Explained with ayahs 29–31
خریدو فروخت اور اسلامی قواعد و ضوابط ؟
اللہ تعالیٰ اپنے ایماندار بندوں کو ایک دوسرے کے مال باطل کے ساتھ کھانے کی ممانعت فرما رہا ہے خواہ اس کمائی کی ذریعہ سے ہو جو شرعاً حرام ہے جیسے سود خواری قمار بازی اور ایسے ہی ہر طرح کی حیلہ سازی چاہے اسے جواز کی شرعی صورت دے دی ہو اللہ کو خوب معلوم ہے کہ اصل حقیقت کیا ہے، حضرت ابن عباس سے سوال ہوتا ہے کہ ایک شخص کپڑا خریدتا ہے اور کہتا ہے اگر مجھے پسند آیا تو تو رکھ لوں گا ورنہ کپڑا اور ایک درہم واپس کر دونگا آپ نے اس آیت کی تلاوت کردی یعنی اسے باطل مال میں شامل کیا۔ حضرت عبداللہ فرماتے ہیں یہ آیت محکم ہے یعنی منسوخ نہیں نہ قیامت تک منسوخ ہوسکتی ہے، آپ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
سورة النِّسَآء 50
”باطل طریقوں“ سے مراد وہ تمام طریقے ہیں جو خلاف حق ہوں اور شرعاً و اخلاقاً ناجائز ہوں۔ ”لین دین“ سے مراد یہ ہے کہ آپس میں مفاد و منافع کا تبادلہ ہونا چاہیے جس طرح تجارت اور صنعت و حرفت وغیرہ میں ہوتا ہے کہ ایک شخص دوسرے شخص کی ضروریات فراہم کرنے کے لیے محنت کرتا ہے اور وہ اس کا معاوضہ دیتا ہے۔ ”آپس کی رضامندی“ سے مراد یہ ہے کہ لین دین نہ تو کسی ناجائز دباؤ سے ہو اور نہ فریب و دغا سے۔ رشوت اور سود میں بظاہر رضامندی ہوتی ہے مگر درحقیقت جوے میں حصہ لینے والا ہر شخص اس غلط امید پر رضا مند ہوتا ہے کہ جیت اس کی ہوگی۔ ہارنے کے ارادے سے کوئی بھی راضی نہیں ہوتا۔ جعل اور فریب کے…
Read the full tafseer →ربط آیات
شروع سورة نساء میں تمام انسانوں کا ایک ماں باپ سے پیدا ہونا اور سب کا ایک رشتہ اخوت میں جکڑے رہنا بیان فرما کر عام انسانوں کے حقوق کی حفاظت اور ان کی ادائیگی کی طرف اجمالی اشارہ فرمایا، پھر یتیموں اور عورتوں کا تفصیلی بیان آیا، پھر میراث کے احکام کا بیان ہوا، جس میں یتیموں، عورتوں کے علاوہ دوسرے رشتہ داروں کے حقوق کی ادائیگی کی بھی تاکید آئی، اس کے بعد نکاح کے احکام آئے کہ کس عورت سے نکاح حلال ہے کس سے حرام، کیونکہ نکاح ایک ایسا معاملہ اور معاہدہ ہے جس سے عورت کی جان اور مال میں تصرف کرنے کا کسی کو حق ملتا ہے۔
مذکورہ آیتوں میں عام انسانوں کے جان و مال کی حفاظت اور ان میں ہر ناجائز…
Read the full tafseer →فصل 14۔ آیات 29۔۔۔ 33 کا مضمون :۔ سابقہ آیات میں ضمنی تذکیر و تنبیہ کے بعد اب ان آیات میں اصلاح معاشرہ ہی سے متعلق احکام و ہدایات کا مضمون پھر شروع ہوگیا اور چند ایسی ہدایات دی گئی ہیں جن سے پچھلی اصلاحات کی تائید و توثیق بھی ہو رہی ہے اور ان اصلاحات کا دائرہ وسیع بھی ہو رہا ہے۔ اس روشنی میں آگے کی آیات کی تلاوت فرمائیے۔
يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَاْكُلُوْٓا اَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ اِلَّآ اَنْ تَكُوْنَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِّنْكُمْ ۣوَلَا تَقْتُلُوْٓا اَنْفُسَكُمْ ۭاِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِكُمْ رَحِيْمًا۔
حرمتِ مال اور حرمت جان میں نہایت گہرا رشتہ ہے :۔ اس آیت میں…
Read the full tafseer →29۔ 1 بالْبَاطِلِ میں دھوکا، فریب، جعل سازی، ملاوٹ کے علاوہ تمام کاروبار بھی شامل ہیں جن سے شریعت نے منع کیا ہے اسی طرح ممنوع اور حرام چیزوں کا کاروبار کرنا بھی باطل میں شامل ہے مثلاً بلا ضرورت فوٹو گرافی، ریڈیو، ٹیوی، وی سی آر، ویڈیو، فلموں کا بنانا اور بیچنا وغیرہ مرمت کرنا سب ناجائز ہے۔
29۔ 2 اس کے لئے بھی شرط ہے کہ یہ لین دین حلال اشیاء کا ہو حرام اشیاء کا کاروبار باہمی رضامندی کے باوجود ناجائز ہی رہے گا۔ علاوہ ازیں رضامندی میں خیار مجلس کا مسئلہ بھی آجاتا ہے کہ جب تک ایک دوسرے سے جدا نہ ہوں سودا فسخ کرنے کا اختیار رہے گا۔
29۔ 3 اس سے مراد خود کشی بھی ہوسکتی ہے جو کبیرہ گناہ ہے اور ارتکاب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
25: اس کا سادہ مطلب تو یہ ہے کہ جس طرح دوسرے کا مال ناحق طریقے سے کھانا حرام ہے کسی کی جان لینا اس سے زیادہ حرام ہے، دوسرے کی جان لینے کو اپنے آپ کو قتل کرنے سے تعبیر کرکے اس طرف بھی اشارہ ہوگیا کہ دوسرے کو قتل کرنا بالآخر اپنے آپ ہی کو قتل کرنا ہے ؛ کیونکہ اس کے بدلے میں خود قاتل قتل ہوسکتا ہے، اور اگر یہاں قتل نہ بھی ہو تو آخرت میں اس کی جو سزا ملنی ہے وہ موت سے بھی بدتر ہوگی، اس طرح اس تعبیر سے خود کشی کی ممانعت بھی واضح ہوگئی، دوسرے کسی کا مال ناحق کھانے کے ساتھ یہ جملہ لانے سے اس طرف بھی اشارہ ممکن ہے کہ جب ناحق مال کھانے کا رواج معاشرے میں عام ہوجائے تو اس کا نتیجہ اجتماعی خود کشی کی…
Read the full tafseer →آیات کا یہ سلسلہ اسلامی معاشرے کی تربیت کے ساتھ بھی متعلق ہے اور اسلامی نظام کے شعبہ قانون سے بھی اس کا تعلق ہے ۔ اسلامی نظام زندگی میں تربیت ‘ اصلاح اور قانون ساتھ ساتھ کام کرتے ہیں ‘ وہ ایک دوسرے کے ساتھ تکمیلی حیثیت رکھتے ہیں ایک دوسرے کے ساتھ مربوط ہیں ۔ ایک کے سوا دوسرا مکمل نہیں ہو سکتا قانون سازی سے غرض یہ ہوتی ہے کہ اسلامی معاشرے کی تربیت اور اصلاح کی جائے اور لوگوں کی زندگی کے معاملات کو ایک ضابطے کے تحت لایا جائے ۔ قانون سازی کے اندر ایسی ہدایات بھی دی جاتی ہیں جن میں انسانی ضمیر کی تربیت مطلوب ہوتی ہے ۔ پھر اس قانون سازی میں اس بات کو بھی پیش نظر رکھا جاتا ہے کہ قانون کا نفاذ بھی…
Read the full tafseer →5 مطلب یہ ہے کہ کسی کو کسی کا مال ناحق کھا لینا مثلاً جھوٹ بول کر یا دغابازی سے یا چوری سے ہرگز درست نہیں ہاں اگر سوداگری یعنی بیع و شراء کرو تم باہمی رضامندی سے تو اس میں کچھ حرج نہیں اس مال کو کھالو۔ جس کا خلاصہ یہی نکلا کہ جائز طریقہ سے لینے کی ممانعت نہیں جو مال کو ترک کرنا تم پر دشوار ہو۔
6 یعنی آپس میں ایک دوسرے کو قتل بھی مت کرو بیشک اللہ تعالیٰ تم پر مہربان ہے کہ بلاوجہ کسی کے مال یا جان میں تصرف کرنے کو منع فرما دیا اور تم پر ایسے احکام بھیجے جن میں سراسر تمہارے لئے بہبودی اور خیریت ہے۔
Read the full tafseer →آیت 29 یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لاَ تَاْکُلُوْآ اَمْوَالَکُمْ بَیْنَکُمْ بالْبَاطِلِ اِلَّآ اَنْ تَکُوْنَ تِجَارَۃً عَنْ تَرَاضٍ مِّنْکُمْ قف
تجارت اور لین دین کی بنیاد جب حقیقی باہمی رضامندی پر ہو تو اس سے حاصل ہونے والا منافع جائز اور حلال ہے۔ فرض کیجیے کہ آپ کی جوتوں کی دکان ہے۔ آپ نے گاہک کو ایک جوتا دکھایا اور اس کے دام دو سو روپے بتائے۔ اس نے جوتا پسند کیا اور دو سو روپے میں خرید لیا۔ یہ باہمی رضامندی سے سودا ہے جو سیدھے سادھے اور صحیح طریقے پر ہوگیا۔ ظاہر بات ہے کہ اس میں سے کچھ نہ کچھ نفع تو آپ نے کمایا ہے۔ آپ نے اس کے لیے محنت کی ہے ‘ کہیں سے خرید کر لائے ہیں ‘ اسے سٹور میں…
Read the full tafseer →48 باطل طریقے کون کون سے ہیں ؟ باطل طریقوں سے مراد ہر وہ ذریعہ آمدنی ہے جسے شریعت نے حرام قرار دیا ہو۔ اور اس کی کئی صورتیں ہیں۔ مثلاً :
1۔ ہر وہ کام جس سے دوسرے کا مالی نقصان ہو جیسے چوری، ڈاکہ، غصب، غبن وغیرہ۔
2۔ سود اور اس کی تمام شکلیں، خواہ یہ سود مفرد ہو، مرکب ہو، ڈسکاؤنٹ ہو، مارک اپ اور مارک ڈاؤن ہو یا خواہ یہ ذاتی قرضے کا سود ہو اور خواہ یہ ربا النسیئہ (مدت کے عوض سود) ہو یا ربا الفضل (ایک ہی جنس میں کمی بیشی کے ساتھ تبادلہ) ہو۔
3۔ ہر ایسا کام جس میں تھوڑی سی محنت سے کثیر مال ہاتھ آتا ہو۔ جیسے جوا، لاٹری اور سٹہ بازی وغیرہ اور بعض حالتوں میں بیمہ پالیسی۔
4۔ اندھے سودے یا قسمت کے سودے…
Read the full tafseer →99 ۔ (آیت) ” بالباطل “۔ یعنی غیر مشروع طریقوں پر۔ خیانت اور بددیانتی کی تمام صورتوں کی بندش اس ایک حکم کے اندر آگئی۔ کاش اسلام کے ایک اسی قانون پر عمل ہو اور آج دنیا کی کایا پلٹ جائے۔
100 ۔ مطلب یہ ہوا کہ ایک دوسرے کے مال میں تصرف کی اجازت کسی باطل طریقہ (سود، قمار، وغیرہ) سے تو سرے سے ہی نہیں۔ صرف جائز طریقوں کے اندر ایک دوسرے کی رضا مندی سے تصرف کرسکتے ہو۔ مثلا سرمایہ مشترک سے تجارت، کہ یہ تو عین باعث برکت ہے۔
101 ۔ (آیت) ” انفسکم “۔ کے معنی عموما اخوانکم یامن جنسکم کئے گئے ہیں۔ اور مراد یہ لی گئی ہے کہ ایک دوسرے کو قتل نہ کرو، اتفقوا علی ان ھذا نھی عن ان یقتل بعضھم بعضا (کبیر) قتل بعضکم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
یایّھا الذین امنوالا تاکلوا اموالکم بینکم با لباطل، اے ایمان والو اپنے آپس کے مال ناجائز طریقہ سے مت کھاؤ، باطل میں دھوکہ، فریب، جعلسازی، ملاوٹ کے علاوہ تمام کاروبار بھی شامل ہیں جن سے شریعت نے منع فرمایا ہے، جیسے قمار، رباوغیرہ اسی طرح ممنوع اور حرام چیزوں کا کاروبار کرنا بھی شامل ہے مثلاً بلا ضرورت فوٹوگرافی، ویڈیو، ٹیوی، وی سی آر، ویڈیوفلمیں اور فحش کیسٹیں وغیرہ ان کا بنانا، بیچنا، مرمت کرنا سب ناجائز ہے۔
اِلّاان تکون تجارة عن تراض منکم، دوسروں کا مال باہمی رضامندی سے کھایا جائے خواہ تجارت کی صورت میں ہو یا اور دیگر کسی طریقہ سے، سب معاش کے طریقوں میں تجارت چونکہ افضل طریقہ ہے اسی لئے بطور…
Read the full tafseer →یایہا الذین امنوا لا تاکلوا اموالکم بینکم اے ایمان والو ‘ آپس میں ایک دوسرے کے مال نہ کھاؤ۔ یعنی کوئی کسی کا مال نہ کھائے نہ مسلمان مسلمان کا نہ ذمی کافر کا۔ حربی کافر جس سے کوئی معاہدہ نہ ہو اس کا مال بلاعذر رکھنا ممنوع نہیں ہے۔
بالباطل باطل طور سے۔ یعنی اس طریقہ سے جو شرعاً ممنوع ہے۔ جیسے غصب ‘ چوری ‘ خیانت ‘ جواء ‘ سود اور تمام ناجائز عقود۔
الا ان تکون تجارۃ مگر یہ کہ کھانے کا ذریعہ تجارت ہو (یعنی اگر جائز تجارت ہو تو ایک کا مال دوسرے کے ممنوع نہیں ہے) تجارۃً کو فیوں کی قراءت میں آیا ہے (اور یہی قراءت مشہور ہے) باقی اہل قراءت نے تجارۃٌ پڑھا ہے اس صورت میں تکون تامہ ہوگا اور تجارۃٌ اس کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
(29۔ 30) یعنی ظلم وغضب جھوٹی گواہی قسمیں کھا کر ایسا مت کرو۔ البتہ باہم رضا مندی کے ساتھ کوئی تجارتی معاملہ ہو اس میں بائع یا مشتری کوئی اعانت دے تو یہ اور بات ہے۔
اور ایک دوسرے کو ناحق مت قتل کرو اللہ تعالیٰ بڑا مہربان ہے کہ اس نے اس کام کو حرام کردیا اور جو شخص کسی کو ظلما قتل کرے یا اس کے مال کو حلال سمجھے تو ہم اسے آخرت میں جہنم میں داخل کریں گے اور یہ عذاب میں مبتلا کرنا اور جہنم میں داخل کرنا ہمارے لیے بہت آسان ہے۔
Read the full tafseer →لَا تَاْكُلُوْٓا اَمْوَالَكُمْ : کمائی کے جتنے بھی ناجائز طریقے ہیں سب کے سب ”بالباطل“ میں آجاتے ہیں، حتیٰ کہ حیلہ سازی کے ساتھ کسی کا مال کھانا بھی حرام ہے اور اپنے مال کو غلط طریقے سے اڑانا بھی اسی میں داخل ہے۔ (رازی۔ ابن کثیر)
اِلَّآ اَنْ تَكُوْنَ تِجَارَةً۔۔ : یعنی وہ تجارت اور لین دین (صنعت و حرفت وغیرہ) جس میں حقیقی باہمی رضا مندی ہو، اس کے ذریعے سے کماؤ اور کھاؤ۔ آپس کی رضا مندی میں یہ بھی ضروری ہے کہ وہ شرع کے خلاف نہ ہو، کیونکہ وہ حقیقی رضا مندی ہوتی ہی نہیں، مجبوری کی رضا مندی ہوتی ہے، مثلاً رشوت اور سود میں بظاہر رضا مندی ہے مگر حقیقی نہیں، کیونکہ ایک فریق دوسرے کی مجبوری سے فائدہ…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 29۔
اس آیت میں نو مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر : (1) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” بالباطل “۔ یعنی بغیر حق کے، اس کی بہت سی صورتیں ہیں جیسا کہ ہم نے بیان کیا اور سورة بقرہ میں اس کا معنی بیان کیا ہے اور باطل طریقہ سے مال کھانے کی ایک صورت بیع العریان بھی ہے وہ یہ ہے کہ کوئی شخص تجھ سے کوئی سامان لے یا تجھ سے جانور کرائے پر لے اور تجھے ایک درہم یا اس سے زیادہ رقم دے اس شرط پر کہ اگر وہ اس چیز کو خریدے گا یا سواری پر سوار ہوگا تو وہ سامان کی قیمت یا جانور کے کرایہ سے ہوگا اور اگر سامان نہیں خریدے گا یا سواری کرائے پر نہیں لے گا تو جو اس نے تجھے دیا ہے وہ تیرا ہوگا، یہ جائز نہیں ہے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
(1) ابن ابی حاتم والطبرانی نے (صحیح سند کے ساتھ) ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ (یہ آیت) لفظ آیت ” یایھا الذین امنوا لا تاکلوا اموالکم بینکم بالباطل “ محکم ہے منسوخ نہیں کی گئی اور نہ قیامت کے دن تک منسوک ہوگی۔
(2) ابن جریر وابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ ان کا کھانا اپنے مالوں کا آپس میں باطل طریقے سے یہ ہے (جیسے) زنا کرنا، جوا کھیلنا، ناپ تول میں کمی کرنا اور ظلم کرنا (پھر فرمایا) ” الا ان تکون تجارۃ “ مگر تجارت کی صورت میں بڑھا لو۔ ایک درہم کو ہزار اگر طاقت رکھتے ہو۔
(3) ابن جریر نے عکرمہ اور حسن (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ آدمی اس بات میں حرج محسوس…
Read the full tafseer →[ یٰٓــاَیـُّـہَا الَّذِیْنَ : اے لوگو جو ] [ اٰمَنُوْا : ایمان لائے ] [ لاَ تَاْکُلُوْآ : تم لوگ مت کھائو ] [ اَمْوَالَــکُمْ : تمہارے مال ] [ بَیْنَـکُمْ : آپس میں ] [ بِالْبَاطِلِ : ناحق ] [ اِلَّآ اَنْ : سوائے اس کے کہ ] [ تَــکُوْنَ : وہ ہو ] [ تِجَارَۃً : کوئی تجارت ] [ عَنْ تَرَاضٍ : باہمی رضامندی سے ] [ مِّنْکُمْ : تم لوگوں میں ] [ وَلاَ تَقْتُلُوْآ : اور مت قتل کرو ] [ اَنْفُسَکُمْ : اپنوں کو ] [ اِنَّ اللّٰہَ : یقینا اللہ ] [ کَانَ : ہے ] [ بِکُمْ : تم پر ] [ رَحِیْمًا : رحم کرنے والا ]
ترکیب : ” تَـکُوْنَ “ کا اسم اس میں شامل ” ھِیَ “ کی ضمیر ہے جو ” اَمْوَالَ “ کے لیے ہے۔ ”…
Read the full tafseer →باطل طریقے پر مال کھانے کی ممانعت اور تجارت کا اصول
اس آیت کریمہ میں یہ ارشاد فرمایا کہ آپس ایک دوسرے کا مال باطل طریقہ پر نہ کھاؤ صاحب معالم التنزیل صفحہ 417: ج 1 پر لکھتے ہیں بالحرام یعنی بالربوا و القمار والغصب والسرقۃ والخیانۃ ونحوھا وقیل ھو العقود الفاسدۃ (یعنی باطل سے مراد یہ ہے کہ حرام طریقہ پر ایک دوسرے کا مال نہ کھاؤ مثلاً سود لے کے جوئے بازی کے طریقے سے اور چھین کر، چوری کر کے، خیانت کر کے اور اسی طرح کے دوسرے غیر شرعی طریقوں سے ایک دوسرے کا مال نہ کھاؤ) اور بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ اس سے عقود فاسدہ مراد ہیں یعنی خریدو فروخت اور اجارہ وغیرہ کے وہ طریقے جو شرعاً فاسد ہیں ان کے ذریعہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–31
حکم سیزدہم دربارہ اتلاف اموال ونفوس
یا ایھا الذین۔۔۔ الی۔۔ کریما۔ آیت۔
ربط) گزشتہ سورت سے یتامی کے اموال اور مواریث اور بےکس عورتوں کے تنگ کرنے کے متعلق احکام بیان فرمائے اور اخیر میں تعدی حدود اللہ سے ممانعت فرمائی اب ان آیات میں ارشاد فرماتے ہیں کہ باہمی حقوق کا خیال رکھو نہ کسی کے مال کو ناجائزطریقہ سے کھاؤ اور نہ کسی کو قتل کرو اس لیے کہ کسی کے مال اور نفس میں ناجائز تصرف حدود اللہ سے تعدی اور تجاوز میں داخل ہے نیز کسی کی جان ومال میں ناجائز تصرف اتباع شہوات ہے اور، سنن الذین من قبلکم سے میل عظیم ہے چناچہ فرماتے ہیں اے ایمان والو آپس میں ایک دوسرے کے مال ناحق اور ناجائز طریقہ سے مت کھاؤ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
23 گیارہواں حکم رعیت :۔ پہلے مال حرام کھانے کے مخصوص تین طریقوں سے منع فرمایا۔ یتیم کا مال ناحق کھانا، بیوی کا مہر بلا معافی دبا جانا اور میراث میں سے وارثوں کا حق مار لینا اب یہاں مال حرام کھانے سے عام ممانعت فرمائی کہ کسی بھی ناجائز طریقہ سے کسی کا مال نہ کھاؤ۔ وَلَا تَقْتُلُوْا اَنْفُسَکُمْ اور مال حرام کھانے، شرک کرنے اور اسی طرح کے دوسرے گناہوں سے اپنی جانوں پر ظلم نہ کرو اور اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالو کیونکہ ایسے گناہوں کا ارتکاب اپنے آپ کو قتل کرنے اور ہلاکت میں ڈالنے کے مرادف ہے۔ المعنی لا تھلکوا انفسکم بارتکاب الاثام ؟ الاموال بالباطل وغیرہ من المعاصی التی تستحقون بھا لعقاب (روح ج…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
ربط آیات
گزشتہ دروس میں محرمات نکاح اور ان محرمات کی حکمت کا تذکرہ ہوچکا ہے۔ اس ضمن میں اللہ تعالیٰ نے پرانے لوگوں کے حالات اور دستور کی طرف بھی اشارہ کیا ، تاکہ ہمیں موجودہ شرائع الٰہیہ سے تقابل اور ترجیح کا موقع مل سکے اور معاملے کو سمجھنے میں آسانی ہو۔ خداوند قدوس نے اس معاملہ میں انسان کی طبعی خواہشات کو ملحوظ خاطر رکھ کر اس کے لیے آسانی پیدا فرمادی ہے۔ اور انہیں پورا کرنے کا بہتر طریق کار بھی سمجھادیا ہے۔ چونکہ انسان فطرتاً کمزور پیدا کیا گیا ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے تخفیف فرمادی ہے۔
محرمات نکاح کے مسئلہ میں غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ کسی نفس میں ناحق طریقے سے تصرف کرنا…
Read the full tafseer →يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَاْكُلُوْٓا اَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ اِلَّآ اَنْ تَكُوْنَ تِجَارَۃً عَنْ تَرَاضٍ مِّنْكُمْ 0ۣ وَلَا تَقْتُلُوْٓا اَنْفُسَكُمْ 0ۭ اِنَّ اللہَ كَانَ بِكُمْ رَحِيْمًا 29
أكل
الأَكْل : تناول المطعم، وعلی طریق التشبيه قيل : أكلت النار الحطب، والأُكْل لما يؤكل، بضم الکاف وسکونه، قال تعالی: أُكُلُها دائِمٌ [ الرعد/ 35]
( ا ک ل ) الاکل
کے معنی کھانا تناول کرنے کے ہیں اور مجازا اکلت النار الحطب کا محاورہ بھی استعمال ہوتا ہے یعنی آگ نے ایندھن کو جلا ڈالا۔ اور جو چیز بھی کھائی جائے اسے اکل بضم کاف و سکونا ) کہا جاتا ہے ارشاد ہے { أُكُلُهَا دَائِمٌ }…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
ترکیب : بینکم ثابت سے متعلق ہو کر حال ہوا اموال سے۔ بالباطل۔ لاتاکلوا سے متعلق ہے الاستثناء منقطع تکون کا اسم ضمیر جو اموال کی طرف پھرتی ہے تجارت خبر بعض نے کان تامہ قرار دے کر تجارۃ کو بالرفع بھی پڑھا ہے عن تراض موصوف منکم صفت مجموعہ تجارۃ کی صفت ومن یفعل مرفوع بالابتداء فسوف خبر مدخلا بالضم مصدروبالفتح ظرف۔
تفسیر : جبکہ عورتوں کے متعلق نکاح کے احکام بیان کئے گئے اور مصارف مہر ادا کرنے کی تاکید فرمائی گئی تو اس کے بعد جو کچھ باہمی کج اخلاقی اور جورو خصم کی بدمزگی سے برے نتائج پیدا ہوتے ہیں ان کی اصلاح فرماتا ہے کہ تم باہم اپنے مال دغا فریب کے طور پر نہ کھا جایا کرو۔ نہ بیوی میاں کے مال میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
یٰٓاَیُّھَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لاَ تَاْکُلُوْٓا اَمْوَالَـکُمْ بَیْنَـکُمْ بِالْبَاطِلِ اِلاَّ ٓ اَنْ تَکُوْنَ تِجَارَۃً عَنْ تَرَاضٍ مِّنْکُمْ قف وَلاَ تَقْتُلُوْٓا اَنْفُسَکُمْ ط اِنَّ اللّٰہَ کَانَ بِکُمْ رَحِیْمًا وَمَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِکَ عُدْوَانًا وَّظُلْمًا فَسَوْفَ نُصْلِیْہِ نَارًا ط وَکَانَ ذٰلِکَ عَلَی اللّٰہِ یَسِیْرًا
(اے ایمان والو ! آپس میں ایک دوسرے کے مال باطل طریقے سے نہ کھائو مگر یہ کہ تجارت ہو آپس کی خوشی سے اور ایک دوسرے کو قتل نہ کرو، بیشک اللہ تم پر بڑا مہربان ہے اور جو شخص یہ کام کرے گا تعدی اور ظلم سے تو ہم اس کو ایک سخت آگ میں جھونک دیں گے اور یہ اللہ کے لیے بہت ہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
فہم القرآن
ربط کلام : حرمت رشتہ اور حرمت اموال کا باہم معنوی تعلق ہے کیونکہ دونوں کا خیال نہ رکھنے سے رنجشیں پیدا ہونے کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی قائم کردہ حرمت پامال ہوتی ہے۔
سورت کی ابتدا میں اب تک خاندان، یتامیٰ اور لونڈیوں کے معاشرتی و مالی حقوق کا ذکر اور ان کے ساتھ مقدس رشتوں کی حرمت و تکریم کا بیان ہوا ہے۔ اب مالی حقوق کو قدرے وسعت کے ساتھ یوں بیان فرمایا کہ تم اپنے ہی مال آپس میں باطل طریقے کے ساتھ نہ کھا یا کرو۔ البتہ باہمی رضا مندی کے ساتھ ایک دوسرے سے لین دین کے ذریعے مال لینا اور کھانا جائز ہے۔ جس طرح تم اپنے مال ناجائز طریقے سے نہیں کھاسکتے اسی طرح تمہیں اپنے آپ کو قتل بھی نہیں کرنا…
Read the full tafseer →آیت 29 : یٰٓـاَ ۔ یُّہَا الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا لَا تَاْکُلُوْٓا اَمْوَالَکُمْ بَیْنَکُمْ بِالْبَاطِلِ (اے ایمان والو ! تم اپنے مال اپنے درمیان ناجائز طریقہ سے مت کھائو) جن کاموں کو شریعت نے مباح قرار نہیں دیا جیسے چوری ٗ خیانت۔ غصب۔ قمار۔ معاملہ ربا وغیرہ۔
اِلاَّ ٓاَنْ تَکُوْنَ تِجَارَۃً (مگر یہ کہ تجارت ہو) یعنی کھانے کا ذریعہ تجارت ہو۔ قراءت : کوفی قراء نے تجارۃً پڑھا ہے۔ یعنی تجارت ہو۔ عَنْ تَرَاضٍ مِّنْکُمْ (اپنے مابین رضا مندی سے) یہ تجارت کی صفت ہے۔ تقدیر عبارت یہ ہے۔ تجارۃ صادرۃ عن تراض بالعقد۔ تجارت جو باہمی رضا مندی کے معاہدہ سے ہو یا لیکن تجارت باہمی رضا مندی والی ممنوع طرق سے نہ…
Read the full tafseer →29۔ (آیت)” یایھا الذین امنوا لا تاکلوا اموالکم بینکم بالباطل “۔ باطل سے مراد حرام ہے خواہ وہ سود ہو ، قمار ہو یا کسی سے غصب کیا ہو چوری یا ہو یا خیانت کی ہو ، بعض نے کہا کہ اس سے مراد عقود فاسدہ ہیں ۔ (آیت)” الا تن تکون تجارۃ “۔ اہل کوفہ نے ” تجارۃ “ منصوب پڑھا ہے کان کی خبر ہونے کی وجہ سے ، مطلب ہوگا کہ مگر ہو اموال تجارۃ ، دوسرے قراء نے ” تجارۃ “ رفع کی حالت میں پڑھا ہے معنی ہوگا واقع ہو ان کے درمیان تجارۃ (آیت)” عن تراض منکم “۔ تم میں سے ہر ایک کی اپنی خوشی سے ، بعض نے کہا کہ آپس کی رضا مندی سے ، رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا بیع صرف آپس کی رضا مندی سے ہوتی ہے ۔
نافع حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–31
(29 ۔ 31) ۔ جب تک آدمی مجرور رہتا ہے تو اس کو لفظ اپنی ذات کے ہی خرچ اخراجات کی ضرورت پڑتی ہے۔ پھر جب شادی۔ بیاہ ہو کر بی بی کا اور بال بچے ہو کر ان کا خرچ اس کے ذمے پڑجاتا ہے تو کسی نہ کسی حیلہ سے اس کو کمائی کا خیال ہوتا ہے۔ اسی مناسبت کے سبب سے نکاح کے احکام کے بعد ان آیتوں میں انسان کی کمائی کا ذکر فرمایا باطل ناحق کو کہتے ہیں۔ سود۔ چوری۔ خیانت وغیرہ یہ سب مال کے ناحق کے طور پر کمانے کے طریقے ہیں اور ان میں ہر ایک طریقہ کی ممانعت کی جدا جدا بڑی تفصیل سے شریعت میں احکام ہیں۔ ناحق طور پر کمائی کے طریقوں کے ذکر کے بعد جائز اور حق طور پر کمائی کے طریقہ خریدو فر وخت کو مستثنیٰ فرما کر ذکر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–29
آیت 28
(یرید اللہ ان یخفف عنکم) ” اللہ چاہتا ہے کہ تم پر سے بوجھ ہلکا کرے۔ “ یعنی اللہ تعالیٰ اوامرونواہی کی آسانی کے ذریعے سے تمہارے لئے تخفیف پیدا کرنا چاہتا ہے۔ پھر بعض شرعی احکام میں مشقت کے باوجود اگر حاجت تقاضا کرتی ہے تو اضطراری حالت میں مجبور شخص کے لئے انہیں مباح کردیا ہے مثلاً مردار اور خون وغیرہ کا تناول کرنا مجبور شخص کے لئے مباح ہے۔ اسی طرح مذکورہ شرائط کو محلوظ رکھتے ہوئے لونڈی سے نکاح کرنا جائز ہے۔ یہ اس کی رحمت کاملہ اور اس احسان کے سبب سے ہے جو سب کو شامل ہے اور یہ اس کی حکمت اور علم پر مبنی ہے۔ وہ جانتا ہے کہ انسان ہر لحاظ سے کمزور ہے، اس کی بنیاد ہی کمزوری پر رکھی گئی ہے،…
Read the full tafseer →تجارت اور خیار بیع کا بیان
قول باری ہے (یا یہا الذین امنوا لاتأکلو اموالکم بینکم بالباطل الا ان تکون تجارۃ عن تراض منکم) اے ایمان والو ! آپس میں ایک دوسرے کا مال ناجائز طریقوں سے نہ کھاؤ۔ البتہ اگر باہمی رضامندی سے تجارت کی صورت ہوجائے، ( تو اس میں کوئی حرج نہیں) ۔
ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ اس عموم میں ناجائز طریقے سے دوسروں کا مال کھانے نیز اپنا مال کھانے، دونوں کی کی نہیں شامل ہے۔ اس لیے قول باری (اموالکم) کا اطلاق غیر کے مال نیز اپنے مال دونوں پر ہوتا ہے جیسا کہ ایک اور مقام پر ارشاد باری ہے (ولا تقتلوا انلسکم، اپنے آپ کو قتل نہ کرو) ۔
یہ آیت اپنے آپ کو قتل کرنے نیز کسی اور کو قتل کرنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–29
68 انسان کے جبلی اور طبعی ضعف کا ذکر : سو اس سے انسان کے طبعی ضعف اور خواہشات نفس کے مقابلے میں اس کی فطری کمزوری کو بیان فرمایا گیا ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ انسان کو کمزوری سے پیدا کیا گیا ہے۔ یعنی انسان کمزور ہے خواہشات نفس کے مقابلے میں۔ کہ ان کو پوری طرح سے دبانا اور کچلنا اس انسان ضعیف البنیان کے بس میں نہیں رہتا ۔ الا ماشاء اللہ ۔ اسی لئے اس انسان کے لئے احکام میں نرمی اور رعایت برتی گئی۔ (محاسن، روح، صفوۃ، وغیرہ) ۔ اور حضرت خالق ۔ جل مجدہ ۔ سے بڑھ کر کون اس انسان ضعیف البنیان کی نفسیات سے واقف اور آگاہ ہوسکتا ہے ؟ ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو اس نے انسان کو جن احکام اور تعلیمات سے نوازا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
مسلمانوں کی جان و مال کی حفاظت
تشریح : دونوں آیات میں مطلب واضح طور پر بتایا گیا ہے۔ ایک نکتہ اس میں قابل تشریح ملتا ہے کہ اپنے آپ کو قتل نہ کرو۔ اس سے تین مطلب نکلتے ہیں کہ اگر کسی کو قتل کیا تو قصاص میں خود بھی قتل کئے جاؤ گے، یعنی دوسرے کو قتل کرکے اپنے قتل کا راستہ بنا لیا۔ دوسرا مطلب خود کشی مراد ہوسکتی ہے تو یہ کیونکہ حرام موت ہے، اس لیے یہ بھی گناہ عظیم ہے۔ تیسرا مطلب یہ ہے کہ حرام مال کھا کر یا ظلم و زیادتی سے دوسرے کا مال کھا کر اپنے نامہ اعمال کو خراب نہ کرو اور حرام مال کھانے سے دنیا میں بھی بہت بڑی سزاملتی ہے اور وہ ہے بےسکونی، پریشانی اور بیماری۔ حرام مال جیسے آتا ہے ویسے ہی چلا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–31
آیت نمبر 29 تا 30:۔ یا ایھا الذین امنوا لاتاکلوا۔۔ ۔ فندخلکم مدخلا کریما۔
مال حرام کا کاروبار :
کمالاتِ روحانی اور تجلیات باری سے اس خاکی وجود کو منور کرنے کے لیے ضروری ہے کہ اس میں حرام کی آمیزش نہ کی جائے جس عمارت پر کیچڑ تھوپ دیا جائے اس میں تو وہ چمک دمک اور خوبصورتی پیدا نہیں ہوسکتی جس کی تم امید رکھتے ہو سو۔ اموالکم۔ فرما کر یہ اشارہ فرمایا کہ سب مسلمانوں کے مال تمہارے اپنے مال ہیں سو اپنے مال کی حفاظت کی جانی چاہئے نہ کہ اسے ضائع کیا جائے پھر حرام کا لقمہ پیٹ میں حل ہو کر اعضاء وجوارح کی قوت بنتا ہے ہاتھ پاؤں آنکھ زبان دماغ اور دل تک سب اس سے متاثر ہوتے ہیں جب یہاں سب حرام جمع ہوجائے…
Read the full tafseer →ف 4 نفوس کے احکام کے بعد اب اموا میں اتصرف کے احکام کا بیان ہے۔ (رازی) کسب معاش کے جتنے ناجائز ذریعے ہیں سب بالباطل میں ّآجاتے ہیں حتی کہ حیلہ سازی کے ساتھ کسی کا مال کھانا بھی حرام ہے اور اپنے مال کو غلط طریقوں سے اڑنا بھی اسی میں داخل ہے (کبیر، ابن کثیر)5 ہاں تجارت کے ذریعہ جس میں پورے طور پر رضا مندی ہو کما و اور کھا و پورے طور پر رضا مندی میں یہ چیز بھی داخل ہے کہ جب تک بائع اور مشتری اس مجلس میں بیع سے الگ نہ ہوں اس وقت تک ایک دوسرے کو بیع رد کرنے کا حق ہے۔ ( ابن کثیر شوکانی)6 خود کشی حرام ہے۔ حدیث میں ہے کہ جس آلہ سے کو کہ انسان اپنے آپ کو قتل کرے گا دوزخ کے اندر اس آلہ سے اس کو عذاب…
Read the full tafseer →(4:29) تراض۔ باہمی رجا مندی۔ آپس کی خوشی۔ ایک کا دوسرے سے راضی ہونا۔ (باب تفاعل) مصدر ہے۔ ی حرف علت بوجہ ثقالت۔ آخر سے گرگئی۔ رضی مادہ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–31
آیت نمبر 29-31
لغات القرآن : تراض، آپس کی رضا مندی۔ عدوان، زیادتی۔ نصلیہ، ہم ڈالیں گے اس کو ۔ یسیر، آسان۔ تجتنبوا، تم بچ گئے۔ کبائر، بڑے گناہ۔ تنھون، تمہیں منع کیا گیا ہے۔ نکفر، ہم دور کریں گے۔ مدخلا کریما، عزت و احترام کا موام۔
تشریح : مومنوں سے خطان ہے کہ تم مومن یا غیر مومن کسی کا بھی مال ناجائز طریقہ سے مت کھاؤ۔ رشوت، ظلم، دھوکا، چوری، ڈاکہ، بلیک، اسمگلنگ، جھوٹ، ناجائز، خریدوفروخت، اجارہ داری، سود خوری، حق مارنا، چیز خراب کرنا، قرض ادا نہ کرنا، خیانت، وعدہ خلافی، کم تولنا، مال کا عیب ظاہر کئے بغیر بیچ دینا، دکھانا کچھ دینا کچھ، وغیرہ وغیرہ یہ سب ناجائز طریقے ہیں جن کا ان دونوں عر ب میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–31
ان آیتوں میں انسان کی کمائی کا ذکر فرمایا کہ سود ، چوری خیانت وغیرہ یہ سب مال کے ناحق طور پر کمانے کے طریقے ہیں اور ان میں ہر ایک طریقہ کی جدا جدا ممانعت کی بڑی تفصیل سے شریعت کے احکام ہیں۔ اس کے بعد جائز اور حق طور پر کمائی کے طریقے خریدو فروخت کو مستثنیٰ فرما کر ذکر فرمایا خریدو فروخت کی بہت سی مختلف صورتیں ہیں، ہر ایک صورت کا شریعت میں جدا جدا حکم ہے جو فرمایا : نہ خون کرو آپس میں اس کا ایک مطلب یہ ہے کہ لوگوں کا مال ناحق کھا کر اپنی جاں ہلاکت میں نہ ڈالو۔ اللہ کا تم پر رحم ہے ۔ کا یہ مطلب ہے کہ پچھلی امتوں کی توبہ ان کا قتل کرنا قرار پائی تھی اور تم پر ایسا سخت حکم نازل نہیں کیا جاتا۔ اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
[26] اس کے دو معنی ہیں ایک یہ کہ دوسروں کا مال ناجائز طور پر کھا کر اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنا ہے اور دوسرے یہ کہ ایک دوسرے کو قتل یا خود کشی نہ کرو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
(ف 2) اس آیت میں بتایا ہے کہ ناجائز وسائل سے مال حاصل کرنا گناہ ہے ، البتہ باہم رضا مندی سے تجارت میں کوئی مضائقہ نہیں ،
یعنی تجارت کل حلال کا بہترین ذریعہ ہے افسوس ! آج مسلمان تجارت نہ کر کے دنیا بھر میں ذلیل ورسوا ہے ۔
حالانکہ خدا تعالیٰ نے مسلمان کو تاجر پیدا کیا تھا (آیت) ” ولا تقتلوا انفسکم “ کا مطلب یا تو یہ ہے کہ عام طور پر چونکہ جعل و فریب سے لڑائیاں ہوتی ہیں ، اس لئے تم ایک دوسرے کو دھوکا نہ دو اور باہمی رضا جوئی سے کام لو اور یا یہ کہ جو قوم تجارت کو ترک کردیتی ہے وہ مردہ ہے ، اس میں کوئی زندگی باقی نہیں رہتی ۔
دیکھ لیجئے ، آج مسلمان کیا محض اس لئے حقیر نہیں شمار کئے جاتے کہ ان کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–29
(ف 3) اللہ تعالیٰ کو یہ منظور ہے کہ وہ تم پر آسانی اور تخفیف فرمائے اور تم پر سے بوجھ کو ہلکا کردے کیونکہ انسان کو طبعاً کمزور پیدا کیا گیا ہے۔ (تیسیر)
مطلب یہ ہے کہ انسان اور مکلفین کے مقابلہ میں چونکہ طبعاً کمزور بنایا گیا ہے اور احکام شاقہ کا تحمل نہیں کرسکتا اس لئے اللہ تعالیٰ تم پر آسانی کرنا چاہتا ہے اور یہ اس کے علم و حکمت اور رحمت و شفقت کا کمال ہے اور یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ سابقہ امم پر جو احکام مقررکئے تھے اس میں تمہاری حالت کا لحاظ کرتے ہوئے تخفیف منظور ہے اور ہم جانتے ہیں کہ تم پر سے اس بوجھ کو ہلکا کردیں کیونکہ اول تو انسان ضعیف الخلقت ہے پھر آخری امت اپنے قوی اور ہمت کے اعتبار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–29
ف 1۔ شہوت پرست لوگوں سے بقول ابن زید مراد فساق ہیں اور بقول ابن عباس مراد زانی ہیں یہاں شہوت پرستی کی مذمت میں شہوت مباحہ سے منقطع ہونا داخل نہیں ہے۔
2۔ بڑی بھاری کجی کے دو مطلب ہیں ایک یہ کہ بےباکانہ حرام کا مرتکب ہونا دوسرے یہ کہ حرام کو حلال سمجھ جانا۔ اور اس کے مقابلہ میں ہلکی کجی یہ ہے کہ گناہ کو گناہ سمجھے اور اتفاقا اس کا صدور ہوجائے اس آیت میں اس میل غیرعظیم کی اجازت نہیں ہے بلکہ بیان کرنا ہے ان بدخواہوں کے حال کا وہ میل عظیم کی سعی میں ہیں۔
Read the full tafseer →مسلمانوں کو ہدایت کہ ایک دوسرے کا مال باطل طریقوں سے مت کھاؤ :
65: گزشتہ آیات میں ہدایات دی تھیں کہ یہ احکام جو تم کو دیئے گئے ہیں ان کا اصل مقصود یہ چار چیزیں تھیں۔
1: اول یہ کہ فلاح وسعادت کی جس راہ پر تم سے پہلے نیک انسان چل چکے ہیں وہ تم پر بھی کھل جائے۔
2: دوم یہ کہ احکام معاشر میں سختیاں جکڑ بندیاں نہ ہوں بلکہ سہولتیں اور آسانیاں ہوں۔
3: سوم یہ کہ جن معاشرتی برائیوں میں تم مبتلا تھے ان سے آئندہ تائب ہوجاؤ اور جان لو کہ جس اندھے کنوئیں میں پہلے گرے ہم اس سے کس طرح بچ سکتے ہیں۔
4: چہارم یہ کہ افراط وتفریط سے بچو اور نفس پرستی میں بےلگام نہ ہوجاؤ ورنہ وہی کچھ ہوگا جو پہلوں کے ساتھ…
Read the full tafseer →Sequence
Looking back from the beginning of Surah Al-Nisa', we see that it points out to the creation of all human beings from one father and mother and to the fact that all of them are bound in one big bond of brotherhood which suggests that rights of human beings at large have to be guarded and fulfilled. Then came a detailed statement about orphans and women which was followed by the injunctions of inheritance stressing upon the fulfillment of the rights of other relations in addition to those of the orphans and women. Pursuant to this came the injunctions of marriage telling about women…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
50. The expression 'wrongfully' embraces all transactions which are opposed to righteousness and which are either legally or morally reprehensible. By contrast, 'trade' signifies the mutual transfer of benefits between the parties concerned, such as that underlying those transactions in which one person provides whatever satisfies the needs of another person and is paid in return. 'Mutual consent' means that the exchange should be free of undue pressure, fraud and deception. Although bribery and interest apparently represent transactions based on mutual consent, closer examination reveals…
Read the full tafseer →