Explained with ayahs 40–42
بےمثال خریدار ؟
باری تعالیٰ رب العالمین فرماتا ہے کہ میں کسی پر ظلم نہیں کرتا، کسی کی نیکی کو ضائع نہیں کرتا، بلکہ بڑھا چڑھا کر قیامت کے روز اس کا اجر وثواب عطا فرماؤں گا جیسے اور آیت میں ہے (وَنَضَعُ الْمَوَازِيْنَ الْقِسْطَ لِيَوْمِ الْقِيٰمَةِ فَلَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَـيْــــــًٔا) 21۔ الانبیآء :47) ہم عدل کی ترازو رکھیں گے۔ اور فرمایا کہ حضرت لقمان نے اپنے صاحبزادے سے فرمایا تھا (يٰبُنَيَّ اِنَّهَآ اِنْ تَكُ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ فَتَكُنْ فِيْ صَخْـرَةٍ اَوْ فِي السَّمٰوٰتِ اَوْ فِي الْاَرْضِ يَاْتِ بِهَا اللّٰهُ ۭ اِنَّ اللّٰهَ لَطِيْفٌ خَبِيْرٌ) 31۔ لقمان :16) اے بیٹے اگر کوئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–40
سورة النِّسَآء 63
اللہ کے فضل کو چھپانا یہ ہے کہ آدمی اس طرح رہے گویا کہ اللہ نے اس پر فضل نہیں کیا ہے۔ مثلاً کسی کو اللہ نے دولت دی ہو اور وہ اپنی حیثیت سے گر کر رہے۔ نہ اپنی ذات اور اپنے اہل و عیال پر خرچ کرے، نہ بندگان خدا کی مدد کرے، نہ نیک کاموں میں حصہ لے۔ لوگ دیکھیں تو سمجھیں کہ بیچارہ بڑا ہی خستہ حال ہے۔ یہ دراصل اللہ تعالیٰ کی سخت ناشکری ہے۔ حدیث میں آیا ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا انّ اللہ اذا انعم نعمة علی عبد احبّ ان یظھر اثرھا علیہ، اللہ جب کسی بندے کو نعمت دیتا ہے تو وہ پسند کرتا ہے کہ اس نعمت کا اثر بندے پر ظاہر ہو۔ یعنی اس کے کھانے پینے، رہنے سہنے، لباس اور مسکن، اور اس کی داد و…
Read the full tafseer →اس کے بعد فرمایا ان اللہ لایظلم مثقال ذرة یعنی اللہ تعالیٰ کسی کے اعمال حسنہ کا ثواب اور جزائے خیر میں ذرہ برابر بھی کمی نہیں فرماتے بلکہ اپنی طرف سے اس میں اور اضافہ فرما دیتے ہیں اور آخرت میں چند در چند ثواب بڑھا کر نوازیں گے اور اپنی طرف سے ثواب عظیم عطا فرمائیں گے۔
اللہ تعالیٰ کے یہاں ثواب کا کم سے کم معیار یہ ہے کہ ایک نیکی کی دس نیکیاں لکھی جاتی ہیں اور اس کے علاوہ مختلف بہانوں سے اضافہ در اضافہ ہوتا رہتا ہے، بعض روایات حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ کچھ اعمال ایسے ہیں جن کا ثواب بیس لاکھ گنا تک زیادہ ہوجاتا ہے اور اللہ کی ذات تو کریم ذات ہے وہ اپنی بےپایاں رحمت سے اتنا بڑھا کر دیدیتے ہیں کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–40
تفسیر آیت 39- 40۔ وَمَاذَا عَلَيْهِمْ لَوْ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَاَنْفَقُوْا مِمَّا رَزَقَھُمُ اللّٰهُ ۭوَكَانَ اللّٰهُ بِهِمْ عَلِــيْمًا۔ اِنَّ اللّٰهَ لَا يَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ ۚ وَاِنْ تَكُ حَسَنَةً يُّضٰعِفْھَا وَيُؤْتِ مِنْ لَّدُنْهُ اَجْرًا عَظِيْمًا
یہ ان تنگ دلوں اور بخیلوں کی بدقسمتی پر اظہار افسوس ہے کہ یہ اللہ اور آخرت پر ایمان لانے اور اللہ کی راہ میں خود اسی کی بخشی ہوئی دولت کو خرچ کرنے میں بڑا خسارہ سمجھتے ہیں۔ حالانکہ یہ خسارے کا سودا نہیں ہے بلکہ سر تا سر نفع ہی نفع ہے۔ اللہ تعالیٰ نہ کسی کے عمل سے بیخبر ہے، نہ ذرہ برابر وہ کسی کی حق تلفی کرنے والا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–40
38۔ 1 بخل (یعنی اللہ کی راہ میں خرچ نہ کرنا) یا خرچ کرنا لیکن ریاکاری یعنی نمود و نمائش کے لئے کرنا۔ یہ دونوں باتیں اللہ کو سخت ناپسند ہیں اور ان کی ندامت کے لئے یہی بات کافی ہے کہ یہاں قرآن کریم میں ان دونوں باتوں کو کافروں کا شیوا اور ان لوگوں کا وطیرہ بتایا ہے جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان نہیں رکھتے اور شیطان ان کا ساتھی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–40
29: قرآن و سنت نے پڑوسیوں کے حقوق کی رعایت اور ان کے ساتھ حسن سلوک کی بڑی تاکید فرمائی ہے پھر پڑوسیوں کے تین درجے اس آیت میں بیان فرمائے گئے ہیں۔ پہلے درجے کو ”جار ذی القربی“ (قریب والا پڑوسی) اور دوسرے کو ”الجار الجنب“ کہا گیا ہے جس کا ترجمہ اوپر دور والے پڑوسی سے کیا گیا ہے۔ پہلے سے مراد وہ پڑوسی ہے جس کا گھر اپنے گھر سے بالکل ملا ہوا ہو، اور دوسرے سے مراد وہ پڑوسی ہے جس کا گھر اتنا ملا ہوا نہ ہو۔ بعض حضرات نے اس کی تفسیر یہ کی ہے کہ پہلے سے مراد وہ پڑوسی ہے جو رشتہ دار بھی ہو، اور دوسرے مراد وہ جو صرف پڑوسی ہو۔ نیز بعض مفسرین نے پہلے کا مطلب مسلمان پڑوسی اور دوسرے کا مطلب غیر مسلم پڑوسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–40
(آیت) ” وما ذا علیھم لو امنوا باللہ والیوم الاخر وانفقوا مما رزقھم اللہ وکان اللہ بھم علیما (39) ان اللہ لا یظلم مثقال ذرۃ وان تک حسنۃ یضعفھا ویوت من لدنہ اجرا عظیما (40) (4 (39۔ 40)
” آخر ان لوگوں پر کیا آفت آجاتی اگر وہ اللہ اور روز آخر پر ایمان رکھتے اور جو کچھ اللہ نے دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے اور اگر یہ ایسا کرتے تو اللہ سے ان کی نیکی کا حال چھپا نہ رہ جاتا ۔ اللہ کسی پر ذرہ برابر بھی ظلم نہیں کرتا ‘ اگر کوئی ایک نیکی کرے تو اللہ اسے دوچند کرتا ہے اور پھر اپنی طرف سے بڑا اجر عطا فرماتا ہے ۔
ہاں ‘ انہیں کیا ہوجاتا ۔ وہ کیا نقصان ہے ‘ جس کی بابت وہ اللہ اور یوم آخرت پر ایمان لانے سے ڈرتے…
Read the full tafseer →6 یعنی اللہ تعالیٰ کسی کا حق ایک ذرہ برابر بھی ضائع نہیں فرماتا سو ان کافروں پر جو عذاب ہوگا وہ عین انصاف اور ان کی بداعمالی کا بدلہ ہے۔ اور اگر ذرہ برابر بھی کسی کی نیکی ہوگی تو اضعاف مضاعف اس کا اجر دے گا اور اپنی طرف سے ثواب عظیم بطور انعام اس کو عنایت کرے گا۔
Read the full tafseer →آیت 40 اِنَّ اللّٰہَ لاَ یَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ ج وَاِنْ تَکُ حَسَنَۃً یُّضٰعِفْہَا وَیُؤْتِ مِنْ لَّدُنْہُ اَجْرًا عَظِیْمًا
اس سورة مبارکہ کی اگلی آیت بڑی اہم ہے۔ یہ اس شہادت علی الناس سے متعلق ہے جو مضمون سورة البقرۃ آیت 143 میں آیا تھا کہ اے مسلمانو ! تمہیں اب شہداء علی الناس بنایا گیا ہے ‘ جیسے کہ نبی ﷺ نے تم پر شہادت دی ہے۔ نبی مکرم ﷺ قیامت کے دن کھڑے ہو کر کہیں گے کہ اے اللہ میرے پاس جو دین آیا تھا میں نے انہیں پہنچا دیا تھا ‘ اب یہ اپنے طرز عمل کے خود ذمہ دار ہیں۔ یہی بات قیامت کے دن کھڑے ہو کر تمہیں کہنی ہے کہ اے اللہ ہم نے اپنے زمانے کے لوگوں تک تیرا دین پہنچا دیا تھا ‘ اب اس کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–40
72 یعنی اللہ اور آخرت پر ایمان لاتے ہوئے اللہ ہی کے دیئے ہوئے مال میں سے اس کی راہ میں خرچ کرتے تو ان کا نقصان نہیں بلکہ فائدہ ہی تھا کیونکہ اس میں اللہ تعالیٰ کی احسان شناسی بھی ہے اور آخرت میں سینکڑوں گنا اجر بھی۔ نقصان تو اس صورت میں ہے کہ مال بھی ہاتھ سے نکل گیا اور اس کا کچھ ثواب ملنا تو درکنار الٹا عذاب ہوگا اور ریاکار کا یہی انجام ہوگا۔
آخرت کے منکر خسارہ میں ہیں :۔ سیدنا علی ؓ سے منقول ہے کہ انہیں کسی کافر نے کہا کہ جس آخرت پر تم ایمان لاتے ہو وہ محض ایک مفروضہ ہے جسے تم یقینی طور پر ثابت نہیں کرسکتے۔ پھر اس مفروضہ کی بنا پر مختلف قسم کی پابندیاں اپنے آپ پر عائد کرتے ہو مال خرچ کرتے…
Read the full tafseer →134 ۔ (قیامت کے دن) یعنی یہ نہیں ہوسکتا کہ کسی کی کوئی نیکی بلااجر رہ جائے یا کوئی بدی کسی کے حساب میں خواہ مخواہ لکھ لی جائے۔ (آیت) ” ان اللہ لایظلم “۔ اللہ جو خالق مطلق، حاکم مطلق، مالک مطلق ہے، حقیقۃ ظلم کا اطلاق تو اس کے کسی فعل پر بھی کسی حال میں نہیں ہوسکتا، یہاں مراد تو یہ ہے کہ وہ ظاہر میں اور مجازی معنی میں بھی ظلم نہیں کرتا۔ آیت میں دو پہلو اور بھی ہیں۔ ایک تو مشرک قوموں نے اپنی دیوی دیوتاؤں کو ظالم، ستم گر، خون خوار مانا ہے (مثلا کالی مائی) حق تعالیٰ کی تنزیہ اس قسم کی صفات سے کلیۃ ہوگئی۔ دوسرے جن آیتوں میں حق تعالیٰ کی قوت مطلق اختیارات کامل کا اثبات ہے، ان سے ممکن تھا کہ مسلمانوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–40
آیت نمبر 34 تا 42
ترجمہ : مردعورتوں کے حاکم ہیں ان کی تادیب کرتے ہیں اور انکو (ناپسندیدہ باتوں سے) باز رکھتے ہیں، اس سبب سے کہ اللہ نے ان میں سے ایک کو دوسرے پر فضیلت دی ہے یعنی اللہ تعالیٰ نے مردوں کو عورتوں پر اور عقل میں اور ولایت وغیرہ میں فضیلت دے کر اور اس سے مرد عورتوں پر اپنے مال خرچ کرتے ہیں پس نیک فرمانبردار عورتیں اپنے شوہروں کی اطاعت گذار خاوند کی عدم موجودگی میں بحفاظت الہٰی اپنی ناموس وغیرہ کی نگہداشت رکھنے والیاں ہیں اس طریقہ پر کہ شوہروں کو ان کی حفاظت کی تاکید فرمائی۔ اور جن عورتوں کی نافرمانی کا تمہیں خوف ہو اس طریقہ پر کہ اس کی علامات ظاہر ہوں، تو انہیں نصیحت کرو یعنی ان کو…
Read the full tafseer →ان اللہ لا یظلم مثقال ذرۃ یہ امر یقینی ہے کہ اللہ ذرہ برابر ظلم نہیں کرے گا۔ مثقال ثقل سے ماخوذ ہے۔ ذرہ سرخ چھوٹی چیونٹی۔ یا روشن دان میں دھوپ کے رخ پر جو ذرے سے اڑتے دکھائی دیتے ہیں اور جن کا کوئی وزن نہیں ہوتا۔ مراد یہ ہے کہ اللہ بالکل ظلم (حق تلفی) نہیں کرے گا۔ یعنی اللہ نے کافروں کے لئے جو عذاب مہین تیار کر رکھا ہے وہ ظلم نہیں ہے۔ سراسر انصاف ہے بلکہ اگر ان کو عذاب نہ دے گا تو یہ ظلم ہوگا کیونکہ انہوں نے اللہ کی توحید اور عبادت سے منہ موڑا ‘ والدین اوراقارب و اجانب کے حقوق کی ادائیگی کو چھوڑا تو اگر ان کو عذاب نہ ہو تو گویا یہ ظلم (اور نازیبا معاملہ) ہوگا۔ یہ بھی کہا جاسکتا ہے کفار چونکہ…
Read the full tafseer →(40) اور وہ کافر کے اعمال میں سے ایک ذرہ کے برابر بھی نہیں چھوڑیں گے تاکہ آخرت میں وہ کام آئے یا اس کے دشمن خوش ہوں۔
اور مومن مخلص کو اس کے دشمنوں کا منہ بھر دینے کے بعد ایک نیکی پر دس گنا ثواب ملے گا اور اس کے بعد اللہ تعالیٰ اپنے پاس سے جنت میں اجر عظیم عطا فرمائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–40
بخل اور ریاکاری کی مذمت کے بعد ایمان و طاعت اور صدقہ و خیرات کی ترغیب دلائی، پھر مزید ترغیب کے لیے فرمایا کہ جب ذرا ذرا سی چیز کا اللہ تعالیٰ کئی گنا اجر دیتے ہیں، پھر لوگ کیوں نیک کاموں میں سستی کرتے اور ریا کاری سے کام لے کر اپنے اجر کو ضائع کرتے ہیں۔ اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے بندوں کو خبر دی ہے کہ وہ کسی پر ایک ذرہ کے برابر بھی ظلم نہیں کرے گا، بلکہ ایک نیکی ہوگی تو اسے بھی بڑھا چڑھا کر اپنے پاس سے اجر عظیم دے کر نجات کا باعث بنا دے گا۔ ابو سعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے (ایک طویل حدیث) میں فرمایا : ”اللہ تعالیٰ (فرشتوں سے) فرمائے گا، تم جاؤ اور جس کے دل میں رائی کے دانے…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 40۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” ان اللہ لا یظلم مثقال ذرۃ “۔ یعنی اللہ تعالیٰ ان کے عمل کے ثواب میں کچھ کمی نہیں فرمائے گا اگرچہ ذرہ برابر عمل ہوگا، بلکہ انکے اعمال کی جزا دے گا اور انہیں اعمال پر ثواب دے گا۔ اس کلام سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ تھوڑے اور زیادہ عمل کے ثواب میں کمی نہیں فرمائے گا جیسے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (آیت) ” ان اللہ لا یظلم الناس شیئا “۔ (یونس : 44) (اللہ تعالیٰ ظلم نہیں لوگوں پر ذرہ برابر) ذرۃ کا معنی سرخ چیونٹی ہے، حضرت ابن عباس ؓ وغیرہ سے مروی ہے : یہ چیونٹیوں میں سے چھوٹی چیونٹی ہے، حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے یہ چیونٹی کا سر ہے، یزید بن ہارون نے…
Read the full tafseer →(1) عبدبن حمید وابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ان اللہ لا یظلم مثقال ذرۃ “ سے مراد سرخ چیونٹی کا سر۔
(2) ابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ” مثقال ذرۃ “ سے مراد چیونٹی ہے۔
(3) ابن ابی داؤد نے مصاحف میں عطا کے طریق سے عبد اللہ ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے اس کو یوں پڑھا لفظ آیت ” ان اللہ لا یظلم مثقال نملہ “۔
(4) ابن المنذر وابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ان اللہ لا یظلم مثقال ذرۃ “ سے مراد ہے ذرہ کے وزن کے برابر۔
(5) سعید بن منصور وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم والطبرانی نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ یہ آیت دیہاتیوں کے بارے میں نازل ہوئی جو شخص…
Read the full tafseer →[ اِنَّ اللّٰہَ : یقینا اللہ ] [ لاَ یَظْلِمُ : ظلم نہیں کرتا ] [ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ : کسی ذرے کے ہم وزن ] [ وَاِنْ : اور اگر ] [ تَکُ : وہ ہو ] [ حَسَنَۃً : کوئی نیکی ] [ یُّضٰعِفْہَا : تو وہ کئی گنا بڑھاتا ہے اس کو ] [ وَیُؤْتِ : اور وہ دیتا ہے ] [ مِنْ لَّدُنْہُ : اپنے پاس سے ] [ اَجْرًا عَظِیْمًا : ایک شاندار بدلہ ]
ث ق ل
ثَقَلَ ۔ یَثْقُلُ (ن) ثَقَلًا : وزن معلوم کرنے کے لیے ہاتھ میں اٹھانا۔
ثَقَلٌ ج اَثْقَالٌ (اسم ذات ) : وزن ‘ بوجھ۔ { وَلَـیَحْمِلُنَّ اَثْقَالَھُمْ وَاَثْقَالًا مَّعَ اَثْقَالِھِمْز } (العنکبوت :13) ” اور وہ لوگ لازماً اٹھائیں گے اپنے بوجھ اور کچھ دوسرے بوجھ اپنے بوجھ…
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ ذرہ بھر بھی ظلم نہ کرے گا :
پھر فرمایا (اِنَّ اللّٰہَ لَا یَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ ) (بلاشبہ اللہ تعالیٰ ذرہ کے برابر بھی ظلم نہیں فرماتا۔ ) مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی کو نافرمانی کے بغیر عذاب نہیں دے گا اور کسی کی کوئی نیکی ضائع نہیں فرمائے گا۔ اگر ذرہ برابر بھی کسی کی نیکی ہوگی اس کا ثواب بھی عطا فرمائے گا بلکہ وہ اس نیکی کو چند در چند بڑھا دے گا اور اپنے پاس سے اجرعظیم عطا فرمائے گا۔ ایک نیکی کم از کم دس نیکی کے برابر تو کردی ہی جاتی ہے جیسا کہ سورة انعام وغیرہ میں فرمایا (مَنْ جَآء بالْحَسَنَۃِ فَلَہٗ عَشْرُ اَمْثَالِھَا) اور اس کے بعدسات سو تک اور سات لاکھ تک اور اس سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–42
حکم شانزدہم بابت معاشرہ زوجین۔
قال تعالی، الرجال قوامون۔۔۔ الی۔۔۔ خبیرا۔
ربط) گزشتہ آیات میں میراث کے باب میں عورتوں پر مردوں کی فضیلت بیان کی اب ان آیات میں مطلقا مردوں کی فضیلت بیان فرماتے ہیں کہ مردوں کو عورتوں پر ہر طرح کی فضیلت حاصل ہے ذاتی اور عرضی دونوں قسم کی فضیلتیں مردوں کو خدا تعالیٰ نے عطا کی ہیں اور مردوں کو عورتوں پر حاکم بنایا ہے اور ان کو اجازت دی ہے کہ بغرض تادیب واصلاح عورتوں کو تنبہ کریں اور اگر ضرورت پیش آئے تو مارنے کی بھی اجازت ہے تاکہ عورتوں کا شبہ بھی دور ہوجائے کہ مردوں کو دھری میراث کیوں ملتی ہے چناچہ فرماتے کہ مردعورتوں پر دو وجہ سے حاکم اور قائم ہیں مردوں کی وجہ سے…
Read the full tafseer →30 یہاں احسان کرنے کی ترغیب دی گئی ہے کہ اب وقت ہے مال خرچ کرلو۔ اب احکام خداوندی کے مطابق خرچ کرنے کا اجر وثواب آخرت میں کئی گنا ملیگا اس لیے اس موقع کو ہاتھ سے مت جانے دو ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–42
ربط آیات
گزشتہ دروس میں یہ بنیادی عقیدہ بیان ہوچکا ہے کہ عبادت صرف اللہ ہی کی کرو۔ اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ ۔ اسی بنیاد پر پھر حقوق العباد کا ذکر کیا کہ والدین کے ساتھ احسان کرو۔ اور یتیموں ، مسکینوں ، پڑوسیوں ، ہم نشینوں ، مسافروں اور غلاموں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آؤ ۔ اسی ضمن میں پھر بخل کی مذمت کی گئی کیونکہ بخیل آدمی اپنے بخل کی وجہ سے دوسروں کے حقوق ادا نہیں کرتا ، بلکہ اپنا مال ریاکاری پر خرچ کرنے کے لیے تیار ہوجاتا ہے۔ ایسا شخص دراصل شیطانی پھندے کا شکار ہوتا ہے جو کہ اسے بنیادی عقیدئہ توحید سے برگشتہ کردیتا ہے جس کی وجہ سے نہ تو اس کا ایمان اللہ کے ساتھ درست ہوتا ہے اور…
Read the full tafseer →اِنَّ اللہَ لَا يَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ 0ۚ وَاِنْ تَكُ حَسَـنَۃً يُّضٰعِفْھَا وَيُؤْتِ مِنْ لَّدُنْہُ اَجْرًا عَظِيْمًا 40
ظلم
وَالظُّلْمُ عند أهل اللّغة وكثير من العلماء : وضع الشیء في غير موضعه المختصّ به، إمّا بنقصان أو بزیادة، وإمّا بعدول عن وقته أو مکانه،
قال بعض الحکماء : الظُّلْمُ ثلاثةٌ:
الأوّل : ظُلْمٌ بين الإنسان وبین اللہ تعالی،
وأعظمه : الکفر والشّرک والنّفاق، ولذلک قال :إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ [ لقمان/ 13]
والثاني : ظُلْمٌ بينه وبین الناس،
وإيّاه قصد بقوله : وَجَزاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ إلى قوله : إِنَّهُ لا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ وبقوله : إِنَّمَا السَّبِيلُ عَلَى…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–42
ترکیب : ماذا مبتداء علیہم خبر اور صرف ما مبتدا اور ذاموصول علیہم صلہ مجموعہ بھی خبر ہوسکتی ہے۔ لوامنوا الخ شرط لم یضرھم خبر محذوف اس سے ترغیب مقصود ہے لو مصدر یہ بھی ہوسکتا ہے۔ مثقال صفۃ ہے مصدر محذوف کی ای لا یظلم ظلما قدر مثقال ذرۃ ای وزن ذرۃ مصدر اور اس کی صفت کو حذف کرکے مضاف الیہ کو اس کی جگہ قائم کردیا۔ وان تَکُ اصل میں تکن تھا نون صرف کثرت استعمال کی وجہ سے حذف کردیا گیا ہے کیونکہ نون غنہ سکون کی وجہ سے مشابہ ہے اگر حرکت دی جائے گی نون حذف نہ ہوگا جیسا کہ لم یکن الذین وغیرہ میں۔ یومئذ ظرف یودالذین کفروا وعصوا الرسول اس کا فاعل لوتسوی بہم الخ اس کا مفعول لو بمعنی ان۔ تسوی فعل مجہول…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–40
وَمَاذَا عَلَیْہِمْ لَواٰمَنُوْا بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَاَنْفَقُوْامِمَّارَزَقَھُمُ اللّٰہُ ط وَکَانَ اللّٰہُ بِھِمْ عَلِیْمًا اِنَّ اللّٰہَ لَایَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ ج وَاِنْ تَـکُ حَسَنَۃً یُّضٰعِفْہَا وَیُؤْتِ مِنْ لَّدُنْـہُ اَجْرًا عَظِیْمًا
(اور کیا نقصان تھا ان کا اگر ایمان لاتے اللہ پر اور قیامت کے دن پر اور اللہ نے ان کو جو کچھ عطا کررکھا ہے اس میں سے خرچ کرتے اور اللہ تو ان سے اچھی طرح باخبر ہے اللہ ذرا بھی کسی کی حق تلفی نہیں کرتا اگر ایک نیکی ہو تو اس کو کئی گنا بڑھا دیتا ہے اور خاص اپنے پاس سے بہت بڑا اجر عطا فرماتا ہے)
(النسآء : 39 تا 40)
متکبروں، بخیلوں، تنگ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–40
فہم القرآن
ربط کلام : ریا کاری اور بخل سے اجتناب اور انفاق فی سبیل اللہ تبھی قبول ہوسکتا ہے جب اللہ تعالیٰ اور آخرت پر یقین کامل ہو کہ جو کچھ صدقہ وہ کرے یا کوئی عمل کرے گا اللہ تعالیٰ اس کا اجر ضائع نہیں کرتاقیامت کو اس کو پورا پورا اجر ملے گا۔
(عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ مَنْ تَصَدَّقَ بِعَدْلِ تَمْرَۃٍ مِّنْ کَسْبٍ طَیِّبٍ وَّلَا یَقْبَلُ اللّٰہُ إِلَّا الطَّیِّبَ فَإِنَّ اللّٰہَ یَتَقَبَّلُھَا بِیَمِیْنِہٖ ثُمَّ یُرَبِّیْھَا لِصَاحِبِہٖ کَمَا یُرَبِّیْ أَحَدُکُمْ فُلُوَّہٗ حَتّٰی تَکُوْنَ مِثْلَ الْجَبَلِ )
[ رواہ البخاری : کتاب الزکوۃ، باب الصدقۃ من کسب طیب…
Read the full tafseer →آیت 40 : اِنَّ اللّٰہَ لَا یَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ (بیشک اللہ تعالیٰ ایک ذرہ کے برابر ظلم کرنے والے نہیں)
ذرّہ کی تحقیق :
ذَرَّۃٌ۔ اصل میں چھوٹی چیونٹی کو کہتے ہیں۔ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے مروی ہے۔ کہ انہوں نے اپنا ہاتھ مٹی میں داخل کیا۔ پھر اس کو اوپر اٹھایا پھر اس میں پھونک ماری پھر فرمایا۔ کہ ان میں سے ہر ایک ذرہ ہے۔ دوسرا قول یہ ہے کہ دھول اور اڑتے غبار کا ہر جزء ذرہ ہے۔
وَاِنْ تَکُ حَسَنَۃً ( اور اگر ذرہ بھر نیکی ہوگی) مثقال کی ضمیر مؤنث لائی گئی۔ کیونکہ اس کی نسبت حسنۃ مؤنث کی طرف ہے۔
نحو و قراءت :
نحو : حجازی ٗ کَانَ کو تامہ قرار دیتے ہیں۔ تکن کی نون کو کثرت استعمال کی وجہ سے…
Read the full tafseer →40۔ (آیت)” ان اللہ لا یظلم مثقال ذرۃ “۔ عبارت اس طرح منظم کی گئی ہے کہ تمہارے لیے کیا حرج ہے اگر تم اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان لاؤ اور تم اللہ کے راستے میں خرچ کرتے تو اللہ تم پر ظلم نہ کرتا ، یعنی نہ تو وہ تمہارے مالوں سے کم کرتا اور نہ ہی تمہارے ثواب میں سے کمی کرتا ایک ذرہ برابر بھی ، ذرۃ کہتے ہیں کہ ایک چھوٹی سرخ چیونٹی کو ، بعض حضرات نے کہا کہ ذرۃ ان اجزاء کو کہا جاتا ہے جو ہوا میں اڑتے ہیں ان کے اجزاء کو ذرہ کہا جاتا ہے جن کا کوئی وزن نہیں ہوتا، اس مثال سے اللہ تعالیٰ کا یہی ارادہ ہے کہ وہ تمہارے اوپر کسی چیز کا ظلم نہیں کرتا ، جیسا کہ دوسری آیت میں اس کا ذکر فرمایا (آیت)” ان اللہ…
Read the full tafseer →اوپر کی دونوں آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے بخل اور ریاکاری کی مذمت فرما کر ایمان اور خیرات کی جو ترغیب فرمائی تھی یہ ٹکڑا آیت کا اس ترغیب کی تائید میں ہے۔ حاصل معنی یہ ہیں کہ جب ذرہ ذرہ بھر کا قیامت میں اللہ تعالیٰ ان کو اجر دوگنا چوگنا دینے کا وعدہ فرماتا ہے۔ تو پھر کیوں لوگ نیک کاموں سے رک کر اپنے اتنے بڑے اجر کو ضائع کرتے ہیں اور دکھاوے کے عمل کیوں کرتے ہیں کیا جن لوگوں کے دکھانے کی غرض سے کوئی عمل کیا جاتا ہے وہ لوگ ان کو اللہ کا سا اجر دے سکتے ہیں۔ صحیحین میں حضرت ابو سعید خدری ؓ سے شفاعت کی جو بڑی حدیث ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اچھے لوگ اللہ تعالیٰ سے گنہگاروں کی سفارش کریں گے اور ان کی سفارش…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–41
آیت 39
یعنی ان کے لئے کون سا حرج اور ان پر کون سی مشقت ہے اگر وہ اللہ تعالیٰ پر ایمان لے آئیں، جو کہ سراسر اخلاص ہے، پھر اللہ تعالیٰ کے راستے میں وہ مال خرچ کریں جو اللہ تعالیٰ نے ان کو عطا کیا ہے اور جس مال سے ان کو نوازا ہے۔ تب اس صورت میں وہ اخلاص اور انفاق کو جمع کریں گے۔ چونکہ اخلاص ایک ایسی چیز ہے جو اللہ تعالیٰ اور بندے کے درمیان ایک سرنہاں ہے جس کی اطلاع صرف اللہ تعالیٰ ہی کو ہوتی ہے، اس لئے اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ہے کہ وہ بندے کے تمام احوال کو جانتا ہے، چناچہ : (وکان اللہ بھم علیماً ) ” اللہ ان سب کو خوب جانتا ہے “
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–41
قول باری ہے (وماذاعلیھم لوامنوا بااللہ والیوم الاخر وانفقوا ممارزقھم اللہ ، آخر ان لوگوں پر کیا آفت آجاتی ہے اگر یہ اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھتے اور جو کچھ اللہ نے دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ۔
یہ آیت فرقہ جبریہ کے مذہب کے بطلان پر دلالت کرتی ہے کیونکہ اگر یہ لوگ اللہ پر ایمان لانے اور اپنامال اس کی راہ میں خرچ کرنے کی استطاعت نہ رکھتے تو ان کے متعلق آیت میں کہی ہوئی بات درست نہ ہوتی اس لیے کہ ان کا عذر واضح ہے اور وہ یہ کہ جس بات کی طرف انہیں بلایاجارہا ہے اس کی نہ انہیں استطاعت ہے اور نہ ہی قدرت۔
جس طرح کسی اندھے کے متعلق یہ کہنا درست نہیں کہ اگر وہ دیکھ لیتا تو اس پر کیا آفت آجاتی،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–40
99 ایمان صادق کیلئے ترغیب وتحریض : سو ارشاد فرمایا گیا کہ کیا ہوجاتا ان کو کہ اگر یہ لوگ ایمان لے آئے اللہ پر اور قیامت کے دن پر۔ سو یہ ان کے لئے زجر و توبیخ بھی ہے، اور تحریض و ترغیب بھی۔ کہ یہ منافقت چھوڑ کر سچے دل سے ایمان لے آئیں تاکہ ایمان صادق کے ثمرات اور اس کی برکات سے دارین میں مستفید و متمتع ہو سکیں۔ سو منافقت میں خود انہی لوگوں کا نقصان ہے اور صدق ایمان و یقین کی دولت میں خود انہی کا بھلا اور فائدہ ہے، کہ صدق ایمان و یقین کے بعد کئے جانے والے ہر عمل کا اللہ تعالیٰ کے یہاں وزن اور اس کی کوئی قدر و قیمت ہوسکتی ہے۔ جبکہ منافقت والے عمل کی اس کے یہاں کوئی قدر و قیمت نہیں ۔ وَالْعِیَاذ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–40
کفار اور بخیل غور کریں
تشریح : پچھلی آیات میں بخل کا ذکر کیا گیا ہے اصل میں ان یہودیوں کی طرف اشارہ ہے جو نہ صرف مال خرچ کرنے میں ہی کنجوسی کرتے تھے، بلکہ علم کے بارے میں بھی کنجوسی کرتے تھے وہ اس طرح کہ اصل مسئلہ لوگوں کو نہ بتاتے تھے حتیٰ کہ نبی کریم ﷺ کی آمد اور قرآن مجید کے بارے میں تورات میں صاف صاف بتایا گیا تھا مگر وہ اس بات کو لوگوں سے چھپاتے تھے اور خاص طور سے مسلمان جو مدینہ میں رہتے تھے وہ یہودیوں کو علم میں اپنے سے زیادہ سمجھتے تھے، اس لیے وہ نبی کریم ﷺ کے بارے میں تصدیق کے لیے یہودی علماء کے پاس جاتے تو یہودی علماء ان کو حقیقت سے دور رکھتے اور اپنے اس علم کو چھپاتے جو اللہ نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–42
آیت 39 تا 42: وما ذا علیہم لو امنوا۔۔ ولا یکتمون اللہ حدیثا۔
اگر یہ اللہ پر اور آخرت پر ایمان ہی لے آتے تو ان کا کیا بگڑ جاتا اگر اللہ کے دئیے کو اسی کے حکم کے مطابق خرچ کرتے تو انہیں کوئی نقصان اٹھانا نہ پڑتا بلکہ ایمان باللہ ہی وہ نعمت ہے جو زندگی آسان کردیتی ہے اور ایک ایسا سہارا نصیب ہوجاتا ہے جو مزید کسی سہارے کا محتاج نہیں رہنے دیتا ایمان بالآخرت ہی انسانی معاشرے کی اصلاح کا بنیادی پتھر ہے اگر اللہ اور آخرت پر ایمان نہ ہو تو زندگی جہنم کا نمونہ بن جاتی ہے جس پر مغرب کا خدا فراموش معاشرہ پکار پکار کر شہادت دے رہا ہے کہ حکومت اور اس کے وسائل سب کچھ ہے مگر جرائم پہ قابو نہیں پایا جا رہا کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–42
ف 7 اوپر کی آیتوں میں قیامت کے دن ظلم کی نفی اور کئی گہا اجر کا وعدہ فرمایا اب یہاں بیان فرما جارہا ہے کہا اچھا یا برا بدلہ پیغمبر کی شہادت سے ملے گا جن کو اللہ تعالیٰ نے مخلوق پر حجت بنا کر بھیجا ہے۔ (کبیر) اس مقصود اکفار کو وعید سنانا ہے جو اس موقعہ پر آزاد کرنیگے کاش ہم آدمی نہ ہوتے اور زمین میں مل کر خاک ہوجاتے۔ دیکھئے سورت النبا : 40 بقرۃ : 143 ۔ (ابن کثیر)8 کفار کے متعلق یہ بھی ہے کہ وہ اپنے شرک سے انکار کرینگے (الا نعام :23) مگر یہ آیت اس کے خلاف نہیں ہے کہ انکار کے بعد جب ان کے ہاتھ پاوں ان کے خلاف گواہی دینگے۔ ( سورت فصٰلت آیت :21 ۔ 23) تو پھر اللہ تعالیٰ سے کوئی بات نہیں چھپا سکیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–41
(4:40) مثقال ۔ وزن۔ مثقال ذرۃ۔ ایک ذرہ کے وزن کے برابر۔ ثقل مادہ۔ باب کرم سے اسم آلہ ہے۔
تک۔ اصل میں تکون تھا۔ ان کے عمل سے واؤ حرف علت حذف ہوگیا۔ اور نون کو بھی خلاف قیاس حرف عطف کے مشابہ مان کر کثرت استعمال کے سبب تخفیف کے لئے حذف کردیا گیا کون سے مضارع معروف۔ مجزوم بوجہ جواب شرط۔ مضاعفۃ (مفاعلۃ) مصدر ۔ ھا ضمیر مفعول واحد مؤنث غائب جو حسنۃً کی طرف راجع ہے۔ وہ اس کو بڑھا دیگا۔ دو چند کر دے گا۔
من لدنہ۔ اس کی طرف سے (یہاں) اپنی طرف سے۔ لذن۔ ظرف مکان (ربنا اتنا من لدنک رحمۃ) ات رب ہمارے ہمیں اپنی طرف سے رحمت عطا فرما۔ اور ظرف زمان۔ اقمت عندہ من لدن طلوع الشمس الی غروبھا۔ میں اس کے پاس طلوع…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–40
آیت نمبر 37 – 40
لغات القرآن : رئاء الناس، لوگوں کو دکھانا۔ قرین، ساتھی، ہم نشین۔ ماذا، کیا ؟ ۔ مثقال ذرۃ، ذرا برابر۔ ان تک، اگر ہے۔ یضعفھا، وہ اس کو دوگنا کرتا ہے۔ یؤت، دیتا ہے۔ من لدنہ، اپنے پاس سے (من ، لدن، ہ)
تشریح : گذشتہ آیات میں اللہ کی راہ میں خرچ کرنے پر زور دیا گیا تھا اور بتایا گیا تھا کہ حقوق اللہ کے ساتھ حقوق العباد بھی درجہ بدرجہ کتنے اہم ہیں۔ آیات 37 تا 40 میں بخل پر بحث کی گئی ہے بخیل کی عام پہچان تو یہ ہے کہ وہ خود بھی خرچ نہیں کرتا اور دوسروں کو بھی روکتا ہے۔ وہ زرپرست ہوتا ہے اور یہ بات اس کی فطرت میں داخل ہوتی ہے ۔ لیکن اس سے بڑھ کر کنجوسی کی ایک قسم وہ ہے کہ اپنا مال…
Read the full tafseer →جب ذرہ ذرہ بھر کا قیامت مین اللہ تعالیٰ ان کو اجر دوگنا چوگنا دینے کا وعدہ فرمتا ہے تو پھر کیوں لوگ نیک کاموں سے رک کر اپنے اتنے بڑے اجر کو ضائع کرتے ہیں ، اور دکھاوے کے عمل کیوں کرتے ہیں ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–40
[29] قوام کے معنی ہیں محافظ، مدبر اور منتظم کے اور یہاں مراد یہ ہے کہ مرد عورتوں کے امور کا انتظام کرنے والے، ان کی کفالت کرنے والے اور ان پر احکام نافذ کرنے والے ہیں۔
[30] یعنی مردوں کو عورتوں پر جیسا کہ بعد کی عبارت سے ظاہر ہے۔
[31] مال سے مراد ہے مہر اور نان نفقہ
[32] یعنی ان کے ساتھ ہم بستری موقوف کردو۔
Read the full tafseer →(ف 2) خدائے تعالیٰ اس درجہ رؤف ورحیم ہے کہ باوجود حق واختیار کے وہ کسی کی حق تلفی نہ کرے گا اور نیکیوں کو بڑھاتا رہے گا ار اپنی طرف سے اجر عظیم عنایت فرمائے گا یعنی وہ ہمہ احسان و جمال ہے ‘ ہمارے گناہوں کو بنظر ترحم دیکھے گا اور ہماری حسنات کو بہ نگاہ فضل امتنان ۔
بات یہ ہے کہ اس کی شان کریمی بہر حال آمدہ بخشش ہے ۔ وہ نہیں چاہتا کہ اس کا ایک بھی بندہ جہنم میں جائے ، یہ نیکیوں کو بڑھانا اور گناہ کی تکفیر تو بہانے ہیں اور وسائل وذرائع اپنی آغوش رحمت میں لینے کے اور ظاہر ہے جب تک وہ زائد از استحقاق فضل و عنایات سے کام نہ لے ، عاصی وگنہگار انسان کے لئے نجات کی کیا امید ہو سکتی ہے ، اس کی نعمتیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–41
ف 2 اور ان کا کیا بگڑ جاتا اور ان پر کو سنی آفت نازل ہوجاتی اگر یہ لوگ اللہ تعالیٰ پر ایمان لے آتے اور یوم آخرت کے واقع ہونے کا اعتقاد رکھتے اور اللہ تعالیٰ نے جو کچھ ان کو دیا ہے اس میں سے کچھ خیرات کیا کرتے اور اللہ تعالیٰ ان لوگوں کی حالت کو خوب جانتا ہے۔
یقین جانو ! کہ اللہ تعالیٰ کسی پر ذرہ برابر بھی ظلم نیں کرے گا بلکہ وہ تو ایسا کریم ہے کہ اگر ایک چھوٹی سی نیکی ہوگی تو اپنی مہربانی سے اس کو کئی گنا کر کے اس کا ثواب عنایت کرے گا اور اس ثواب کے علاوہ اپنے پاس سے بطور اپنے انعام کے اور اجر عظیم عطا فرمائے گا یعنی نیکی کو بڑھا کر ثواب ملے اور اپنے پاس سے اور مزید ثواب عظیم عطا فرمائے۔…
Read the full tafseer →ف 6۔ اوپر جن امور کی ترغیب تھی آگے ان کے نہ کرنے پر ترہیب ہے۔
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ کسی پر ظلم نہیں کرتا لیکن لوگ خود اپنے اوپر ظلم کرنے سے باز نہیں آتے :
88: یہ آیت ایک طرح پچھلی آیات کا تکملہ ہے کیونکہ گزشتہ آیات کے مضمون کی تکمیل کرتی ہے۔ پچھلی آیات میں حقوق العباد اور انفاق فی سبیل اللہ کا ذکر تھا اور اس میں یہ بتایا گیا کہ جو شخص اللہ کی راہ میں خرچ کرتا ہے اللہ اس کو خواب جانتا ہے اور اللہ اس کا اجر ضرور دے گا۔ اگر اجر نہ دے تو گویا اس نے ظلم کیا۔ اب فرمایا جا رہا ہے کہ اللہ تو ایک ذرہ برابر بھی کسی پر ظلم نہیں کرتا۔ کیا ہوا ؟ کہ یہ خرچ کنے والے کا برتن بھی خالی نکلا اور اللہ بھی کسی پر ظلم نہیں کرتا یہ بات کیا ہوگئی ، اجر کدھر گیا ؟ فرمایا : ان کو تو بتایا…
Read the full tafseer →The text, then, says: إِنَّ اللَّـهَ لَا يَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ , (40), that is, Allah Almighty does not allow the reward of good deeds from anyone be reduced in any manner or quantity whatsoever. In fact, He adds extra rewards, in multiples, in special Divine favours, and the life of Akhirah will witness this supreme mercy of the Lord.
With Allah, the least human measure of thawab or reward is that one good deed gets recorded as ten. Then, this does not stop at that; through sheer mercy and grace, Allah bestows manifold increase into this treasure of good deeds. Some hadith narrations…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–40
63. Concealing God's bounty is to live, as if God had not bestowed that bounty. If anyone has considerable wealth and yet lives at a standard strikingly lower than that warranted by his income, if he shuns spending on himself and his family, and also on helping other creatures of God, and avoids providing financial support to any philanthropic cause, then he creates the false impression of being in a state of financial stringency. This is sheer ingratitude to God. The Prophet (peace be on him) is reported, according to a tradition, as saying: 'If God confers a bounty on somebody, He would…
Read the full tafseer →