An-Nisaa 4:27

An-Nisaa · from ayah 27

4:27

وَاللّٰهُ یُرِیْدُ اَنْ یَّتُوْبَ عَلَیْكُمْ ۫— وَیُرِیْدُ الَّذِیْنَ یَتَّبِعُوْنَ الشَّهَوٰتِ اَنْ تَمِیْلُوْا مَیْلًا عَظِیْمًا ۟وَاللّٰهُ يُرِيۡدُ اَنۡ يَّتُوۡبَ عَلَيۡكُمۡ وَيُرِيۡدُ الَّذِيۡنَ يَتَّبِعُوۡنَ الشَّهَوٰتِ اَنۡ تَمِيۡلُوۡا مَيۡلًا عَظِيۡمًا

اور خدا تو چاہتا ہے کہ تم پر مہربانی کرے اور جو لوگ اپنی خواہشوں کے پیچھے چلتے ہیں وہ چاہتے ہیں کہ تم سیدھے راستے سے بھٹک کر دور جا پڑو

— Fateh Muhammad Jalandhari

Allah wants to accept your repentance, but those who follow [their] passions want you to digress [into] a great deviation.

— Saheeh International

Juz 5 · Ruku 5 of surah · Ruku 2 of juz

Read the whole surah · Surah An-Nisaa

All translations of 4:27

ہاں، اللہ تو تم پر رحمت کے ساتھ توجہ کرنا چاہتا ہے مگر جو لوگ خود اپنی خواہشات نفس کی پیروی کر رہے ہیں وہ چاہتے ہیں کہ تم راہ راست سے ہٹ کر دور نکل جاؤ

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور خدا تو چاہتا ہے کہ تم پر مہربانی کرے اور جو لوگ اپنی خواہشوں کے پیچھے چلتے ہیں وہ چاہتے ہیں کہ تم سیدھے راستے سے بھٹک کر دور جا پڑو

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور اللہ چاہتا ہے کہ تمہاری توبہ قبول کرے اور جو لوگ خواہشات کے پیرو ہیں وه چاہتے ہیں کہ تم اس سے بہت دور ہٹ جاؤ

— مولانا محمد جوناگڑہی

اللہ تو چاہتا ہے کہ تمہاری طرف توجہ کرے، اور جو لوگ نفسانی خواہشات کے پیچھے لگے ہوئے ہیں وہ چاہتے ہیں کہ تم راہ راست سے ہٹ کر بہت دور جا پڑو۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور اللہ تم پر اپنی رحمت سے رجوع فرمانا چاہتا ہے، اور جو اپنے مزوں کے پیچھے پڑے ہیں وہ چاہتے ہیں کہ تم سیدھی راہ سے بہت الگ ہوجاؤ

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور اللہ تم پر مہربانی فرمانا چاہتا ہے، اور جو لوگ خواہشاتِ (نفسانی) کی پیروی کر رہے ہیں وہ چاہتے ہیں کہ تم راہِ راست سے بھٹک کر بہت دور جا پڑو،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور اللہ چاہتا ہے کہ تم پر مہربانی فرمائے اور جو لوگ خواہشات کی پیروی کرتے ہیں وہ چاہتے ہیں کہ تم (سیدھے راستے سے) ہٹ جاؤ، بہت بڑا ہٹ جانا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اللہ تو یہ چاہتا ہے کہ تم پر نظر رحمت سے متوجہ ہو مگر جو لوگ اپنی خواہشات کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں وہ یہ چاہتے ہیں کہ تم راہ راست سے ہٹ کر دور تک چلے جاؤ

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اللہ تو یہ چاہتا ہے کہ تم پر رحمت کی نگاہ کرے اور وہ لوگ جو اپنی شہوات کی پیروی کر رہے ہیں یہ چاہتے ہیں کہ تم راہ حق سے بالکل ہی بھٹک کر رہ جاؤ

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور (ہاں) اللہ تو یہی چاہتا ہے کہ توجہ فرمائے تم لوگوں پر (اپنی رحمت و عنایت سے) مگر جو لوگ پیچھے لگے ہوئے ہیں اپنی (بطن وفرج کی) خواہشات کے، وہ چاہتے ہیں کہ تم لوگ سیدھی راہ سے ہٹ کر بہت دور جاپڑو،

— مولانا اسحاق مدنی

اور اللہ کو منظور ہے کہ تمہارے حال پر توجہ فرمائے۔ اور جو لوگ خواہشوں کے بندے ہیں۔ انہیں یہ منظور ہے کہ تم بڑی بھاری کجی میں پڑجاؤ۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اللہ تو یہ چاہتا ہے کہ تم پر رحمت کے ساتھ توجہ فرمائے اور وہ لوگ جو شہوات کی پیروی کرتے ہیں وہ چاہتے ہیں کہ تم راہ حق سے بھٹک کر دور نکل جاؤ

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

ہاں، اللہ تم پر رحمت کے ساتھ توجہ کرنا چاہتا ہے مگر جو لوگ خود اپنی خواہشات نفس کی پیروی کرتے ہیں وہ چاہتے ہیں کہ تم راہ راست سے ہٹ کر دور نکل جاؤ

— محترمہ رفعت اعجاز

And Allah indeed wants to turn graciously towards you; but those who follow their lusts would want you to drift far away from the right way.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Allah intends to turn graciously towards you, while those who follow desires want you to deviate (from the right path), a huge deviation.

— Muhammad Taqi Usmani

Allah intends to turn graciously towards you, while those who follow desires want you to deviate (from the right path), a huge deviation.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Allah wishes to accept your repentance, but those who follow their lusts, wish that you (believers) should deviate tremendously away (from the right path)

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And Allah would turn to you in mercy; but those who follow vain desires would have you go tremendously astray.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Allah wants to accept your repentance, but those who follow [their] passions want you to digress [into] a great deviation.

— Saheeh International

God wants to be merciful to you but those who follow their evil desires seek to lead you astray.

— Muhammad Sarwar

And Allah desires that He should turn to you (mercifully), and those who follow (their) lusts desire that you should deviate (with) a great deviation.

— Muhammad Habib Shakir

And Allah intendeth to relent toward you, and those that follow lusts intend that ye shall incline a mighty inclining.

— Abdul Majid Daryabadi

Allah doth wish to Turn to you, but the wish of those who follow their lusts is that ye should turn away (from Him),- far, far away.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 4:27

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 26–28

پچاس سے پانچ نمازوں تک فرمان ہوتا ہے کہ اے مومنو اللہ تعالیٰ ارادہ کرچکا ہے کہ حلال و حرام تم پر کھول کھول کر بیان فرما دے جیسے کہ اس سورت میں اور دوسری سورتوں میں اس نے بیان فرمایا وہ چاہتا ہے کہ سابقہ لوگوں کی قابل تعریف راہیں تمہیں سمجھا دے تاکہ تم بھی اس کی اس شریعت پر عمل کرنے لگ جاؤ جو اس کی محبوب اور اس کی پسندیدہ ہیں وہ چاہتا ہے کہ تمہاری توبہ قبول فرمالے جس گناہ سے جس حرام کاری سے تم توبہ کرو وہ فوراً قبول فرما لیتا ہے وہ علم و حکمت والا ہے، اپنی شریعت اپنی اندازے اپنے کام اور اپنے فرمان میں وہ صحیح علم اور کامل حکمت رکھتا ہے، خواہش نفسانی کے پیروکار یعنی شیطانوں کے غلام یہود و…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 27–28

سورة النِّسَآء 49 یہ اشارہ ہے منافقین اور قدامت پرست جہلاء اور نواحی مدینہ کے یہودیوں کی طرف۔ منافقین اور قدامت پرستوں کو تو وہ اصلاحات سخت ناگوار تھیں جو تمدن و معاشرت میں صدیوں کے جمے اور رچے ہوئے تعصبات اور رسم و رواج کے خلاف کی جارہی تھیں۔ میراث میں لڑکیوں کا حصہ۔ بیوہ عورت کا سسرال کی بندشوں سے رہائی پانا اور عدت کے بعد اس کا ہر شخص سے نکاح کے لیے آزاد ہوجانا۔ سوتیلی ماں سے نکاح حرام ہونا۔ دو بہنوں کے ایک ساتھ نکاح میں جمع کیے جانے کو ناجائز قرار دینا۔ متبنّٰی کو وراثت سے محروم کرنا اور منہ بولے باپ کے لیے متبنّٰی کی بیوہ اور مطلقہ کا حلال ہونا۔ یہ اور اس طرح کی دوسری اصلاحات میں سے ایک…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 26–27

ربط آیات ماقبل کی آیتوں میں احکام کی تفصیل مذکور ہوئی، ان آیتوں میں اللہ جل شانہ اپنا انعام و احسان بتلاتے ہیں اور یہ کہ ان احکام کی مشروعیت میں تمہارے ہی منافع و مصالح کی رعایت رکھی گئی ہے اگرچہ تم اس کی تفصیل کو نہ سمجھو، پھر اس کے ساتھ ہی ان احکام پر عمل کرنے کی ترغیب ہے اور گمراہوں کے ناپاک ارادوں پر بھی متنبہ کیا گیا کہ یہ لوگ تمہارے بدخواہ ہیں جو تمہیں مستقیم راستہ سے بھٹکانا چاہتے ہیں۔ خلاصہ تفسیر اللہ تعالیٰ کو (ان مضامین مذکورہ کے ارشاد فرمانے سے اسی طرح دوسرے مضامین سے اپنا کوئی نفع مقصود نہیں کہ یہ محال عقلی ہے ملکہ تم کو نفع پہنچانے کے لئے) یہ منظور ہے کہ (آیات احکام میں تو) تم…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 26–28

تفسیر آیات 26 تا 28: فصل 12: آیات 26۔۔۔ 28 کا مضمون : معاشرتی اصلاح سے متعلق احکام و ہدایات کے بیچ میں یہ تین آیتیں بطور تنبیہ و تذکیر آگئی ہیں۔ جن سے مقصود ایک طرف تو مسلمانوں کو ان احکام کی عظیم قدر و قیمت کی طرف توجہ دلانا ہے کہ اللہ تعالیٰ یہ تمہاری طرف تمام انبیاء و صالحین کی وراثت منتقل کر رہا ہے تو اس کی سچے دل سے قدر کرو اور حمت الٰہی کے مستحق بنو، دوسری طرف اس طوفان مخالفت سے آگاہ کرنا ہے جو ان اصلاحات کی مخالفت میں اس مفاد پرست طبقہ کی طرف سے اٹھ رہا تھا جو یتیموں، بیواؤ، کمزوروں اور غلاموں کے حقوق پر غاصبانہ تسلط جمائے بیٹھا تھا اور کسی طرح بھی اپنے اس تسلط سے دستبردار ہونے کے لیے…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 25–27

22: چونکہ آزاد عورتوں کا مہر عام طور پر زیادہ ہوتا تھا اور باندیوں کا مہر کم، اس لئے ایک طرف تو حکم یہ دیا گیا ہے کہ باندیوں سے نکاح اسی وقت کیا جائے جب آزاد عورتوں سے نکاح کی استطاعت نہ ہو، دوسری طرف یہ ہدایت دی گئی ہے کہ جب کسی باندی سے نکاح کی نوبت آجائے توپھرمحض اس کے باندی ہونے کی وجہ سے اس کو حقیر سمجھنا درست نہیں، کیونکہ فضیلت کا اصل دارومدار تقوی پر ہے، اور اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتے ہیں کہ کس کی ایمانی حالت زیادہ مضبوط ہے ورنہ اولاد آدم ہونے کے لحاظ سے سب ایک دوسرے کے برابر ہیں۔ 23: آزاد عورتیں اگر غیر شادی شدہ ہوں تو ان کے لیے زنا کی سزا سو کوڑے ہیں، جس کا ذکر سورة نور کی دوسری آیت…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

(آیت) ” واللہ یرید ان یتوب علیم ویرید الذین یتبعون الشھوت ان تمیلوا میلا عظیما “۔ (4 : 27) ” اللہ تو تم پر رحمت کے ساتھ توجہ کرنا چاہتا ہے مگر جو لوگ اپنی خواہشات نفس کی پیروی کرتے ہیں وہ چاہتے ہیں کہ تم راہ راست سے ہٹ کر دور نکل جاؤ ۔ “ اس مختصر اور ایک ہی آیت میں اللہ تعالیٰ نے بتا دیا کہ اللہ تعالیٰ انسانوں کے لئے کیا چاہتے ہیں اور کیسے نظام کے ذریعے چاہتے ہیں کس طریقے سے چاہتے ہیں ؟ اور جو لوگ نظام زندگی کو صرف جنسی تعلقات (Sex) پر استوار کرنا چاہتے ہیں اور جو انسانوں کو اسلامی نظام زندگی سے ہٹانا چاہتے ہیں وہ انسان کے ساتھ کیا کر رہے ہیں ؟ حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ بھی اسلامی منہاج سے ہٹ کر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

3 یعنی یہ مختلف قیدیں جو پہلے گزریں اس سے مطلوب تم پر رحمت فرمانا ہے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان قیدوں کی نسبت حکم فرمایا اور جو لوگ اپنی شہوتوں پر فریفتہ ہیں وہ البتہ یہی چاہتے ہیں کہ تم سیدھے راستہ سے دور جا پڑو یعنی انہی کی طرح تم بھی اپنی شہوات کا اتباع کرو اور گمراہ ہوجاؤ تو اب جو کچھ کرو سمجھ کر کرو۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 27 وَاللّٰہُ یُرِیْدُ اَنْ یَّتُوْبَ عَلَیْکُمْ قف وَیُرِیْدُ الَّذِیْنَ یَتَّبِعُوْنَ الشَّہَوٰتِ اَنْ تَمِیْلُوْا مَیْلاً عَظِیْمًا وہ چاہتے ہیں کہ تمہارا رجحان صراط مستقیم کے بجائے غلط راستوں کی طرف ہوجائے اور ادھر ہی تم بھٹکتے چلے جاؤ۔ آج بھی عورت کی آزادی Women Lib کی بنیاد پر اور حقوق نسواں کے نام پر دنیا میں جو تحریکیں برپا ہیں یہ درحقیقت اللہ تعالیٰ کی عائد کردہ حدود وقیود کو توڑ کر جنسی بےراہروی پھیلانے کی ایک عظیم سازش ہے جو دنیا میں چل رہی ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

46 معاشرتی اصلاحات پر مخالفین کا شورو غوغا :۔ ان خواہشات نفس کی پیروی کرنے والوں سے مراد وہ ہر طرح کے لوگ ہیں جو اللہ کی ہدایات پر اپنے آباؤ اجداد کے رسم و رواج کو مقدم سمجھتے اور انہی چیزوں سے محبت رکھتے ہیں خواہ وہ یہود و نصاریٰ ہوں یا منافق یا دوسرے مشرکین ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے معاشرتی برائیوں کے خاتمہ کے لیے بیشمار ایسے احکامات نازل فرمائے جن پر عمل کرنا اکثر لوگوں کو ناگوار تھا۔ مثلاً میراث میں لڑکیوں اور چھوٹے بچوں کا حصہ مقرر کرنا، بیوہ سے سسرال کی بندشوں کو ختم کرنا اور عدت کے بعد اسے نکاح کے لیے پوری آزادی دلانا، متبنّیٰ کی وراثت کا خاتمہ، عورت کو خاوند کی طرح طرح کی زیادتیوں سے نجات…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

95 ۔ (شفقت و رحمت کے ساتھ انہیں احکام وتعلیمات کے ذریعہ سے) 96 ۔ اور ہوائے نفس ہی کو اپنا دین و ایمان بنائے ہوئے ہیں) یہ کون لوگ ہیں ؟ الفاظ کا مصداق کفار کا ہونا تو ظاہر ہی ہے باقی فسق پیشہ افراد بھی مراد ہوسکتے ہیں، صحابہ وتابعین سے اس کے معنی اہل کتاب کے بھی مروی ہوئے ہیں، یہود کے بھی اور زانیوں کے بھی اور زانیوں کے بھی وقس علی ھذا “۔ قیل المجوس (کبیر) قیل المجوس وقیل الیھود (بیضاوی) قال بعضھم ھم الزناۃ وقال اخرون بل ھم الیھود والنصاری (ابن جریر) ھم الزناۃ اوالیھود والنصاری اوالیھود خاصۃ اوالمجوس (بحر) قول فیصل یہ ہے کہ الفاظ ان سارے معانی کے محتمل ہیں، اس لیے کہ جو شخص بھی نافرمانی پر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 26–27

آیات نمبر 26 تا 33 ترجمہ : اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ تمہارے لئے تمہارے دین کے احکام اور تمہارے معاملہ کی مصلحتیں خوب کھول کھول کر بیان کرے، اور تم کو تم سے پہلے لوگوں انبیاء کے حلال و حرام میں حالات (طریقے) بتادے تاکہ تم ان کی اتباع کرو (اور اللہ تعالیٰ چاہتا ہے) کہ تم کو ان معصتیوں سے کہ جن پر تم تھے اپنی اطاعت کی طرف پھیر دے اللہ تمہارے حالات کا جاننے والا اور جو نظم اس نے تمہارے لئے قا ئم کیا ہے اس میں باحکمت ہے اور اللہ کو منظور ہے کہ تمہارے حال پر توجہ فرمائے اس (جملہ کو) مکرر لایا ہے تاکہ مابعد کو اس پر مبنی کیا جائے، اور جو لوگ خواہشات کے بندے ہیں یعنی یہود اور نصاری اور مجوسی اور زنا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

واللہ یرید ان یتوب علیکم اور اللہ تم کو نیک اعمال کی توفیق دینا چاہتا ہے۔ تاکید اور مضمون کو پختہ کرنے کے لئے دوبارہ آیت کو ذکر کیا۔ ویرید الذین یتبعون الشہوات اور چاہتے ہیں وہ لوگ جو خواہشات پر چلتے ہیں یعنی شریعت کے نافرمان ہوتے ہیں لیکن اگر شریعت کے موافق خواہشات پوری کی جائیں تو یہ اتباع شریعت ہے اتباع شہوات نہیں ہے۔ بعض علماء کا قول ہے کہ ان خواہش پرستوں سے زناکار لوگ مراد ہیں۔ بعض علماء کے نزدیک مجوسی مراد ہیں کیونکہ وہی تمام محرم عورتوں کو حلال جانتے ہیں۔ بعض نے یہودی مراد لئے ہیں کیونکہ یہودیوں کے نزدیک علاقی بہنیں اور بھتیجیاں بھانجیاں حلال ہیں۔ ان تمیلوا میلا عظیما کہ تم حق سے کامل…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 26–27

(26۔ 27) یعنی جو چیزیں تمہارے لیے حلال کردی ہیں اور یہ کہ باندیوں سے نکاح نہ کرنا تمہارے لیے بہتر ہے، اور اس کے ساتھ زمانہ جاہلیت میں جو چیزیں مروج ہوگئیں تھیں ان کو معاف فرمانے والا ہے اور تمہاری بےقراری سے وہ بخوبی واقف ہے، اس لیے اس نے خاص شرائط کے تحت تمہیں ضرورت کے وقت باندیوں سے شادی کرنے کی اجازت دے دی۔ اور جس وقت اس نے تم پر زنا کو اور باپ شریک بہنوں سے شادی کرنے کو حرام کیا وہ پچھلی غلطیوں کو معاف فرمانے والا ہے۔ اور یہود جو کہ باپ شریک بہنوں اور زنا کو اپنی کتاب میں حلال بنا کر اس گناہ کا ارتکاب کرتے ہیں تو تم خدانخواستہ ان کی اتباع میں مبتلا ہوگے تو بہت بڑی غلطی میں پڑجاؤ گے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 26–27

يُرِيْدُ اللّٰهُ لِيُـبَيِّنَ لَكُمْ۔۔ : یعنی اللہ تعالیٰ اپنے احکام اس لیے بیان فرما رہا ہے کہ تم کو حلال و حرام کا پتا چل جائے اور پہلے لوگوں کے عمدہ طریق کی ہدایت ہوجائے، پہلے لوگوں سے مراد انبیاء اور ان کی امتوں کے نیک لوگ ہیں۔ (ابن کثیر۔ شوکانی) وَاللّٰهُ يُرِيْدُ اَنْ يَّتُوْبَ عَلَيْكُمْ ۣ۔۔ : یعنی اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ تم فسق و فجور کے بجائے پاکیزگی اپناؤ، مگر خواہشات کی اتباع کرنے والے بدکار چاہتے ہیں کہ مسلمان بھی ان کی طرح ہر حد سے آزاد ہو کر حق سے بہت دور ہٹ جائیں، لہٰذا تم شہوت پرستوں کے کہنے میں نہ آؤ۔ مراد یہود و نصاریٰ ، مجوسی اور کمیونسٹ ہیں، جو حرام رشتوں سے بھی نکاح جائز…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 27–28

آیت نمبر : 27 تا 28) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” واللہ یرید ان یتوب علیکم “۔ یہ مبتدا خبر ہے اور ان، یرید “ کی وجہ سے محل نصب میں ہے اسی طرح (آیت) ” یرید اللہ ان یخفف عنکم “۔ میں بھی ” ان یرید “ کی وجہ سے محل نصب میں ہے، معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہاری احکام شرع میں ہیں اور یہی صحیح قول ہے، بعض علماء نے فرمایا : تخفیف سے مراد لونڈی سے نکاح کرنا ہے یعنی جب ہم نے جان لیا کہ تم عورتوں پر صبر کرنے میں کمزور ہو تو ہم نے لونڈیوں سے نکاح کرنے کی تخفیف کردی، یہ مجاہد، ابن زید اور طاؤس کا قول ہے۔ طاؤس نے کہا : انسان عورتوں کے معاملہ میں انتہائی کمزور ہے۔ (1) (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 40…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 26–28

(1) ابن جریر وابن ابی الدنیا نے التوبہ میں اور بیہقی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آٹھ آیات جو سورة نساء میں نازل ہوئی اس امت کے لئے خیر ہیں ان چیزوں میں سے جن پر سورج طلوع اور غروب ہوا ان میں پہلی لفظ آیت ” یرید اللہ لیبین لکم ویھدیکم سنن الذین من قبلکم ویتوب علیکم واللہ علیم حکیم “ اور دوسری ” واللہ یرید ان یتوب علیکم ویرید الذین یتبعون الشھوت ان تمیلوا میلا عظیما “ اور تیسری ” یرید اللہ ان یخفف عنکم وخلق الانسان ضعیفا “ اور چوتھی ” ان تجتنبوا کبائر ما تنھون عنہ نکفر عنکم سیاتکم وندخلکم مدخلا کریما “ اور پانچویں ” ان اللہ لا یظلم مثقال ذرۃ “ اور چھٹی ” ومن یعمل سوءا او یظلم نفسہ ثم یستغفر…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ وَاللّٰہُ : اور اللہ ] [ یُرِیْدُ : چاہتا ہے ] [ اَنْ : کہ ] [ یَّـتُوْبَ : وہ (رحمت کے ساتھ) متوجہ ہو ] [ عَلَـیْـکُمْ : تم پر ] [ وَیُرِیْدُ الَّذِیْنَ : اور چاہتے ہیں وہ لوگ جو ] [ یَتَّبِعُوْنَ : پیروی کرتے ہیں ] [ الشَّہَوٰتِ : خواہشات کی ] [ اَنْ : کہ ] [ تَمِیْلُوْا : تم لوگ بھٹک جائو ] [ مَیْلاً عَظِیْمًا : بہت زیادہ بھٹکنا ] م ی ل مَالَ ۔ یَمِیْلُ (ض) مَیْلًا : درست سمت چھوڑ کر غلط سمت میں جھکنا۔ اس بنیادی مفہوم کے ساتھ متعدد معانی میں آتا ہے۔ (1) بھٹک جانا ‘ آیت زیر مطالعہ۔ (2) جھک جانا ‘ ایک طرف کا ہورہنا۔ { فَلَا تَمِیْلُوْا کُلَّ الْمَیْلِ فَتَذَرُوْھَا کَالْمُعَلَّقَۃِط }…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 27–28

شہوت پرستوں کا طریق کار : جو لوگ شہوتوں کے بندے ہیں انہیں انسانیت محبوب و مرغوب ہی نہیں وہ تو انسان ہو کر پچھتا رہے ہیں اور نفس کے مزہ کے لیے محض حیوانیت پر اتر آئے ہیں۔ یورپ، امریکہ میں بےہودگی، فحاشی، زنا کاری کا جو سیلاب آیا ہوا ہے، چھوٹے بڑے حاکم و محکوم اور ہر طبقہ کے لوگ اس میں بہہ چکے ہیں، حکومتوں کا یہ حال ہے کہ کوئی قانون بناتے ہیں پھر جب دیکھتے ہیں کہ عوام اس کے مطابق نہیں چلتے تو قانون کو بدل دیتے ہیں۔ تھوڑا بہت جو قانون کا بھرم باقی ہے تو صرف اتنا سا ہے کہ زنا بالجبر ممنوع ہے۔ آپس کی خوشی سے زنا کاری جتنی مرتبہ بھی ہوجائے اس پر ان کے نزدیک کوئی مواخذہ نہیں، اور اب استلذاذ بالمثل…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 26–28

ذکر الطاف و عنایات خداوندی بہ اہل اسلام۔ قال اللہ تعالی۔ یرید اللہ۔۔۔ الی۔۔۔ ضعیفا۔ ربط) حلال و حرام کے احکام بیان کرنے کے بعد اہل اسلام پر اپنی عنایات اور الطاف کا ذکر فرماتے ہیں کہ اللہ تم کو ایسی چیزوں کا حکم دیتا ہے جو تمہارے لیے سراسر باعث منفعت اور مصلحت ہوں اور شہوت پرست تم کو دوسری طرف لے جانا چاہتے ہیں شہوت پرستوں کے نزدیک حلال و حرام کی کوئی تقسیم نہیں اللہ چاہتا ہے کہ تمہارے لیے بیان کردے یعنی تمہارے فائدہ اور مصلحت کے لیے حلال و حرام کو خوب کھول کر بیان کردے تاکہ تمہیں کسی امر میں اشتباہ باقی نہ رہے اور تم حق اور باطل اور حلال اور حرام میں تمیز کرسکو اور تاکہ اللہ تم کو ان لوگوں…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 25–28

21 جو لوگ آزاد عورتوں سے نکاح کرنے کی طاقت نہیں رکھتے وہ لونڈیوں سے نکاح کرلیں۔ لیکن لونڈی سے نکاح کرنے کے لیے اس کے مالک کی اجازت شرط ہے۔ اس آیت سے امام شافعی (رح) نے اس پر استدلال کیا ہے کہ جس میں آزاد عورت سے نکاح کرنے کی استطاعت ہو اس کے لیے لونڈی سے نکاح جائز نہیں جیسا کہ مفہوم شرط کا تقاضا ہے اور اہل حجاز کہتے ہیں کہ غیر مستطیع کے لیے کتابیہ لونڈی سے نکاح جائز نہیں کیونکہ فَتَیَاتِکُم کے بعد المومنات کی قید موجود ہے لیکن امام ابوحنیفہ ؓ کے نزدیک لونڈی خواہ مومنہ ہو خواہ کتابیہ سے بہتر صورت نکاح جائز ہے۔ حرہ سے نکاح کی استطاعت ہو یا نہ ہو۔ کیونکہ فَانْکِحُوْا مَا طَابَ لَکُمْ مِّنَ…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 26–28

ربط آیات گزشتہ دروس میں محرمات نکاح کا ذکر ہوا ، پھر اللہ تعالیٰ نے لونڈیوں کے ساتھ نکاح کرنے کی اجازت مرحمت فرمائی اور اس کی حکمت بھی بیان فرمادی ، اس کے بعد اللہ نے مخلوق پر اپنے احسان کا ذکر فرمایا ، اور حلال و حرام سے متعلقہ احکام کی حکمت بیان فرمائی ہے۔ مکمل وضاحت ارشاد ہوتا ہے یرید اللہ اللہ تعالیٰ چاہتا ہے لیبین لکمتا کہ بیان کردے تمہارے لیے وہ چیزیں جو تمہارے لیے حلال ہیں اور جو حرام ہیں اللہ تعالیٰ تمہیں وہ باتیں بھی بتانا چاہتا ہے جو تمہارے ساتھ مناسبت رکھتی ہیں اور جن میں تمہارافائدہ ہے۔ اور وہ باتیں بھی جن سے بچنا بھی تمہارے لیے ضروری ہے یہ اللہ تعالیٰ کا خاص احسان اور اس کی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَاللہُ يُرِيْدُ اَنْ يَّتُوْبَ عَلَيْكُمْ۝ 0ۣ وَيُرِيْدُ الَّذِيْنَ يَتَّبِعُوْنَ الشَّہَوٰتِ اَنْ تَمِيْلُوْا مَيْلًا عَظِيْمًا۝ 27 الله الله : قيل : أصله إله فحذفت همزته، وأدخل عليها الألف واللام، فخصّ بالباري تعالی، ولتخصصه به قال تعالی: هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا [ مریم/ 65] . ( ا ل ہ ) اللہ (1) بعض کا قول ہے کہ اللہ کا لفظ اصل میں الہ ہے ہمزہ ( تخفیفا) حذف کردیا گیا ہے اور اس پر الف لام ( تعریف) لاکر باری تعالیٰ کے لئے مخصوص کردیا گیا ہے اسی تخصیص کی بناء پر فرمایا :۔ { هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا } ( سورة مریم 65) کیا تمہیں اس کے کسی ہمنام کا علم ہے ۔ تبع يقال : تَبِعَهُ واتَّبَعَهُ :…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 26–28

ترکیب : یرید کا مفہوم ذلک محذوف ‘ لیبتین کالام یرید سے متعلق ہے اور ممکن ہے کہ لام زائدہ ہو تقدیرہ یریدان یتبیّن ویرید الذین یتبعون معطوف ہے واللّٰہ یریدان یتوب پر۔ ضعیفًا حال ہے انسان سے اور بعض کہتے ہیں تمیز ہے وفیہ مافیہ۔ تفسیر : لونڈیوں سے نکاح کی اجازت کے بعد یہ بھی فرما دیا تھا کہ یہ اس کے لئے ہے کہ جس کو حرامکاری میں گرفتار ہونے کا ڈر ہو ورنہ صبر کرنا تو بہتر ہے کیونکہ لونڈیوں کی عادتیں اچھی نہیں ہوتیں۔ اس کے بعد یہ بتلاتا ہے کہ یہ احکام اور نصائح ہم تمہارے فائدہ کے لئے بیان کرتے ہیں تاکہ تم صالحین اور راستبازوں کے طریقہ پر چل کر مقصود تک پہنچو۔ ویتوب علیکم سے یہی مراد ہے اور جو تمہیں…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 26–28

یُرِیْدُاللّٰہُ لِیُبَیِّنَ لَـکُمْ وَیَھْدِیَکُمْ سُنَنَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِـکُمْ وَیَتُوْبَ عَلَیْـکُمْ ط وَاللّٰہُ عَلِیْمٌ حَکِیْمٌ (اللہ چاہتا ہے کہ بیان کرے تمہارے لیے اور ہدایت دے تمہیں ان لوگوں کے طریقوں کی جو تم سے پہلے تھے اور تم پر رحمت کی نگاہ کرے اور اللہ جاننے والا اور حکمت والا ہے) (النسآء : 26) خاص ہے ترکیب میں قوم رسول ہاشمی امتِ مسلمہ کے نام سے جو نئی امت تشکیل پارہی ہے اس کے حوالے سے سورة بقرۃ میں اور پھر سورة نساء میں یہاں تک معاشرت، تمدن اور تہذیب کی تشکیل و تعمیر کے لیے ہدایات جاری تھیں کہ درمیان میں یہ تین آیتیں ایک خاص مقصد کے لیے نازل کی گئیں اور اس کے بعد پھر…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 26–28

فہم القرآن ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ عورتوں کے حقوق اور دیگر مسائل کے بارے میں دنیا کے دو بڑے مذاہب یہود و نصاریٰ نے بہت سے حقائق چھپا رکھے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان مسائل کو کھول کھول کر بیان کرنے کے بعد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے یہ اس لیے کھول کر بیان کیے ہیں تاکہ تمہیں پہلے انبیاء اور صلحاء کا راستہ دکھلایا جائے اور تمہیں معلوم ہو کہ اللہ کے برگزیدہ لوگوں کی زندگی کا کیا اسلوب ہوا کرتا ہے تاکہ تم صالح زندگی اختیار کرکے اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم کے حقدار بن جاؤ۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ تم پر اپنے کرم و فضل کے ساتھ توجہ کرنا چاہتا ہے۔ جو لوگ اپنے نفس کے پجاری، خواہشات کے بندے اور رسومات کے غلام بن…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 27 : وَاللّٰہُ یُرِیْدُ اَنْ یَّتُوْبَ عَلَیْکُمْ (اللہ تعالیٰ تم پر رجوع فرمانا چاہتے ہیں) تاکید کے لئے دوبارہ لایا گیا۔ پختگی اور تقابل کو ظاہر کرنا مقصود ہے۔ وَیُرِیْدُ (اور چاہتے ہیں) ۔ یعنی فجار شہوت پرستوں کا مقصد : الَّذِیْنَ یَتَّبِعُوْنَ الشَّہَوٰتِ اَنْ تَمِیْلُوْا مَیْلاً عَظِیْمًا (وہ لوگ جو شہوات کے پیروکار ہیں کہ تم مائل ہوجائو بالکل مائل ہونا) میل عظیم۔ حق اور میانہ روی سے مائل ہونا۔ اور یہ سب سے بڑا میلان ہے۔ کہ اتباع شہوات ٗ خواہشات میں معاونت کی جائے۔ دوسرا قول یہ ہے کہ ان سے مراد یہود ہیں کیونکہ انہوں نے باپ کی بہنوں ‘ بھتیجیوں اور بھانجیوں کو حلال قرار دیا۔ جب اللہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

(تفسیر) 27۔: (آیت)” واللہ یرید ان یتوب علیکم “۔ اگر تم سے دینی امور میں کوئی کمی واقع ہوگئی (آیت)” ویرید الذین یتبعون الشھوات ان اتباع شہوات “۔ کے متعلق مختلف اقوال ہیں ، سدی (رح) کا قول ہے کہ اس سے مراد یہود و نصاری ہیں ، بعض نے کہا کہ اس سے مجوسی مراد ہیں کیونکہ یہی لوگ بہنوں اور بھائیوں کی بیٹیوں اور بیٹیوں کی بیٹی سے نکاح کو حلال سمجھتے تھے ، مجاہد (رح) کا قول ہے کہ اس سے زانی لوگ مراد ہیں جو حق سے روگردانی کرکے زنا کرتے ہیں اور بعض نے کہا کہ اس سے تمام اہل باطل مراد ہیں ۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 26–28

(26 ۔ 27) ۔ اوپر حرام حلال کا ذکر فرما کر ان آیتوں میں فرمایا اللہ چاہتا ہے کہ تم کو اپنے دین کی جائز ناجائز باتیں اچھی طرح سمجھا دے تاکہ مثلاً ماں، بہن، بیٹی وغیرہ کے حرام جاننے کا تمہارا اور تم سے پہلے لوگوں کا طریقہ ایک ہوجائے اور اللہ نے اپنے وسیع علم سے بندوں کی ہر وقت کی مصلحت کو معلوم کر کے اپنی حکمت سے جو احکام نازل فرمائے ہیں ان کا عمل تم میں آسانی سے جاری ہوجائے اور اللہ یہ بھی چاہتا ہے کہ ان احکام کی تعمیل میں تم سے کوتاہی ہو اور اس کوتاہی پر نادم ہو کر اللہ کی جانب میں تم توبہ کرو۔ تو وہ تمہاری قبول کرے گا۔ لیکن جن لوگوں کی قسمت میں اللہ کے دین کی پابندی نہیں لکھی گئی وہ خود بھی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

آیت 27 اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو اپنی عظیم نوازش، بہت بڑے فضل و کرم اور اپنے مومن بندوں کی حسن تربیت اور دین کی سہولت سے آگاہ کرتے ہوئے فرماتا ہے : (یرید اللہ لیبین لکم) ” اللہ چاہتا ہے کہ تمہارے واسطے بیان کرے۔ “ یعنی حق و باطل اور حلال و حرام میں سے جس جس چیز کی توضیح کے تم محتاج ہو اللہ تعالیٰ اسے کھول کھرل کر بیان کرتا ہے (ویھدیکم سنن الذین من قبلکم) اللہ تعالیٰ تمہیں ان لوگوں کا راستہ دکھاتا ہے جن پر اللہ تعالیٰ نے احسان کیا یعنی ابنیائے کرام اور ان کے متعین کی سیرت حمیدہ، ان کے افعال صالحہ، ان کی عادات کاملہ اور ان کی توفیق تام کا راستہ۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے جو ارادہ فرمایا اسے نافذ…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

قول باری (ویتوب علیکم) فرقہ جبریہ کے عقائد کے بطلان پر دلالت کرتا ہے۔ کیونکہ آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ خبر دی ہے کہ وہ ہماری طرف متوجہ ہونے ا رادہ رکھتا ہے جبکہ ان باطل پرستوں کا عقیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ گناہوں پر اڑے رہنے والوں کے لیے اصرار اور اڑے رہنے کا اراد ہ کرتا ہے اور ان سے توبہ اور استغفار کا ارادہ نہیں کرتا۔ قول باری ہے (ویرید الذین یتبعون الشہوات ان یمیلوا میلا عظیما، مگر جو لوگ اپنی خواہشات نفس کی پیروی کر رہے ہیں وہ چاہتے ہیں کہ تم راہ راست سے ہٹ کر دور نکل جاؤ) ۔ بعض حضرات کا قول ہے کہ اس سے ہر باطل پرست مراد ہے کیونکہ وہ ہر صورت میں اپنی خواہش نفس کی پیروی کرتا ہے خواہ یہ حق کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

67 اتباع ہوی باعث ہلاکت و تباہی ۔ والعیاذ باللہ : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ خواہشات نفس کی پرستش و پیروی، ہلاکت و تباہی کی راہ ہے ۔ ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ : ۔ سو ایسے لوگ جانتے ہیں کہ خواہشات کی پیروی میں تم لوگ حیوانیت سافرہ اور بہیمیت مطلقہ کی اس راہ پرچلو جو تم لوگوں کو شرف انسانیت سے محروم کردے۔ اور اس طرح تم لوگ دائمی ہلاکت و تباہی کے گڑھے میں جاگرو۔ سو اس سے یہ امر واضح ہوجاتا ہے کہ خواہشات نفس کی پیروی انسان کو راہ حق و صواب سے دور اور اتنا دور لے جاتی ہے کہ اس کے لئے راہ حق و صواب کی طرف واپسی بہت مشکل، بلکہ بعض حالات میں ناممکن ہوجاتی ہے۔ اور اس طرح وہ دائمی ہلاکت و تباہی کے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 26–28

اللہ تمہیں راہ ہدایت پر چلانا چاہتاہے تشریح : ان آیات میں اللہ رب العزت فرماتا ہے کہ مذہب اسلام میں جو کچھ قوانین انسان کے لیے مقرر کئے گئے ہیں سب کے سب انتہائی آسان اور انسان کی سہولت اور فطرت کے بالکل مطابق ہیں جیسا کہ سورة البقرہ سے لے کر اب تک زندگی گزارنے کے جو طریقے اور اصول بتائے گئے ہیں سب کے سب انسان کی کامیابی، نجات اور آسانی پیدا کرنے کے لیے ہیں۔ یہی طریقے پہلی قوموں کو بھی بتائے گئے تھے مگر انہوں نے ان کو خلط ملط کردیا صرف چند نیک، متقی اور اچھے لوگوں نے ان اصولوں کو اپنایا اور نجات پائی، کیونکہ اللہ دانا بھی ہے اور بندوں کے ہر قسم کے حالات کو جانتا بھی ہے اسی لیے وہ ایسے راستے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 26–28

رکوع نمبر 5 ۔ آیات 26 تا 33 ۔ والمحصنت۔ اسرار و معارف : آیات 26 تا 28: اللہ کریم تم پر کوئی بوجھ نہیں ڈالنا چاہتا بلکہ بہت بڑا احسان فرما کر تمہین سلامتی کی راہ دکھانا چاہتا ہے واضح اور صاف الفاظ میں وہ راہ جو انبیاء اور صالحین کی ہے جس راہ سے گذرنے والے سلامتی کے گھر کو پہنچے بلکہ تم سے پہلی امتیں گمراہ ہو کر ہلاک ہوئیں مگر تمہارے لیے توبہ کا دروازہ کھلا رکھا ہے یعنی جو محرمات تمہیں بتائی گئی ہیں یہ پہلے بھی حلال نہ تھیں اور دین ابراہیمی میں بھی حرام تھیں اسی طرح حلال و حرام کا حکم بھی صرف تمہارے لیے نہیں ہے بلکہ تمام امتوں پر اسی طرح کے احکام نازل ہوئے جن پر عمل کرکے یہی لوگ اللہ کی خوشنودی…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 26–27

ف 1 یعنی اللہ تعالیٰ اپنے احکام اس لیے بیان فرمارہا ہے کہ تم کو حلال و حرام کا پتا چل جائے اور پہلے لوگوں کے عہدہ طریق کی ہدایت ہوجائے پہلے لوگوں سے مراد انبیا ( علیہ السلام) اور ان کی امتوں کے نیک لوگ ہیں۔ (ابن کثیر، شوکانی)2 یعنی شہوت پر ستوں کے کہنے میں نہ آو مراد یہود و نصاریٰ یا مجوسی ہیں جو محارم کے ساتھ بھی نکاح جائز سمجھتے تھے ،۔ (رازی قرطبی )

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(4ـ:27) تمیلوا ۔ مال یمیل (ضرب) میلا۔ درمیانی راہ سے کسی ایک طرف ہٹ جانا۔ ایک طرف مائل ہوجانا۔ راست روی سے ہٹ جانا۔ تمیلوا۔ تم بہک پڑو۔ کج روی اختیار کرو۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 26–28

آیت نمبر 26-28 لغات القرآن : سنن، راستے، طریقے۔ یتبعون، اتباع کرتے ہیں۔ الشھوات، خواہشیں، مزے۔ ان تمیلوا، یہ کہ تم مڑ جاؤ، بھٹک جاؤ۔ میل عظیم، مڑنے میں بہت زیادہ۔ ضعیف، کمزور، ناتواں۔ تشریح : میراث اور نکاح کے احکام بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ تم سمجھو یا نا سمجھو یہی وہ احکام ہیں جو علم اور حکمت سے بھرپور ہیں۔ یہی وہ راستہ ہے جس پر اس سے پہلے نیک لوگ چلے اور اللہ تعالیٰ کی مہربانیوں کے مستحق ہوئے۔ یہ کوئی نئے احکام نہیں ہیں بلکہ گزشتہ امتوں کو بھی یہی احکام دئیے گئے تھے اور جو سلف صالحین تھے وہ ان احکامات کی بجا آوری کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ کا یہ بھی ارشاد ہے کہ ان ہی احکام کو…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 26–28

ابوداؤد میں معتبر سند سے حضرت انس ؓ کی روایت ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ پہلی امتوں کے لوگوں نے اپنی طاقت سے باہر کچھ عبادتیں اپنے پیچھے لگائیں ، اور ان عبادتوں کے ادا کرنے کے لئے جنگلوں میں عبادت خانے بنائے ۔ آخر سختی کے سبب سے عبادت اور عبادت خانے سب کچھ چھوڑ بیٹھے ۔ پھر فرمایا کہ تم لوگوں کو ایسا نہیں کرنا چاہئے ۔ اللہ تعالیٰ کو ایسا عمل پسند نہیں کہ آج ہو اور کل نہ ہو ، بلکہ اللہ تعالیٰ کو تو وہ عمل پسند ہے جسے آدمی برابر نباہ سکے ۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 25–28

[42] لہذا لونڈی سے نکاح کرنا اپنے لئے عار نہ سمجھو۔ [25] اس رکوع میں لفظ محصنٰت دو مختلف معنوں میں استعمال کیا گیا ہے، ایک شادی شدہ عورتیں جن کو شوہر کی حفاظت حاصل ہو، دوسرے آزاد عورتیں جن کو خاندان کی حفاظت حاصل ہو اگرچہ وہ شادی شدہ نہ ہوں۔ آیت 25 میں محصنٰت کا لفظ لونڈی کے مقابل غیر شادی شدہ آزاد عورتوں کے لئے استعمال ہوا ہے جیسا کہ آیت کے مضمون سے صاف ظاہر ہے۔ بخلاف اس کے لونڈیوں کے لئے محصنت کا لفظ پہلے معنی میں استعمال ہوا ہے اور صاف الفاظ میں فرمایا گیا ہے کہ جب وہ قید نکاح میں محفوظ ہوجائیں آیت (فَاِذَآ اُحْصِنَّ 25؀ ) 4 ۔ النسآء :25) تب ان کے لئے زنا کی سزا اس سزا کی نصف ہے جو محصنٰت…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 26–28

(ف 1) ان آیات میں بتایا ہے کہ اسلام میں کوئی الگ صحیفہ شریعت نہیں ، اس میں وہی قواعد بتائے گئے ہیں جن کو بار بار دہرایا گیا ہے ، یہ وہی صداقت قدیمہ ہے ، جسے زمانہ کی ہر کروٹ کے ساتھ پرکھا گیا ہے ، مقصد یہ ہے ، کہ تم لوگ اسے قبول کرکے اللہ کی وسیع رحمتوں میں شامل ہوجاؤ ، شہوات سے بچو اور اپنی جبلی و فطری کمزوریوں کا خیال رکھو ، بجز خدا کے فضل وعفو کے تم برائیوں سے نہیں بچ سکتے ، اس لئے اس راستہ پر مضبوطی سے گامزن ہوجاؤ جو خدائے غفور نے تمہارے لئے تجویز کیا ہے ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

ف 2 اللہ تعالیٰ کو منظور ہے اور وہ یہ چاہتا ہے کہ اپنے احکام تمہارے لئے صاف صاف بیان فرمادے اور ان لوگوں کے احوال اور طریقے کو بتادے جو تم سے پہلے ہوگزرے ہیں اور ان سابقہ لوگوں کے یعنی انبیاء صالحین کے طریقوں پر تم کو چلائے اور وہ تم پر مہربانی اور رحمت کے ساتھ توجہ فرمائے اور اللہ تعالیٰ کمالِ علم اور کمال حکمت کا مالک ہے اور اللہ کو ان احکام اور پہلے لوگوں کے طریقے بتانے سے یہ منظور ہے کہ وہ تم پر رحمت و مہربانی کے ساتھ توجہ فرمائے اور وہ لگو جو خواہشات نفسانی کے پیرو ہیں اور اپنے مزوں کے پیچھے لگے ہوئے ہیں۔ وہ یہ چاہتے ہیں اور ان شہوت پرستوں کو یہ منظور ہے کہ تم سیدھی راہ سے ہٹ کر بہت بڑی…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 27–29

ف 1۔ شہوت پرست لوگوں سے بقول ابن زید مراد فساق ہیں اور بقول ابن عباس مراد زانی ہیں یہاں شہوت پرستی کی مذمت میں شہوت مباحہ سے منقطع ہونا داخل نہیں ہے۔ 2۔ بڑی بھاری کجی کے دو مطلب ہیں ایک یہ کہ بےباکانہ حرام کا مرتکب ہونا دوسرے یہ کہ حرام کو حلال سمجھ جانا۔ اور اس کے مقابلہ میں ہلکی کجی یہ ہے کہ گناہ کو گناہ سمجھے اور اتفاقا اس کا صدور ہوجائے اس آیت میں اس میل غیرعظیم کی اجازت نہیں ہے بلکہ بیان کرنا ہے ان بدخواہوں کے حال کا وہ میل عظیم کی سعی میں ہیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

Explained with ayahs 26–27

اللہ کا چاہنا وہی ہے جو اس نے قانون بنا کر اس کا اعلان کردیا ہے : 63: اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو پیدا کیا اور اپنی پوری مخلوق سے ان کو اشرف و اعلیٰ بنایا۔ چونکہ تخلیق انسانی میں شر اور خیر دونوں چیزوں کو اکٹھا کردیا اور اس شاہکار کا یہی کمال ہے کہ یہ مجموعہ اضداد ہے اور اس وجہ سے یہ کمالف بھی ہے کہ جب متضاد قوتوں کا مجموعہ ہے تو ان قوتوں پر اس نے اس کو اختیار بھی مرحمت فرمایا ہے اس اختیار کی وجہ سے وہ ثواب و عذاب کا مستحق ہے۔ پھر اللہ نے اس کو دونوں طاقتوں اور قوتوں سے کام لینے کی مجھے بھی عطا فرمائی۔ اس کی راہنمائی کے لئے انسانوں کو رسول بنا کر بھیجا فرمایا یہ سب کچھ کیوں ہوا ؟ اس لئے کہ اللہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 26–27

Sequence Mentioned in the previous verses were details of injunctions. Now, in the present verses, Allah Almighty points to his blessings and favours saying that your being obligated with these injunctions is for your own good, even though you may not be able to understand its manifestation in details. Then, along with it, there is the motivation to follow the divine injunctions. Finally, there is the message of alert against the evil intentions of the misguided who wish ill of you and would like you to stray far away from the straight path. Commentary Following the description of several…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 27–28

49. This refers to the hypocrites, the ultra-conservatives and the Jews who lived on the outskirts of Madina. Both the hypocrites and the conservatives were incensed at the reforms introduced by Islam, as these were diametrically opposed to the age-old customs and traditions of their society and culture. The reforms were numerous: a share of the inheritance was assigned to daughters; widows were liberated from bondage to the will of their husbands' families and were granted the freedom to marry whomever they wished after the expiry of the waiting-period ('iddah); marriage with one's…

Read the full tafseer →