An-Nisaa 4:33

An-Nisaa · from ayah 33

4:33

وَلِكُلٍّ جَعَلْنَا مَوَالِیَ مِمَّا تَرَكَ الْوَالِدٰنِ وَالْاَقْرَبُوْنَ ؕ— وَالَّذِیْنَ عَقَدَتْ اَیْمَانُكُمْ فَاٰتُوْهُمْ نَصِیْبَهُمْ ؕ— اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلٰی كُلِّ شَیْءٍ شَهِیْدًا ۟۠وَلِكُلٍّ جَعَلۡنَا مَوَالِىَ مِمَّا تَرَكَ الۡوَالِدٰنِ وَالۡاَقۡرَبُوۡنَ‌ ؕ وَالَّذِيۡنَ عَقَدَتۡ اَيۡمَانُكُمۡ فَاٰ تُوۡهُمۡ نَصِيۡبَهُمۡ‌ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلٰى كُلِّ شَىۡءٍ شَهِيۡدًا

اور جو مال ماں باپ اور رشتہ دار چھوڑ مریں تو (حق داروں میں تقسیم کردو کہ) ہم نے ہر ایک کے حقدار مقرر کردیئے ہیں اور جن لوگوں سے تم عہد کرچکے ہو ان کو بھی ان کا حصہ دو بےشک خدا ہر چیز کے سامنے ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And for all, We have made heirs to what is left by parents and relatives. And to those whom your oaths have bound [to you] - give them their share. Indeed Allah is ever, over all things, a Witness.

— Saheeh International

Juz 5 · Ruku 5 of surah · Ruku 2 of juzع

Read the whole surah · Surah An-Nisaa

All translations of 4:33

اور ہم نے ہر اُس ترکے کے حق دار مقرر کر دیے ہیں جو والدین اور رشتہ دار چھوڑیں اب رہے وہ لوگ جن سے تمہارے عہد و پیمان ہوں تو ان کا حصہ انہیں دو، یقیناً اللہ ہر چیز پر نگراں ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور جو مال ماں باپ اور رشتہ دار چھوڑ مریں تو (حق داروں میں تقسیم کردو کہ) ہم نے ہر ایک کے حقدار مقرر کردیئے ہیں اور جن لوگوں سے تم عہد کرچکے ہو ان کو بھی ان کا حصہ دو بےشک خدا ہر چیز کے سامنے ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

ماں باپ یا قرابت دار جو چھوڑ مریں اس کے وارث ہم نے ہر شخص کے مقرر کر دیئے ہیں اور جن سے تم نے اپنے ہاتھوں معاہده کیا ہے انہیں ان کا حصہ دو حقیقتاً اللہ تعالیٰ ہر چیز پر حاضر ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور ہم نے ہر اس مال کے کچھ وارث مقرر کیے ہیں جو والدین اور قریب ترین رشتہ دار چھوڑ کرجائیں۔ اور جن لوگوں سے تم نہ کوئی عہد باندھا ہوا ان کو ان کا حصہ دو۔ بیشک اللہ ہر چیز کا گواہ ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور ہم نے سب کے لئے مال کے مستحق بنادیے ہیں جو کچھ چھوڑ جائیں ماں باپ اور قرابت والے اور وہ جن سے تمہارا حلف بندھ چکا انہیں ان کا حصہ دو، بیشک ہر چیز اللہ کے سامنے ہے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور ہم نے سب کے لئے ماں باپ اور قریبی رشتہ داروں کے چھوڑے ہوئے مال میں حق دار (یعنی وارث) مقرر کر دیئے ہیں، اور جن سے تمہارا معاہدہ ہو چکا ہے سو اُنہیں ان کا حصہ دے دو، بیشک اللہ ہر چیز کا مشاہدہ فرمانے والا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور ہم نے اس (ترکے) میں جو والدین اور زیادہ قرابت والے چھوڑ جائیں، ہر ایک کے وارث مقرر کردیے ہیں اور جن لوگوں کو تمہارے عہد و پیمان نے باندھ رکھا ہے انھیں ان کا حصہ دو۔ بیشک اللہ ہمیشہ سے ہر چیز پر حاضر ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

جو کچھ ترکہ والدین یا قریبی رشتہ دار چھوڑ جائیں ہم نے اس کے وارث مقرر کردیئے ہیں۔ اور وہ لوگ بھی جن سے تم نے عقد (موالات) باندھ رکھا ہے۔ لہذا انہیں ان کا حصہ ادا کرو۔ یقینا اللہ تعالیٰ ہر چیز پر حاضر و ناظر ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور ہم نے والدین اور قرابت مندوں کے چھوڑے ہوئے میں ہر ایک کے لیے وارث ٹھہرا دیے ہیں اور جن سے تم نے کوئی پیمان باندھ رکھا ہو تو ان کو ان کا حصہ دو ، بیشک اللہ ہر چیز سے آگاہ ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور ہم نے ہر شخص کے وارث مقرر کردئے ہیں، اس مال میں سے جس کو چھوڑ مریں اس کے ماں باپ اور قریبی رشتہ دار، اور جن لوگوں سے تم نے عہد و پیمان کر رکھے ہوں، تو تم ان کو ان کا حصہ دو (اور باقی سب وارثوں کا ہے) بلاشبہ اللہ ہر چیز پر نگہبان ہے،

— مولانا اسحاق مدنی

اور جو مال والدین اور قرابت دار چھوڑ جائیں اس کے لیے ہم نے وارث ٹھہرا دیئے ہیں۔ اور جن لوگوں سے عہد بندھے ہوئے ہیں انہیں ان کا حصہ دے دو۔ بیشک اللہ ہر چیز پر مطلع ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور ہر ایک کے لیے ہم نے وارث مقرر کردیے ہیں جو بھی والدین اور رشتہ دار چھوڑیں اور جن کے ساتھ تمہارے عہد و پیمان ہوں تو ان کو ان کا حصہ دو یقیناً اللہ تعالیٰ ہرچیز پر گواہ ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور ہم نے ہر اس ترکے کے حق دار مقرر کردیئے ہیں جو والدین اور رشتہ دار چھوڑیں۔ اب رہے وہ لوگ جن سے تمہارے عہد و پیمان ہوں تو ان کا حصہ انہیں دو ، یقیناً اللہ ہر چیز پر نگران ہے

— محترمہ رفعت اعجاز

And to everyone We have appointed rightful heirs to what the parents and near of kin might leave behind. As to those with whom you have made a solemn covenant, give them their share. Allah watches over all things.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

For everyone We have made heirs in what the parents and the nearest of kin have left. As for those with whom you have made a pledge, give them their shares. Surely, Allah is Witness over everything.

— Muhammad Taqi Usmani

For everyone We have made heirs in what the parents and the nearest of kin have left. As for those with whom you have made a pledge, give them their shares. Surely, Allah is Witness over everything.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And to everyone, We have appointed Mawali of that left by parents and relatives. To those also with whom you have made a pledge (brotherhood), give them their due portion (by wills). Truly, Allah is Ever a Witness over all things.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And unto each We have appointed heirs of that which parents and near kindred leave; and as for those with whom your right hands have made a covenant, give them their due. Lo! Allah is ever Witness over all things.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And for all, We have made heirs to what is left by parents and relatives. And to those whom your oaths have bound [to you] - give them their share. Indeed Allah is ever, over all things, a Witness.

— Saheeh International

We have chosen heirs for every legacy that parents and relatives may leave. Let those who have been promised a bequest receive their share of the legacy. God is Omnipresent.

— Muhammad Sarwar

And to every one We have appointed heirs of what parents and near relatives leave; and as to those with whom your rights hands have ratified agreements, give them their portion; surely Allah is a witness over all things.

— Muhammad Habib Shakir

And unto each We have appointed inheritors of that which the parents or the near of kin leave behind, and unto those with whom ye have made your pledges give their portion. Verily Allah is ever of everything a Witness.

— Abdul Majid Daryabadi

To (benefit) every one, We have appointed shares and heirs to property left by parents and relatives. To those, also, to whom your right hand was pledged, give their due portion. For truly Allah is witness to all things.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 4:33

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

مسئلہ وارثت میں موالی ؟ وارث اور عصبہ کی وضاحت و اصلاحات بہت سے مفسرین سے مروی ہے کہ موالی سے مراد وارث ہیں بعض کہتے ہیں عصبہ مراد ہیں ؟ چچا کی اولاد کو بھی موالی کہا جاتا ہے جیسے حضرت فضل بن عباس کے شعر میں ہے۔ پس مطلب آیت کا یہ ہوا کہ اے لوگو ! تم میں سے ہر ایک کے لئے ہم نے عصبہ مقرر کر دئیے ہیں جو اس مال کے وارث ہوں گے جسے ان کے ماں باپ اور قرابتدار چھوڑ مریں اور تمہارے منہ بولے بھائی ہیں تم جن کی قسمیں کھا کر بھائی بنے ہو اور وہ تمہارے بھائی بنے ہیں انہیں ان کی میراث کا حصہ دو جیسے کہ قسموں کے وقت تم میں عہد و پیمان ہوچکا تھا، یہ حکم ابتدائے اسلام میں تھا پھر منسوخ ہوگیا اور حکم ہوا کہ جن…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة النِّسَآء 55 اہل عرب میں قاعدہ تھا کہ جن لوگوں کے درمیان دوستی اور بھائی چارہ کے عہد و پیمان ہوجاتے تھے وہ ایک دوسرے کی میراث کے حقدار بن جاتے تھے۔ اسی طرح جسے بیٹا بنا لیا جاتا تھا وہ بھی منہ بولے باپ کا وارث قرار پاتا تھا۔ اس آیت میں جاہلیت کے اس طریقے کو منسوخ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا ہے کہ وراثت تو اسی قاعدہ کے مطابق رشتہ داروں میں تقسیم ہونی چاہیے جو ہم نے مقرر کردیا ہے، البتہ جن لوگوں سے تمہارے عہد و پیمان ہوں ان کو اپنی زندگی میں تم جو چاہو دے سکتے ہو۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 32–33

ربط آیات ماقبل کی آیتوں میں میراث کے احکام گذرے ہیں، ان میں یہ بھی بتلایا جا چکا ہے کہ میت کے ورثہ میں اگر مرد اور عورت ہو، اور میت کی طرف رشتہ کی نسبت ایک ہی طرح کی ہو تو مرد کو عورت کی نسبت دوگنا حصہ ملے گا، اسی طرح کے اور فضائل بھی مردوں کے ثابت ہیں، حضرت ام مسلمہ نے اس پر ایک دفعہ حضور اکرم سے عرض کیا کہ ہم کو آدھی میراث ملتی ہے اور بھی فلاں فلاں فرق ہم میں اور مردوں میں ہیں۔ مقصد اعتراض کرنا نہیں تھا بلکہ ان کی تمنا تھی کہ اگر ہم لوگ بھی مرد ہوتے تو مردوں کے فضائل ہمیں بھی حاصل ہوجاتے، بعض عورتوں نے یہ تمنا کی کہ کاش ہم مرد ہوتے تو مردوں کی طرح جہاد میں حصہ لیتے اور جہاد کی فضیلت ہمیں…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

وَلِكُلٍّ جَعَلْنَا مَوَالِيَ مِمَّا تَرَكَ الْوَالِدٰنِ وَالْاَقْرَبُوْنَ ۭوَالَّذِيْنَ عَقَدَتْ اَيْمَانُكُمْ فَاٰتُوْھُمْ نَصِيْبَھُمْ ۭ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ شَهِيْدًا۔ لفظ ’ مولی ‘ کا مفہوم : لفظ ’ مولی ‘ عربی میں بہت وسیع معنوں میں آتا ہے۔ زیادہ تر اس کا تعین موقع و محل اور قرینے سے ہوتا ہے۔ یہاں قرینہ دلیل ہے کہ اس سے مراد ہر مورث کے ورثہ ہیں۔ خدا کے مقرر کردہ وارث ہی اصلی وارث ہیں : اس آیت میں اشارہ تقسیم وراثت کے اس ضابطے کی طرف ہے جو آیت 7 میں مذکور ہے۔ لِلرِّجَالِ نَصِيْبٌ مِّمَّا ترک الوالدان والاقربون و للنساء نصیب مما ترک الوالدان والاقربون الایہ، اس حوالے مقصود…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

33۔ 1 مَوَالِیْ ، مولیٰ کی جمع ہے مولیٰ کے کئی معنی ہیں دوست، آزاد کردہ غلام، چچازاد، پڑوسی، لیکن یہاں اس سے مراد ورثاء ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ ہر مرد اور عورت جو کچھ چھوڑ جائیں گے، اس کے وارث ان کے ماں باپ اور دیگر قریبی رشتہ دار ہونگے۔ 33۔ 2 اس آیت کے محکم یا منسوخ ہونے کے بارے میں مفسرین کا اختلاف ہے۔ ابن جریر طبری وغیرہ اسے غیر منسوخ (محکم) مانتے ہیں اور اَیْمَانُکُمْ (معاہدہ) سے مراد وہ حلف اور معاہدہ لیتے ہیں جو ایک دوسرے کی مدد کے لئے اسلام سے قبل دو اشخاص یا دو قبیلوں کے درمیان ہوا اور اسلام کے بعد بھی وہ چلا آرہا تھا۔ نصیبھم (حصہ) سے مراد اسی حلف اور معاہدے کی پابندی کے مطابق تعاون و…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 33–35

28: جب کوئی شخص اسلام لائے اور مسلمانوں میں اس کا کوئی رشتہ دار نہ ہو تو وہ جس شخص کے ہاتھ پر مسلمان ہوا ہے، بعض اوقات اس کے ساتھ یہ عہد کرلیتا تھا کہ وہ دونوں آپس میں بھائی بن گئے ہیں، لہذا وہ ایک دوسرے کے وارث بھی ہوں گے، اور اگر ان میں سے کسی پر کوئی تاوان آپڑا تو دوسرا اس کی ادائیگی میں اس کی مدد کرے گا، اس رشتے کو " موالاۃ " کہا جاتا تھا، یہاں اسی معاہدہ کا ذکر ہے، اور امام ابوحنیفہ ؒ کا مسلک اس آیت کی بنا پر یہی ہے کہ یہ رشتہ اب بھی کسی نومسلم سے قائم ہوسکتا ہے اور اگر دوسرے مسلمان رشتہ دار موجود نہ ہوں تو میراث میں بھی ان کا حصہ ہوگا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

(آیت) ” ولکل جعلنا موالی مما ترک الوالدن والا قربون والذین عقدت ایمانکم فاتوھم نصیبھم ان اللہ کان علی کل شیء شھیدا (4 : 33) ” اور ہم نے ہر اس ترکے کے حقدار مقرر کردیئے ہیں جو والدین اور رشتہ دار چھوڑیں ‘ اب رہے وہ لوگ جن سے تمہارے عہد و پیمان ہوں تو ان کا حصہ انہیں دو ‘ یقینا اللہ ہر چیز پر نگران ہے ۔ “ اس کلیہ کے بعد کہ مردوں نے جو کمایا ان کا ہے اور عورتوں نے جو کمایا ان کا ہے اور اس حوالے کے بعد کہ قانون میراث کے مطابق مردوں اور عورتوں کے حصص بھی مقرر ہوچکے ہیں اب فرماتے ہیں کہ ہر شخص کے رشتہ داروں میں سے ہم نے اس کے وارث مقرر کردیئے ہیں ‘ جو اس کی میراث پائیں گے اور یہ وارث اس شخص کے اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

2 یعنی مرد ہو یا عورت ہر ایک کے لئے تم سے اے مسلمانو ! ہم نے وارث مقرر کردیے اس مال کے جس کو چھوڑ مریں والدین اور قرابت والے، کسی کو اس سے محروم نہیں رکھا اور جن لوگوں سے تمہارا معاہدہ ہوا ہے ان کو ان کا حصہ ضرور پہنچا دو اللہ تعالیٰ کو تمام امور کا علم ہے کہ وارثوں کا کیا حصہ ہونا چاہیے اور جن سے معاہدہ ہوا ہے ان کو کیا ملنا چاہیے اور ہمارے ان احکام کو کون بجا لاتا ہے اور کون نافرمانی کرتا ہے۔ فائدہ : اکثر لوگ حضرت محمد ﷺ کے ساتھ اکیلے اکیلے مسلمان ہوگئے تھے اور ان کا سب کنبہ اور تمام اقربا کافر چلے آتے تھے تو اس وقت حضرت محمد ﷺ نے دو دو مسلمانوں کو آپس میں بھائی بھائی کردیا تھا وہی دونوں…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 33 وَلِکُلٍّ جَعَلْنَا مَوَالِیَ مِمَّا تَرَکَ الْوَالِدٰنِ وَالْاَقْرَبُوْنَ ط۔ قانون وراثت کی اہمیت کو دیکھئے کہ اب آخر میں ایک مرتبہ پھر اس کا ذکر فرمایا۔ وَالَّذِیْنَ عَقَدَتْ اَیْمَانُکُمْ فَاٰتُوْہُمْ نَصِیْبَہُمْ ط۔ ایک نیا مسئلہ یہ پیدا ہوگیا تھا کہ جن لوگوں کے ساتھ دوستی اور بھائی چارہ ہے یا مواخات کا رشتہ ہے مدینہ منورہ میں رسول اللہ ﷺ نے ایک انصاری اور ایک مہاجر کو بھائی بھائی بنا دیا تھا تو کیا ان کا وراثت میں بھی حصہ ہے ؟ اس آیت میں فرمایا گیا کہ وراثت تو اسی قاعدہ کے مطابق ورثاء میں تقسیم ہونی چاہیے جو ہم نے مقرر کردیا ہے۔ جن لوگوں کے ساتھ تمہارے دوستی اور بھائی چارے کے عہد…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

56 مواخات اور میراث :۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ موالی سے مراد۔۔ وارث ہیں اور (وَالَّذِیْنَ عَقَدَتْ اَیْمَانُکُمْ ) کا مطلب یہ ہے کہ مہاجرین اسلام ابتداًء جب مدینہ آئے تو مہاجر اپنے انصاری بھائی کا وارث ہوتا اور انصاری کے رشتہ داروں کو ترکہ نہ ملتا تھا کیونکہ نبی اکرم نے مواخات کرا دی تھی۔ پھر (جب مسلمانوں کی معیشت سنبھل گئی تو) یہ آیت اتری (وَلِكُلٍّ جَعَلْنَا مَوَالِيَ 33؀ ) 4 ۔ النسآء :33) تو اب ایسے بھائیوں کو ترکہ ملنا موقوف ہوگیا اور اب (عَقَدَتْ اَيْمَانُكُمْ 33؀ ) 4 ۔ النسآء :33) سے مراد وہ لوگ ہیں جن سے قسم کھا کر دوستی، مدد اور خیر خواہی کا عہد کیا جائے ان کے لیے ترکہ نہ رہا البتہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

110 ۔ (قانون میراث کے ذریعہ سے) وارثوں کی تفصیل اسی سورت میں چند رکوع قبل گزر چکی۔ تقسیم ترکہ کی کچھ عارضی صورتیں آغاز اسلام ہی میں بتادی گئی تھیں وہ مکمل قانون میراث کے نازل ہونے کے بعد اب قدرۃ منسوخ ہوگئیں (آیت) ” لکل “۔ میں مضاف الیہ محذوف ہے۔ تقدیر کلام یوں ہے لکل احد۔ 1 1 1 ۔ یعنی کل ترکہ کا 6 1 حصہ۔ (آیت) ” الذین عقدت ایمانکم “۔ اصطلاح میں یہ لوگ مولی الموالاۃ کہلاتے ہیں۔ عرب قدیم میں دستور تھا کہ دو شخص باہم قول وقرار کرکے ایک دوسرے کے اس طرح دوست و مددگار ہوجاتے ہیں کہ اگر ایک پر دیت لازم آئے تو دوسرا اسے ادا کرے اور ایک کی وفات پر دوسرا اد کی میراث پائے۔ اسی عہد کو عقد موالاۃ کہتے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

وَلکل جعلناموالی مما ترک الوالدان (الآیة) موالی مولیٰکی جمع ہے مولیٰ کے متعدد معنی ہیں دوست، آزاد کردہ غلام، آزاد کرنے والا، چچازاد، پڑوسی، لیکن یہاں اس سے مراد ورثاء ہیں، مطلب یہ ہے کہ ہر مرد و عورت جو کچھ چھوڑ جائے اس کے وارث ان کے والدین اور دیگر قریبی رشتہ دار ہوں گے، اس آیت کے محکم یا منسوخ ہونے کے بارے میں علماء کا اختلاف ہے، ابن جریرطبری اس کو غیر منسوخ مانتے ہیں اور ابن کثیرنیز دیگر مفسرین کے نزدیک یہ آیت منسوخ ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ولکل جعلنا موالی . اور ہر مال یا ہر میت کے ہم نے وارث مقرر کردیئے ہیں جو مال لیتے اور میت کے وارث ہوتے ہیں۔ مما ترک . اس مال میں سے جو چھوڑا ہو یا وارث ہوں گے اس مال کے جو چھوڑا ہوا۔ اوّل ترجمہ پر یہ فقرہ مال کی صفت ہوگی اور دوسرے ترجمہ پر یرثونمحذوف سے اس کا تعلق ہوگا۔ الوالدان والاقربون . ماں باپ اوراقارب نے (برتقدیر ترجمہ اوّل) یا وہ وارث ماں باپ اوراقارب ہیں (برتقدیر ترجمہ دوئم) مفسر قدس سرہ نے اس آیت کی ترکیب نحوی ایک اور طرح سے بھی کی ہے جو تطویل غیر مفید کی حد سے خارج نہیں اس لئے ہم ترک کرتے ہیں۔ (1) [ ابو داؤد نے ناسخ میں داؤد بن حصین کا قول لکھا ہے کہ ام سعد بنت ربیع کو قرآن سناتا…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(33) یعنی ہم نے ہر ایک کے لیے وارث بنا دیے اور جن لوگوں سے مولی موالات کا سلسلہ قائم ہے تو ان کو ان کی شرطوں کے مطابق دے دو اور اب یہ حکم منسوخ ہوگیا ہے اور عرب آدمیوں اور لڑکوں کو متبنی (لے پالک) بنا لیا کرتے تھے اور اپنی اولاد کی طرح اپنے مال میں ان کا بھی حصہ مقرر کردیتے تھے مگر اس کو اللہ تعالیٰ نے منسوخ کردیا اللہ تعالیٰ تمہارے سب اعمال سے باخبر ہے۔ شان نزول : (آیت) ”والذین عقدت“۔ (الخ) ابوداؤد ؒ نے اپنی سنن میں ابن اسحاق ؒ کے واسطہ سے داؤد بن الحصین سے روایت نقل کی ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں ام سعد کے پاس قرآن پاک پڑھتا تھا چناچہ میں نے (آیت) ”والذین عاقدت“ پڑھا تو انہوں نے فرمایا (آیت)…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَلِكُلٍّ جَعَلْنَا مَوَالِيَ۔۔ : اس آیت کریمہ کے پہلے حصے میں اللہ تعالیٰ نے یہ خبر دی ہے کہ مرد ہو یا عورت ہر ایک کے ورثا اور رشتے دار ہوتے ہیں، جو اس کے مرنے کے بعد اس کے وارث بنتے ہیں۔ آیت کے دوسرے حصے (ۭوَالَّذِيْنَ عَقَدَتْ اَيْمَانُكُمْ فَاٰتُوْھُمْ نَصِيْبَھُمْ ۭ) کا مفہوم یہ ہے کہ تم نے جو حلف یا معاہدہ کسی کے ساتھ کیا ہوا ہے تو اس کا حصہ اسے دو۔ ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں کہ یہ اس وقت کی بات ہے جب مہاجرین مدینہ آئے تھے اور رسول اللہ ﷺ نے مہاجرین و انصار میں بھائی چارہ قائم کردیا تھا، انصاری کا وارث اس کے رشتے داروں کی بجائے مہاجر ہوتا تھا، پھر جب یہ آیت نازل ہوئی : (وَلِكُلٍّ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر : 33۔ اس آیت میں پانچ مسائل ہیں : مسئلہ نمبر : (1) اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا کہ ہر انسان کے ورثاء اور موالی ہیں، ہر ایک کو اس سے نفع حاصل کرنا چاہیے جو اللہ تعالیٰ نے میراث میں سے اس کے لیے تقسیم فرمایا ہے اور غیر کے مال کی خواہش نہ کرے بخاری نے کتاب الفرائض میں حضرت سعید بن جبیر ؓ کی روایت سے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے : (آیت) ” ولکل جعلنا “۔ الخ کہ حضرت ابن عباس ؓ نے اس آیت کے تحت فرمایا مہاجرین جب مدینہ طیبہ آئے تو انصار کا مہاجر وارث ہوتا تھا، حالانکہ وہ اس کا ذی محرم نہیں ہوتا تھا، یہ اس اخوت کی وجہ سے تھا جو رسول اللہ ﷺ نے ان کے درمیان قائم فرمائی تھی پھر جب (آیت) ” لکل…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

(1) بخاری و ابوداؤد والنسائی وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم والنحاس والحاکم اور بیہقی نے اپنی سنن میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ولکل جعلنا موالی “ میں موالی سے ورثاء مراد ہیں اور ” والذین عقدت ایمانکم “ سے وہ مہاجرین مراد ہیں جو مدینہ منورہ میں آئے اور مہاجر کو انصاری کا وارث بنایا گیا اس کے رشتہ داروں کو چھوڑ کر اس بھائی چارے کی وجہ سے جو نبی ﷺ نے ان کے درمیانی بھائی چارہ قائم فرما دیا تھا جب یہ آیت ” ولکل جعلنا موالی “ نازل ہوئی تو (یہ حکم) منسوخ کردیا گیا پھر فرمایا لفظ آیت ” والذین عقدت ایمانکم فاتوہم نصیبہم “ (یعنی جن لوگوں سے تم نے قسمیں کھا کر معاہدہ کیا ان کو ان…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ وَلِکُلٍّ : اور سب کے لیے ] [ جَعَلْنَا : ہم نے بنائے ] [ مَوَالِیَ مِمَّا : وارث اس میں جو ] [ تَرَکَ : چھوڑا ] [ الْوَالِدٰنِ : والدین نے ] [ وَالْاَقْرَبُوْنَ : اور قرابت داروں نے ] [ وَالَّذِیْنَ : اور ان کو جن کو ] [ عَقَدَتْ : باندھا ] [ اَیْمَانُکُمْ : تمہاری قسموں نے ] [ فَاٰتُوْہُمْ : تو تم لوگ دو ان کو ] [ نَصِیْبَہُمْ : ان کا حصہ ] [ اِنَّ اللّٰہَ : یقینا اللہ ] [ کَانَ : ہے ] [ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ : ہر چیز پر شَہِیْدًا : گواہ ] ترکیب : ” مَوْلٰی “ کی جمع ” مَوَالِی “ ہے۔ ” جَعَلْنَا “ کا مفعول ہونے کی وجہ سے یہ ” مَوَالِیًا “ تھا ‘ پھر مضاف ہونے کی وجہ سے تنوین ختم ہوئی تو ”…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

چونکہ بعض خواتین نے یہ بھی کہا تھا کہ ہم ضعیف ہونے کی وجہ سے میراث کا دوگنا حصہ ملنے کے زیادہ مستحق ہیں، اس لیے ان کے جواب میں ارشاد فرمایا، (وَ لِکُلٍّ جَعَلْنَا مَوَالِیَ ) (الآیۃ) کہ ہم نے اس مال کے وارث مقرر کردیئے جسے والدین اور رشتہ دار چھوڑ جائیں۔ حصوں کی یہ تقسیم حکمت پر مبنی ہے جس کا جو حصہ مقرر کیا گیا ہے اس کا حصہ دے دو ، اللہ حکمت والا ہے اور ہر ایک کی مصلحت کو جانتا ہے۔ مولی الموالاۃ کی میراث : آیت کے ختم پر جو فرمایا : (وَ الَّذِیْنَ عَقَدَتْ اَیْمَانُکُمْ فَاٰتُوْھُمْ نَصِیْبَھُمْ ) (اور جن لوگوں سے تمہارا معاہدہ ہوا ہو ان کو ان کا حصہ دے دو ) اس میں عقد موالات کا تذکرہ ہے،…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

حکم پانزدہم بابت میراث حلیف۔ قال تعالی، ولکل جعلنا۔۔۔۔ الی۔۔۔۔ شھیدا۔ آیت۔ ربط) گزشتہ آیت میں عورتوں کی اس تمنا کا جواب تھا کہ میراث میں مرد کو بہ نسبت عورت کے دہرا حصہ دیا جاتا ہے اب آگے ارشاد فرماتے ہیں کہ اور ہر ایک کے لیے خواہ وہ مرد ہو یاعرت ہم نے وارث مقرر کردیے ہیں اس مال میں سے جس کو ماں باپ اور قرابت دار چھوڑ جائیں ہم نے اپنی علم و حکمت سے ہر ایک کا حصہ مقرر کردیا ہے اس میں تغیر وتبدل کرنا حدود اللہ سے تعدی کرنا ہے جن لوگوں سے تمہارا عہد و پیمان ہوچکا ہے یعنی جو لوگ تمہارے حلیف ہیں یا جن سے اسلام میں تمہارا بھائی چارہ ہوچکا ہے تو تم ان کو حصہ دے دو بیشک اللہ تعالیٰ ہر چیز پر حاضر ہے۔…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 32–33

25 بارہواں حکم رعیت (جن وارثوں کے حصے زیادہ ہیں ان کو حصہ پورا پورا دو اور اپنے حق سے زیادہ لینے کی خواہش نہ کرو) یہاں تفضیل سے میراث کے حصوں میں تفضیل مراد ہے۔ بقرینۃ لِلرِّجَالِ نَصِیْبٌ مِّمَّا اکْتَسَبُوْا الخ ورثاء کے حصے کم وبیش مقرر کیے گئے ہیں کسی کا حصہ زیادہ ہے اور کسی کا کم اس لیے حکم دیا گیا کہ کسی کا حق مار لینا اور اس کے حصہ میں کمی کرنا تو درکنار یہ تو صریح ظلم ہے تم اپنے حصہ سے زیادہ لینے کی خواہش بھی نہ کرو۔ پہلے فرمایا کہ لوگوں کا مال باطل طریقوں سے مت کھاؤ اب فرمایا کہ باطل طریقہ سے مال کھانے کا خیال بھی دل میں مت لاؤ۔ وَلِکُلٍّ جَعَلْنَا مَوَالِیَ مِمَّا تَرکَ…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 32–33

ربط آیات سورۃ کی ابتدا سے اللہ تعالیٰ نے انسانی حقوق کا زکر فرمایا ، اس ضمن میں یتیموں کے حقوق کا خصوصی تذکرہ ہے جن کے حقوق اکثر غصب کرلیے جاتے تھے۔ عورتوں کے حقوق بھی بیان ہوچکے ہیں۔ زمانہ جاہلیت میں وراثت کا مسئلہ بڑا الجھا ہوا تھا۔ عورتوں ، ضعیفوں اور بچوں کو وراثت سے بالکل محروم کردیا جاتا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے وراثت کا مکمل قانون نازل فرما کر تمام حقداروں کو ان کے حصے دلوائے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے سوسائٹی کی طہارت کا قانون دیابرائی اور فحاشی کے سدباب کے لیے تعزیرات نافذ کیں۔ پھر محرمات نکاح کی تفصیلات بیان فرمائیں اور ان محرمات کی حکمتیں بھی واضح کیں مالی قانون نازل فرماتے ہوئے حکم دیا…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَلِكُلٍّ جَعَلْنَا مَوَالِيَ مِمَّا تَرَكَ الْوَالِدٰنِ وَالْاَقْرَبُوْنَ۝ 0ۭ وَالَّذِيْنَ عَقَدَتْ اَيْمَانُكُمْ فَاٰتُوْھُمْ نَصِيْبَھُمْ۝ 0ۭ اِنَّ اللہَ كَانَ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ شَہِيْدًا۝ 33ۧ جعل جَعَلَ : لفظ عام في الأفعال کلها، وهو أعمّ من فعل وصنع وسائر أخواتها، ( ج ع ل ) جعل یہ لفظ ہر کام کرنے کے لئے بولا جاسکتا ہے اور فعل وصنع وغیرہ افعال کی بنسبت عام ہے ۔ موالی ۔ مولی۔ کی جمع۔ چچا کے بیٹے ( بغوی) عصیات ( مجاہد) کلالہ ( ابو صالح) عام وارث ( کلبی) دوست۔ مؤکل۔ محافظ (44:41) آقا۔ مالک (16:76) ترك تَرْكُ الشیء : رفضه قصدا واختیارا، أو قهرا واضطرارا، فمن الأول : وَتَرَكْنا بَعْضَهُمْ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

؎ ابتدائِ اسلام میں لوگ خویش و اقارب چھوڑ کر مدینہ میں آرہے ہیں آنحضرت ﷺ نے مہاجرین کا آپس میں رشتہ قائم کردیا تھا۔ یہ تھا ان کا عہد ان میں سے ایک دوسرے کا وارث ہوتا تھا جب آیت میراث اتری تو یہ حکم جاتا رہا جس کے جو اصلی وارث تھے وہی میراث کے مستحق ٹھہرائے گئے مگر ان لوگوں کے لئے بھی عہد کے موافق سلوک کرنے کا حکم باقی رہا۔ 12 منہ

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَلِکُلٍّ جَعَلْنَا مَوَالِیَ مِمَّا تَرَکَ الْوَالِدٰنِ وَالْاَقْرَبُوْنَ ط وَالَّذِیْنَ عَقَدَتْ اَیْمَانُـکُمْ فَاٰ تُوْھُمْ نَصِیْبَھُمْ ط اِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَلٰی کُلِّ شَیْ ئٍ شَھِیْدًا ع (ہر ایک کے لیے ہم نے مقرر کردئیے ہیں وارث اس مال کے جو والدین اور قرابتدار چھوڑ جائیں۔ رہے وہ لوگ جن سے تمہارے عہدوپیمان ہوں تو ان کا حصہ انھیں دے دو ، بیشک اللہ ہر چیز پر نگران ہے) (النسآء : 33) نظامِ میراث قطعی ہے قرآن کریم میں نظام میراث نازل ہونے سے پہلے عربوں میں یہ طریقہ تھا کہ دوست و احباب آپس میں عہدوپیمان کرلیتے کہ تم میری وراثت میں حصہ دار بنوگے اور میں تمہاری وراثت میں حصہ دار بنوں گا۔ اسی…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : مردوں اور عورتوں کے معاشرتی اور اخلاقی حقوق بیان کرنے کے بعد مالیاتی حقوق کا تحفظ فرمایا گیا ہے۔ اوپر کی آیت میں مرد اور عورت کی کمائی کو الگ الگ تسلیم کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔ یہاں عربوں کے اس رواج کی اصلاح کی گئی ہے جس میں مرنے والا اپنے حقیقی وارثوں کو محروم کرکے کسی دوست یا رشتہ دار کے نام اپنی جائیداد وقف کردیتا تھا۔ فرمایا کہ مرد ہو یا عورت ہر ایک کا حصّہ اور اس کے وارثوں کا تعیّن کردیا گیا ہے۔ اب ان کے حصہ میں کمی وبیشی کرنا کسی طرح جائز نہیں۔ سوائے اس کے جو اس فرمان کے نازل ہونے سے پہلے تم نے کسی کے ساتھ عہد کیا ہو۔ اسے عہد کے مطابق اتنا حصہ دے سکتے ہو۔ لیکن اس…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

قراءت : وسلوا۔ مکی وشامی نے پڑھا۔ آیت 33 : وَلِکُلٍّ (ہر ایک کے لئے) : مضاف الیہ محذوف ہے۔ لکل احدٍ او لکل مالٍ ۔ جَعَلْنَا مَوَالِیَ (ہم نے وارث مقرر کردیئے) جو مال لیتے اور میت کے وارث ہوتے ہیں۔ مِمَّا تَرَکَ الْوَالِدٰنِ وَالْاَقْرَبُوْنَ (اس مال میں سے جو چھوڑا ماں ٗ باپ اور اقارب نے) نحو : یہ مال محذوف کی صفت ہے۔ مطلب اس طرح ہوگا۔ ہر اس مال سے جس کو چھوڑ جائیں والدین الخ۔ یہ فعل محذوف کے متعلق ہے۔ موالی کا لفظ اس پر دلالت کرتا ہے۔ تقدیر عبارت اس طرح ہے۔ یرثون مما ترک۔ وہ وارث ہونگے ترکہ کے جس کو چھوڑا والدین و اقارب نے۔ وَالَّذِیْنَ عَقَدَتْ اَیْمَانُکُمْ (اور وہ لوگ جن سے تمہارے عہد…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

(تفسیر) 33۔: (آیت)” ولکل جعلنا موالی “۔ ہر ایک کے لیے خواہ مردوں میں سے ہو یا عورتوں میں سے اس لیے کیلئے وارث مقرر کر رکھا ہے (آیت)” مما ترک الوالدان والاقربون “۔ ماں باپ اور اقارب وارث ہیں اور بعض نے کہا کہ اس کا معنی ہے جو انہوں نے ترکہ میں چھوڑا ، ان کا وارث ہوا ، اس صورت میں ” ما “ بمعنی ” من “ کے ہوگا، پھر موالی کی وضاحت کردی اور فرمایا (آیت)” الوالدان والاقربون “۔ یہ دونوں ورثاء میں سے ہیں (آیت)” والذین عقدت ایمانکم “ عقدت بغیر الف کے معنی یہ ہوگا کہ جس نے تمہارے ساتھ عہد کیا ہوا ہے، عقدت یہ معا قدۃ باب مفاعلہ سے بھی ہے ، معاہدہ کو کہتے ہیں ، ایمان جمع ہے یمین کی خواہ وہ قسم ہاتھوں میں…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

اس آیت کے منسوخ ہونے اور نہ ہونے میں علماء مفسرین کا اختلاف ہے۔ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے اس آیت کے متعلق دو روایتیں ہیں ایک روایت تو بخاری 1 میں ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ جن دو شخصوں میں دینی بھائی چارہ ہو اگر ان میں سے ایک دوسرے کو مرتے وقت کچھ وصیت کرے گا تو وصیت کے موافق عمل ہوگا۔ ورنہ بھائی چارہ کے سبب سے وراثت کا جو طریقہ آنحضرت ﷺ نے مہاجرین اور انصاری میں قرار دیا تھا وہ طریقہ آیت ولکل جعلنا موالی سے موقوف ہے اس صورت میں فاتو ھم نصیبہم سے وصیت کا ادا کرنا مراد ٹھہرے گا۔ دینی بھائی کو وارث ٹھہرا کر وارثت کا حصہ اس کو دینا مراد نہیں اور وصیت کا جو ذکر خود آیت اوالارحام بعضہم (8۔ 75) میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

آیت 33 (ولکل) ” اور واسطے ہر ایک کے “ یعنی تمام لوگوں میں سے (جعلنا موالی) ” ہم نے وارث بنائے “ وہ اس کی سرپرستی کرتے ہیں اور وہ بھی نصرت و حمایت اور دیگر معاملات میں معاونت کے ذریعے سے ان کی سرپرستی کرتا ہے۔ (مما ترک الوالدن والاقربون) ” اس مال کے جو چھوڑ گئے ماں باپ اور قرابت دار “ اس میں اصول و فروع اور حواشی کے تعلق سے تمام رشتہ دار شامل ہیں۔ یہ تمام لوگ قرابت کے اعتبار سے وارث (موالی) ہیں۔ پھر سرپرستوں (موالی) کی ایک اور قسم کا ذکر کیا۔ (والذین عقدت ایمانکم) ” اور جن سے تمہارا معاہد ہوا “ یعنی وہ لوگ جن کے ساتھ تم باہم نصرت و حمایت کر کے، اور مال میں اشتراک کا معاہدہ کر کے ایک دوسرے کے…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

عصبہ کا بیان قول باری ہے (ولکل جعلناموالی مما ترک الوالدان ولاقربون، اور ہم نے ہر اس ترکے کے حق دار چھوڑے ہیں جو والدین اور رشتہ دار چھوڑیں) حضرت ابن عباس ؓ ، مجاہد اور قتادہ کا قول ہے کہ یہاں موالی سے مراد عصبہ ہیں۔ سدی کا قول ہے کہ موالی ورثاء کو کہتے ہیں۔ ایک قول کے مطابق مولیٰ کی اصل معنی ہیں وہ شخص جو کسی چیز کا ولی اور سرپرست بن گیا ہو جس کا مفہوم یہ ہے کہ سرپرستی کا تعلق اس چیز میں تصرف کے حق کے ساتھ قائم ہوجائے۔ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ مولی ایک مشترک لفظ ہے جس کے کئی معانی ہیں اپنے غلام کو آزاد کردینے والا آقا مولی کہلاتا ہے۔ کیونکہ اسے آزادی دینے کے سلسلے میں وہی اس کا ولی نعمت ہوتا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

77 میراث میں سے ہر صاحب حق کو اس کا حق دینے کی ہدایت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ہم نے ہر شخص کے وارث مقرر کردیے ہیں اس مال میں سے جس کو چھوڑ کر مریں ماں باپ اور قریبی رشتہ دار۔ پس تم لوگ ان کی میراث انہی وارثوں میں بقدر حصص تقسیم کرو، اور اللہ کے مقرر فرمودہ ان حصوں میں اپنی طرف سے کوئی کمی بیشی مت کرو۔ اور اللہ کی تقسیم چونکہ نہایت علم و حکمت پر مبنی ہوتی ہے اس لیے اس میں کمی بیشی کا حق کسی کو نہیں ہوسکتا۔ لفظ " موالی " جمع ہے مولیٰ کی۔ اور " مولیٰ " کا لفظ عربی زبان میں بہت وسیع معنوں میں استعمال ہوتا ہے اور اس کے ان مختلف معانی میں سے ہر معنیٰ کی تعیین موقع و محل اور قرینے کی بناء پر ہوتی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

وارثوں کا حصہ تشریح : وراثت کی تقسیم بڑی تفصیل سے بیان کی جا چکی ہے۔ اس آیت میں حکم دیا گیا ہے کہ جاہلیت کی اس رسم کو ختم کردیا جائے۔ رسم یہ تھی کہ دوستی میں ایک دوسرے سے یہ عہد کرلیا جاتا تھا کہ جب میں مرگیا تو میرے مال میں سے اتنا تمہارا ہوگا۔ حکم یہ ہوا کہ مسلمان کو عہد کی پابندی ضرور کرنی چاہیے، اس لیے اپنی زندگی میں ہی اس قسم کے عہد کو پورا کرتے ہوئے اپنے منہ بولے بیٹے یا دوست کو کچھ نہ کچھ دے دیا جائے، کیونکہ مرنے کے بعد وراثت صرف والدین یا رشتہ دار جو اللہ رب العزت نے حق دار مقرر کردیئے ہیں وہی حق دار ہوسکتے ہیں۔ دوست یا منہ بولے بیٹے یا دوستی میں بنائے گئے رشتہ دار ترکے میں ہرگز حصہ…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 32–33

آیت نمبر 32 تا 33: ولا تتمنوا ما فضل اللہ بہ۔۔۔ ان اللہ کان علی کل شیء شہیدا۔ حسد ، قناعت اور رشک : اور جس چیز میں اللہ تعالیٰ نے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے اس کی خواہش ہی نہ کرو یعنی ان امور میں جن میں انسان کو اختیار نہیں خواہ مخواہ دخل نہ دو مثلاً عورت مرد بننے کی خواہش لے بیٹھے جسے مساوات کے نام پر اچھالا جا رہا ہے یا کسی کا اعلی خاندان میں ہونا یا حسین ہونا وگیرہ اگر ایسی کوشش کی گئی تو سوائے حسد کے کچھ حاصل نہ ہوگا ، دنیا کا آرام تو گیا ہی تھا ساتھ آخرت بھی ضائع ہوگی اس لیے مردوں کو اپنے کیے کا اجر ملے گا جو فرائض بحیثیت مرد ان کے ذمے تھے انہوں نے کس درجے میں ادا کیے اور عورتوں کو اپنے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 2 جاہلیت میں دو شخص آپس میں عقد مولاۃ باندھ لیتے جس کی رو سے ایک دوسرے کی مدد کرتے اور ایک دوسرے کے وارث بھی ہوتے۔ ابتدا ہجرت میں ّآنحضرت ﷺ نے بھی مہاجرین ؓ اور انصار ؓ کے درمیان مواخاۃ کا رشتہ قائم کیا تھا آیت میں والذین عقدت الخ سے اسی عہد کی طرف اشارہ ہے۔ اس عہد کی رو سے وراثت کا حکم کے بعد میں سورت انفال کی آیت وَأُولُو الأرْحَامِ بَعْضُهُمْ أَوْلَى بِبَعْضٍ فِي كِتَابِ اللَّهِ (75) سے منسوخ ہوگیا۔ آنحضرت ﷺ نے بھی اعلان فرمادیا کہ اللہ تعالیٰ نے ہر صاحب حق کو اس کا حق دیدیا ہے اب آئندہ حلف سے وارث نہیں ہوسکتے آیت میں موالی سے مراد عصبہ میں اور عصہ کی وراثت لا قرب فالا قرب کا اصول مقرر…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(4:33) لکل ہر شخص کے لئے۔ موالی۔ مولی۔ کی جمع۔ چچا کے بیٹے (بغوی) عصیات (مجاہد) کلالہ (ابو صالح) عام وارث (کلبی) دوست۔ مؤکل۔ محافظ (44:41) آقا۔ مالک (16:76) عقدت اس نے باندھا ۔ عقد سے جس کے معنی باندھنے ۔ گرہ باندھنا۔ سوگند کھانا۔ کسی چیز کے اطراف کو آپس میں جمع کردینا (باب ضرب) عقدۃ گرہ۔ عقد جمع۔ نفثت فی العقد۔ گرہوں میں پھونکیں مارنے والیاں۔ عقد۔ عہد باندھنا۔ قول و قرار۔ عہدو پیمان۔ اس کی جمع عقود ہے۔ عقد یمین عہد و پیمان کی پختگی۔ والذین عقدت ایمانکم۔ اور وہ لوگ جن سے تمہارا عہد و پیمان بند ھ چکا ہے۔ ولکل جعلنا ۔۔ والاقربون۔ اس کی مندرجہ ذیل ہوسکتی ہیں : (1) کل مضاف ہے اور اس کا مضاف الیہ…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 32–33

آیت نمبر 32-33 لغات القرآن : لاتتمنوا، تم تمنا نہ کرو۔ اکتسبوا، انہوں نے کمایا۔ اکتسبن، جو عورتوں نے کمایا۔ اسئلوا، سوال کرو۔ موالی، والی، وارث۔ عقدت، باندھ لیا۔ تشریح : دنیا میں ہر جرم کی جڑ غصہ، انتقام ، حرص، ہوس، رشک، حسد ہے۔ یہاں خاص طور پر حرص، ہوس، رشک اور حسد سے بحث ہے۔ نعمتوں کی دو قسمیں ہیں۔ قدرتی اور اختیاری۔ قدرتی چیزوں کی تمنا اور اس کے لئے دل کو خلجان میں مبتلا کرنا غلط ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی مصلحت سے کسی کو دولت دی ہے، کسی کو اقتدار دیا ہے، کسی کو حسن یا اچھی صورت شکل یا آواز بخشی ہے۔ دنیا کی یہ تمام رونقیں اور قدروقیمت ان قدرتی نعمتوں کی زیادتی اور کمی سے ہیں۔ اس لئے فرمایا…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

میراث رشتہ داری پر ہے اور قول کے بھائیوں سے زندگی میں سلوک کیا جاتا ہے یا مرتے وقت کچھ وصیت کی جاتی ہے ۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[28] عرب میں دستور تھا کہ دو شخص باہم قول وقرار کر کے ایک دوسرے کے اس طرح دوست و مددگار ہوجاتے کہ اگر ایک پر دیت لازم آئے تو دوسرا ادا کرے اور ایک کی وفات پر دوسرا اس کا وارث ہو۔ شروع شروع میں شریعت نے اسی دستور کو تھوڑی سی ترمیم کے بعد قائم رکھا۔ چناچہ ہجرت کے بعد انصار اور مہاجرین میں جن کے اقربا مسلمان نہیں ہوئے تھے مواخاۃ قائم کردی اور ایک ایک انصار کو ایک ایک مہاجر کا بھائی بنادیا اور وہی بعد میں ایک دوسرے کے وارث ہوتے۔ جب ان کے اقربا مسلمان ہوئے تب یہ آیت اتری کہ میراث ہے قرابت داری پر اور قول کے بھائیوں سے زندگی میں سلوک کردو یا مرتے وقت کچھ وصیت کردو۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

(ف 1) مقصد یہ ہے کہ میراث میں سب کے ورثہ ہیں اور ان میں باہمی تفاوت ہے ، خدا خوب جانتا ہے کون کتنے حصے کا مستحق ہے ، تم ان کا حصہ بہرحال حسب ہدایت ان تک پہنچا دو ۔ آیت کی ترکیب کچھ اس طرح ہے کہ والدین واقربا وغیرہ وارث بھی قرار دیئے جاسکتے ہیں اور موروث بھی ۔ (آیت) ” والذین عقدت ایمانکم “ سے مراد میاں بیوی ہیں ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

ف 4 اور ہم نے ہر اس مال کے جو ماں باپ اور قرابت دار چھوڑ جائیں وارث مقرر کئے ہیں یعنی بطور ترکہ چھوڑ مریں اس کے وارث ہم نے مقرر کردیئے ہیں اور وہ لوگ جن سے تمہارے عہد و پیمان ہوچکے ہیں یعنی آپس میں یہ عہد باندھ رکھا ہو کہ اگر زندگی میں مجھ کو کوئی ویت وغیرہ دینی پڑے تو وہ تم ادا کرنا اور میں مر جائوں تو میرا ترکہ تم لے لینا ایسے عہد کرنے والے کو مولی الموالاۃ کہتے ہیں تو ان لوگوں کو ان کا حصہ دے دو اور حسب وعدہ جو مولیٰ مولاۃ کا حق ہے وہ ان کو دے دو ، بلاشبہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر نگراں اور ہر چیز پر مطلع ہے۔ (تیسیر) مولی کے معنی ہم پہلے بیان کرچکے ہیں ناصر، حامی، سرپرست، آقا، آزاد شدہ غلام…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 33–35

ف 7۔ جن دو شخصوں میں باہم اس طرح قول وقرار ہوجائے کہ ہم ایک دوسرے کے اس طرح یارومددگار رہیں گے کہ اگر ایک شخص کے ذمہ کوئی دیت لازم آئی تو دوسرا بھی اس کا متحمل ہو اور جب وہ مرا جائے تو دوسرا اس کی میراث لے تو یہ عہد عقد موالات ہے اور ان میں سے ہر شخص مولی المولات کہلاتا ہے یہ رسم عرب میں اسلام سے پہلے بھی تھی ابتداء اسلام میں جب تک کہ اکثر مسلمان نہ ہوئے تھے اور اس وجہ سے رسول اللہ ﷺ نے باہم انصار و مہاجرین میں عقد اخوت جس کا اثر اسی مولات کا سا تھا منعقد فرمادیا تھا اس وقت اسی رسم قدیم کے موافق حکم رہا کہ انصار و مہاجرین میں باہم میراث جاری ہوتی تھی پھر جب لوگ بکثرت مسلمان ہوگئے تو اس میں…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

میراث میں بھی ایک خاص طریقہ ہے اس کا لحاط رکھو اور عہدو پیمان کو پورا کرو : 70: عربوں میں عام رواج تھا کہ ایک دوسرے سے انفرادی قومی عہدو پیمان باندھتے رہتے تھے۔ جن کے فوائد سے بھی کل طور پر انکار نہیں کیا جاتا بلکہ اسلام نے ان میں سے بہت سے عہدو پیمان جاری رکھے ہیں اور ان حفاظت کا بھی حکم دیا ہے ہاں ! جو غلط قسم کے رواج تھے ان کی بیخ کنی کردی گئی ہے۔ اور آئندہ ان سے روک دیا گیا ہ۔ ان ہی عہدو پیمان میں ایک یہ بھی تھا کہ کوئی شخص کسی دوسرے سے کہہ دیتا کہ میرے مرنے کے بعد میری میراث کا تو وارث ہے خواہ کسی خاص حصہ میں یا ساری میراث کا اور یہ بھی کہ تیرا خون میرا خون ہے اور تیرا عہدچ مررا عہد ہے۔…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 32–33

In the injunctions of inheritance appearing previously, it was mentioned that, given the conditions, for a male there is a share equal to that of two females. There are other proved aspects of male precedence as well. So, Sayyidah Umm Salmah رضی اللہ تعالیٰ عنہا once said to the Holy Prophet ﷺ Our share in the inheritance is half. Then, there are such and such elements of difference between us and men...' Her purpose was not to raise an objection. Rather, she wished to be a man and to deserve the merits restricted for men. There were other women who wished: Had we been men, we would have…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

55. According to Arab customary law, those who concluded compacts of alliance and friendship also became mutual heirs. Likewise, an adopted son inherited from his foster-father. While abrogating this customary law, this verse reveals that inheritance goes to one's kin according to the rules for the distribution of inheritance laid down by God Himself. However, if a man has made commitments to people, he has the right to give away to them whatever he wishes during his lifetime.

Read the full tafseer →