مرد عورتوں سے افضل کیوں ؟
جناب باری ارشاد فرماتا ہے کہ مرد عورت کا حاکم رئیس اور سردار ہے ہر طرح سے اس کا محافظ و معاون ہے اسی لئے کہ مرد عورتوں سے افضل ہیں یہی وجہ ہے کہ نبوۃ ہمیشہ مردوں میں رہی بعینہ شرعی طور پر خلیفہ بھی مرد ہی بن سکتا ہے حضور ﷺ فرماتے ہیں وہ لوگ کبھی نجات نہیں پاسکتے جو اپنا والی کسی عورت کو بنائیں۔ (بخاری) اسی طرح ہر طرح کا منصب قضا وغیرہ بھی مردوں کے لائق ہی ہیں۔ دوسری وجہ فضیلت کی یہ ہے کہ مرد عورتوں پر اپنا مال خرچ کرتے ہیں جو کتاب و سنت سے ان کے ذمہ ہے مثلاً مہر نان نفقہ اور دیگر ضروریات کا پورا کرنا۔ پس مرد فی نفسہ بھی افضل ہے اور بہ اعتبار نفع کے اور حاجت براری کے…
Read the full tafseer →سورة النِّسَآء 56
قوام یا قیم اس شخص کو کہتے ہیں جو کسی فرد یا ادارے یا نظام کے معاملات کو درست حالت میں چلانے اور اس کی حفاظت و نگہبانی کرنے اور اس کی ضروریات مہیا کرنے کا ذمہ دار ہو۔
سورة النِّسَآء 57
یہاں فضیلت بمعنی شرف اور کرامت اور عزت نہیں ہے، جیسا کہ ایک عام اردو خواں آدمی اس لفظ کا مطلب لے گا، بلکہ یہاں یہ لفظ اس معنی میں ہے کہ ان میں سے ایک صنف (یعنی مرد) کو اللہ نے طبعاً بعض ایسی خصوصیات اور قوتیں عطا کی ہیں جو دوسری صنف (یعنی عورت) کو نہیں دیں یا اس سے کم دی ہیں۔ اس بنا پر خاندانی نظام میں مرد ہی قوام ہونے کی اہلیت رکھتا ہے اور عورت فطرةً ایسی بنائی گئی ہے کہ اسے خاندانی زندگی میں…
Read the full tafseer →ربط آیات
عورتوں کے متعلق جو احکام گذر چکے ہیں، اس میں ان کی حق تلفی کی ممانعت بھی مذکور ہوئی، اب آگے مردوں کے حقوق کا ذکر ہے اور ان کے مطالبہ اور ان کو قوت کرنے کی صورت میں تادیب کی اجازت بھی دی گئی ہے، حقوق میں اختلاف واقع ہونے کی صورت میں اس کے تصفیہ کا طریق اور حقوق ادا کرنے والوں کی فضیلت بھی مذکور ہے، اس کے ساتھ ہی اس بات کی بھی تصریح ہے کہ مردوں کا درجہ عورتوں سے بڑھا ہوا ہے، اس سے یہ جواب بھی نکل آیا کہ جب مرد، عورت کے مقابل ہمیں افضل ہیں تو یہ اشکال نہیں ہونا چاہئے، کہ میراث میں ان کا حصہ عورتوں کی نسبت زیادہ کیوں ہے ؟
خلاصہ تفسیر
مرد حاکم ہیں عورتوں پر (دو وجہ سے، ایک تو) اس سبب سے…
Read the full tafseer →فصل 16۔ آیات 34، 35 کا مضمون :
خاندان کی تعلیم کے لیے ہدایات : اوپر ولا تتمنوا، الایہ، میں عورت مرد دونوں کو اپنے اپنے فطری اور شرعی حدود کے اندر رہتے ہوئے حصول سعادت و کمال کی جدو جہد کی جو ہدایت فرمائی تھی اسی ہدایت کو خدا ندانی زندگی کی تشکیل و تنظیم کے لیے رہنما اصول قرار دے کر اب یہ خاندان کی تنظیم کے لیے ہدایات دی جا رہی ہیں۔ یہاں یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ معاشرہ خاندانوں سے مرکب ہوتا ہے اور معاشرے ہی سے ریاست وجود میں آتی ہے۔ گویا خاندان ہی وہ چیز ہے جو معاشرہ اور پھر ریاست کی بنیادی اینٹ ہے۔ اس وجہ سے نہایت ضروری ہے کہ یہ پہلی اینٹ نہایت صحیح رکھی جائے۔ اگر یہ ذرا بھی کج ہوگئی تو، ع،…
Read the full tafseer →34۔ 1 اس میں مرد کی حاکمیت و قوامیت کی دو وجہیں بیان کی گئی ہیں، ایک مردانہ قوت و دماغی صلاحیت ہے جس میں مرد عورت سے خلقی طور پر ممتاز ہے۔ دوسری وجہ کسبی ہے جس کا مکلف شریعت نے مرد کو بنایا ہے اور عورت کو اس کی فطری کمزوری اور مخصوص تعلیمات کی وجہ سے جنہیں اسلام نے عورت کی عفت و حیا اور اس کے تقدس کے تحفظ کے لئے ضروری قرار دیا، عورت کو معاشی جھمیلوں سے دور رکھا۔ عورت کی سربراہی کے خلاف قرآن کریم کی یہ نص قطعی بلکل واضح ہے جس کی تائید صحیح بخاری کی اس حدیث سے ہوتی ہے۔ جس میں نبی کریم ﷺ نے فرمایا ' وہ قوم ہرگز فلاح یاب نہیں ہوسکتی جس نے اپنے امور ایک عورت کے سپرد کردیئے۔
34۔ 2 نافرمانی کی صورت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–35
28: جب کوئی شخص اسلام لائے اور مسلمانوں میں اس کا کوئی رشتہ دار نہ ہو تو وہ جس شخص کے ہاتھ پر مسلمان ہوا ہے، بعض اوقات اس کے ساتھ یہ عہد کرلیتا تھا کہ وہ دونوں آپس میں بھائی بن گئے ہیں، لہذا وہ ایک دوسرے کے وارث بھی ہوں گے، اور اگر ان میں سے کسی پر کوئی تاوان آپڑا تو دوسرا اس کی ادائیگی میں اس کی مدد کرے گا، اس رشتے کو " موالاۃ " کہا جاتا تھا، یہاں اسی معاہدہ کا ذکر ہے، اور امام ابوحنیفہ ؒ کا مسلک اس آیت کی بنا پر یہی ہے کہ یہ رشتہ اب بھی کسی نومسلم سے قائم ہوسکتا ہے اور اگر دوسرے مسلمان رشتہ دار موجود نہ ہوں تو میراث میں بھی ان کا حصہ ہوگا۔
Read the full tafseer →ان قرآنی نصوص کی تفسیر اور تشریح شروع کرنے پہلے اور ان کی نفسیاتی اور اجتماعی اغراض کے بیان سے پہلے اس بات کی ضرورت ہے کہ خاندان کے بارے میں اسلام کا اجمالی نقطہ نظر بیان کردیا جائے اور یہ بتا دیا جائے کہ اسلام خاندان کی تعمیر کس منہاج پر کرتا ہے اور پھر اس کے بچاؤ کے لئے کیا تدابیر اختیار کرتا ہے ۔ اور پھر یہ کہ اس انتظام سے اسلام کے پیش نظر کیا اہداف اور مقاصد ہیں ۔ یہ بیان ہم حتی الوسع اجمالی طور پر کریں گے ‘ اس لئے کہ اس موضوع پر مفصل بحث کے لئے زیادہ صفحات درکار ہوں گے ۔
جس ذات نے انسان کو پیدا کیا اس نے اس کے اندر وہی ازدواجی فطرت ودیعت کی جو اس نے تمام چیزون کے اندر رکھی ہے جو اس نے…
Read the full tafseer →3 پہلی آیتوں میں مذکور تھا کہ مرد اور عورتوں کے حقوق کی پوری رعایت فرمائی گئی اگر رعایت حقوق میں فرق ہوتا تو عورتوں کو شکایت کا موقع ہوتا۔ اب اس آیت میں مرد اور عورت کے درجہ کو بتلاتے ہیں کہ مرد کا درجہ بڑھا ہوا ہے عورت کے درجہ سے۔ اس لئے فرق مدارج کے باعث جو احکام میں فرق ہوگا وہ سراسر حکمت اور قابل رعایت ہوگا اس میں عورت اور مرد باقاعدہ حکمت ہرگز برابر نہیں ہوسکتے عورتوں کو اس کی خواہش کرنی بالکل بیجا ہے۔ خلاصہ یہ ہوا کہ مردوں کو عورتوں پر اللہ تعالیٰ نے حاکم اور نگران حال بنایا دو وجہ سے اول بڑی اور وھبی وجہ تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اصل سے بعضوں کو بعضوں پر یعنی مردوں کو عورتوں پر علم و…
Read the full tafseer →آیت 34 اَلرِّجَالُ قَوّٰمُوْنَ عَلَی النِّسَآءِ
یہ ترجمہ میں زور دے کر کر رہا ہوں۔ اس لیے کہ یہاں قامَ ‘ ’ عَلٰی ‘ کے صلہ کے ساتھ آ رہا ہے۔ قَامَ ’ بِ ‘ کے ساتھ آئے گا تو معنی ہوں گے کسی شے کو قائم کرنا“۔ اسی سورة مبارکہ میں آگے چل کر یہ الفاظ آئیں گے : کُوْنُوْا قَوّٰمِیْنَ بالْقِسْطِ عدل کو قائم کرنے والے بن کر کھڑے ہوجاؤ ! جبکہ قام عَلٰی کا مفہوم ہے کسی کے اوپر مسلط ہونا۔ّیعنی حاکم اور منتظم ہونا۔ چناچہ آیت زیر مطالعہ سے یہ واضح ہدایت ملتی ہے کہ گھر کے ادارے میں حاکم ہونے کی حیثیت مرد کو حاصل ہے ‘ سربراہ خاندان مرد ہے ‘ عورت نہیں ہے۔ عورت کو بہرحال اس کے ساتھ ایک وزیر کی حیثیت سے کام کرنا…
Read the full tafseer →57 مرد قوام کس لحاظ سے ہیں ؟ قوام کا معنیٰ سرپرست، سربراہ اور منتظم ہے۔ یعنی ایسا شخص جو کسی دوسرے کی تمام تر معاشی اور معاشرتی ذمہ داریاں پوری کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ پھر مردوں کے قوام ہونے کی اللہ تعالیٰ نے دو وجوہ بیان فرمائی ہیں۔ ایک یہ کہ مرد اپنی جسمانی ساخت کے لحاظ سے عورتوں سے مضبوط ہوتے ہیں مشقت کے کام جتنا مرد کرسکتے ہیں عورتیں نہیں کرسکتیں۔ پھر ذمہ داریوں کو نباہنے کی صلاحیت بھی مردوں میں عورتوں کی نسبت زیادہ ہوتی ہے۔ چناچہ تاریخ کے اوراق اس بات پر شاہد ہیں کہ جو کچھ کارہائے نمایاں مردوں نے سرانجام دیئے ہیں عورتیں اس کے عشر عشیر کو بھی نہ پہنچ سکیں اور یہ کارنامے خواہ زندگی کے کسی…
Read the full tafseer →112 ۔ ابھی یہ معلوم ہوچکا ہے کہ روحانیات کی دنیا میں یعنی قرب حق اور حسن عمل کے لحاظ سے مرد و عورت کی حیثیت بالکل مساوی ہے۔ نماز اور روزہ اور زکوٰۃ اور حج اور ساری عبادتیں جس طرح اور جس پیمانہ پر مرد کو قبول ہوسکتی ہیں۔ وہی ساری راہیں عورت کے لیے بھی کھلی ہوئی ہیں اب یہاں یہ بتایا گیا کہ مرد وزن کی یہ مساوات دنیوی معاملات میں اور انتظامی حیثیت سے قائم نہیں، باپ اور بیٹے دونون بہ حیثیت عبد بالکل ایک ہیں۔ عنداللہ اعمال کی مقبولیت کی معیار سے دونوں بالکل مساوی ہیں۔ لیکن دنیا میں شریعت ہی کا حکم ہے کہ باپ افسر ہو کر رہے اور بیٹا ماتحت ہوکر، باپ حکم دے اور بیٹا حکم مانے، اب بتایا جارہا ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–40
آیت نمبر 34 تا 42
ترجمہ : مردعورتوں کے حاکم ہیں ان کی تادیب کرتے ہیں اور انکو (ناپسندیدہ باتوں سے) باز رکھتے ہیں، اس سبب سے کہ اللہ نے ان میں سے ایک کو دوسرے پر فضیلت دی ہے یعنی اللہ تعالیٰ نے مردوں کو عورتوں پر اور عقل میں اور ولایت وغیرہ میں فضیلت دے کر اور اس سے مرد عورتوں پر اپنے مال خرچ کرتے ہیں پس نیک فرمانبردار عورتیں اپنے شوہروں کی اطاعت گذار خاوند کی عدم موجودگی میں بحفاظت الہٰی اپنی ناموس وغیرہ کی نگہداشت رکھنے والیاں ہیں اس طریقہ پر کہ شوہروں کو ان کی حفاظت کی تاکید فرمائی۔ اور جن عورتوں کی نافرمانی کا تمہیں خوف ہو اس طریقہ پر کہ اس کی علامات ظاہر ہوں، تو انہیں نصیحت کرو یعنی ان کو…
Read the full tafseer →الرجال قوامون علی النسآء . مرد عورتوں کے سرپرست ہیں۔ ابن ابی حاتم نے حسن کے حوالہ سے لکھا ہے کہ ایک عورت نے رسول اللہ ﷺ : کی خدمت میں دعویٰ کیا کہ میرے شوہر نے میرے طمانچہ مارا ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا بدلہ (لیا جائے) اس پر یہ پوری آیت نازل ہوئی اور عورت بغیر بدلہ لئے واپس چلی گئی۔ یہ روایت ابن ابی شیبہ نے (مصنف میں) اور ابو داؤد نے مراسیل میں نقل کی ہے اور ابن جریر نے بھی حسن ؓ کی روایت سے اسی طرح کی حدیث بیان کی ہے۔
لیکن ثعلبی ‘ واحدی اور بغوی کا بیان ہے کہ آیت کا نزول سعد بن ربیع اور ان کی بیوی کے حق میں ہوا تھا ‘ سعد کا شمار نقباء میں تھا اور ان کی بیوی حبیبہ بنت زید بن ابی زہیر تھی۔ یہ نام…
Read the full tafseer →(34) یعنی مرد عقل، مال غینمت، میراث اور عورتوں کو مہر اور نفقہ وغیرہ دینے کی وجہ سے عورتوں پر حاکم ہیں۔
سو جو عورتوں نیک ہیں وہ خاوندوں کے حقوق میں اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرتی ہیں اور خاوندوں کی غیر موجودگی میں اپنی عصمتوں اور ان کے اموال کی بحفاظت خداوندی حفاظت کرتی ہیں۔
اور جن عورتوں کی نافرمانیوں سے تم باخبر ہو پہلے تو قرآن و حدیث سے ان کو سمجھاؤ اور پھر بستر پر اپنے چہروں کو ان سے پھیر لو اور پھر بھی نہ مانیں تو حد اعتدال میں ان کو مناسب سزا دو کرو اگر وہ سنبھل جائیں تو نباہ کرو ورنہ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں ان امور کا مکلف نہیں کیا جن کی تم میں طاقت نہیں، تم بھی ان امور پر ان کو مجبور…
Read the full tafseer →اَلرِّجَالُ قَوّٰمُوْنَ۔۔ : شریعت نے گھر کے بندوبست اور انتظام کے لیے مرد کو گھر کا قوام (نگران، ذمہ دار) قرار دیا ہے اور عورت کو اس کے ماتحت رکھا ہے۔ قرآن نے اس کی دو وجہیں بیان کی ہیں، ایک تو یہ کہ مرد کو طبعی طور پر امتیاز حاصل ہے کہ وہ منتظم بنے اور دوسرے یہ کہ گھر کے سارے اخراجات بیوی کے نفقہ سمیت مرد کے ذمے ہیں۔ اس بنا پر گھر کا نگران بننے کا حق مرد کو ہے عورت کو نہیں۔ یہی حال حکومتی امور کا ہے کہ مسلمانوں کا خلیفہ یا امیر عورت نہیں ہوسکتی، بلکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (لَنْ یُفْلِحَ قَوْمٌ وَلَّوْ اَمْرَہُمُ امْرَأَۃً) ”وہ قوم ہرگز کامیاب نہیں ہوگی جس نے اپنا حاکم عورت کو بنا لیا۔“ […
Read the full tafseer →آیت نمبر : 34۔
اس میں گیارہ مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر : (1) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” الرجال قومون علی النسآء “۔ یہ مبتدا خبر ہیں یعنی مرد عورتوں کا خرچ اٹھاتے ہیں اور ان کا دفاع کرتے ہیں اسی طرح مردوں میں حکام، امراء اور جہاد کرنے والے ہوتے ہیں، جب کہ یہ فرائض عورتوں پر نہیں۔ کہا جاتا ہے قوام وقیم (نگران) یہ آیت حضرت سعد بن ربیع ؓ کے حق میں نازل ہوئی ان کی بیوی حضرت حبیۃ بنت زید بن خارجہ بن ابی زہیر نے نافرمانی کی تو انہوں نے اسے طمانچہ مارا، حضرت حبیبۃ ؓ کے والد نے عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ میں نے اپنی بیٹی سعد کو دی، اس نے اسے طمانچہ مارا ہے۔ نبی مکرم ﷺ نے فرمایا : ” وہ اپنے خاوند سے قصاص…
Read the full tafseer →(1) ابن ابی حاتم نے اشعت بن عبد المالک کے طریق سے حسن بصری (رح) سے روایت کیا کہ ایک عورت نبی ﷺ کے پاس آئی اور اپنے خاوند کے خلاف زیادتی کا بدلہ لینا چاہتی تھی کیونکہ اس نے اس کو تھپڑ مارا تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے قصاص کا حکم فرمایا تو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا لفظ آیت ” الرجال قومون علی النساء “ (اس کے بعد) بغیر قصاص کے اس کو لوٹا دیا گیا۔
(2) عبد بن حمید وابن جریر نے قتادہ کے طریق سے حسن ؓ سے روایت کیا کہ ایک آدمی نے اپنی بیوی کو تھپڑ مارا تو وہ نبی ﷺ کے پاس آئی اور آپ نے اس سے قصاص (یعنی بدلہ) لینے کا ارادہ فرمایا تو (یہ آیت) نازل ہوئی ” الرجال قومون علی النساء “ آپ نے اس مرد کو بلایا اور اس پر…
Read the full tafseer →[ اَلرِّجَالُ : مرد ] [ قَوَّامُوْنَ : ذمہ دار ‘ کفیل ہیں ] [ عَلَی النِّسَآئِ : عورتوں پر ] [ بِمَا : بسبب اس کے جو ] [ فَضَّلَ : فضیلت دی ] [ اللّٰہُ : اللہ نے ] [ بَعْضَہُمْ : ان کے کسی کو ] [ عَلٰی بَعْضٍ : کسی پر ] [ وَّبِمَآ : اور بسبب اس کے جو ] [ اَنْفَقُوْا : انہوں نے خرچ کیا ] [ مِنْ اَمْوَالِہِمْ : اپنے مال میں سے ] [ فَالصّٰلِحٰتُ : پس نیک عورتیں ] [ قٰـنِتٰتٌ : فرمانبرداری کرنے والیاں ہیں ] [ حٰفِظٰتٌ : حفاظت کرنے والیاں ہیں ] [ لِّـلْغَـیْبِ : پیٹھ پیچھے ] [ بِمَا : اس کی جس کی ] [ حَفِظَ : حفاظت کی (یعنی چاہی) ] [ اللّٰہُ : اللہ نے ] [ وَالّٰتِیْ : اور جن عورتوں سے ] […
Read the full tafseer →زن و شوہر کے بارے میں چند ہدایات
حضرت حسن (رح) نے اس آیت کا شان نزول یوں بیان کیا کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کو طمانچہ مار دیا تھا، وہ عورت رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں فریاد لے کر حاضر ہوئی۔ اس کے گھر والے بھی ساتھ تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ قصاص (بدلہ) ہوگا۔ اس پر یہ آیت (اَلرِّجَالُ قَوّٰمُوْنَ عَلَی النِّسَآءِ ) نازل ہوئی۔ آیت کے نزول کے بعد آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ہم نے ایک بات کا ارادہ کیا (یعنی بدلہ دلانے کا) اور اللہ تعالیٰ نے دوسری بات کا ارادہ فرمایا۔ (اسباب النزول للواحدی صفحہ 145)
مرد عورتوں پر حاکم ہیں :
آیت بالا میں اول تو یہ فرمایا کہ مرد عورتوں پر حاکم ہیں اور ساتھ اس کے دو سبب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–42
حکم شانزدہم بابت معاشرہ زوجین۔
قال تعالی، الرجال قوامون۔۔۔ الی۔۔۔ خبیرا۔
ربط) گزشتہ آیات میں میراث کے باب میں عورتوں پر مردوں کی فضیلت بیان کی اب ان آیات میں مطلقا مردوں کی فضیلت بیان فرماتے ہیں کہ مردوں کو عورتوں پر ہر طرح کی فضیلت حاصل ہے ذاتی اور عرضی دونوں قسم کی فضیلتیں مردوں کو خدا تعالیٰ نے عطا کی ہیں اور مردوں کو عورتوں پر حاکم بنایا ہے اور ان کو اجازت دی ہے کہ بغرض تادیب واصلاح عورتوں کو تنبہ کریں اور اگر ضرورت پیش آئے تو مارنے کی بھی اجازت ہے تاکہ عورتوں کا شبہ بھی دور ہوجائے کہ مردوں کو دھری میراث کیوں ملتی ہے چناچہ فرماتے کہ مردعورتوں پر دو وجہ سے حاکم اور قائم ہیں مردوں کی وجہ سے…
Read the full tafseer →26 تیرہواں حکم رعیت وراثت میں بیشک عورتیں بھی مردوں کے ساتھ شریک ہیں لیکن دو باتوں کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے مردوں کو عورتوں پر منظم مقرر کیا ہے اور ان کو ان پر بالادستی اور تسلط کی شان عطا فرمائی ہے۔ بِمَا فَضَّلَ اللہُ بَعْضَہُمْ عَلیٰ بَعْضٍ میں باء سببیہ ہے اور یہ مردوں کے عورتوں پر قوام ہونے کی پہلی علت ہے یعنی اللہ تعالیٰ نے مردوں کو علم وعقل، فہم و تدبر اور قوت وقدرت میں عورتوں پر جو برتری اور فضیلت عطا فرمائی ہے اس بناء پر وہی اس شرف کے مستحق ہیں کہ نظام کار انہی کے ہاتھ میں ہو اور عورتوں پر انہیں تسلط حاصل ہو وَبِمَا اَنْفَقُوْا مِنْ اَمْوَالِھِمْ یہاں بھی باء سببیہ ہے اور یہ تسلط کی…
Read the full tafseer →رابط آیات
گزشتہ درس میں اللہ تعالیٰ نے عورتوں کو منع فرمایا تھا کہ وہ اس قسم کی خواہش نہ کریں کہ وہ مرد ہوتیں تو وہ بھی بڑے بڑے کام انجام دیتیں ، فرمایا ایسی تمنا کرنا غلط ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے بعض انسانوں کو بعض دوسروں پر فطری طور پر فضیلت بخشی ہے۔ یہ اس مالک الملک کی حکمت اور منشاء کے مطابق ہے۔ لہٰذا کسی انسان کے لیے لائق نہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ حدود کو توڑ کر دوسری طرف جانے کی کوشش کرے۔ یہ اللہ کے ہاں ناپسندیدہ فعل ہے۔ اگر کوئی ایسا کرے گا تو نقصان اٹھائے گا۔ اب آج کے درس کی آیت میں اللہ تعالیٰ نے مردوں کی فضیلت کی وجوہات اور بعض دوسرے معاشرتی مسائل بیان فرمائے ہیں۔
مرد بطور…
Read the full tafseer →اَلرِّجَالُ قَوّٰمُوْنَ عَلَي النِّسَاۗءِ بِمَا فَضَّلَ اللہُ بَعْضَھُمْ عَلٰي بَعْضٍ وَّبِمَآ اَنْفَقُوْا مِنْ اَمْوَالِہِمْ 0ۭ فَالصّٰلِحٰتُ قٰنِتٰتٌ حٰفِظٰتٌ لِّلْغَيْبِ بِمَا حَفِظَ اللہُ 0ۭ وَالّٰتِيْ تَخَافُوْنَ نُشُوْزَھُنَّ فَعِظُوْھُنَّ وَاہْجُرُوْھُنَّ فِي الْمَضَاجِــعِ وَاضْرِبُوْھُنَّ 0ۚ فَاِنْ اَطَعْنَكُمْ فَلَا تَبْغُوْا عَلَيْہِنَّ سَبِيْلًا 0ۭ اِنَّ اللہَ كَانَ عَلِيًّا كَبِيْرًا 34
رجل
الرَّجُلُ : مختصّ بالذّكر من الناس، ولذلک قال تعالی: وَلَوْ جَعَلْناهُ مَلَكاً لَجَعَلْناهُ رَجُلًا
[ الأنعام/ 9]
( ر ج ل ) الرجل
کے معنی مرد کے ہیں اس بنا پر قرآن میں ہے : ۔ وَلَوْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–35
1 ؎ یعنی اول نرمی سے سمجھا دینا چاہیے اس پر نہ مانیں تو بےالتفاقی کرو ساتھ سونا چھوڑ دو ۔ اگر کوئی ڈھیٹ اس پر بھی نہ مانے تو ہاتھ سے دھول دھپہ کرکے سیدھا کر دو ۔ پر خواہ مخواہ الزام لگانے کے لئے راہیں نہ تلاش کرو کیونکہ تم پر بھی کوئی بالادست ہے اور اگر اس پر بھی نہ مانیں تو طرفین سے دو شخص ثالث بن کر ملاپ کرا دو ۔ اگر ان کی نیت بخیر ہو تو خدا ان میں ملاپ کر دے گا۔ 12 منہ
ترکیب : الرجال مبتداء قوامون خبر علی النساء متعلق ہے قوامون سے بما بھی اسی سے ہے وبما انفقوا کا ما مصدر یہ ہے۔ فالصلحت مبتداء قانتات خبر بما حفظ کا مابمعنی الذی اور نکرہ موصوفہ بھی ہوسکتا ہے دونوں صورتوں میں عائد محذوف ہوگا…
Read the full tafseer →اَلرِّجَالِ قَوّٰمُوْنَ عَلَی النِّسَآئِ بِمَا فَضَّلَ اللّٰہُ بَعْضَھُمْ عَلٰی بَعْضٍ وَّبِمَـآ اَنْفَقُوْا مِنْ اَمْوَالِھِمْ ط فَالصّٰلِحٰتُ قٰنِتٰتٌ حٰفِظٰتٌ لِّلْغَیْبِ بِمَا حَفِظَ اللّٰہُ ط وَالّٰتِیْ تَخَافُوْنَ نُشُوْزَھُنَّ فَعِظُوْھُنَّ وَاھْجُرُوْھُنَّ فِی الْمَضَاجِعِ وَاضْرِبُوْھُنَّ ج فَاِنْ اَطَعْنَـکُمْ فلاَ تَبْغُوْا عَلَیْھِنَّ سَبِیْلاً ط اِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَلِیًّا کَبِیْرًا
(مرد عورتوں پر قوام ہیں بوجہ اس کے کہ اللہ نے ایک کو دوسرے پر فضیلت بخشی ہے اور بوجہ اس کے کہ انھوں نے اپنے مال خرچ کیے ہیں پس جو نیک بیبیاں ہیں وہ فرمانبرداری کرنے والی رازوں کی حفاظت کرنے والی ہوتی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–35
فہم القرآن
ربط کلام : معاشرتی ‘ مالی حقوق اپنی جگہ مسلّم لیکن خاندانی یونٹ کو متوازن اور مستحکم رکھنے کے لیے مرد کو گھر کا ناظم مقرر کیا گیا ہے اگر میاں بیوی کے درمیان تنازعہ ہوجائے تو اس کا طریقہ کار بھی طے کردیا گیا ہے۔
قرآن مجید نے گھر یلو زندگی کو ایک یونٹ قرار دے کر مرد کو اس کا سربراہ مقرر کیا ہے۔ جس کے لیے ” قَوَّامَ “ کا لفظ استعمال فرمایا ہے جس کا معنی ہے ہر قسم کی نگرانی اور انتظام کرنے والا۔ گھر کا منتظم اس لیے مقرر کیا تاکہ گھر کا نظام مضبوط اور صحت مند خطوط پر چلتا رہے۔ مرد کو منتظم بنانے کی دو وجوہات بیان فرمائیں تاکہ عورت کے ذہن میں پیدا ہونے والی غلط فہمیوں کا ازالہ ہو سکے۔…
Read the full tafseer →آیت 34: اَلرِّجَالُ قَوّٰمُوْنَ عَلَی النِّسَآئِ (مرد عورتوں کے ذمہ دار ہیں) وہ ان پر نگرانی امرو نہی کے سلسلہ میں کریں گے۔ جیسے والی رعایا پر کرتے ہیں۔ اسی لئے ان کو قوام فرمایا گیا۔
اسبابِ فضیلت :
بِمَا فَضَّلَ اللّٰهُ بَعْضَهُمْ عَلٰى بَعْضٍ (اسلئے کہ اللہ تعالیٰ نے بعض مردوں کو بعض (عورتوں) پر فضیلت دی) بَعْضَهُمْ کی ضمیر مردوں اور عورتوں کی طرف لوٹتی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ وہ مرد ان عورتوں پر غلبہ رکھتے ہیں عقل ٗ عزم ٗ حزم ٗ تیر اندازی ٗ قوت ‘ غزوہ و حرب ٗ کمال صوم وصلوٰۃ اور نبوت و خلافت و امامت و اذان اور خطبہ و جماعت و جمعہ کی وجہ سے بلکہ امام ابوحنیفہ (رح) کے نزدیک تکبیرات تشریق کی وجہ سے…
Read the full tafseer →(الرجال قوامون کی آیت کا شان نزول)
(تفسیر) 34۔:
اس آیت کا نزول سعد بن ربیع اور ان کی بیوی کے حق میں ہوا ، سعد کا شمار نقباء میں سے ہوا اور ان کی بیوی حبیبہ بنت زید بن ابی زہیر تھی ، مقاتل (رح) ، اور کلبی (رح) کا بیان ہے کہ سعد کی بیوی محمد بن مسلمہ ؓ کی بیٹی تھی ، واقعہ یہ ہوا کہ سعد کی بیوی نے سعد کے حکم کے خلاف کوئی بات کی ، سعد نے ان کو طمانچہ مارا ، وہ اپنے والد کے ساتھ نبی کریم ﷺ کے پاس آئی اور اس کے والد نے کہا کہ آپ نے میری پیاری آنکھوں کی ٹھنڈک سعد کردی اور اس نے اس کو طمانچہ مارا ، آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا اس کو اپنے شوہر سے قصاص (بدلہ) لینے کا حق حاصل ہے ، وہ اپنے باپ کے ساتھ واپس آئیں…
Read the full tafseer →ابن ابی حاتم جریر ابن مردویہ نے جو شان نزول اس آیت کی بیان کی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ انصار میں سے ایک صحابی نے اپنی بی بی کو ایک طمانچہ مارا اس عورت کا باپ اس عورت کو لے کر آنحضرت ﷺ کے پاس فریاد کو آیا آپ نے قصاص کا حکم دیا۔ یہ دونوں عوض لینے کی نیت سے آنحضرت ﷺ کے پاس سے گھر کی طرف مڑے ابھی اپنے گھر تک نہیں پہنچے تھے کہ حضرت جبرئیل اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ آیتیں لائے آپ نے اس آیت کے نازل ہونے کے بعد قصاص کا حکم موقوف رکھا 1 حاصل یہ ہے کہ عورت پر مرد کا بڑا حق ہے۔ ترمذی میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اگر روئے زمین پر کسی آدمی کو آدمی کے سجدہ کرنے کا حکم ہوتا تو میں…
Read the full tafseer →آیت 34
اللہ تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے (الرجال قومون علی النسآء ) ” مرد عورتوں کے نگران اور محافظ ہیں “ یعنی مرد عورتوں سے اللہ تعالیٰ کے حقوق کا التزام کروانے والے، ان سے ان کے فرئاض کی حفاظت کروانے والے اور ان کو مفاسد سے روکنے والے ہیں، اور اس اعتبار سے وہ عورتوں پر قوام ہیں اور مردوں پر فرض ہے کہ وہ عورتوں سے ان امور کا التزام کروائیں۔ وہ عورتوں پر اس اعتبار سے بھی قوام ہیں کہ وہ ان پر خرچ کرتے ہیں اور انہیں لباس اور مسکن مہیا کرتے ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس سبب کا ذکر کیا ہے جو عورتوں پر مردوں کے قوام ہونے کا موجب ہے، فرمایا : (بما فضل اللہ بعضھم علی بعض وبما انفقوا من اموالھم) ” اس لئے کہ…
Read the full tafseer →عورت پر شوہر کی اطاعت کا وجوب
قول باری ہے (الرجال قوامون علی النساء بمافضل اللہ بعضھم علی بعض وبما انفقوا من اموالھم، مرد عورتوں پر قوام ہیں اس بنا پر کہ اللہ تعالیٰ نے ان میں سے ایک کو دوسرے پر فضیلت دی ہے اور اس بنا پر کہ مرد اپنے مال خرچ کرتے ہیں۔ یونس نے حسن سے روایت کی ہے ایک شخص نے اپنی بیوی کو مار کر زخمی کردیا، اس کا بھائی حضور ﷺ کی خدمت میں آیا آپ نے ساراواقعہ سن کر فیصلہ دیا کہ مرد سے قصاص لیاجائے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ، آیت کے نزول کے بعد آپ نے فرمایا، ہم نے ایک امر کا ارادہ کیا لیکن اللہ تعالیٰ نے کسی اور امر کا ارادہ کرلیا۔
جریر بن حازم نے حسن سے روایت کی ہے کہ…
Read the full tafseer →80 مردوں کی عورتوں پر فضیلت و فوقیت کا بیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ مرد حاکم [ و سرپرست ] ہیں عورتوں پر [ ایک تو ] اس وجہ سے کہ اللہ نے ان میں سے بعض کو بعض پر فوقیت اور فضیلت دے رکھی ہے اور [ دوسرے ] اس لیے کہ مرد خرچ کرتے ہیں اپنے مالوں میں سے۔ کہ دونوں میں سے ہر ایک کے وظیفہ حیات کا تقاضا یہی ہے۔ سو یہ فطری اور جبلی فضیلت، وہبی اور غیر اختیاری ہے۔ جس کو بدلنا کسی کے بس میں نہیں۔ جبکہ انفاق کی دوسری خصلت کسبی اور اختیاری ہے۔ سو ان دونوں خصلتوں کی بناء پر مردوں کو عورتوں پر فضیلت اور فوقیت بخشی گئی ہے۔ سو اسی بناء پر نبوت و رسالت، امامت صغریٰ اور امامت کبریٰ ، جہاد، اذان، خطبہ، شہادۃ، ولایت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–35
مردوں کی عورتوں پر فضیلت
تشریح : ان آیات میں گھریلو زندگی کے چند اصول بتائے گئے ہیں۔ جیسا کہ سب کو معلوم ہے کہ دو افراد حضرت آدم (علیہ السلام) اور حضرت حوا (علیہ السلام) دنیا کو آباد کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ بنے اس ذریعہ کو مفید، بامقصد، پرامن اور کامیاب بنانے کے لیے اللہ رب العزت نے میاں بیوی کے درجات کی وضاحت اس طرح فرمائی کہ گھر کا نظام چلانا، اخراجات پورے کرنا اور اپنے بیوی بچوں کو بہترین آسائشیں دینے کا بندوبست کرنا مرد کا فرض ہے، اس فرض کو پورا کرنے کے لیے مضبوط جسم و جان کی ضرورت ہے جو کہ مرد کو عطا کی گئی ہے، اسی لیے اس کو حاکم، یعنی سربراہ کہا گیا ہے۔ دوسری طرف عورت کا درجہ بھی کوئی…
Read the full tafseer →رکوع نمبر 6 ۔ آیت 34 تا 42 ۔ والمحصنت۔
اسرار و معارف
آیت 34: الرجال قوامون علی النساء۔۔۔ ان اللہ کان علیا کبیرا۔
اب خانگی تعلقات اور اندرون خانہ معاملات کی صورت کیا ہوگی چونکہ ہر نظام یا جماعت و حکومت کا کوئی سربراہ ہوتا ہے جسے آپ حاکم کہیں یا کوئی اور نام دیں تو گھر میں مرد حاکم ہوگا اور عورت اس کی شریک سلطنت یا نائب وزیر کہ امور خانہ داری میں اسے مشورہ بھی دے اور اس کی ہدایات پر عمل بھی کرے قوام کا ترجمہ حاکم دیا گیا ہے جس میں کسی حد تک جبر و استبداد کا شبہ پڑتا ہے سو المنجد کا ترجمہ المتکفل بالامر۔ القوی علی القیام بالامر۔ الامیر۔ اس مفہوم کو بہت اچھی طرح واضح کردیتا ہے کہ یہ کوئی جابرانہ…
Read the full tafseer →ف 3 شریعت نے خانگی شیرازہ بندی کے لیے مرد کو گھر کا قوام (نگران ذمہ دار) قرار دیا ہے اور عورت کو اس کے ما تحت رکھا ہے۔ ، قرآن نے اس کی دو وجہیں بیان کی ہیں ایک تو یہ کہ مرد کو طبعی طور پر امتیاز حاصل ہے کہ وہ منتظم بنے اور دسرے یہ کہ گھر کے سارے اخراجات بیوی کے نفقہ سمیت مرد کے ذمہ ہیں۔ اس بنا پر گھر کانگران بننے کا حق مردکو ہے عورت کو نہیں یہی حاْل حکومتی امور کا ہے کہ مسلمان کا امیر یا خلیفہ عورت نہیں ہوسکتی بلکہ ایک حدیث میں آنحضرت ﷺ نے اس کی مذمت فرمائی ہے۔ لن یغلح قوم ولوا امر ھم امئرۃ (کبیر۔ شوکانی)4 اس آیت کی تشریح وہ حدیث کرتی ہے جس میں نبی ﷺ کا ارشاد ہے بہترین بیوی وہ ہے جسے اگر تم…
Read the full tafseer →(4:34) قوامون۔ جمع مرفوع ۔ قوام۔ واحد صیغہ مبالغہ ۔ بگران۔ سرپرست۔ محافظ۔ مصلح۔ برتر۔ قوامد یا قیم اس شخص کو کہتے ہیں جو کسی فرد یا ادارہ یا نظام کے معاملات کو درست حالت میں چلانے اور اس کی نگہبانی اور حفاظت کرنے اور اس کی ضروریات مہیا کرنے کا ذمہ دار ہو۔ بما۔ بوجہ۔ ب سببیہ ہے اور ما مصدریہ۔
بعضہم۔ میں ہم ضمیر جمع مذکر غائب مردوں کے لئے ہے اور بعض عورتوں کے لئے (مدارک)
فالصلحت۔ پس نیک بیبیاں (وہ ہیں جو آگے بیان ہوئی ہیں)
قنتت۔ اسم فاعل جمع مؤنث۔ فرماں بردار، اطاعت گزار۔ قنوت سے قانت (مذکر) خضوع اور عاجزی کرنے والا۔ نماز میں طویل قیام کرنے والا۔ بندگی پر قائم و دائم رہنے والا۔ کل لہ قنتون…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–35
آیت نمبر 34-35
لغات القرآن : الرجال، (الرجل) مرد۔ قوامون، ذمہ دار (قوام، ذمہ دار، نگہبان) ۔ فضل، کرم کیا۔ انقوا، انہوں نے خرچ کیا۔ الصلحت، نیک اور اچھی عورتیں۔ قنتت، فرماں بردار عورتیں۔ حفظت، حفاظت کرنے والیاں۔ حفظ اللہ، اللہ نے حفاظت کا (حکم دیا ہے) ۔ تخافون، تم ڈرتے ہو۔ نشوز، نافرمانی، بددماغی۔ عظوا، نصیحت کرو۔ اھجروا، چھوڑ دو ۔ المضاجع، لیٹنے کی جگہ۔ اضربوا، مارو۔ اطعن، انہوں نے اطاعت کرلی (مونث) ۔ لاتبغوا، تلاش نہ کرو۔ شقاق، ضد۔ ابعثوا، بلا بھیجو۔ حکم، فیصلہ کرنے والا۔ اھلہ، اس مرد کے خاندان سے۔ اھلھا، اس عورت کے خاندان سے۔ یوفق، وہ توفیق دے گا، موڑ دے گا۔
تشریح : ” قوام “ سے مراد ہے…
Read the full tafseer →شان نزول : انصار میں سے ایک صحابی نے اپنی بی بی کو کسی خطا پر ایک طمانچہ مارا۔ اس عورت کا باپ اس عورت کو لے کر آنحضرت ﷺ کے پاس فریاد کو آیا آپ نے قصاص کا حکم دیا۔ یہ دونوں راستہ میں تھے جو یہ آیت نازل ہوئی ۔ اس وقت حضور نے قصاص کا حکم موقوف رکھا، حاصل یہ کہ عورت پر مرد کا بڑ احق ہے ۔ ترمذی میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اگر روئے زمین پر کسی آدمی کے سجدہ کرنے کا حکم ہوتا تو میں عورت کو خاوند کے سجدہ کا حکم دیتا ۔ حضور نے فرمایا کہ جو عورت نما پڑھے اور روزہ رھے اور بدکاری سے بچے اور اپنے خاوند کی اطاعت کرے وہ جس دروازہ سے چاہے جنت میں جاسکتی ہے۔ مرد عورتوں کے حاکم ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–40
[29] قوام کے معنی ہیں محافظ، مدبر اور منتظم کے اور یہاں مراد یہ ہے کہ مرد عورتوں کے امور کا انتظام کرنے والے، ان کی کفالت کرنے والے اور ان پر احکام نافذ کرنے والے ہیں۔
[30] یعنی مردوں کو عورتوں پر جیسا کہ بعد کی عبارت سے ظاہر ہے۔
[31] مال سے مراد ہے مہر اور نان نفقہ
[32] یعنی ان کے ساتھ ہم بستری موقوف کردو۔
Read the full tafseer →الرجال قوامون :
(ف 2) قوام یاقیم کے معنی ہوتے ہیں منصرم یا منتظم کے اس آیت میں فلسفہ تدیبر منزل کی مشکلات کا حل ہے ، عائلہ یا فیملی ایک قسم کی چوٹی سی ریاست ہے جس کے متعدد رکن ہیں ۔ سوال یہ ہے کہ ان کا منتظم ومنصرم کون ہے ، قرآن حکیم کا فیصلہ یہ ہے کہ مرد ۔ اور اس کی وجہ سے مرد عورت کے لئے آذوقہ حیات بہم پہنچانے پر مجبور ہے ، عورت نہیں ، اور اس لئے بھی کہ فطری طور پر مرد ہی منتظم بننے کی صلاحیتیں موجود ہیں ۔ یہ درست ہے عورتیں بھی کام کرسکتی ہیں مگر وہ ہر وقت وہ ایسا نہیں کرسکتیں ان کی جنسی کمزوریاں انہیں بہرحال منصرم رہنے کی اجازت نہیں دیتیں ، بخلاف مرد کے کہ وہ کڑی سے کڑی مصیبتیں برداشت…
Read the full tafseer →ف 1 مرد عورتوں پر قوام یعنی کار فرما اور حکمراں ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان مردوں اور عورتوں میں سے بعض کو بعض پر فضیلت اور بزرگی و برتری عطا فرمائی ہے ینی اللہ تعالیٰ نے مردوں کو عورتوں پر فطری برتری عطا کی ہے اور نیز اس سبب سے یہ برتری مردوں کو حاصل ہے کہ انہوں نے مہر اور نان نفقہ وغیرہ میں اپنا مال خرچ کیا ہے۔ لہٰذا جو عورتیں نیک ہیں وہ اس برتری کے باعث مردوں کی فرمانبردار ہوتی ہیں۔ اور ان کی اطاعت کرتی ہیں اور مرد کی عدم موجودگی میں بھی اس وجہ سے کہ اللہ تعالیٰ نے ان عورتوں کے حقوق کی حفاظت کی ہے وہ مردوں کے حقوق کی حفاظت و نگرانی کرتی ہیں یعنی مرد کی اولاد اس کی آبرو اور اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–35
ف 7۔ جن دو شخصوں میں باہم اس طرح قول وقرار ہوجائے کہ ہم ایک دوسرے کے اس طرح یارومددگار رہیں گے کہ اگر ایک شخص کے ذمہ کوئی دیت لازم آئی تو دوسرا بھی اس کا متحمل ہو اور جب وہ مرا جائے تو دوسرا اس کی میراث لے تو یہ عہد عقد موالات ہے اور ان میں سے ہر شخص مولی المولات کہلاتا ہے یہ رسم عرب میں اسلام سے پہلے بھی تھی ابتداء اسلام میں جب تک کہ اکثر مسلمان نہ ہوئے تھے اور اس وجہ سے رسول اللہ ﷺ نے باہم انصار و مہاجرین میں عقد اخوت جس کا اثر اسی مولات کا سا تھا منعقد فرمادیا تھا اس وقت اسی رسم قدیم کے موافق حکم رہا کہ انصار و مہاجرین میں باہم میراث جاری ہوتی تھی پھر جب لوگ بکثرت مسلمان ہوگئے تو اس میں…
Read the full tafseer →جس معاملہ میں مردوں کو مزیت حاصل ہے اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا :
71: اللہ نے دنیا میں ہر گروہ کو دوسرے گروہ پر خاص خاص باتوں میں مزیت دی ہے اور اسی طرح کی کچھ مزیت مردوں کو بھی عورتوں پر حاصل ہے۔ عورت صنف نازک ہونے کی وجہ سے حمل ، وضع اور رضع پر فطری طور پر پابند ہے اور یہ فوقیت فطری طور پر اس کو مرد پر حاص ہے اس طرح مردوں پر عورتوں کی ضروریات معیشت کی ذمہ داریاں رکھ دی گئی ہیں ان میں مردوں کو عورتوں پر فوقیت حاصل ہے جس کے نتیجہ میں فطری طور پر سربراہی و کار فرمائی کا مقام مردوں کو حاصل ہے کیونکہ وہ عورتوں کے مقابلہ میں فطری طور پر سخت جان ہیں۔ اس لئے سربراہی اور کار فرمائی کا عہدہ ان کی اس…
Read the full tafseer →Under injunctions concerning women, appearing earlier, discrimination against them by withholding or wasting their rights was prohibited. Now, the present verses describe the rights of men.
Commentary
Verse 34 opens with an important statement: الرِّجَالُ قَوَّامُونَ عَلَى النِّسَاءِ which has been translated as 'men stand caretakers of women.' qawwam, qayyam or qayyim in Arabic denotes a person who holds the responsibility or has the duty and charge to manage a job or run a system or take care of what has to be done about something, controlling all related factors therein. The standard…
Read the full tafseer →56. A qawwam or qayyim is a person responsible for administering and supervising the affairs of either an individual or an organization, for protecting and safeguarding them and taking care of their needs.
57. The verb used here - a derivative of the root fdl - is not used to mean that some people have been invested with superior honour and dignity. Rather it means that God has endowed one of the sexes (i.e. the male sex) with certain qualities which He has not endowed the other sex with, at least not to an equal extent. Thus it is the male who is qualified to function as head of the family.…
Read the full tafseer →