An-Nisaa 4:30

An-Nisaa · from ayah 30

4:30

وَمَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِكَ عُدْوَانًا وَّظُلْمًا فَسَوْفَ نُصْلِیْهِ نَارًا ؕ— وَكَانَ ذٰلِكَ عَلَی اللّٰهِ یَسِیْرًا ۟وَمَنۡ يَّفۡعَلۡ ذٰ لِكَ عُدۡوَانًا وَّظُلۡمًا فَسَوۡفَ نُصۡلِيۡهِ نَارًا‌ ؕ وَكَانَ ذٰ لِكَ عَلَى اللّٰهِ يَسِيۡرًا‏

اور جو تعدی اور ظلم سے ایسا کرے گا ہم اس کو عنقریب جہنم میں داخل کریں گے اور یہ خدا کو آسان ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And whoever does that in aggression and injustice - then We will drive him into a Fire. And that, for Allah, is [always] easy.

— Saheeh International

Juz 5 · Ruku 5 of surah · Ruku 2 of juz

Read the whole surah · Surah An-Nisaa

All translations of 4:30

جو شخص ظلم و زیادتی کے ساتھ ایسا کرے گا اُس کو ہم ضرور آگ میں جھونکیں گے اور یہ اللہ کے لیے کوئی مشکل کام نہیں ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور جو تعدی اور ظلم سے ایسا کرے گا ہم اس کو عنقریب جہنم میں داخل کریں گے اور یہ خدا کو آسان ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور جو شخص یہ (نافرمانیاں) سرکشی اور ﻇلم سے کرے گا تو عنقریب ہم اس کو آگ میں داخل کریں گے اور یہ اللہ پرآسان ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور جو شخص زیادتی اور ظلم کے طور پر ایسا کرے گا، تو ہم اس کو آگ میں داخل کریں گے، اور یہ بات اللہ کے لیے بالکل آسان ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور جو ظلم و زیادتی سے ایسا کرے گا تو عنقریب ہم اسے آگ میں داخل کریں گے اور یہ اللہ کو آسان ہے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور جو کوئی تعدی اور ظلم سے ایسا کرے گا تو ہم عنقریب اسے (دوزخ کی) آگ میں ڈال دیں گے، اور یہ اللہ پر بالکل آسان ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور جو زیادتی اور ظلم سے ایسا کرے گا تو عنقریب ہم اسے آگ میں جھونکیں گے اور یہ اللہ پر ہمیشہ سے بہت آسان ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور جو شخص ازراہ ظلم و زیادتی ایسے کام کرے گا ہم جلد ہی اسے دوزخ میں ڈال دیں گے اور اللہ کے لیے یہ کوئی مشکل کام نہیں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور جو لوگ تعدی اور ظلم کی راہ سے ایسا کریں گے ہم ان کو جلد ایک سخت آگ میں جھونک دیں گے اور یہ اللہ کے لیے آسان ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور جو کوئی ایسا کرے گا زیادتی اور ظلم کے ساتھ، تو ہم اس کو جھونک دیں گے ایک بڑی ہی ہولناک آگ میں، اور ایسا کرنا اللہ کے لئے کچھ مشکل نہیں،

— مولانا اسحاق مدنی

اور جو کوئی ایسا کرے گا سرکشی اور ظلم کی راہ سے تو ہم عنقریب اس کو آگ میں ڈالیں گے اور یہ اللہ کے لئے آسان ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور جو کوئی بھی یہ کام کرے گا تعدی اور ظلم کے ساتھ تو ہم جلد اس کو جھونک دیں گے آگ میں اور یہ چیز اللہ پر بہت آسان ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

جو شخص ظلم و زیادتی کے ساتھ ایسا کرے گا اس کو ہم ضرور آگ میں جھونکیں گے اور یہ اللہ پر (نہایت) آسان ہے

— محترمہ رفعت اعجاز

And whoever does this by way of transgression and injustice him shall We surely cast into the Fire; that indeed is quite easy for Allah.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Whoever does that out of aggression and injustice, We shall cast him into the Fire. This is an easy thing for Allah.

— Muhammad Taqi Usmani

Whoever does that out of aggression and injustice, We shall cast him into the Fire. This is an easy thing for Allah.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And whoever commits that through aggression and injustice, We shall cast him into the Fire, and that is easy for Allah.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Whoso doeth that through aggression and injustice, we shall cast him into Fire, and that is ever easy for Allah.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And whoever does that in aggression and injustice - then We will drive him into a Fire. And that, for Allah, is [always] easy.

— Saheeh International

Whoever commits murder out of animosity and injustice will be burnt in hell fire. This is a very easy thing for God to do.

— Muhammad Sarwar

And whoever does this aggressively and unjustly, We will soon cast him into fire; and this is easy to Allah.

— Muhammad Habib Shakir

And whosoever doth that in transgression- and wrong, presently We shall roast him in Fire; and with Allah that is ever easy.

— Abdul Majid Daryabadi

If any do that in rancour and injustice,- soon shall We cast them into the Fire: And easy it is for Allah.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 4:30

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 29–31

خریدو فروخت اور اسلامی قواعد و ضوابط ؟ اللہ تعالیٰ اپنے ایماندار بندوں کو ایک دوسرے کے مال باطل کے ساتھ کھانے کی ممانعت فرما رہا ہے خواہ اس کمائی کی ذریعہ سے ہو جو شرعاً حرام ہے جیسے سود خواری قمار بازی اور ایسے ہی ہر طرح کی حیلہ سازی چاہے اسے جواز کی شرعی صورت دے دی ہو اللہ کو خوب معلوم ہے کہ اصل حقیقت کیا ہے، حضرت ابن عباس سے سوال ہوتا ہے کہ ایک شخص کپڑا خریدتا ہے اور کہتا ہے اگر مجھے پسند آیا تو تو رکھ لوں گا ورنہ کپڑا اور ایک درہم واپس کر دونگا آپ نے اس آیت کی تلاوت کردی یعنی اسے باطل مال میں شامل کیا۔ حضرت عبداللہ فرماتے ہیں یہ آیت محکم ہے یعنی منسوخ نہیں نہ قیامت تک منسوخ ہوسکتی ہے، آپ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 29–30

سورة النِّسَآء 50 ”باطل طریقوں“ سے مراد وہ تمام طریقے ہیں جو خلاف حق ہوں اور شرعاً و اخلاقاً ناجائز ہوں۔ ”لین دین“ سے مراد یہ ہے کہ آپس میں مفاد و منافع کا تبادلہ ہونا چاہیے جس طرح تجارت اور صنعت و حرفت وغیرہ میں ہوتا ہے کہ ایک شخص دوسرے شخص کی ضروریات فراہم کرنے کے لیے محنت کرتا ہے اور وہ اس کا معاوضہ دیتا ہے۔ ”آپس کی رضامندی“ سے مراد یہ ہے کہ لین دین نہ تو کسی ناجائز دباؤ سے ہو اور نہ فریب و دغا سے۔ رشوت اور سود میں بظاہر رضامندی ہوتی ہے مگر درحقیقت جوے میں حصہ لینے والا ہر شخص اس غلط امید پر رضا مند ہوتا ہے کہ جیت اس کی ہوگی۔ ہارنے کے ارادے سے کوئی بھی راضی نہیں ہوتا۔ جعل اور فریب کے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

اس کے بعد دوسری آیت میں ارشاد فرمایاومن یفعل ذلک عدوانا ظلماً فسوف نصلیہ ناراً یعنی قرآنی ہدایت کے باوجود اگر کوئی شخص اس کی خلاف ورزی کرے اور جان بوجھ کر تعددی اور ظلم کی راہ سے کسی مال ناحق لے لے یا کسی کو ناحق قتل کر دے تو ہم عنقریب اس کو جہنم میں داخل کریں گے ........ تعدی اور ظلم کی قید سے معلوم ہوا کہ اگر سہو و نسیان یا خطا سے ایسا ہوگیا تو وہ اس وعید میں داخل نہیں۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

وَمَنْ يَّفْعَلْ ذٰلِكَ عُدْوَانًا وَّظُلْمًا فَسَوْفَ نُصْلِيْهِ نَارًا ۭوَكَانَ ذٰلِكَ عَلَي اللّٰهِ يَسِيْرًا۔ ذٰلِکَ کا اشارہ ان دونوں ہی چیزوں کی طرف ہے جن کا ذکر سابقہ آیت میں ہوا ہے۔ ’ عدوان ‘ اور ’ ظلم ‘ کا خاص مفہوم : ’ عدوان ‘ اور ’ ظلم ‘ کے الفاظ جب ایک ساتھ آئیں تو جیسا کہ ہم دوسرے مقام میں لکھ چکے ہیں، یہ گناہ کی دو الگ الگ صورتوں پر دلالت کرتے ہیں۔ ایک صورت تو یہ ہے کہ کوئی شخص زور و زبردستی سے دوسرے کے جان یا مال پر دست درازی کرے، دوسری شکل یہ ہے کہ کوئی شخص دھاندلی سے کسی کا حق واجب ادا نہ کرے بلکہ اس کو دبا بیٹھے۔ پہلی صورت عدوان کی ہے دوسری ظلم کی۔ اگر یہ الگ الگ آئیں تو ایک…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 29–30

25: اس کا سادہ مطلب تو یہ ہے کہ جس طرح دوسرے کا مال ناحق طریقے سے کھانا حرام ہے کسی کی جان لینا اس سے زیادہ حرام ہے، دوسرے کی جان لینے کو اپنے آپ کو قتل کرنے سے تعبیر کرکے اس طرف بھی اشارہ ہوگیا کہ دوسرے کو قتل کرنا بالآخر اپنے آپ ہی کو قتل کرنا ہے ؛ کیونکہ اس کے بدلے میں خود قاتل قتل ہوسکتا ہے، اور اگر یہاں قتل نہ بھی ہو تو آخرت میں اس کی جو سزا ملنی ہے وہ موت سے بھی بدتر ہوگی، اس طرح اس تعبیر سے خود کشی کی ممانعت بھی واضح ہوگئی، دوسرے کسی کا مال ناحق کھانے کے ساتھ یہ جملہ لانے سے اس طرف بھی اشارہ ممکن ہے کہ جب ناحق مال کھانے کا رواج معاشرے میں عام ہوجائے تو اس کا نتیجہ اجتماعی خود کشی کی…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

(آیت) ” ومن یفعل ذلک عدوانا وظلما فسوف نصلیہ نارا وکان ذلک علی اللہ یسیرا “۔ (4 : 30) ” ” جو شخص ظلم و زیادتی کے ساتھ ایسا کرے گا اس کو ہم ضرور آگ میں جھونکیں گے اور یہ اللہ کے لئے کوئی مشکل کام نہیں ہے ۔ “ اسلامی نظام حیات نفس انسانی کو اس کے ایک وسیع دائرے تک لے جاتا ہے یعنی دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی دونوں جہانوں کو پیش نظر رکھ کر اس کے لئے ضابطہ بندی کی جاتی ہے اور اسے ہدایات دی جاتی ہیں ۔ نفس انسانی کے اندر ایک بیدار اور محتاط چوکیدار بٹھایا جاتا ہے جو ہر ہدایت کو بسروچشم قبول کرتا ہے اور ہر اسلامی قانون کو بطیب خاطر نافذ کرتا ہے ۔ پھر اسلامی سوسائٹی میں بھی ہر شخص کو دوسرے کے لئے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

7 یعنی اور جو کوئی ظلم اور زیادتی سے باز نہ آئے بلکہ ناحق اوروں کا مال کھائے یا ظلماً کسی کو قتل کر ڈالے تو اسکا ٹھکانا دوزخ ہے اور ایسے ظالموں کو آگ میں ڈال دینا خدا تعالیٰ کو دشوار نہیں بالکل سہل اور آسان ہے تو اب کوئی یہ نہ سمجھ بیٹھے کہ ہم تو مسلمان ہیں دوزخ میں کیسے جاسکتے ہیں اللہ تعالیٰ مالک و مختار ہے اس کو عدل و انصاف سے کونسی چیز روک سکتی ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 30 وَمَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِکَ عُدْوَانًا وَّظُلْمًا یعنی یہ دونوں کام۔۔ باطل طریقے سے ایک دوسرے کا مال کھانا اور قتل نفس۔ فَسَوْفَ نُصْلِیْہِ نَارًا ط وَکَانَ ذٰلِکَ عَلَی اللّٰہِ یَسِیْرًا یہ مت سمجھنا کہ اللہ تعالیٰ نوع انسانی کے بہت بڑے حصے کو جہنم میں کیسے جھونک دے گا ؟ یہ اللہ کے لیے کوئی مشکل نہیں ہے۔ اگلی دو آیات میں انسانی تمدن کے دو بہت اہم مسائل بیان ہو رہے ہیں ‘ جو بڑے گہرے اور فلسفیانہ اہمیت کے حامل ہیں۔ پہلا مسئلہ گناہوں کے بارے میں ہے ‘ جن میں کبائر اور صغائر کی تقسیم ہے۔ بڑے گناہوں میں سب سے بڑا گناہ شرک اور پھر کفر ہے۔ پھر یہ کہ جو فرائض ہیں ان کا ترک کرنا اور جو حرام چیزیں…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

51 یہاں ایسے کام سے مراد وہ تمام اوامرو نواہی ہیں جن کا ذکر اس سورة کی ابتداء سے چلا آ رہا ہے۔ اور ازراہ ظلم و زیادتی سے مراد یہ ہے کہ جو شخص ازراہ معصیت وتکبر اللہ کے اوامرو نواہی کی پروا نہ کرے اور گناہوں کا ارتکاب کرتا جائے اس کی سزا دوزخ ہی ہوسکتی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

103 ۔ یہ وعید ان لوگوں کے لئے ہے جو احکام الہی کی خلاف ورزی اتفاقی طور پر یا بہ طور خطائے اختیاری کے نہیں بلکہ دیدہ و دانستہ کرتے رہتے ہیں۔ (آیت) ” ذلک “۔ ای مانھی عنہ (جلالین) یعنی ماسبق ذکرہ من المحرمات (معالم) (آیت) ” عدوانا “۔ یعنی حدود شرعی سے تجاوز کرتے ہوئے یا دوسروں پر ظلم کرتے ہوئے۔ قیل اراد بالعدوان تعدی علی الغیر (بیضاوی) العدوان تجاوز الحد (قرطبی) (آیت) ” ظلما “۔ یعنی اپنی جان پر ظلم کرتے ہوئے قیل اراد بالظلم ظلم النفس (بیضاوی) (آیت) ” کان ذلک علی اللہ یسیرا “۔ اللہ کی قوت کو یہ دیوتا پرست مشرک کہیں انسانوں یا دیوتاؤں کے محدود قوی پر قیاس نہ کریں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 29–30

یایّھا الذین امنوالا تاکلوا اموالکم بینکم با لباطل، اے ایمان والو اپنے آپس کے مال ناجائز طریقہ سے مت کھاؤ، باطل میں دھوکہ، فریب، جعلسازی، ملاوٹ کے علاوہ تمام کاروبار بھی شامل ہیں جن سے شریعت نے منع فرمایا ہے، جیسے قمار، رباوغیرہ اسی طرح ممنوع اور حرام چیزوں کا کاروبار کرنا بھی شامل ہے مثلاً بلا ضرورت فوٹوگرافی، ویڈیو، ٹیوی، وی سی آر، ویڈیوفلمیں اور فحش کیسٹیں وغیرہ ان کا بنانا، بیچنا، مرمت کرنا سب ناجائز ہے۔ اِلّاان تکون تجارة عن تراض منکم، دوسروں کا مال باہمی رضامندی سے کھایا جائے خواہ تجارت کی صورت میں ہو یا اور دیگر کسی طریقہ سے، سب معاش کے طریقوں میں تجارت چونکہ افضل طریقہ ہے اسی لئے بطور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ومن یفعل ذلک اور جو ایسا کرے گا (یعنی ناحق کسی کا مال کھائے گا یا ناحق کسی کو قتل کرے گا) عدوانا . قصداً دوسرے پر زیادتی کرنے کی وجہ سے وظلماً . اور اپنی جان پر ظلم کرنے کی وجہ سے۔ چونکہ کسی کا مال بغیر استحقاق کے کھانا اور کسی کو ناحق قتل کرنا موجب عذاب ہے اس لئے یہ فعل فی الحقیقت اپنے اوپر خود ظلم ہوگا۔ عدوان اور ظلم مصدر ہیں یا حال ہیں یا مفعول لہ۔ (ہم نے دونوں جگہ مفعول لہ کا ترجمہ کیا ہے) فسوف نصلیہ نارا تو ہم (آخرت میں) اس کو جہنم کی آگ میں داخل کریں گے۔ وکان ذلک علی اللہ یسیرا اور آگ میں داخل کرنا اللہ کے لئے سہل ہے۔ جو شخص غیر کے مال کو ناجائز طور پر کھانا اور کسی کو ناحق قتل کرنا…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 29–30

(29۔ 30) یعنی ظلم وغضب جھوٹی گواہی قسمیں کھا کر ایسا مت کرو۔ البتہ باہم رضا مندی کے ساتھ کوئی تجارتی معاملہ ہو اس میں بائع یا مشتری کوئی اعانت دے تو یہ اور بات ہے۔ اور ایک دوسرے کو ناحق مت قتل کرو اللہ تعالیٰ بڑا مہربان ہے کہ اس نے اس کام کو حرام کردیا اور جو شخص کسی کو ظلما قتل کرے یا اس کے مال کو حلال سمجھے تو ہم اسے آخرت میں جہنم میں داخل کریں گے اور یہ عذاب میں مبتلا کرنا اور جہنم میں داخل کرنا ہمارے لیے بہت آسان ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَمَنْ يَّفْعَلْ ذٰلِكَ۔۔ : ”ذلک“ کا اشارہ قتل نفس کی طرف بھی ہوسکتا ہے، دوسروں کا مال باطل طریقے سے کھانے کی طرف بھی اور سورت کی ابتدا سے یہاں تک جتنی چیزیں منع کی گئی ہیں ان سب کی طرف بھی۔ وَكَانَ ذٰلِكَ عَلَي اللّٰهِ يَسِيْرًا : یہ انداز بیان ڈانٹنے میں مبالغے پر دلالت کر رہا ہے۔ (رازی) موضح میں ہے : ”یعنی مغرور نہ ہوں کہ ہم مسلمان دوزخ میں کیوں کر جائیں گے ؟ اللہ تعالیٰ پر یہ آسان ہے۔“

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر : 30 ذلک کا ارشارہ قتل کی طرف ہے، کیونکہ وہ قریب مذکور ہے، یہ عطا کا قول ہے، بعض علماء نے فرمایا : اس کا اشارہ باطل کے ذریعے سے مال کھانے اور قتل نفس کی طرف ہے، کیونکہ ان دونوں کے متعلق نہی متواتر آئی ہے پھر نہی کے مطابق وعید وارد ہوئی ہے، بعض علماء نے فرمایا : اس سورت کے آغاز سے جن چیزوں سے منع کیا گیا ہے ان تمام کی طرف یہ اشارہ ہے، طبری نے کہا : (آیت) ” ذلک کا اشارہ ان چیزوں کو شامل ہے جو آخری وعید کے بعد منع کی گئی ہیں اور وہ یہ ارشاد ہے : (آیت) ” یایھا الذین امنوا لا یحل لکم ان ترثوا النسآء کرھا “۔ کیونکہ سورت کے آغاز میں جن چیزوں سے منع کیا گیا ہے ان کے ساتھ وعید متصل ہے مگر…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 29–30

(1) ابن ابی حاتم والطبرانی نے (صحیح سند کے ساتھ) ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ (یہ آیت) لفظ آیت ” یایھا الذین امنوا لا تاکلوا اموالکم بینکم بالباطل “ محکم ہے منسوخ نہیں کی گئی اور نہ قیامت کے دن تک منسوک ہوگی۔ (2) ابن جریر وابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ ان کا کھانا اپنے مالوں کا آپس میں باطل طریقے سے یہ ہے (جیسے) زنا کرنا، جوا کھیلنا، ناپ تول میں کمی کرنا اور ظلم کرنا (پھر فرمایا) ” الا ان تکون تجارۃ “ مگر تجارت کی صورت میں بڑھا لو۔ ایک درہم کو ہزار اگر طاقت رکھتے ہو۔ (3) ابن جریر نے عکرمہ اور حسن (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ آدمی اس بات میں حرج محسوس…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ وَمَنْ : اور جو ] [ یَّفْعَلْ : کرے گا ] [ ذٰلِکَ : یہ ] [ عُدْوَانًا : زیادتی کرتے ہوئے ] [ وَّظُلْمًا : اور ظلم کرتے ہوئے ] [ فَسَوْفَ : تو عنقریب ] [ نُصْلِیْہِ : ہم ڈالیں گے اس کو ] [ نَارًا : ایک آگ میں ] [ وَکَانَ : اور ہے ] [ ذٰلِکَ : یہ ] [ عَلَی اللّٰہِ : اللہ پر ] [ یَسِیْرًا : آسان ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

دوسری آیت میں قتل نفس کی وعید بتائی اور ارشاد فرمایا (وَ مَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِکَ عُدْوَانًا وَّ ظُلْمًا فَسَوْفَ نُصْلِیْہِ نَارًا) کہ جو شخص زیادتی اور ظلم کے طور پر کسی جان کو قتل کرے، ہم اس کو دوزخ میں داخل کریں گے، بعض صورتوں میں قتل کرنے کا جو شرعی جواز ہے اس سے آگے بڑھ جانا اور حدود شرعی سے نکل کر کسی کو قتل کردینا حرام ہے، قتل نفس کی سزا جہنم کا داخلہ ہے، اللہ تعالیٰ کو سب پر قدرت ہے کوئی اس کی قدرت سے باہر نہیں اور اس کے ملک سے کوئی نہیں نکل سکتا نہ موت سے پہلے نہ موت کے بعد، اللہ تعالیٰ کو سب کچھ آسان ہے، اور ہر طرح کی قدرت ہے جس کو جیسے چاہے سزا دے سکتا ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 29–31

حکم سیزدہم دربارہ اتلاف اموال ونفوس یا ایھا الذین۔۔۔ الی۔۔ کریما۔ آیت۔ ربط) گزشتہ سورت سے یتامی کے اموال اور مواریث اور بےکس عورتوں کے تنگ کرنے کے متعلق احکام بیان فرمائے اور اخیر میں تعدی حدود اللہ سے ممانعت فرمائی اب ان آیات میں ارشاد فرماتے ہیں کہ باہمی حقوق کا خیال رکھو نہ کسی کے مال کو ناجائزطریقہ سے کھاؤ اور نہ کسی کو قتل کرو اس لیے کہ کسی کے مال اور نفس میں ناجائز تصرف حدود اللہ سے تعدی اور تجاوز میں داخل ہے نیز کسی کی جان ومال میں ناجائز تصرف اتباع شہوات ہے اور، سنن الذین من قبلکم سے میل عظیم ہے چناچہ فرماتے ہیں اے ایمان والو آپس میں ایک دوسرے کے مال ناحق اور ناجائز طریقہ سے مت کھاؤ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 29–30

23 گیارہواں حکم رعیت :۔ پہلے مال حرام کھانے کے مخصوص تین طریقوں سے منع فرمایا۔ یتیم کا مال ناحق کھانا، بیوی کا مہر بلا معافی دبا جانا اور میراث میں سے وارثوں کا حق مار لینا اب یہاں مال حرام کھانے سے عام ممانعت فرمائی کہ کسی بھی ناجائز طریقہ سے کسی کا مال نہ کھاؤ۔ وَلَا تَقْتُلُوْا اَنْفُسَکُمْ اور مال حرام کھانے، شرک کرنے اور اسی طرح کے دوسرے گناہوں سے اپنی جانوں پر ظلم نہ کرو اور اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالو کیونکہ ایسے گناہوں کا ارتکاب اپنے آپ کو قتل کرنے اور ہلاکت میں ڈالنے کے مرادف ہے۔ المعنی لا تھلکوا انفسکم بارتکاب الاثام ؟ الاموال بالباطل وغیرہ من المعاصی التی تستحقون بھا لعقاب (روح ج…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 29–30

ربط آیات گزشتہ دروس میں محرمات نکاح اور ان محرمات کی حکمت کا تذکرہ ہوچکا ہے۔ اس ضمن میں اللہ تعالیٰ نے پرانے لوگوں کے حالات اور دستور کی طرف بھی اشارہ کیا ، تاکہ ہمیں موجودہ شرائع الٰہیہ سے تقابل اور ترجیح کا موقع مل سکے اور معاملے کو سمجھنے میں آسانی ہو۔ خداوند قدوس نے اس معاملہ میں انسان کی طبعی خواہشات کو ملحوظ خاطر رکھ کر اس کے لیے آسانی پیدا فرمادی ہے۔ اور انہیں پورا کرنے کا بہتر طریق کار بھی سمجھادیا ہے۔ چونکہ انسان فطرتاً کمزور پیدا کیا گیا ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے تخفیف فرمادی ہے۔ محرمات نکاح کے مسئلہ میں غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ کسی نفس میں ناحق طریقے سے تصرف کرنا…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَمَنْ يَّفْعَلْ ذٰلِكَ عُدْوَانًا وَّظُلْمًا فَسَوْفَ نُصْلِيْہِ نَارًا۝ 0ۭ وَكَانَ ذٰلِكَ عَلَي اللہِ يَسِيْرًا۝ 30 فعل الفِعْلُ : التأثير من جهة مؤثّر، وهو عامّ لما کان بإجادة أو غير إجادة، ولما کان بعلم أو غير علم، وقصد أو غير قصد، ولما کان من الإنسان والحیوان والجمادات، والعمل مثله، (ع ل ) الفعل کے معنی کسی اثر انداز کی طرف سے اثر اندازی کے ہیں ۔ عام اس سے کہ وہ تاثیر عمدگی کے ساتھ ہو یا بغیر عمدگی کے ہو اور علم سے ہو یا بغیر علم کے قصدا کی جائے یا بغیر قصد کے پھر وہ تاثیر انسان کی طرف سے ہو یا دو سے حیوانات اور جمادات کی طرف سے ہو یہی معنی لفظ عمل کے ہیں ۔ هذا ( ذَاكَ ذلك) وأما ( ذا)…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 29–30

ترکیب : بینکم ثابت سے متعلق ہو کر حال ہوا اموال سے۔ بالباطل۔ لاتاکلوا سے متعلق ہے الاستثناء منقطع تکون کا اسم ضمیر جو اموال کی طرف پھرتی ہے تجارت خبر بعض نے کان تامہ قرار دے کر تجارۃ کو بالرفع بھی پڑھا ہے عن تراض موصوف منکم صفت مجموعہ تجارۃ کی صفت ومن یفعل مرفوع بالابتداء فسوف خبر مدخلا بالضم مصدروبالفتح ظرف۔ تفسیر : جبکہ عورتوں کے متعلق نکاح کے احکام بیان کئے گئے اور مصارف مہر ادا کرنے کی تاکید فرمائی گئی تو اس کے بعد جو کچھ باہمی کج اخلاقی اور جورو خصم کی بدمزگی سے برے نتائج پیدا ہوتے ہیں ان کی اصلاح فرماتا ہے کہ تم باہم اپنے مال دغا فریب کے طور پر نہ کھا جایا کرو۔ نہ بیوی میاں کے مال میں…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 29–30

یٰٓاَیُّھَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لاَ تَاْکُلُوْٓا اَمْوَالَـکُمْ بَیْنَـکُمْ بِالْبَاطِلِ اِلاَّ ٓ اَنْ تَکُوْنَ تِجَارَۃً عَنْ تَرَاضٍ مِّنْکُمْ قف وَلاَ تَقْتُلُوْٓا اَنْفُسَکُمْ ط اِنَّ اللّٰہَ کَانَ بِکُمْ رَحِیْمًا وَمَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِکَ عُدْوَانًا وَّظُلْمًا فَسَوْفَ نُصْلِیْہِ نَارًا ط وَکَانَ ذٰلِکَ عَلَی اللّٰہِ یَسِیْرًا (اے ایمان والو ! آپس میں ایک دوسرے کے مال باطل طریقے سے نہ کھائو مگر یہ کہ تجارت ہو آپس کی خوشی سے اور ایک دوسرے کو قتل نہ کرو، بیشک اللہ تم پر بڑا مہربان ہے اور جو شخص یہ کام کرے گا تعدی اور ظلم سے تو ہم اس کو ایک سخت آگ میں جھونک دیں گے اور یہ اللہ کے لیے بہت ہی…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 29–30

فہم القرآن ربط کلام : حرمت رشتہ اور حرمت اموال کا باہم معنوی تعلق ہے کیونکہ دونوں کا خیال نہ رکھنے سے رنجشیں پیدا ہونے کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی قائم کردہ حرمت پامال ہوتی ہے۔ سورت کی ابتدا میں اب تک خاندان، یتامیٰ اور لونڈیوں کے معاشرتی و مالی حقوق کا ذکر اور ان کے ساتھ مقدس رشتوں کی حرمت و تکریم کا بیان ہوا ہے۔ اب مالی حقوق کو قدرے وسعت کے ساتھ یوں بیان فرمایا کہ تم اپنے ہی مال آپس میں باطل طریقے کے ساتھ نہ کھا یا کرو۔ البتہ باہمی رضا مندی کے ساتھ ایک دوسرے سے لین دین کے ذریعے مال لینا اور کھانا جائز ہے۔ جس طرح تم اپنے مال ناجائز طریقے سے نہیں کھاسکتے اسی طرح تمہیں اپنے آپ کو قتل بھی نہیں کرنا…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 30 : وَمَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِکَ (جو ایسا کرے گا) یعنی قتل کا اقدام نفسوں پر عُدْوَانًا وَّظُلْمًا (قصدا دوسرے پر زیادتی کرتے ہوئے اور ظلم کرتے ہوئے) اپنی جان پر یعنی نہ ظلماً نہ قصا صاً ۔ یہ دونوں مصدر موضع حال میں واقع ہیں۔ یا مفعول لہ ہیں۔ فَسَوْفَ نُصْلِیْہِ نَارًا (عنقریب ہم اسے مخصوص آگ میں داخل کریں گے) جس کا عذاب سخت ہے۔ وَکَانَ َذٰلِکَ (یہ آگ کا داخلہ) عَلَی اللّٰہِ یَسِیْرًا (اللہ تعالیٰ پر آسان ہے) یہ وعید اس کے متعلق ہے جو ہمیشگی کو حلال قرار دینے والا ہے اور دوسرے کے متعلق آگ کے داخلہ کا استحقاق بتلانے کیلئے ہے۔ اور ساتھ ہی مغفرت کا وعدہ بھی فرما دیا گیا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

(تفسیر) 30۔: (آیت)” ومن یفعل ذلک “۔ جو ایسا کرے گا جو کچھ محرمات کے متعلق ماقبل میں گزرا ہے (آیت)” عدوانا وظلما “۔ عدوان حد سے تجاوز کرنے کو کہتے ہیں ظلم کہتے ہیں ” وضع الشیء فی غیر موضعہ “ کسی چیز کو اس کے مقام کے علاوہ جگہ پر رکھنا (آیت)” فسوف نصلیہ “ اس کو آخرت میں داخل کردیں گے ، ” نارا “ اس میں وہ جلتا رہے گا (آیت)” وکان ذلک علی اللہ یسیرا “۔ آگ میں داکل کرنا اس کے لیے آسان ہے ۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 29–31

(29 ۔ 31) ۔ جب تک آدمی مجرور رہتا ہے تو اس کو لفظ اپنی ذات کے ہی خرچ اخراجات کی ضرورت پڑتی ہے۔ پھر جب شادی۔ بیاہ ہو کر بی بی کا اور بال بچے ہو کر ان کا خرچ اس کے ذمے پڑجاتا ہے تو کسی نہ کسی حیلہ سے اس کو کمائی کا خیال ہوتا ہے۔ اسی مناسبت کے سبب سے نکاح کے احکام کے بعد ان آیتوں میں انسان کی کمائی کا ذکر فرمایا باطل ناحق کو کہتے ہیں۔ سود۔ چوری۔ خیانت وغیرہ یہ سب مال کے ناحق کے طور پر کمانے کے طریقے ہیں اور ان میں ہر ایک طریقہ کی ممانعت کی جدا جدا بڑی تفصیل سے شریعت میں احکام ہیں۔ ناحق طور پر کمائی کے طریقوں کے ذکر کے بعد جائز اور حق طور پر کمائی کے طریقہ خریدو فر وخت کو مستثنیٰ فرما کر ذکر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

آیت 30 اللہ تعالیٰ نے اپنے مومن بندوں کو باہم ایک دوسرے کا مال باطل طریقے سے کھانے سے منع کیا ہے اور اس میں غصب کر کے مال کھانا، چوری کے ذریعے سے مال کھانا، جوئے کے ذریعے سم ال ہتھیانا اور دیگر ناجائز اور گھٹیا طریقوں سے مال حاصل کرنا، سب شامل ہے۔ بلکہ شاید اس میں آپ کا اپنا وہ مال کھانا بھی آجاتا ہے جو آپ تکبر اور اسراف سے کھاتے ہیں کیونک یہ بھی باطل ہے، طریق حق نہیں ہے۔ پھر چونکہ اسنے باطل طریقے سے مال کھانے سے روک دیا ہے اس لئے اس نے تجارت اور ایسے پیشوں کے ذریعے سے، جس میں کوئی شرعی ممانعت نہ ہو، اور جو باہم رضا مندی اور جائز شرائط پر مشتمل ہوں، مال کمانا مباح قرار دے دیا۔ (ولا تقتلوآ…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 30–31

قول باری ہے (ومن یفعل ذالک عدوانا و ظلما فسوف نسلیہ نارا، جو شخص ظلم اور زیادتی کی بنا پر ایسا کرے گا اسے ہم ضرور آگ میں جھونکیں گے) اس وعید میں روئے سخن کس طرف ہے اس کے متعلق کئی اقوال بیان کیئے گئے ہیں ایک یہ کہ اس کا مرجع باطل طریقے سے مال کھانے نیز ناحق کسی کی جان لینے کے گھناؤنے افعال کی طرف ہے۔ اس لیے جو شخص بھی ان میں سے کسی کا ایک فعل کا مرتکب ہوگا وہ اس وعید کا سزا وار قرار پائے گا۔ عطاء کا قول ہے کہ اس وعید کا تعلق صرف ناحق کسی کی جان لینے کے فعل سے ہے ۔ ایک قول ہے کہ اس کا مرجع ہر وہ فعل ہے جس کی سورت کی ابتدائی سے یہاں تک ممانعت کردی گئی ہے۔ ایک اور قول ہے کہ اس وعید کا تعلق قوری…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

72 آتش دوزخ کی ہولناکی سے تحذیر۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جو کوئی ایسا کرے گا زیادتی وظلم کے ساتھ تو ہم اس کو جھونک دیں گے ایک بڑی ہی ہولناک آگ میں۔ یعنی تنوین تعظیم و تہویل کیلئے ہے " اَ یْ ہَائِلَۃ شَدِیْدُ الْعَذَاب " (محاسن التاویل) ۔ اور ظاہر ہے کہ دوزخ کی اس سے بڑھ کر ہولناک اور خوفناک آگ اور کون سی ہوسکتی ہے ؟ جو دنیا کی ہماری اس آگ سے ستر گنا زیادہ سخت ہوگی ۔ والعیاذ باللہ ۔ بہرکیف اللہ تعالیٰ کی طرف سے منع فرمودہ اور حرام کردہ امور کے ارتکاب کا نتیجہ و انجام بہت برا ہے۔ " ذالک " کا مشارٌالیہ جیسا کہ ظاہر اور متبادر ہے، وہی امور ہیں جن کا یہاں ذکر فرمایا گیا ہے۔ یعنی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 29–30

مسلمانوں کی جان و مال کی حفاظت تشریح : دونوں آیات میں مطلب واضح طور پر بتایا گیا ہے۔ ایک نکتہ اس میں قابل تشریح ملتا ہے کہ اپنے آپ کو قتل نہ کرو۔ اس سے تین مطلب نکلتے ہیں کہ اگر کسی کو قتل کیا تو قصاص میں خود بھی قتل کئے جاؤ گے، یعنی دوسرے کو قتل کرکے اپنے قتل کا راستہ بنا لیا۔ دوسرا مطلب خود کشی مراد ہوسکتی ہے تو یہ کیونکہ حرام موت ہے، اس لیے یہ بھی گناہ عظیم ہے۔ تیسرا مطلب یہ ہے کہ حرام مال کھا کر یا ظلم و زیادتی سے دوسرے کا مال کھا کر اپنے نامہ اعمال کو خراب نہ کرو اور حرام مال کھانے سے دنیا میں بھی بہت بڑی سزاملتی ہے اور وہ ہے بےسکونی، پریشانی اور بیماری۔ حرام مال جیسے آتا ہے ویسے ہی چلا…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 29–31

آیت نمبر 29 تا 30:۔ یا ایھا الذین امنوا لاتاکلوا۔۔ ۔ فندخلکم مدخلا کریما۔ مال حرام کا کاروبار : کمالاتِ روحانی اور تجلیات باری سے اس خاکی وجود کو منور کرنے کے لیے ضروری ہے کہ اس میں حرام کی آمیزش نہ کی جائے جس عمارت پر کیچڑ تھوپ دیا جائے اس میں تو وہ چمک دمک اور خوبصورتی پیدا نہیں ہوسکتی جس کی تم امید رکھتے ہو سو۔ اموالکم۔ فرما کر یہ اشارہ فرمایا کہ سب مسلمانوں کے مال تمہارے اپنے مال ہیں سو اپنے مال کی حفاظت کی جانی چاہئے نہ کہ اسے ضائع کیا جائے پھر حرام کا لقمہ پیٹ میں حل ہو کر اعضاء وجوارح کی قوت بنتا ہے ہاتھ پاؤں آنکھ زبان دماغ اور دل تک سب اس سے متاثر ہوتے ہیں جب یہاں سب حرام جمع ہوجائے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 7 ذٰ لک اشارہ قتل نفس کی طرف بھی ہو کھانے کی طرف بھی حضرت ابن عباد ؓ فرماتے ہیں کہ ابتائے سورت سے یہاں تک جتنے مناہی بیان ہوئے ہیں ان سب کی طرف اشارہ ہے۔ (ابن جریر، کبیر)8 یہ انداز بیان تہدید میں مبالغہ پر دال ہے (کبیر) موضح میں ہے یعنی مغرور نہ ہوں کہ ہم مسلمان دوزخ میں کیونکر جاویں گے اللہ تعالیٰ پر یہ آسان ہے کبیرہ گناہ وہ ہے جن کے متعلق قرآن یا حدیث میں صاف طور پر دوزخ کی وعید آئی ہو یا اللہ تعالیٰ کے غصہ کا اظہار ہو یا شریعت میں اس پر حد مقرر فرمائی گئی ہو اور سیئات وہ گنا ہیں جن سے صرف منع کیا گیا ہو اور ان پر وعید وارد نہ ہوئی ہو۔ (کبیر۔ ابن کثیر )

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(4:30) عدوانا۔ عدا یعدوا عدوا وعدوانا وعدونا وعدوا (باب نصر) زیادتی ۔ ظلم و ستم ۔ سرکشی۔ نصلیہ۔ اصلی یصلی اصلاء (افعال) سے مضارع جمع متکلم۔ ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب ہم اس کو آگ میں (جہنم میں) داخل کریں گے۔ اصلی (سمع) کے اصل معنی آگ جلانے کے ہیں ۔ (باب افعال) سے آگ میں پھینکنا۔ آگ میں ڈالنا۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 29–31

آیت نمبر 29-31 لغات القرآن : تراض، آپس کی رضا مندی۔ عدوان، زیادتی۔ نصلیہ، ہم ڈالیں گے اس کو ۔ یسیر، آسان۔ تجتنبوا، تم بچ گئے۔ کبائر، بڑے گناہ۔ تنھون، تمہیں منع کیا گیا ہے۔ نکفر، ہم دور کریں گے۔ مدخلا کریما، عزت و احترام کا موام۔ تشریح : مومنوں سے خطان ہے کہ تم مومن یا غیر مومن کسی کا بھی مال ناجائز طریقہ سے مت کھاؤ۔ رشوت، ظلم، دھوکا، چوری، ڈاکہ، بلیک، اسمگلنگ، جھوٹ، ناجائز، خریدوفروخت، اجارہ داری، سود خوری، حق مارنا، چیز خراب کرنا، قرض ادا نہ کرنا، خیانت، وعدہ خلافی، کم تولنا، مال کا عیب ظاہر کئے بغیر بیچ دینا، دکھانا کچھ دینا کچھ، وغیرہ وغیرہ یہ سب ناجائز طریقے ہیں جن کا ان دونوں عر ب میں…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 29–31

ان آیتوں میں انسان کی کمائی کا ذکر فرمایا کہ سود ، چوری خیانت وغیرہ یہ سب مال کے ناحق طور پر کمانے کے طریقے ہیں اور ان میں ہر ایک طریقہ کی جدا جدا ممانعت کی بڑی تفصیل سے شریعت کے احکام ہیں۔ اس کے بعد جائز اور حق طور پر کمائی کے طریقے خریدو فروخت کو مستثنیٰ فرما کر ذکر فرمایا خریدو فروخت کی بہت سی مختلف صورتیں ہیں، ہر ایک صورت کا شریعت میں جدا جدا حکم ہے جو فرمایا : نہ خون کرو آپس میں اس کا ایک مطلب یہ ہے کہ لوگوں کا مال ناحق کھا کر اپنی جاں ہلاکت میں نہ ڈالو۔ اللہ کا تم پر رحم ہے ۔ کا یہ مطلب ہے کہ پچھلی امتوں کی توبہ ان کا قتل کرنا قرار پائی تھی اور تم پر ایسا سخت حکم نازل نہیں کیا جاتا۔ اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 29–30

[26] اس کے دو معنی ہیں ایک یہ کہ دوسروں کا مال ناجائز طور پر کھا کر اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنا ہے اور دوسرے یہ کہ ایک دوسرے کو قتل یا خود کشی نہ کرو۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 29–30

(ف 2) اس آیت میں بتایا ہے کہ ناجائز وسائل سے مال حاصل کرنا گناہ ہے ، البتہ باہم رضا مندی سے تجارت میں کوئی مضائقہ نہیں ، یعنی تجارت کل حلال کا بہترین ذریعہ ہے افسوس ! آج مسلمان تجارت نہ کر کے دنیا بھر میں ذلیل ورسوا ہے ۔ حالانکہ خدا تعالیٰ نے مسلمان کو تاجر پیدا کیا تھا (آیت) ” ولا تقتلوا انفسکم “ کا مطلب یا تو یہ ہے کہ عام طور پر چونکہ جعل و فریب سے لڑائیاں ہوتی ہیں ، اس لئے تم ایک دوسرے کو دھوکا نہ دو اور باہمی رضا جوئی سے کام لو اور یا یہ کہ جو قوم تجارت کو ترک کردیتی ہے وہ مردہ ہے ، اس میں کوئی زندگی باقی نہیں رہتی ۔ دیکھ لیجئے ، آج مسلمان کیا محض اس لئے حقیر نہیں شمار کئے جاتے کہ ان کے…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

ف 1 اے ایمان والو ! تم آپس میں ایک دوسرے کے مال ناحق اور غیر شرعی طور مت کھائو اور ان کو مت استعمال کرو مگر ہاں وہ مال جو آپس کی تجارت اور خریدوفروخت سے باہمی رضامندی کے ساتھ ہو تو اس کے کھانے اور استعمال کرنے میں مضائقہ نہیں اور دیکھو تم اپنے آپ کو قتل نہ کرو اور آپس میں ایک دوسرے کو قتل نہ کرو بلاشبہ اللہ تعالیٰ تم پر بڑی مہربانی کرنے والا ہے اور جو شخص ازراہِ زیادتی اور ظلم ان افعال ممنوعہ کا ارتکاب کرے گا تو ہم عنقریب اس کو جہنم کی آگ میں داخل کریں گے اور یہ سزا دینا اور کسی مجرم کو جہنم کی آگ میں داخل کرنا اللہ تعالیٰ پر بالکل آسان اور بہت سہل ہے۔ (تیسیر) مطلب یہ ہے کہ یتامیٰ اور بیوگان…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 3۔ عدوان کا حاصل یہ ہے کہ وہ شخص مقتول واقع میں مستحق قتل نہ ہو اور اس کو قتل کیا جاوے اور ظلم کا حاصل یہ ہے کہ غیر مستحق للقتل کا قتل ہونا تین طور پر سکتا ہے ایک یہ فعلا خطاہوئی یعنی مثلا گولی شکار پرچلائی اور وہ کسی آدمی کو لگ گئی۔ دوسرے یہ کہ قاضی وحاکم سے اجتہادا خطاہوئی تیسرے یہ کہ حقیقت حال یعنی اس کا غیر مستحق للقتل ہونا معلوم ہے پھر بھی عمدا اس کو قتل کرڈالا پس ظلم کہنے سے پہلی دو صورتیں خارج ہوگئیں کہ ان میں یہ وعید نہیں۔ 4۔ یعنی بعدالموت۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ایسے پاپیوں کے لئے اللہ کی آگ تیار ہے جو چور بھی ہیں اور چتر بھی : 66: اس آیت میں ان موہوم خواہشیں رکھنے والوں کے کان کھول دیئے گئے ہیں جو دن رات ظلم کر کر نہیں تھکتے لیکن ساتھ ہی یہ بھی سمجھتے ہیں کہ اللہ غفور و رحیم ہے اگر ہم ظلم ہی نہ کریں تو وہ آخر کسی کو معاف کرے گا اور کیا معاف کرے گا ؟ وہ بڑے بڑے جرائم کرتے ہیں اور پھر کرتے ہی چلے جاتے ہیں۔ ان کی ٹینکیاں جب بھرنے کو آتی ہیں تو وہ کوئی نہ کوئی ٹوٹی کھول دیتے ہیں۔ اور اس فیاضی سے وہ سخی کہلاتے ہیں حاجی جی کا خطاب حاصل کرتے ہیں اور اس طرح پچھلے مظالم معاف کرا کر نئے سرے سے پوری آب و تاب کے ساتھ ظلم ڈھانا شروع کردیتے ہیں پھر ان کی کھلی ٹو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

After that, the next verse (30) says: وَمَن يَفْعَلْ ذَٰلِكَ عُدْوَانًا وَظُلْمًا فَسَوْفَ نُصْلِيهِ نَارً‌ا . It means: If, despite the instructions of the Holy Qur'an, anyone acts otherwise, and knowingly, aggressively and unjustly, takes what belongs to someone else, or kills anyone unjustly, Allah will cast him into Fire. Here, the restriction of 'aggression' and 'injustice' shows that, should this happen out of forgetfulness or mistake, it is not included in this warning.

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 29–30

50. The expression 'wrongfully' embraces all transactions which are opposed to righteousness and which are either legally or morally reprehensible. By contrast, 'trade' signifies the mutual transfer of benefits between the parties concerned, such as that underlying those transactions in which one person provides whatever satisfies the needs of another person and is paid in return. 'Mutual consent' means that the exchange should be free of undue pressure, fraud and deception. Although bribery and interest apparently represent transactions based on mutual consent, closer examination reveals…

Read the full tafseer →