جائز رشک اور جواب با صواب
حضرت ام سلمہ ؓ نے ایک مرتبہ کہا تھا کہ یا رسول اللہ ﷺ مرد جہاد کرتے ہیں اور ہم عورتیں اس ثواب سے محروم ہیں، اسی طرح میراث میں بھی ہمیں بہ نسبت مردوں کے آدھا ملتا ہے اس پر یہ آیت نازل ہوئی (ترمذی) اور روایت میں ہے کہ اس کے بعد پھر (اَنِّىْ لَآ اُضِيْعُ عَمَلَ عَامِلٍ مِّنْكُمْ مِّنْ ذَكَرٍ اَوْ اُنْثٰى ۚ بَعْضُكُمْ مِّنْۢ بَعْضٍ) 3۔ آل عمران :195) اتری۔ اور یہ بھی روایت میں ہے کہ عورتوں نے یہ آرزو کی تھی کہ کاش کہ ہم بھی مرد ہوتے تو جہاد میں جاتے اور روایت میں ہے کہ ایک عورت نے خدمت نبوی میں حاضر ہو کر کہا تھا کہ دیکھئے مرد کو دو عورتوں کے برابر حصہ ملتا ہے دو عورتوں…
Read the full tafseer →سورة النِّسَآء 54
اس آیت میں بڑی اہم اخلاقی ہدایت دی گئی ہے جسے اگر ملحوظ رکھا جائے تو اجتماعی زندگی میں انسان کو بڑا امن نصیب ہوجائے۔ اللہ تعالیٰ نے تمام انسانوں کو یکساں نہیں بنایا ہے بلکہ ان کے درمیان بیشمار حیثیتوں سے فرق رکھے ہیں۔ کوئی خوبصورت ہے اور کوئی بد صورت۔ کوئی خوش آواز ہے اور کوئی بد آواز۔ کوئی طاقت ور ہے اور کوئی کمزور۔ کوئی سلیم الاعضا ہے اور کوئی پیدائشی طور پر جسمانی نقص لے کر آیا ہے۔ کسی کو جسمانی اور ذہنی قوتوں میں سے کوئی قوت زیادہ دی ہے اور کسی کو کوئی دوسری قوت۔ کسی کو بہتر حالات میں پیدا کیا ہے اور کسی کو بدتر حالات میں۔ کسی کو زیادہ ذرائع دیے ہیں اور کسی کو کم۔ اسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–33
ربط آیات
ماقبل کی آیتوں میں میراث کے احکام گذرے ہیں، ان میں یہ بھی بتلایا جا چکا ہے کہ میت کے ورثہ میں اگر مرد اور عورت ہو، اور میت کی طرف رشتہ کی نسبت ایک ہی طرح کی ہو تو مرد کو عورت کی نسبت دوگنا حصہ ملے گا، اسی طرح کے اور فضائل بھی مردوں کے ثابت ہیں، حضرت ام مسلمہ نے اس پر ایک دفعہ حضور اکرم سے عرض کیا کہ ہم کو آدھی میراث ملتی ہے اور بھی فلاں فلاں فرق ہم میں اور مردوں میں ہیں۔
مقصد اعتراض کرنا نہیں تھا بلکہ ان کی تمنا تھی کہ اگر ہم لوگ بھی مرد ہوتے تو مردوں کے فضائل ہمیں بھی حاصل ہوجاتے، بعض عورتوں نے یہ تمنا کی کہ کاش ہم مرد ہوتے تو مردوں کی طرح جہاد میں حصہ لیتے اور جہاد کی فضیلت ہمیں…
Read the full tafseer →وَلَا تَتَمَنَّوْا مَا فَضَّلَ اللّٰهُ بِهٖ بَعْضَكُمْ عَلٰي بَعْضٍ ۭ لِلرِّجَالِ نَصِيْبٌ مِّمَّا اكْتَـسَبُوْا ۭ وَلِلنِّسَاۗءِ نَصِيْبٌ مِّمَّا اكْتَـسَبْنَ ۭ وَسْـــَٔـلُوا اللّٰهَ مِنْ فَضْلِهٖ ۭ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِـــيْمًا۔
تنافس کا اصلی میدان اکتسابی صفات کا میدان ہے :۔ معاشرے میں بیشمار کشمکشیں اس وجہ سے پیدا ہوتی ہے کہ لوگ اس بات سے واقف ہوتے کہ کون سا میدان قسمت آزمائی اور جد و جہد کا ہے اور کون سا نہیں ہے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ غلط ارمان اور ایک اندھا بہرا حوصلہ لوگوں کو ایسے میدانوں میں ڈال دیتا ہے جن میں آدمی کی ساری جدوجہد اور اس کی تمام قابلیت و صلاحیت ایک لا…
Read the full tafseer →32۔ 1 اس کی شان نزول میں بتلایا گیا ہے کہ حضرت ام سلمہ ؓ نے عرض کیا مرد جہاد میں حصہ لیتے ہیں اور شہادت پاتے ہیں۔ ہم عورتیں ان فضیلت والے کاموں سے محروم ہیں۔ ہماری میراث بھی مردوں سے نصف ہے، اس پر آیت نازل ہوئی، اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کا مطلب یہ ہے کہ مردوں کو اللہ تعالیٰ نے جو جسمانی قوت و طاقت اپنی حکمت اور ارادہ کے مطابق عطا کی ہے اور جس کی بنیاد پر وہ جہاد بھی کرتے ہیں اور دیگر بیرونی کاموں میں حصہ لیتے ہیں۔ یہ ان کے لئے خاص عطیہ ہے۔ اس کو دیکھتے ہوئے عورتوں کو مردانہ صلاحیتوں کے کام کرنے کی آرزو نہیں کرنی چاہئے۔ البتہ اللہ کی اطاعت اور نیکی کے کاموں میں خوب حصہ لینا چاہیے اور اس میدان…
Read the full tafseer →27: بعض خواتین نے اس تمنا کا اظہار کیا تھا کہ اگر وہ مرد ہوتیں تو وہ بھی جہاد وغیرہ میں حصہ لے کر مزید ثواب حاصل کرتیں، اس آیت کریمہ نے یہ اصول واضح فرمادیا کہ جو باتیں انسان کے اختیار سے باہر ہیں ان میں اللہ نے کسی شخص کو کسی اعتبار سے فوقیت دے رکھی ہے اور کسی کو کسی اور حیثیت سے، مثلاً کوئی مرد ہے کوئی عورت، کوئی زیادہ طاقت اور ہے کوئی کم، کسی کا حسن دوسرے کے مقابلے میں زیادہ ہے یہ چیزیں چونکہ ان کے اختیار میں نہیں ہیں اس لئے ان کی تمنا کرنے سے فضول حسرت ہونے کے سوا کوئی فائدہ نہیں ہے، لہذا ان چیزوں میں اللہ تعالیٰ کی تقدیر پر راضی رہنا چاہیے، البتہ جو اچھائیاں انسان کے اختیار میں ہیں انہیں…
Read the full tafseer →(آیت) ” ولا تتمنوا ما فضل اللہ بہ بعضکم علی بعض للرجال نصیب مما اکتسبوا وللنسآء نصیب مما اکتسبن واسئلوا اللہ من فضلہ ان اللہ کان بکل شیء علیما (32) ولکل جعلنا موالی مما ترک الوالدن والا قربون والذین عقدت ایمانکم فاتوھم نصیبھم ان اللہ کان علی کل شیء شھیدا (33) (4 : 32۔ 33)
” اور جو کچھ اللہ نے تم میں سے کسی کو دوسروں کے مقابلے میں زیادہ دیا ہے اس کی نسبت تمنا نہ کرو ‘ جو کچھ مردوں نے کمایا ہے اس کے مطابق ان کا حصہ ہے ‘ اور جو کچھ عورتوں نے کمایا ہے اس کے مطابق ان کا حصہ ہے ہاں اللہ سے اس کے فضل کی دعا مانگتے رہو ‘ یقینا اللہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے ۔ اور ہم نے ہر اس ترکے کے حقدار مقرر کردیئے…
Read the full tafseer →9 یعنی حق تعالیٰ جو کسی کو کسی پر کسی امر میں شرافت و فضلیت اور اختصاص و امتیاز عنایت فرمائے تو تم اس کی ہوس اور حرص مت کرو کیونکہ یہ بھی گویا ایسا ہی ہے کہ کسی کے خاص مال اور جان میں بلاوجہ دست اندازی کی جائے جس کی حرمت ابھی گزر چکی اور نیز اس سے باہم تحاسد و تباغض پیدا ہوتا ہے اور حکمت الٰہی کی مخالفت بھی لازم آتی ہے بعض عورتوں نے آپ کی خدمت میں عرض کیا کہ کیا سبب ہے کہ ہر جگہ حق تعالیٰ مردوں کو خطاب فرماتا ہے اور ان کو حکم کرتا ہے عورتوں کا ذکر نہیں کیا جاتا اور میراث میں مرد کو دوہرا حصہ دیا جاتا ہے عورت سے۔ اس آیت میں ان سب کا جواب ہوگیا۔
1 یعنی مردوں اور عورتوں کے لئے حصہ مقرر ہے جیسا…
Read the full tafseer →آیت 32 وَلاَ تَتَمَنَّوْا مَا فَضَّلَ اللّٰہُ بِہٖ بَعْضَکُمْ عَلٰی بَعْضٍ ط۔
r
َاللہ تعالیٰ نے بعض لوگوں کو ان کی خلقی صفات کے اعتبار سے دوسروں پر فضیلت دی ہے۔ آدمی کی یہ ذہنیت کہ جہاں کسی دوسرے کو اپنے مقابلہ میں کسی حیثیت سے بڑھا ہوا دیکھے بےچین ہوجائے ‘ اس کے اندر حسد ‘ رقابت اور عداوت کے جذبات پیدا کردیتی ہے۔ اس آیت میں اسی ذہنیت سے بچنے کی ہدایت فرمائی جا رہی ہے۔ فضیلت کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کسی کو مرد بنایا ‘ کسی کو عورت۔ یہ چیز بھی خلقی ہے اور کسی عورت کی مرد بننے یا کسی مرد کی عورت بننے کی تمنا نری حماقت ہے۔ البتہ دنیا میں قسمت آزمائی اور جدوجہد کے مواقع سب کے لیے…
Read the full tafseer →54 حسد کی بجائے اللہ کا فضل طلب کرنا چاہئے :۔ دنیا میں اللہ نے کسی کو کوئی خوبی دے رکھی ہے کسی کو کوئی دوسری۔ کوئی مالدار ہے کوئی غریب ہے۔ کوئی حسین ہے کوئی بدصورت ہے، کوئی تنومند اور صحت مند اور کوئی کمزور اور مستقل بیمار۔ کوئی سالم الاعضاء ہے تو کوئی پیدائشی اندھا یا گونگا یا بہرہ ہے۔ کوئی بڑا عقلمند اور ذہین ہے اور کوئی کند ذہن ہے۔ کسی میں قوت کار کی استعداد بہت زیادہ ہے کسی میں کم ہے، کوئی چست اور پھرتیلا ہے تو کوئی پیدائشی طور پر سست اور ڈھیلا ڈھالا ہے اور اسی اختلاف ہی سے اس جہان کی رنگینیاں قائم اور اس دنیا میں ایک دوسرے کے کام چلتے چلاتے رہتے ہیں۔ اب اگر اس قدرتی اختلاف میں سے کسی بھی…
Read the full tafseer →106 ۔ (طبعی ووہبی طور پر بلادخل کسی عمل وکسب کے مثلا مردوں کو جو فضیلت عورتوں پر حاصل ہے) کوئی دولت مند ہے، کوئی حسین و جمیل ہے، کوئی خوش آواز ہے، کسی کے قوائے جسمانی بہت مضبوط ہیں۔ اس قسم کے وہبی و طبعی فضائل کو قرب حق میں مطلق دخل نہیں۔ آیت میں تعلیم ہے کہ ان کی بنا پر ایک دوسرے پر رشک کرنا، ایک دوسرے کی جگہ پر ہونے کی حسرت و تمنا کرنا درست نہیں۔ قرب حق میں دخل صرف عمل واکتساب کو ہے۔ شان نزول کی روایتوں میں آیا ہے کہ کچھ عورتوں نے اپنے احساس کمتری کی بنا پر مردوں پر رشک کا اظہار کیا تھا۔ اس کے جواب میں یہ آیت نازل ہوئی۔ اور بتایا گیا کہ نجات ومغفرت اور قرب حق کا مدار تو اپنے اعمال ارادی…
Read the full tafseer →وَلَاتتمَنَّوامَافضلَ اللّٰہ بہ بعضکم علی بعض . (الاٰیة)
شان نزول : ایک روزحضرت ام سلمہ نے عرض کیا کہ مردجہاد میں حصہ لیتے ہیں اور شہادت حاصل کرتے ہیں، ہم عورتیں ان فضیلت والے کاموں سے محروم ہیں، ہماری میراث بھی مردوں سے نصف ہے (اخرجہ عبدالرزاق وسعیدبن منصورو عبدبن حمیدوالترمذی)
اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ مردوں کو اللہ تعالیٰ نے جو جسمانی طاقت وقوت اپنی حکمت کے مطابق عطاکی ہے جس کی بنیاد پر وہ جہاد بھی کرتے ہیں اور دیگر بیرونی کاموں میں حصہ بھی لیتے ہیں یہ ان کے لئے اللہ کا خاص عطیہ ہے ان کو دیکھ کر عورتوں کو مردانہ صلاحیت کے کام کرنے کی آرزو نہیں کرنی چاہیے البتہ اللہ کی اطاعت اور نیک کاموں میں…
Read the full tafseer →ولا تتمنوا ما فضل اللہ بہ بعضکم علی بعض جو بیشی تم میں سے بعض کو بعض پر اللہ نے عطا فرمائی ہے ‘ تم اس کی آرزو مت کرو (یعنی خداداد فضیلت والوں کے برابر پہنچنے کی تمنا نہ کرو) کیونکہ یہ برتری اور بیشی تو خداداد ہے تدبیر اور حکمت الٰہیہ کے تحت ایسا ہوا ہے۔ آرزو کرنے سے سوائے جلنے کے کوئی فائدہ نہ ہوگا۔ بلکہ ہر شخص پر لازم ہے کہ نیکیاں کرنے کی امکانی کوشش کرے اس سے ہی اللہ کا قرب اور آخرت میں ثواب کی بیشی حاصل ہوگی۔
للرجال نصیب مما اکتسبوا واللنسآء نصیب مما اکتسبن . مردوں کے لئے ان کے اعمال کا حصہ مقرر ہے اور عورتوں کے لئے ان کے اعمال کا یعنی مرد جو جہاد کرتے ہیں مخصوص عبادات بجا لاتے نیز عام…
Read the full tafseer →(32) یعنی کوئی شخص اپنے کسی بھائی کے پاس اس کا مال وسواری اور اس کی عورت یا اس طرح کی کوئی اور نعمت دیکھ کر اسی چیز کی تمنا نہ کرے، بلکہ براہ راست اللہ تعالیٰ سے مانگے، کہ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی ایسی چیزیں یا اس سے بہتر چیزیں عطا فرما یہ آیت حضرت ام سلمہ زوجہ نبی اکرم ﷺ کے بارے میں نازل ہوئی ہے، انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے کہا تھا کہ کاش جن چیزوں کی اللہ تعالیٰ نے مردوں کو اجازت دی ہے، عورتوں کو بی مل جائے تو ہم بھی ان کی طرح جہاد وغیرہ کریں، اللہ تعالیٰ نے اس چیز سے منع فرمایا کہ مردوں کو اللہ تعالیٰ نے جمعہ جماعت، جہاد امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی وجہ سے عورتوں پر فضیلت دی ہے، اس کی تمنا نہ…
Read the full tafseer →وَلَا تَتَمَنَّوْا مَا فَضَّلَ اللّٰهُ۔۔ : یعنی یہ نہ کہو کہ کاش ! یہ درجہ یا مال مجھے مل جائے، یہ تقدیر پر راضی نہ ہونے کی دلیل ہے اور اگر یہ بھی ہو کہ اس کے پاس یہ نعمت نہ رہے تو حسد ہے، جس کی بہت مذمت آئی ہے، ام سلمہ ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا کہ مرد لوگ جہاد کرتے ہیں، ہم اس سے محروم ہیں، میراث میں بھی ہمارا نصف حصہ ہے تو اس پر یہ آیت نازل ہوئی : (وَلَا تَتَمَنَّوْا مَا فَضَّلَ اللّٰهُ بِهٖ بَعْضَكُمْ عَلٰي بَعْضٍ ۭ) (أحمد : 6؍322) یعنی اللہ تعالیٰ کے ہاں تقرب نیک اعمال سے ہے، مرد کو محض مرد ہونے کی وجہ سے عورت پر عمل میں فضیلت نہیں ہے اور عورت محض عورت ہونے کی وجہ سے نیک عمل کے ثواب…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 32۔
اس آیت میں چار مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر : (1) ترمذی نے حضرت ام سلمہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا : مرد جہاد کرتے ہیں اور عورتیں جہاد نہیں کرتی ہیں، ہمارے لیے نصف میراث ہے (اس کی کیا حکمت ہے ؟ ) تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : (آیت) ” ولا تتمنوا ما فضل اللہ بہ بعضکم علی بعض “۔ اور مجاہد (رح) نے کہا : اس پر یہ آیت نازل ہوئی : (آیت) ” ان المسلمین والمسلمت “۔ الخ (الاحزاب : 35) اور حضرت ام سلمہ ؓ پہلی سفر کرنی والی عورت تھی جو مدینہ طیبہ ہجرت کرکے آئی تھی، ابو عیسیٰ نے کہا : یہ حدیث مرسل ہے بعض نے اس حدیث کو ابن ابی نجیح عن مجاہد کے سلسلہ میں مرسل روایت کیا ہے کہ حضرت…
Read the full tafseer →(1) عبد الرزاق وعبد بن حمید والحاکم و سعید بن منصور وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد کے طریق سے ام سلمہ ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! مرد جہاد کرتے ہیں اور ہم جہاد نہیں کرتے کہ ہم بھی شہادت کو پالیتیں اور ہمارے لئے آدھی میراث ہے۔ تو اس پر اللہ تعالیٰ نے (یہ آیت) یعنی لفظ آیت ” ولا تتمنوا ما فضل اللہ بہ بعضکم علی بعض “ اور سورة احزاب کی یہ آیت ” ان المسلمین والمسلمت “ نازل فرمائی۔
(2) ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ کی ایک بیوی آئی اور کہنے لگی اے اللہ کے نبی مرد کو عورت سے دوگنی میراث ملتی ہے اور دو عورتوں کی گواہی…
Read the full tafseer →[ وَلاَ تَتَمَنَّوْا : اور تم لوگ تمنا مت کرو ] [ مَا : اس کی ] [ فَضَّلَ : فضیلت دی ] [ اللّٰہُ : اللہ نے ] [ بِہٖ : جس سے ] [ بَعْضَکُمْ : تمہارے کسی کو ] [ عَلٰی بَعْضٍ : کسی پر ] [ لِلرِّجَالِ : مردوں کے لیے ] [ نَصِیْبٌ : ایک حصہ ہے ] [ مِّمَّا : اس میں سے جو ] [ اکْتَسَبُوْا : انہوں نے کمایا ] [ وَلِلنِّسَآئِ : اور عورتوں کے لیے ہے ] [ نَصِیْبٌ : ایک حصہ ] [ مِّمَّا : اس میں سے جو ] [ اکْتَسَبْنَ : انہوں نے کمایا ] [ وَسْئََلُوا : اور تم لوگ مانگو ] [ اللّٰہَ : اللہ سے ] [ مِنْ فَضْلِہٖ : اس کے فضل میں سے ] [ اِنَّ اللّٰہَ : یقینا اللہ ] [ کَانَ : ہے ] [ بِکُلِّ شَیْئٍ : تمام چیزوں کو ]…
Read the full tafseer →امور غیر اختیاریہ میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی آرزو مت کرو
معالم التنزیل صفحہ 420: ج 1 میں حضرت مجاہد تابعی سے نقل کیا ہے کہ حضرت ام سلمہ ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! مرد جہاد کرتے ہیں اور ہم جہاد نہیں کرتیں اور ہم کو بھی میراث میں ان کے برابر حصہ ملتا ہے۔ اس پر آیت بالا نازل ہوئی۔ پھر بعض حضرات سے یوں نقل کیا گیا کہ جب اللہ تعالیٰ نے میراث کے حصے بیان فرماتے ہوئے (لِلذَّکَرِ مِثْلُ خِطِّ الْاُنثَیَیْنِ ) فرمایا تو عورتوں نے کہا کہ ہم زیادہ حصہ کی مستحق ہیں کیونکہ ہم ضعیف ہیں، اور مرد قوی ہیں اور انہیں روزی حاصل کرنے پر قدرت زیادہ ہے، نیز یہ بھی لکھا ہے کہ جب (لِلذَّکَرِ مِثْلُ خِطِّ…
Read the full tafseer →حکم چہاردہم ممانعت از رشک برتفوق دیگراں
ولا تتمنوا مافضل اللہ بہ بعضکم علی بعض۔۔ الی۔۔ علیما۔ آیت۔
ربط) گزشتہ آیات میں یہ ارشاد فرمایا کہ شہوات کی پیروی نہ کرو اور ناحق طریقہ سے کسی کا مال نہ کھاؤ اب اس آیت میں یہ ارشاد فرماتے ہیں کہ کسی کے خداداد شرف اور فضل و امتیاز کو دیکھ کر اس پر رشک نہ کرو اور اس آرزو میں مت پڑو کہ ہم بھی ایسے ہوجائیں جیسا کہ بعض عورتوں نے نبی ﷺ کی خدمت میں آکر عرض کیا کہ کاش ہم مردہوتے اور مردوں کی طرح جہاد کرتے اور میراث میں مرد دوہراحصہ ہے اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جس کسی کو کوئی فضیلت اور فوقیت عطا کی ہے اس کی آرزو میں پڑنا یہ بھی ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–33
25 بارہواں حکم رعیت (جن وارثوں کے حصے زیادہ ہیں ان کو حصہ پورا پورا دو اور اپنے حق سے زیادہ لینے کی خواہش نہ کرو) یہاں تفضیل سے میراث کے حصوں میں تفضیل مراد ہے۔ بقرینۃ لِلرِّجَالِ نَصِیْبٌ مِّمَّا اکْتَسَبُوْا الخ ورثاء کے حصے کم وبیش مقرر کیے گئے ہیں کسی کا حصہ زیادہ ہے اور کسی کا کم اس لیے حکم دیا گیا کہ کسی کا حق مار لینا اور اس کے حصہ میں کمی کرنا تو درکنار یہ تو صریح ظلم ہے تم اپنے حصہ سے زیادہ لینے کی خواہش بھی نہ کرو۔ پہلے فرمایا کہ لوگوں کا مال باطل طریقوں سے مت کھاؤ اب فرمایا کہ باطل طریقہ سے مال کھانے کا خیال بھی دل میں مت لاؤ۔ وَلِکُلٍّ جَعَلْنَا مَوَالِیَ مِمَّا تَرکَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–33
ربط آیات
سورۃ کی ابتدا سے اللہ تعالیٰ نے انسانی حقوق کا زکر فرمایا ، اس ضمن میں یتیموں کے حقوق کا خصوصی تذکرہ ہے جن کے حقوق اکثر غصب کرلیے جاتے تھے۔ عورتوں کے حقوق بھی بیان ہوچکے ہیں۔ زمانہ جاہلیت میں وراثت کا مسئلہ بڑا الجھا ہوا تھا۔ عورتوں ، ضعیفوں اور بچوں کو وراثت سے بالکل محروم کردیا جاتا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے وراثت کا مکمل قانون نازل فرما کر تمام حقداروں کو ان کے حصے دلوائے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے سوسائٹی کی طہارت کا قانون دیابرائی اور فحاشی کے سدباب کے لیے تعزیرات نافذ کیں۔ پھر محرمات نکاح کی تفصیلات بیان فرمائیں اور ان محرمات کی حکمتیں بھی واضح کیں مالی قانون نازل فرماتے ہوئے حکم دیا…
Read the full tafseer →وَلَا تَتَمَنَّوْا مَا فَضَّلَ اللہُ بِہٖ بَعْضَكُمْ عَلٰي بَعْضٍ 0ۭ لِلرِّجَالِ نَصِيْبٌ مِّمَّا اكْتَـسَبُوْا 0ۭ وَلِلنِّسَاۗءِ نَصِيْبٌ مِّمَّا اكْتَـسَبْنَ 0ۭ وَسْـــَٔـلُوا اللہَ مِنْ فَضْلِہٖ 0ۭ اِنَّ اللہَ كَانَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِـــيْمًا 32
تَّمَنِّي :
تقدیر شيء في النّفس وتصویره فيها، وذلک قد يكون عن تخمین وظنّ ، ويكون عن رويّة وبناء علی أصل، لکن لمّا کان أكثره عن تخمین صار الکذب له أملك، فأكثر التّمنّي تصوّر ما لا حقیقة له . قال تعالی: أَمْ لِلْإِنْسانِ ما تَمَنَّى [ النجم/ 24] ، فَتَمَنَّوُا الْمَوْتَ [ البقرة/ 94] ، وَلا يَتَمَنَّوْنَهُ أَبَداً [ الجمعة/ 7]
والأُمْنِيَّةُ
:…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–32
ترکیب : مابمعنی الذی یا نکرہ موصوفہ اور عائد۔ بہ میں ضمیر ہے بعضکم مفعول ہے ‘ فضل کا ‘ نصیب مبتداء للرجال خبر مقدم مما کامن نصیب سے متعلق ہے۔ ولکل کا مضاف الیہ محذوف ای لکل احد ‘ جعل کا مفعول اول موالی جمع مولی ہے اور ثانی لکل ای جعلنا وارثا لکل احد مما ترک یا تو مال محذوف کی صفت ہے ای من مال ترک الوالدان یا متعلق ہے یرثون محذوف سے۔ والذین عقدت الخ مبتداء فاتوھم خبر جملہ کا عطف کلام سابق پر ہے۔
: احکام کے بعد معاملات جو برے نتائج پیدا ہوجاتے ہیں دغا فریب سے مال اور کسی کی بیوی پر دست تطاول دراز کرنا جس کا آخری نتیجہ مارپیٹ اور آخر قتل تک نوبت پہنچتی ہے اس انجام کی خرابی جتا کر ان آیات میں کن…
Read the full tafseer →وَلاَ تَتَمَنَّوْا مَافَضَّلَ اللّٰہُ بِہٖ بَعْضَکُمْ عَلٰی بَعْضٍ ط لِلرِّجَالِ نَصِیْبٌ مِمَّااکْتَسَبُوْا ط وَلِلنِّسَآئِ نَصِیْبٌ مِمَّااکْتَسَبْنَ ط وَسْئَلُوا اللّٰہَ مِنْ فَضْلِہٖ ط اِنَّ اللّٰہَ کَانَ بِکُلِّ شَیْ ئٍ عَلِیْمًا
(نہ تمنا کرو اس چیز کی جس میں اللہ نے ایک کو دوسرے پر ترجیح دی ہے۔ مردوں کو حصہ ملے گا اس میں سے جو انھوں نے کمایا اور عورتوں کو حصہ ملے گا اس میں سے جو انھوں نے کمایا اور اللہ سے اس کے فضل میں سے حصہ مانگو، بیشک اللہ ہر چیز سے باخبر ہے) (النسآء : 32)
انسانی زندگی میں مفاسد کا اہم سبب خلقی اور غیراختیاری امور میں غلط سوچ اور رویہ ہے
انسان کی انفرادی اور اجتماعی…
Read the full tafseer →فہم القران
ربط کلام : جس طرح بڑے گناہ آدمی کو ہلاک کردیتے ہیں اسی طرح حسد بھی آدمی کے اعمال کو ضائع کردیتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کے اظہار اور دنیا کے نظام کو چلانے کے لیے لوگوں کے درمیان تفاوت اور اونچ نیچ رکھی ہے تاکہ انسان ایک دوسرے کی ضرورت محسوس کرکے باہمی تعاون اور احترام کریں۔ جس کو نعمت میسر آئی ہے وہ شکر ادا کرے اور جسے محروم رکھا گیا ہے وہ صبر کرے۔ چھوٹے بڑے کا فرق عام انسانوں کے علاوہ بسا اوقات ایک باپ کی اولاد میں بھی پایا جاتا ہے۔ ایک خوبصورت دوسرا عام صورت ہے ‘ ایک تنو مند اور طویل قدوقامت لیے ہوئے، جبکہ دوسرا پست قد اور ناتواں جسم کا مالک ہے ‘ ایک معمولی محنت کے بعد دولت…
Read the full tafseer →بیجا تمنا کی ممانعت :
آیت 32 : جب دوسرے کے مال اور جاہ کی تمنا کر کے دوسرے کا مال ناجائز ذرائع سے درست نہ تھا اور قتل نفس ناحق بھی اسی ضمن میں تھا۔ تو مسلمانوں کو اس بات سے بھی منع کردیا۔ کہ وہ مال و جاہ کی اس فضیلت پر دل میں تمنا کرنے لگیں جو اللہ تعالیٰ نے ایک دوسرے پر ان کو دی ہے۔
تقسیم ربّانی پر راضی رہو :
وَلَا تَتَمَنَّوْا مَا فَضَّلَ اللّٰہُ بِہٖ بَعْضَکُمْ عَلٰی بَعْضٍ (اور تم نہ تمنا کرو اس کی جو اللہ تعالیٰ نے تم میں سے فضیلت دی ہے بعض کو بعض پر) کیونکہ یہ فضیلت خداداد ہے۔ اور تدبیر و حکمت الٰہیہ سے اس طرح ہوا ہے اور اللہ تعالیٰ کو اپنے بندوں کے حالات کا بخوبی علم ہے۔ کس کے لئے رزق…
Read the full tafseer →(تفسیر) 32۔:
(آیت)” ولا تتمنوا ما فضل اللہ بہ بعضکم علی بعض “۔ مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ ام سلمہ ؓ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ مرد تو جہاد کرتے ہیں اور ہم جہاد نہیں کرتیں اور مردوں کا میراث میں ہم سے دگنا حصہ ہے اگر ہم بھی مرد ہوتیں تو ان کی طرح ہم بھی جہاد کرتیں اور ان کے برابر ہمارا بھی میراث میں حصہ ہوتا ، اس پر یہ آیت نازل ہوئی ۔
اور بعض حضرات نے کہا کہ جب اللہ تعالیٰ نے میراث کے متعلق یہ آیت ” للذکر مثل حظ الانثیین “۔ نازل فرمائی تو عورتوں نے کہا کہ ہم زیادہ حق دار اور محتاج ہیں ، مردوں سے کیونکہ ہم کمزور صنف ہیں جبکہ مرد قوی ہیں اور وہ طلب معاشی پر قادر بھی ہیں ، اس پر یہ آیت نازل ہوئی…
Read the full tafseer →ترمذی مستدر حاکم وغیرہ میں مجاہد کی روایت سے اس آیت کی شان نزول جو اوپر بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ بعض عورتوں نے آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں حسد کے طور پر یہ کہا تھا کہ مرد جہاد میں جاتے ہیں اس لئے ان کو لوٹ کے مال میں سے حصہ ملتا ہے اور جہاد کا ثواب بھی پاتے ہیں اور میراث میں بھی مردوں کا دوہرا حصہ ہے۔ عورتیں بڑے ٹوٹے میں ہیں ان کہ ان باتوں سے محروم ہیں۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی 1 اور فرمایا دیا کہ اللہ عالم الغیب ہے اس کو عورت مرد سب کی دین و دنیا کی ہر طرح کی مصلحتیں خوب معلوم ہیں اس نے دنیا کا ایک انتظام ہر ایک کی مصلحت کے موافق کیا ہے جو کسی کے حسد سے پلٹ نہیں سکتا اس…
Read the full tafseer →آیت 32
اللہ تبارک و تعالیٰ نے اہل ایمان سے فرمایا ہے کہ وہ اس چیز کی تمنا نہ کریں جو اس نے اپنے فضل و کرم سے دوسروں کو عطا کی ہے، خواہ یہ ممکن امور ہوں یا غیر ممکن۔ چناچہ عورتیں مردوں کے خصائص کی تمنا نہ کریں جن کی بنا پر اللہ تعالیٰ نے مردوں کو عورتوں پر فضیلت عطا کی ہے۔ نہ صاحب فقر اور صاحب نقص، مالداری اور کاملیت کی مجرد تمنا کریں کیونکہ ایسی مجرد تمنا حسد کے زمرے میں شمار ہوتی ہے یعنی دوسروں پر اللہ تعالیٰ کی نعمت دیکھ کر اس سے اس کے سلب ہونے اور خود کو حاصل ہونے کی تمنا کرنا، نیز یہ تمنا اس امر کی مقتضی ہے کہ تمنا کرنے والا اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر پر ناراض ہے اور یہ اس بات کی علامت ہے…
Read the full tafseer →تمنا کرنے کی نہیں
قول باری ہے (ولا تتمنوا ما فضل اللہ بہ بعضکم علی بعض، اور جو کچھ اللہ نے تم میں سے کسی کو دوسروں کے مقابلہ میں زیادہ دیا ہے اس کی تمنا نہ کرو) سفیان نے ابن ابی نجیع سے ، انہوں نے مجاہد سے اور انہوں نے حضرت ام سلمہ ؓ سے روایت کی ہے، وہ فرماتی ہیں۔ ” میں نے ایک دن حضور اکرم ﷺ سے عرض کیا کہ مرد لوگ جہاد پر جاتے ہیں عورتیں نہیں جاتیں۔ مردوں کا تذکرہ ہوتا ہے۔ عورتوں کا نہیں ہوتا “ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی (ولاتتمنوا ما فضل اللہ بہ بعضکم علی بعض) تا آخر آیت ۔ نیز یہ آیت بھی نازل ہوئی (ان المسلمین والمسلمات۔ بیشک مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں) تا آخر آیت
قتادہ نے حسن…
Read the full tafseer →75 غیر اختیاری امور میں رشک و رقابت سے ممانعت : کہ غیر اختیاری امور محض اللہ تعالیٰ کی عطاء و بخشش ہوتے ہیں۔ ان پر حسد یہ اللہ پاک کی تقسیم پر اعتراض ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور ایسی تمنا و ہوس سے حسد کے جراثیم جنم لیتے ہیں، جس سے آگے طرح طرح کے مفاسد جنم لیتے اور مضار ابھرتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ پس ہر کسی کو دوسرے کے خداداد فضل و کمال اور مال و منال کی طرف دیکھنے اور ان پر رشک و حسد کرنے کی بجائے اپنی قسمت پر راضی رہنا چاہیئے۔ (معارف، مراغی وغیرہ) ۔ جیسا کہ حضرت نبی معصوم ﷺ نے فرمایا یعنی " جو کچھ اللہ نے تمہیں نصیب فرمایا ہے اس پر راضی ہوجاؤ سب سے بڑے غنی بن جاؤ گے " " وَارْض بِمَا…
Read the full tafseer →حسد سے بچو
تشریح : اس آیت میں حسد اور بغض کو برا کہا گیا ہے۔ کیونکہ حسن، مال، عزت، دولت، صحت اور شہرت کی تقسیم اللہ رب العزت کی مرضی اور اندازے کے مطابق ہی ہوتی ہے اور اس میں بیشمار حکمتیں ہیں جو شخص جس قابل ہوتا ہے اللہ اس کو وہی دیتا ہے اور پھر یہ سب غیر اختیاری (انسان کے اختیار سے باہر) معاملات ہیں۔ کسی کو زیادہ دے کر کسی کو کم دے کر کسی کو حسین بنا کر، کسی کو بدصورت بنا کر غرض ہر صورت میں ہر حالت میں انسان کی آزمائش ہی ہوتی ہے کیونکہ یہ دنیا یہ زندگی امتحان کی جگہ ہے۔ مشاہدہ میں یہی آیا ہے کہ غریب اپنی غربت میں بھی خوش رہ کر شکر ادا کرتا رہتا ہے ہوسکتا ہے اگر اس کو مال و دولت مل جاتی تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–33
آیت نمبر 32 تا 33: ولا تتمنوا ما فضل اللہ بہ۔۔۔ ان اللہ کان علی کل شیء شہیدا۔
حسد ، قناعت اور رشک :
اور جس چیز میں اللہ تعالیٰ نے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے اس کی خواہش ہی نہ کرو یعنی ان امور میں جن میں انسان کو اختیار نہیں خواہ مخواہ دخل نہ دو مثلاً عورت مرد بننے کی خواہش لے بیٹھے جسے مساوات کے نام پر اچھالا جا رہا ہے یا کسی کا اعلی خاندان میں ہونا یا حسین ہونا وگیرہ اگر ایسی کوشش کی گئی تو سوائے حسد کے کچھ حاصل نہ ہوگا ، دنیا کا آرام تو گیا ہی تھا ساتھ آخرت بھی ضائع ہوگی اس لیے مردوں کو اپنے کیے کا اجر ملے گا جو فرائض بحیثیت مرد ان کے ذمے تھے انہوں نے کس درجے میں ادا کیے اور عورتوں کو اپنے…
Read the full tafseer →ف 1 یعنی یہ نہ کہو کہ کاش یہ درجہ یا مال مجھے مل جائے یہ حسد ہے اور احادیث میں اس کی مذمت آئی ہے حضرت ام سلمہ ؓ نے نبی ﷺ سے دریافت کیا کہ مرد لوگ جہاد کرتے ہیں اور شہادت کے مراتب حاصل کرلیتے ہیں اور ہم اس سے محروم ہیں۔ اس پر یہ ّ آیت نازل ہوئی۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے ہاں تقرب نیک اعمال سے ہے مرد کو محض مرد ہونے کی وجہ سے خورت پر عمل میں فضیلت نہیں ہے اور عورت محض عورت ہونے کی وجہ سے نیک عمل کے ثواب سے محروم نہیں تم بجائے کہ حسد کے اللہ تعالیٰ سے اس کا فضل چاہا کرو۔ (ابن کثیر۔ معالم )
Read the full tafseer →(4:32) ولا تتمنوا۔ مضارع نہی۔ جمع مذکر حاضر۔ تمنی (باب تفعل) سے اصل میں تتمنون تھا۔ لاء نہی (جازم فعل) کی وجہ سے نون اعرابی ساقط ہوگیا۔ تم آرزو مت کرو۔ تم ہوس نہ کرو۔ تمنی کا بیشتر استعمال کسی بےحقیقت چیز کے تصور کرنے کے لئے ہوتا ہے۔ التمنی عبارۃ عن ارادۃ مایعلم او یظن انہ لایکون (رازی۔ روح البیان) تمنی وہ ارادہ ہے جو متمنی جانتا ہے کہ پورا نہیں ہوسکتا۔ یہ اس لئے کہ حقیقت کی دنیا میں یہ اس کی استطاعت سے باہر ہوتا ہے ورنہ جہاں تک اس کی اپنی ہمت اور کوشش کا تعلق ہے وہ اسی آیت میں فرما دیا کہ : للرجال نصیب مما اکتسبوا۔ مردوں کے نصیب میں وہی ہے جو انہوں نے کمایا۔ یعنی جو جتنی محنت کرے گا اتنا ہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–33
آیت نمبر 32-33
لغات القرآن : لاتتمنوا، تم تمنا نہ کرو۔ اکتسبوا، انہوں نے کمایا۔ اکتسبن، جو عورتوں نے کمایا۔ اسئلوا، سوال کرو۔ موالی، والی، وارث۔ عقدت، باندھ لیا۔
تشریح : دنیا میں ہر جرم کی جڑ غصہ، انتقام ، حرص، ہوس، رشک، حسد ہے۔ یہاں خاص طور پر حرص، ہوس، رشک اور حسد سے بحث ہے۔ نعمتوں کی دو قسمیں ہیں۔ قدرتی اور اختیاری۔ قدرتی چیزوں کی تمنا اور اس کے لئے دل کو خلجان میں مبتلا کرنا غلط ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی مصلحت سے کسی کو دولت دی ہے، کسی کو اقتدار دیا ہے، کسی کو حسن یا اچھی صورت شکل یا آواز بخشی ہے۔ دنیا کی یہ تمام رونقیں اور قدروقیمت ان قدرتی نعمتوں کی زیادتی اور کمی سے ہیں۔ اس لئے فرمایا…
Read the full tafseer →حسد کا بیان اور میان بیوی کے حقوق کا ذکر شان نزول : آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں بعض عورتوں نے حسد کے طور پر یہ کہا تھا کہ مرد جہاد میں جاتے ہیں ، اس لئے ان کو لوٹ کے مال میں حصہ ملتا ہے اور جہاد کا ثواب بھی پاتے ہیں اور میراث میں بھی مردوں کا دوہراحصہ ہے ۔ عورتیں بڑے ٹوٹے (نقصان) میں ہیں کہ ان باتوں سے محروم ہیں ، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ اللہ عالم الغیب ہے جس کو جو فضل دیا وہ عین حکمت ہے ، بندے کو چاہیے کہ وہ اس کی رضا پر راضی رہے۔ مرد جہاد سے ثواب حاصل کرتے ہیں تو عورتیں شوہروں کی اطاعت اور پاک دامنی سے ثواب حاصل کر ستی ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–32
[27] ہر وہ فعل گناہ کبیرہ ہے جسے کتاب و سنت کی کسی نصح صریح نے حرام قرار دیا ہو یا اس کے لئے اللہ اور اس کے رسول نے دنیا میں کوئی سزا مقرر کی ہو، یا اس پر آخرت میں عذاب کی وعید سنائی ہو، یا اس کے مرتکب پر لعنت کی ہو یا اس کے مرتکبین پر نزول عذاب کی خبر دی ہو۔ اس نوعیت کے گناہوں کے سوا جتنے افعال شریعت کی نگاہ میں ناپسندیدہ ہیں وہ گناہ صغیرہ ہیں۔ البتہ گناہ صغیرہ اس حالت میں کبیرہ ہوجاتا ہے جب
وہ اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں تکبر کے جذبے سے کیا جائے اور اس کا مرتکب اس شریعت کو کسی اعتنا کے لائق نہ سمجھے جسے اس نے ایک برائی قرار دیا ہے۔
Read the full tafseer →(ف 2) اس آیت میں بتایا ہے کہ مرد و عورت کے لئے کسب واکتساب کا ایک وسیع میدان موجود ہے ، دونوں کے الگ الگ فرائض ہیں اور الگ الگ دائرہ عمل ، اس لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ دونوں خدا کی رضا جوئی مشترکہ طور پر حاصل کریں ، نہ یہ کہ مرد تانث کے زیور سے آراستہ ہوں اور عورتیں مردانہ اسلحہ سے مسلح ۔
حل لغات :
تجتنبوا : مصدر و مادہ اجتناب بچنا ۔ پہلو تہی کرنا ۔
نکفر : مادہ تکفیر ۔ گناہ مٹانا ، دور کرنا بعض لوگ اس لفظ کو ” اکفار “ بمعنی کافر گرداننے کے معنی میں استعمال کرتے ہیں یہ غلط ہے ۔
Read the full tafseer →ف 3 اور وہ امور جن میں ہم نے تم کو آپس میں ایک دوسرے پر فضیلت اور برتری عطا فرمائی ہے اور ان امور میں سے کسی امر کی ہوس اور حرص نہ کیا کرو۔ مردوں کے لئے ان کی استعداد اور اعمال کے موافق حصہ ہے۔ اور عورتوں کے لئے ان کی استعداد اور اعمال کے موافق حصہ ہے اور دیکھو ! اللہ تعالیٰ سے اس کا فضل مانگا کرو بلاشبہ اللہ تعالیٰ ہر چیزکو خوب جانتا ہے۔ (تیسیر)
شان نزول سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ام سلمہ ؓ نے عرض کیا تھا یا رسول اللہ ﷺ یہ کیا بات ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر جگہ مردوں کا ذکر کرتا ہے۔ عورتوں کا نام نہیں لیتا میراث میں مرد کو دوہرا اور عورت کو اکہرا حصہ ملتا ہے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ حضرت ابن عباس ؓ…
Read the full tafseer →ف 6۔ جیسے مرد ہونا۔ یا مردوں کا دونا حصہ ہونا یا ان کی شہادت کا کامل ہونا وغیرہ ذالک۔
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ نے تم کو جو فضیلت ایک دوسرے پر دی ہے اس کا خیال رکھو اور تجاویز نہ کرو :
68: قرآن کریم کے نزول سے پہلے دنیا کا عالمگیر اعتقاد یہ تھا کہ وجود اندانی کا کامل ظہور صرف مردوں ہی کی جنس میں ہوا ہے۔ عورتوں کی ہستی کوئی مستقل ہستی نہیں رکھتی بلکہ مردوں کا ایک کھلونا ہے۔ وہ صرف اس لئے بنائی گئی ہیں۔ کہ مردوں کی خرمستیوں کا ازالہ کریں اور ان کی کام جو ئیوں کا ذریعہ ہوں بلکہ ان کی چاکری اور پرستای میں فنا ہوجائیں۔
قرآن کریم تاریخ عالم کی سب سے پرانی آواز ہے جو اس اعتقاد کے خلاف بلند ہوئی۔ وہ کہتا ہے کہ اللہ نے نوع انسانی کو مرد اور عورت کی ایک جنس کو دو صنفوں میں تقسیم کردیا ہے اور ان دونوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–33
In the injunctions of inheritance appearing previously, it was mentioned that, given the conditions, for a male there is a share equal to that of two females. There are other proved aspects of male precedence as well. So, Sayyidah Umm Salmah رضی اللہ تعالیٰ عنہا once said to the Holy Prophet ﷺ Our share in the inheritance is half. Then, there are such and such elements of difference between us and men...'
Her purpose was not to raise an objection. Rather, she wished to be a man and to deserve the merits restricted for men. There were other women who wished: Had we been men, we would have…
Read the full tafseer →54. This verse embodies a very important directive. By heeding it, man would be able to achieve a great measure of peace and tranquillity. God has not created all men alike. Some are handsome while others are ugly. The voices of some are sweet and those of others repulsive. Some are physically strong others are weak. Some have sound limbs others have inherent deformities. Some possess outstanding physical and mental abilities while others lack them. Some are born in favourable circumstances and others not. Some have been endowed with more resources than others. It is this diversity which…
Read the full tafseer →