An-Nisaa 4:39

An-Nisaa · from ayah 39

4:39

وَمَاذَا عَلَیْهِمْ لَوْ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَاَنْفَقُوْا مِمَّا رَزَقَهُمُ اللّٰهُ ؕ— وَكَانَ اللّٰهُ بِهِمْ عَلِیْمًا ۟وَمَاذَا عَلَيۡهِمۡ لَوۡ اٰمَنُوۡا بِاللّٰهِ وَالۡيَوۡمِ الۡاٰخِرِ وَاَنۡفَقُوۡا مِمَّا رَزَقَهُمُ اللّٰهُ‌ ؕ وَكَانَ اللّٰهُ بِهِمۡ عَلِيۡمًا

اور اگر یہ لوگ خدا پر اور روز قیامت پر ایمان لاتے اور جو کچھ خدا نے ان کو دیا تھا اس میں سے خرچ کرتے تو ان کا کیا نقصان ہوتا اور خدا ان کو خوب جانتا ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And what [harm would come] upon them if they believed in Allah and the Last Day and spent out of what Allah provided for them? And Allah is ever, about them, Knowing.

— Saheeh International

Juz 5 · Ruku 6 of surah · Ruku 3 of juz

Read the whole surah · Surah An-Nisaa

All translations of 4:39

آخر اِن لوگوں پر کیا آفت آ جاتی اگر یہ اللہ اور روز آخر پر ایمان رکھتے اور جو کچھ اللہ نے دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے اگر یہ ایسا کرتے تو اللہ سے ان کی نیکی کا حال چھپا نہ رہ جاتا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور اگر یہ لوگ خدا پر اور روز قیامت پر ایمان لاتے اور جو کچھ خدا نے ان کو دیا تھا اس میں سے خرچ کرتے تو ان کا کیا نقصان ہوتا اور خدا ان کو خوب جانتا ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

بھلا ان کا کیا نقصان تھا اگر یہ اللہ تعالیٰ پر اور قیامت کے دن پر ایمان ﻻتے اور اللہ تعالیٰ نے جو انہیں دے رکھا ہے اس میں خرچ کرتے، اللہ تعالیٰ انہیں خوب جاننے واﻻ ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

بھلا ان کا کیا بگڑ جاتا اگر یہ اللہ اور یوم آخرت پر ایمان لے آتے اور اللہ نے ان کو جو رزق عطا فرمایا ہے اس میں سے کچھ (نیک کاموں میں) خرچ کردیتے ؟ اور اللہ کو ان کا حال خوب معلوم ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور ان کا کیا نقصان تھا اگر ایمان لاتے اللہ اور قیامت پر اور اللہ کے دیے میں سے اس کی راہ میں خرچ کرتے اور اللہ ان کو جانتا ہے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور ان کا کیا نقصان تھا اگر وہ اللہ پر اور یومِ آخرت پر ایمان لے آتے اور جو کچھ اللہ نے انہیں دیا تھا اس میں سے (اس کی راہ میں) خرچ کرتے، اور اللہ ان (کے حال) سے خوب واقف ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور ان پر کیا آفت آجاتی اگر وہ اللہ اور یوم آخرت پر ایمان لے آتے اور اس میں سے خرچ کرتے جو انھیں اللہ نے دیا ہے اور اللہ ہمیشہ سے انھیں خوب جاننے والا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور ان کا کیا بگڑتا تھا اگر وہ اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان لے آتے اور جو اللہ نے انہیں مال و دولت دیا تھا اس سے (اللہ کی راہ میں) خرچ کرتے۔ اور اللہ انہیں خوب جاننے والا ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

ان کا کیا نقصان تھا اگر یہ اللہ اور روز آخرت پر ایمان لاتے اور اللہ نے ان کو جو کچھ بخش رکھا ہے اس میں سے خرچ کرتے ! اللہ تو ان سے اچھی طرح باخبر ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور کیا ہوجاتا ان (لوگوں) کو ؟ اگر یہ (سچے دل سے) ایمان لے آتے اللہ پر، اور قیامت کے دن پر، اور خرچ کرتے (اللہ کی راہ میں) اس میں سے جو کہ اللہ ہی نے بخشا ہے ان کو (اپنے کرم سے) اور اللہ خوب جاننے والا ہے ان سب کو،

— مولانا اسحاق مدنی

اور انہیں کیا خرابی لاحق ہوجاتی اگر یہ اللہ اور روز آخرت پر ایمان لے آتے اور جو کچھ اللہ نے انہیں دے رکھا ہے اس میں سے خرچ کرتے رہتے۔ اور اللہ ان سے خوب واقف ہے

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

ان لوگوں پر کیا آفت آجاتی اگر یہ اللہ اور یوم آخر پر (صدقِ دل سے) ایمان لے آتے اور خرچ کرتے (کھلے دل کے ساتھ) اس میں سے جو اللہ نے انہیں دیا ہے اور اللہ تعالیٰ ان سے اچھی طرح واقف ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

آخر ان لوگوں پر کیا آفت آجاتی اگر یہ اللہ اور روز آخر پر ایمان رکھتے اور جو کچھ اللہ نے انہیں دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے اور اللہ تعالیٰ انہیں خوب جاننے والا ہے

— محترمہ رفعت اعجاز

What harm would have befallen them if they had believed in Allah and the Last Day, and spent on charity what Allah had bestowed upon them as sustenance? For Allah indeed has full knowledge of them.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

What harm was there for them if they had believed in Allah and the Last Day, and spent out of what Allah had given them. Allah knows all about them.

— Muhammad Taqi Usmani

What harm was there for them if they had believed in Allah and the Last Day, and spent out of what Allah had given them. Allah knows all about them.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And what loss have they if they had believed in Allah and in the Last Day, and they spend out of what Allah has given them for sustenamce And Allah is Ever All-Knower of them.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

What have they (to fear) if they believe in Allah and the Last Day and spend (aright) of that which Allah hath bestowed upon them, when Allah is ever Aware of them (and all they do)?

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And what [harm would come] upon them if they believed in Allah and the Last Day and spent out of what Allah provided for them? And Allah is ever, about them, Knowing.

— Saheeh International

How could it have harmed them if they had believed in God and the Last Day and spent their property for the cause of God? God knows them very well

— Muhammad Sarwar

And what (harm) would it have done them if they had believed in Allah and the last day and spent (benevolently) of what Allah had given them? And Allah knows them.

— Muhammad Habib Shakir

And what would befall them were they to believe in Allah and the Last Day and expend out of that wherewith Allah hath provided them? And of them Allah is ever the Knower.

— Abdul Majid Daryabadi

And what burden Were it on them if they had faith in Allah and in the Last Day, and they spent out of what Allah hath given them for sustenance? For Allah hath full knowledge of them.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 4:39

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 37–39

اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ سے کترانے والے بخیل لوگ ارشاد ہوتا ہے کہ جو لوگ اللہ کی خوشنودی کے موقعہ پر مال خرچ کرنے سے جی چراتے ہیں مثلاً ماں باپ کو دینا قرابت داروں سے اچھا سلوک نہیں کرتے یتیم مسکین پڑوسی رشتہ دار غیر رشتہ دار پڑوسی ساتھی مسافر غلام اور ماتحت کو ان کی محتاجی کے وقت فی سبیل اللہ نہیں دیتے اتنا ہی نہیں بلکہ لوگوں کو بھی بخل اور فی سبیل اللہ خرچ نہ کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔ حدیث شریف میں ہے کونسی بیماری بخل کی بیماری سے بڑھ کر ہے ؟ اور حدیث میں ہے لوگو بخیلی سے بچو اسی نے تم سے اگلوں کو تاخت و تاراج کیا اسی کے باعث ان سے قطع رحمی اور فسق و فجور جیسے برے کام نمایاں ہوئے پھر فرمایا…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 37–40

سورة النِّسَآء 63 اللہ کے فضل کو چھپانا یہ ہے کہ آدمی اس طرح رہے گویا کہ اللہ نے اس پر فضل نہیں کیا ہے۔ مثلاً کسی کو اللہ نے دولت دی ہو اور وہ اپنی حیثیت سے گر کر رہے۔ نہ اپنی ذات اور اپنے اہل و عیال پر خرچ کرے، نہ بندگان خدا کی مدد کرے، نہ نیک کاموں میں حصہ لے۔ لوگ دیکھیں تو سمجھیں کہ بیچارہ بڑا ہی خستہ حال ہے۔ یہ دراصل اللہ تعالیٰ کی سخت ناشکری ہے۔ حدیث میں آیا ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا انّ اللہ اذا انعم نعمة علی عبد احبّ ان یظھر اثرھا علیہ، اللہ جب کسی بندے کو نعمت دیتا ہے تو وہ پسند کرتا ہے کہ اس نعمت کا اثر بندے پر ظاہر ہو۔ یعنی اس کے کھانے پینے، رہنے سہنے، لباس اور مسکن، اور اس کی داد و…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

ربط آیات ماقبل کی آیات میں انکار خدا، انکار آخرت اور بخل وغیرہ کی مذمت مذکور تھی اور ان آیات میں خدا و آخرت پر ایمان اور انفاق فی سبیل اللہ کی ترغیب مذکور ہے اور آخر میں مواقف حشر کا بیان کر کے ان لوگوں کو انجام بد سے ڈرایا گیا ہے جو ایمان نہیں لاتے اور نہ نیک عمل کرتے ہیں۔ خلاصہ تفسیر اور ان پر کیا مصیبت نازل ہوجاوے گی اگر وہ لوگ اللہ تعالیٰ پر اور آخری دن (یعنی قیامت) پر ایمان لے آویں اور اللہ تعالیٰ نے جو ان کو دیا ہے اس میں سے کچھ (اخلاص کیساتھ) خرچ کرتے رہا کریں (یعنی کچھ بھی ضرر نہیں ہر طرح نفع ہی نفع ہے) اور اللہ تعالیٰ ان (کے نیک و بد) کو خوب جانتے ہیں (پس ایمان و انفاق پر ثواب دیں…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 39–40

تفسیر آیت 39- 40۔ وَمَاذَا عَلَيْهِمْ لَوْ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَاَنْفَقُوْا مِمَّا رَزَقَھُمُ اللّٰهُ ۭوَكَانَ اللّٰهُ بِهِمْ عَلِــيْمًا۔ اِنَّ اللّٰهَ لَا يَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ ۚ وَاِنْ تَكُ حَسَنَةً يُّضٰعِفْھَا وَيُؤْتِ مِنْ لَّدُنْهُ اَجْرًا عَظِيْمًا یہ ان تنگ دلوں اور بخیلوں کی بدقسمتی پر اظہار افسوس ہے کہ یہ اللہ اور آخرت پر ایمان لانے اور اللہ کی راہ میں خود اسی کی بخشی ہوئی دولت کو خرچ کرنے میں بڑا خسارہ سمجھتے ہیں۔ حالانکہ یہ خسارے کا سودا نہیں ہے بلکہ سر تا سر نفع ہی نفع ہے۔ اللہ تعالیٰ نہ کسی کے عمل سے بیخبر ہے، نہ ذرہ برابر وہ کسی کی حق تلفی کرنے والا…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 38–40

38۔ 1 بخل (یعنی اللہ کی راہ میں خرچ نہ کرنا) یا خرچ کرنا لیکن ریاکاری یعنی نمود و نمائش کے لئے کرنا۔ یہ دونوں باتیں اللہ کو سخت ناپسند ہیں اور ان کی ندامت کے لئے یہی بات کافی ہے کہ یہاں قرآن کریم میں ان دونوں باتوں کو کافروں کا شیوا اور ان لوگوں کا وطیرہ بتایا ہے جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان نہیں رکھتے اور شیطان ان کا ساتھی ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 36–40

29: قرآن و سنت نے پڑوسیوں کے حقوق کی رعایت اور ان کے ساتھ حسن سلوک کی بڑی تاکید فرمائی ہے پھر پڑوسیوں کے تین درجے اس آیت میں بیان فرمائے گئے ہیں۔ پہلے درجے کو ”جار ذی القربی“ (قریب والا پڑوسی) اور دوسرے کو ”الجار الجنب“ کہا گیا ہے جس کا ترجمہ اوپر دور والے پڑوسی سے کیا گیا ہے۔ پہلے سے مراد وہ پڑوسی ہے جس کا گھر اپنے گھر سے بالکل ملا ہوا ہو، اور دوسرے سے مراد وہ پڑوسی ہے جس کا گھر اتنا ملا ہوا نہ ہو۔ بعض حضرات نے اس کی تفسیر یہ کی ہے کہ پہلے سے مراد وہ پڑوسی ہے جو رشتہ دار بھی ہو، اور دوسرے مراد وہ جو صرف پڑوسی ہو۔ نیز بعض مفسرین نے پہلے کا مطلب مسلمان پڑوسی اور دوسرے کا مطلب غیر مسلم پڑوسی…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 39–40

(آیت) ” وما ذا علیھم لو امنوا باللہ والیوم الاخر وانفقوا مما رزقھم اللہ وکان اللہ بھم علیما (39) ان اللہ لا یظلم مثقال ذرۃ وان تک حسنۃ یضعفھا ویوت من لدنہ اجرا عظیما (40) (4 (39۔ 40) ” آخر ان لوگوں پر کیا آفت آجاتی اگر وہ اللہ اور روز آخر پر ایمان رکھتے اور جو کچھ اللہ نے دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے اور اگر یہ ایسا کرتے تو اللہ سے ان کی نیکی کا حال چھپا نہ رہ جاتا ۔ اللہ کسی پر ذرہ برابر بھی ظلم نہیں کرتا ‘ اگر کوئی ایک نیکی کرے تو اللہ اسے دوچند کرتا ہے اور پھر اپنی طرف سے بڑا اجر عطا فرماتا ہے ۔ ہاں ‘ انہیں کیا ہوجاتا ۔ وہ کیا نقصان ہے ‘ جس کی بابت وہ اللہ اور یوم آخرت پر ایمان لانے سے ڈرتے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

5 یعنی ان کافروں کا کچھ نقصان نہ تھا اگر وہ بجائے کفر اللہ اور دن قیامت پر ایمان لاتے اور بجائے بخل و ریا اللہ کی راہ میں مال کو خرچ کرتے بلکہ ان کا سراسر نفع تھا۔ ضرر تو اس میں ہے جس کو وہ اختیار کر رہے ہیں اور اللہ خوب جانتا ہے کہ وہ کیا اور کس نیت سے کر رہے ہیں۔ اسی کا عوض ان کو ملے گا پہلی آیت میں یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَھُمْ فرمایا تھا۔ مال کو ان کی طرف منسوب کیا تھا۔ اب وانَفَقُوا مِمَّا رَزَقَھُم اللّٰہ فرمایا اس میں لطیف اشارہ ہے کہ وہ لوگ اپنا مال سمجھ کر جس طرح جی چاہتا ہے خرچ کرتے ہیں ان کو چاہیے تھا کہ اللہ کا مال سمجھ کر اس کے حکم کے موافق خرچ کرتے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 37–39

آیت 37 نِ الَّذِیْنَ یَبْخَلُوْنَ وَیَاْمُرُوْنَ النَّاس بالْبُخْلِ ّجن میں یہ شیخی خوری اور اکڑ ہوتی ہے پھر وہ بخیل بھی ہوتے ہیں۔ اس لیے کہ غرور و تکبرعام طور پر دولت کی بنا پر ہوتا ہے۔ انہیں معلوم ہے کہ ہمارے پاس جو دولت ہے اگر یہ خرچ ہوگئی تو ہمارا وہ مقام نہیں رہے گا ‘ لوگوں کی نظروں میں ہماری عزت نہیں رہے گی۔ لہٰذا وہ اپنا مال خرچ کرنے میں کنجوسی سے کام لیتے ہیں۔ اس پر انہیں یہ اندیشہ بھی ہوتا ہے کہ لوگ ہمیں ملامت کریں گے کہ تم بڑے بخیل ہو ‘ چناچہ وہ خود لوگوں کو اس طرح کے مشورے دینے لگتے ہیں کہ بابا اس طرح کھلا خرچ نہ کیا کرو ‘ تم خواہ مخواہ پیسے اڑاتے ہو ‘ عقل کے ناخن لو ‘ کچھ نہ کچھ…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 39–40

72 یعنی اللہ اور آخرت پر ایمان لاتے ہوئے اللہ ہی کے دیئے ہوئے مال میں سے اس کی راہ میں خرچ کرتے تو ان کا نقصان نہیں بلکہ فائدہ ہی تھا کیونکہ اس میں اللہ تعالیٰ کی احسان شناسی بھی ہے اور آخرت میں سینکڑوں گنا اجر بھی۔ نقصان تو اس صورت میں ہے کہ مال بھی ہاتھ سے نکل گیا اور اس کا کچھ ثواب ملنا تو درکنار الٹا عذاب ہوگا اور ریاکار کا یہی انجام ہوگا۔ آخرت کے منکر خسارہ میں ہیں :۔ سیدنا علی ؓ سے منقول ہے کہ انہیں کسی کافر نے کہا کہ جس آخرت پر تم ایمان لاتے ہو وہ محض ایک مفروضہ ہے جسے تم یقینی طور پر ثابت نہیں کرسکتے۔ پھر اس مفروضہ کی بنا پر مختلف قسم کی پابندیاں اپنے آپ پر عائد کرتے ہو مال خرچ کرتے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

133 ۔ (دین کی راہ میں اور اخلاص کے ساتھ) (آیت) ” ماذا علیھم “۔ محاورہ عربی میں ایسے موقع پر آتا ہے جیسے اردو میں کہتے ہیں :۔ کیا غضب ہوجاتا، کون سی بڑی بات تھی !

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 34–40

آیت نمبر 34 تا 42 ترجمہ : مردعورتوں کے حاکم ہیں ان کی تادیب کرتے ہیں اور انکو (ناپسندیدہ باتوں سے) باز رکھتے ہیں، اس سبب سے کہ اللہ نے ان میں سے ایک کو دوسرے پر فضیلت دی ہے یعنی اللہ تعالیٰ نے مردوں کو عورتوں پر اور عقل میں اور ولایت وغیرہ میں فضیلت دے کر اور اس سے مرد عورتوں پر اپنے مال خرچ کرتے ہیں پس نیک فرمانبردار عورتیں اپنے شوہروں کی اطاعت گذار خاوند کی عدم موجودگی میں بحفاظت الہٰی اپنی ناموس وغیرہ کی نگہداشت رکھنے والیاں ہیں اس طریقہ پر کہ شوہروں کو ان کی حفاظت کی تاکید فرمائی۔ اور جن عورتوں کی نافرمانی کا تمہیں خوف ہو اس طریقہ پر کہ اس کی علامات ظاہر ہوں، تو انہیں نصیحت کرو یعنی ان کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وما ذا علیہم لو امنوا باللہ والیوم الاخر . ان کا کیا ہرج ہوتا ان پر کیا آفت آجاتی اگر یہ اللہ اور روزِِ آخرت پر ایمان لے آتے۔ محسن کا شکریہ تو فی نفسہٖ اچھا فعل ہے اس میں نقصان کا تو احتمال ہی نہیں ہوسکتا نہ عقلاً نہ نقلاً ۔ وانفقوا مما رزقہم اللہ . اور جو کثیر مال اللہ نے ان کو دیا ہے اس میں سے کچھ اللہ کی راہ میں اس کی خوشنودی حاصل کرنے اور دس گنے سے سات سو گنے تک ثواب پانے کی امید میں صرف کردیتے۔ کچھ مال خرچ کرنے سے مراد ہے سونے چاندی کا چالیسواں حصہ اور جانوروں میں اس سے بھی کم اور وہ بھی اس صورت میں کہ اپنی ضرورتوں اور ضروری حاجتوں سے زائد ہو (اور مال پر سال بھی گزر جائے) اتنا اور اس غرض…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(39) ان یہود پر حالانکہ ان کا کوئی نقصان نہیں، رسول اللہ ﷺ قرآن کریم بعث بعدالموت اور جنت کی نعمتوں پر اگر یہ ایمان لے آئیں اور جو مال اللہ تعالیٰ نے ان کو دیا ہے وہ اللہ کی راہ میں خرچ کردیں تو ان کے لیے بہتر ہے لیکن اللہ تعالیٰ یہودیوں کو اچھی طرح جانتا ہے کہ انمیں سے کون ایمان لائے گا اور کون نہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 39–40

بخل اور ریاکاری کی مذمت کے بعد ایمان و طاعت اور صدقہ و خیرات کی ترغیب دلائی، پھر مزید ترغیب کے لیے فرمایا کہ جب ذرا ذرا سی چیز کا اللہ تعالیٰ کئی گنا اجر دیتے ہیں، پھر لوگ کیوں نیک کاموں میں سستی کرتے اور ریا کاری سے کام لے کر اپنے اجر کو ضائع کرتے ہیں۔ اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے بندوں کو خبر دی ہے کہ وہ کسی پر ایک ذرہ کے برابر بھی ظلم نہیں کرے گا، بلکہ ایک نیکی ہوگی تو اسے بھی بڑھا چڑھا کر اپنے پاس سے اجر عظیم دے کر نجات کا باعث بنا دے گا۔ ابو سعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے (ایک طویل حدیث) میں فرمایا : ”اللہ تعالیٰ (فرشتوں سے) فرمائے گا، تم جاؤ اور جس کے دل میں رائی کے دانے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر : 39۔ اس آیت میں مامبتدا کی حیثیت سے محل رفع میں ہے اور ذا اس کی خبر ہے، اور ذا بمعنی الذی ہے اور یہ جائز ہے کہ ما اور ذا ایک اسم ہو، پہلی صورت میں تقدیر یوں ہوگی ” وما الذی علیہم اور دوسری صورت میں تقدیر یوں ہوگی ای شیء علیہم (آیت) ” لو امنوا باللہ والیوم الاخر) یعنی ہو واجب الوجود کی اور جو رسول کریم ﷺ آخرت کی تفاصیل میں سے لے کر آئے تھے اس کی تصدیق کرتے اور خرچ کرتے اس سے جو اللہ تعالیٰ نے انہیں عطا کیا تھا (آیت) ” وکان اللہ بھم علیما “۔ اس کا معنی ومفہوم کئی مقامات پر گزر چکا ہے۔

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 37–39

(1) ابن اسحاق وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ کردم بن یزید اتحادی تھا کعب بن اشرف، اسامہ بن حبیب، نافع بن ابی نافع، بحری بن عمر، وحی ابن اخطب، رفاعہ بن زید بن تابوت کا (اور) یہ سب لوگ آئے انصار میں سے کچھ آدمیوں کے پاس (اور) یہ ان کو نصیحت کرتے ہوئے کہنے لگے اپنے مالون کو خرچ نہ کرو ہم اس پینے کے جانے میں تم پر فقر کا ڈر رکھتے ہیں اور خرچ کرنے میں جلدی نہ کرو کیونکہ تم نہیں جانتے کہ آئندہ کیا ہوگا ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا لفظ آیت ” الذین یبخلون ویامرون الناس بالبخل “ سے لے کر ” وکان اللہ بہم علیما “ تک۔ (2) ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ وَمَاذَا : اور کیا ہے ] [ عَلَیْہِمْ : ان پر ] [ لَـوْ : اگر ] [ اٰمَنُوْا : وہ ایمان لائیں ] [ بِاللّٰہِ : اللہ پر ] [ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ : اور آخری دن پر ] [ وَاَنْفَقُوْا : اور خرچ کریں ] [ مِمَّا : اس میں سے جو ] [ رَزَقَہُمُ : عطا کیا ان کو ] [ اللّٰہُ : اللہ نے ] [ وَکَانَ : اور ہے ] [ اللّٰہُ : اللہ ] [ بِہِمْ : ان کو ] [ عَلِیْمًا : جاننے والا ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

پھر فرمایا (وَ مَاذَا عَلَیْھِمْ لَوْ اٰمَنُوْا باللّٰہِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ ) الآیۃ (یعنی یہ لوگ جو کفر میں مبتلا ہیں اللہ تعالیٰ پر ایمان نہیں لاتے اور آخرت کے منکر ہیں اور اللہ کے دیئے ہوئے مال میں سے خرچ نہیں کرتے ان پر کیا وبال آجائے اور کیا ضرر لاحق ہوجائے اگر ایمان لائیں اور اللہ کے دیئے ہوئے مال میں سے خرچ کریں) یہ سوال بطور استفہام انکاری کے ہے۔ بطور زجر و توبیخ یہ سوال کیا ہے اور ان کو توجہ دلائی ہے کہ اپنے طرز زندگی کے بارے میں فکر مند ہوں اور نفع و نقصان کے بارے میں سوچیں۔ اگر غور کریں گے تو ان پر واضح ہوجائے گا کہ ان کا طریقہ غلط ہے اور جو اہل ایمان کا طریقہ ہے اسی کو اختیار…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 34–42

حکم شانزدہم بابت معاشرہ زوجین۔ قال تعالی، الرجال قوامون۔۔۔ الی۔۔۔ خبیرا۔ ربط) گزشتہ آیات میں میراث کے باب میں عورتوں پر مردوں کی فضیلت بیان کی اب ان آیات میں مطلقا مردوں کی فضیلت بیان فرماتے ہیں کہ مردوں کو عورتوں پر ہر طرح کی فضیلت حاصل ہے ذاتی اور عرضی دونوں قسم کی فضیلتیں مردوں کو خدا تعالیٰ نے عطا کی ہیں اور مردوں کو عورتوں پر حاکم بنایا ہے اور ان کو اجازت دی ہے کہ بغرض تادیب واصلاح عورتوں کو تنبہ کریں اور اگر ضرورت پیش آئے تو مارنے کی بھی اجازت ہے تاکہ عورتوں کا شبہ بھی دور ہوجائے کہ مردوں کو دھری میراث کیوں ملتی ہے چناچہ فرماتے کہ مردعورتوں پر دو وجہ سے حاکم اور قائم ہیں مردوں کی وجہ سے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 36–39

29 احکام رعیت بیان کرنے کے بعد اصل مسئلہ توحید کا ذکر فرمایا۔ اُعْبُدُوْا اللہَ صرف خدائے واحد کی عبادت بجا لاؤ صرف اسے ہی پکارو قال ابن عباس المعنی وحدوہ (کبیر ج 3 ص 321) وَلَاتُشْرِکُوْا بِہٖ شَیْئاً اور اس کی عبادت اور پکار میں اس کی کسی مخلوق کو اس کا شریک نہ بناؤ نہ پیغمبروں اور ولیوں کو نہ فرشتوں اور جنوں کو۔ اس کے بعد وَبِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَاناً سے لے کر وَ کَانَ اللہُ بِھِمْ عَلِیْماً تک چار چیزیں بیان کی گئی ہیں (والدین) دوسرے روشتہ داروں، یتیموں، غریبوں، پڑوسیوں، مسافروں غلاموں اور دیگر مستحقین پر احسان کرو۔ حسن سلوک سے پیش آؤ اور ان کی مالی امداد کرو۔ وَالْجَارِ ذِیْ الْقُرْبیٰ…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 39–42

ربط آیات گزشتہ دروس میں یہ بنیادی عقیدہ بیان ہوچکا ہے کہ عبادت صرف اللہ ہی کی کرو۔ اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ ۔ اسی بنیاد پر پھر حقوق العباد کا ذکر کیا کہ والدین کے ساتھ احسان کرو۔ اور یتیموں ، مسکینوں ، پڑوسیوں ، ہم نشینوں ، مسافروں اور غلاموں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آؤ ۔ اسی ضمن میں پھر بخل کی مذمت کی گئی کیونکہ بخیل آدمی اپنے بخل کی وجہ سے دوسروں کے حقوق ادا نہیں کرتا ، بلکہ اپنا مال ریاکاری پر خرچ کرنے کے لیے تیار ہوجاتا ہے۔ ایسا شخص دراصل شیطانی پھندے کا شکار ہوتا ہے جو کہ اسے بنیادی عقیدئہ توحید سے برگشتہ کردیتا ہے جس کی وجہ سے نہ تو اس کا ایمان اللہ کے ساتھ درست ہوتا ہے اور…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَمَاذَا عَلَيْہِمْ لَوْ اٰمَنُوْا بِاللہِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَاَنْفَقُوْا مِمَّا رَزَقَھُمُ اللہُ۝ 0ۭ وَكَانَ اللہُ بِہِمْ عَلِــيْمًا۝ 39 ( ماذا) يستعمل علی وجهين : أحدهما . أن يكون ( ما) مع ( ذا) بمنزلة اسم واحد، والآخر : أن يكون ( ذا) بمنزلة ( الذي) ، فالأوّل نحو قولهم : عمّا ذا تسأل ؟ فلم تحذف الألف منه لمّا لم يكن ما بنفسه للاستفهام، بل کان مع ذا اسما واحدا، وعلی هذا قول الشاعر : دعي ماذا علمت سأتّقيه أي : دعي شيئا علمته . وقوله تعالی: وَيَسْئَلُونَكَ ماذا يُنْفِقُونَ [ البقرة/ 219] ، فإنّ من قرأ : قُلِ الْعَفْوَ بالنّصب فإنّه جعل الاسمین بمنزلة اسم واحد، كأنّه قال : أيّ شيء…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 39–42

ترکیب : ماذا مبتداء علیہم خبر اور صرف ما مبتدا اور ذاموصول علیہم صلہ مجموعہ بھی خبر ہوسکتی ہے۔ لوامنوا الخ شرط لم یضرھم خبر محذوف اس سے ترغیب مقصود ہے لو مصدر یہ بھی ہوسکتا ہے۔ مثقال صفۃ ہے مصدر محذوف کی ای لا یظلم ظلما قدر مثقال ذرۃ ای وزن ذرۃ مصدر اور اس کی صفت کو حذف کرکے مضاف الیہ کو اس کی جگہ قائم کردیا۔ وان تَکُ اصل میں تکن تھا نون صرف کثرت استعمال کی وجہ سے حذف کردیا گیا ہے کیونکہ نون غنہ سکون کی وجہ سے مشابہ ہے اگر حرکت دی جائے گی نون حذف نہ ہوگا جیسا کہ لم یکن الذین وغیرہ میں۔ یومئذ ظرف یودالذین کفروا وعصوا الرسول اس کا فاعل لوتسوی بہم الخ اس کا مفعول لو بمعنی ان۔ تسوی فعل مجہول…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 39–40

وَمَاذَا عَلَیْہِمْ لَواٰمَنُوْا بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَاَنْفَقُوْامِمَّارَزَقَھُمُ اللّٰہُ ط وَکَانَ اللّٰہُ بِھِمْ عَلِیْمًا اِنَّ اللّٰہَ لَایَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ ج وَاِنْ تَـکُ حَسَنَۃً یُّضٰعِفْہَا وَیُؤْتِ مِنْ لَّدُنْـہُ اَجْرًا عَظِیْمًا (اور کیا نقصان تھا ان کا اگر ایمان لاتے اللہ پر اور قیامت کے دن پر اور اللہ نے ان کو جو کچھ عطا کررکھا ہے اس میں سے خرچ کرتے اور اللہ تو ان سے اچھی طرح باخبر ہے اللہ ذرا بھی کسی کی حق تلفی نہیں کرتا اگر ایک نیکی ہو تو اس کو کئی گنا بڑھا دیتا ہے اور خاص اپنے پاس سے بہت بڑا اجر عطا فرماتا ہے) (النسآء : 39 تا 40) متکبروں، بخیلوں، تنگ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 39–40

فہم القرآن ربط کلام : ریا کاری اور بخل سے اجتناب اور انفاق فی سبیل اللہ تبھی قبول ہوسکتا ہے جب اللہ تعالیٰ اور آخرت پر یقین کامل ہو کہ جو کچھ صدقہ وہ کرے یا کوئی عمل کرے گا اللہ تعالیٰ اس کا اجر ضائع نہیں کرتاقیامت کو اس کو پورا پورا اجر ملے گا۔ (عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ مَنْ تَصَدَّقَ بِعَدْلِ تَمْرَۃٍ مِّنْ کَسْبٍ طَیِّبٍ وَّلَا یَقْبَلُ اللّٰہُ إِلَّا الطَّیِّبَ فَإِنَّ اللّٰہَ یَتَقَبَّلُھَا بِیَمِیْنِہٖ ثُمَّ یُرَبِّیْھَا لِصَاحِبِہٖ کَمَا یُرَبِّیْ أَحَدُکُمْ فُلُوَّہٗ حَتّٰی تَکُوْنَ مِثْلَ الْجَبَلِ ) [ رواہ البخاری : کتاب الزکوۃ، باب الصدقۃ من کسب طیب…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 39 : وَمَاذَا عَلَیْہِمْ لَوْ ٰامَنُوْا بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَاَنْفَقُوْا مِمَّا رَزَقَہُمُ اللّٰہُ (ان کا کیا نقصان ہوتا اگر یہ اللہ تعالیٰ اور روز آخرت پر ایمان لے آتے اور اس میں سے خرچ کرتے جو اللہ تعالیٰ نے ان کو رزق دیا ہے) ان کے ایمان پر کیا وبال پڑتا۔ اور انفاق فی سبیل اللہ پر کیا بوجھ پڑتا۔ دراصل اس انداز سے ان کی مذمت و توبیخ کی گئی ہے۔ ورنہ تو ہر منفعت اور مصلحت اس میں یہی حکم رکھتی ہے۔ یہ اسی طرح بات ہے جیسے نافرمان بیٹے کو کہا جائے۔ اگر تو نیک ہوتا تو تیرا کیا نقصان تھا ؟ اور یہ بات معلوم ہوچکی کہ نیکی میں تو کوئی مضرت نہیں۔ لیکن حقیقت میں یہ تو بیخ و مذمت ہے۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

39۔ (آیت)” وما ذا علیھم “۔ ان پر کیا ہوتا ان پر کیا حرج ہوتا ، (آیت)” لوامنوا باللہ ۔۔۔۔۔ تا۔۔۔۔۔۔ وکان اللہ بھم علیما “۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 37–39

(37 ۔ 39) ۔ ابن جریر میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے اور ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر سے جو شان نزول ان آیت کی بیان کی ہے۔ اس کا حاصل یہ ہے کہ یہود لوگ آنحضرت ﷺ کے اوصاف کو جن کا ذکر تورات میں چھپاتے تھے یہ تو علم کے چھپانے کا بخل ہو علاوہ اس کے وہ لوگ صدقہ اور خیرات میں خود بھی بخیلی کرتے تھے اور انصار کے جن لوگوں سے ان کی جان پہچان تھی اس کو بھی خیرات سے ہاتھ روکنے کی نصیحت کرتے تھے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں 5۔ مسلم میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جس نیک عمل میں دکھاوے کی شرکت ہے وہ عمل ہرگز قبول نہیں ہے 1۔ اور ترمذی میں حضرت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 39–41

آیت 39 یعنی ان کے لئے کون سا حرج اور ان پر کون سی مشقت ہے اگر وہ اللہ تعالیٰ پر ایمان لے آئیں، جو کہ سراسر اخلاص ہے، پھر اللہ تعالیٰ کے راستے میں وہ مال خرچ کریں جو اللہ تعالیٰ نے ان کو عطا کیا ہے اور جس مال سے ان کو نوازا ہے۔ تب اس صورت میں وہ اخلاص اور انفاق کو جمع کریں گے۔ چونکہ اخلاص ایک ایسی چیز ہے جو اللہ تعالیٰ اور بندے کے درمیان ایک سرنہاں ہے جس کی اطلاع صرف اللہ تعالیٰ ہی کو ہوتی ہے، اس لئے اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ہے کہ وہ بندے کے تمام احوال کو جانتا ہے، چناچہ : (وکان اللہ بھم علیماً ) ” اللہ ان سب کو خوب جانتا ہے “

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 39–41

قول باری ہے (وماذاعلیھم لوامنوا بااللہ والیوم الاخر وانفقوا ممارزقھم اللہ ، آخر ان لوگوں پر کیا آفت آجاتی ہے اگر یہ اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھتے اور جو کچھ اللہ نے دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ۔ یہ آیت فرقہ جبریہ کے مذہب کے بطلان پر دلالت کرتی ہے کیونکہ اگر یہ لوگ اللہ پر ایمان لانے اور اپنامال اس کی راہ میں خرچ کرنے کی استطاعت نہ رکھتے تو ان کے متعلق آیت میں کہی ہوئی بات درست نہ ہوتی اس لیے کہ ان کا عذر واضح ہے اور وہ یہ کہ جس بات کی طرف انہیں بلایاجارہا ہے اس کی نہ انہیں استطاعت ہے اور نہ ہی قدرت۔ جس طرح کسی اندھے کے متعلق یہ کہنا درست نہیں کہ اگر وہ دیکھ لیتا تو اس پر کیا آفت آجاتی،…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 39–40

99 ایمان صادق کیلئے ترغیب وتحریض : سو ارشاد فرمایا گیا کہ کیا ہوجاتا ان کو کہ اگر یہ لوگ ایمان لے آئے اللہ پر اور قیامت کے دن پر۔ سو یہ ان کے لئے زجر و توبیخ بھی ہے، اور تحریض و ترغیب بھی۔ کہ یہ منافقت چھوڑ کر سچے دل سے ایمان لے آئیں تاکہ ایمان صادق کے ثمرات اور اس کی برکات سے دارین میں مستفید و متمتع ہو سکیں۔ سو منافقت میں خود انہی لوگوں کا نقصان ہے اور صدق ایمان و یقین کی دولت میں خود انہی کا بھلا اور فائدہ ہے، کہ صدق ایمان و یقین کے بعد کئے جانے والے ہر عمل کا اللہ تعالیٰ کے یہاں وزن اور اس کی کوئی قدر و قیمت ہوسکتی ہے۔ جبکہ منافقت والے عمل کی اس کے یہاں کوئی قدر و قیمت نہیں ۔ وَالْعِیَاذ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 39–40

کفار اور بخیل غور کریں تشریح : پچھلی آیات میں بخل کا ذکر کیا گیا ہے اصل میں ان یہودیوں کی طرف اشارہ ہے جو نہ صرف مال خرچ کرنے میں ہی کنجوسی کرتے تھے، بلکہ علم کے بارے میں بھی کنجوسی کرتے تھے وہ اس طرح کہ اصل مسئلہ لوگوں کو نہ بتاتے تھے حتیٰ کہ نبی کریم ﷺ کی آمد اور قرآن مجید کے بارے میں تورات میں صاف صاف بتایا گیا تھا مگر وہ اس بات کو لوگوں سے چھپاتے تھے اور خاص طور سے مسلمان جو مدینہ میں رہتے تھے وہ یہودیوں کو علم میں اپنے سے زیادہ سمجھتے تھے، اس لیے وہ نبی کریم ﷺ کے بارے میں تصدیق کے لیے یہودی علماء کے پاس جاتے تو یہودی علماء ان کو حقیقت سے دور رکھتے اور اپنے اس علم کو چھپاتے جو اللہ نے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 39–42

آیت 39 تا 42: وما ذا علیہم لو امنوا۔۔ ولا یکتمون اللہ حدیثا۔ اگر یہ اللہ پر اور آخرت پر ایمان ہی لے آتے تو ان کا کیا بگڑ جاتا اگر اللہ کے دئیے کو اسی کے حکم کے مطابق خرچ کرتے تو انہیں کوئی نقصان اٹھانا نہ پڑتا بلکہ ایمان باللہ ہی وہ نعمت ہے جو زندگی آسان کردیتی ہے اور ایک ایسا سہارا نصیب ہوجاتا ہے جو مزید کسی سہارے کا محتاج نہیں رہنے دیتا ایمان بالآخرت ہی انسانی معاشرے کی اصلاح کا بنیادی پتھر ہے اگر اللہ اور آخرت پر ایمان نہ ہو تو زندگی جہنم کا نمونہ بن جاتی ہے جس پر مغرب کا خدا فراموش معاشرہ پکار پکار کر شہادت دے رہا ہے کہ حکومت اور اس کے وسائل سب کچھ ہے مگر جرائم پہ قابو نہیں پایا جا رہا کہ…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 39–42

ف 7 اوپر کی آیتوں میں قیامت کے دن ظلم کی نفی اور کئی گہا اجر کا وعدہ فرمایا اب یہاں بیان فرما جارہا ہے کہا اچھا یا برا بدلہ پیغمبر کی شہادت سے ملے گا جن کو اللہ تعالیٰ نے مخلوق پر حجت بنا کر بھیجا ہے۔ (کبیر) اس مقصود اکفار کو وعید سنانا ہے جو اس موقعہ پر آزاد کرنیگے کاش ہم آدمی نہ ہوتے اور زمین میں مل کر خاک ہوجاتے۔ دیکھئے سورت النبا : 40 بقرۃ : 143 ۔ (ابن کثیر)8 کفار کے متعلق یہ بھی ہے کہ وہ اپنے شرک سے انکار کرینگے (الا نعام :23) مگر یہ آیت اس کے خلاف نہیں ہے کہ انکار کے بعد جب ان کے ہاتھ پاوں ان کے خلاف گواہی دینگے۔ ( سورت فصٰلت آیت :21 ۔ 23) تو پھر اللہ تعالیٰ سے کوئی بات نہیں چھپا سکیں…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(4:39) وما ذاعلیہم۔ اور کیا تکلیف ہوتی ان کو۔ اور کیا مصیبت آجاتی ان پر۔ اور کیا نقصان ہوتا ان کا۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 37–40

آیت نمبر 37 – 40 لغات القرآن : رئاء الناس، لوگوں کو دکھانا۔ قرین، ساتھی، ہم نشین۔ ماذا، کیا ؟ ۔ مثقال ذرۃ، ذرا برابر۔ ان تک، اگر ہے۔ یضعفھا، وہ اس کو دوگنا کرتا ہے۔ یؤت، دیتا ہے۔ من لدنہ، اپنے پاس سے (من ، لدن، ہ) تشریح : گذشتہ آیات میں اللہ کی راہ میں خرچ کرنے پر زور دیا گیا تھا اور بتایا گیا تھا کہ حقوق اللہ کے ساتھ حقوق العباد بھی درجہ بدرجہ کتنے اہم ہیں۔ آیات 37 تا 40 میں بخل پر بحث کی گئی ہے بخیل کی عام پہچان تو یہ ہے کہ وہ خود بھی خرچ نہیں کرتا اور دوسروں کو بھی روکتا ہے۔ وہ زرپرست ہوتا ہے اور یہ بات اس کی فطرت میں داخل ہوتی ہے ۔ لیکن اس سے بڑھ کر کنجوسی کی ایک قسم وہ ہے کہ اپنا مال…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 37–39

یہود لوگ جو آنحضرت ﷺ کی صفت بیان کرنے میں بخل کرتے اور چھپاتے تھے ا، صدقہ اور خیرات میں خود بھی بخیلی کرتے تھے ۔ اس پر یہ آیتین نازل فرمائین کہ جس نیک عمل میں دکھاوے کی شرکت ہے وہ عمل ہرگز قبول نہیں ۔ بخل اور بدچزاجی یہ دو خصلتیں کسی مسلمان میں نہین ہونی چاہئیں ۔ ہر آدمی کے ساتھ ایک شیطان اور ایک فرشتہ رہا ہے ۔ شیطان ہمیشہ برے کاموں کی رغبت دلاتا ہے اور فرشتہ اچھے کاموں کی ۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 34–40

[29] قوام کے معنی ہیں محافظ، مدبر اور منتظم کے اور یہاں مراد یہ ہے کہ مرد عورتوں کے امور کا انتظام کرنے والے، ان کی کفالت کرنے والے اور ان پر احکام نافذ کرنے والے ہیں۔ [30] یعنی مردوں کو عورتوں پر جیسا کہ بعد کی عبارت سے ظاہر ہے۔ [31] مال سے مراد ہے مہر اور نان نفقہ [32] یعنی ان کے ساتھ ہم بستری موقوف کردو۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

(ف 1) ان آیات میں بتایا ہے کہ انفاق فی سبیل اللہ کے معنی یہ ہیں کہ اس میں کسی ریا کاری کو دخل نہ ہو اور نہ کوئی شیطانی جذبہ اس میں کار فرما ہو ۔ خالصۃ اللہ کے لئے ، اللہ کے بتائے ہوئے طریق کے مطابق خرچ کیا جائے ، اگر خدا پر یقین نہ ہو اور آخرت سے دل لرزاں نہ ہو تو یاد رکھیے کوئی عمل قابل قبول نہیں ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

Explained with ayahs 38–39

ف 1 وہ متکبر و فخور جو خود بھی بخل کرتے ہوں اور دوسروں لوگوں کو بھی اپنے قول و فعل سے بخل کی تعلیم دیتے ہوں اور بخل کرنا سکھاتے ہوں اور وہ اس چیز کو چھپاتے ہوں جو اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے ان کو عطا فرمائی ہے اور ہم نے ایسے فرمانوں اور ناسپاسوں کے لئے اہانت آمیز اور ذلیل کرنے والا عذاب تیار کر رکھا ہے اور اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو بھی پسند نہیں فرماتا جو لوگ اپنے مال لوگوں کو دکھانے کی غرض سے خرچ کرتے ہیں اور نہ اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتے ہیں اور نہ یوم آخرت پر اعتقاد رکھتے ہیں اور بات تو یہ ہے کہ جس کا ساتھی اور مصاحب شیطان ہو تو وہ برا ساتھی اور برا مصاحب ہے۔ (تیسیر) مطلب یہ ہے کہ اہل حقوق…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اللہ اور اس کے رسول پر ایمان نہ رکھنے کا نقصان کیا ہوا ؟ کاش ! یہ بات وہ سمجھ جائے : 87: رضائے الٰہی میں خرچ کرنے والا بھی خرچ کرتا ہے اور نام و نمود حاصل کرنے والا بھی۔ خرچ تو دونوں نے کیا لیکن فائدہ میں کون رہا ؟ وہی جس کی واہ واہ ہوئی کہ سودا نقد بہ نقد ہوگیا۔ ہاتھ سے مال دیا اور کان نے واہ واہ سن لی اور وہ سر دھن کر رہ گیا۔ رضائے الٰہی میں خرچ کرنے والا ایک روز مر گیا اور نام و نمود کے لیے خرچ کرنے والا بھی۔ کیے گئے اعمال سامنے لائے گئے۔ ایک کی اجرت محفوظ تھی کیونکہ اس نے اس کو اس وقت کے لیے محفوظ رکھا تھا اور دوسرے کا حساب بےباک تھا اس لیے اس کو سوائے افسوس کے کچھ حاصل نہ ہوا۔ اب بتاؤ کہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Previous verses carried the condemnation of those who refused to believe in Allah and in the Akhirah and were miserly. The present verses persuade people to believe in Allah and the Akhirah and engage in the gainful activity of spending in the way of Allah. Then, towards the end (41-42), a description of the trying situations prevailing on the plains of Resurrection appears to warn people, who refuse to believe and refuse to do what is good, of their evil end. Commentary In the first verse (39): وَمَاذَا عَلَيْهِمْ لَوْ آمَنُوا بِاللَّـهِ it is said: What conceivable harm could have affected…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 37–40

63. Concealing God's bounty is to live, as if God had not bestowed that bounty. If anyone has considerable wealth and yet lives at a standard strikingly lower than that warranted by his income, if he shuns spending on himself and his family, and also on helping other creatures of God, and avoids providing financial support to any philanthropic cause, then he creates the false impression of being in a state of financial stringency. This is sheer ingratitude to God. The Prophet (peace be on him) is reported, according to a tradition, as saying: 'If God confers a bounty on somebody, He would…

Read the full tafseer →