Explained with ayahs 29–31
خریدو فروخت اور اسلامی قواعد و ضوابط ؟
اللہ تعالیٰ اپنے ایماندار بندوں کو ایک دوسرے کے مال باطل کے ساتھ کھانے کی ممانعت فرما رہا ہے خواہ اس کمائی کی ذریعہ سے ہو جو شرعاً حرام ہے جیسے سود خواری قمار بازی اور ایسے ہی ہر طرح کی حیلہ سازی چاہے اسے جواز کی شرعی صورت دے دی ہو اللہ کو خوب معلوم ہے کہ اصل حقیقت کیا ہے، حضرت ابن عباس سے سوال ہوتا ہے کہ ایک شخص کپڑا خریدتا ہے اور کہتا ہے اگر مجھے پسند آیا تو تو رکھ لوں گا ورنہ کپڑا اور ایک درہم واپس کر دونگا آپ نے اس آیت کی تلاوت کردی یعنی اسے باطل مال میں شامل کیا۔ حضرت عبداللہ فرماتے ہیں یہ آیت محکم ہے یعنی منسوخ نہیں نہ قیامت تک منسوخ ہوسکتی ہے، آپ…
Read the full tafseer →سورة النِّسَآء 53
یعنی ہم تنگ دل اور تنگ نظر نہیں ہیں کہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر پکڑ کر اپنے بندوں کو سزا دیں۔ اگر تمہارا نامہ اعمال بڑے جرائم سے خالی ہو تو چھوٹی خطاؤں کو نظر انداز کردیا جائے گا اور تم پر فرد جرم لگائی ہی نہ جائے گی۔ البتہ اگر بڑے جرائم کا ارتکاب کر کے آؤ گے تو پھر جو مقدمہ تم پر قائم کیا جائے گا اس میں چھوٹی خطائیں بھی گرفت میں آجائیں گی۔
یہاں یہ سمجھ لینا چاہیے کہ بڑے گناہ اور چھوٹے گناہ میں اصولی فرق کیا ہے۔ جہاں تک میں نے قرآن اور سنت میں غور کیا ہے مجھے ایسا معلوم ہوتا ہے (واللہ اعلم بالصواب) کہ تین چیزیں ہیں جو کسی فعل کو بڑا گناہ بناتی ہیں
(1) کسی کی حق تلفی، خواہ وہ خدا…
Read the full tafseer →ربط آیات
اس آیت سے پہلی آیات میں چند بڑے بڑے گناہوں کا ذکر اور ان میں مبتلا ہونے والوں پر شدید عذاب کا بیان ہے، قرآن کریم کا مخصوص انداز بیان یہ ہے کہ جب کسی جرم پر سزا سے ڈرایا جاتا ہے جسے ترہیب کہتے ہیں تو اس کے ساتھ ترغیب کا پہلو بھی ذکر کیا جاتا ہے کہ جو شخص اس جرم سے باز آئے گا اس کے لئے یہ انعامات و درجات ہیں۔
اس آیت میں بھی ایک خاص انعام خداوندی ذکر کر کی ترغیب دی گئی ہے وہ یہ کہ اگر تم بڑے بڑے گناہوں سے بچ گئے تو تمہارے چھوٹے گناہوں کو ہم خود معاف کردیں گے اور اس طرح تم ہر طرح کے بڑے چھوٹے صغیرہ و کبیرہ گناہوں سے پاک و صاف ہو کر عزت و راحت کے اس مقام میں داخل ہو سکو گے جس کا نام جنت…
Read the full tafseer →اِنْ تَجْتَنِبُوْا كَبَاۗىِٕرَ مَا تُنْهَوْنَ عَنْهُ نُكَفِّرْ عَنْكُمْ سَيِّاٰتِكُمْ وَنُدْخِلْكُمْ مُّدْخَلًا كَرِيْمًا۔
کبائر اور صغائر سے مراد :۔ سیئات کا لفظ چونکہ یہاں کبائر کے مقابل میں آیا ہے اس وجہ سے اس سے مراد صغائر یعنی چھوٹے گناہ ہیں جس طرح نیکیاں جن کا حکم دیا گیا ہے، بڑی بھی ہیں اور چھوٹی بھی، اسی طرح بدیاں، جن سے روکا گیا ہے، چھوٹی بھی ہیں بڑی بھی، یہ چھوٹا اور بڑا ہونا اگرچہ حالات اور نسبتوں کے بدلنے سے تبدیل بھی ہوتا رہتا ہے اس وجہ سے ان کی منطقی حد بندی ذرا مشکل ہے تاہم یہ ایسی چیز نہیں جس کا سمجھنا دشوار ہو۔ جس طرح ہجرت اور جہاد بھی نیکی ہے اور راستے سے کسی تکلیف دہ چیز کو…
Read the full tafseer →31۔ 1 کبیرہ گناہ کی تعریف میں اختلاف ہے۔ بعض کے نزدیک وہ گناہ ہیں جن پر حد مقرر ہے، بعض کے نزدیک وہ گناہ جس پر قرآن میں یا حدیث میں سخت وعید یا لعنت آئی ہے، بعض کہتے ہیں ہر وہ کام جس سے اللہ نے یا اس کے رسول ﷺ نے بطور تحریم کے روکا ہے اور حقیقت یہ ہے کہ ان میں سے کوئی ایک بات بھی کسی گناہ میں پائی جائے تو کبیرہ ہے۔ یہاں یہ اصول بیان کیا گیا ہے کہ جو مسلمان کبیرہ گناہوں مثلاً شرک، حقوق والدین، جھوٹ وغیرہ سے اجتناب کرے گا، تو ہم اس کے صغیرہ گناہ معاف کردیں گے۔ سورة نجم میں بھی یہ مضمون بیان کیا گیا ہے البتہ وہاں کبائر کے ساتھ فواحش (بےحیائی کے کاموں) سے اجتناب کو بھی صغیرہ گناہوں کی معافی کے…
Read the full tafseer →26: اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر انسان گناہ کبیرہ سے پرہیز رکھے تو اس کے چھوٹے چھوٹے گناہوں کو اللہ تعالیٰ خود ہی معاف فرماتے رہتے ہیں، قرآن و حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر نیک عمل مثلاً وضو نماز صدقات وغیرہ سے گناہ صغیرہ معاف ہوتے رہتے ہیں۔
Read the full tafseer →(آیت) ” ان تجتنبوا کبآئر ما تنھون عنہ نکفر عنکم سیاتکم وندخلکم مدخلا کریما “۔ (4 : 31) ”
” اگر تم ان بڑے بڑے گناہوں سے پرہیز کرتے رہو جن سے تمہیں منع کیا جارہا ہے تو تمہاری چھوٹی موٹی برائیوں کو ہم تمہارے حساب سے ساقط کردیں گے اور تم کو عزت کی جگہ داخل کریں گے ۔
ذرا دیکھئے تو سہی ! کس قدر فیاض ہے یہ دین اور اس نظام میں کس قدر سہولتیں دی گئی ہیں ۔ ببانگ دہل دعوت دی جارہی ہے کہ انسانو ! آؤ بلندیوں کی طرف ‘ علو شان کی طرف پاکیزگی کی طرف اور ڈسپلن کی طرف ۔ یاد رکھو کہ تم پر جو فرائض عائد کئے جاتے ہیں ‘ تمہارے لئے جو حدود بھی مقرر ہوتے ہیں ‘ اور اوامر ونواہی کے جو جو احکام دیئے جاتے ہیں ‘ ان سب…
Read the full tafseer →8 پہلی آیت میں مذکور تھا کہ جو کوئی ظلماً کسی کے مال یا جان کو نقصان پہنچائے گا تو اس کی سزا جہنم ہے جس سے معلوم ہوگیا تھا کہ حق تعالیٰ کی نافرمانی بندہ کے لئے موجب عذاب ہے۔ اب اس آیت میں گناہوں سے بچنے کی ترغیب اور گناہوں سے اجتناب کرنے پر وعدہ مغفرت اور جنت کی توقع اور طمع دلائی جاتی ہے تاکہ اس کو معلوم کر کے ہر ایک آدمی گناہوں سے احتراز کرنے میں کوشش کرے اور معلوم ہوجائے کہ جو کبیرہ گناہ مثلاً کسی کا مال غصب یا سرقہ کرنے یا کسی کو ظلماً قتل کرنے سے بچ گیا جن کا ذکر ابھی گزرا تو اس کے وہ تمام صغیرہ گناہ بخشے جائیں گے جن کا مرتکب بغرض تحصیل و تکمیل سرقہ اور قتل ہوا تھا۔ اس آیت میں چند باتیں…
Read the full tafseer →فرمایا :
آیت 31 اِنْ تَجْتَنِبُوْا کَبَآءِرَ مَا تُنْہَوْنَ عَنْہُ نُکَفِّرْ عَنْکُمْ سَیِّاٰتِکُمْ
ہم تمہیں ان سے پاک صاف کرتے رہیں گے۔ تم جو بھی نیک کام کرو گے ان کے حوالے سے تمہاری سیّئات خود بخود دھلتی رہیں گی۔
وَنُدْخِلْکُمْ مُّدْخَلاً کَرِیْمًا
یہ مضمون سورة الشُوریٰ میں بھی آیا ہے اور پھر سورة النجم میں بھی۔ واضح رہے کہ قرآن حکیم میں اہم مضامین کم از کم دو مرتبہ ضرور آتے ہیں اور یہ مضمون قرآن میں تین بار آیا ہے۔
دوسرا مسئلہ انسانی معاشرے میں فضیلت کا ہے۔ ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمام انسانوں کو ایک جیسا تو نہیں بنایا ہے۔ کسی کو خوبصورت بنا دیا تو کسی کو بدصورت۔ کوئی صحیح سالم ہے تو…
Read the full tafseer →52 کبیرہ گناہ کون کون سے ہوتے ہیں :۔ احادیث میں جن کبیرہ گناہوں کا ذکر آیا ہے وہ درج ذیل ہیں :
1۔ سیدنا ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ آپ نے فرمایا سات ہلاک کرنے والے گناہوں سے بچو۔ صحابہ نے پوچھا یا رسول اللہ ﷺ ! وہ کون کون سے ہیں ؟ فرمایا شرک باللہ، جادو، ایسی جان کو ناحق قتل کرنا جسے اللہ نے حرام قرار دیا ہے، سود، یتیم کا مال کھانا، میدان جنگ سے فرار، پاکباز بھولی بھالی مومن عورتوں پر تہمت لگانا۔ (مسلم، کتاب الایمان۔ باب بیان الکبائر و اکبرہا) (بخاری، کتاب المحاربین من اہل الکفرۃ والردۃ۔ باب رمی المحصنات)
2۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا اللہ کے نزدیک کونسا گناہ…
Read the full tafseer →104 ۔ اور نتیجہ تمہیں عذاب سے بھی بچالیں گے) یہ قانون الہی ہے جس کی تکرار قرآن مجید میں کئی بار آئی ہے۔ اور ایک جگہ اسے بالکل کلی اور عمومی صورت میں یوں بیان کیا گیا ہے۔ (آیت) ” ان الحسنت یذھبن السیات “۔ اس قسم کی آیتوں سے صاف ظاہر ہورہا ہے کہ بڑے بڑے اولیاء واتقیاء میں بھی معصوم کوئی نہیں ہوتا۔ اللہ تعالیٰ ان کی کثرت طاعات پر نظر مرحمت کرکے ان کی خطاؤں اور لغزشوں سے درگزر کردیتا ہے اور انہیں اعلی سے اعلی مرتبوں سے سرفراز کرتا رہتا ہے۔ عصمت انبیاء کا مسئلہ ایک دوسرے قانون سے ثابت ہے۔ (آیت) ” کبآئر ما تنھون عنہ “۔ یعنی بڑے بڑے گناہ لیکن خود کبیرہ کا اطلاق کس عمل پر ہوتا ہے۔ اس کے متعدد جوابات…
Read the full tafseer →اِنْ تَجْتَنِبُواکَبَائِرَمَاتُنْھَوْنَ عَنْہُ نکفِّرعَنْکُمْ سَیّئاتٰکم (الآیة) کبیرہ گناہ کی تعریف میں علماء کا اختلاف ہے، بعض کے نزدیک وہ گناہ کبیرہ ہے جس پر حدمقرر ہے، بعض کے نزدیک وہ ہے جس پر قرآن یا حدیث میں سخت وعید یا لعنت آئی ہے جس پر جہنم کی وعید آئی ہو۔
مذکورہ آیت سے معلوم ہوا کہ گناہوں کی قسمیں ہیں کبیرہ اور صیغرہ۔ اگر کوئی شخص ہمت کرکے گناہ سے بچ جائے تو اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ ان کے صغیرہ گناہوں کو معاف فرمادیں گے، فرائض وواجبات کا ترک بھی کبائر میں داخل ہے۔
اعمال صالحہ صغائر کا کفارہ ہوجاتے ہیں : کفارہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ صالحہ کو صغیرہ گناہوں کا کفارہ بنا کر اس کا حساب…
Read the full tafseer →ان تجتنبوا کبئر ما تنہون عنہ اگر تم بڑے بڑے گناہوں سے بچے رہو گے جن کی تم کو ممانعت کی جا رہی ہے
حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے فرمایا کبیرہ وہ گناہ ہے جس پر اللہ نے دوزخی ہونے کی یا (اپنے) ناراض ہونے کی یا لعنت کرنے کی یا عذاب کی مہر کردی ہو۔ ضحاک نے بھی اسی طرح فرمایا کبیرہ وہ گناہ ہے جس پر اللہ نے دنیا میں کسی سزا یا آخرت کے عذاب کی وعید دی ہو۔
میں کہتا ہوں کبائر کے تین درجات ہیں : (1) سب سے بڑا کبیرہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک سمجھنا۔ رسول اللہ ﷺ جو چیز لے کر آئے تھے اگر اس کا ثبوت قطعی دلیل سے ہوجائے تو اس کی تکذیب بھی شرک کے حکم میں داخل ہے (یعنی سب سے بڑا گناہ ہے) خواہ صراحت کے ساتھ تکذیب ہو…
Read the full tafseer →(31) اور اگر ان غیر شرعی باتوں کو بالکل چھوڑ دو گے، تو چھوٹے گناہوں کو جو ایک نماز سے دوسری نماز تک اور ایک جمعہ سے دوسرے جمعہ تک کے اور ایک رمضان سے دوسرے رمضان تک ہوں گے ہم انہیں بالکل معاف کردیں گے اور آخرت میں جنت میں داخل کریں گے۔
Read the full tafseer →اِنْ تَجْتَنِبُوْا كَبَاۗىِٕرَ۔۔ : کبیرہ گناہ وہ ہیں جن کے متعلق قرآن یا حدیث میں صاف طور پر دوزخ کی وعید آئی ہو، یا اللہ کے غصے کا اظہار ہوتا ہو، یا شریعت میں ان پر حد مقرر کی گئی ہو اور ”سَیِّءَاتُّ“ وہ گناہ ہیں جن سے صرف منع کیا گیا ہو اور ان پر وعید وارد نہ ہوئی ہو۔ (رازی۔ ابن کثیر)
نُكَفِّرْ عَنْكُمْ سَيِّاٰتِكُمْ : یعنی اگر تم کبائر سے اجتناب کرتے رہو گے تو ہم تمہارے صغیرہ گناہ تمہارے نیک اعمال کی وجہ سے معاف فرما دیں گے۔ بعض روایات میں کبائر کا شمار بھی آیا ہے، مثلاً اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا، کسی جان کو ناحق قتل کرنا، جوا، شراب نوشی اور پاک دامن عورتوں پر تہمت لگانا وغیرہ، مگر ان…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 31۔
اس آیت کے ضمن میں دو مسئلے ہیں۔
مسئلہ نمبر : (1) جب اللہ تعالیٰ نے اس سورت میں بڑے بڑے گناہوں سے منع فرمایا چھوٹے گناہوں سے اجتناب پر تخفیف کا وعدہ فرمایا۔ یہ دلیل ہے کہ گناہ چھوٹے بھی ہوتے ہیں اور بڑے بھی ہوتے ہیں، یہی اہل تاویل اور فقہاء کی جماعت کا نظریہ ہے، چھونا اور دیکھنا یقینی طور پر بڑے گناہوں سے اجتناب کے ساتھ معاف ہوجاتے ہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ سچا ہے اور اس کا قول حق ہے لیکن اس پر یہ چیز واجب نہیں، اس کی نظیر پہلے (آیت) ” انما التوبۃ علی اللہ “۔ کے ارشاد میں توبہ کی قبولیت کے بارے گزر چکی ہے، اللہ تعالیٰ بڑے گناہوں سے اجتناب کی وجہ سے چھوٹے گناہ معاف فرما…
Read the full tafseer →(1) ابو عبید سعید بن منصور نے اپنے فضائل میں، عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر والطبرانی والحاکم والبیہقی نے شعب میں حضرت ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ سورة نساء میں پانچ آیات ایسی ہیں کہ مجھے یہ بات خوش نہیں لگی کہ اس کے بدلہ میں میرے لئے دنیا میں اور جو کچھ اس میں ہے وہ سب کچھ ہو اور میں جانتا ہوں کہ بلاشبہ جب علماء ان آیات پر گزریں گے تو ان کو پہچان لیں گے وہ پانچ آیات یہ ہیں لفظ آیت ” ان تجتنبوا کبائر ما تنھون عنہ “ ” ان اللہ لا یظلم مثقال ذرۃ “ (النساء آیت 64) ” ومن یعمل سوءا او یظلم نفسہ “ (النساء آیت 110) ۔
(2) ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید وابن جریر نے انس بن مالک ؓ سے روایت کیا کہ ہمارے…
Read the full tafseer →[ اِنْ : اگر ] [ تَجْتَنِبُوْا : تم بچو ] [ کَبَــآئِـرَ مَا : بڑوں سے اس کے ] [ تُنْہَوْنَ : تم کو منع کیا گیا ] [ عَنْہُ : جس سے ] [ نُـکَفِّرْ : تو ہم دور کردیں گے ] [ عَنْکُمْ : تم سے ] [ سَیِّاٰتِکُمْ : تمہاری برائیوں کو ] [ وَنُدْخِلْکُمْ : اور ہم داخل کریں گے تم کو ] [ مُّدْخَلاً کَرِیْمًا : داخل کرنے کی باعزت جگہ میں ]
Read the full tafseer →تکفیر سیئات کا وعدہ
اس آیت میں کبائر سے بچنے کی ترغیب دی گئی ہے اور صغائر کو معاف کرنے کا وعدہ فرمایا ہے، اور بتایا ہے کہ کبیرہ گناہوں سے اجتناب کیا جائے تو اللہ تعالیٰ صغیرہ گناہوں کو معاف فرما دیں گے، دیگر نصوص کثیرہ کی بنا پر بعض علماء نے یہ اشکال کیا ہے کہ محض اجتناب کبائر سے (جن میں عدم ادائے فرائض بھی داخل ہے) اگر صغیرہ گناہ معاف ہوجائیں تو جتنے بھی صغائر ہیں بظاہر نتیجہ کے طور پر مباح کا درجہ لے لیں گے کیونکہ ان کے ارتکاب کرنے والے کو یہ یقین رہے گا کہ کبائر سے بچنے کی وجہ سے میرے تمام صغائر معاف ہیں، لہٰذا صغائر پر کوئی عتاب اور عذاب نہ ہوگا اور مباح ہونے کا یہی معنی ہے۔ اس اشکال کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–31
حکم سیزدہم دربارہ اتلاف اموال ونفوس
یا ایھا الذین۔۔۔ الی۔۔ کریما۔ آیت۔
ربط) گزشتہ سورت سے یتامی کے اموال اور مواریث اور بےکس عورتوں کے تنگ کرنے کے متعلق احکام بیان فرمائے اور اخیر میں تعدی حدود اللہ سے ممانعت فرمائی اب ان آیات میں ارشاد فرماتے ہیں کہ باہمی حقوق کا خیال رکھو نہ کسی کے مال کو ناجائزطریقہ سے کھاؤ اور نہ کسی کو قتل کرو اس لیے کہ کسی کے مال اور نفس میں ناجائز تصرف حدود اللہ سے تعدی اور تجاوز میں داخل ہے نیز کسی کی جان ومال میں ناجائز تصرف اتباع شہوات ہے اور، سنن الذین من قبلکم سے میل عظیم ہے چناچہ فرماتے ہیں اے ایمان والو آپس میں ایک دوسرے کے مال ناحق اور ناجائز طریقہ سے مت کھاؤ…
Read the full tafseer →24 ۔ کَبَائرُ ۔ کبیرۃ کی جمع ہے۔ کبائر سے مراد وہ گناہ ہیں جن پر کتاب وسنت میں سزا اور وعید وارد ہو یا ہر گناہ اپنے ماتحت کے اعتبار سے کبیرہ ہے اور بعض نے کہا ہے کہ کبائر سے یہاں انواع کفر وشرک مراد ہیں۔ حملوا قولہ تعالیٰ کَبَائِرَ مَاتُنْھَوْنَ عَنْہُ علی انواع الشرک والکفر (بحر ج 3 ص 233) ۔ یعنی اگر تم کفر و شرک کی تمام انواع سے اجتناب کرو گے تو باقی گناہ اللہ تعالیٰ جسے چاہے گا معاف کر دے گا مگر شرک معاف نہیں ہوگا۔
Read the full tafseer →گزشتہ درس میں محرمات نکاح کا بیان ہوچکا ہے اس کے بعد اموال اور نفوس کے متعلق ارشاد ہوا کہ ایک دوسرے کے مال میں ناجائز تصرف مت کرو اور نہ ہی کسی کی جان تلف کرو۔ ہی بھی حرام ہے جو شخص تعدی اور ظلم کا ارتکاب کرے گا ، اللہ تعالیٰ اسے جہنم میں داخل کرے گا۔ ایسا شخص مجرم تصور ہو کر سزا کا مستحق ٹھہرے گا۔ ان دونوں چیزوں یعنی مال وجن میں ناجائز تصرف کبیرہ گناہ میں شمار ہوتا ہے۔ اسی نسبت سے اللہ تعالیٰ نے آج کے درس کی آیت میں بڑے بڑے گناہوں کا تذکرہ فرمایا ہے کہ جو شخص بڑے گناہوں سے بچتا رہے گا۔ اس کے چھوٹے چھوٹے گناہ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے خود ہی معاف فرماتا رے گا اور جنت کے باعزت مقام میں داخل کرے…
Read the full tafseer →اِنْ تَجْتَنِبُوْا كَبَاۗىِٕرَ مَا تُنْہَوْنَ عَنْہُ نُكَفِّرْ عَنْكُمْ سَـيِّاٰتِكُمْ وَنُدْخِلْكُمْ مُّدْخَلًا كَرِيْمًا 31
اجتناب
ورجل جَنِبٌ وجَانِبٌ. قال عزّ وجل : إِنْ تَجْتَنِبُوا كَبائِرَ ما تُنْهَوْنَ عَنْهُ
[ النساء/ 31] ، وقال عزّ وجل : وَاجْتَنِبُوا قَوْلَ الزُّورِ [ الحج/ 30] ، واجْتَنِبُوا الطَّاغُوتَ [ الزمر/ 17] عبارة عن تركهم إياه، فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ [ المائدة/ 90] ، وذلک أبلغ من قولهم : اترکوه . قال تعالیٰ في النار : وَسَيُجَنَّبُهَا الْأَتْقَى الَّذِي يُؤْتِي مالَهُ يَتَزَكَّى [ اللیل/ 17- 18] ، وذلک إذا أطلق فقیل : جنب فلان فمعناه : أبعد عن الخیر،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–32
ترکیب : مابمعنی الذی یا نکرہ موصوفہ اور عائد۔ بہ میں ضمیر ہے بعضکم مفعول ہے ‘ فضل کا ‘ نصیب مبتداء للرجال خبر مقدم مما کامن نصیب سے متعلق ہے۔ ولکل کا مضاف الیہ محذوف ای لکل احد ‘ جعل کا مفعول اول موالی جمع مولی ہے اور ثانی لکل ای جعلنا وارثا لکل احد مما ترک یا تو مال محذوف کی صفت ہے ای من مال ترک الوالدان یا متعلق ہے یرثون محذوف سے۔ والذین عقدت الخ مبتداء فاتوھم خبر جملہ کا عطف کلام سابق پر ہے۔
: احکام کے بعد معاملات جو برے نتائج پیدا ہوجاتے ہیں دغا فریب سے مال اور کسی کی بیوی پر دست تطاول دراز کرنا جس کا آخری نتیجہ مارپیٹ اور آخر قتل تک نوبت پہنچتی ہے اس انجام کی خرابی جتا کر ان آیات میں کن…
Read the full tafseer →اِنْ تَجْتَنِبُوْا کَبَـآئِرَ مَاتُنْھَوْنَ عَنْہُ نُـکَفِّرْ عَنْکُمْ سَیِّاٰتِکُمْ وَنُدْخِلْـکُمْ مُّدْخَلًا کَرِیْمًا
(اگر تم بچتے رہو ان بڑے بڑے گناہوں سے جن سے تم روکے جارہے ہو تو ہم تم سے تمہاری چھوٹی برائیاں جھاڑ دیں گے اور تم کو عزت کے مقام میں داخل کریں گے) (النسآء : 31)
کبائر اور صغائر کا مفہوم
اللہ تعالیٰ ہمارا معبودِ برحق اور حاکم حقیقی ہے وہی ہماری آنکھوں کی روشنی اور دلوں کے سکون کا باعث ہے۔ ہم ہرحال میں اس کے احکام کے پابند ہیں اور اس کی رضا کا حصول ہماری منزل ہے۔ ہماری حیثیت اس کے سامنے ایک بندئہ محض کی ہے جسے صرف بندگی زیب دیتی ہے۔ وہ اپنی حیثیت کے حوالے سے اپنے آقا کی کسی…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : رشتوں کی حرمت کو پامال کرنا اور حرام کھانا کبیرہ گناہوں میں شامل ہے۔ جو کبیرہ گناہوں سے بچے گا اس کے لیے چھوٹے گناہوں سے بچاؤ آسان ہوجاتا ہے۔ اگر چھوٹے گناہ بتقاضائے بشریت سرزد ہوجائیں تو اللہ تعالیٰ یقیناً معاف فرما دیں گے۔
رب کریم نے اس فرمان میں مومنوں کو ایک تسلی اور اطمینان دلایا ہے کہ اگر تم بڑے اور سنگین نوعیت کے گناہوں سے اجتناب کرو تو تمہارے چھوٹے چھوٹے گناہ ہم اپنے کرم سے از خود ہی معاف فرما دیں گے۔ اس فرمان کی تفسیر رسول معظم ﷺ نے یوں فرمائی مسلمان جب وضو کرتا ہے تو اس کے ہاتھوں کے گناہ دھل جاتے ہیں۔ جب کلی کرتا ہے تو زبان کے، منہ دھوتا ہے تو آنکھوں، کان اور…
Read the full tafseer →آیت 31 : اِنْ تَجْتَنِبُوْا کَبَآپرَ مَا تُنْہَوْنَ عَنْہُ نُکَفِّرْ عَنْکُمْ سَیِّاٰتِکُمْ (اگر تم ان بڑے گناہوں سے پرہیز کرو جن سے روکا گیا ہے۔ تو ہم تمہاری چھوٹی غلطیاں مٹا دیں گے) حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے مروی ہے۔ الکبائر۔ بڑے گناہ وہ ہیں جن سے اللہ تعالیٰ نے سورة نساء میں ابتداء سے ان تجتنبوا کبائر ما تنہون عنہ تک بیان کیا۔
کبائر تین ہیں :
اور حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں۔ کبائر تین ہیں۔ نمبر 1۔ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک کرنا۔ نمبر 2۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے ناامید ہونا۔ نمبر 3۔ اللہ تعالیٰ کی تدبیر سے بےخوف ہوجانا۔
ایک تفسیر اس کی کفر کی اقسام ہیں۔ اس کی دلیل حضرت عبداللہ بن مسعود…
Read the full tafseer →(کبیرہ گناہوں اور ان کے مراتب کا بیان)
31۔ (آیت)” ان تجتنبوا کبائر ماتنھون عنہ “۔ ان کبائر کے متعلق آئمہ مفسرین (رح) کا اختلاف ہے کہ کون سے کبائر گناہ ہیں جن کو صغائر کی معافی کے لیے شرط اجتناب ضروری قرار دیا ہے، اس آیت میں وہی کبائر ہیں کہ ان کبائر سے بچو گے تو صغائر معاف ہوں گے ،
حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ کبیرہ گناہ یہ ہیں : اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا، والدین کی نافرمانی کرنا ، جان کو قتل کرنا ، اور جھوٹی قسم کھانا، حضرت عبدالرحمن بن ابی بکرہ ؓ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ میں تمہیں کبیرہ گناہوں کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–31
(29 ۔ 31) ۔ جب تک آدمی مجرور رہتا ہے تو اس کو لفظ اپنی ذات کے ہی خرچ اخراجات کی ضرورت پڑتی ہے۔ پھر جب شادی۔ بیاہ ہو کر بی بی کا اور بال بچے ہو کر ان کا خرچ اس کے ذمے پڑجاتا ہے تو کسی نہ کسی حیلہ سے اس کو کمائی کا خیال ہوتا ہے۔ اسی مناسبت کے سبب سے نکاح کے احکام کے بعد ان آیتوں میں انسان کی کمائی کا ذکر فرمایا باطل ناحق کو کہتے ہیں۔ سود۔ چوری۔ خیانت وغیرہ یہ سب مال کے ناحق کے طور پر کمانے کے طریقے ہیں اور ان میں ہر ایک طریقہ کی ممانعت کی جدا جدا بڑی تفصیل سے شریعت میں احکام ہیں۔ ناحق طور پر کمائی کے طریقوں کے ذکر کے بعد جائز اور حق طور پر کمائی کے طریقہ خریدو فر وخت کو مستثنیٰ فرما کر ذکر…
Read the full tafseer →آیت 31
اللہ تبارک و تعالیٰ نے اہل ایمان سے وعدہ فرمایا ہے کہ اگر وہ بڑے بڑے گناہوں سے اجتناب کریں گے تو وہ ان کے تمام گناہ اور برائیاں بخش دے گا اور انہیں اچھا ٹھکانا عطا کرے گا جہاں خیر کثیر ہوگا اور وہ ہے جنت جو ایسی نعمتوں پر مشتمل ہے جو کسی آنکھ نے کبھی دیکھیں نہ کسی کان نے سنیں اور نہ کسی بشر کے حاشیہ خیال میں ان کا گزر ہوا ہے۔ بڑے بڑے گناہوں سے اجتناب میں ان فرئاض کا بجا لانا بھی شامل ہے جن کو ترک کرنے والا گناہ کبیرہ کا مرتکب ہوتا ہے۔ نماز پنجگانہ، نماز جمعہ اور رمضان کے روزے رکھنا وغیرہ۔ جیسا کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا ” نماز پنجگانہ، اور جمعہ سے جمعہ اور رمضان سے رمضان کے مابین جو گناہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
قول باری ہے (ومن یفعل ذالک عدوانا و ظلما فسوف نسلیہ نارا، جو شخص ظلم اور زیادتی کی بنا پر ایسا کرے گا اسے ہم ضرور آگ میں جھونکیں گے) اس وعید میں روئے سخن کس طرف ہے اس کے متعلق کئی اقوال بیان کیئے گئے ہیں ایک یہ کہ اس کا مرجع باطل طریقے سے مال کھانے نیز ناحق کسی کی جان لینے کے گھناؤنے افعال کی طرف ہے۔ اس لیے جو شخص بھی ان میں سے کسی کا ایک فعل کا مرتکب ہوگا وہ اس وعید کا سزا وار قرار پائے گا۔
عطاء کا قول ہے کہ اس وعید کا تعلق صرف ناحق کسی کی جان لینے کے فعل سے ہے ۔ ایک قول ہے کہ اس کا مرجع ہر وہ فعل ہے جس کی سورت کی ابتدائی سے یہاں تک ممانعت کردی گئی ہے۔
ایک اور قول ہے کہ اس وعید کا تعلق قوری…
Read the full tafseer →74 گناہوں کی معافی کیلئے ایک عظیم الشان ضابطہ و اصول : کہ کبیرہ گناہوں سے تم بچتے رہو صغیرہ ہم معاف کردیں گے۔ اور یہ اس لیے کہ نیکیاں صغیرہ گناہوں کو مٹا دیتی ہیں، جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا { اِنَّ الْحَسَنَات یُذْہِبْنَ السَّیِّاٰتِ } الآیۃ (ھود : 1 14) اور حدیث شریف میں وارد ہے کہ " ایک نماز دوسری نماز تک، ایک جمعہ دوسرے جمعے تک، اور ایک رمضان دوسرے رمضان تک، درمیانی مدت کیلئے کفارہ ہیں، جبکہ انسان صغیرہ گناہوں سے بچتا رہے "۔ سو اس آیت کریمہ سے اس صحیح اور عظیم الشان طریقے کی نشاندہی فرمائی گئی ہے، جو عقل و فطرت کے تقاضوں کے عین مطابق ہے، کہ کبیرہ گناہوں سے تم بچتے رہو، صغیرہ…
Read the full tafseer →بڑے گناہوں سے بچو
تشریح : سورة النساء کی ابتداء ہی میں تمام انسانوں کو بتا دیا گیا کہ تم حضرت آدم (علیہ السلام) اور حضرت حوا (علیہا السلام) کی اولاد ہو، اس لیے ایک دوسرے کے حقوق کا خیال اسی جذبہ اور خلوص سے رکھو جس طرح بھائی بہن کا خیال رکھا جاتا ہے، پھر کچھ تفصیلات بیان کی گئیں اور خیال رکھنے کے لیے قانون بتا دیئے گئے کہ انسانوں کو تکلیف نہ ہو، اس میں یتیموں، عورتوں، میراث (میت کا چھوڑا ہوا مال، ) رشتہ داروں کے حقوق بتائے گئے، پھر نکاح، مہر، وصیت، قرض، اللہ کی حدود، سزا، توبہ، مجرموں سے سلوک، ماؤں کا احترام، لونڈیوں کے مسائل، جان و مال کی حفاظت کے مسائل غرض زندگی کے بیشمار اصول بتا دیئے گئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–31
آیت نمبر 29 تا 30:۔ یا ایھا الذین امنوا لاتاکلوا۔۔ ۔ فندخلکم مدخلا کریما۔
مال حرام کا کاروبار :
کمالاتِ روحانی اور تجلیات باری سے اس خاکی وجود کو منور کرنے کے لیے ضروری ہے کہ اس میں حرام کی آمیزش نہ کی جائے جس عمارت پر کیچڑ تھوپ دیا جائے اس میں تو وہ چمک دمک اور خوبصورتی پیدا نہیں ہوسکتی جس کی تم امید رکھتے ہو سو۔ اموالکم۔ فرما کر یہ اشارہ فرمایا کہ سب مسلمانوں کے مال تمہارے اپنے مال ہیں سو اپنے مال کی حفاظت کی جانی چاہئے نہ کہ اسے ضائع کیا جائے پھر حرام کا لقمہ پیٹ میں حل ہو کر اعضاء وجوارح کی قوت بنتا ہے ہاتھ پاؤں آنکھ زبان دماغ اور دل تک سب اس سے متاثر ہوتے ہیں جب یہاں سب حرام جمع ہوجائے…
Read the full tafseer →ف 10 یعنی اگر تم کبا ئر سے اجتناب کرتے رہو گے تو صغیرہ گناہ تمہارے تمہارے نیک اعمال کی وجہ سے ہم معاف کردیں گے بعض روایات کبائر کا شمار بھی آیا ہے مثلا اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا کسی جان کو ناحق قتل کرنا قمار بازی شراب خوای پاک دامن عورتوں پر تہمت لگانا وغیرہ مگر ان کی کوئی تہدید نہیں ہے اس لیے حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ من اسبع الی السبعین بل الی سبعما ئتہ (رازی) اور روایات میں ہے کہ اصرار کے ساتھ کوئی گناہ صغیرہ نہیں ہے اور تو بہ کے بعد کوئی کبیرہ نہیں ہے۔ (قرطبی کبیر)11 یعنی بہشت میں ( وحیدی)
Read the full tafseer →(4ـ31) تجتنبوا۔ اجتناب (افتعال) سے اگر تم بچتے رہو گے۔ اجتناب کرو گے۔ مضارع جمع مذکر حاضر۔ اصل میں تجتنبون تھا۔ ان جازم فعل کی وجہ سے نون اعرابی گرگیا۔
نکفرعنکم۔ نکفر۔ جمع متکلم مضارع جواب شرط کی وجہ سے مجزوم ہے۔ ہم دور کردیں گے۔ تکفیر۔ مصدر بروزن تفعیل۔
مدخلا۔ داخل ہونے کی جگہ۔ اسم ظرف مکان۔ مدخلا۔ مصدر بھی ہے (باب افعال) پہلی صورت میں ترجمہ ہوگا۔ ہم تمہیں عزت کی جگہ میں داخل کریں گے۔ (یعنی جنت میں) دوسری صورت میں۔ ہم تمہیں عزت کے ساتھ (جنت میں) داخل کریں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–31
آیت نمبر 29-31
لغات القرآن : تراض، آپس کی رضا مندی۔ عدوان، زیادتی۔ نصلیہ، ہم ڈالیں گے اس کو ۔ یسیر، آسان۔ تجتنبوا، تم بچ گئے۔ کبائر، بڑے گناہ۔ تنھون، تمہیں منع کیا گیا ہے۔ نکفر، ہم دور کریں گے۔ مدخلا کریما، عزت و احترام کا موام۔
تشریح : مومنوں سے خطان ہے کہ تم مومن یا غیر مومن کسی کا بھی مال ناجائز طریقہ سے مت کھاؤ۔ رشوت، ظلم، دھوکا، چوری، ڈاکہ، بلیک، اسمگلنگ، جھوٹ، ناجائز، خریدوفروخت، اجارہ داری، سود خوری، حق مارنا، چیز خراب کرنا، قرض ادا نہ کرنا، خیانت، وعدہ خلافی، کم تولنا، مال کا عیب ظاہر کئے بغیر بیچ دینا، دکھانا کچھ دینا کچھ، وغیرہ وغیرہ یہ سب ناجائز طریقے ہیں جن کا ان دونوں عر ب میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–31
ان آیتوں میں انسان کی کمائی کا ذکر فرمایا کہ سود ، چوری خیانت وغیرہ یہ سب مال کے ناحق طور پر کمانے کے طریقے ہیں اور ان میں ہر ایک طریقہ کی جدا جدا ممانعت کی بڑی تفصیل سے شریعت کے احکام ہیں۔ اس کے بعد جائز اور حق طور پر کمائی کے طریقے خریدو فروخت کو مستثنیٰ فرما کر ذکر فرمایا خریدو فروخت کی بہت سی مختلف صورتیں ہیں، ہر ایک صورت کا شریعت میں جدا جدا حکم ہے جو فرمایا : نہ خون کرو آپس میں اس کا ایک مطلب یہ ہے کہ لوگوں کا مال ناحق کھا کر اپنی جاں ہلاکت میں نہ ڈالو۔ اللہ کا تم پر رحم ہے ۔ کا یہ مطلب ہے کہ پچھلی امتوں کی توبہ ان کا قتل کرنا قرار پائی تھی اور تم پر ایسا سخت حکم نازل نہیں کیا جاتا۔ اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–32
[27] ہر وہ فعل گناہ کبیرہ ہے جسے کتاب و سنت کی کسی نصح صریح نے حرام قرار دیا ہو یا اس کے لئے اللہ اور اس کے رسول نے دنیا میں کوئی سزا مقرر کی ہو، یا اس پر آخرت میں عذاب کی وعید سنائی ہو، یا اس کے مرتکب پر لعنت کی ہو یا اس کے مرتکبین پر نزول عذاب کی خبر دی ہو۔ اس نوعیت کے گناہوں کے سوا جتنے افعال شریعت کی نگاہ میں ناپسندیدہ ہیں وہ گناہ صغیرہ ہیں۔ البتہ گناہ صغیرہ اس حالت میں کبیرہ ہوجاتا ہے جب
وہ اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں تکبر کے جذبے سے کیا جائے اور اس کا مرتکب اس شریعت کو کسی اعتنا کے لائق نہ سمجھے جسے اس نے ایک برائی قرار دیا ہے۔
Read the full tafseer →اسلامی کفارہ :
(ف 1) مذہب کا مقصد یہ ہے کہ گناہگار انسان کو خدا کی بادشاہت تک کامیابی کے ساتھ پہنچا دے اور اس میں ایسی قابلیت اور استعداد پیدا کر دے کہ وہ خدا کی بخشش بیحد کا مستحق ٹھہرے ، قرآن حکیم ایک ایسے ہی مسلک کی طرف بلاتا ہے جو بالکل فطری اور معقول ہے اور جس پر چلنے کے بعد لامحالہ انسان میں ” نجات “ کی صلاحیت پیدا ہوجاتی ہے ، چناچہ وہ کہتا ہے کبائر سے بچنے کی کوشش کرو ، یہ طے کرلو کہ موٹے موٹے اور عام سمجھ میں آجانے والے گناہ ہم سے سرزد نہیں ہوں گے ، نتیجہ یہ ہوگا کہ طبیعت میں پرہیزواتقاء کے جذبات پیدا ہونے لگیں گے اور انسان باقاعدہ اور باضابطہ طور پر گناہوں سے نفرت کرنے لگے گا اور اسے…
Read the full tafseer →ف 2 جن کاموں سے تم کو منع کیا جارہا ہے اور جن اعمال و افعال سے بچنے کا تم کو حکم دیا جارہا ہے یعنی جن گناہوں کے ارتکاب سے تم کو روکا جاتا ہے ان میں جو بڑے بڑے گناہ ہیں اگر تم ان سے اجتناب کرو اور کبیرہ گناہوں سے بچتے رہو تو ہم تمہارے صغیرہ گناہ اور چھوٹی چھوٹی خطائیں اپنے قاعدے کے مطابق معاف کردیں گے اور تم سے ان خطائوں کو دور کریں گے اور تم کو ایک معزز جگہ اور باعزت مقام میں داخل کریں گے یعنی جنت میں داخل کردیں گے۔ (تیسیر)
ہم نے عرض کیا تھا کہ اوپر کی آیت میں قتل نفس پر غیر مباح طریقوں سے مال کھانے پر اور نیز دوسرے جرائم پر دوزخ کی وعید فرمائی تھی۔ اب اس آیت میں کبائر سے بچنے پر صغائر کی…
Read the full tafseer →ف 5۔ گناہ کبیرہ کی تعریف میں بہت اقوال ہیں جامعہ تر قول وہ ہے جس کو روح المعانی میں شیخ الاسلام بارزی سے نقل کیا ہے کہ جس گناہ پر کوئی وعید ہو یا حد ہو یا اس پر لعنت آئی ہو یا اس میں مفسدہ کسی ایسے گناہ کے برابر یا زیادہ ہو جس پر وعید یا حد یا لعنت آئی ہو یا وہ براہ تہاون فی الدین صادر ہو وہ کبیرہ ہے اور اس کا مقابل صغیرہ ہے اور حدیثوں میں جو عددوارد ہے اس سے مقصود حصر نہیں بلکہ مقتضائے وقت ان ہی کا ذکر ہوگا۔
Read the full tafseer →کبائر سے بچنے والوں کے صغائر کی معافی کا اعلان عام :
67: کبائر کبیرۃ کی جمع ہے جس کے معنی ہیں بڑا۔ اس جگہ کبائر سے مراد وہ گناہ ہیں جن کی عقوبت بڑی ہو۔ جس طرح نیکیاں بڑی اور چھوٹی ہوتی ہیں بالکل اسی طرح برائیاں بھی چھوٹی اور بڑی ہوتی ہیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ نیکیوں اور برائیوں کی بڑائی اور چھٹائی کے ناپنے کے لئے کوئی پیمانہ ہے تو وہ صرف اور صرف ان نتائج و اثرات ہیں اس لئے ان کے سمجھنے کے لئے عقل کی راہنمائی کافی ہے۔ وہ خود فیصلہ کرتی جاتی ہے کہ یہ گناہ کتنا بڑا گناہ اور یہ نیکی کتنی بڑی نیکی ہے۔ پھر حالات اور واقعات کے مطابق نیکی اور برائی کا معیار کم اور زیادہ بھی ہوتا رہتا ہے۔ لیکن اکثر اس یا…
Read the full tafseer →Righteous Deeds: Kaffarah کَفَارَہ of Minor Sins
Kaffarah is what makes amends, expiation. So the meaning is that righteous deeds will be taken as Kaffarah for minor sins which will thus be written off, resulting in reward instead of punishment and Paradise instead of Hell. This is in accordance with authentic ahadith where it has been stated that when a person makes wudu for salah, the act of washing each part of his body becomes the Kaffarah for sins; the washing of the face becomes the Kaffarah for sins committed by the eye, the ear, the nose; gargling becomes the Kaffarah for the sins of…
Read the full tafseer →53. God is not overly exacting and severe in His judgements. He is not on the look out for trivial omissions and lapses on the part of His creatures in order to punish them. God is prepared to condone minor omissions, and may even spare a man from being presented with a charge-sheet provided his record is free of major sins. But if a man's record is full of major transgressions, he will be required to explain all the sins he has committed - both major and minor.
We need at this stage to grasp the essential differences between major and minor sins. After reflecting on this question, in the…
Read the full tafseer →