Explained with ayahs 26–28
پچاس سے پانچ نمازوں تک
فرمان ہوتا ہے کہ اے مومنو اللہ تعالیٰ ارادہ کرچکا ہے کہ حلال و حرام تم پر کھول کھول کر بیان فرما دے جیسے کہ اس سورت میں اور دوسری سورتوں میں اس نے بیان فرمایا وہ چاہتا ہے کہ سابقہ لوگوں کی قابل تعریف راہیں تمہیں سمجھا دے تاکہ تم بھی اس کی اس شریعت پر عمل کرنے لگ جاؤ جو اس کی محبوب اور اس کی پسندیدہ ہیں وہ چاہتا ہے کہ تمہاری توبہ قبول فرمالے جس گناہ سے جس حرام کاری سے تم توبہ کرو وہ فوراً قبول فرما لیتا ہے وہ علم و حکمت والا ہے، اپنی شریعت اپنی اندازے اپنے کام اور اپنے فرمان میں وہ صحیح علم اور کامل حکمت رکھتا ہے، خواہش نفسانی کے پیروکار یعنی شیطانوں کے غلام یہود و…
Read the full tafseer →سورة النِّسَآء 48
سورة کے آغاز سے یہاں تک جو ہدایات دی گئی ہیں، اور اس سورة کے نزول سے پہلے سورة بقرہ میں مسائل تمدن و معاشرت کے متعلق جو ہدایات دی جا چکی تھیں، ان سب کی طرف بحیثیت مجموعی اشارہ کرتے ہوئے فرمایا جا رہا ہے کہ یہ معاشرت، اخلاق اور تمدن کے وہ قوانین ہیں جن پر قدیم ترین زمانہ سے ہر دور کے انبیاء اور ان کے صالح پیرو عمل کرتے چلے آئے ہیں، اور یہ اللہ کی عنایت و مہربانی ہے کہ وہ تم کو جاہلیت کی حالت سے نکال کر صالحین کے طریقہ زندگی کی طرف تمہاری رہنمائی کر رہا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–27
ربط آیات
ماقبل کی آیتوں میں احکام کی تفصیل مذکور ہوئی، ان آیتوں میں اللہ جل شانہ اپنا انعام و احسان بتلاتے ہیں اور یہ کہ ان احکام کی مشروعیت میں تمہارے ہی منافع و مصالح کی رعایت رکھی گئی ہے اگرچہ تم اس کی تفصیل کو نہ سمجھو، پھر اس کے ساتھ ہی ان احکام پر عمل کرنے کی ترغیب ہے اور گمراہوں کے ناپاک ارادوں پر بھی متنبہ کیا گیا کہ یہ لوگ تمہارے بدخواہ ہیں جو تمہیں مستقیم راستہ سے بھٹکانا چاہتے ہیں۔
خلاصہ تفسیر
اللہ تعالیٰ کو (ان مضامین مذکورہ کے ارشاد فرمانے سے اسی طرح دوسرے مضامین سے اپنا کوئی نفع مقصود نہیں کہ یہ محال عقلی ہے ملکہ تم کو نفع پہنچانے کے لئے) یہ منظور ہے کہ (آیات احکام میں تو) تم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–28
تفسیر آیات 26 تا 28:
فصل 12: آیات 26۔۔۔ 28 کا مضمون :
معاشرتی اصلاح سے متعلق احکام و ہدایات کے بیچ میں یہ تین آیتیں بطور تنبیہ و تذکیر آگئی ہیں۔ جن سے مقصود ایک طرف تو مسلمانوں کو ان احکام کی عظیم قدر و قیمت کی طرف توجہ دلانا ہے کہ اللہ تعالیٰ یہ تمہاری طرف تمام انبیاء و صالحین کی وراثت منتقل کر رہا ہے تو اس کی سچے دل سے قدر کرو اور حمت الٰہی کے مستحق بنو، دوسری طرف اس طوفان مخالفت سے آگاہ کرنا ہے جو ان اصلاحات کی مخالفت میں اس مفاد پرست طبقہ کی طرف سے اٹھ رہا تھا جو یتیموں، بیواؤ، کمزوروں اور غلاموں کے حقوق پر غاصبانہ تسلط جمائے بیٹھا تھا اور کسی طرح بھی اپنے اس تسلط سے دستبردار ہونے کے لیے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–26
25۔ 1 اس سے معلوم ہوا کہ لونڈیوں کا مالک ہی لونڈیوں کا ولی ہے لونڈی کا کسی جگہ نکاح اس کی اجازت کے بغیر نہیں کیا جاسکتا۔ اسی طرح غلام بھی اپنے مالک کی اجازت کے بغیر کسی جگہ نکاح نہیں کرسکتا۔
25۔ 2 یعنی لونڈیوں کو (10) کے بجائے نصف یعنی (50) کوڑوں کی سزا دی جائے گی۔ گویا ان کے لئے سزائے رجم نہیں ہے، کیونکہ وہ نصف نہیں ہوسکتی اور غیرشادی شدہ کو تعزیری سزا ہوگی۔
25۔ 3 یعنی لونڈیوں سے شادی کی اجازت ایسے لوگوں کے لئے ہے جو جوانی کے جذبات پر کنٹرول ' رکھنے کی طاقت نہ رکھتے ہوں اور بدکاری میں مبتلا ہونے کا اندیشہ ہو اگر ایسا اندیشہ نہ ہو تو اس وقت تک صبر کرنا بہتر ہے جب تک کسی آزاد خاندانی عورت سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–27
22: چونکہ آزاد عورتوں کا مہر عام طور پر زیادہ ہوتا تھا اور باندیوں کا مہر کم، اس لئے ایک طرف تو حکم یہ دیا گیا ہے کہ باندیوں سے نکاح اسی وقت کیا جائے جب آزاد عورتوں سے نکاح کی استطاعت نہ ہو، دوسری طرف یہ ہدایت دی گئی ہے کہ جب کسی باندی سے نکاح کی نوبت آجائے توپھرمحض اس کے باندی ہونے کی وجہ سے اس کو حقیر سمجھنا درست نہیں، کیونکہ فضیلت کا اصل دارومدار تقوی پر ہے، اور اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتے ہیں کہ کس کی ایمانی حالت زیادہ مضبوط ہے ورنہ اولاد آدم ہونے کے لحاظ سے سب ایک دوسرے کے برابر ہیں۔
23: آزاد عورتیں اگر غیر شادی شدہ ہوں تو ان کے لیے زنا کی سزا سو کوڑے ہیں، جس کا ذکر سورة نور کی دوسری آیت…
Read the full tafseer →(آیت) ” یرید اللہ لیبین لکم ویھدیکم سنن الذین من قبلکم ویتوب علیکم واللہ علیم حکیم (26) واللہ یرید ان یتوب علیکم ویرید الذین یتبعون الشھوت ان تمیلوا میلا عظیما (27) یرید اللہ ان یخفف عنکم وخلق الانسان ضعیفا “۔ (28)
” اللہ چاہتا ہے کہ تم پر ان طریقوں کو واضح کرے اور انہی طریقوں پر تمہیں چلائے جن کی پیروی تم سے پہلے گزرے ہوئے صلحاء کرتے تھے ۔ وہ اپنی رحمت کے ساتھ تمہاری طرف متوجہ ہونے کا ارادہ رکھتا ہے اور وہ علیم بھی ہے اور دانا بھی ۔ ہاں ‘ اللہ تو تم پر رحمت کے ساتھ توجہ کرنا چاہتا ہے مگر جو لوگ خود اپنی خواہشات نفس کی پیروی کر رہے ہیں وہ چاہتے ہیں کہ تم راہ راست سے ہٹ کر دور نکل جاؤ ، اللہ…
Read the full tafseer →2 یعنی اللہ تعالیٰ کو ان احکام کے ارشاد سے مطلوب یہی ہے کہ تم کو حلال اور حرام کا حال معلوم ہوجائے اور تم کو پہلے انبیاء کا راستہ نصیب ہو جیسے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) وغیرہ اور مغفرت کرے تمہاری اور اللہ کو تمہارے مصالح اور تمام حالات کا پورا علم ہے اور اس کے ہر حکم اور ہر تدبیر میں حکمت ہے تو اب اگر اس کے حکم کی اطاعت نہ کرو گے تو ہدایت سے بھی محروم اور پہلوں کے بھی مخالف اور اللہ کی رحمت اور مغفرت سے محروم رہو گے۔
فائدہ : پہلے سے زنا اور لواطت کی حرمت اور ان سے توبہ کرنا اور عورتوں کے متعلق بعضے احکام اور جن عورتوں سے نکاح حرام ہے ان کا ذکر اور نکاح کے متعلق مہر وغیرہ قیود و شرائط کا…
Read the full tafseer →ان تین آیات میں احکام شریعت کے ضمن میں فلسفہ و حکمت کا بیان ہو رہا ہے۔ احکام شریعت کو انسان اپنے اوپر بوجھ سمجھنے لگتا ہے۔ اسے جب حکم دیا جاتا ہے کہ یہ کرو اور یہ مت کرو تو آدمی کی طبیعت ناگواری محسوس کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عیسائیوں نے شریعت کا طوق اپنے گلے سے اتار پھینکا ہے۔ 1970 ء میں کرسمس کے موقع پر میں لندن میں تھا۔ وہاں میں نے ایک عیسائی دانشور کی تقریر سنی تھی ‘ جس نے کہا تھا کہ شریعت لعنت ہے۔ خواہ مخواہ ایک انسان کو یہ باور کرایا جاتا ہے کہ یہ حلال ہے ‘ یہ حرام ہے۔ جب وہ حرام سے رک نہیں سکتا تو اس کا دل میلا ہوجاتا ہے۔ وہ اپنے آپ کو خطاکار سمجھنے لگتا ہے اور مجرم ضمیر guilty…
Read the full tafseer →45 پہلی شریعتوں کی اتباع کیسے ؟ اس سے معلوم ہوا کہ جو عائلی اور معاشرتی احکام اس سورة کے آغاز سے بیان ہو رہے ہیں۔ مثلاً یتیموں کے حقوق کی نگہداشت، عورت سے مختلف قسم کی بےانصافیاں، میراث کے احکام، نکاح اور محرمات کا ذکر وغیرہ، اسی طرح کے یا اس سے ملتے جلتے احکام ہی پہلے انبیاء کو بھی وحی کیے گئے تھے اور ہمیں ان طریقوں پر مطلع نہیں کیا جا رہا بلکہ ان کے طریقوں کو اپنانے کی بھی ہدایت دی جا رہی ہے۔ اور یہ بھی اللہ تعالیٰ کی مہربانی ہے کہ وہ جاہلیت کے طریقہ سے نکال کر صالحین کے طریقہ زندگی کی طرف ہماری رہنمائی کر رہا ہے۔ اس آیت سے بھی رجم کی مشروعیت ثابت ہوتی ہے۔ کیونکہ تورات میں یہی سزا مقرر تھی۔
Read the full tafseer →93 ۔ (رحمت ومغفرت کے ساتھ) لیبین لکم چناچہ وہ آیات احکام ومسائل تمہاری ہی مصلحت ونفع کیلئے نازل کرتا ہے (آیت) ” یھدیکم سنن الذین من قبلکم “۔ چناچہ وہ آیات قصص و حکایات تمہاری ہی مصلحت ونفع کے لئے نازل کرتا ہے۔
94 ۔ چناچہ بندوں کی کوئی سی بھی ضرورت ومصلحت اس کے علم کامل سے باہر نہیں۔ اور اپنی حکمت کاملہ سے اس نے احکام ایسے رکھے ہیں جو ہر مصلحت کی پوری پوری رعایت کرنے والے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–27
آیات نمبر 26 تا 33
ترجمہ : اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ تمہارے لئے تمہارے دین کے احکام اور تمہارے معاملہ کی مصلحتیں خوب کھول کھول کر بیان کرے، اور تم کو تم سے پہلے لوگوں انبیاء کے حلال و حرام میں حالات (طریقے) بتادے تاکہ تم ان کی اتباع کرو (اور اللہ تعالیٰ چاہتا ہے) کہ تم کو ان معصتیوں سے کہ جن پر تم تھے اپنی اطاعت کی طرف پھیر دے اللہ تمہارے حالات کا جاننے والا اور جو نظم اس نے تمہارے لئے قا ئم کیا ہے اس میں باحکمت ہے اور اللہ کو منظور ہے کہ تمہارے حال پر توجہ فرمائے اس (جملہ کو) مکرر لایا ہے تاکہ مابعد کو اس پر مبنی کیا جائے، اور جو لوگ خواہشات کے بندے ہیں یعنی یہود اور نصاری اور مجوسی اور زنا…
Read the full tafseer →یرید اللہ لیبین لکم اللہ چاہتا ہے کہ تمہارے لئے کھول کر بیان کر دے یعنی تمہارے دین کے احکام اور مصالح۔ لام تاکید استقبال یا تعلیل کے لئے ہے۔
ویہدیکم سنن الذین من قبلکم اور تم سے اگلے (ایماندار) لوگوں کے طریقے تم کو بھی بتادے۔ اس آیت سے ثابت ہو رہا ہے کہ گزشتہ شریعتوں کے احکام اگر وہ ہماری شریعت میں منسوخ نہ ہوگئے ہوں ہمارے لئے بھی باقی ہیں اور کتاب اللہ یا سنت سے اگر ان کا ثبوت ہو رہا ہے تو ان کی تعمیل ہم پر بھی واجب ہے۔ ہاں یہودی روایات کا اعتبار نہیں کیونکہ یہودی کافر ہیں اور ناقابل اعتماد۔ البتہ اگر حضرت عبداللہ بن سلام اور حضرت کعب احبار جیسے صحابہ ؓ مسلمان ہونے کی حالت میں اسرائیلی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–27
(26۔ 27) یعنی جو چیزیں تمہارے لیے حلال کردی ہیں اور یہ کہ باندیوں سے نکاح نہ کرنا تمہارے لیے بہتر ہے، اور اس کے ساتھ زمانہ جاہلیت میں جو چیزیں مروج ہوگئیں تھیں ان کو معاف فرمانے والا ہے اور تمہاری بےقراری سے وہ بخوبی واقف ہے، اس لیے اس نے خاص شرائط کے تحت تمہیں ضرورت کے وقت باندیوں سے شادی کرنے کی اجازت دے دی۔
اور جس وقت اس نے تم پر زنا کو اور باپ شریک بہنوں سے شادی کرنے کو حرام کیا وہ پچھلی غلطیوں کو معاف فرمانے والا ہے۔
اور یہود جو کہ باپ شریک بہنوں اور زنا کو اپنی کتاب میں حلال بنا کر اس گناہ کا ارتکاب کرتے ہیں تو تم خدانخواستہ ان کی اتباع میں مبتلا ہوگے تو بہت بڑی غلطی میں پڑجاؤ گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–27
يُرِيْدُ اللّٰهُ لِيُـبَيِّنَ لَكُمْ۔۔ : یعنی اللہ تعالیٰ اپنے احکام اس لیے بیان فرما رہا ہے کہ تم کو حلال و حرام کا پتا چل جائے اور پہلے لوگوں کے عمدہ طریق کی ہدایت ہوجائے، پہلے لوگوں سے مراد انبیاء اور ان کی امتوں کے نیک لوگ ہیں۔ (ابن کثیر۔ شوکانی)
وَاللّٰهُ يُرِيْدُ اَنْ يَّتُوْبَ عَلَيْكُمْ ۣ۔۔ : یعنی اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ تم فسق و فجور کے بجائے پاکیزگی اپناؤ، مگر خواہشات کی اتباع کرنے والے بدکار چاہتے ہیں کہ مسلمان بھی ان کی طرح ہر حد سے آزاد ہو کر حق سے بہت دور ہٹ جائیں، لہٰذا تم شہوت پرستوں کے کہنے میں نہ آؤ۔ مراد یہود و نصاریٰ ، مجوسی اور کمیونسٹ ہیں، جو حرام رشتوں سے بھی نکاح جائز…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 26۔
یعنی تمہارے لیے تمہارے دین کے معاملات اور معاملات کے مصالح بیان کر دے اور جو تمہارے لیے حلال ہے اور جو تمہارے لیے حرام ہے اسے بیان کر دے، یہ کسی بھی واقعہ کے حکمت سے خالی نہ ہونے پر دلیل ہے، اسی سے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” ما فرطنا فی الکتب من شیء “۔ (الانعام : 38)
اس کی مزید وضاحت آگے آئے گی، اس کے بعد فرمایا (آیت) ” یرید اللہ ان یخفف عنکم “۔ اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ ہلکا کرے تم سے (پابندیوں کا بوجھ) یہ انکے ساتھ آیا ہے اور پہلا ارشاد لام کے ساتھ تھا۔ فراء نے کہا : عرب لام، کی اور ان کو ایک دوسرے کی جگہ استعمال کرتے ہیں، ان کی جگہ کی کے معنی پر لام کو امرت اور اردت میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–28
(1) ابن جریر وابن ابی الدنیا نے التوبہ میں اور بیہقی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آٹھ آیات جو سورة نساء میں نازل ہوئی اس امت کے لئے خیر ہیں ان چیزوں میں سے جن پر سورج طلوع اور غروب ہوا ان میں پہلی لفظ آیت ” یرید اللہ لیبین لکم ویھدیکم سنن الذین من قبلکم ویتوب علیکم واللہ علیم حکیم “ اور دوسری ” واللہ یرید ان یتوب علیکم ویرید الذین یتبعون الشھوت ان تمیلوا میلا عظیما “ اور تیسری ” یرید اللہ ان یخفف عنکم وخلق الانسان ضعیفا “ اور چوتھی ” ان تجتنبوا کبائر ما تنھون عنہ نکفر عنکم سیاتکم وندخلکم مدخلا کریما “ اور پانچویں ” ان اللہ لا یظلم مثقال ذرۃ “ اور چھٹی ” ومن یعمل سوءا او یظلم نفسہ ثم یستغفر…
Read the full tafseer →[ یُرِیْدُ : چاہتا ہے ] [ اللّٰہُ : اللہ ] [ لِیُــبَــیِّنَ : کہ وہ خوب واضح کرے ] [ لَــکُمْ : تمہارے لیے ] [ وَیَہْدِیَکُمْ : اور یہ کہ وہ ہدایت دے تم کو ] [ سُنَنَ الَّذِیْنَ : ان (لوگوں) کے طریقوں کی جو ] [ مِنْ قَـبْلِکُمْ : تم سے پہلے (گزرے) ہیں ] [ وَیَتُوْبَ عَلَـیْـکُمْ : اور یہ کہ وہ تمہاری توبہ قبول کرے ] [ وَاللّٰہُ : اور اللہ ] [ عَلِیْمٌ : جاننے والا ہے ] [ حَکِیْمٌ : حکمت والا ہے ]
ترکیب :” یَھْدِیَ “ اور ” یَتُوْبَ “ کی نصب بتارہی ہے کہ یہ ” لِیُـبَـیِّنَ “ کی لام پر عطف ہیں۔ جبکہ ” سُنَنَ الَّذِیْنَ “ میں ” سُنَنَ “ کی نصب مفعول ہونے کی وجہ سے ہے جو ” یُـبَـیِّنَ “ اور ”…
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ کو منظور ہے کہ تمہاری توبہ قبول فرمائے اور نفس کی خواہشوں کے پیچھے چلنے والے تمہیں راہ حق سے ہٹانا چاہتے ہیں
ان آیات میں اول تو یہ ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے جو حکم دیئے ہیں اور زندگی گزارنے کے جو طریقے بتائے ہیں اس میں تمہارا فائدہ ہے تم سے پہلے جو صالحین تھے اللہ تعالیٰ نے ان کے طریقے بھی تمہیں بتائے ہیں تاکہ تم سمجھو کہ گزشتہ امتوں کے لیے بھی احکام آئے تھے اور وہ ان پر عمل کرتے تھے۔ تم کو بھی عمل کرنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ کو تمہاری توبہ قبول کرنا منظور ہے اس نے جو بھی کچھ حکم دیا ہے تمہارے لیے اس میں خیر ہے وہ علیم ہے تمہارے انفرادی و اجتماعی اعمال کو جانتا ہے۔ اور حکیم بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–28
ذکر الطاف و عنایات خداوندی بہ اہل اسلام۔
قال اللہ تعالی۔ یرید اللہ۔۔۔ الی۔۔۔ ضعیفا۔
ربط) حلال و حرام کے احکام بیان کرنے کے بعد اہل اسلام پر اپنی عنایات اور الطاف کا ذکر فرماتے ہیں کہ اللہ تم کو ایسی چیزوں کا حکم دیتا ہے جو تمہارے لیے سراسر باعث منفعت اور مصلحت ہوں اور شہوت پرست تم کو دوسری طرف لے جانا چاہتے ہیں شہوت پرستوں کے نزدیک حلال و حرام کی کوئی تقسیم نہیں اللہ چاہتا ہے کہ تمہارے لیے بیان کردے یعنی تمہارے فائدہ اور مصلحت کے لیے حلال و حرام کو خوب کھول کر بیان کردے تاکہ تمہیں کسی امر میں اشتباہ باقی نہ رہے اور تم حق اور باطل اور حلال اور حرام میں تمیز کرسکو اور تاکہ اللہ تم کو ان لوگوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–28
21 جو لوگ آزاد عورتوں سے نکاح کرنے کی طاقت نہیں رکھتے وہ لونڈیوں سے نکاح کرلیں۔ لیکن لونڈی سے نکاح کرنے کے لیے اس کے مالک کی اجازت شرط ہے۔ اس آیت سے امام شافعی (رح) نے اس پر استدلال کیا ہے کہ جس میں آزاد عورت سے نکاح کرنے کی استطاعت ہو اس کے لیے لونڈی سے نکاح جائز نہیں جیسا کہ مفہوم شرط کا تقاضا ہے اور اہل حجاز کہتے ہیں کہ غیر مستطیع کے لیے کتابیہ لونڈی سے نکاح جائز نہیں کیونکہ فَتَیَاتِکُم کے بعد المومنات کی قید موجود ہے لیکن امام ابوحنیفہ ؓ کے نزدیک لونڈی خواہ مومنہ ہو خواہ کتابیہ سے بہتر صورت نکاح جائز ہے۔ حرہ سے نکاح کی استطاعت ہو یا نہ ہو۔ کیونکہ فَانْکِحُوْا مَا طَابَ لَکُمْ مِّنَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–28
ربط آیات
گزشتہ دروس میں محرمات نکاح کا ذکر ہوا ، پھر اللہ تعالیٰ نے لونڈیوں کے ساتھ نکاح کرنے کی اجازت مرحمت فرمائی اور اس کی حکمت بھی بیان فرمادی ، اس کے بعد اللہ نے مخلوق پر اپنے احسان کا ذکر فرمایا ، اور حلال و حرام سے متعلقہ احکام کی حکمت بیان فرمائی ہے۔
مکمل وضاحت
ارشاد ہوتا ہے یرید اللہ اللہ تعالیٰ چاہتا ہے لیبین لکمتا کہ بیان کردے تمہارے لیے وہ چیزیں جو تمہارے لیے حلال ہیں اور جو حرام ہیں اللہ تعالیٰ تمہیں وہ باتیں بھی بتانا چاہتا ہے جو تمہارے ساتھ مناسبت رکھتی ہیں اور جن میں تمہارافائدہ ہے۔ اور وہ باتیں بھی جن سے بچنا بھی تمہارے لیے ضروری ہے یہ اللہ تعالیٰ کا خاص احسان اور اس کی…
Read the full tafseer →يُرِيْدُ اللہُ لِيُـبَيِّنَ لَكُمْ وَيَہْدِيَكُمْ سُنَنَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَيَتُوْبَ عَلَيْكُمْ 0ۭ وَاللہُ عَلِيْمٌ حَكِيْمٌ 26
رود
والْإِرَادَةُ منقولة من رَادَ يَرُودُ : إذا سعی في طلب شيء، والْإِرَادَةُ في الأصل : قوّة مركّبة من شهوة وحاجة وأمل، نحو : إِنْ أَرادَ بِكُمْ سُوءاً أَوْ أَرادَ بِكُمْ رَحْمَةً [ الأحزاب/ 17]
( ر و د ) الرود
الا رادۃ یہ اراد یرود سے ہے جس کے معنی کسی چیز کی طلب میں کوشش کرنے کے ہیں اور ارادۃ اصل میں اس قوۃ کا نام ہے ، جس میں خواہش ضرورت اور آرزو کے جذبات ملے جلے ہوں ۔ چناچہ فرمایا : إِنْ أَرادَ بِكُمْ سُوءاً أَوْ أَرادَ بِكُمْ رَحْمَةً [ الأحزاب/ 17]…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–28
ترکیب : یرید کا مفہوم ذلک محذوف ‘ لیبتین کالام یرید سے متعلق ہے اور ممکن ہے کہ لام زائدہ ہو تقدیرہ یریدان یتبیّن ویرید الذین یتبعون معطوف ہے واللّٰہ یریدان یتوب پر۔ ضعیفًا حال ہے انسان سے اور بعض کہتے ہیں تمیز ہے وفیہ مافیہ۔
تفسیر : لونڈیوں سے نکاح کی اجازت کے بعد یہ بھی فرما دیا تھا کہ یہ اس کے لئے ہے کہ جس کو حرامکاری میں گرفتار ہونے کا ڈر ہو ورنہ صبر کرنا تو بہتر ہے کیونکہ لونڈیوں کی عادتیں اچھی نہیں ہوتیں۔ اس کے بعد یہ بتلاتا ہے کہ یہ احکام اور نصائح ہم تمہارے فائدہ کے لئے بیان کرتے ہیں تاکہ تم صالحین اور راستبازوں کے طریقہ پر چل کر مقصود تک پہنچو۔ ویتوب علیکم سے یہی مراد ہے اور جو تمہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–28
یُرِیْدُاللّٰہُ لِیُبَیِّنَ لَـکُمْ وَیَھْدِیَکُمْ سُنَنَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِـکُمْ وَیَتُوْبَ عَلَیْـکُمْ ط وَاللّٰہُ عَلِیْمٌ حَکِیْمٌ
(اللہ چاہتا ہے کہ بیان کرے تمہارے لیے اور ہدایت دے تمہیں ان لوگوں کے طریقوں کی جو تم سے پہلے تھے اور تم پر رحمت کی نگاہ کرے اور اللہ جاننے والا اور حکمت والا ہے) (النسآء : 26)
خاص ہے ترکیب میں قوم رسول ہاشمی
امتِ مسلمہ کے نام سے جو نئی امت تشکیل پارہی ہے اس کے حوالے سے سورة بقرۃ میں اور پھر سورة نساء میں یہاں تک معاشرت، تمدن اور تہذیب کی تشکیل و تعمیر کے لیے ہدایات جاری تھیں کہ درمیان میں یہ تین آیتیں ایک خاص مقصد کے لیے نازل کی گئیں اور اس کے بعد پھر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–28
فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔
عورتوں کے حقوق اور دیگر مسائل کے بارے میں دنیا کے دو بڑے مذاہب یہود و نصاریٰ نے بہت سے حقائق چھپا رکھے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان مسائل کو کھول کھول کر بیان کرنے کے بعد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے یہ اس لیے کھول کر بیان کیے ہیں تاکہ تمہیں پہلے انبیاء اور صلحاء کا راستہ دکھلایا جائے اور تمہیں معلوم ہو کہ اللہ کے برگزیدہ لوگوں کی زندگی کا کیا اسلوب ہوا کرتا ہے تاکہ تم صالح زندگی اختیار کرکے اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم کے حقدار بن جاؤ۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ تم پر اپنے کرم و فضل کے ساتھ توجہ کرنا چاہتا ہے۔ جو لوگ اپنے نفس کے پجاری، خواہشات کے بندے اور رسومات کے غلام بن…
Read the full tafseer →آیت 26 :
یُرِیْدُ اللّٰہُ لِیُبَیِّنَ لَکُمْ (اللہ تعالیٰ چاہتے ہیں کہ وہ تمہارے لئے کھول کر بیان کرے) اصل اس طرح ہے یرید اللّٰہ ان یبین لکم اللہ تعالیٰ تمہارے سامنے بیان کرنا چاہتے ہیں۔ ارادئہ تبیین کو پختہ کرنے کے لئے لام کو بڑھا دیا۔ جیسا کہ لا ابالک میں اَبْ کی طرف اضافت میں تاکید بڑھا دی گئی۔ مطلب آیت کا یہ ہوا اللہ تعالیٰ چاہتے ہیں۔ کہ وہ کھول کر بیان کردیں وہ مصالح جو تم پر مخفی ہیں اور وہ عمدہ اعمال جو معلوم نہیں۔ وَیَہْدِیَکُمْ سُنَنَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ (اور تمہاری راہنمائی کر دے ان لوگوں کے راستے کی طرف جو تم سے پہلے ہوئے) یعنی پہلے انبیاء ( علیہ السلام) اور صالحین کے راستے…
Read the full tafseer →(تفسیر) 26۔:
(آیت)” یرید اللہ لیبین لکم “۔ یعنی تمہارے لیے بیان کر دے ، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے (آیت)” وامرت لا عدل بینکم “۔ وہ تمہارے لیے انصاف کا حکم کرتا ہے (آیت)” وامرنا لنسلم لرب العالمین “۔ اور ہم کو حکم ہوا کہ ہم پروردگار عالم کے تابع رہیں اور دوسری جگہ ارشاد فرمایا (آیت)” وامرت ان اسلم “۔ کہ ہم کو حکم ہوا کہ ہم تابع رہیں ، آیت کا معنی یہ ہوگا (آیت)” یریداللہ ان یبین لکم “۔ یعنی تمہارے دین کے احکام اور مصالح امور کو کھول کر بیان کردیا ، عطاء فرماتے ہیں کہ تمہارے لیے بیان کردیا گیا ہے جو تمہیں اس کے قریب کر دے ، کلبی (رح) نے بیان کیا کہ تمہارے لیے واضح کردیا کہ باندیوں کے نکاح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–28
(26 ۔ 27) ۔ اوپر حرام حلال کا ذکر فرما کر ان آیتوں میں فرمایا اللہ چاہتا ہے کہ تم کو اپنے دین کی جائز ناجائز باتیں اچھی طرح سمجھا دے تاکہ مثلاً ماں، بہن، بیٹی وغیرہ کے حرام جاننے کا تمہارا اور تم سے پہلے لوگوں کا طریقہ ایک ہوجائے اور اللہ نے اپنے وسیع علم سے بندوں کی ہر وقت کی مصلحت کو معلوم کر کے اپنی حکمت سے جو احکام نازل فرمائے ہیں ان کا عمل تم میں آسانی سے جاری ہوجائے اور اللہ یہ بھی چاہتا ہے کہ ان احکام کی تعمیل میں تم سے کوتاہی ہو اور اس کوتاہی پر نادم ہو کر اللہ کی جانب میں تم توبہ کرو۔ تو وہ تمہاری قبول کرے گا۔ لیکن جن لوگوں کی قسمت میں اللہ کے دین کی پابندی نہیں لکھی گئی وہ خود بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–26
آیت 25
یعنی تم میں سے جو کوئی آزاد اور مومن عورتوں کو حق مہر ادا کرنے کی استطاعت نہیں رکھتا اور اس کے ساتھ ساتھ اسے اپنے آپ پر بدکاری اور مشقت کا خطرہ ہو، تو اس کے لئے مومن لونڈیوں کے ساتھ نکاح کرنا جائز ہے یہ تو ظاہری احوال کے مطابق ہے ورنہ اللہ تعالیٰ مومن صادق کو خوب جانتا ہے۔ دنیاوی امور ان کے ظاہر پر مبنی ہیں اور آخرت کے احکام کا تعلق انسان کے باطن میں چھپی نیتوں کے ساتھ ہے۔
(فانکحوھن باذن اھلھن) ” پس تم لونڈیوں کے ساتھ ان کے مالکوں کی اجازت لے کر نکاح کرلو “ خواہ مالک ایک ہو یا متعدد ہوں۔ (واتوھن اجورھن بالمعروف) ” اور دستور کے مطابق ان کا مہر بھی ادا کردو۔ “ یعنی اگرچہ جن کے ساتھ نکاح…
Read the full tafseer →(سابقہ آیت کی بقیہ تفسیر)
اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ یہ کہنا سراسر غلط ہے اور کئی وجوہ سے اس کا انتقاض لازم آتا ہے۔ ایک تو یہ کہ معترض نے اپنے اس قول میں اس علت اور وجہ کی نشاندہی نہیں کی جو ایک حکم کے تحت ان دونوں صورتوں کی یکجائی کی مو جب بن رہی ہے نہ ہی اس دلالت کا ذکر کیا جو اس علت کی صحت کو ثبت کرتی ہے جو دعویٰ ان باتوں سے خالی ہوگا وہ ساقط تصور کیا جائے گا اور قابل قبول نہیں ہوگا۔
دوسری وجہ یہ ہے کہ اگر معترض کا یہ دعویٰ تسلیم کرلیا جائے تو اس سے لازم آئے گا کہ اگر کسی شخص کے پاس آزاد عورت کے مہر کی مقدار رقم ہو تو اس رقم کا وجود اس عورت کی ماں یا بیٹی سے نکاح کی ممانعت میں وہی کردار…
Read the full tafseer →64 اللہ کے احکام بندوں کے بھلے کے لیے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ اپنے احکام کھول کر بیان فرماتا ہے خود تمہارے بھلے کیلئے اے لوگو۔ تاکہ تم لوگ ان پر عمل کر کے سعادت دارین سے سرفراز ہو سکو۔ اور تمہیں حق و باطل، جائز و ناجائز، اور حلال و حرام، کے درمیان فرق و امتیاز میں دقت و دشواری پیش نہ آئے۔ پس یہ اس کا تم پر عظیم الشان کرم و احسان ہے۔ اس لئے تم لوگوں پر لازم ہے کہ تم اس کرم و احسان کی قدر پہچانو، اور اطاعت و تسلیم کی گردن اپنے اس خالق ومالک مہربان کے آگے ڈال دو ، اور سرتسلیم خم کرکے ان احکام و ہدایات پر عمل پیرا ہوجاؤ، اس ایمان و یقین سے سرشار ہو کر کہ اسی میں تمہارا بھلا اور فائدہ ہے،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–28
اللہ تمہیں راہ ہدایت پر چلانا چاہتاہے
تشریح : ان آیات میں اللہ رب العزت فرماتا ہے کہ مذہب اسلام میں جو کچھ قوانین انسان کے لیے مقرر کئے گئے ہیں سب کے سب انتہائی آسان اور انسان کی سہولت اور فطرت کے بالکل مطابق ہیں جیسا کہ سورة البقرہ سے لے کر اب تک زندگی گزارنے کے جو طریقے اور اصول بتائے گئے ہیں سب کے سب انسان کی کامیابی، نجات اور آسانی پیدا کرنے کے لیے ہیں۔ یہی طریقے پہلی قوموں کو بھی بتائے گئے تھے مگر انہوں نے ان کو خلط ملط کردیا صرف چند نیک، متقی اور اچھے لوگوں نے ان اصولوں کو اپنایا اور نجات پائی، کیونکہ اللہ دانا بھی ہے اور بندوں کے ہر قسم کے حالات کو جانتا بھی ہے اسی لیے وہ ایسے راستے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–28
رکوع نمبر 5 ۔ آیات 26 تا 33 ۔ والمحصنت۔
اسرار و معارف :
آیات 26 تا 28:
اللہ کریم تم پر کوئی بوجھ نہیں ڈالنا چاہتا بلکہ بہت بڑا احسان فرما کر تمہین سلامتی کی راہ دکھانا چاہتا ہے واضح اور صاف الفاظ میں وہ راہ جو انبیاء اور صالحین کی ہے جس راہ سے گذرنے والے سلامتی کے گھر کو پہنچے بلکہ تم سے پہلی امتیں گمراہ ہو کر ہلاک ہوئیں مگر تمہارے لیے توبہ کا دروازہ کھلا رکھا ہے یعنی جو محرمات تمہیں بتائی گئی ہیں یہ پہلے بھی حلال نہ تھیں اور دین ابراہیمی میں بھی حرام تھیں اسی طرح حلال و حرام کا حکم بھی صرف تمہارے لیے نہیں ہے بلکہ تمام امتوں پر اسی طرح کے احکام نازل ہوئے جن پر عمل کرکے یہی لوگ اللہ کی خوشنودی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–27
ف 1 یعنی اللہ تعالیٰ اپنے احکام اس لیے بیان فرمارہا ہے کہ تم کو حلال و حرام کا پتا چل جائے اور پہلے لوگوں کے عہدہ طریق کی ہدایت ہوجائے پہلے لوگوں سے مراد انبیا ( علیہ السلام) اور ان کی امتوں کے نیک لوگ ہیں۔ (ابن کثیر، شوکانی)2 یعنی شہوت پر ستوں کے کہنے میں نہ آو مراد یہود و نصاریٰ یا مجوسی ہیں جو محارم کے ساتھ بھی نکاح جائز سمجھتے تھے ،۔ (رازی قرطبی )
Read the full tafseer →(4:26) سنن۔ سنۃ کی جمع ہے سنۃ کے معنی ہیں۔ راہ۔ رسم۔ دستور۔ طریقہ۔ جاریہ۔ یھدیکم کا مفعول ثانی ہے۔ چلائے تم کو ان لوگوں کی راہوں پر۔
یتوب علیکم۔ تاب یتوب (نصر) توبا۔ وتوبۃ وتابۃ۔ تاب الی اللہ۔ نادم اور پشیمان ہوکر گناہ سے روگردانی کرکے اللہ کی طرف متوجہ ہونا۔ تائب توبہ کرنے والا۔ تاب اللہ علیہ۔ اللہ تعالیٰ کا کسی کے گناہ معاد کرکے اس کو اپنے فضل و کرم سے نوازنا۔ تواب۔ (توبہ قبول کرنے والا)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–28
آیت نمبر 26-28
لغات القرآن : سنن، راستے، طریقے۔ یتبعون، اتباع کرتے ہیں۔ الشھوات، خواہشیں، مزے۔ ان تمیلوا، یہ کہ تم مڑ جاؤ، بھٹک جاؤ۔ میل عظیم، مڑنے میں بہت زیادہ۔ ضعیف، کمزور، ناتواں۔
تشریح : میراث اور نکاح کے احکام بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ تم سمجھو یا نا سمجھو یہی وہ احکام ہیں جو علم اور حکمت سے بھرپور ہیں۔ یہی وہ راستہ ہے جس پر اس سے پہلے نیک لوگ چلے اور اللہ تعالیٰ کی مہربانیوں کے مستحق ہوئے۔ یہ کوئی نئے احکام نہیں ہیں بلکہ گزشتہ امتوں کو بھی یہی احکام دئیے گئے تھے اور جو سلف صالحین تھے وہ ان احکامات کی بجا آوری کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ کا یہ بھی ارشاد ہے کہ ان ہی احکام کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–28
ابوداؤد میں معتبر سند سے حضرت انس ؓ کی روایت ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ پہلی امتوں کے لوگوں نے اپنی طاقت سے باہر کچھ عبادتیں اپنے پیچھے لگائیں ، اور ان عبادتوں کے ادا کرنے کے لئے جنگلوں میں عبادت خانے بنائے ۔ آخر سختی کے سبب سے عبادت اور عبادت خانے سب کچھ چھوڑ بیٹھے ۔ پھر فرمایا کہ تم لوگوں کو ایسا نہیں کرنا چاہئے ۔ اللہ تعالیٰ کو ایسا عمل پسند نہیں کہ آج ہو اور کل نہ ہو ، بلکہ اللہ تعالیٰ کو تو وہ عمل پسند ہے جسے آدمی برابر نباہ سکے ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–28
[42] لہذا لونڈی سے نکاح کرنا اپنے لئے عار نہ سمجھو۔
[25] اس رکوع میں لفظ محصنٰت دو مختلف معنوں میں استعمال کیا گیا ہے، ایک شادی شدہ عورتیں جن کو شوہر کی حفاظت حاصل ہو، دوسرے آزاد عورتیں جن کو خاندان کی حفاظت حاصل ہو اگرچہ وہ شادی شدہ نہ ہوں۔ آیت 25 میں محصنٰت کا لفظ لونڈی کے مقابل غیر شادی شدہ آزاد عورتوں کے لئے استعمال ہوا ہے جیسا کہ آیت کے مضمون سے صاف ظاہر ہے۔ بخلاف اس کے لونڈیوں کے لئے محصنت کا لفظ پہلے معنی میں استعمال ہوا ہے اور صاف الفاظ میں فرمایا گیا ہے کہ جب وہ قید نکاح میں محفوظ ہوجائیں آیت (فَاِذَآ اُحْصِنَّ 25 ) 4 ۔ النسآء :25) تب ان کے لئے زنا کی سزا اس سزا کی نصف ہے جو محصنٰت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–28
(ف 1) ان آیات میں بتایا ہے کہ اسلام میں کوئی الگ صحیفہ شریعت نہیں ، اس میں وہی قواعد بتائے گئے ہیں جن کو بار بار دہرایا گیا ہے ، یہ وہی صداقت قدیمہ ہے ، جسے زمانہ کی ہر کروٹ کے ساتھ پرکھا گیا ہے ، مقصد یہ ہے ، کہ تم لوگ اسے قبول کرکے اللہ کی وسیع رحمتوں میں شامل ہوجاؤ ، شہوات سے بچو اور اپنی جبلی و فطری کمزوریوں کا خیال رکھو ، بجز خدا کے فضل وعفو کے تم برائیوں سے نہیں بچ سکتے ، اس لئے اس راستہ پر مضبوطی سے گامزن ہوجاؤ جو خدائے غفور نے تمہارے لئے تجویز کیا ہے ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–26
ف 3 اور تم میں سے جو شخص آزاد مسلمان عورتوں سے نکاح کی استطاعت اور مقدرت نہ رکھتا ہو یعنی زیادہ مہر دینے کو نہ ہو یا ایک آزاد عورت کی شان کے لائق اس کے اخراجات برداشت کرنے کی استطاعت نہ ہو۔ تو وہ تمہاری ان مسلمان باندیوں سے نکاح کرلے جو تمہاری مملوکہ ہوں اور اللہ تعالیٰ تمہارے ایمان کی حالت کو خوب اچھی طرح جانتا ہے اور تمہارے ایمانوں سے پورا واقف ہے اور تم آپس میں ایک دوسرے کے برابر سب ایک جیسے ہو۔ یعنی بنی آدم ہونے میں کوئی فرق نہیں (تیسیر)
مطلب یہ ہے کہ جو شخص حرہ مسلمہ یعنی آزاد عورت جو مسلمان ہو اس سے نکاح کرنے کی استطاعت اور مقدرت نہ رکھتاہو اور حرہ عورت کے اخراجات برداشت کرنا اس کی طاقت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–26
ف 5۔ لونڈی کے ساتھ نکاح کرنے میں دو شرطیں لگائیں ایک یہ کہ وہ ایسی عورت سے نکاح نہ کرسکے جس میں دو صفتیں ہوں ایک حریت دوسرے ایمان۔ دوسری قید یہ کہ وہ مسلمان لونڈی ہو۔ امام ابوحنیفہ کے نزدیک ان قیود کی رعایت اولی ہے اور اگر بلارعایت ان قیود کے لونڈی سے نکاح کیا تو نکاح ہوجائے گا لیکن کراہت ہوگی۔
6۔ وہ سزایہ کہ ان کے پچاس درے لگائے جائیں گے۔
7۔ اور جس کو یہ اندیشہ نہ ہو اس کے لیے مناسب نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–27
اللہ کا چاہنا وہی ہے جو اس نے قانون بنا کر اس کا اعلان کردیا ہے :
63: اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو پیدا کیا اور اپنی پوری مخلوق سے ان کو اشرف و اعلیٰ بنایا۔ چونکہ تخلیق انسانی میں شر اور خیر دونوں چیزوں کو اکٹھا کردیا اور اس شاہکار کا یہی کمال ہے کہ یہ مجموعہ اضداد ہے اور اس وجہ سے یہ کمالف بھی ہے کہ جب متضاد قوتوں کا مجموعہ ہے تو ان قوتوں پر اس نے اس کو اختیار بھی مرحمت فرمایا ہے اس اختیار کی وجہ سے وہ ثواب و عذاب کا مستحق ہے۔ پھر اللہ نے اس کو دونوں طاقتوں اور قوتوں سے کام لینے کی مجھے بھی عطا فرمائی۔ اس کی راہنمائی کے لئے انسانوں کو رسول بنا کر بھیجا فرمایا یہ سب کچھ کیوں ہوا ؟ اس لئے کہ اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–27
Sequence
Mentioned in the previous verses were details of injunctions. Now, in the present verses, Allah Almighty points to his blessings and favours saying that your being obligated with these injunctions is for your own good, even though you may not be able to understand its manifestation in details. Then, along with it, there is the motivation to follow the divine injunctions. Finally, there is the message of alert against the evil intentions of the misguided who wish ill of you and would like you to stray far away from the straight path.
Commentary
Following the description of several…
Read the full tafseer →48. Here a general reference is made to the directives embodied in this surah, as well as those revealed earlier in Surah al-Baqarah and which deal with social and collective matters. It is stressed that these directives reveal those lasting principles observed by the Prophets and their followers from the earliest times. It is merely out of His grace and benevolence that God liberated them from their state of Ignorance (Jahiliyah) and opened to them the way of life of the righteous.
Read the full tafseer →