حقوق العباد اور حقوق اللہ
اللہ تبارک وتعالیٰ اپنی عبادت کا حکم دیتا ہے اور اپنی توحید کے ماننے کو فرماتا ہے اور اپنے ساتھ کسی کو شریک کرنے سے روکتا ہے اس لئے کہ جب خالق رزاق نعمتیں دینے والا تمام مخلوق پر ہر وقت اور ہر حال میں انعام کی بارش برسانے والا صرف وہی ہے تو لائق عبادت بھی صرف وہی ہوا۔ حضرت معاذ ؓ سے جناب رسول اللہ ﷺ بہت زیادہ جاننے والے ہیں آپ نے فرمایا یہ کہ وہ اسی کی عبادت کریں اسی کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں پھر فرمایا جانتے ہو جب بندے یہ کریں تو ان کا حق اللہ تعالیٰ کے ذمہ کیا ہے ؟ یہ کہ انہیں وہ عذاب نہ کرے، پھر فرماتا ہے ماں باپ کے ساتھ احسان کرتے رہو وہی تمہارے عدم سے وجود…
Read the full tafseer →سورة النِّسَآء 62
متن میں ”الصاحب بالجنب“ فرمایا گیا ہے جس سے مراد ہم نشین دوست بھی ہے اور ایسا شخص بھی جس سے کہیں کسی وقت آدمی کا ساتھ ہوجائے۔ مثلاً آپ بازار میں جا رہے ہوں اور کوئی شخص آپ کے ساتھ راستہ چل رہا ہو، یا کسی دکان پر آپ سودا خرید رہے ہوں اور کوئی دوسرا خریدار بھی آپ کے پاس بیٹھا ہو، یا سفر کے دوران میں کوئی شخص آپ کا ہم سفر ہو۔ یہ عارضی ہمسائیگی بھی ہر مہذب اور شریف انسان پر ایک حق عائد کرتی ہے جس کا تقاضا یہ ہے کہ وہ حتی الامکان اس کے ساتھ نیک برتاؤ کرے اور اسے تکلیف دینے سے مجتنب رہے۔
Read the full tafseer →ربط آیات
سورة نساء کی تفسیر میں آپ دیکھتے آئے ہیں کہ اس سورت میں حقوق العباد کا زیادہ اہتمام کیا گیا ہے، شروع سورت سے یہاں تک عام انسانی حقوق کی اہمیت کا اجمالی تذکرہ فرمانے کے بعد یتیموں اور عورتوں کے حقوق کا اہتمام اور ان میں کوتاہی پر سزا، وعید اور اس دنیا میں جو ان کی دو صنف ضعیف یعنی بچوں اور عورتوں کے ساتھ ظلم روا رکھا گیا اور ظالمانہ رسمیں اختیار کی گئیں ان کی اصلاح کا اور پھر وراثت کے حقوق کا بیان آیا ہے، اس کے بعد والدین اور دوسرے رشتہ داروں اور تعلق داروں اور پڑوسیوں اور عام انسانوں کے حقوق کا کچھ تفصیلی بیان آ رہا ہے اور چونکہ ان حقوق کو علی سبیل الکمال وہی شخص ادا کرسکتا ہے جو…
Read the full tafseer →آگلی آیات 36 تا 43 کا مضمون : اب آگے یہ خاتمہ باب کی آیات ہیں۔ معاشرتی احکام و ہدایات کا سلسلہ جو شروع سے چلا آرہا تھا وہ ان آیات پر ختم ہو رہا ہے جس طرح اللہ سے ڈرتے رہنے کی ہدایت سے اس باب کا آغاز فرمایا تھا اسی طرح اللہ کی عبادت کرتے رہنے کی ہدایت پر اس کو ختم کیا۔ اللہ تعالیٰ کا حق سب سے بڑا ہے۔ جو لوگ اس حق کو کما حقہ ادا کرتے رہیں گے درحقیقت وہی دوسروں کے حقوق ادا کرنے کی توفیق پائیں گے۔ چناچہ اس حق کی یاد دہانی کے بعد بالاجمال والدین، اقربا، یتامی، مساکین، پڑوسی، مسافر اور لونڈی غلام سب کے حقوق کی یاد دہانی فرما دی۔ اللہ کا حق اس کی عبادت ہے اور اس کو باطل کرنے والی چیز شرک ہے اس وجہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–37
36۔ 1 الجار، الجنب، قرابت دار پڑوسی کے مقابلے میں استعمال ہوا ہے۔ جس کے معنی ایسا پڑوسی جس سے قرابت داری نہ ہو۔ مطلب یہ ہے کہ پڑوسی سے بہ حیثیت پڑوسی کے حسن و سلوک کیا جائے رشتہ دار ہو یا غیر رشتہ دار، جس طرح کہ حدیث میں بھی اس کی بڑی تاکید کی گئی ہے۔
36۔ 2 اس سے مراد رفیق سفر، شریک کار، بیوی اور وہ شخص ہے جو فائدے کی امید پر کسی کی قربت و ہم نشینی اختیار کرے بلکہ اسکی تعریف میں وہ لوگ بھی آسکتے ہیں جنہیں تحصیل علم، تعلم صناعت (کوئی کام سیکھنے) کے لئے یا کسی کاروباری سلسلہ میں آپ کے پاس بیٹھنے کا موقع ملے (فتح القدیر)
36۔ 3 اس میں گھر، دکان اور کارخانوں، ملوں کے ملازم اور نوکر چاکر بھی آجاتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–40
29: قرآن و سنت نے پڑوسیوں کے حقوق کی رعایت اور ان کے ساتھ حسن سلوک کی بڑی تاکید فرمائی ہے پھر پڑوسیوں کے تین درجے اس آیت میں بیان فرمائے گئے ہیں۔ پہلے درجے کو ”جار ذی القربی“ (قریب والا پڑوسی) اور دوسرے کو ”الجار الجنب“ کہا گیا ہے جس کا ترجمہ اوپر دور والے پڑوسی سے کیا گیا ہے۔ پہلے سے مراد وہ پڑوسی ہے جس کا گھر اپنے گھر سے بالکل ملا ہوا ہو، اور دوسرے سے مراد وہ پڑوسی ہے جس کا گھر اتنا ملا ہوا نہ ہو۔ بعض حضرات نے اس کی تفسیر یہ کی ہے کہ پہلے سے مراد وہ پڑوسی ہے جو رشتہ دار بھی ہو، اور دوسرے مراد وہ جو صرف پڑوسی ہو۔ نیز بعض مفسرین نے پہلے کا مطلب مسلمان پڑوسی اور دوسرے کا مطلب غیر مسلم پڑوسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–38
(آیت) ” نمبر 36 تا 43۔
یہ پیرا گراف اس حکم سے شروع ہوتا ہے کہ صرف اللہ کی بندگی کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو اور یہ حکم واؤ کے ساتھ شروع ہوتا ہے جو حرف عطف ہے ۔ حرف عطف اس امر اور نہی کو سابقہ احکام کے ساتھ مربوط کردیتا ہے جو ادارہ خاندان کی تنظیم اور شیرازہ بندی سے متعلق ہیں اور جن کا ذکر سابقہ سبق کے آخر تک ہوا ۔ واؤ عطف سے معلوم ہوتا ہے کہ اس دین کا ایک ہی کلیہ اور اصول ہے اور وہی تمام امور کے درمیان رابطہ ہے یعنی پوری زندگی میں بندگی صرف اللہ کی کی جانی چاہئے اور یہ کہ اسلام صرف عقیدے اور چند نظریات کا نام نہیں ہے جو کسی انسان کے ضمیر میں پختہ طور پر بیٹھے ہوں نہ اسلام چند…
Read the full tafseer →1 یعنی عبادت اور نیک عمل خدا پر یقین کر کے اور ثواب آخرت کی توقع سے کرو فخر اور ریا سے مال دینا یہ بھی شرک ہے گو کم درجہ کا ہے۔
2 یتامی اور نساء اور ورثاء اور زوجین کے حقوق اور ان کے ساتھ حسن معاملہ کو بیان فرما کر اب یہ ارشاد ہے کہ ہر ایک کا حق درجہ بدرجہ تعلق کے موافق اور حاجت مندی کے مناسب ادا کرو۔ سب سے مقدم اللہ تعالیٰ کا حق ہے، پھر ماں باپ کا۔ پھر درجہ بدرجہ سب واسطہ داروں اور حاجت مندوں کا اور ہمسایہ قریب اور غیر قریب سے مراد قرب و بعد نسبی ہے یا قرب و بعد مکانی۔ صورت اولیٰ میں یہ مطلب ہوگا کہ ہمسایہ قرابتی کا حق ہمسایہ اجنبی سے زیادہ ہوگا اور صورت ثانیہ کا مدعا یہ ہوگا کہ پاس کے…
Read the full tafseer →اس سے قبل سورة البقرۃ آیت 83 میں بنی اسرائیل سے لیے جانے والے میثاق کا ذکر آیا تھا۔ اس میثاق میں جو باتیں مذکور تھیں وہ گویا امہات شریعت یا دین کی بنیادیں ہیں۔ ارشاد ہوا : اور یاد کرو جب ہم نے بنی اسرائیل سے عہد لیا تھا کہ تم نہیں عبادت کرو گے کسی کی سوائے اللہ کے ‘ اور والدین کے ساتھ نیک سلوک کرو گے اور قرابت داروں ‘ یتیموں اور محتاجوں کے ساتھ بھی ‘ اور لوگوں سے اچھی بات کہو ‘ اور نماز قائم رکھو اور زکوٰۃ ادا کرو“۔ اب یہ دوسرا مقام آ رہا ہے کہ شریعت کے اندر جو چیزیں اہم تر ہیں اور جنہیں معاشرتی سطح پر مقدم رکھنا چاہیے وہ بیان کی جا رہی ہیں۔
فرمایا :
آیت 36 وَاعْبُدُوا اللّٰہَ وَلاَ…
Read the full tafseer →63 شرک کے لیے دیکھیے اسی سورة کا حاشیہ نمبر 80، اور حاشیہ نمبر 154)
64 والدین سے حسن سلوک کے لیے دیکھیے سورة بنی اسرائیل کا حاشیہ نمبر 25 تا 28۔ اوراقرباء سے حسن سلوک کے لیے دیکھیے سورة نساء کا حاشیہ نمبر 3۔
65 یتیموں سے حسن سلوک کے لیے دیکھیے سورة نساء کی آیات 2 تا 6 کے حواشی۔
66 ہمسایہ سے بہتر سلوک :۔ ہمسایوں سے بہتر سلوک کے لیے درج ذیل احادیث ملاحظہ فرمائیے :
1۔ آپ نے فرمایا جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر یقین رکھتا ہو وہ اپنے ہمسایہ کو تکلیف نہ پہنچائے (بخاری، کتاب النکاح، باب الوصاۃ بالنساء۔۔ مسلم، کتاب الایمان، باب الحث علیٰ اکرام الجار)
2۔ ایک دفعہ آپ نے تین بار یہ الفاظ دہرائے اللہ کی…
Read the full tafseer →126 ۔ (نہ ذات میں نہ صفات میں)
127 ۔ حسن سلوک کی تاکید والدین سے لے کر غلاموں اور باندیوں تک معاشرہ کے ہر ہر طبقہ کے ساتھ ! اور پھر اس حکم کا عطف توحید الہی پر ! دنیا کی کسی دوسری آسمانی کتاب میں اس بےنظیر تعلیم کی نظیر ملے گی ؟ اور اسی کے ساتھ محققین کی یہ تصریح کہ ” اہل حقوق اگر کافر ہوں تب بھی ان کے ساتھ احسان کرے، التبہ مسلمان کا حق اسلام کی وجہ سے ان سے زائد ہوگا۔ “ (تھانوی (رح) (آیت) ” والجار “۔ حدیث میں آیا ہے جیسا مفسرین نے محدث ابو نعیم اور محدث بزار کے حوالہ سے لکھا ہے کہ پڑوسی تین قسم کے ہیں۔ ( 1) ایک وہ جن پر تہرے حق ثابت ہیں۔ حق جوار، حق قرابت، حق اسلام، (2) دوسرے وہ جن پر دوہرے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–40
آیت نمبر 34 تا 42
ترجمہ : مردعورتوں کے حاکم ہیں ان کی تادیب کرتے ہیں اور انکو (ناپسندیدہ باتوں سے) باز رکھتے ہیں، اس سبب سے کہ اللہ نے ان میں سے ایک کو دوسرے پر فضیلت دی ہے یعنی اللہ تعالیٰ نے مردوں کو عورتوں پر اور عقل میں اور ولایت وغیرہ میں فضیلت دے کر اور اس سے مرد عورتوں پر اپنے مال خرچ کرتے ہیں پس نیک فرمانبردار عورتیں اپنے شوہروں کی اطاعت گذار خاوند کی عدم موجودگی میں بحفاظت الہٰی اپنی ناموس وغیرہ کی نگہداشت رکھنے والیاں ہیں اس طریقہ پر کہ شوہروں کو ان کی حفاظت کی تاکید فرمائی۔ اور جن عورتوں کی نافرمانی کا تمہیں خوف ہو اس طریقہ پر کہ اس کی علامات ظاہر ہوں، تو انہیں نصیحت کرو یعنی ان کو…
Read the full tafseer →واعبدوا اللہ . اور اللہ کی عبادت کرو (جوہری کی) صحاح میں ہے کہ عبودیت کا معنی ہے کمزوری اور عجز کا اظہار۔ لیکن عبادت کے معنی میں عبودیت کے مفہوم سے زیادہ زور ہے عبادت کا معنی ہے انتہائی کمزوری اور عاجزی کا اظہار (اسی لئے عبودیت کا اطلاق انسانوں پر بھی ہوسکتا ہے مگر) عبادت کا استحقاق صرف اسی کے لئے ہے جو عظمت و ربوبیت کی چوٹی پر فائز ہے۔
ولا تشرکوا بہ شیئا . اور کسی چیز کو (عبادت میں) اس کا شریک نہ قرار دو ۔ شیئاً میں تنوین تحقیر کو ظاہر کرنے کے لئے ہے یعنی اللہ کی بزرگی غیر متناہی ہے اس کے مقابلہ میں ہر ممکن خواہ کتنا ہی بڑا ہو حقیر ہے (پس تم حقیر کو الہٰ اعظم کی عبادت میں شریک نہ بناؤ) اس…
Read the full tafseer →(36) اللہ تعالیٰ کی توحید بیان کرو اور بتوں کو اس کا شریک مت ٹھہراؤ یہ حقوق اللہ ہیں اور حقوق العباد میں سب سے پہلا حق والدین کا ہے اس لیے اپنے والدین کے ساتھ نیکی کا معاملہ کرو، اسی طرح اہل قرابت اور یتیموں کے ساتھ حسن سلوک کرو نیزیتیموں کے اموال کی حفاظت کرو اور غریبوں کو صدقہ خیرات دو اور ایسا پڑوسی جس کے ساتھ رشتہ داری ہو اس کے تین حق ہیں ، (1) قرابت کا حق (2) اسلام کا اور دوسرے صحبت کا حق تم یہ تمام حقوق ادا کرو اور مہمان کے ساتھ بھی حسن سلوک کرو اور مہمان نوازی تین دن ہے، باقی احسان ہے اور خادموں کیساتھ بھی حسن سلوک کرو خواہ وہ غلام ہوں یا باندیاں، جو اللہ تعالیٰ کی نعمتوں پر اترا کر اس…
Read the full tafseer →وَاعْبُدُوا اللّٰهَ۔۔ : میاں بیوی کے معاملات کے بعد دوسرے حقوق والوں کے ساتھ احسان کا ذکر ہے، مگر ابتداء اللہ تعالیٰ کی عبادت کے حکم اور شرک سے منع کرنے سے کی ہے، کیونکہ ہر کام کی ابتدا اس سے ہوتی ہے، جیسا کہ اس سورت کا موضوع عموماً عورتوں کے مسائل ہیں، مگر سورت کی ابتدا (اتَّقُوْا رَبَّكُمُ الَّذِيْ خَلَقَكُمْ) سے کی ہے۔ (ابن عاشور)
وَلَا تُشْرِكُوْا بِهٖ شَـيْـــــًٔـا : یعنی کسی چیز کو کسی صورت میں اس کا شریک نہ بنانا۔ اس کا شریک نہ بنانا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو ہر چیز کا مالک و مختار تسلیم کیا جائے اور اس کی کسی صفت میں کسی زندہ یا مردہ مخلوق کو شریک قرار نہ دیا جائے، تمام مرادیں اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–36
آیت نمبر : 35۔ 36
اس آیت میں پانچ مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر : (1) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” وان خفتم شقاق بینھما “۔ الشقاق کا معنی سورة بقرہ میں گزر چکا ہے، گویا میاں، بیوی میں سے ہر ایک اپنی اپنی طرف لیتا ہے، (آیت) ” وان خفتم شقاق بینھما “۔ مصدر کو ظرف کی طرف مضاف کیا گیا ہے جیسا کہ تیرا قول یعجبنی سیراللیلۃ المقمرۃ، صوم یوم عرفۃ “۔ اور قرآن حکیم میں ہے۔ : (آیت) ” بل مکرالیل والنھار “۔ (سبا : 33) بعض علماء نے فرمایا : بین اسماء کے قائم مقام ہے اور اس سے ظرفیت زائل کی گئی ہے، کیونکہ بینھما ھالھما اور عشرتھما کے معنی میں ہے یعنی اگر خوف کرو تم ان کی عشرت اور صحبت کا فابعثوا “ تو مقرر کرو،…
Read the full tafseer →(1) احمد و بخاری نے سہل بن سعد ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں اور یتیم کی کفالت کرنے والا جنت میں اس طرح ہوں گے اور آپ نے شہادت کی انگلی اور درمیانی انگلی کے ساتھ اشارہ فرمایا۔
(2) ابو امامہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس شخص نے یتیم کے سر پر ہاتھ پھیرا اور اس نے صرف اللہ کے لئے ہاتھ پھیرا تو اس کا ہاتھ جتنے بالوں پر سے گزرتا ہے ہر بال کے بدلہ میں اسے نیکی ملتی ہے اور جس شخص نے کسی یتیم بچی یا بچے کے ساتھ اچھا سلوک کیا جو اس کے پاس تھا تو میں اور وہ جنت میں اس طرح (اکٹھے) ہوں گے اور آپ نے اپنی شہادت کی انگلی اور درمیانی انگلی کے ساتھ اشارہ فرمایا۔
(3) ابن سعد واحمد نے…
Read the full tafseer →[ وَاعْبُدُوا : اور تم بندگی کرو ] [ اللّٰہَ : اللہ کی ] [ وَلاَ تُشْرِکُوْا : اور شریک مت کرو ] [ بِہٖ : اس کے ساتھ ] [ شَیْئًا : کچھ بھی ] [ وَّبِالْوَالِدَیْنِ : اور (حسن سلوک کرو) والدین سے ] [ اِحْسَانًا : جیسا حسن سلوک کا حق ہے ] [ وَّبِذِی الْقُرْبٰی : اور قرابت داروں سے ] [ وَالْیَتٰمٰی : اور یتیموں سے ] [ وَالْمَسٰکِیْنِ : اور مسکینوں سے ] [ وَالْجَارِ ذِی الْقُرْبٰی : اور رشتہ دار پڑوسی سے ] [ وَالْجَارِ الْجُنُبِ : اور دور والے پڑوسی سے ] [ وَالصَّاحِبِ بِالْجَنْبِ : اور پہلو کے ساتھ رہنے والے سے ] [ وَابْنِ السَّبِیْلِ : اور مسافروں سے ] [ وَمَا : اور اس سے جس کے ] [ مَلَکَتْ :…
Read the full tafseer →والدین، اقرباء پڑوسی، یتامیٰ مساکین، اور مسافروں کے ساتھ حسن سلوک کرنے کا حکم
ان آیات میں اول تو اللہ تعالیٰ کی عبادت کا حکم فرمایا اور یہ بھی فرمایا کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنا۔ درحقیقت اللہ تعالیٰ نے انسان کو عبادت ہی کرلیے پیدا فرمایا ہے اس لیے بار بار قرآن میں اس کی یاد دہانی فرمائی ہے سب سے بڑی عبادت توحید ہے اور شرک سے توحید ختم ہوجاتی ہے۔ اس لیے بار بار شرک سے بیزار ہونے کا بھی حکم فرمایا ہے، عبادت اللہ کا حق ہے، حقوق اللہ کو ذکر فرمانے کے بعد حقوق العباد کا تذکرہ فرمایا جن میں سے سب سے پہلے والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنے کا حکم دیا، چونکہ ماں باپ اس دنیا میں اولاد کے وجود میں آنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–42
حکم شانزدہم بابت معاشرہ زوجین۔
قال تعالی، الرجال قوامون۔۔۔ الی۔۔۔ خبیرا۔
ربط) گزشتہ آیات میں میراث کے باب میں عورتوں پر مردوں کی فضیلت بیان کی اب ان آیات میں مطلقا مردوں کی فضیلت بیان فرماتے ہیں کہ مردوں کو عورتوں پر ہر طرح کی فضیلت حاصل ہے ذاتی اور عرضی دونوں قسم کی فضیلتیں مردوں کو خدا تعالیٰ نے عطا کی ہیں اور مردوں کو عورتوں پر حاکم بنایا ہے اور ان کو اجازت دی ہے کہ بغرض تادیب واصلاح عورتوں کو تنبہ کریں اور اگر ضرورت پیش آئے تو مارنے کی بھی اجازت ہے تاکہ عورتوں کا شبہ بھی دور ہوجائے کہ مردوں کو دھری میراث کیوں ملتی ہے چناچہ فرماتے کہ مردعورتوں پر دو وجہ سے حاکم اور قائم ہیں مردوں کی وجہ سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–39
29 احکام رعیت بیان کرنے کے بعد اصل مسئلہ توحید کا ذکر فرمایا۔ اُعْبُدُوْا اللہَ صرف خدائے واحد کی عبادت بجا لاؤ صرف اسے ہی پکارو قال ابن عباس المعنی وحدوہ (کبیر ج 3 ص 321) وَلَاتُشْرِکُوْا بِہٖ شَیْئاً اور اس کی عبادت اور پکار میں اس کی کسی مخلوق کو اس کا شریک نہ بناؤ نہ پیغمبروں اور ولیوں کو نہ فرشتوں اور جنوں کو۔ اس کے بعد وَبِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَاناً سے لے کر وَ کَانَ اللہُ بِھِمْ عَلِیْماً تک چار چیزیں بیان کی گئی ہیں (والدین) دوسرے روشتہ داروں، یتیموں، غریبوں، پڑوسیوں، مسافروں غلاموں اور دیگر مستحقین پر احسان کرو۔ حسن سلوک سے پیش آؤ اور ان کی مالی امداد کرو۔ وَالْجَارِ ذِیْ الْقُرْبیٰ…
Read the full tafseer →ربط آیات
سورۃ کی ابتداء سے یہاں تک حقوق ہی کا بیان آ رہا ہے پہلے اللہ تعالیٰ نے عورتوں کے حقوق بیان فرمائے پھر یتیموں کے حقوق کا تذکرہ کیا۔ مالی حقوق کے طور پر وراثت کے حقوق اور ورثایٔ کے حصص بیان کیے۔ نکاح اور محرمات نکاح کا ذکر ہوا۔ پھر معاشرتی مسائل آئے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ مرد عورتوں پر نگران یا محافظ ہیں ، ان پر عظیم ذمہ داری عاید ہوتی ہے۔ اگر نگران صحیح ہوگا تو اس کے ماتحت بھی درست ہوں گے اور اگر نگران ہی خرابی کا شکار ہوگا تو زیردست بھی ویسے ہی ہوں گے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اگر عورتوں کے ساتھ اختلاف ہوجائے تو اسے کس طرح نپٹانا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کا طریقہ بتایا…
Read the full tafseer →وَاعْبُدُوا اللہَ وَلَا تُشْرِكُوْا بِہٖ شَـيْـــًٔـا وَّبِالْوَالِدَيْنِ اِحْسَانًا وَّبِذِي الْقُرْبٰى وَالْيَتٰمٰي وَالْمَسٰكِيْنِ وَالْجَارِ ذِي الْقُرْبٰى وَالْجَارِ الْجُنُبِ وَالصَّاحِبِ بِالْجَـنْۢبِ وَابْنِ السَّبِيْلِ 0ۙ وَمَا مَلَكَتْ اَيْمَانُكُمْ 0ۭ اِنَّ اللہَ لَا يُحِبُّ مَنْ كَانَ مُخْــتَالًا فَخُــوْرَۨا 36ۙ
عبادت
العُبُودِيَّةُ : إظهار التّذلّل، والعِبَادَةُ أبلغُ منها، لأنها غاية التّذلّل، ولا يستحقّها إلا من له غاية الإفضال، وهو اللہ تعالی، ولهذا قال : أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ [ الإسراء/ 23] . والعِبَادَةُ ضربان :
عِبَادَةٌ بالتّسخیر، وهو كما ذکرناه في السّجود…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–38
ترکیب : احساناً کے نصب میں چند وجہ ہیں سورة بقرہ میں بیان ہو چکیں۔ الجنب بضمتین اور فتح جیم اور سکون نون دونوں طرح سے پڑھا جاسکتا ہے جس کے معنی اجنبی کے ہیں۔ یہ وصف ہے الجار کا بالجنب کی ب بمعنی فی ہے یہ حال ہے۔ الذین یبخلون مبتداء خبر مبغضون وغیرہ محذوف والذین ینفقون اس پر معطوف ہے۔
تفسیر : جبکہ خدا تعالیٰ مردوں کی فضیلت بیان فرما چکا اور باہم میاں بیوی کے معاملات کا فیصلہ خاوند کی فضیلت ملحوظ رکھ کر فرما دیا تو اس کے بعد تمام بنی آدم کو یہ بات بتلاتا ہے کہ یہ فضیلت دنیاوی ہے اور فضیلت اخروی اور چیز ہے اس میں نوکر آقا سے بڑھ جاتا ہے اور فقیر بےکس بادشاہ سے اور بیوی خاوند سے اس لئے اس جگہ…
Read the full tafseer →وَاعْبُدُاللّٰہَ وَلاَ تُشْرِکُوْا بِہٖ شَیْئًا وَّبِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا وَّبِذِی الْقُرْبٰی وَالْیَتٰمٰی وَالْمَسٰکِیْنِ وَالْجَارِ ذِی الْقُرْبٰی وَالْجَارِالْجُنُبِ وَالصَّاحِبِ بِالْجَنْبِ م وَابْنِ السَّبِیْلِ لا وَمَا مَلَـکَتْ اَیْمَانُکُمْ ط اِنَّ اللّٰہَ لاَ یُحِبُّ مَنْ کَانَ مُخْتَالاً فَخُورَانِ لا
(اور اللہ ہی کی بندگی کرو اور کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہرائو اور والدین کے ساتھ حسن سلوک کرو اور قرابت داروں کے ساتھ، یتیموں کے ساتھ اور مسکینوں کے ساتھ اور قرابتدار پڑوسی کے ساتھ اور بےگانہ پڑوسی کے ساتھ اور پہلو کے ساتھی کے ساتھ اور مسافر کے ساتھ اور اپنے مملوک کے ساتھ حسن سلوک سے…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : میاں بیوی کے حقوق کے بعد اللہ تعالیٰ کی عبادت بلا شرکت غیرے کرنے کا حکم نیز والدین ‘ قریبی رشتہ داروں اور مستحق لوگوں کے حقوق ادا کرنے کی تلقین۔ گویا کہ حقوق اللہ اور حقوق العباد کا بیک مقام تذکرہ کیا گیا ہے۔
انسان اس وقت تک کسی کے حقوق اخلاص کے ساتھ پوری طرح ادا نہیں کرسکتا جب تک صحیح معنوں میں اپنے آپ کو بلا شرکت غیرے اللہ تعالیٰ کی غلامی اور تابعداری میں نہ لے آئے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ کبھی احکامات جاری کرنے کے بعد اور کبھی ان کی ابتدا میں اپنی توحید اور تقویٰ یاد دلاتے ہیں تاکہ انسان اپنے آپ کو اس کے حضور مکمل طور پر سر نگوں کر دے۔
ذات کبریا کے بعد والدین ہی انسان کے…
Read the full tafseer →خلاصہ عبودیت اور احکام شرعیہ :
آیت 36 : وَاعْبُدُوا اللّٰہَ (اور اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو) کہا گیا ہے کہ عبودیت چار باتوں کا مجموعہ ہے نمبر 1۔ وفاء بالعہد۔ نمبر 2۔ رضا بالموجود۔ نمبر 3۔ حدود کی حفاظت۔ نمبر 4۔ ہاتھوں سے کھوئے جانے والی چیز پر صبر۔ وَلَا تُشْرِکُوْا بِہٖ شَیْئًا (اور اس کے ساتھ کسی چیز (صنم وغیرہ) کو شریک نہ ٹھہرائو) شیئًا مفعول بہ ہے یا پھر مفعول مطلق اشراکًا کی صفت ہے۔ وَبِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا (اور والدین کے ساتھ احسان کرو) یعنی قول فعل سے اور بوقت ضرورت انفاق کے ذریعہ ان کے ساتھ احسان کرو۔ وَبِذِی الْقُرْبٰی (اور قرابت داروں کے ساتھ) خواہ بھائی ہو یا چچا یا دیگر۔…
Read the full tafseer →(تفسیر) 36۔:
(آیت)” وعبدوا اللہ “ اور اس کو اکیلا مانو (توحید اختیار کرو) اور اس کی اطاعت کرو (آیت)” ولا تشرکوا بہ شیئا “ حضرت معاذ بن جبل ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ میں آپ ﷺ کے ساتھ پیچھے سواری میں بیٹھا ہوا تھا ، آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا اے معاذ تم جانتے ہو کہ بندوں پر اللہ کا کیا حق ہے ؟ میں نے کہا اے اللہ کے رسول ﷺ اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا اس کا حق ہمارے اوپر یہ ہے کہ ہم اسی کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں ، اے معاذ آپ جانتے ہو کہ اللہ پر بندوں کا کیا حق ہے جب کہ انہوں نے ایسا کای ہو ؟ میں نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول ہی جانے ، آپ ﷺ نے ارشاد…
Read the full tafseer →اوپر کی آیتوں اور ان آیتوں میں بندوں کے آپس کے حقوق کا ذکر تھا اور سب سے بڑا حق انسان پر اللہ تعالیٰ کا ہے جس نے انسان کو اور انسان کی سب ضرورت کی چیزوں کو پیدا کیا۔ اسی مناسبت سے اللہ تعالیٰ نے اپنے حق عبادت کو ان آیتوں میں ذکر فرمایا کہ جب انسان کا خالق رازق وہی وحدہ لا شریک ہے تو اس کی عبادت میں کسی مخلوق کو شریک ٹھہرانا بڑی غلطی ہے۔ صحیحین میں معاذ بن جبل ؓ سے روایت ہے کہ جس کے ایک ٹکڑے کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا اللہ کا حق بندوں پر یہ ہے کہ وہ اللہ کی عبادت میں کسی کو شریک نہ کریں اور بندوں کا حق اللہ پر یہ ہے کہ وہ ان کو جنت میں داخل کرے گا 1۔ ماں باپ کے ساتھ احسان کرنا یہ ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–38
آیت 36
اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو حکم دیا ہے کہ وہ اس کی عبادت کریں۔ وہ واحد اور لاشریک ہے۔ یہ درحقیقت اس کی عبودیت کے دائرے میں داخل ہونے، محبت، تذلل اور ظاہری اور باطنی تمام عبادات میں اخلاص کے ساتھ اس کے تمام اوامرونواہی کی تعمیل کا نام ہے۔ اللہ تعالیٰ شرک اصغر اور شرک اکبر ہر قسم کے شرک سے روکتا ہے۔ کسی فرشتہ، کسی نبی، ولی یا دیگر مخلوق کو اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہرانے سے منع کرتا ہے جو خود اپنی ذات کے لئے بھی کسی نفع و نقصان، موت وحیات اور دوبارہ اٹھانے پر قدرت نہیں رکھتے۔ بلکہ اللہ تعالیٰ کی عبادت میں اخلاص واجب ہے۔ جو ہر لحاظ سے کمال مطلق کا مالک ہے۔ وہ کائنات کی پوری تدبیر کر رہا ہے…
Read the full tafseer →والدین کے ساتھ نیکی کرنا
قول باری ہے (واعبداللہ ولاتشرکوا بہ شیئا وبالوالدین احسانا) اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ اور والدین کے ساتھ حسن سلوک کرو) اللہ تعالیٰ نے والدین کے ساتھ نیکی کے لزوم کو اپنی عبادت اور وحدانیت کے ساتھ مقرر کردیا اور اس کا اسی طرح حکم دیا جس طرح ان دونوں کا حکم دیا، نیز اپنے قول (ان ش کرلی ولوالدیک، یہ کہ میرا شکرکرو اور اپنے والدین کا) میں ان دونوں کا شکرادا کرنے کے حکم کو رب کا شکر ادا کرنے کے حکم کے ساتھ متصل کردیا۔
والدین کے حقوق کی عظمت اور ان کے ساتھ نیکی اور حسن سلوک کے وجوب پر یہی دلالت کافی ہے نیز فرمایا (ولاتقل لھمااف ولاتنھرھما وقل…
Read the full tafseer →87 عبادت و بندگی صرف اللہ کی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ عبادت و بندگی صرف اللہ وحدہ لاشریک کی کرو کہ وہی تمہارا خالق ومالک بھی ہے، اور رازق و نگہبان بھی۔ اس لئے سب سے پہلا اور سب سے مقدم حق اسی کا ہے ۔ جَلَّ جَلَالُہٗ وَعَمَّ نوالُہ ۔ اور اس کا حق اس کی عبادت و بندگی ہے۔ پس تم لوگ عبادت و بندگی کی ہر قسم اور ہر شکل ہمیشہ اسی وحدہ لاشریک کیلئے بجا لاؤ، اور اس میں کسی کو بھی، اور کسی بھی درجے میں اسکا بھی شریک مت قرار دو کہ ایسا کرنا ظلم ہے اور ظلم کا انجام بہت برا ہے کہ یہ باعث ہلاکت ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔
88 شرک سے تحذیر و ممانعت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ تم اللہ کے ساتھ کسی بھی چیز کو شریک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–38
بندوں کے حقوق اور شیطان کے ساتھی
تشریح : ان آیات میں بندوں کے حقوق کا ذکر کیا گیا ہے اور ان بخیل، مغرور اور کفار کا ذکر کیا گیا ہے جو شیطان کے دوست ہیں اللہ رب العزت کے ناپسندیدہ لوگ ہیں ان کو انتہائی ذلیل کرنے والا عذاب دیا جائے گا۔ اللہ رب العزت ہمیں اپنی امان میں رکھے۔ آمین۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–38
آیت نمبر 36 تا 38: واعبدوا اللہ ولا تشرکوا بہ شیئا۔۔۔۔ فساء قرینا
جہاں تک ادائے حقوق کا تعلق ہے اس کی اصل یہ ہے کہ سب سے پہلے اور سب سے ضروری اللہ کے حق کی حفاظت ہے کہ اس کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ۔ نہ اس کی ذات میں اور نہ اس کی صفات میں اسلام نے اصلاح احوال کی بنیاد ایمان کو قرار دیا ہے اور جب تک کسی بھی انسان کے دل میں اللہ کی عظمت جاگزین نہ ہو اور وہ اپنے ہر حال پر اللہ کو حاضر موجود نہ سمجھتا ہو نیز جب تک وہ اپنی ساری امیدیں اللہ ہی سے وابستہ نہ کردے تب تک محض حکومت کے قانون اور رعب دبدبہ اس کی اصلاح نہیں کرسکتے نہ برادری کا شرم یا معاشرے کا دباؤ اسے مجبور کرسکتا ہے…
Read the full tafseer →ف 9 یعنی یہ ہیچ صورت ( ثنائی) اور اس کا ساجھی نہ بنا نا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی کر ہر چیز کا مالک کو مختار تسلیم کیا جائے اور اس کی کسی صفت میں کسی زندہ یا مردہ مخلوق کو شریک نہ قرار دیا جائے۔ تمام مرادیں اور حاجات اسی سے مانگی جائیں کہ وہی عالم میں متصرف ہے اور کوئی نہیں (م، ع)10 توحید کا حکم دینے کے بعد درجہ رشتہ داروں اور دوسرے لوگوں کے حقوق بیان فرمائے ہیں۔ شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں : اول اللہ تعالیٰ ج کا پھر ماں باپ کا اور ان کا درجہ بدرجہ (موضح) صحیحین میں بردایت انس ؓ ، آنحضرت ﷺ کے ارشاد کا حاصل یہ ہے کہ رشتہ داروں سے حسن سلوک عمر میں برکت اور رزق میں فراخی کا سبب ہے۔ (ابن کثیر)11 حدیث…
Read the full tafseer →(4:36) وبالوالدین احسانا۔ اس کی تقدیر ہے واحسنوا بالوالدین احسانا۔
وبذی القربی ۔۔ ایمانکم میں ذوی القربی۔ والیتامی۔ والمساکین۔ والجارذی القربی۔ والجار الجنب۔ والصاحب بالجنب وابن السبیل اور ما ملکت ایمانکم سے پہلے احسنوا محذوف ہے۔
الجار ذی القربی۔ الجار۔ جو جوار میں یعنی پہلو میں رہنے والا ہو بمعنی پڑوسی ذوی القربی ۔ قرابت دار ہو۔ یعنی رشتہ دار پڑوسی الجار الجنب۔ جنب بمعنی دور۔ اجنبی۔ یعنی وہ پڑوسی جو رشتہ دار نہ ہو۔ صاحب بالجنب پہلو کا رفیق۔ قریبی درست کا سفر کا ساتھی۔ ابن السبیل مسافر۔
مخالا۔ اسم فاعل واحد مذکر منصوب بوجہ خبر کان۔ اختیال (افتعال) مصدر۔ بمعنی اکڑنے والا۔ اترانے والا۔ اپنے آپ…
Read the full tafseer →آیت نمبر 36
لغات القرآن : اعبدوا، تم عبادت و بندگی کرو۔ لاتشرکوا، تم شریک نہ کرو۔ الجار، پڑوسی۔ الجار الجنب، اجنبی پڑوسی۔ الصاحب بالجنب، پہلو کا ساتھی۔ وابن السبیل، مسافر۔ مختال، تکبر اور بڑائی کرنے والے۔ فخور، شیخیاں بگھارنے والے ۔
تشریح : اس آیت میں حقوق اللہ کے ساتھ ساتھ حقوق العباد پر بھی زور دیا گیا ہے بلکہ کسی قدر تفصیل کے ساتھ زور دیا گیا ہے۔ اللہ
تعالیٰ کا حق یہ ہے کہ اس کی عبادت کی جائے اس کی اطاعت کی جائے اور اس کے ساتھ کسی کو بھی شریک نہ کیا جائے۔ حقوق العباد میں درجہ بدرجہ ذکر ہے۔ سب سے پہلے والدین کا، اس کے بعد اہل قرابت کا جس میں سارے رشتہ دار بھی آتے ہیں، پڑوسی والے بھی اور…
Read the full tafseer →سب سے بڑا حق انسان پر اللہ تعالیٰ کا ہے جس نے انسان کو اور انسان کی سب ضرورتوں کی چیزوں کو پیدا کیا ، تو انسان کا خالق و رازق وحدہ لاشریک ہے ۔ آنھضرت ﷺ نے فرمایا : اللہ کا حق بندوں پر یہ ہے کہ وہ اللہ کی عبادت میں کسی کو شریک نہ کریں اور بندوں کا حق اللہ پر یہ ہے کہ وہ ان کو جنت میں داخل کرے گا ۔ ماں باپ کے ساتھ احسان کرنا یہ ہے کہ جہاں تک ہوسکے ان کی خدمت کرے کوئی بات ان کی شان کے برخلاف نہ کرے ۔ قرآن شریف کی اکثر آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنی عبادت کے بعد مان باپ کے احسان کا ذکر فرمایا ہے جس سے ہر کوئی مان باپ کے درجہ کو سمجھ سکتا ہے ۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا جس شخص نے اپنے ماں باپ دونوں کو یا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–40
[29] قوام کے معنی ہیں محافظ، مدبر اور منتظم کے اور یہاں مراد یہ ہے کہ مرد عورتوں کے امور کا انتظام کرنے والے، ان کی کفالت کرنے والے اور ان پر احکام نافذ کرنے والے ہیں۔
[30] یعنی مردوں کو عورتوں پر جیسا کہ بعد کی عبارت سے ظاہر ہے۔
[31] مال سے مراد ہے مہر اور نان نفقہ
[32] یعنی ان کے ساتھ ہم بستری موقوف کردو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–38
(ف 1) ان آیات میں خدا سے لے کر غلام تک کے ساتھ صحیح تعلق رکھنے کی تلقین ہے کہ جہاں اللہ کی عبادت کرو ‘ وہاں اس کا مظاہرہ تمہارے اعمال سے بھی ہو ۔
حل لغات :
وما ملکت ایمانکم : جو تمہارے قبضہ ملک میں ہوں ۔
مختال : مکتبر ۔
فخور : شیخی بگھارنے والا ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–37
ف 3 اور تم سب لوگ اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اس کی بندگی کرو اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہرائو اور اپنے ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آئو اور اچھا برتائو کرو اور اہل قرابت کے ساتھ بھی اچھا برتائو کرو اور یتیموں کے ساتھ بھی اور محتاج و مساکین کے ساتھ بھی اور اس پڑوسی کے ساتھ بھی جو قریب کا پڑوسی ہو اور ساتھ کے بیٹھنے والے یعنی ہم محبت و ہم مجلس کے ساتھ بھی اور مسافر کے ساتھ بھی اور ان لونڈی اور غلاموں کے ساتھ جن کے تمہارے داہنے ہاتھ مالک ہوئے ہیں یعنی اپنے ممالک کے ساتھ بھی یقین جانو ! اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو پسند نہیں فرماتا جو تکبر کرنے والے شیخی مارنے والے ہوں۔ (تیسیر)
خدا کی عبادت…
Read the full tafseer →ف 1۔ خوہ وہ مجلس دائمی ہو جیسے طویل سفر کی رفاقت اور کسی مباح کام میں شرکت یا عارضی ہو جیسے سفر قصیر یا اتفاقی جلسہ میں شرکت۔
2۔ یہ اہل حقوق اگر کافر بھی ہوں تب بھی ان کے ساتھ احسان کرے البتہ مسلمان کا حق اسلام کی وجہ سے ان سے زائد ہوگا۔
Read the full tafseer →اللہ کی بندگی کرو اور کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہراؤ :
77: قرآن کریم میں جگہ جگہ یہ ہدایت دی گئی ہے کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھراؤ اور بندگی کرو تو صرف اس کی بندگی کرو اور اس کے سوا کسی اور کی بندگی نہ کرو۔ بلکہ یہ کہ غیر اللہ کی بندگی سے انکار کرتے ہوئے اللہ کی بندگی کا اقرار کرو۔ ایسا نہ ہو کہ اللہ کی بندگی بھی کرتے رہو اور غیر اللہ کی بھی۔ اگر تم نے ایسا کیا تو اللہ کی بندگی کا کوئی تصور ہی باقی نہ رہا۔ اس لیے کہ اس کا مطلب صرف اتنا ہی نہیں ہے کہ اللہ کے سوا کسی کی پرستش اور پوجا نہ کرو بلکہ یہ بھی ہے کہ بندگی اور غلامی اور بےچون و چرا اطاعت بھی صرف اس کی کرو اور اس کے حکم کو حکم اور اس…
Read the full tafseer →Sequence
It will be noticed that human rights have remained the main focus of attention since the beginning of the present Surah upto this point. These related to orphans, the women and inheritance. Taken up now are rights of parents, relatives, neighbours and those of human beings in general. Since a perfect fulfillment of these rights is possible only at the hands of a person whose orientation to Allah, His Messenger and to the answerability of the Last Day is correct and strong, and who avoids miserliness, arrogance and affectation, being impediments to all positive efforts, the text…
Read the full tafseer →62. The expression al-sahib bi al-janb (the companion by your side) embraces those with whom one has friendly relations of an abiding nature as well as those with whom one's relationship is transient: for instance, either the person who walks beside one on the way to the market or who sits beside one while buying things from the same shop or one's fellow traveller. Even this temporary relationship imposes certain claims on every refined and decent person - that he should treat him, as far as possible, in a kind and gracious manner and avoid causing him any inconvenience.
Read the full tafseer →