An-Nisaa 4:28

An-Nisaa · from ayah 28

4:28

یُرِیْدُ اللّٰهُ اَنْ یُّخَفِّفَ عَنْكُمْ ۚ— وَخُلِقَ الْاِنْسَانُ ضَعِیْفًا ۟يُرِيۡدُ اللّٰهُ اَنۡ يُّخَفِّفَ عَنۡكُمۡ‌ۚ وَخُلِقَ الۡاِنۡسَانُ ضَعِيۡفًا‏

خدا چاہتا ہے کہ تم پر سے بوجھ ہلکا کرے اور انسان (طبعاً) کمزور پیدا ہوا ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And Allah wants to lighten for you [your difficulties]; and mankind was created weak.

— Saheeh International

Juz 5 · Ruku 5 of surah · Ruku 2 of juz

Read the whole surah · Surah An-Nisaa

All translations of 4:28

اللہ تم پر سے پابندیوں کو ہلکا کرنا چاہتا ہے کیونکہ انسان کمزور پیدا کیا گیا ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

خدا چاہتا ہے کہ تم پر سے بوجھ ہلکا کرے اور انسان (طبعاً) کمزور پیدا ہوا ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اللہ چاہتا ہے کہ تم سے تخفیف کر دے کیونکہ انسان کمزور پیدا کیا گیا ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اللہ چاہتا ہے کہ تمہارے ساتھ آسانی کا معاملہ کرے اور انسان کمزور پیدا ہوا ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اللہ چاہتا ہے کہ تم پر تخفیف کرے اور آدمی کمزور بنایا گیا

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اللہ چاہتا ہے کہ تم سے بوجھ ہلکا کر دے، اور اِنسان کمزور پیدا کیا گیا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اللہ چاہتا ہے کہ تم سے (بوجھ) ہلکا کرے اور انسان کمزور پیدا کیا گیا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اللہ یہ چاہتا ہے کہ تم سے (رسم و رواج کی پابندیوں کو) ہلکا کردے کیونکہ انسان کمزور پیدا کیا گیا ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اللہ چاہتا ہے کہ تم پر سے بوجھ کو ہلکا کرے اور انسان کمزور بنایا گیا ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اللہ چاہتا ہے کہ ہلکا کردے تم لوگوں سے (سختیوں اور پابندیوں کے بوجھ) اور انسان بڑا کمزور پیدا کیا گیا ہے

— مولانا اسحاق مدنی

اللہ کو منظور ہے کہ تمہارے ساتھ تخفیف برتین اور انسان تو کمزور پیدا ہی کیا گیا ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اللہ چاہتا ہے کہ تم پر سے بوجھ کو ہلکاکرے۔ اور انسان کمزور پیدا کیا گیا ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اللہ تم پر سے پابندیوں کو ہلکا کرنا چاہتا ہے کیونکہ انسان کمزور پیدا کیا گیا ہے

— محترمہ رفعت اعجاز

Allah wants to lighten your burdens, for man was created weak.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Allah intends to make things easy on you. And man has been created weak.

— Muhammad Taqi Usmani

Allah intends to make things easy on you. And man has been created weak.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Allah wishes to lighten (the burden) for you; and man was created weak.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Allah would make the burden light for you, for man was created weak.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And Allah wants to lighten for you [your difficulties]; and mankind was created weak.

— Saheeh International

God wants to relieve you of your burden; all human beings were created weak.

— Muhammad Sarwar

Allah desires that He should make light your burdens, and man is created weak.

— Muhammad Habib Shakir

Allah intendeth that he shall lighten unto you, and man hath been created weak.

— Abdul Majid Daryabadi

Allah doth wish to lighten your (difficulties): For man was created Weak (in flesh).

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 4:28

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 26–28

پچاس سے پانچ نمازوں تک فرمان ہوتا ہے کہ اے مومنو اللہ تعالیٰ ارادہ کرچکا ہے کہ حلال و حرام تم پر کھول کھول کر بیان فرما دے جیسے کہ اس سورت میں اور دوسری سورتوں میں اس نے بیان فرمایا وہ چاہتا ہے کہ سابقہ لوگوں کی قابل تعریف راہیں تمہیں سمجھا دے تاکہ تم بھی اس کی اس شریعت پر عمل کرنے لگ جاؤ جو اس کی محبوب اور اس کی پسندیدہ ہیں وہ چاہتا ہے کہ تمہاری توبہ قبول فرمالے جس گناہ سے جس حرام کاری سے تم توبہ کرو وہ فوراً قبول فرما لیتا ہے وہ علم و حکمت والا ہے، اپنی شریعت اپنی اندازے اپنے کام اور اپنے فرمان میں وہ صحیح علم اور کامل حکمت رکھتا ہے، خواہش نفسانی کے پیروکار یعنی شیطانوں کے غلام یہود و…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 27–28

سورة النِّسَآء 49 یہ اشارہ ہے منافقین اور قدامت پرست جہلاء اور نواحی مدینہ کے یہودیوں کی طرف۔ منافقین اور قدامت پرستوں کو تو وہ اصلاحات سخت ناگوار تھیں جو تمدن و معاشرت میں صدیوں کے جمے اور رچے ہوئے تعصبات اور رسم و رواج کے خلاف کی جارہی تھیں۔ میراث میں لڑکیوں کا حصہ۔ بیوہ عورت کا سسرال کی بندشوں سے رہائی پانا اور عدت کے بعد اس کا ہر شخص سے نکاح کے لیے آزاد ہوجانا۔ سوتیلی ماں سے نکاح حرام ہونا۔ دو بہنوں کے ایک ساتھ نکاح میں جمع کیے جانے کو ناجائز قرار دینا۔ متبنّٰی کو وراثت سے محروم کرنا اور منہ بولے باپ کے لیے متبنّٰی کی بیوہ اور مطلقہ کا حلال ہونا۔ یہ اور اس طرح کی دوسری اصلاحات میں سے ایک…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

پھر فرمایا یریداللہ ان یخفف عنکم یعنی اللہ پاک تم پر تخفیف اور ہلکے احکام کا ارادہ فرماتے ہیں، تمہاری دقتیں دور کرنے کے لئے نکاح کے بارے میں ایسے نرم احکام دیئے جن پر سب عمل پیرا ہو سکتے ہیں اور اگر آزاد عورتوں سے نکاح کی طاقت نہ ہو تو باندیوں سے نکاح کی اجازت دے دی ہے، مہر کے بارے میں طرفین کو باہمی رضا مندی سے طے کرنے کا اختیار دیا اور ضرورت کے وقت ایک سے زائد عورت سے بھی نکاح کی اجازت دی گئی، بشرطیکہ عدل ہاتھ سے نہ چھوٹے۔ پھر فرمایاخلق الانسان ضعیفاً یعنی انسان خلقی طور پر ضعیف ہے اور اس کے اندر شہوانی مادہ رکھا گیا ہے، اگر بالکل ہی عورتوں سے دور رہنے کا حکم دیا جاتا تو اطاعت اور…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 26–28

تفسیر آیات 26 تا 28: فصل 12: آیات 26۔۔۔ 28 کا مضمون : معاشرتی اصلاح سے متعلق احکام و ہدایات کے بیچ میں یہ تین آیتیں بطور تنبیہ و تذکیر آگئی ہیں۔ جن سے مقصود ایک طرف تو مسلمانوں کو ان احکام کی عظیم قدر و قیمت کی طرف توجہ دلانا ہے کہ اللہ تعالیٰ یہ تمہاری طرف تمام انبیاء و صالحین کی وراثت منتقل کر رہا ہے تو اس کی سچے دل سے قدر کرو اور حمت الٰہی کے مستحق بنو، دوسری طرف اس طوفان مخالفت سے آگاہ کرنا ہے جو ان اصلاحات کی مخالفت میں اس مفاد پرست طبقہ کی طرف سے اٹھ رہا تھا جو یتیموں، بیواؤ، کمزوروں اور غلاموں کے حقوق پر غاصبانہ تسلط جمائے بیٹھا تھا اور کسی طرح بھی اپنے اس تسلط سے دستبردار ہونے کے لیے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

28۔ 1 اس کمزوری کی وجہ سے اس کے گناہ میں مبتلا ہونے کا اندیشہ زیادہ ہوتا ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے ممکن آسانیاں اسے لئے فراہم کی ہیں انہیں میں سے لونڈیوں سے شادی کی اجازت ہے بعض نے اس ضعف کا تعلق عورتوں سے بتلایا ہے یعنی عورت کے بارے میں کمزور ہے اسی لئے عورتیں بھی باوجود نقصان عقل کے اس کو آسانی سے اپنے دام میں پھنسا لیتی ہیں۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

24: انسان فطری طور پر جنسی خواہش کا مقابلہ کرنے میں کمزور واقع ہوا ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس کو یہ خواہش جائز طریقے سے پورا کرنے سے نہیں روکا ؛ بلکہ نکاح کو اس کے لئے آسان بنادیا ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

(آیت) ” یرید اللہ ان یخفف عنکم وخلق الانسان ضعیفا “۔ (4 : 28) ” اللہ تم پر عائد شدہ پابندیوں کو ہلکا کرنا چاہتا ہے کیونکہ انسان کمزور پیدا کیا گیا ہے ۔ “ گزشتہ آیات میں خاندانی نظام کے بارے میں جو احکام دیئے گئے ہیں اور قانون سازی کی گئی ہے اور جو ہدایات دی گئی ہیں ان میں تو تخفیف بالکل واضح نظر آتی ہے ۔ مثلا انسان کے فطری میلانات اور جنسی خواہش کو تسلیم کیا گیا ہے ۔ صرف اس جذبے کو منظم کر کے اس اک رخ تعمیری خطوط کیطرف موڑ دیا گیا ہے جس کے استعمال کے لئے پاک وصاف دائرہ کار مقرر کردیا گیا ہے ۔ اس کے لئے پاک وصاف اور بہترین ماحول بنایا گیا ہے ‘ اور یہ حکم نہیں دیا گیا کہ انسان اپنی اس فطری…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

4 یعنی انسان کو اللہ نے ضعیف بنایا ہے اس کو خوب معلوم ہے کہ یہ اپنی شہوات و مرغوبات سے کہاں تک صبر کرسکتا ہے تو اس لئے ہر حکم میں تخفیف کا بھی لحاظ فرمایا گیا ہے یہ نہیں ہوا کہ انسان کے حق میں جو مفید دیکھا وہ اس کے ذمہ لگا دیا سہل ہو یا دشوار مثلاً عورتوں اور شہوت سے صبر کرنا آدمی کو بہت دشوار تھا اس لئے اس کی خواہش پورا کرنے کے لئے طریقے جائز اللہ نے بتلا دیے کہ اس سے اپنا مطلب حاصل کرسکے یہ نہیں کہ قضائے شہوت سے بالکل روک دیا گیا ہو۔ حق تعالیٰ نے اپنی رحمت سے شریعت میں تنگی نہیں فرمائی کہ کوئی حلال کو چھوڑے اور حرام کی طرف دوڑے۔ خلاصہ ان آیتوں کا یہ نکلا کہ نفس کو شہوات سے بچانا اور ان…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 28 یُرِیْدُ اللّٰہُ اَنْ یُّخَفِّفَ عَنْکُمْ ج“ تم یہ نہ سمجھو کہ اللہ تم پر بوجھ ڈال رہا ہے۔ اللہ تو تم پر تخفیف چاہتا ہے ‘ تم سے بوجھ کو ہلکا کرنا چاہتا ہے۔ اگر تم ان چیزوں پر عمل نہیں کرو گے تو معاشرے میں گندگیاں پھیلیں گی ‘ فساد برپا ہوگا ‘ جھگڑے ہوں گے ‘ بدگمانیاں ہوں گی۔ اللہ تعالیٰ اس سب کی روک تھام چاہتا ہے ‘ وہ تمہارے لیے آسانی چاہتا ہے۔ وَخُلِقَ الْاِنْسَانُ ضَعِیْفًا اس کے اندر کمزوری کے پہلو بھی موجود ہیں۔ جہاں ایک بہت اونچا پہلو ہے کہ اس میں روح ربانی پھونکی گئی ہے ‘ وہاں اس کے اندر نفس بھی تو ہے ‘ جس میں ضعف کے پہلو موجود ہیں

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

47 شرعی احکام میں انسای کمزوریوں کا لحاظ :۔ یعنی یہ احکام دینے میں اس بات کو ملحوظ رکھا گیا ہے کہ انسان فطرتاً کمزور ہے لہذا ان احکام میں انسان کی سہولت اور بساط کو مدنظر رکھا گیا ہے۔ مثلاً یہ کہ انسان اپنی شہوت پر کنٹرول نہیں کرسکتا تو اسے ایک سے چار بیویوں تک نکاح کی اجازت دے دی گئی ہے اور اس میں سہولتوں کو مدنظر رکھ کر اسے آسان بنادیا گیا ہے۔ نیز جو بھی احکام شریعت ہیں ان میں اعتدال کو ملحوظ رکھا گیا ہے اور پھر معاشرہ کے کمزور افراد کے لیے رخصتیں بھی رکھ دی گئی ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

98 ۔ (کمزور جسم کے لحاظ سے بھی اور کمزور ارادہ کے لحاظ سے بھی) (آیت) ” ان یخفف عنکم “۔ چناچہ شریعت کے سارے احکام میں انسان کی سہولتوں کا لحاظ رکھ لیا گیا ہے۔ (آیت) ” خلق الانسان ضعیفا “۔ چناچہ جتنے بھی احکام شرعی ہیں سب کے ضعف جسمانی وضعف ارادی کی ہی رعایت سے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

یریداللّٰہ ان یخفف عنکم، یعنی اللہ تعالیٰ تمہاری تکلیف ومشقت کے پیش نظر تمہارے لئے ہلکے احکام کا ارادہ فرماتے ہیں اسی لئے نکاح کے بارے میں ایسے نرم احکام دیئے ہیں جن پر عمل کرنا آسان ہو انسان چونکہ خلقی طور پر ضعیف ہے، اسلئے کہ نفس، خواہش شہوت اسکے اندرخلقتہً موجود ہے، اسی کے پیش نظر اللہ تعالیٰ نے انسان کیلئے آسانیاں رکھی ہیں۔ طرفین کی رضامندی سے طے کرنے کا اختیاردیدیا، اور ضرورت کے وقت ایک سے زائدعورتوں سے نکاح کی بھی اجازت دیدی بشرطیہ کہ دامن عدل ہاتھ سے نہ چھوٹے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

یرید اللہ ان یخفف عنکم اللہ تمہارا بوجھ ہلکا کرنا چاہتا ہے اسی لئے اس نے آسان نرم لیکن برحق شریعت تمہارے لئے مقرر کی ہے اور گزشتہ قوموں کے لئے جو چیزیں حرام تھیں ان میں سے کچھ تمہارے لئے حلال کردی ہیں۔ ابن ابی شیبہ نے المصنف میں اور ابن المنذر نے تفسیر میں مجاہد ؓ : کا قول نقل کیا ہے کہ جو سہولتیں اللہ نے اس امت کو عنایت فرمائی ہیں ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اللہ نے باندیوں سے اور عیسائی و یہودی عورتوں سے مسلمان کا نکاح جائز قرار دیا ہے۔ تفسیر مدارک میں مذکور ہے کہ یہ قول حضرت ابن عباس ؓ : کا ہے۔ وخلق الانسان ضعیفا اور انسان پیدائشی کمزور ہے نہ خواہشات سے رک سکتا ہے نہ طاعات کی تکلیف اٹھا…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(28) اللہ تعالیٰ نے تم پر ضرورت کے وقت باندیوں سے شادی کو حلال کردیا اور انسان عورتوں سے نہیں رک سکتا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

يُرِيْدُ اللّٰهُ اَنْ يُّخَفِّفَ عَنْكُمْ ۚ۔۔ : یعنی اللہ تعالیٰ کو انسان کی کمزوری کا خوب علم ہے کہ عورتوں کے معاملے میں یہ کس قدر کمزور ہے، اس لیے احکام شریعت میں اس کی سہولت کا خیال رکھا گیا ہے اور دین میں سختی نہیں برتی گئی، فرمایا : (وَمَا جَعَلَ عَلَيْكُمْ فِي الدِّيْنِ مِنْ حَرَجٍ ۭ) [ الحج : 78 ] ”اور اس نے دین میں تم پر کوئی تنگی نہیں رکھی۔“ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”بیشک دین آسان ہے۔“ [ بخاری، الإیمان، باب الدین یسر : 39، عن أبی ہریرۃ ؓ ] اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”میں تمہارے پاس نہایت آسان حنیفی شریعت لے کر آیا ہوں۔“ [ بخاری، الإیمان، باب الدین یسر، قبل ح : 39، عن أبی ہریرۃ ؓ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 27–28

آیت نمبر : 27 تا 28) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” واللہ یرید ان یتوب علیکم “۔ یہ مبتدا خبر ہے اور ان، یرید “ کی وجہ سے محل نصب میں ہے اسی طرح (آیت) ” یرید اللہ ان یخفف عنکم “۔ میں بھی ” ان یرید “ کی وجہ سے محل نصب میں ہے، معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہاری احکام شرع میں ہیں اور یہی صحیح قول ہے، بعض علماء نے فرمایا : تخفیف سے مراد لونڈی سے نکاح کرنا ہے یعنی جب ہم نے جان لیا کہ تم عورتوں پر صبر کرنے میں کمزور ہو تو ہم نے لونڈیوں سے نکاح کرنے کی تخفیف کردی، یہ مجاہد، ابن زید اور طاؤس کا قول ہے۔ طاؤس نے کہا : انسان عورتوں کے معاملہ میں انتہائی کمزور ہے۔ (1) (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 40…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 26–28

(1) ابن جریر وابن ابی الدنیا نے التوبہ میں اور بیہقی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آٹھ آیات جو سورة نساء میں نازل ہوئی اس امت کے لئے خیر ہیں ان چیزوں میں سے جن پر سورج طلوع اور غروب ہوا ان میں پہلی لفظ آیت ” یرید اللہ لیبین لکم ویھدیکم سنن الذین من قبلکم ویتوب علیکم واللہ علیم حکیم “ اور دوسری ” واللہ یرید ان یتوب علیکم ویرید الذین یتبعون الشھوت ان تمیلوا میلا عظیما “ اور تیسری ” یرید اللہ ان یخفف عنکم وخلق الانسان ضعیفا “ اور چوتھی ” ان تجتنبوا کبائر ما تنھون عنہ نکفر عنکم سیاتکم وندخلکم مدخلا کریما “ اور پانچویں ” ان اللہ لا یظلم مثقال ذرۃ “ اور چھٹی ” ومن یعمل سوءا او یظلم نفسہ ثم یستغفر…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ یُرِیْدُ : چاہتا ہے ] [ اللّٰہُ : اللہ ] [ اَنْ : کہ ] [ یُّخَفِّفَ : وہ ہلکا کرے (دشواری کو) ] [ عَنْـکُمْ : تم سے ] [ وَخُلِقَ : اور پیدا کیا گیا ] [ الْاِنْسَانُ : انسان کو ] [ ضَعِیْفًا : کمزور ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 27–28

شہوت پرستوں کا طریق کار : جو لوگ شہوتوں کے بندے ہیں انہیں انسانیت محبوب و مرغوب ہی نہیں وہ تو انسان ہو کر پچھتا رہے ہیں اور نفس کے مزہ کے لیے محض حیوانیت پر اتر آئے ہیں۔ یورپ، امریکہ میں بےہودگی، فحاشی، زنا کاری کا جو سیلاب آیا ہوا ہے، چھوٹے بڑے حاکم و محکوم اور ہر طبقہ کے لوگ اس میں بہہ چکے ہیں، حکومتوں کا یہ حال ہے کہ کوئی قانون بناتے ہیں پھر جب دیکھتے ہیں کہ عوام اس کے مطابق نہیں چلتے تو قانون کو بدل دیتے ہیں۔ تھوڑا بہت جو قانون کا بھرم باقی ہے تو صرف اتنا سا ہے کہ زنا بالجبر ممنوع ہے۔ آپس کی خوشی سے زنا کاری جتنی مرتبہ بھی ہوجائے اس پر ان کے نزدیک کوئی مواخذہ نہیں، اور اب استلذاذ بالمثل…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 26–28

ذکر الطاف و عنایات خداوندی بہ اہل اسلام۔ قال اللہ تعالی۔ یرید اللہ۔۔۔ الی۔۔۔ ضعیفا۔ ربط) حلال و حرام کے احکام بیان کرنے کے بعد اہل اسلام پر اپنی عنایات اور الطاف کا ذکر فرماتے ہیں کہ اللہ تم کو ایسی چیزوں کا حکم دیتا ہے جو تمہارے لیے سراسر باعث منفعت اور مصلحت ہوں اور شہوت پرست تم کو دوسری طرف لے جانا چاہتے ہیں شہوت پرستوں کے نزدیک حلال و حرام کی کوئی تقسیم نہیں اللہ چاہتا ہے کہ تمہارے لیے بیان کردے یعنی تمہارے فائدہ اور مصلحت کے لیے حلال و حرام کو خوب کھول کر بیان کردے تاکہ تمہیں کسی امر میں اشتباہ باقی نہ رہے اور تم حق اور باطل اور حلال اور حرام میں تمیز کرسکو اور تاکہ اللہ تم کو ان لوگوں…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 25–28

21 جو لوگ آزاد عورتوں سے نکاح کرنے کی طاقت نہیں رکھتے وہ لونڈیوں سے نکاح کرلیں۔ لیکن لونڈی سے نکاح کرنے کے لیے اس کے مالک کی اجازت شرط ہے۔ اس آیت سے امام شافعی (رح) نے اس پر استدلال کیا ہے کہ جس میں آزاد عورت سے نکاح کرنے کی استطاعت ہو اس کے لیے لونڈی سے نکاح جائز نہیں جیسا کہ مفہوم شرط کا تقاضا ہے اور اہل حجاز کہتے ہیں کہ غیر مستطیع کے لیے کتابیہ لونڈی سے نکاح جائز نہیں کیونکہ فَتَیَاتِکُم کے بعد المومنات کی قید موجود ہے لیکن امام ابوحنیفہ ؓ کے نزدیک لونڈی خواہ مومنہ ہو خواہ کتابیہ سے بہتر صورت نکاح جائز ہے۔ حرہ سے نکاح کی استطاعت ہو یا نہ ہو۔ کیونکہ فَانْکِحُوْا مَا طَابَ لَکُمْ مِّنَ…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 26–28

ربط آیات گزشتہ دروس میں محرمات نکاح کا ذکر ہوا ، پھر اللہ تعالیٰ نے لونڈیوں کے ساتھ نکاح کرنے کی اجازت مرحمت فرمائی اور اس کی حکمت بھی بیان فرمادی ، اس کے بعد اللہ نے مخلوق پر اپنے احسان کا ذکر فرمایا ، اور حلال و حرام سے متعلقہ احکام کی حکمت بیان فرمائی ہے۔ مکمل وضاحت ارشاد ہوتا ہے یرید اللہ اللہ تعالیٰ چاہتا ہے لیبین لکمتا کہ بیان کردے تمہارے لیے وہ چیزیں جو تمہارے لیے حلال ہیں اور جو حرام ہیں اللہ تعالیٰ تمہیں وہ باتیں بھی بتانا چاہتا ہے جو تمہارے ساتھ مناسبت رکھتی ہیں اور جن میں تمہارافائدہ ہے۔ اور وہ باتیں بھی جن سے بچنا بھی تمہارے لیے ضروری ہے یہ اللہ تعالیٰ کا خاص احسان اور اس کی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

يُرِيْدُ اللہُ اَنْ يُّخَفِّفَ عَنْكُمْ۝ 0ۚ وَخُلِقَ الْاِنْسَانُ ضَعِيْفًا۝ 28 خفیف الخَفِيف : بإزاء الثّقيل، ويقال ذلک تارة باعتبار المضایفة بالوزن، و قیاس شيئين أحدهما بالآخر، نحو : درهم خفیف، ودرهم ثقیل . والثاني : يقال باعتبار مضایفة الزّمان، نحو : فرس خفیف، وفرس ثقیل : إذا عدا أحدهما أكثر من الآخر في زمان واحد . الثالث : يقال خفیف فيما يستحليه الناس، وثقیل فيما يستوخمه، فيكون الخفیف مدحا، والثقیل ذمّا، ومنه قوله تعالی: الْآنَ خَفَّفَ اللَّهُ عَنْكُمْ [ الأنفال/ 66] ، فَلا يُخَفَّفُ عَنْهُمُ [ البقرة/ 86] وأرى أنّ من هذا قوله : حَمَلَتْ حَمْلًا خَفِيفاً [ الأعراف/ 189] . الرّابع : يقال…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 26–28

ترکیب : یرید کا مفہوم ذلک محذوف ‘ لیبتین کالام یرید سے متعلق ہے اور ممکن ہے کہ لام زائدہ ہو تقدیرہ یریدان یتبیّن ویرید الذین یتبعون معطوف ہے واللّٰہ یریدان یتوب پر۔ ضعیفًا حال ہے انسان سے اور بعض کہتے ہیں تمیز ہے وفیہ مافیہ۔ تفسیر : لونڈیوں سے نکاح کی اجازت کے بعد یہ بھی فرما دیا تھا کہ یہ اس کے لئے ہے کہ جس کو حرامکاری میں گرفتار ہونے کا ڈر ہو ورنہ صبر کرنا تو بہتر ہے کیونکہ لونڈیوں کی عادتیں اچھی نہیں ہوتیں۔ اس کے بعد یہ بتلاتا ہے کہ یہ احکام اور نصائح ہم تمہارے فائدہ کے لئے بیان کرتے ہیں تاکہ تم صالحین اور راستبازوں کے طریقہ پر چل کر مقصود تک پہنچو۔ ویتوب علیکم سے یہی مراد ہے اور جو تمہیں…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 26–28

یُرِیْدُاللّٰہُ لِیُبَیِّنَ لَـکُمْ وَیَھْدِیَکُمْ سُنَنَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِـکُمْ وَیَتُوْبَ عَلَیْـکُمْ ط وَاللّٰہُ عَلِیْمٌ حَکِیْمٌ (اللہ چاہتا ہے کہ بیان کرے تمہارے لیے اور ہدایت دے تمہیں ان لوگوں کے طریقوں کی جو تم سے پہلے تھے اور تم پر رحمت کی نگاہ کرے اور اللہ جاننے والا اور حکمت والا ہے) (النسآء : 26) خاص ہے ترکیب میں قوم رسول ہاشمی امتِ مسلمہ کے نام سے جو نئی امت تشکیل پارہی ہے اس کے حوالے سے سورة بقرۃ میں اور پھر سورة نساء میں یہاں تک معاشرت، تمدن اور تہذیب کی تشکیل و تعمیر کے لیے ہدایات جاری تھیں کہ درمیان میں یہ تین آیتیں ایک خاص مقصد کے لیے نازل کی گئیں اور اس کے بعد پھر…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 26–28

فہم القرآن ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ عورتوں کے حقوق اور دیگر مسائل کے بارے میں دنیا کے دو بڑے مذاہب یہود و نصاریٰ نے بہت سے حقائق چھپا رکھے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان مسائل کو کھول کھول کر بیان کرنے کے بعد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے یہ اس لیے کھول کر بیان کیے ہیں تاکہ تمہیں پہلے انبیاء اور صلحاء کا راستہ دکھلایا جائے اور تمہیں معلوم ہو کہ اللہ کے برگزیدہ لوگوں کی زندگی کا کیا اسلوب ہوا کرتا ہے تاکہ تم صالح زندگی اختیار کرکے اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم کے حقدار بن جاؤ۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ تم پر اپنے کرم و فضل کے ساتھ توجہ کرنا چاہتا ہے۔ جو لوگ اپنے نفس کے پجاری، خواہشات کے بندے اور رسومات کے غلام بن…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 28 : یُرِیْدُ اللّٰہُ اَنْ یُّخَفِّفَ عَنْکُمْ (اللہ تعالیٰ تم سے تخفیف چاہتے ہیں) لونڈیوں کے نکاح کی رخصت دے کر۔ وَخُلِقَ الْاِنْسَانُ ضَعِیْفًا (اور انسان کمزور پیدا کیا گیا) کہ شہوات سے صبر نہیں کرتا۔ اور طاعات کی مشقتیں برداشت نہیں کرتا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

28۔ (آیت)” یرید اللہ ان یخفف عنکم “۔ تمہارے اوپر احکام شرع کو آسان کرنا چاہتا ہے ، جیسا کہ اللہ عزوجل نے اس آیت میں ذکر کیا ہے (آیت)” ویضع عنھم اصرھم “۔ نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے کہ مجھے دین حنیف دے کر بھیجا گیا ہے جس پر عمل کرنا آسان ہے ، (آیت)” وخلق الانسان ضعیفا “۔ طاؤس (رح) ، کلبی (رح) ، اور دوسرے حضرات کا قول ہے کہ یہ عورتوں کے بارے میں نازل ہوئی کہ وہ اس پر صبر نہیں کرسکتیں ، ابن کیسان (رح) کا قول ہے کہ وہ خواہش پر ست اور شہوت کی طرف مائل ہونے میں کمزور ہیں ، حسن بصری (رح) (رح) کا قول ہے کہ ان کو کمزور پانی سے پیدا کیا گیا ، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان میں ہے ۔ (آیت)” اللہ الذی خلقکم…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 26–28

(26 ۔ 27) ۔ اوپر حرام حلال کا ذکر فرما کر ان آیتوں میں فرمایا اللہ چاہتا ہے کہ تم کو اپنے دین کی جائز ناجائز باتیں اچھی طرح سمجھا دے تاکہ مثلاً ماں، بہن، بیٹی وغیرہ کے حرام جاننے کا تمہارا اور تم سے پہلے لوگوں کا طریقہ ایک ہوجائے اور اللہ نے اپنے وسیع علم سے بندوں کی ہر وقت کی مصلحت کو معلوم کر کے اپنی حکمت سے جو احکام نازل فرمائے ہیں ان کا عمل تم میں آسانی سے جاری ہوجائے اور اللہ یہ بھی چاہتا ہے کہ ان احکام کی تعمیل میں تم سے کوتاہی ہو اور اس کوتاہی پر نادم ہو کر اللہ کی جانب میں تم توبہ کرو۔ تو وہ تمہاری قبول کرے گا۔ لیکن جن لوگوں کی قسمت میں اللہ کے دین کی پابندی نہیں لکھی گئی وہ خود بھی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 28–29

آیت 28 (یرید اللہ ان یخفف عنکم) ” اللہ چاہتا ہے کہ تم پر سے بوجھ ہلکا کرے۔ “ یعنی اللہ تعالیٰ اوامرونواہی کی آسانی کے ذریعے سے تمہارے لئے تخفیف پیدا کرنا چاہتا ہے۔ پھر بعض شرعی احکام میں مشقت کے باوجود اگر حاجت تقاضا کرتی ہے تو اضطراری حالت میں مجبور شخص کے لئے انہیں مباح کردیا ہے مثلاً مردار اور خون وغیرہ کا تناول کرنا مجبور شخص کے لئے مباح ہے۔ اسی طرح مذکورہ شرائط کو محلوظ رکھتے ہوئے لونڈی سے نکاح کرنا جائز ہے۔ یہ اس کی رحمت کاملہ اور اس احسان کے سبب سے ہے جو سب کو شامل ہے اور یہ اس کی حکمت اور علم پر مبنی ہے۔ وہ جانتا ہے کہ انسان ہر لحاظ سے کمزور ہے، اس کی بنیاد ہی کمزوری پر رکھی گئی ہے،…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

قول باری ہے (یرید اللہ ان یخفف عنکم وخلق الانسان ضعیفا، اللہ تعالیٰ تمہارا بوجھ ہلکا کرنا چاہتا ہے اور انسان تو کمزور بنا کر پیدا کیا گیا ہے) تخفیف سے یہاں تکلیف یک تسہیل مراد ہے یعنی ہمیں جن باتوں کا مطلف بنایا گیا ہے ان میں آسانی اور سہولت کی راہیں پیدا کردی گئی ہیں۔ تخفیف تثقیل (بوجھل بنادینا) کی ضد ہے۔ اس قول باری کی نظیر یہ قول باری ہے (ویضع عنہم اصرہم ولاغلال التی کانت علیہم ، اور وہ ان سے ان کا بوجھ اور طوق اتار دیتا جو ان پر پڑے ہوئے تھے۔ نیز فرمایا (یرید اللہ بکم الیسر ولایرید بکم العسر، اللہ تعالیٰ تم سے آسانی کا ارادہ کرتا ہے اور وہ تم سے سختی کا ارادہ نہیں کرتا، نیز فرمایا (وماجعل…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 28–29

68 انسان کے جبلی اور طبعی ضعف کا ذکر : سو اس سے انسان کے طبعی ضعف اور خواہشات نفس کے مقابلے میں اس کی فطری کمزوری کو بیان فرمایا گیا ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ انسان کو کمزوری سے پیدا کیا گیا ہے۔ یعنی انسان کمزور ہے خواہشات نفس کے مقابلے میں۔ کہ ان کو پوری طرح سے دبانا اور کچلنا اس انسان ضعیف البنیان کے بس میں نہیں رہتا ۔ الا ماشاء اللہ ۔ اسی لئے اس انسان کے لئے احکام میں نرمی اور رعایت برتی گئی۔ (محاسن، روح، صفوۃ، وغیرہ) ۔ اور حضرت خالق ۔ جل مجدہ ۔ سے بڑھ کر کون اس انسان ضعیف البنیان کی نفسیات سے واقف اور آگاہ ہوسکتا ہے ؟ ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو اس نے انسان کو جن احکام اور تعلیمات سے نوازا ہے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 26–28

اللہ تمہیں راہ ہدایت پر چلانا چاہتاہے تشریح : ان آیات میں اللہ رب العزت فرماتا ہے کہ مذہب اسلام میں جو کچھ قوانین انسان کے لیے مقرر کئے گئے ہیں سب کے سب انتہائی آسان اور انسان کی سہولت اور فطرت کے بالکل مطابق ہیں جیسا کہ سورة البقرہ سے لے کر اب تک زندگی گزارنے کے جو طریقے اور اصول بتائے گئے ہیں سب کے سب انسان کی کامیابی، نجات اور آسانی پیدا کرنے کے لیے ہیں۔ یہی طریقے پہلی قوموں کو بھی بتائے گئے تھے مگر انہوں نے ان کو خلط ملط کردیا صرف چند نیک، متقی اور اچھے لوگوں نے ان اصولوں کو اپنایا اور نجات پائی، کیونکہ اللہ دانا بھی ہے اور بندوں کے ہر قسم کے حالات کو جانتا بھی ہے اسی لیے وہ ایسے راستے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 26–28

رکوع نمبر 5 ۔ آیات 26 تا 33 ۔ والمحصنت۔ اسرار و معارف : آیات 26 تا 28: اللہ کریم تم پر کوئی بوجھ نہیں ڈالنا چاہتا بلکہ بہت بڑا احسان فرما کر تمہین سلامتی کی راہ دکھانا چاہتا ہے واضح اور صاف الفاظ میں وہ راہ جو انبیاء اور صالحین کی ہے جس راہ سے گذرنے والے سلامتی کے گھر کو پہنچے بلکہ تم سے پہلی امتیں گمراہ ہو کر ہلاک ہوئیں مگر تمہارے لیے توبہ کا دروازہ کھلا رکھا ہے یعنی جو محرمات تمہیں بتائی گئی ہیں یہ پہلے بھی حلال نہ تھیں اور دین ابراہیمی میں بھی حرام تھیں اسی طرح حلال و حرام کا حکم بھی صرف تمہارے لیے نہیں ہے بلکہ تمام امتوں پر اسی طرح کے احکام نازل ہوئے جن پر عمل کرکے یہی لوگ اللہ کی خوشنودی…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 3 یعنی اللہ تعالیٰ کو انسان کی کمزوری کا خوب علم ہے اس لیے احکام شریعت میں اس کی سہولت کا خیال رکھا گیا ہے اور دن میں سختی نہیں برتی گئی۔ حدیث میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا میں تمہارے پاس نہایت آسان حنفیفی شریعت لے کر آیا ہوں۔ (رازی، شوکانی )

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(4:28) ان یخفف عنکم۔ تم سے (پابندیوں کا بوجھ) ہلکا کرے۔ یخفف کا مفعول محذوف ہے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 26–28

آیت نمبر 26-28 لغات القرآن : سنن، راستے، طریقے۔ یتبعون، اتباع کرتے ہیں۔ الشھوات، خواہشیں، مزے۔ ان تمیلوا، یہ کہ تم مڑ جاؤ، بھٹک جاؤ۔ میل عظیم، مڑنے میں بہت زیادہ۔ ضعیف، کمزور، ناتواں۔ تشریح : میراث اور نکاح کے احکام بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ تم سمجھو یا نا سمجھو یہی وہ احکام ہیں جو علم اور حکمت سے بھرپور ہیں۔ یہی وہ راستہ ہے جس پر اس سے پہلے نیک لوگ چلے اور اللہ تعالیٰ کی مہربانیوں کے مستحق ہوئے۔ یہ کوئی نئے احکام نہیں ہیں بلکہ گزشتہ امتوں کو بھی یہی احکام دئیے گئے تھے اور جو سلف صالحین تھے وہ ان احکامات کی بجا آوری کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ کا یہ بھی ارشاد ہے کہ ان ہی احکام کو…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 26–28

ابوداؤد میں معتبر سند سے حضرت انس ؓ کی روایت ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ پہلی امتوں کے لوگوں نے اپنی طاقت سے باہر کچھ عبادتیں اپنے پیچھے لگائیں ، اور ان عبادتوں کے ادا کرنے کے لئے جنگلوں میں عبادت خانے بنائے ۔ آخر سختی کے سبب سے عبادت اور عبادت خانے سب کچھ چھوڑ بیٹھے ۔ پھر فرمایا کہ تم لوگوں کو ایسا نہیں کرنا چاہئے ۔ اللہ تعالیٰ کو ایسا عمل پسند نہیں کہ آج ہو اور کل نہ ہو ، بلکہ اللہ تعالیٰ کو تو وہ عمل پسند ہے جسے آدمی برابر نباہ سکے ۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 25–28

[42] لہذا لونڈی سے نکاح کرنا اپنے لئے عار نہ سمجھو۔ [25] اس رکوع میں لفظ محصنٰت دو مختلف معنوں میں استعمال کیا گیا ہے، ایک شادی شدہ عورتیں جن کو شوہر کی حفاظت حاصل ہو، دوسرے آزاد عورتیں جن کو خاندان کی حفاظت حاصل ہو اگرچہ وہ شادی شدہ نہ ہوں۔ آیت 25 میں محصنٰت کا لفظ لونڈی کے مقابل غیر شادی شدہ آزاد عورتوں کے لئے استعمال ہوا ہے جیسا کہ آیت کے مضمون سے صاف ظاہر ہے۔ بخلاف اس کے لونڈیوں کے لئے محصنت کا لفظ پہلے معنی میں استعمال ہوا ہے اور صاف الفاظ میں فرمایا گیا ہے کہ جب وہ قید نکاح میں محفوظ ہوجائیں آیت (فَاِذَآ اُحْصِنَّ 25؀ ) 4 ۔ النسآء :25) تب ان کے لئے زنا کی سزا اس سزا کی نصف ہے جو محصنٰت…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 26–28

(ف 1) ان آیات میں بتایا ہے کہ اسلام میں کوئی الگ صحیفہ شریعت نہیں ، اس میں وہی قواعد بتائے گئے ہیں جن کو بار بار دہرایا گیا ہے ، یہ وہی صداقت قدیمہ ہے ، جسے زمانہ کی ہر کروٹ کے ساتھ پرکھا گیا ہے ، مقصد یہ ہے ، کہ تم لوگ اسے قبول کرکے اللہ کی وسیع رحمتوں میں شامل ہوجاؤ ، شہوات سے بچو اور اپنی جبلی و فطری کمزوریوں کا خیال رکھو ، بجز خدا کے فضل وعفو کے تم برائیوں سے نہیں بچ سکتے ، اس لئے اس راستہ پر مضبوطی سے گامزن ہوجاؤ جو خدائے غفور نے تمہارے لئے تجویز کیا ہے ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

Explained with ayahs 28–29

(ف 3) اللہ تعالیٰ کو یہ منظور ہے کہ وہ تم پر آسانی اور تخفیف فرمائے اور تم پر سے بوجھ کو ہلکا کردے کیونکہ انسان کو طبعاً کمزور پیدا کیا گیا ہے۔ (تیسیر) مطلب یہ ہے کہ انسان اور مکلفین کے مقابلہ میں چونکہ طبعاً کمزور بنایا گیا ہے اور احکام شاقہ کا تحمل نہیں کرسکتا اس لئے اللہ تعالیٰ تم پر آسانی کرنا چاہتا ہے اور یہ اس کے علم و حکمت اور رحمت و شفقت کا کمال ہے اور یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ سابقہ امم پر جو احکام مقررکئے تھے اس میں تمہاری حالت کا لحاظ کرتے ہوئے تخفیف منظور ہے اور ہم جانتے ہیں کہ تم پر سے اس بوجھ کو ہلکا کردیں کیونکہ اول تو انسان ضعیف الخلقت ہے پھر آخری امت اپنے قوی اور ہمت کے اعتبار…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 27–29

ف 1۔ شہوت پرست لوگوں سے بقول ابن زید مراد فساق ہیں اور بقول ابن عباس مراد زانی ہیں یہاں شہوت پرستی کی مذمت میں شہوت مباحہ سے منقطع ہونا داخل نہیں ہے۔ 2۔ بڑی بھاری کجی کے دو مطلب ہیں ایک یہ کہ بےباکانہ حرام کا مرتکب ہونا دوسرے یہ کہ حرام کو حلال سمجھ جانا۔ اور اس کے مقابلہ میں ہلکی کجی یہ ہے کہ گناہ کو گناہ سمجھے اور اتفاقا اس کا صدور ہوجائے اس آیت میں اس میل غیرعظیم کی اجازت نہیں ہے بلکہ بیان کرنا ہے ان بدخواہوں کے حال کا وہ میل عظیم کی سعی میں ہیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

انسان کمزور پیدا کیا گیا ہے اور اس کی کمزوری کیا ہے ؟ یہی کہ وہ مجموعہ اضداد ہے : 64: انسان چونکہ کمزور پیدا کیا گیا ہے اور اس کمزوری کے باعث وہ اس گورکھ دھندہ میں پھنس کر رہ جاتا ہے۔ یہ سمجھ بیٹھتا ہے کہ میں بڑا طاقتور ہوں کہ میں نے یہ کیا اور میں نے وہ کیا اور اس یہ وہ میں ان مخفی راہوں کو وہ تلاش نہیں کر پاتا جو اس کی اصل کامیابی کی راہیں ہیں اس لئے اس بتانے اور سمجھانے کے لئے سلسلہ ہدایت قائم کیا گیا اور ان تین آیتوں میں دراصل وہ سلسلہ ہدایت ہی اس کو سمجھایا گیا ہے اور اس طرح اس کو تین باتیں تفہیم کرانے کی کوشش کی گئی ہے اول یہ کہ نزول شریعت کوئی نئی بات نہیں پہلے لوگوں پر بھی شرائع نازل…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

After this, in the first part of verse 28, it was said: يُرِ‌يدُ اللَّـهُ أَن يُخَفِّفَ عَنكُمْ : It means that Allah, great in His majesty, intends to make things easy on you, that is, prescribes injunctions which can be carried out by everyone obligated with them. If one cannot afford marrying free women, permission has been given to marry bond-women. Parties to a marriage were given the right to settle the dower by mutual consent. Also given was the right to marry more than one woman under circumstantial necessity, of course, on condition that justice is not compromised. At the end, in…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 27–28

49. This refers to the hypocrites, the ultra-conservatives and the Jews who lived on the outskirts of Madina. Both the hypocrites and the conservatives were incensed at the reforms introduced by Islam, as these were diametrically opposed to the age-old customs and traditions of their society and culture. The reforms were numerous: a share of the inheritance was assigned to daughters; widows were liberated from bondage to the will of their husbands' families and were granted the freedom to marry whomever they wished after the expiry of the waiting-period ('iddah); marriage with one's…

Read the full tafseer →