آزاد عورتوں سے نکاح اور کنیزوں سے متعلق ہدایات
ارشاد ہوتا ہے کہ جسے آزاد مسلمان عورتوں سے نکاح کرنے کی وسعت قدرت نہ ہو، ربیعہ فرماتے ہیں طول سے مراد قصد و خواہش یعنی لونڈی سے نکاح کی خواہش، ابن جریر نے اس قول کو وارد کرکے پھر اسے خود ہی توڑ دیا ہے، مطلب یہ کہ ایسے حالات میں مسلمانوں کی ملکیت میں جو لونڈیاں ہیں ان سے وہ نکاح کرلیں، تمام کاموں کی حقیقت اللہ تعالیٰ پر واضح ہے، تم حقائق کو صرف سطحی نگاہ سے دیکھتے ہو، تم سب آزاد اور غلام ایمانی رشتے میں ایک ہو، لونڈی کا ولی اس کا سردار ہے اس کی اجازت کے بغیر اس کا نکاح منعقد نہیں ہوسکتا، اسی طرح غلام بھی اپنے سردار کی رضامندی حاصل کئے بغیر اپنا…
Read the full tafseer →سورة النِّسَآء 45
یعنی معاشرت میں لوگوں کے درمیان جو فرق مراتب ہے وہ محض ایک اعتباری چیز ہے، ورنہ دراصل سب مسلمان یکساں ہیں، اور اگر کوئی حقیقی وجہ امتیاز ان کے درمیان ہے تو وہ ایمان ہے جو محض اونچے گھرانوں ہی کا حصہ نہیں ہے۔ ہوسکتا ہے کہ ایک لونڈی ایمان و اخلاق میں ایک خاندانی عورت سے بہتر ہو۔
سورة النِّسَآء 46
سرسری نگاہ میں یہاں ایک پیچیدگی واقع ہوتی ہے جس سے خوارج اور ان دوسرے لوگوں نے فائدہ اٹھایا ہے جو رجم کے منکر ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ”اگر آزاد شادی شدہ عورت کے لیے شریعت اسلام میں زنا کی سزا رجم ہے تو اس کی نصف سزا کیا ہوسکتی ہے جو لونڈی کو دی جائے ؟ لہٰذا یہ آیت اس بات پر دلیل قاطع ہے…
Read the full tafseer →ربط آیات
اوپر سے چونکہ نکاح کے احکام چلے آ رہے ہیں اس لئے اسی کے ذیل میں اب شرعی لونڈیوں کے ساتھ نکاح کرنے کا ذکر شروع ہوا اور پھر انہی کے متعلق حد کا حکم بھی بیان کردیا گیا کہ باندی اور غلام کی حد آزاد عورت و مرد سے مختلف ہوتی ہے۔
خلاصہ تفسیر
اور جو شخص تم میں پوری قدرت اور گنجائش نہ رکھتا ہو آزاد مسلمان عورتوں سے نکاح کرنے کی تو وہ اپنے آپس (والوں) کی مسلمان لونڈیوں سے جو کہ تم لوگوں کی (شرعاً) مملوکہ میں نکاح کرلے (کیونکہ اکثر لونڈیوں کا مہر وغیرہ کم ہوتا ہے اور ان کو غریب کے ساتھ بیاہ دینے میں عار بھی نہیں کرتے) اور (لونڈی سے نکاح کرنے میں عار نہ کرے، کیونکہ دین کی رو سے تو ممکن ہے کہ وہ…
Read the full tafseer →وَمَنْ لَّمْ يَسْتَطِعْ مِنْكُمْ طَوْلًا اَنْ يَّنْكِحَ الْمُحْصَنٰتِ الْمُؤْمِنٰتِ فَمِنْ مَّا مَلَكَتْ اَيْمَانُكُمْ مِّنْ فَتَيٰتِكُمُ الْمُؤْمِنٰتِ ۭ وَاللّٰهُ اَعْلَمُ بِـاِيْمَانِكُمْ ۭ بَعْضُكُمْ مِّنْۢ بَعْضٍ ۚ فَانْكِحُوْھُنَّ بِاِذْنِ اَھْلِهِنَّ وَاٰتُوْھُنَّ اُجُوْرَھُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ مُحْصَنٰتٍ غَيْرَ مُسٰفِحٰتٍ وَّلَا مُتَّخِذٰتِ اَخْدَانٍ ۚ فَاِذَآ اُحْصِنَّ فَاِنْ اَتَيْنَ بِفَاحِشَةٍ فَعَلَيْهِنَّ نِصْفُ مَا عَلَي الْمُحْصَنٰتِ مِنَ الْعَذَابِ ۭ ذٰلِكَ لِمَنْ خَشِيَ الْعَنَتَ مِنْكُمْ ۭ وَاَنْ تَصْبِرُوْا خَيْرٌ لَّكُمْ ۭ وَاللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ :۔
’ طول ‘ کے معنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–26
25۔ 1 اس سے معلوم ہوا کہ لونڈیوں کا مالک ہی لونڈیوں کا ولی ہے لونڈی کا کسی جگہ نکاح اس کی اجازت کے بغیر نہیں کیا جاسکتا۔ اسی طرح غلام بھی اپنے مالک کی اجازت کے بغیر کسی جگہ نکاح نہیں کرسکتا۔
25۔ 2 یعنی لونڈیوں کو (10) کے بجائے نصف یعنی (50) کوڑوں کی سزا دی جائے گی۔ گویا ان کے لئے سزائے رجم نہیں ہے، کیونکہ وہ نصف نہیں ہوسکتی اور غیرشادی شدہ کو تعزیری سزا ہوگی۔
25۔ 3 یعنی لونڈیوں سے شادی کی اجازت ایسے لوگوں کے لئے ہے جو جوانی کے جذبات پر کنٹرول ' رکھنے کی طاقت نہ رکھتے ہوں اور بدکاری میں مبتلا ہونے کا اندیشہ ہو اگر ایسا اندیشہ نہ ہو تو اس وقت تک صبر کرنا بہتر ہے جب تک کسی آزاد خاندانی عورت سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–27
22: چونکہ آزاد عورتوں کا مہر عام طور پر زیادہ ہوتا تھا اور باندیوں کا مہر کم، اس لئے ایک طرف تو حکم یہ دیا گیا ہے کہ باندیوں سے نکاح اسی وقت کیا جائے جب آزاد عورتوں سے نکاح کی استطاعت نہ ہو، دوسری طرف یہ ہدایت دی گئی ہے کہ جب کسی باندی سے نکاح کی نوبت آجائے توپھرمحض اس کے باندی ہونے کی وجہ سے اس کو حقیر سمجھنا درست نہیں، کیونکہ فضیلت کا اصل دارومدار تقوی پر ہے، اور اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتے ہیں کہ کس کی ایمانی حالت زیادہ مضبوط ہے ورنہ اولاد آدم ہونے کے لحاظ سے سب ایک دوسرے کے برابر ہیں۔
23: آزاد عورتیں اگر غیر شادی شدہ ہوں تو ان کے لیے زنا کی سزا سو کوڑے ہیں، جس کا ذکر سورة نور کی دوسری آیت…
Read the full tafseer →(آیت) ” ومن لم یستطع منکم طولا ان ینکح المحصنت المومنت فمن ما ملکت ایمانکم من فتیتکم المومنت واللہ اعلم بایمانکم بعضکم من بعض فانکحوھن باذن اھلھن واتوھن اجورھن بالمعروف محصنت غیر مسفحت ولا متخذت اخدان فاذا احصن فان اتین بفاحشۃ فعلیھن نصف ما علی المحصنت من العذاب ذالک لم خشی العنت منکم وان تصبروا خیرلکم واللہ غفور رحیم “۔ (4 : 25)
” اور جو شخص تم میں سے اتنی مقدرت نہ رکھتا ہو کہ خاندانی مسلمان عورتوں (محصنات) سے نکاح کرسکے ‘ اسے چاہیے کہ تمہاری ان لونڈیوں میں سے کسی کے ساتھ نکاح کرے جو تمہارے قبضہ میں ہوں اور مومنہ ہوں ۔ اللہ تمہارے ایمان کا حال خوب جانتا ہے ‘ تم سب ایک ہی گروہ کے لوگ ہو ‘…
Read the full tafseer →5 یعنی جس کو اس بات کا مقدور نہ ہو کہ آزاد عورت سے نکاح کرسکے اور اس کے مہر اور نفقہ کا تحمل کرسکے تو بہتر ہے کہ ایسا شخص آپس میں کسی کی مسلمان لونڈی سے نکاح کرلے کہ اس کا مہر کم ہوتا ہے اور نفقہ میں بھی یہ سہولت ہے کہ اگر مالک نے اس کو اپنے یہاں رکھا جیسا کہ اکثر ہوتا ہے تو زوج اس کے نفقہ سے فارغ البال رہے گا اور اگر زوج کے حوالہ کردیا تو بھی بہ نسبت نفقہ حرہ تخفیف ضرور رہے گی۔ فائدہ : جس کو آزاد عورت سے نکاح کرنے کی قدرت ہو اس کو لونڈی سے نکاح کرنا امام شافعی وغیرہ کے نزدیک حرام ہے اور امام ابوحنیفہ کے مذہب میں مکروہ تنز یہی ہے ایسے ہی صحت نکاح کے لئے لونڈی کا مسلمان ہونا اکثر علماء کے…
Read the full tafseer →آیت 25 وَمَنْ لَّمْ یَسْتَطِعْ مِنْکُمْ طَوْلاً اَنْ یَّنْکِحَ الْمُحْصَنٰتِ الْمُؤْمِنٰتِ فَمِنْ مَّا مَلَکَتْ اَیْمَانُکُمْ مِّنْ فَتَیٰتِکُمُ الْمُؤْمِنٰتِ ط
یہاں محصَنٰت“ دوسرے معنی میں آیا ہے ‘ یعنی شریف زادیاں ‘ آزاد مسلمان عورتیں۔ اور ظاہر ہے آزاد مسلمان عورتوں کا تو مہر ادا کرنا پڑے گا۔ اس حوالے سے اگر کوئی بےچارہ مفلس ہے ‘ ایک خاندانی عورت کا مہر ادا نہیں کرسکتا تو وہ کیا کرے ؟ ایسے لوگوں کو ہدایت کی جا رہی ہے کہ وہ معاشرے میں موجود مسلمان لونڈیوں سے نکاح کرلیں۔
وَاللّٰہُ اَعْلَمُ بِاِیْمَانِکُمْ ط۔
یہ اللہ بہتر جانتا ہے کہ کون مؤمن ہے اور کون نہیں ہے۔ مراد یہ ہے کہ جو بھی قانونی…
Read the full tafseer →43 محصنات کا ترجمہ آزاد عورتیں بھی ہے اور شادی شدہ عورتیں بھی۔ اور مذکورہ آیت میں ترجمہ لامحالہ آزاد غیر شادی شدہ عورتیں ہی ہوسکتا ہے۔ جن سے نکاح کی اجازت دی جا رہی ہے۔ اور دوسری بار جو اسی آیت میں محصنات (نِصْفُ مَا عَلَي الْمُحْصَنٰتِ مِنَ الْعَذَابِ 25 ) 4 ۔ النسآء :25) کا ذکر آیا ہے تو اس کا معنیٰ بھی لامحالہ آزاد غیر شادی شدہ عورتیں ہی لینا پڑے گا۔ اور چونکہ آزاد غیر شادی شدہ زانیہ کی سزا سو کوڑے ہے لہذا جو منکوحہ لونڈی زنا کرے اس کی سزا غیر شادی شدہ آزاد عورت سے نصف یعنی 50 کوڑے ہوئے۔ اسی طرح غلام کی سزا بھی 50 کوڑے ہے اور اگر وہ غیر شادی شدہ ہوں تو ان کی سزا تعزیر ہے حد نہیں۔
نصف رجم…
Read the full tafseer →81 ۔ یعنی ان آزاد شریف بیویوں کا مہر، نفقہ وغیرہ، پوری طرح ادا کرنے کے قابل نہ ہو۔ (آیت) ” المحصنت “ سے یہاں مراد شریف آزاد بیویاں ہیں۔ ای الحرائر (معالم) یرید الحرائر وقالت فرقۃ معناہ العفائف وھو ضعیف (قرطبی) طول کے معنی وسعت ومقدرت کے ہیں۔ الطول السعۃ والغنی قالہ ابن عباس والمجاھد و سعید بن جبیر والسدی وابن زید (قرطبی)
82 ۔ اور کنیز کو بیوی بنالینے میں عار محسوس نہ کرے۔ یہ مشورہ اس مصلحت سے دیا گیا ہے کہ باندی کا مہر نفقہ وغیرہ نسبۃ ہلکا ہوتا ہے اور پھر یہ بھی کہ ان کے مالک انہیں غریب شوہروں کے نکاح میں دے دینے میں عار بھی محسوس نہ کریں گے (آیت) ” فتیتکم “۔ فتاہ کا لفظ جب باندیوں کے لئے…
Read the full tafseer →ومن لَّمْ یَسْتَطِعْ مَنْکُم طَولًا اَنْ یَّنْکِحَ الْمُحْصَنٰتِ (الآیہ) ۔ سابق میں نکاح کے احکام کا بیان تھا، اس لئے اسی کے ذیل میں اب شرعی لونڈیوں کے ساتھ نکاح کرنے کا ذکر شروع ہوا، اسی کے ضمن میں باندی اور غلام کی حد زنا کا بھی حکم بیان کردیا کہ ان کی حد آزاد کی نصف ہوتی ہے۔
طَوْل، قدرت اور غناء کو کہتے ہیں آیت کا مطلب یہ ہے کہ جس کو آزاد عورتوں سے نکاح کرنے کی قدرت نہ ہو تو مومن باندیوں سے نکاح کرسکتا ہے اس سے معلوم ہوا کہ جہاں تک ہوسکے آزاد عورت سے نکاح کرنا چاہیے اگر باندی سے نکاح کرنا پڑہی جائے تو باندی مومنہ ہو۔
امام ابوحنیفہ (رح) تعالیٰ کا یہی مسلک ہے کہ آزاد عورت پر قدرت ہوتے ہوئے…
Read the full tafseer →ومن لم یستطع منکم طولا ان ینکح المحصنت المؤمنت اور تم میں سے جو کوئی آزاد مسلمان عورتوں سے نکاح کرنے کی سکت نہ رکھتا ہو۔ طول ‘ طائل ‘ طائلہ سب کا لغوی معنی ہے فضل ‘ قدرت ‘ دولت ‘ مالی وسعت (قاموس) یہاں طول بمعنی استطاعت ہے یعنی قدرت۔ مطلب یہ کہ جو کوئی تم میں سے استطاعت نہ رکھتا ہو نکاح کرنے کی استطاعت۔ اس صورت میں طولاً مفعول مطلق اور ان ینکحمفعول بہ ہوگا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ طولاً مفعول بہ ہو اور اس کا معنی ہو اونچا ہونا کیونکہ اونچا ہونا فضل و دولت کے لوازم میں سے ہے اور ان ینکح سے پہلے با محذوف ہو اس صورت میں مطلب اس طرح ہوگا کہ جو شخص آزاد مسلمان عورتوں سے نکاح کرنے کی حد تک اونچا نہ اٹھ…
Read the full tafseer →(25) اور جس میں آزاد مسلمان سے شادی کرنے کی پوری قدرت نہ ہو تو پھر ان مسلمان باندیوں سے جو کہ شرعی طریقہ پر مسلمانوں کے قبضہ میں ہیں، ان سے شادی کرو، تمہارے ایمان کی پوری حالت سے اللہ تعالیٰ ہی واقف ہے، تم سب آدم ؑ کی اولاد ہو سب کا دین ایک ہے۔
لہذا ان باندیوں سے ان کے مالکوں کی اجازت کے ساتھ قاعدہ کے مطابق مہر دے کر شادی کرلیاکرو، اگر وہ پاک دامن ہوں نہ علانیہ طور پر کسی بدکاری میں مبتلا ہوں اور نہ خفیہ طریقہ پر ان کا کوئی آشنا ہو، شادی کے بعد اگر یہ باندیاں کسی بڑی بےحیائی کا ارتکاب کریں تو آزاد غیر منکوحہ کی جو سزا ہے ان کو اس کی آدھی ملے گی یعنی پچاس کوڑے لگائے جائیں گے۔
اور ان باندیوں سے…
Read the full tafseer →وَمَنْ لَّمْ يَسْتَطِعْ۔۔ : یعنی اگر کسی شخص کی مالی حالت اس امر کی اجازت نہیں دیتی کہ آزاد مسلمان عورتوں سے نکاح کرے تو کسی دوسرے مسلمان کی لونڈی سے نکاح کرلے، بشرطیکہ وہ لونڈی مسلمان ہو۔ یہاں کسی شخص کو اپنی لونڈی سے نکاح کرنے کی اجازت کا بیان نہیں، کیونکہ اس کا لونڈی ہونا ہی مالک کے لیے اس سے صحبت کے جواز کا باعث ہے۔ اس کے علاوہ کوئی اس سے صحبت نہیں کرسکتا اور اس کی اولاد جائز اولاد سمجھی جائے گی، ہاں اگر نکاح ہی کرنا چاہتا ہے تو پھر اسے آزاد کر دے اور آزاد کر کے نکاح کرلے۔ (فتح القدیر)
بَعْضُكُمْ مِّنْۢ بَعْضٍ ۚ: یعنی تم سب آدم ؑ کی اولاد ہو اور تمہاری ملت بھی ایک ہے، پھر محض لونڈی ہونے…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 25۔
اس آیت میں اکیس مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر : (1) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” ومن لم یستطع منکم طولا “ اللہ تعالیٰ نے نکاح میں تخفیف پر آگاہ فرمایا اور وہ لونڈی سے نکاح کرنا ہے اس لیے جو طاقت نہیں رکھتا کہ آزاد عورت سے نکاح کرے، طول کے معنی میں علماء کے تین مختلف اقوال ہیں پہلا معنی یہ ہے السعۃ والغنی یعنی خوشحالی اور غنی یہ حضرت ابن عباس ؓ ، مجاہد، سعید بن جبیر سدی، ابن زید، اور اماملکرحمۃ اللہ علیہم کا مدونہ میں قول ہے کہا جاتا ہے : طال یطول طولا یعنیفضل کرنے اور قدرت میں طاقت رکھتا ہے۔ فلان ذو طول، یعنی وہ مال میں قدرت والا ہے۔ یہ طا کے فتحہ کے ساتھ ہے اور طا کے ضمہ کے ساتھ…
Read the full tafseer →ایمان والی باندیوں سے نکاح کرنا
(1) ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم اور بیہقی نے اپنی سنن میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا لفظ آیت ” ومن لم یستطع منکم طولا “ یعنی جو شخص آزاد عورتوں سے (نکاح کرنے کی) طاقت نہ رکھتا ہو لفظ آیت ” فمن ما ملکت ایمانکم من فتیتکم المؤمنت “ (یعنی اس کو چاہئے کہ ایمان والی باندیاں سے نکاح کرے۔” محصنت غیر مسفحت “ پاک دامن بنتے ہوئے کہ اعلانیہ یا خفیہ طریقے سے بدکاری کرتے ہوئے ” ولا متخذت اخدان “ یعنی نہ خفیہ دوست بناتے ہوئے لفظ آیت ” فاذا احصن فان اتین بفاحشۃ “ یعنی جب وہ غلام عورتیں کسی مرد سے شادی کرنے کے بعد بدکاری کریں ” فعلیہن نصف ما علی المحصنت من العذاب “…
Read the full tafseer →[ وَمَنْ : اور جو ] [ لَّــمْ یَسْتَطِعْ : صلاحیت نہیں رکھتا ] [ مِنْکُمْ : تم میں سے ] [ طَوْلاً : بلحاظ دولت کے ] [ اَنْ : کہ ] [ یَّـنْـکِحَ : وہ نکاح کرے ] [ الْمُحْصَنٰتِ الْمُؤْمِنٰتِ : مسلمان خاندانی عورتوں سے ] [ فَمِنْ مَّا : تو وہ جن کے ] [ مَلَـکَتْ : مالک ہوئے ] [ اَیْمَانُکُمْ : تمہارے داہنے ہاتھ ] [ مِّنْ فَتَیٰـتِکُمُ الْمُؤْمِنٰتِ : تمہاری مسلمان لونڈیوں میں سے ] [ وَاللّٰہُ : اور اللہ ] [ اَعْلَمُ : خوب جانتا ہے ] [ بِاِیْمَانِکُمْ : تم لوگوں کے ایمان کو ] [ بَعْضُکُمْ : تم میں کا کوئی ] [ مِّنْم بَعْضٍ : کسی سے ہے ] [ فَانْکِحُوْہُنَّ : پس تم لوگ نکاح کرو ان سے ] […
Read the full tafseer →باندیوں سے نکاح کرنے کی اجازت
اپنی مملوکہ باندی سے تو (شروط وقیود کے مطابق) بلا نکاح بھی جماع کرنا جائز ہے اور اپنی باندی سے نکاح درست بھی نہیں۔ اور نہ اس کی حاجت ہے کیونکہ کہ اس سے جماع بھی حلال ہے اور اس سے جو اولاد ہوگی وہ بھی (حسب ضابطہ) ثابت النسب ہوگی، البتہ دوسرا کوئی مسلمان اپنے مسلمان بھائی کی باندی سے نکاح کرنا چاہے تو یہ نکاح کرنا درست ہے، یہ نکاح باندی کے مالک کی اجازت سے ہوسکتا ہے، اور جو مہر مقرر کردیا گیا ہو وہ خوبی کے ساتھ ادا کردیا جائے اس مہرکا مالک اس باندی کا آقا ہی ہوگا۔ (وَ مَنْ لَّمْ یَسْتَطِعْ مِنْکُمْ طَوْلًا) سے یہ مفہوم ہوتا ہے کہ جو شخص آزاد عورت سے نکاح کرنے کی…
Read the full tafseer →حکم دوازدہم متعلق بہ نکاح کنیزاں۔
قال تعالیٰ ومن لم یستطع۔۔۔ الی۔۔۔ رحیم۔
ربط) اوپر سے نکاح کے احکام چلے آرہے ہیں اب آگے کنیزوں یعنی شرعی باندیوں سے نکاح کا حکم بیان فرماتے ہیں اس آیت میں اللہ نے یہ حکم دیا کہ جس شخص کو آزاد عورت سے نکاح کرنے کی قدرت نہ ہو یعنی اس کے مہر ادا کرنے پر قادر نہ ہو اور اس کے خرچ خوراک اور پوشاک کا متحمل نہ ہو تو وہ کسی مسلمان باندی سے نکاح کرلے اس کے مہر اور نان ونفقہ میں خرچ زیادہ نہ ہوگا اس کے بعد ارشاد فرمایا کہ اگر زنا کا کوہے تو ایسا کرلو ورنہ صبر کرنا بہتر ہے چناچہ فرماتے ہیں اور جو شخص تم میں سے آزاد مسلمان عورتوں سے نکاح کرنے کی استطاعت اور گنجائش نہ رکھتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–28
21 جو لوگ آزاد عورتوں سے نکاح کرنے کی طاقت نہیں رکھتے وہ لونڈیوں سے نکاح کرلیں۔ لیکن لونڈی سے نکاح کرنے کے لیے اس کے مالک کی اجازت شرط ہے۔ اس آیت سے امام شافعی (رح) نے اس پر استدلال کیا ہے کہ جس میں آزاد عورت سے نکاح کرنے کی استطاعت ہو اس کے لیے لونڈی سے نکاح جائز نہیں جیسا کہ مفہوم شرط کا تقاضا ہے اور اہل حجاز کہتے ہیں کہ غیر مستطیع کے لیے کتابیہ لونڈی سے نکاح جائز نہیں کیونکہ فَتَیَاتِکُم کے بعد المومنات کی قید موجود ہے لیکن امام ابوحنیفہ ؓ کے نزدیک لونڈی خواہ مومنہ ہو خواہ کتابیہ سے بہتر صورت نکاح جائز ہے۔ حرہ سے نکاح کی استطاعت ہو یا نہ ہو۔ کیونکہ فَانْکِحُوْا مَا طَابَ لَکُمْ مِّنَ…
Read the full tafseer →لونڈیوں کے ساتھ نکاح
محرمات نکاح کا تذکرہ کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ باقی سب عورتوں کے ساتھ نکاح جائز ہے۔ پھر مہر کی ادائیگی کی بھی تاکید فرمائی۔ اب آج کی آیت میں لونڈیوں کے ساتھ نکاح کرنے کا بیان ہے اور یہ مسئلہ بیان ہوا ہے کہ لونڈیوں اور آزاد عورتوں کے احکام مختلف ہیں۔ اگر کوئی لونڈی بےحیائی کا ارتکاب کرے تو وہ آزاد عورت کی نسبت نصف سزا کی مستحق ہے ۔ چناچہ ارشاد ہوتا ہے ومن لم یستطع منکم طولا اور جو شخص تم میں سے طاقت نہیں رکھتا۔ طولا کا معنی ، قدرت مقدرت وغیرہ ہے۔ ان ینکح المحصنت المومنتیہ کہ نکاح کرے پاکدامن مومن عورتوں سے یعنی اگر کوئی شخص مالی لحاظ سے اتنا کمزور ہے کہ وہ آزاد…
Read the full tafseer →وَمَنْ لَّمْ يَسْتَطِعْ مِنْكُمْ طَوْلًا اَنْ يَّنْكِحَ الْمُحْصَنٰتِ الْمُؤْمِنٰتِ فَمِنْ مَّا مَلَكَتْ اَيْمَانُكُمْ مِّنْ فَتَيٰتِكُمُ الْمُؤْمِنٰتِ 0ۭ وَاللہُ اَعْلَمُ بِـاِيْمَانِكُمْ 0ۭ بَعْضُكُمْ مِّنْۢ بَعْضٍ 0ۚ فَانْكِحُوْھُنَّ بِـاِذْنِ اَھْلِہِنَّ وَاٰتُوْھُنَّ اُجُوْرَھُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ مُحْصَنٰتٍ غَيْرَ مُسٰفِحٰتٍ وَّلَا مُتَّخِذٰتِ اَخْدَانٍ 0ۚ فَاِذَآ اُحْصِنَّ فَاِنْ اَتَيْنَ بِفَاحِشَۃٍ فَعَلَيْہِنَّ نِصْفُ مَا عَلَي الْمُحْصَنٰتِ مِنَ الْعَذَابِ 0ۭ ذٰلِكَ لِمَنْ خَشِيَ الْعَنَتَ مِنْكُمْ 0ۭ وَاَنْ تَصْبِرُوْا خَيْرٌ لَّكُمْ 0ۭ وَاللہُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ…
Read the full tafseer →1 ؎ : لونڈیاں بھی آدم کی اولاد تمہارے ہم جنس ہیں۔ اصل فضیلت ایمان و نیکوکاری سے ہے۔
ترکیب : ومن لم یستطع شرط فمن ما ملکت جواب۔ طولا مفعول یستطع ان ینکح منصوب ہے طولا کی وجہ سے۔ محصنات حال ہے ضمیر ھن سے۔ ولا متخذات الخ معطوف ہے محصنات پر اخدان جمع خدن مثل عدل واعدال بمعنی پوشیدہ آشنائی۔ فاذا الخ شرط فان اتین شرط و جزا کا مجموعہ جواب۔ ان تصبروا مبتداء خیرلکم خبر۔
تفسیر : آزاد عورتوں سے نکاح کرنے میں مہر بھی زیادہ دینا ہوتا ہے اور مصارف بھی زیادہ ہوتے ہیں اور تجرد بھی ایک مصیبت ہے۔ زنا کا دروازہ بند کردیا گیا اس لئے لونڈی چھوکریوں سے نکاح کی اجازت دی۔ فقال ومن لم یستطع منکم الخ کہ جس کو آزاد…
Read the full tafseer →وَمَنْ لَّمْ یَسْتَطِعْ مِنْـکُمْ طَوْلًا اَنْ یَّنْکِحَ الْمُحْصَنٰتِ الْمُؤْمِنٰتِ فَمِنْ مَّامَلََـکَتْ اَیْمَانُکُمْ مِّنْ فَتَیٰـتِکُمُ الْمُؤْ مِنٰتِ ط وَاللّٰہُ اَعْلَمُ بِاِیْمَانِکُمْ ط بَعْضُکُمْ مِّنْ م بَعْضٍ ج فَانْکِحُوْھُنَّ بِاِذْنِ اَھْلِھِنَّ وَاٰ تُوْھُنَّ اُجُوْرَھُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ مُحْصَنٰتٍ غَیْرَ مُسٰفِحٰتٍ وَّلَا مَتَّخِذٰتِ اَخْدَانٍ ج فَاِذَٓا اُحْصِنَّ فَاِنْ اَتَیْنَ بِفَاحِشَۃٍ فَعَلَیْھِنَّ نِصْفُ مَا عَلَی الْمُحْصَنٰتِ مِنَ الْعَذَابِ ط ذٰلِکَ لِمَنْ خَشِیَ الْعَنَتَ مِنْـکُمْ ط وَاَنْ تَصْبِرُوْا خَیْرٌ لَّـکُمْ ط وَاللّٰہُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ ع
( اور جو…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔
جو شخص آزاد مسلمان عورتوں سے نکاح کے اخراجات کی طاقت نہیں رکھتا وہ مسلمان لونڈیوں سے نکاح کرسکتا ہے کیونکہ مسلمان رشتۂ اسلام کے اعتبار سے ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔ یہ لوگوں کے اپنے پیدا کردہ حالات کا نتیجہ ہے کہ ان میں سے کچھ غلام بنا لیے گئے ہیں۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے سب کو آزاد پیدا فرمایا ہے۔ لونڈی سے نکاح کے لیے اس کے مالک سے اجازت لینے کے ساتھ اس کو حق مہر بھی ادا کرنا ہوگا۔ اس لونڈی کا بھی فرض ہے کہ وہ محض شہوت رانی کے بجائے مستقل نکاح کی نیت رکھتے ہوئے پاک دامنی کے ارادے سے ازدواجی بندھن میں آئے اور کسی سے پوشیدہ دوستی رکھنے سے بھی مکمل اجتناب کرے۔…
Read the full tafseer →آیت 25:
وَمَنْ لَّمْ یَسْتَطِعْ مِنْکُمْ طَوْلًا (جو تم میں سے طاقت نہ رکھتا ہو) طول کا معنی زائد ٗ کہا جاتا ہے لفلان علیّ طول یعنی فلاں کو مجھ پر فضل و اضافہ حاصل ہے۔ یہ یستطع کا مفعول ہے۔ اَنْ یَّنْکِحَ (کہ وہ نکاح کرے) : یہ طول کا مفعول ہے۔ یہ مصدر ہے۔ اور اپنے فعل کا عمل کرتا ہے۔ یا طَوْلًا سے بدل ہے۔
الْمُحْصَنٰتِ الْمُؤْمِنٰتِ (پاکدامن مومنہ عورتوں سے) مراد آزاد مسلمان۔ فَمِنْ مَّا مَلَکَتْ اَیْمَانُکُمْ مِّنْ فَتَیٰتِکُمُ الْمُؤْمِنٰتِ (پس جن کے مالک تمہارے دائیں ہاتھ ہیں تمہاری مومنہ لونڈیوں میں سے) یعنی اس کو مسلمان لونڈی سے نکاح کرلینا چاہیے۔ من فتیاتکم سے مراد مسلمانوں کی لونڈیاں…
Read the full tafseer →(آیت)” 25۔:
(آیت)” ومن لم یستطع منکم طولا “ اس کا معنی ہے فضل اور قدرت ”(آیت)” ان ینکح المحصنات “ اس سے مراد آزاد عورتیں ہیں ” المؤمنات “ کسائی (رح) نے محصنات صاد کے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے ہر مقام پر لیکن اس جگہ صاد کے زبر سے پڑھا ہے اور دوسرے قراء نے تمام جگہوں پر فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے ، (آیت)” فمن ماملکت ایمانکم من فتیاتکم “ اس سے مراد باندیاں ہیں۔
(آزاد عورت کے ساتھ نکاح کی قدرت رکھنے والا باندی سے نکاح کرسکتا ہے یا نہیں اس کا حکم)
” المؤمنات “ جو شخص آزاد مؤمنہ عورت کا حق مہر ادا کرنے کی طاقت نہیں رکھتا تو اس کو چاہیے کہ مؤمنہ باندی سے نکاح کرے، اس بات کی دلیل ہے کہ آزاد شخص باندی کو دو…
Read the full tafseer →جن عورتوں سے نکاح حرام ہے اوپر ان کا ذکر فرما کر یہ فرمایا تھا کہ جو عورتیں ان کے سوا ہیں وہ تم پر حلال ہیں۔ اس حکم میں آزاد عورتیں اور لونڈیاں سب داخل تھیں اس لئے لونڈی سے نکاح جائز ہونے کی شرطیں ان آیتوں میں فرمائیں کہ جس شخص کو آزاد عورت کے مہر اور روٹی کپڑے کا مقدور نہ ہو اور بغیر نکاح کے اس کو بدکاری میں گرفتار ہوجانے کا ندیشہ ہو تو لونڈی کے مالک کی مرضی سے ایسا شخص لونڈی سے نکاح کرسکتا ہے مسند امام احمد ابو داَؤد ترمذی صحیح ابن حبان مستدرک حاکم میں حضرت جابر ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت نے فرمایا جو غلام اپنے مالک کی اجازت کے بغیر نکاح کرے گا تو اس کا نکاح نہ ہوگا۔ بلکہ وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–26
آیت 25
یعنی تم میں سے جو کوئی آزاد اور مومن عورتوں کو حق مہر ادا کرنے کی استطاعت نہیں رکھتا اور اس کے ساتھ ساتھ اسے اپنے آپ پر بدکاری اور مشقت کا خطرہ ہو، تو اس کے لئے مومن لونڈیوں کے ساتھ نکاح کرنا جائز ہے یہ تو ظاہری احوال کے مطابق ہے ورنہ اللہ تعالیٰ مومن صادق کو خوب جانتا ہے۔ دنیاوی امور ان کے ظاہر پر مبنی ہیں اور آخرت کے احکام کا تعلق انسان کے باطن میں چھپی نیتوں کے ساتھ ہے۔
(فانکحوھن باذن اھلھن) ” پس تم لونڈیوں کے ساتھ ان کے مالکوں کی اجازت لے کر نکاح کرلو “ خواہ مالک ایک ہو یا متعدد ہوں۔ (واتوھن اجورھن بالمعروف) ” اور دستور کے مطابق ان کا مہر بھی ادا کردو۔ “ یعنی اگرچہ جن کے ساتھ نکاح…
Read the full tafseer →(سابقہ آیت کی بقیہ تفسیر)
اسی طرح قول باری ہے (ولکم نصف ماترک ازواجکم، اور تمہاری بیویوں کے چھوڑے ہوئے ترکہ میں تمہارے لیے نصف ہے جبکہ قائلین متعہ کے نزدیک ایسے مرد اور عورت کے مابین کوئی توارث نہیں ہوتا۔
یہ ہیں نکاح کے وہ احکام جو اس کے ساتھ مختص ہیں البتہ غلامی اور کفر نکاح کی صورت میں توارث کے درمیان حائل ہوجاتا ہے جبکہ متعہ کے اندر جانبین میں ایک کی غلامی یا کفر دوسرے کی میراث سے مانع نہیں ہوتا، اونہ ہی کوئی ایساسبب ہوتا ہے جو علیحدگی کا موجب بن سکتا ہو اورنہ ہی نسب کے ثبوت کی راہ میں کوئی رکاوٹ ہوتی ہے حالا کہ مرد فراش کی اہلیت رکھتا ہے اور فراش کی بنا پر اس سے نسب کا الحاق ہوسکتا ہے تو…
Read the full tafseer →59 غیر مستطیع شخص کیلئے باندی سے نکاح کی اجازت : یعنی جو شخص وہ آزاد عورتوں کا مہر اداء کرنے کی طاقت نہ رکھتا ہو ‘ اور ان کی خوراک و پوشاک کے مصارف برداشت کرنے کا تحمل نہ کرسکتا ہو تو وہ اپنی اس مجبوری کی بناء پر کسی ایماندار باندی سے نکاح کرلے۔ (معارف وغیرہ) ۔ بہرکیف اس میں ارشاد فرمایا گیا کہ جو کوئی کسی آزاد شریف زادی سے نکاح کرنے کی قدرت نہ رکھتا ہو تو وہ کسی مسلمان لونڈی سے نکاح کرلے۔ اور یہ امر واضح رہنا چاہئے کہ عزت و شرافت کی اصل بنیاد ایمان و یقین ہے۔ اور ایمان کا حال اللہ وحدہ لاشریک ہی کو معلوم ہے ورنہ جنس و نوع اور نسل و نسب کے اعتبار سے تم سب لوگ آپس میں ایک ہی ہو، کہ سب آدم کی…
Read the full tafseer →لونڈی سے نکاح کی شرائط
تشریح : اللہ رب العزت نے پچھلی آیات میں نکاح اور مہر کے قوانین بتائے ہیں اس آیت میں بھی وہی سلسلہ جاری ہے۔ یہاں مرد کی سہولت کا ایک راستہ بتایا گیا ہے کہ اگر تم اتنی استطاعت نہیں رکھتے کہ آزاد عورت سے شادی کرسکو تو پھر تمہیں چاہیے کہ کسی مالک کی اجازت سے کسی نیک اور مسلمان لونڈی سے ہی شادی کرلو مگر شرط یہ ہے کہ اس کا حق مہر دستور کے مطابق اپنی حیثیت کے مطابق مقرر کرو اور ادا بھی کرو۔ لونڈی سمجھ کر اس پر کوئی ظلم وستم نہ کرو۔ حقیقت میں تو سب انسان برابر ہیں اگر کسی کو برتری حاصل ہے تو وہ پرہیزگاری کی وجہ سے ہے، اس لیے تمہارے ایمانوں کی پختگی اور خلوص کو اللہ رب العالمین…
Read the full tafseer →ومن لم یستطع منکم۔۔۔ واللہ غفور رحیم۔ جس کو آزاد عورتوں سے نکاح کی قدرت نہ ہو یا اتنی استطاعت نہ رکھتا ہو تو مومن باندی سے نکاح کرلے کہ اس کا مہر وغیرہ اور دیگر اخراجات آزاد عورت کی نسبت کم ہوں گے مگر اس صورت میں مومن مملوکہ سے نکاح کرے کتابیہ وغیرہ سے نہ کرے اس لیے کہ کتابیہ عورت سے جو اولاد ہوگی اگر وہ کتابی نہ ہوگئی تو مسلمان بھی مشکل ہی سے رہ سکے گی اور یہی مصیبت آجکل مسلمانوں کو درپیش ہے کہ یورپی عیسائی اور یہودی لڑکیاں بڑے بڑے گھروں پہ قابض ہیں جو ان کی نسلیں بھی خراب کر رہی ہیں اور راز بھی فروخت کرتی ہیں۔ نیز یہ آجکل کی کتابیہ تو محض برائے نام ہیں حقیقت میں یہ سب ملحدانہ عقائد رکھتی…
Read the full tafseer →ف 6 یعنی اگر خاوند بیوی باہمی رضامندی ہے طے شدہ مہر میں کمی پیشی کرلیں تو کچھ حرج نہیں ہے۔ ( ابن کثیر)7 یعنی اگر کسی شخص کی مالی حالت اس امر کیا اجازت نہیں دیتی کہ آزاد مسلمان عورت سے نکاح کرے تو کسی دوسرے مسلمان کی لو نڈی سے نکاح کرلے بشرطیکہ وہ لونڈی مسلمان ہو کسی شخص کو اپنی لو نڈی سے نکاح کرنے اجازت نہیں ہے مگر یہ کہ اسے آزاد کر دے اور پھر اس سے نکاح کرے۔ (فتح القدیر)8 تم سب حضرت آدم ( علیہ السلام) کی اولاد ہو اور تمہاری ملت بھی ایک ہے پھر محضر لو نڈی ہونے کی وجہ سے اس سے نکاح ترددنہ کرو (شوکانی)9 یعنی جیسا کہ آزاد مسلمان عورت سے نکاح کے لیے ولی (سرپرست) کی اجا زت ضروری ہے اسی طرح لونڈی…
Read the full tafseer →(4:25) طولا۔ بمعنی السعۃ والغنی۔ مال و دولت۔ تونگری۔ انعام۔ وسعت۔ گنجائش ۔ مقدر۔ قدرت۔ طال۔ یطول کا مصدر۔ طول مادہ۔ اس کا استعمال دو معنی میں ہوتا ہے۔ ایک تو درازی اور فضیلت میں غلبہ حاصل کرنا۔ دوسرے کسی شخص کے ساتھ احسان کرنا۔ اور اس کو انعام دینا۔ یہاں مراد مقدر بمعنی مہر و نفقہ ہے۔
فمن ما ملکت ایمانکم۔ میںجواب شرط کے لئے ہے اور ما ملکت ایمانکم سے مراد وہ لونڈیاں ہیں جو دوسرے کی ملکیت ہوں۔ جیسا کہ عبارت مابعد فانکحوھن باذن اہلہن۔ سے ظاہر ہے۔
من فتیتکم المومنت۔ تمہاری باندیاں۔ کنزیں جو مسلمان ہیں۔
بعضکم من بعض۔ بعض (جمع ابعاض) کے معنی ہیں حصہ۔ قسمت۔ ٹکڑا۔ جزو۔ کچھ۔ کوئی سا۔ کوئی آدمی۔ کوئی…
Read the full tafseer →آیت نمبر 25
لغات القرآن : طول، طاقت، گنجائش۔ فتیت، کنیزیں۔ (جواب لڑکیاں) ۔ اھلھن، ان کے مالک۔ لامتخذات، نہ بنانے والیاں۔ اخدان، دوست۔ احصن، نکاح کی حفاظت میں لائی گئیں۔ العنت، تکلیف میں پڑنا، خوف گناہ۔
تشریح : وہ مسلم خاندان جو سوسائٹی میں عزت والے ہیں اپنی بیٹیوں کا نکاح کرنے میں عموماً برابر کا جوڑ چاہتے ہیں۔ بہت سے مرد جو ویسے ہر لحاظ سے موزوں ہوتے ہیں مگر غریب ہیں۔ ان کا رشتہ وہاں قبول نہیں ہوگا۔ ایسے مردوں کیلئے مناسب ہے کہ ایسی باندی سے نکاح کرلیں جو پہلے ہی ایمان لا چکی ہو یا بعد میں ایمان لائے۔ کیونکہ ایسا رشتہ ملنا آسان بھی ہے اور دین مہر بھی زیادہ نہیں ہوتا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ نو…
Read the full tafseer →لونڈی سے نکاح کے جائز ہونے کی شرطیں ان آیتوں میں بیان فرمائیں کہ جس شخص کو آزاد عورت کے مہر اور روٹی کپڑے کا مقدور نہ ہو، اور بغیر نکاح کے اس کو بدکاری میں گرفتار ہوجانے کا اندیشہ ہو تو لونڈی کے مالک کی مرضی سے ایسا شخص لونڈی سے نکاح کرسکتا ہے ، اور جب نکاح ہوجائے تو اس کا مہر جو کچھ ہو وہ دستور کے موافق پورا دینا چاہئے۔ ایسا نہ ہو کہ لونڈی ہونے کے خیال سے اس کے مہر کی ادائیگی میں کچھ حیل وحجت کی جاوے۔ اکثر سلف کا قول ہے کہ یہ مہر مالک کو ملے گا، کوئی لونڈی نکاح کے بعد اگر بدفعلی کر بیٹھے تو اس پر آزاد عورت سے آدھی مار (حد) قائم کی جاوے۔ آدمی کو بدکاری میں مبتلا ہوجانے کا اندیشہ ہو اور آزاد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–28
[42] لہذا لونڈی سے نکاح کرنا اپنے لئے عار نہ سمجھو۔
[25] اس رکوع میں لفظ محصنٰت دو مختلف معنوں میں استعمال کیا گیا ہے، ایک شادی شدہ عورتیں جن کو شوہر کی حفاظت حاصل ہو، دوسرے آزاد عورتیں جن کو خاندان کی حفاظت حاصل ہو اگرچہ وہ شادی شدہ نہ ہوں۔ آیت 25 میں محصنٰت کا لفظ لونڈی کے مقابل غیر شادی شدہ آزاد عورتوں کے لئے استعمال ہوا ہے جیسا کہ آیت کے مضمون سے صاف ظاہر ہے۔ بخلاف اس کے لونڈیوں کے لئے محصنت کا لفظ پہلے معنی میں استعمال ہوا ہے اور صاف الفاظ میں فرمایا گیا ہے کہ جب وہ قید نکاح میں محفوظ ہوجائیں آیت (فَاِذَآ اُحْصِنَّ 25 ) 4 ۔ النسآء :25) تب ان کے لئے زنا کی سزا اس سزا کی نصف ہے جو محصنٰت…
Read the full tafseer →ولا تخذات اخدان :
(ف 1) ان آیات میں بتایا ہے کہ جو لوگ آزاد عورتوں سے قلت سرمایہ کی وجہ سے نکاح نہ کرسکیں ، وہ غلام عورتوں سے نکاح کرلیں ، کیونکہ وہ سستے داموں رشتہ ازدواجی میں منسلک ہوجاتی ہیں ، مگر اس میں چار باتیں ملحوظ رکھیئے ۔
1۔ مومن ہو ۔
2۔ مالک کی اجازت حاصل کرلی جائے ۔
3۔ انہیں مہر دیا جائے ۔
4۔ اور یہ کہ وہ مالک سے الگ آشنا نہ رکھتی ہوں ۔
یعنی وہ عورتیں جو مالک کے سوا اور احباب ودوست بھی رکھتی ہیں ، ان سے رشتہ مناکحت درست نہیں موجودہ تمدن اس دفعہ کی مکمل تشریح ہے ، فرق یہ ہے کہ اس زمانے میں شرفا کی عورتیں اس سے محفوظ تھیں ، اب شریف وہ ہے جو دس بانچ دوست رکھتی ہو ۔ اللہ اکبر ! اخلاق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–26
ف 3 اور تم میں سے جو شخص آزاد مسلمان عورتوں سے نکاح کی استطاعت اور مقدرت نہ رکھتا ہو یعنی زیادہ مہر دینے کو نہ ہو یا ایک آزاد عورت کی شان کے لائق اس کے اخراجات برداشت کرنے کی استطاعت نہ ہو۔ تو وہ تمہاری ان مسلمان باندیوں سے نکاح کرلے جو تمہاری مملوکہ ہوں اور اللہ تعالیٰ تمہارے ایمان کی حالت کو خوب اچھی طرح جانتا ہے اور تمہارے ایمانوں سے پورا واقف ہے اور تم آپس میں ایک دوسرے کے برابر سب ایک جیسے ہو۔ یعنی بنی آدم ہونے میں کوئی فرق نہیں (تیسیر)
مطلب یہ ہے کہ جو شخص حرہ مسلمہ یعنی آزاد عورت جو مسلمان ہو اس سے نکاح کرنے کی استطاعت اور مقدرت نہ رکھتاہو اور حرہ عورت کے اخراجات برداشت کرنا اس کی طاقت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–26
ف 5۔ لونڈی کے ساتھ نکاح کرنے میں دو شرطیں لگائیں ایک یہ کہ وہ ایسی عورت سے نکاح نہ کرسکے جس میں دو صفتیں ہوں ایک حریت دوسرے ایمان۔ دوسری قید یہ کہ وہ مسلمان لونڈی ہو۔ امام ابوحنیفہ کے نزدیک ان قیود کی رعایت اولی ہے اور اگر بلارعایت ان قیود کے لونڈی سے نکاح کیا تو نکاح ہوجائے گا لیکن کراہت ہوگی۔
6۔ وہ سزایہ کہ ان کے پچاس درے لگائے جائیں گے۔
7۔ اور جس کو یہ اندیشہ نہ ہو اس کے لیے مناسب نہیں۔
Read the full tafseer →آزاد مومن عورت نہ مل سکتی ہو تو باندی سے مومنہ نکاح کرلو کہ وہ بھی تمہاری جنس ہی ہے :
58: مطلب یہ ہے کہ آزاد عورتوں کے ساتھ نکاح کرنے کی طاقت و وسعت مال نہ ہو کہ ان کے نان و نفقہ اور مہر وغیرہ کو تم آسانی سے نہ ادا کرسکتے ہو کیونکہ معاشرہ میں ہر طرح کے لوگ موجود ہوتے ہیں۔ کمزور بھی اور طاقتور بھی اور ظاہر ہے ایک کمزور اور مزدور قسم کا آدمی وسعت مال نہیں رکھتا اگر وہ کسی عورت سے نکاح رچا لے جس کے ایک دن کے اخراجات اس کی ایک ماہ کی مزدوری بھی پورے نہ کرسکتی ہو تو وہ ایسی بیوی سے سکون و محبت اور شفقت ورافت کی امید کیونکہ کرسکتا ہے تو پھر پہلے ہی وہ قدم سوچ سمجھ کر اٹھائے۔ ایک غریب آدمی اگر کسی…
Read the full tafseer →It is in continuation of the injunctions relating to marriage which have been appearing earlier that the text now takes up the option of marriage with bondwomen who qualify as such under the stipulations of the Shari'ah of Islam. Then, the injunction of Hadd punishment concerning them has been added along since the status of a bondman and bondwoman is different from a free man and a free woman. Detailed explanation follows.
Commentary
The word, طَول (taul) in the Qur'anic text signifies power, capability and means. The sense of the verse is that one who does not have the capability or means…
Read the full tafseer →45. The difference between the status of people is relative. All Muslims are alike. If there is any true distinction its basis is a person's faith and faith is not an exclusive privilege of the rich or so-called upper classes of the society. So it is possible for a slave-girl to be superior, in respect of her faith and morals, to a woman belonging to the elite of a society.
46.A superficial reading of this verse can lead to the mistaken conclusion, as Khawarij and others have done, that stoning is not the prescribed punishment for adultery. Such people ask: If stoning is the prescribed…
Read the full tafseer →