میاں بیوی مصالحت کی کوشش اور اصلاح کے اصول
اوپر اس صورت کو بیان فرمایا کہ اگر نافرمانی اور کج بحثی عورتوں کی جانب سے ہو اب یہاں اس صورت کا بیان ہو رہا ہے اگر دونوں ایک دوسرے سے نالاں ہوں تو کیا کیا جائے ؟ پس علماء کرام فرماتے ہیں کہ ایسی حالت میں حاکم ثقہ سمجھدار شخص کو مقرر کرے جو یہ دیکھے کہ ظلم و ذیادتی کس طرح سے ہے ؟ اس ظالم کو ظلم سے روکے، اگر اس پر بھی کوئی بہتری کی صورت نہ نکلے تو عورت والوں میں سے ایک اس کی طرف سے اور مرد والوں میں سے ایک بہتر شخص اسکی جانب سے منصب مقرر کردے اور دونوں مل کر تحقیقات کریں اور جس امر میں مصلحت سمجھیں اس کا فیصلہ کردیں یعنی خواہ الگ کرا دیں خواہ میل ملاپ…
Read the full tafseer →سورة النِّسَآء 60
دونوں سے مراد ثالث بھی ہیں اور زوجین بھی۔ ہر جھگڑے میں صلح ہونے کا امکان ہے بشرطیکہ فریقین بھی صلح پسند ہوں اور بیچ والے بھی چاہتے ہوں کہ فریقین میں کسی طرح صفائی ہوجائے۔
سورة النِّسَآء 61
اس آیت میں ہدایت فرمائی گئی ہے کہ جہاں میاں اور بیوی میں ناموافقت ہوجائے وہاں نزاع سے انقطاع تک نوبت پہنچنے یا عدالت میں معاملہ جانے سے پہلے گھر کے گھر ہی میں اصلاح کی کوشش کر لینی چاہیے، اور اس کی تدبیر یہ ہے کہ میاں اور بیوی میں سے ہر ایک کے خاندان کا ایک ایک آدمی اس غرض کے لیے مقرر کیا جائے کہ دونوں مل کر اسباب اختلاف کی تحقیق کریں اور پھر آپس میں سر جوڑ کر بیٹھیں اور تصفیہ کی کوئی صورت…
Read the full tafseer →اس دوسری آیت میں قرآن کریم نے اس فساد عظیم کا دروازہ بند کرنے کے لئے حکام وقت، فریقین کے اولیاء اور حامیوں کو اور مسلمانوں کی جماعتوں کو خطاب کر کے ایک ایسا پاکیزہ طریقہ بتلایا جس سے فریقین کا اشتعال بھی ختم ہوجائے اور الزام تراشی کے راستے بھی بند ہوجائیں اور ان کے آپس میں مصالحت کی راہ نکل آئے اور گھر کا جھگڑا اگر گھر میں ختم نہیں ہوا تو کم از کم خاندان ہی میں ختم ہوجائے عدالت میں مقدمہ کی صورت میں کوچہ و بازار میں یہ جھگڑا نہ چلے۔
وہ یہ کہ ارباب حکومت یا فریقین کے اولیاء یا مسلمان کی کوئی مقتدر جماعت یہ کام کرے کہ ان کے آپس میں مصاحلت کرانے کے لے دو حکم مقرر کریں، ایک مرد کے خاندان سے دوسرا…
Read the full tafseer →وَاِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَيْنِهِمَا فَابْعَثُوْا حَكَمًا مِّنْ اَھْلِهٖ وَحَكَمًا مِّنْ اَھْلِھَا ۚ اِنْ يُّرِيْدَآ اِصْلَاحًا يُّوَفِّقِ اللّٰهُ بَيْنَهُمَا ۭ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِــيْمًا خَبِيْرًا۔
اصلاح احوال کی ایک اور تدبیر : اگر مرد وہ سارے جتن، جو اوپر والی آیت میں مذکور ہوئے، کرنے کے بعد بھی عورت کے ’ نشوز ‘ پر قابو نہ پا سکا تو اس کے صاف معنی یہ ہیں کہ خلیج اختلاف بہت وسیع ہے اور تعلقات ٹوٹنے کی حد پر پہنچے ہوئے ہیں۔ لیکن اس حد پر پہنچ جانے کے بعد بھی شریعت نے مرد کو یہ اجازت نہیں دی ہے کہ وہ بیوی کو طلاق دے کر اس سے پیچھا چھڑا لے۔ اسلام، میاں بیوی کے رشتے کو معاشرے کے استحکام کی…
Read the full tafseer →35۔ 1 گھر کے اندر مزکورہ تینوں طریقے کارگر ثابت نہ ہوں تو یہ چوتھا طریقہ ہے اور اس کی بابت کہا کہ حکمین (فیصلہ کرنے والے) اگر مخلص ہوں گے تو یقینا ان کی سعی اصلاح کامیاب ہوگی۔ تاہم ناکامی کی صورت میں حکمین کو تفریق بین الزوجین یعنی طلاق کا اختیار ہے یا نہیں ؟ اس میں علماء کا اختلاف ہے۔ بعض اس کو حاکم مجاز کے حکم یا زوجین کے توکیل بالفرقہ (جدائی کے لیے وکیل بنانا) کے ساتھ مشروط کرتے ہیں اور جمہور علماء اس کے بغیر اس کے قائل ہیں (تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو تفسیر طبری، فتح القدیر، تفسیر ابن کثیر)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–35
28: جب کوئی شخص اسلام لائے اور مسلمانوں میں اس کا کوئی رشتہ دار نہ ہو تو وہ جس شخص کے ہاتھ پر مسلمان ہوا ہے، بعض اوقات اس کے ساتھ یہ عہد کرلیتا تھا کہ وہ دونوں آپس میں بھائی بن گئے ہیں، لہذا وہ ایک دوسرے کے وارث بھی ہوں گے، اور اگر ان میں سے کسی پر کوئی تاوان آپڑا تو دوسرا اس کی ادائیگی میں اس کی مدد کرے گا، اس رشتے کو " موالاۃ " کہا جاتا تھا، یہاں اسی معاہدہ کا ذکر ہے، اور امام ابوحنیفہ ؒ کا مسلک اس آیت کی بنا پر یہی ہے کہ یہ رشتہ اب بھی کسی نومسلم سے قائم ہوسکتا ہے اور اگر دوسرے مسلمان رشتہ دار موجود نہ ہوں تو میراث میں بھی ان کا حصہ ہوگا۔
Read the full tafseer →(آیت) ” نمبر 35
اسلام یہ مشورہ نہیں دیتا کہ عورت کی جانب سے سرکشی شروع ہوتے ہی تم اس سرکشی اور نفرت کے سامنے ہتھیار ڈال دو اور نہ اسلام یہ مشورہ دیتا ہے کہ بس فورا معاہدہ نکاح کو ختم کر دو اور خاندان کی ہنڈیا ان لوگوں کے سر پر لا کر پھوڑ دو جن کا اس معاملے میں کوئی قصور نہیں ہے ‘ اس لئے اسلام اس کی اہمیت کی خاطر اسے از سر نو جدید اینٹوں کی مدد سے تعمیر کرتا ہے تاکہ وہ دوبارہ نشوونما حاصل کرسکے ۔
اب اسلامی نظام ادارہ نکاح کے ٹوٹنے کا خطرہ لاحق ہوتے ہیں اپنی آخری کوشش شروع کردیتا ہے ۔ حکم دیا جاتا ہے کہ ایک ثالث مرد کی مرضی کا مقرر ہو اور ایک ثالث عورت کی مرضی کا مقرر ہو اور وہ دونوں ان کے…
Read the full tafseer →7 یعنی اے مسلمانو اگر تم کو اندیشہ ہو کہ خاوند اور عورت میں مخالفت اور ضد ہے وہ اپنے باہمی نزاع کو خود نہ سلجھا سکیں گے تو تم کو چاہیے کہ ایک منصف مرد کے اقارب میں سے اور ایک منصف عورت کے اقارب میں سے مقرر کر کے بغرض فیصلہ زوجین کے پاس بھیجو کیونکہ اقارب کو ان کے حالات بھی زیادہ معلوم ہونگے اور ان سے خیرخواہی کی بھی زیادہ امید ہے۔ یہ دونوں منصف احوال کی تحقیق کریں گے اور جس کا جتنا قصور دیکھیں گے اس کو سمجھا کر باہم موافقت کرادیں گے۔
8 یعنی اگر دونوں منصف اصلاح بین الزوجین کا قصد کریں گے تو اللہ تعالیٰ ان کی حسن نیت اور حسن سعی سے زوجین میں موافقت کرادے گا بیشک اللہ تعالیٰ کو تمام چیزوں کا…
Read the full tafseer →آیت 35 وَاِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَیْنِہِمَا ‘
اب اگر کوئی تدبیر نتیجہ خیز نہ ہو اور ان دونوں کے مابین ضدم ضدا کی کیفیت پیدا ہوچکی ہو کہ عورت بھی اکڑ گئی ہے ‘ مرد بھی اکڑا ہوا ہے ‘ اور اب ان کا ساتھ چلنا مشکل نظر آتا ہو تو اصلاح احوال کے لیے ایک دوسری تدبیر اختیار کرنے کی ہدایت فرمائی گئی ہے۔ ّ َ
فَابْعَثُوْا حَکَمًا مِّنْ اَہْلِہٖ وَحَکَمًا مِّنْ اَہْلِہَا ج اِنْ یُّرِیْدَآ اِصْلاَحًا یُّوَفِّقِ اللّٰہُ بَیْنَہُمَا ط
اِنْ یُّرِیْدَآ اِصْلاَحًا“ میں مراد زوجین بھی ہوسکتے ہیں اور حکمین بھی۔ یعنی ایک تو یہ کہ اگر واقعتا شوہر اور بیوی موافقت چاہتے ہیں تو اللہ ان کے درمیان سازگاری پیدا فرما دے گا۔…
Read the full tafseer →61 زوجین میں ثالثی فیصلہ :۔ اور اگر میاں بیوی کے تعلقات سنورنے میں نہ آ رہے ہوں اور ان میں سے ہر کوئی دوسرے پر الزام تھوپ رہا ہو تو طلاق سے پہلے فریقین اپنے اپنے خاندان میں سے ثالث منتخب کریں جو پوری صورتحال کو سمجھ کر نیک نیتی سے اصلاح کی کوشش کریں۔ یہ ثالث طرفین کی طرف سے ایک ایک آدمی بھی ہوسکتا ہے دو دو بھی اور تین تین بھی۔ جو بات بھی میاں بیوی دونوں کو تسلیم ہو اختیار کی جاسکتی ہے۔
62 یہاں دونوں سے مراد میاں بیوی بھی ہوسکتے ہیں اور طرفین کے ثالث حضرات بھی۔ یعنی اگر ان کی نیت بخیر ہوگی تو اللہ تعالیٰ زوجین میں ضرور موافقت کی راہ نکال دے گا۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر ثالث سمجھوتہ…
Read the full tafseer →122 ۔ خطاب عام امت اسلامیہ کو ہے اور حکام اور اہل حل وعقد کو بدرجہ اولی۔ الخطاب کما قال ابن جبیر والضحاک وغیرھما للحکام (روح) وقال اخرون المراد کل واحد من صالحی الامۃ (کبیر) خطاب لجمیع ال مومنین (کبیر) (آیت) ” بینھما “۔ یعنی میاں بیوی کے درمیان۔ (آیت) ” شقاق “۔ یعنی ایسی کشمکش جسے وہ باہم نہ سلجھاسکیں۔ امت اور افراد امت کا ساتھ چولی دامن کا ساتھ ہے۔ افراد کے باہمی اور خانگی مناقشوں سے معاشرۂ اسلامی کا دامن بالکل الگ اور بےتعلق نہیں کہ افراد ہی کی صالحیت پر امت کی صالحیت کا مدار ہے آیت میں اس کی تعلیم ہے کہ افراد کی خانگی نزاعوں کی امت اپنی ہی معاملہ سمجھے۔ (آیت) ” ان خفتم “۔ خوف یہاں بھی علم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–40
آیت نمبر 34 تا 42
ترجمہ : مردعورتوں کے حاکم ہیں ان کی تادیب کرتے ہیں اور انکو (ناپسندیدہ باتوں سے) باز رکھتے ہیں، اس سبب سے کہ اللہ نے ان میں سے ایک کو دوسرے پر فضیلت دی ہے یعنی اللہ تعالیٰ نے مردوں کو عورتوں پر اور عقل میں اور ولایت وغیرہ میں فضیلت دے کر اور اس سے مرد عورتوں پر اپنے مال خرچ کرتے ہیں پس نیک فرمانبردار عورتیں اپنے شوہروں کی اطاعت گذار خاوند کی عدم موجودگی میں بحفاظت الہٰی اپنی ناموس وغیرہ کی نگہداشت رکھنے والیاں ہیں اس طریقہ پر کہ شوہروں کو ان کی حفاظت کی تاکید فرمائی۔ اور جن عورتوں کی نافرمانی کا تمہیں خوف ہو اس طریقہ پر کہ اس کی علامات ظاہر ہوں، تو انہیں نصیحت کرو یعنی ان کو…
Read the full tafseer →وان خفتم شقاق بینہما . اور اگر تم (اوپر والوں) کو میاں بیوی کے درمیان کشاکش کا اندیشہ ہو۔ (1) [ حضرت مولانااشرف علی تھانوی (رح) نے خفتمکا مخاطب اوپر والوں کو قرار دیا ہے اس لئے ہم نے مخاطب کو قوسین کے درمیان لکھ دیا لیکن مفسر (رح) نے حکام کو مخاطب قرار دیا ہے بعض احادیث سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے جیسا کہ اسی آیت کی تشریح میں حضرت مفسر نے نقل کیا ہے ] خِفْتُم میں خطاب حکام کو ہے شقاق سے مراد ہے اختلاف اور دشمنی چونکہ ہر دشمن ایسا کام کرتا ہے جو اس کے مخالف کو شاق ہو اس لئے عداوت کو شقاق کہتے ہیں یا یوں کہا جائے کہ ہر فریق ‘ دوسرے فریق کے مخالف شق کی طرف مائل ہوتا ہے اس لئے اختلاف کو شقاق کہتے…
Read the full tafseer →(35) اور اگر میاں بیوی میں رنجش محسوس ہو اور یہ معلوم نہ ہو کہ ابتدا کس کی طرف سے ہے تو مرد کے گھروالوں میں سے ایک معاملہ فہم آدمی مرد کے پاس اور اسی طرح عورت کے گھروالوں میں سے ایک پختہ عمر شخص عورت کے پاس بھیجو تاکہ ہر ایک کے پاس جا کر وہ دونوں کی صحیح صورت حال معلوم کرے اور دیکھے کہ کون ظالم ہے اور کون مظلوم۔ اگر یہ دونوں میاں بیوی میں سچے دل سے اصلاح کرائیں گے تو اللہ تعالیٰ ان میاں بیوی کے درمیان اتفاق فرما دیں گے۔ بیشک اللہ تعالیٰ سب کچھ جاننے والے اور خبر دار ہیں۔
الرجال قوامون سے یہاں تک یہ آیت محمد بن سلمہ کی لڑکی کے بارے میں نازل ہوئی، ان کی جانب سے اپنے خاوند اسعد بن ربیع کی…
Read the full tafseer →وَاِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَيْنِهِمَا : پہلے صرف عورت کی طرف سے نشوز کا ذکر تھا اب اگر دونوں کی طرف سے نفرت اور مخالفت کا سلسلہ چل نکلے اور جدائی کا اندیشہ ہو تو حاکم کو چاہیے کہ میاں بیوی دونوں کی طرف ان کے خاندان کا ایک ایک سمجھدار آدمی بطور حکم (پنچ یا منصف) مقرر کردیں، اگر وہ دونوں اصلاح کرانے میں مخلص ہوں گے تو اللہ تعالیٰ دونوں میں موافقت پیدا کر دے گا۔ اگر اصلاح کی کوئی صورت نہ بنے تو کیا انھیں علیحدگی کا فیصلہ کرنے کا اختیار ہے یا نہیں ؟ بعض علماء نے فرمایا کہ اگر میاں بیوی دونوں اسے صلح یا جدائی کا اختیار دیں کہ تم جو فیصلہ کرو ہمیں منظور ہوگا تو اسے علیحدگی کے فیصلہ کا بھی اختیار ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–36
آیت نمبر : 35۔ 36
اس آیت میں پانچ مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر : (1) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” وان خفتم شقاق بینھما “۔ الشقاق کا معنی سورة بقرہ میں گزر چکا ہے، گویا میاں، بیوی میں سے ہر ایک اپنی اپنی طرف لیتا ہے، (آیت) ” وان خفتم شقاق بینھما “۔ مصدر کو ظرف کی طرف مضاف کیا گیا ہے جیسا کہ تیرا قول یعجبنی سیراللیلۃ المقمرۃ، صوم یوم عرفۃ “۔ اور قرآن حکیم میں ہے۔ : (آیت) ” بل مکرالیل والنھار “۔ (سبا : 33) بعض علماء نے فرمایا : بین اسماء کے قائم مقام ہے اور اس سے ظرفیت زائل کی گئی ہے، کیونکہ بینھما ھالھما اور عشرتھما کے معنی میں ہے یعنی اگر خوف کرو تم ان کی عشرت اور صحبت کا فابعثوا “ تو مقرر کرو،…
Read the full tafseer →(1) ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم والبیہقی نے اپنی سنن میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” وان خفتم شقاق بینہما “ یعنی جب مرد اور عورت کے تعلقات میں فساد برپا ہوجائے تو اللہ تعالیٰ نے حکم فرمایا کہ وہ بھیجیں ایک نیک آدمی کو مرد کے خاندان میں سے اور اسی طرح ایک آدمی عورت کے خاندان میں سے پھر وہ دونوں دیکھیں ان میں سے کون خطا کار ہے۔ اگر مرد خطا کار ہے تو اس سے اس کی بیوی کو روک دیں اور خرچہ دینے کا پابند بنائیں اور اگر عورت خطار کار ہے تو اسے مرد کے پاس رہنے پر مجبور کریں اور اسے خرچہ بھی نہ دیں۔ اگر ان دونوں کی رائے ان (دونوں میاں بیوی) کے جدا کرنے یا ان کو ملانے کی ہو تو جو وہ…
Read the full tafseer →[ وَاِنْ : اور اگر ] [ خِفْتُمْ : تمہیں خوف ہو ] [ شِقَاقَ بَیْنِہِمَا : ان دونوں کے درمیان باہمی مخالفت کا ] [ فَابْعَثُوْا : تو کھڑا کرو ] [ حَکَمًا : ایک منصف ] [ مِّنْ اَہْلِہٖ : اس (مرد) کے گھر والوں سے ] [ وَحَکَمًا : اور ایک منصف ] [ مِّنْ اَہْلِہَا : اس (عورت) کے گھر والوں سے ] [ اِنْ یُّرِیْدَآ : اگر وہ دونوں ارادہ کریں گے ] [ اِصْلاَحًا : اصلاح کرنے کا ] [ یُّوَفِّقِ : تو مطابقت پیدا کرے گا ] [ اللّٰہُ : اللہ ] [ بَیْنَہُمَا : ان کے درمیان ] [ اِنَّ اللّٰہَ : یقینا اللہ ] [ کَانَ : ہے ] [ عَلِیْمًا : جاننے والا ] [ خَبِیْرًا : باخبر ]
وق
وَفَقَ ۔ یَفَقُ (ح) وَفْقًا : کسی چیز کا کسی…
Read the full tafseer →میاں بیوی کے درمیان مخالفت ہوجائے تو دو آدمی موافقت کرانے کے لیے بھیجے جائیں۔
جب دو آدمی ساتھ رہتے ہیں تو کبھی کبھی کوئی ناگواری کی بات پیش آہی جاتی ہے اور میاں بیوی کا تو روزانہ رات دن کا ساتھ ہے اس میں ناگواری پیش آجانا کوئی بعید بات نہیں۔ سمجھ دار میاں بیوی تو بات کو آئی گئی کردیتے ہیں، گویا کہ کچھ تھا ہی نہیں۔ لیکن کبھی بات بڑھ جاتی ہے اور زیادہ ناچاقی ہوجاتی ہے اس لیے اللہ جل شانہ نے صلح کرانے کے بارے میں ایک طریق کار تجویز فرمایا ہے اور وہ یہ کہ جب میاں بیوی کے درمیان آپس میں اختلاف ہوجائے (ان خفتم بمعنی علمتم علی ماقال بعض المفسرین) تو ایک آدمی مرد کے گھر والوں میں سے اور ایک آدمی عورت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–42
حکم شانزدہم بابت معاشرہ زوجین۔
قال تعالی، الرجال قوامون۔۔۔ الی۔۔۔ خبیرا۔
ربط) گزشتہ آیات میں میراث کے باب میں عورتوں پر مردوں کی فضیلت بیان کی اب ان آیات میں مطلقا مردوں کی فضیلت بیان فرماتے ہیں کہ مردوں کو عورتوں پر ہر طرح کی فضیلت حاصل ہے ذاتی اور عرضی دونوں قسم کی فضیلتیں مردوں کو خدا تعالیٰ نے عطا کی ہیں اور مردوں کو عورتوں پر حاکم بنایا ہے اور ان کو اجازت دی ہے کہ بغرض تادیب واصلاح عورتوں کو تنبہ کریں اور اگر ضرورت پیش آئے تو مارنے کی بھی اجازت ہے تاکہ عورتوں کا شبہ بھی دور ہوجائے کہ مردوں کو دھری میراث کیوں ملتی ہے چناچہ فرماتے کہ مردعورتوں پر دو وجہ سے حاکم اور قائم ہیں مردوں کی وجہ سے…
Read the full tafseer →28 چودہواں حکم رعیت :۔ (اگر خاوند بیوی کے درمیان اختلاف پیدا ہوجائے تو اصلاح کی کوشش کرو) اگر خاوند بیوی کے درمیان اختلاف شقاق و مخالفت کی حد تک پہنچ جائے اور وعظ و نصیحت اور مار پیٹ کے بعد بھی ان کے درمیان صلح کی کوئی صورت نظر نہ آئے تو مسلمانوں پر یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ ان کے درمیان اصلاح کی کوشش کریں اس طرح کہ دونوں کے رشتہ داروں سے ایک ایک سمجھدار اور معاملہ فہم آدمی منتخب کر کے ان کو زوجین کے درمیان اصلاح پر مقرر کریں۔ اِنْ یُّرِیْدَا اِصْلَاحاً یُّوَفِّقِ اللہُ بَیْنَھُمَا۔ یُرِیْدَا سے دونوں حکم مراد ہیں۔ اور بَیْنَھُمَا کی ضمیر زوجین کی طرف راجع ہے یعنی اگر وہ دونوں حکم نیک نیتی سے…
Read the full tafseer →ربط آیات
گزشتہ درس میں عورتوں پر مردوں کی فضیلت کا ذکر تھا۔ اور مردوں کو عورتوں کا نگران ، محافظ اور حام بنائے جانے کا ذکر تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اس فضیلت کی اور وجوہات بھی بیان فرمائیں۔ پہلی وجہ تو فطری ہے کہ خود اللہ تعالیٰ نے اپنی مشیت اور ارادے سے مرد کو مرد اور عورت کو عورت بنادیا اور مرد کے قویٰ میں وہ استعداد اور اہلیت رکھ دی جس کی وجہ سے اسے عورت پر برتری حاصل ہوئی اور دوسری اختیاری ہے کہ مرد محنت مشقت کرکے روزی کماتا ہے اور پھر عورت پر خرچ کرتا ہے ، اس لیے بھی اس کو فوقیت حاصل ہے۔ پھر فرمایا نیک عورتیں وہ ہوتی ہیں جو اطاعت گزار ہوں اور مرد کی غیر حاضری میں اس کے مال اور اپنی عزت و ناموس…
Read the full tafseer →وَاِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَيْنِہِمَا فَابْعَثُوْا حَكَمًا مِّنْ اَھْلِہٖ وَحَكَمًا مِّنْ اَھْلِھَا 0ۚ اِنْ يُّرِيْدَآ اِصْلَاحًا يُّوَفِّقِ اللہُ بَيْنَہُمَا 0ۭ اِنَّ اللہَ كَانَ عَلِــيْمًا خَبِيْرًا 35
خفی
خَفِيَ الشیء خُفْيَةً : استتر، قال تعالی: ادْعُوا رَبَّكُمْ تَضَرُّعاً وَخُفْيَةً [ الأعراف/ 55] ،
( خی ) خفی ( س )
خفیتہ ۔ الشیء پوشیدہ ہونا ۔ قرآن میں ہے : ادْعُوا رَبَّكُمْ تَضَرُّعاً وَخُفْيَةً [ الأعراف/ 55] اپنے پروردگار سے عاجزی سے اور چپکے چپکے دعائیں مانگا کرو ۔
شقاق
والشِّقَاقُ : المخالفة، وکونک في شِقٍّ غير شِقِ صاحبک، أو مَن : شَقَّ العصا بينک وبینه . قال تعالی: وَإِنْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–35
1 ؎ یعنی اول نرمی سے سمجھا دینا چاہیے اس پر نہ مانیں تو بےالتفاقی کرو ساتھ سونا چھوڑ دو ۔ اگر کوئی ڈھیٹ اس پر بھی نہ مانے تو ہاتھ سے دھول دھپہ کرکے سیدھا کر دو ۔ پر خواہ مخواہ الزام لگانے کے لئے راہیں نہ تلاش کرو کیونکہ تم پر بھی کوئی بالادست ہے اور اگر اس پر بھی نہ مانیں تو طرفین سے دو شخص ثالث بن کر ملاپ کرا دو ۔ اگر ان کی نیت بخیر ہو تو خدا ان میں ملاپ کر دے گا۔ 12 منہ
ترکیب : الرجال مبتداء قوامون خبر علی النساء متعلق ہے قوامون سے بما بھی اسی سے ہے وبما انفقوا کا ما مصدر یہ ہے۔ فالصلحت مبتداء قانتات خبر بما حفظ کا مابمعنی الذی اور نکرہ موصوفہ بھی ہوسکتا ہے دونوں صورتوں میں عائد محذوف ہوگا…
Read the full tafseer →وَاِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَیْنِھِمَا فَابْعَثُوْا حَکَمًا مِّنْ اَھْلِہٖ وَحَکَمًا مِّنْ اَھْلِھَا ج اِنْ یُّرِیْدَآ اِصْلَاحًا یُّوَفِّقِ اللّٰہُ بَیْنَھُمَا ط اِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَلِیْمًا خَبِیْرًا
(اگر تمہیں میاں بیوی کے درمیان افتراق کا اندیشہ ہو ایک پنچ مرد کے لوگوں میں سے اور ایک پینچ عورت کے لوگوں میں سے مقرر کرو، اگر دونوں اصلاح کے طالب ہوئے تو اللہ ان کے درمیان سازگاری پیدا کردے گا، بیشک اللہ علیم وخبیر ہے) (النسآء : 35)
یعنی جب دیکھو کہ شوہر کی کوششیں ناکام ہوگئی ہیں اور معاملہ جدائی اور افتراق تک پہنچا چاہتا ہے تو اب میاں بیوی کے قبیلہ برادری اور ان کے رشتہ داروں اور خیرخواہوں کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–35
فہم القرآن
ربط کلام : معاشرتی ‘ مالی حقوق اپنی جگہ مسلّم لیکن خاندانی یونٹ کو متوازن اور مستحکم رکھنے کے لیے مرد کو گھر کا ناظم مقرر کیا گیا ہے اگر میاں بیوی کے درمیان تنازعہ ہوجائے تو اس کا طریقہ کار بھی طے کردیا گیا ہے۔
قرآن مجید نے گھر یلو زندگی کو ایک یونٹ قرار دے کر مرد کو اس کا سربراہ مقرر کیا ہے۔ جس کے لیے ” قَوَّامَ “ کا لفظ استعمال فرمایا ہے جس کا معنی ہے ہر قسم کی نگرانی اور انتظام کرنے والا۔ گھر کا منتظم اس لیے مقرر کیا تاکہ گھر کا نظام مضبوط اور صحت مند خطوط پر چلتا رہے۔ مرد کو منتظم بنانے کی دو وجوہات بیان فرمائیں تاکہ عورت کے ذہن میں پیدا ہونے والی غلط فہمیوں کا ازالہ ہو سکے۔…
Read the full tafseer →آیت 35 :
اس آیت میں خاندان و برادری والوں کو فرمایا۔
ضمیر کا مرجع :
وَاِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَیْنِہِمَا (اگر تمہیں اختلاف کا خطرہ ہو ان کے مابین) الشقاق عداوت و دشمنی ٗ کیونکہ ہر ایک ان میں سے وہ کام کرتا ہے جو اس کے دشمن پر شاق گزرتا ہے۔ یا شقاق، ایک طرف مائل ہونا۔ گویا ہر ایک ان میں سے اپنے ساتھی کی مخالف جانب میں جھکا ہوتا ہے۔ ضمیر کا مرجع میاں بیوی ہیں حالانکہ ان کا تذکرہ نہیں ہوا مگر ان دونوں کے حالات پر دلالت کرنے والی باتیں گزریں مثلا مردوں اور عورتوں کا تذکرہ ہوا۔ : شقاق بینہما۔ اصل میں شقاقًا بین ہما ہے۔ یہاں مصدر کی اضافت ظرف کی طرف کی گئی ہے۔ اور ظروف میں وسعت ہے۔ جیسا کہ اللہ…
Read the full tafseer →(تفسیر) 35۔:
(آیت)” وان خفتم شقاق بینھما “۔
(میاں بیوی کے درمیان فیصلہ کے لیے حکمین کا انتخاب)
زوجین میں اختلاف ہوجائے ، خوف بمعنی یقین کے ہے ، بعض نے کہا کہ یہاں بمنی ظن (گمان) کے ہے کہ اگر تمہیں ان کے آپس میں لڑائی جھگڑے کا گمان ہونے لگے تو پھر شوہر نہ اپنی بیوی سے روگردانی کرے اور نہ اس سے جدائی اختیار کرے اور نہ ہی اس کی کوئی تادیب کرے تو اس صورت میں وہ دونوں ایک حاکم عورت کی طرف سے اور ایک مرد کی طرف سے بھیجے جو آزاد بالغ عادل ہوں تاکہ وہ ان دونوں کے متعلق صحیح فیصلہ سن سکیں ، پھر وہ اپنی رائے ان دونوں میاں بیوی کے پاس بھیجے وہ ان سے صلح یا فرقت کے متعلق بات کریں ، جیسا کہ اللہ پاک کا…
Read the full tafseer →فقط عورت کی طرف سے جب بگاڑ کی باتیں ہوں تو ان کا ذکر تھا۔ اس آیت میں میاں بی بی دونوں کی طرف سے جب بگاڑ کی باتیں ہوں تو ان کا ذکر ہے کہ عورت مرددونوں کے رشتہ داروں میں سے ایک ایک پنچ ٹھہرا جائے تاکہ وہ اس بگاڑ کا تصفیہ کردیں۔ خواہ یہ تصفیہ آئندہ کے ملاپ کا ہو یا جدائی کا ابو داؤد ابن ماجہ مستدرک حاکم میں عبد اللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا حلال چیزوں میں اللہ تعالیٰ کے نزدیک جو ناپسند چیز ہے وہ عورت کی طلاق ہے 3۔ اور ابو داؤد کی سند میں اگرچہ ایک راوی یحییٰ بن مسلم ہے 4 جس کے حافظہ میں فتور ہے۔ لیکن وہ صدوق ہے۔ اسی واسطے حاکم نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے 5۔ غرض…
Read the full tafseer →آیت 35
یعنی اگر تمہیں میاں بیوی کے مابین مخالفت، دوری اور ایک دوسرے سے الگ تھلگ رہنے کا خوف ہو، حتی کہ ان میں سے ہر ایک، ایک کنارے پر ہو (یعنی اختلاف و نفرت کی انتہاء پر ہو) (فابعثوا حکماً من اھلہ وحکماً من اھلھا) ” تو ایک منصف مرد کے گھر والوں میں سے اور ایک عورت کے گھر والوں میں سے مقرر کرو “ یعنی دو مکلف، مسلمان، عادل اور عاقل مردوں کو ثالث بنا لو جو میاں بیوی کے مابین تمام معاملات کو جانتے ہوں اور وہ جمع اور تفرقہ کو بھی جانتے ہوں۔ مذکورہ تمام صفات لفظ ” حکم “ سے مستفاد ہیں کیونکہ کوئی شخص اس وقت تک حکم (منصف) بننے کی صلاحیت سے بہرہ ور نہیں ہوسکتا جب تک کہ وہ ان صفات کا حاکم نہ ہو۔ وہ…
Read the full tafseer →قول باری ہے (وان خفتم شقاق بینھما فابعثوا حکمامن اھلہ وحکما من اھلھا، اور اگر تمہیں کہیں میاں اور بیوی کے درمیان تعلقات بگڑجانے کا اندیشہ ہو تو ایک حکم مرد کے رشتہ داروں میں سے اور ایک عورت کے رشتہ داروں میں سے مقرر کرو) اس آیت کے مخاطب کون ہیں اس بارے میں اختلاف رائے ہے ، سعید بن جبیر اور ضحاک کا قول ہے یہ حاکم اور سلطان ہے جس کے پاس میاں بیوی اپنامقدمہ لے کرجاتے ہیں سدی کا قول ہے یہ میاں اور بیوی ہیں۔
ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ قول باری (واللاتی تخافون نشوزھن) میں شوہروں کے خطاب ہے ، کیونکہ آیت کے تسلسل و ترتیب میں اس پر دلالت موجود ہے ، جو قول باری (واھجروھن فی المضاجع) کی صورت میں ہے اور قول…
Read the full tafseer →83 زوجین کے درمیان اصلاح کا حکم وارشاد : سو اس سے میاں بیوی کے درمیان ناچاقی کی اصلاح کا حکم وارشاد فرمایا گیا ہے اور اس کا طریق کار بتایا گیا ہے اور میاں بیوی کے درمیان ناچاقی کی اصلاح سے متعلق یہ حکم تمام ہی ذمہ دار مسلمانوں سے ہے۔ خواہ وہ حکام اور ولاۃ امور ہوں، یا سربراہان قبائل۔ کہ ایسے سب ہی ذمہ دار اس حکم و ارشاد کے مخاطب ہیں۔ اور ان کو اس ارشاد ربانی کے ذریعے اصلاح احوال کیلئے یہ طریقہ کار تعلیم و تلقین فرمایا جارہا ہے جو آگے آرہا ہے۔ تاکہ اس کے ذریعے اصلاح احوال اور نباہ کی کوشش کی جائے یعنی باہمی تعلقات کے اس قدر فساد اور بگاڑ کے باوجود شریعت مطہرہ نے طلاق کی اجازت نہیں دی، کہ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–35
مردوں کی عورتوں پر فضیلت
تشریح : ان آیات میں گھریلو زندگی کے چند اصول بتائے گئے ہیں۔ جیسا کہ سب کو معلوم ہے کہ دو افراد حضرت آدم (علیہ السلام) اور حضرت حوا (علیہ السلام) دنیا کو آباد کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ بنے اس ذریعہ کو مفید، بامقصد، پرامن اور کامیاب بنانے کے لیے اللہ رب العزت نے میاں بیوی کے درجات کی وضاحت اس طرح فرمائی کہ گھر کا نظام چلانا، اخراجات پورے کرنا اور اپنے بیوی بچوں کو بہترین آسائشیں دینے کا بندوبست کرنا مرد کا فرض ہے، اس فرض کو پورا کرنے کے لیے مضبوط جسم و جان کی ضرورت ہے جو کہ مرد کو عطا کی گئی ہے، اسی لیے اس کو حاکم، یعنی سربراہ کہا گیا ہے۔ دوسری طرف عورت کا درجہ بھی کوئی…
Read the full tafseer →آیت نمبر 35: وان خفتم شقاق بینھما۔۔۔ علیما خبیرا۔
اب دوسری صورت یہ ہے کہ مرد کا قصور ہو یا عورت نافرمان و سرکش اور معاملہ گھر میں سدھرنے کی امید نہ رہے تو ایک دوسرے کو الزام دینے کی بجائے حاکم یا خاندان کے بزرگ مسلمانوں کی مقتدر جماعت دونوں طرف سے ایک ایک حکم مقرر کردیں یعنی دونوں خاندانوں میں سے ایک ایک فرد ایسا چنا جائے جس میں فیصلہ کرنے کی صلاحیت ہو حکم کے لفظ میں صلاحیت کا ہونا از خود ثابت ہے کہ قوت فیصلہ ہی نہ ہو تو حکم نہیں کہا جاسکتا اور ظاہر ہے کہ ایسے پرخلوص اور دیانتدار آدمی چنے جائیں جو ذی علم بھی ہوں بات سمجھ سکیں اور آپس میں مشورہ کرکے فیصلہ کرسکیں بنیادی طور پر ان کا تقرر محض…
Read the full tafseer →ف 7 دو حکم ّپنج) مقرر کرنے کا اختیار حاکم کو ہے اور یہ اس وقت ہے جب تعلقا زیادہ خراب ہوجائیں ارجدئی کا اندیشہ ہو اکثر علما کے نزدیک ان حکموں کو یہ بھی اختیار ہوگا کہ اگر وہ صلح کرانے میں ناکام رہیں تو میاں بیوی کے درمیان تفریق کا فیصلہ کردیں، تفسیر ابن کثیر میں ہے کہ اس پر علما کا اجماع ہے (ابن کثیر)8 یعنی وہ دونوں حکم اگر نیک نیتی سے صلح کر انے کی کوشش کرینگے تو اللہ تعالیٰ ان کی کوشش میں برکت عطا فرمائے گا (ابن کثیر )
Read the full tafseer →(4:35) شقاق۔ الشق۔ شگاف کو کہتے ہیں۔ جیسے مشققۃ بنصفین میں نے اسے برابر دو ٹکڑوں میں کاٹ دیا۔ قرآن کریم میں ہے ثم شققنا الارض شقا (8:126) پھر ہم نے زمین کو چیرا پھاڑا۔ یا اذا السماء انشقت (84:1) جب آسمان پھٹ جائے گا۔ الشق (بکسرش) اس مشقت کو کہتے ہیں کہ جو تگ ودو سے بدن یا جسم کو لاحق ہوتی ہو۔ مثلاً الا بشق الانفس (16:7) مگر جان پر مشقت جھیلنے کے بعد۔
الشقاق۔ کے معنی مخالفت۔ عداوت۔ ناچاقی کے ہیں۔ باب مفاعلہ کا مصدر ہے۔ شق طرف شقاق بمعنی الگ الگ (مخالف) طرفوں میں ہونا۔
فابعثوا۔ تم بھیجو۔ تم بلا بھیجو۔ تم اٹھاؤ۔ مقرر کرو۔ بعث سے باب فتح۔ امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔
حکما۔ مفعول بہٖ ۔ منصف۔ بیچ۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–35
آیت نمبر 34-35
لغات القرآن : الرجال، (الرجل) مرد۔ قوامون، ذمہ دار (قوام، ذمہ دار، نگہبان) ۔ فضل، کرم کیا۔ انقوا، انہوں نے خرچ کیا۔ الصلحت، نیک اور اچھی عورتیں۔ قنتت، فرماں بردار عورتیں۔ حفظت، حفاظت کرنے والیاں۔ حفظ اللہ، اللہ نے حفاظت کا (حکم دیا ہے) ۔ تخافون، تم ڈرتے ہو۔ نشوز، نافرمانی، بددماغی۔ عظوا، نصیحت کرو۔ اھجروا، چھوڑ دو ۔ المضاجع، لیٹنے کی جگہ۔ اضربوا، مارو۔ اطعن، انہوں نے اطاعت کرلی (مونث) ۔ لاتبغوا، تلاش نہ کرو۔ شقاق، ضد۔ ابعثوا، بلا بھیجو۔ حکم، فیصلہ کرنے والا۔ اھلہ، اس مرد کے خاندان سے۔ اھلھا، اس عورت کے خاندان سے۔ یوفق، وہ توفیق دے گا، موڑ دے گا۔
تشریح : ” قوام “ سے مراد ہے…
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ عزوجل کو میاں بیوی کا ملاپ پسند ہے اور طلاق ناپسند ہے پنچوں (پنچایت کا سربراہ) کی توجہ ملاپ کی طرف زیادہ دی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–40
[29] قوام کے معنی ہیں محافظ، مدبر اور منتظم کے اور یہاں مراد یہ ہے کہ مرد عورتوں کے امور کا انتظام کرنے والے، ان کی کفالت کرنے والے اور ان پر احکام نافذ کرنے والے ہیں۔
[30] یعنی مردوں کو عورتوں پر جیسا کہ بعد کی عبارت سے ظاہر ہے۔
[31] مال سے مراد ہے مہر اور نان نفقہ
[32] یعنی ان کے ساتھ ہم بستری موقوف کردو۔
Read the full tafseer →تدبیر منزل کے تین زرین اصول :
آخری صورت :
(ف 2) اگر میاں بیوی میں اختلاف اس درجہ تک بڑھ جائے کہ دونوں اسے مٹانے پر قادر نہ ہوں تو بہترین طریق یہ ہے کہ وہ حکم مقرر کرلیں ، ایک عورت کا عزیز ہو اور اس ایک مرد کا ، دونوں غیر جانبداری سے واقعات کو سنیں اور معاملہ نپٹانے کی کوشش کریں ، اگر مسلمان اس تجویز پر عمل پیرا ہوجائیں تو ان کا بہت سا روپیہ عدالتوں میں برباد ہونے سے بچ جائیے ۔
حل لغات :
شقاق : اختلاف ۔
Read the full tafseer →ف 2 اور اگر تم لوگ ان دونوں میاں بیوی کے مابین باہمی مخالفت اور ضد اور کشمکش کے بڑھ جانے سے خوف کرو اور تم کو قرآئن سے یہ معلوم ہوجائے کہ ان دونوں میں باہم کشمکش دشمنی تک پہنچ گئی ہے کہ یہ اس کو آپس میں نہیں سلجھا سکیں گے تو ایسی حالت میں ایک شخص جو عادل ہو اور اصلاح کی صلاحیت رکھتا ہو مرد کے خاندان سے اور ایک شخص اسی قابلیت کا عورت کے خاندان سے جو عادل ہو ان میاں بیوی کے پاس بھیجو تاکہ وہ دونوں شخص ان کے معاملات کو سلجھا دیں اور ان کا باہمی تصفیہ کرا دیں اگر وہ دونوں شخص واقعی اصلاح کا ارادہ کریں گے اور ان کا مقصد واقعی اصلاح ذات البین ہوگا تو اللہ تعالیٰ ان دونوں کی سعی سے ان دونوں میاں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–35
ف 7۔ جن دو شخصوں میں باہم اس طرح قول وقرار ہوجائے کہ ہم ایک دوسرے کے اس طرح یارومددگار رہیں گے کہ اگر ایک شخص کے ذمہ کوئی دیت لازم آئی تو دوسرا بھی اس کا متحمل ہو اور جب وہ مرا جائے تو دوسرا اس کی میراث لے تو یہ عہد عقد موالات ہے اور ان میں سے ہر شخص مولی المولات کہلاتا ہے یہ رسم عرب میں اسلام سے پہلے بھی تھی ابتداء اسلام میں جب تک کہ اکثر مسلمان نہ ہوئے تھے اور اس وجہ سے رسول اللہ ﷺ نے باہم انصار و مہاجرین میں عقد اخوت جس کا اثر اسی مولات کا سا تھا منعقد فرمادیا تھا اس وقت اسی رسم قدیم کے موافق حکم رہا کہ انصار و مہاجرین میں باہم میراث جاری ہوتی تھی پھر جب لوگ بکثرت مسلمان ہوگئے تو اس میں…
Read the full tafseer →اگر پہلی تینوں تدبیریں ناکام ہوچکی ہوں تو یہ ایک چوتھی تدبیر بھی آزما دیکھو :
76: جس مسئلہ میں گفتگو ہو رہی ہے اس کا ایک حل تو وہ ہے کہ اگر مرد کی طرف سے پہل ہو تو اس کو ” طلاق “ کہتے ہیں اور اگر عورت کی طرف سے پہل ہوجائے تو اس کو ” خلع “ کا نام دیا گیا ہے۔ اور نتیجہ دونوں کا ایک ہی ہے کہ میاں بیوی میں جدائی ہوگئی۔ وہ بندھن جو باندھا گیا تھا کاٹ دیا گیا۔ وہ عہد و پیمان جو میاں بیوی میں قائم ہوا تھا وہ ختم ہوگیا۔ فریقین پر جو پابندی لگائی گئی تھی وہ اٹھا دی گئی۔ جو شہد کا پیالہ لبوں تک پہنچایا گیا تھا۔ اس میں کسی سبب سے زہر مل گئی تو وہ فوراً ہٹا دیا گیا۔ ” جان بچی لاکھوں پائے “
لیکن یہاں…
Read the full tafseer →It is to block the road to this terrible discord that, in the second verse, the Holy Qur'an addresses government authorities of the time, the guardians of the parties concerned and their supporters, and the general body of Muslims, and suggests a decent method which would cool down tempers, shut out avenues of accusations and make a compromise between the affected parties possible, so that the dispute which, no doubt, could not remain restricted to the couple's home, would at least be settled within their families and not go to a court of law to become public knowledge.
This particular…
Read the full tafseer →60. The statement: 'if they both want to set things right', may be interpreted as referring either to the mediators or to the spouses concerned. Every dispute can be resolved providing the parties concerned desire reconciliation, and the mediators too are keen to remove the misunderstandings between them and to bring them together.
61. Whenever the relationship between a husband and a wife starts to break down, an attempt should first be made to resolve the dispute at the family level, before it is aggravated and leads to the disruption of the matrimonial tie. The procedure to be followed is…
Read the full tafseer →