجازت ہے تاکہ عورتوں کا شبہ بھی دور ہوجائے کہ مردوں کو دھری میراث کیوں ملتی ہے چناچہ فرماتے کہ مردعورتوں پر دو وجہ سے حاکم اور قائم ہیں مردوں کی وجہ سے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

31 یہ ما قبل کی تخویف کا تکملہ ہے یعنی جب قیامت کے دن گذشتہ امتوں کے منکرین کے خلاف ان کے انبیاء (علیہم السلام) گواہی دے رہے ہوں گے اور اے محمد ﷺ آپ اپنے زمانہ کے ان مشرکین و کفار کے خلاف گواہی دیں گے اس وقت ان کا کیا حال ہوگا۔ اس وقت ان کی حالت ناگفتہ بہ ہوگی اور شدت ہول اور خوف عذاب کی وجہ سے وہ خواہش کریں گے کہ زمین میں سما جائیں جیسا کہ اگلی آیت میں مذکور ہے کیف یکون حالھم اذا جئنا یوم القیمۃ من کل امۃ من الامم وطائفۃ من الطوائف بشھید یشھد علیھم بما کانوا علیہ من فساد العقائد و قبائح الاعمال و نبیھم (روح ج 5 ص 34) ۔ اس آیت میں آنحضرت ﷺ کیلئے لفظ شہید استعمال ہوا ہے جس سے اہل بدعت آپ کے ہر…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 39–42

ربط آیات گزشتہ دروس میں یہ بنیادی عقیدہ بیان ہوچکا ہے کہ عبادت صرف اللہ ہی کی کرو۔ اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ ۔ اسی بنیاد پر پھر حقوق العباد کا ذکر کیا کہ والدین کے ساتھ احسان کرو۔ اور یتیموں ، مسکینوں ، پڑوسیوں ، ہم نشینوں ، مسافروں اور غلاموں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آؤ ۔ اسی ضمن میں پھر بخل کی مذمت کی گئی کیونکہ بخیل آدمی اپنے بخل کی وجہ سے دوسروں کے حقوق ادا نہیں کرتا ، بلکہ اپنا مال ریاکاری پر خرچ کرنے کے لیے تیار ہوجاتا ہے۔ ایسا شخص دراصل شیطانی پھندے کا شکار ہوتا ہے جو کہ اسے بنیادی عقیدئہ توحید سے برگشتہ کردیتا ہے جس کی وجہ سے نہ تو اس کا ایمان اللہ کے ساتھ درست ہوتا ہے اور…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

فَكَيْفَ اِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ اُمَّۃٍؚبِشَہِيْدٍ وَّجِئْنَا بِكَ عَلٰي ہٰٓؤُلَاۗءِ شَہِيْدًا۝ 41ۭ۬ كيف كَيْفَ : لفظ يسأل به عمّا يصحّ أن يقال فيه : شبيه وغیر شبيه، كالأبيض والأسود، والصحیح والسّقيم، ولهذا لا يصحّ أن يقال في اللہ عزّ وجلّ : كيف، وقد يعبّر بِكَيْفَ عن المسئول عنه كالأسود والأبيض، فإنّا نسمّيه كيف، وكلّ ما أخبر اللہ تعالیٰ بلفظة كَيْفَ عن نفسه فهو استخبار علی طریق التنبيه للمخاطب، أو توبیخا نحو : كَيْفَ تَكْفُرُونَ بِاللَّهِ [ البقرة/ 28] ، كَيْفَ يَهْدِي اللَّهُ [ آل عمران/ 86] ، كَيْفَ يَكُونُ لِلْمُشْرِكِينَ عَهْدٌ [ التوبة/ 7] ، انْظُرْ كَيْفَ ضَرَبُوا لَكَ الْأَمْثالَ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 39–42

ترکیب : ماذا مبتداء علیہم خبر اور صرف ما مبتدا اور ذاموصول علیہم صلہ مجموعہ بھی خبر ہوسکتی ہے۔ لوامنوا الخ شرط لم یضرھم خبر محذوف اس سے ترغیب مقصود ہے لو مصدر یہ بھی ہوسکتا ہے۔ مثقال صفۃ ہے مصدر محذوف کی ای لا یظلم ظلما قدر مثقال ذرۃ ای وزن ذرۃ مصدر اور اس کی صفت کو حذف کرکے مضاف الیہ کو اس کی جگہ قائم کردیا۔ وان تَکُ اصل میں تکن تھا نون صرف کثرت استعمال کی وجہ سے حذف کردیا گیا ہے کیونکہ نون غنہ سکون کی وجہ سے مشابہ ہے اگر حرکت دی جائے گی نون حذف نہ ہوگا جیسا کہ لم یکن الذین وغیرہ میں۔ یومئذ ظرف یودالذین کفروا وعصوا الرسول اس کا فاعل لوتسوی بہم الخ اس کا مفعول لو بمعنی ان۔ تسوی فعل مجہول…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 41–42

فَکَیْفَ اِذَا جِئْنَا مِنْ کُلِّ اُمَّۃٍ م بِشَھِیْدٍ وَّجِئْنَا بِکَ عَلٰی ھٰٓـؤُلَآ ئِ شَھِیْدًا ط یَوْمَئِذٍ یَّوَدُّالَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَعَصَوُا الرَّسُوْلَ لَوْتُسَوّٰی بِہِمُ الْاَرْضُ ط وَلاَ یَکْتُمُوْنَ اللّٰہَ حَدِیْثًا ع (اس دن ان کا کیا حال ہوگا ؟ جب ہم ہر امت میں سے ایک گواہ کھڑا کریں گے اور تم کو ان لوگوں پر گواہ بناکرکھڑاکریں گے اس دن وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا اور جنھوں نے رسول کی نافرمانی کی، تمنا کریں گے کہ کاش ! ان پر زمین برابر کردی جائے اور اس دن وہ اللہ سے کوئی بات بھی چھپا نہ سکیں گے) (النسآء : 41 تا 42) سابقہ آیات میں جہاں تک حقوق وفرائض، بنیادی اعتقادات اور اخلاقی…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 41–42

فہم القرآن ربط کلام : آخرت کے دن ظالم اپنا انجام دیکھ کر اپنے اعمال کا انکار کرتے ہوئے یہاں تک کہیں گے کہ دنیا میں ہمیں کسی نبی اور مبلغ نے کچھ سمجھایا ہی نہیں تھا۔ اے رب ! ورنہ ہم تیری نافرمانی نہ کرتے۔ اس دن خدا کے باغی یہ آرزو کریں گے کاش ! ہم زمین میں دھنس جائیں اور ہم پر زمین برابر کردی جائے۔ خواہش کے باوجود نہ چھپ سکیں گے اور نہ ہی وہ کوئی بات چھپا سکیں گے۔ محشر کا دن پچاس ہزار سال کے برابر ہوگا۔ اس میں کئی مراحل ہوں گے ہر مرحلہ دنیا کے سینکڑوں سالوں کے برابر ہوگا۔ ان مراحل میں ایک مرحلہ ایسا بھی آئے گا کہ جب مجرم قسمیں اٹھا اٹھا کر اس بات کا انکار کریں گے کہ الٰہی ہم نے تیری ذات کا نہ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 41 : فَکَیْفَ (ان کفار کا کیا حال ہوگا) خواہ وہ یہود ہوں یا دیگر۔ اِذَا جِئْنَا مِنْ کُلِّ اُمَّۃٍم بِشَہِیْدٍ (جبکہ ہر امت سے ہم ایک ایک گواہ حاضر کریں گے) جو ان پر ان کی کارکردگی کی گواہی دے گا اور وہ ان کا پیغمبر ہوگا۔ قیامت کی گواہی : وَجِئْنَابِکَ عَلٰی ہٰٓؤُلَآئِ شَہِیْدًا (اور آپ کو اے محمد ﷺ ان پر بطور گواہ لایا جائے گا) ہٰؤلآء کا مشارٌالیہ امت محمدیہ علی صاحبہا الصلوات والتسلیمات ہے۔ شَہِیْدًا یہ حال ہے۔ یعنی شاہد کے طور پر لایا جائے گا۔ کہ آپ ایمان لانے والے اور کفر اختیار کرنے والے اور منافقت اختیار کرنے والوں پر گواہ ہونگے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے مروی ہے۔ کہ میں نے رسول…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

(تفسیر) 41۔: (آیت)” فکیف اذا جئنا من کل امۃ بشھید “۔ ان کی کیا حالت ہوگی اور اس وقت کیسے ہوگا جب ہر امت میں سے ایک گواہ حاضر کریں گے یعنی ہر پیغمبر کو حاضر کریں گے تاکہ وہ اپنی امت کے متعلق شہادت دے (آیت)” وجئنابک “۔ سے مراد محمد ﷺ ہیں (آیت)” علی ھولاء شھیدا “۔ بمعنی شاہد کے ہے، آپ ﷺ اپنی تمام امت پر گواہی دیں گے جن کو آپ ﷺ نے دیکھا ہوگا اور جن کو نہیں دیکھا ہوگا ، حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا مجھے پڑھ کر سناؤ ۔ میں نے کہا اے اللہ کے رسول ! ﷺ کیا میں آپ کو پڑھ کر سناؤں حالانکہ آپ پر نازل ہوا ۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا جی ہاں ، میں نے سورة نساء…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 41–42

(41 ۔ 42) ۔ جس طرح اوپر کی آیت میں اللہ تعالیٰ نے قیامت کے دن کی ایک حالت کو بیان فرمایا ہے اسی طرح اس آیت میں ایک دوسری حالت قیامت کے دن کی بیان فرمائی ہے۔ تاکہ سمجھانے بجھانے سے ایک ذراہ برابر جن کو ایمان نصیب ہوا ہے جس طرح ان کی نجات کی حالت معلوم ہوئی ہے۔ اسی طرح جو لوگ باوجود سمجھانے کے حضرت نوح ( علیہ السلام) سے لے کر اب تک صاحب شریعت انبیاء کو جھٹلاتے رہے ہیں ان کی حالت بھی معلوم ہوجائے۔ بخاری، ابن ماجہ، نسائی، مسند امام احمد بن حنبل میں اس حالت کا جو ذکر ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ حساب کے وقت حضرت نوح ( علیہ السلام) سے لے کر حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) ٰ تک کے منکر لوگوں سے اللہ تعالیٰ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 39–41

آیت 39 یعنی ان کے لئے کون سا حرج اور ان پر کون سی مشقت ہے اگر وہ اللہ تعالیٰ پر ایمان لے آئیں، جو کہ سراسر اخلاص ہے، پھر اللہ تعالیٰ کے راستے میں وہ مال خرچ کریں جو اللہ تعالیٰ نے ان کو عطا کیا ہے اور جس مال سے ان کو نوازا ہے۔ تب اس صورت میں وہ اخلاص اور انفاق کو جمع کریں گے۔ چونکہ اخلاص ایک ایسی چیز ہے جو اللہ تعالیٰ اور بندے کے درمیان ایک سرنہاں ہے جس کی اطلاع صرف اللہ تعالیٰ ہی کو ہوتی ہے، اس لئے اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ہے کہ وہ بندے کے تمام احوال کو جانتا ہے، چناچہ : (وکان اللہ بھم علیماً ) ” اللہ ان سب کو خوب جانتا ہے “

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 39–41

قول باری ہے (وماذاعلیھم لوامنوا بااللہ والیوم الاخر وانفقوا ممارزقھم اللہ ، آخر ان لوگوں پر کیا آفت آجاتی ہے اگر یہ اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھتے اور جو کچھ اللہ نے دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ۔ یہ آیت فرقہ جبریہ کے مذہب کے بطلان پر دلالت کرتی ہے کیونکہ اگر یہ لوگ اللہ پر ایمان لانے اور اپنامال اس کی راہ میں خرچ کرنے کی استطاعت نہ رکھتے تو ان کے متعلق آیت میں کہی ہوئی بات درست نہ ہوتی اس لیے کہ ان کا عذر واضح ہے اور وہ یہ کہ جس بات کی طرف انہیں بلایاجارہا ہے اس کی نہ انہیں استطاعت ہے اور نہ ہی قدرت۔ جس طرح کسی اندھے کے متعلق یہ کہنا درست نہیں کہ اگر وہ دیکھ لیتا تو اس پر کیا آفت آجاتی،…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

102 روز قیامت کی شہادت و گواہی کا ذکر وبیان : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ قیامت کے روز ہر امت سے ایک گواہ لایا جائیگا۔ یعنی اس امت کے نبی کو، جو گواہی دے گا کہ میں نے زندگی بھر ان لوگوں کو حق کا پیغام پہنچایا، لیکن انہوں نے اس کے مقابلے میں یہ اور یہ کرتوت کئے۔ جیسا کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا قول خود قرآن حکیم میں مذکور ہے { وَکُنْتُ عَلَیْہِمْ شَہِیْدًا مَّا دُمْتُ فِیْہِمْ } الاٰیۃ ۔ کہ " میں جب تک زندہ رہا ان کی نگرانی کرتا رہا، لیکن اے مالک جب تو نے مجھے اپنی طرف اٹھا لیا تو (اس کے بعد مجھے کچھ پتہ نہیں کہ یہ لوگ کیا کرتے رہے بلکہ) پھر تو ہی ان پر نگہبان و نگران تھا (اے میرے مالک !…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 41–42

حساب کے دن کفار کی تمنا تشریح : اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اس وقت ان کفار و منکرین کا کیا حال ہوگا ؟ جب حساب کتاب کا دن آئے گا تمام لوگ اور سب امتیں اللہ کے حضور پیش کی جائیں گی اور ان کے رسول اس بات کی گواہی دیں گے کہ ہم نے آپ کا پیغام، نیکی و بدی کا فرق اور اچھے برے راستوں کی راہنمائی پوری طرح کردی تھی۔ اس کے بعد نبی کریم ﷺ اپنی امت کی اور تمام انبیاء کی سچائی کی گواہی دیں گے اور جو کچھ ان کی امتوں نے ان کے ساتھ سلوک کیا اور بداعمالیاں کیں ان سب کی گواہی پیغمبر دیں گے۔ وہ دن بڑاسخت دن ہوگا، نافرمان اور منکرین کو اپنا انجام صاف دکھائی دے رہا ہوگا۔ تب حسرت اور پریشانی میں وہ لوگ بچنے کی…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 39–42

آیت 39 تا 42: وما ذا علیہم لو امنوا۔۔ ولا یکتمون اللہ حدیثا۔ اگر یہ اللہ پر اور آخرت پر ایمان ہی لے آتے تو ان کا کیا بگڑ جاتا اگر اللہ کے دئیے کو اسی کے حکم کے مطابق خرچ کرتے تو انہیں کوئی نقصان اٹھانا نہ پڑتا بلکہ ایمان باللہ ہی وہ نعمت ہے جو زندگی آسان کردیتی ہے اور ایک ایسا سہارا نصیب ہوجاتا ہے جو مزید کسی سہارے کا محتاج نہیں رہنے دیتا ایمان بالآخرت ہی انسانی معاشرے کی اصلاح کا بنیادی پتھر ہے اگر اللہ اور آخرت پر ایمان نہ ہو تو زندگی جہنم کا نمونہ بن جاتی ہے جس پر مغرب کا خدا فراموش معاشرہ پکار پکار کر شہادت دے رہا ہے کہ حکومت اور اس کے وسائل سب کچھ ہے مگر جرائم پہ قابو نہیں پایا جا رہا کہ…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 39–42

ف 7 اوپر کی آیتوں میں قیامت کے دن ظلم کی نفی اور کئی گہا اجر کا وعدہ فرمایا اب یہاں بیان فرما جارہا ہے کہا اچھا یا برا بدلہ پیغمبر کی شہادت سے ملے گا جن کو اللہ تعالیٰ نے مخلوق پر حجت بنا کر بھیجا ہے۔ (کبیر) اس مقصود اکفار کو وعید سنانا ہے جو اس موقعہ پر آزاد کرنیگے کاش ہم آدمی نہ ہوتے اور زمین میں مل کر خاک ہوجاتے۔ دیکھئے سورت النبا : 40 بقرۃ : 143 ۔ (ابن کثیر)8 کفار کے متعلق یہ بھی ہے کہ وہ اپنے شرک سے انکار کرینگے (الا نعام :23) مگر یہ آیت اس کے خلاف نہیں ہے کہ انکار کے بعد جب ان کے ہاتھ پاوں ان کے خلاف گواہی دینگے۔ ( سورت فصٰلت آیت :21 ۔ 23) تو پھر اللہ تعالیٰ سے کوئی بات نہیں چھپا سکیں…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 40–41

(4:40) مثقال ۔ وزن۔ مثقال ذرۃ۔ ایک ذرہ کے وزن کے برابر۔ ثقل مادہ۔ باب کرم سے اسم آلہ ہے۔ تک۔ اصل میں تکون تھا۔ ان کے عمل سے واؤ حرف علت حذف ہوگیا۔ اور نون کو بھی خلاف قیاس حرف عطف کے مشابہ مان کر کثرت استعمال کے سبب تخفیف کے لئے حذف کردیا گیا کون سے مضارع معروف۔ مجزوم بوجہ جواب شرط۔ مضاعفۃ (مفاعلۃ) مصدر ۔ ھا ضمیر مفعول واحد مؤنث غائب جو حسنۃً کی طرف راجع ہے۔ وہ اس کو بڑھا دیگا۔ دو چند کر دے گا۔ من لدنہ۔ اس کی طرف سے (یہاں) اپنی طرف سے۔ لذن۔ ظرف مکان (ربنا اتنا من لدنک رحمۃ) ات رب ہمارے ہمیں اپنی طرف سے رحمت عطا فرما۔ اور ظرف زمان۔ اقمت عندہ من لدن طلوع الشمس الی غروبھا۔ میں اس کے پاس طلوع…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 41–42

آیت نمبر 41-42 لغات القرآن : جئنا، ہم لے آئے۔ امۃ، جماعت، گروہ۔ شھید، گواہ۔ یود، پسند کرتا ہے۔ عصوا، انہوں نے نافرمانی کی۔ لوتسوی، کاش برابر ہوجائے۔ حدیث، بات۔ تشریح : یہ بات گزشتہ آیات میں کہہ دی گئی تھی کہ کنجوسی کرنے والا اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان نہیں رکھتا۔ وہ شیطان کی باتوں پر چلتا ہے۔ اس طرح وہ کفر سے قریب ہے۔ آیات 41-42 میں قیامت کا منظر کھینچا گیا ہے کہ میدان محشر میں باری باری ہر نبی کی امت آئے گی۔ وہ نبی بتائیں گے کہ انہوں نے لوگوں تک اللہ کا پیغام پہنچانے میں کوئی کمی نہیں کی لیکن بہت سے لوگ کافر رہے۔ وہ ان کافروں کی نشان دہی کریں گے۔ سب سے آخر میں حضور نبی کریم ﷺ آئیں گے اور…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 41–42

حساب کے وقت حضرت نوح سے لے کر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) تک کے منکر لوگوں سے اللہ تعالیٰ پوچھا گا کہ باوجود انببیاء (علیہم السلام) کی ہدایتوں کے تم لوگ منکر کیوں رہے، یہ لوگ انبیاء کی ہدایت کا انکار کرکے صاف مکر جاویں کے، اس پر سب انبیاء کہیں گے کہ ھضرت محمد آخرالزماں نبی ﷺ ہیں، ان کی شریعت مین ہر زمانہ کے نبی کی ہدایت کرنے کی تصدیق موجود ہے، پھر آنحضرت ﷺ اور آپ کی امت کے لوگ حاضر کئے جاویں گے وہ گواہی دیں گے ۔ اس پر نادم ہوکر یہ منکر گوگ جانوروں کی خاک ہوتا ہوا دیکھ کر اپنے خاک ہونے کی آرزو کریں گے ۔ اس گواہی کے بعد آنحضرت ﷺ اپنی امت کی نیکیوں کی گواہی قیامت تک کی ادا فرماویں گے ۔ اسی واسطے…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 41–42

[33] یعنی ہر امت کا رسول گواہی دے گا کہ اس نے اللہ تعالیٰ کے احکام بےکم وکاست اپنی امت کو پہنچا دیئے تھے۔ پھر یہی گواہی محمد ﷺ اپنی امت کے بارے میں دیں گے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

شاہد اکبر : (ف 3) اس آیت میں شان رسالت پناہ ﷺ کا ذکر جمیل ہے اور آپ کے رتبہ ختمیت و کمال کا تذکرہ ہے ۔ قیامت کے دن جب تمام لوگ جناب باری کے سامنے پیش کئے جائیں گے تو بطور اتمام حجت کے پوچھا جائے گا کہ بتاؤ تمتک ہمارے احکام پہنچے تھے یا نہیں ؟ اور اس کے بعد انبیاء (علیہم السلام) ورسل کی جماعت فردا فردا بطور گواہ وشاہد کے پیش ہوگی اور کہے گی کہ خداوند ! ہم نے تیرے احکام بلاکم وکاست تیرے بندوں تک پہنچا دیئے ، اور اس کے بعد شاہد اکبر جلوہ فرما ہوگا یعنی خواجہ کون ومکان ﷺ اور گواہی دے گا کہ سارے نبی سچ کہتے ہیں ۔ انہوں نے تبلیغ حق میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا گویا آپ ﷺ کا وجود بجائے خود تصدیق…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

Explained with ayahs 40–41

ف 2 اور ان کا کیا بگڑ جاتا اور ان پر کو سنی آفت نازل ہوجاتی اگر یہ لوگ اللہ تعالیٰ پر ایمان لے آتے اور یوم آخرت کے واقع ہونے کا اعتقاد رکھتے اور اللہ تعالیٰ نے جو کچھ ان کو دیا ہے اس میں سے کچھ خیرات کیا کرتے اور اللہ تعالیٰ ان لوگوں کی حالت کو خوب جانتا ہے۔ یقین جانو ! کہ اللہ تعالیٰ کسی پر ذرہ برابر بھی ظلم نیں کرے گا بلکہ وہ تو ایسا کریم ہے کہ اگر ایک چھوٹی سی نیکی ہوگی تو اپنی مہربانی سے اس کو کئی گنا کر کے اس کا ثواب عنایت کرے گا اور اس ثواب کے علاوہ اپنے پاس سے بطور اپنے انعام کے اور اجر عظیم عطا فرمائے گا یعنی نیکی کو بڑھا کر ثواب ملے اور اپنے پاس سے اور مزید ثواب عظیم عطا فرمائے۔…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 41–45

ف 1۔ یعنی جن لوگوں نے خدائی احکام دنیا میں نہ مانے ہوں گے ان کے مقدمہ کی پیشی کے وقت بطور سرکاری گواہ کے انبیاء علہیم السلام کے اظہارات سنے جائیں گے جو جو معاملات انبیاء انبیاء کی موجودگی میں پیش آئے تھے سب ظاہر کردیں گے اس شہادت کے بعد ان مخالفین پر جرم ثابت ہو کر سزادی جائے گی۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ہر امت سے گواہ طلب کرنے کے بعد ان گواہوں پر نبی اعظم و آخر ﷺ کی گواہی کا مطلب : 89: اعمال کے بدلہ سے آخرت کی طرف مضمون کو منتقل کیا تھا لیکن یہ اس طرف گویا ایک طرح کا اشارہ تھا۔ اب آخرت کی طرف مستقل طور پر مضمون کو لایا جا رہا ہے۔ زیرنظر آیت میں جو مضمون بیان کیا گیا اس کو تین طرح بیان کیا گیا ہے۔ ایک یہ کہ قیامت کے روز تمام انبیاء کرام کو ان کی اپنی اپنی امتوں پر شہادت کے لیے بلایا جائے گا اور رسول اللہ ﷺ کو دوسرے تمام انبیاء کرام کی شہادت کے درست ہونے کی گواہی کے لیے تشریف لانا ہوگا اور ظاہر ہے کہ یہ گواہی قرآن کریم کی شہادت کی بناء پر ہوگی جو کلام الٰہی کی وجہ سے حقیقت میں اللہ تعالیٰ ہی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

In the verse (41) beginning with: فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِن كُلِّ أُمَّةٍ , there is an invitation to visualize, in range and depth, the gravity of what will happen on the site of the Last Day. Also intended is an admonition to the disbelievers from the tribe of Quraysh. Their anxiety would know no bounds when every prophet of every community would appear as a witness to the good or bad deeds of his respective community on the Last Day - and Muhammad ﷺ too, the last of the prophets, will appear as a witness over his community - and he would give witness in the Divine Court particularly about…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 41–42

64. The Prophet of each age will stand as a witness before God against his people; he will testify that he conveyed to them the true way of life, and showed them the right outlook and the fundamentals of moral conduct revealed to him by God. The testimony of the Prophet Muhammad (peace be on him) will be to the same effect, and the Qur'an indicates that he will stand as a witness to the period beginning with his advent as a Prophet right through to the Day of Judgement. (See Towards Understanding the Qur'an, vol. I, Surah 3, n. 69.)

Read the full tafseer →