میدان جنگ سے قبضہ میں آنے والی عورتیں اور۔۔ متعہ
یعنی خاوندوں والی عورتیں بھی حرام ہیں، ہاں کفار عورتیں جو میدان جنگ میں قید ہو کر تمہارے قبضے میں آئیں تو ایک حیض گزارنے کے بعد وہ تم پر حلال ہیں، مسند احمد میں حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ جنگ اوطاس میں قید ہو کر ایسی عورتیں آئیں جو خاوندوں والیاں تھیں تو ہم نے نبی ﷺ سے ان کی بابت سوال کیا تب یہ آیت اتری ہم پر ان سے ملنا حلال کیا گیا ترمذی ابن ماجہ اور صحیح مسلم وغیرہ میں بھی یہ حدیث ہے، طبرانی کی روایت میں ہے کہ یہ واقعہ جنگ خیبر کا ہے، سلف کی ایک جماعت اس آیت کے عموم سے استدلال کرکے فرماتی ہے کہ لونڈی کو بیچ ڈالنا ہی اس کے خاوند کی…
Read the full tafseer →سورة النِّسَآء 44
یعنی جو عورتیں جنگ میں پکڑی ہوئی آئیں اور ان کے کافر شوہر دارالحرب میں موجود ہوں وہ حرام نہیں ہیں، کیونکہ دارالحرب سے دارالاسلام میں آنے کے بعد ان کے نکاح ٹوٹ گئے۔ ایسی عورتوں کے ساتھ نکاح بھی کیا جاسکتا ہے اور جس کی ملک یمین میں ہوں وہ ان سے تمتع بھی کرسکتا ہے۔ البتہ فقہاء کے درمیان اس امر میں اختلاف ہے کہ اگر میاں اور بیوی دونوں ایک ساتھ گرفتار ہوں تو ان کا کیا حکم ہے۔ امام ابوحنیفہ اور ان کے اصحاب کہتے ہیں کہ ان کا نکاح باقی رہے گا اور امام مالک و شافعی کا مسلک یہ ہے کہ ان کا نکاح بھی باقی نہ رہے گا۔
لونڈیوں سے تمتع کے معاملہ میں بہت سی غلط فہمیاں لوگوں کے ذہن میں ہیں۔…
Read the full tafseer →والمحصنت من النسآء
یعنی شوہروں والی عورتیں بھی حرام کی گئیں جب تک کوئی عورت کسی شخص کے نکاح میں ہو، دوسرا شخص اس سے نکاح نہیں کرسکتا، اس سے واضح طور پر معلوم ہوا کہ ایک عورت بیک وقت ایک سے زائد شوہر والی نہیں ہو سکتی ہے، اس دور کے بعض جاہل ملحد کہنے لگے ہیں کہ مردوں کو جب ایک سے زائد بیویوں کی اجازت ہے تو عورتوں کو بھی ایک سے زائد شوہروں سے متمتع ہونے کی اجازت ملنی چاہئے، یہ مطالبہ اس آیت شریفہ کے بالکل خلاف ہے، ایسی جاہلانہ باتیں کرنے والے لوگ یہ نہیں سمجھتے کہ مرد کے لئے کثرت تاریخ شاہد ہے، لیکن عورت کے لئے ایک وقت میں ایک سے زائد شوہر ہونا، اس عورت کے لئے بھی باعث مصیبت ہے اور جو دو مرد…
Read the full tafseer →وَّالْمُحْصَنٰتُ مِنَ النِّسَاۗءِ اِلَّا مَامَلَكَتْ اَيْمَانُكُمْ ۚ كِتٰبَ اللّٰهِ عَلَيْكُمْ ۚ وَاُحِلَّ لَكُمْ مَّا وَرَاۗءَ ذٰلِكُمْ اَنْ تَبْتَغُوْا بِاَمْوَالِكُمْ مُّحْصِنِيْنَ غَيْرَ مُسٰفِحِيْنَ ۭ فَـمَا اسْتَمْتَعْتُمْ بِهٖ مِنْھُنَّ فَاٰتُوْھُنَّ اُجُوْرَھُنَّ فَرِيْضَةً ۭ وَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيْمَا تَرٰضَيْتُمْ بِهٖ مِنْۢ بَعْدِ الْفَرِيْضَةِ ۭ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِــيْمًا حَكِـيْمًا۔
’ احصان ‘ کا مفہوم :۔ احصان کے معنی کسی شے کو اپنی حفاظ و حمایت میں لینے کے بھی ہیں اور کسی کی حفاظت و حمایت میں ہونے کے بھی۔ اسی سے ’ محصنات ‘ کا لفظ ہے جو ان عورتوں کے لیے بولا جاتا ہے جو…
Read the full tafseer →24۔ 1 قرآن کریم میں احصان چار معنوں میں مستعمل ہوا ہے۔ 1۔ شادی ' 2۔ آزادی ' 3۔ پاکدامنی۔ 4۔ اسلام ' اس اعتبار سے محصنات کے چار مطلب ہیں 1۔ شادی شدہ عورتیں 2۔ پاکدامن عورتیں 3۔ آزاد عورتیں اور 4۔ مسلمان عورتیں۔ یہاں پہلا معنی مراد ہے اس کے شان نزول میں آتا ہے جب بعض جنگوں میں کافروں کی عورتیں بھی مسلمانوں کی قید میں آگئیں تو مسلمانوں نے ان سے ہم بستری کرنے میں کراہت محسوس کی کیونکہ وہ شادی شدہ تھیں صحابہ کرام نے نبی ﷺ سے پوچھا جس میں یہ آیت نازل ہوئی (ابن کثیر) جس سے یہ معلوم ہوا کہ جنگ میں حاصل ہونے والی کافر عورتیں جب مسلمانوں کی لونڈیاں بن جائیں شادی شدہ ہونے کے باوجود ان سے مباشرت کرنا…
Read the full tafseer →20: جو کنیزیں جہاد کے دوران گرفتار کرکے لائی جاتی تھیں اور ان کے شوہر دارالحرب میں رہ جاتے تھے ان کا نکاح ان شوہروں سے ختم ہوجاتا تھا، لہذا جب وہ دارالاسلام میں آنے کے بعد ایک حیض کی مدت پوری کرلیتیں اور ان کو پچھلے شوہر سے حمل نہ ہوتا تو ان کا نکاح دارالاسلام کے کسی مسلمان سے جائز تھا، مگر یہ حکم انہی باندیوں کا ہے جو شرعی طور پر باندی بنائی گئی ہوں، آجکل ایسی کنیزوں یا باندیوں کا کہیں وجود نہیں ہے۔
21: مقصد یہ ہے کہ نکاح ایک دیرپا تعلق کا نام ہے جس کا مقصد صرف جنسی خواہش پوری کرنا نہیں ہے بلکہ ایک مضبوط خاندانی نظام کا قیام ہے جس میں مرد اور عورت ایک دوسرے کے حقوق اور ذمہ داریوں کے پابند…
Read the full tafseer →پارہ نمبر 5 ایک نظر میں :
پارہ پنجم میں بھی ہم سورة نساء کا مطالعہ کرتے ہیں ۔ اس پارے میں سورة نساء کے اہم موضوعا اور اہداف زیر بحث ہیں ‘ جن کی طرف اجمالی اشارہ پارہ چہارم کے آغاز میں کیا گیا تھا پارئہ پنجم میں بھی یہی اساسی مقاصد ہیں ۔ ان عقائد ومقاصد کے ضمن میں پھر متعدد موضوعات پر بحث چلی ہے ۔
اس پارے کے پہلے سبق میں خاندانی معاملات کی تنظیم کے باقی ماندہ امور لئے گئے ہیں اور ان تمام معاملات میں خاندان کی تنظیم ، نظام فطرت کے رجحانات اور تقاضوں کے مطابق کی گئی ہے ۔ خاندانی زندگی میں جو عارضی مشکلات ہوجایا کرتی ہیں ان میں خاندان اور عائلی زندگی کو بچانے کی تدابیر اختیار کی گئی ہیں ۔ اس طرح…
Read the full tafseer →1 محرمات کو ذکر فرما کر اخیر میں اب ان عورتوں کی حرمت بیان فرمائی جو کسی کے نکاح میں ہوں یعنی جو عورت کسی کے نکاح میں ہے اس کا نکاح اور کسی سے نہیں ہوسکتا تاوقتیکہ وہ بذریعہ طلاق یا وفات زوج نکاح سے جدا نہ ہوجائے اور عدت طلاق یا عدت وفات پوری نہ کرلے اس وقت تک کوئی اس سے نکاح نہیں کرسکتا۔ لیکن اگر کوئی عورت خاوند والی تمہاری ملک میں آجاوے تو وہ اس حکم حرمت سے مستشنٰی ہے اور وہ تم پر حلال ہے گو اس کا خاوند زندہ ہے اور اس نے طلاق بھی اس کو نہیں دی اور اس کی صورت یہ ہے کافر مرد اور کافر عورت میں باہم نکاح ہو اور مسلمان دار الحرب پر چڑھائی کر کے اس عورت کو قید کر کے دارالاسلام میں لے آئیں تو وہ…
Read the full tafseer →آیت 24 وَّالْمُحْصَنٰتُ مِنَ النِّسَآءِ
چونکہ وہ کسی اور کے نکاح میں ہیں اس لیے آپ پر حرام ہیں۔ ایک عورت کو اگر اس کا شوہر طلاق دے دے تو آپ اس سے نکاح کرسکتے ہیں۔ چناچہ یہ حرمت ابدی نوعیت کی نہیں ہے۔ مُحْصَنٰت“ ان عورتوں کو کہا جاتا ہے جو کسی کی قید نکاح میں ہوں۔ حِصن قلعے کو کہتے ہیں اور احصان کے معنی کسی شے کو اپنی حفاظت میں لینے کے بھی اور کسی کی حفاظت میں ہونے کے بھی۔ چناچہ مُحْصَنٰت“ وہ عورتیں ہیں جو ایک خاندان کے قلعے کے اندر محفوظ ہیں اور شوہر والیاں ہیں۔ نیز یہ لفظ لونڈیوں کے مقابل آزاد خاندانی شریف زادیوں کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔
اِلاَّ مَا مَلَکَتْ اَیْمَانُکُمْ ج۔
یعنی جنگ کے…
Read the full tafseer →40 موجودہ دور کے مہذب معاشرہ میں فاتح قوم قیدی عورتوں سے جس طرح کھلی بےحیائی کا ارتکاب کرتی ہے، اسلامی نقطہ نظر سے یہ صریح زنا ہے اور جس طرح آج کل قیدی عورتوں کو ایک کیمپ میں رکھا جاتا ہے اور فوجیوں کو عام اجازت دی جاتی ہے کہ جس عورت سے چاہیں زنا کرتے رہیں۔ یہ صرف زنا ہی نہیں رہتا بلکہ ایک وحشیانہ فعل بھی بن جاتا ہے۔ چناچہ اسلام نے ایسی عورتوں سے تمتع پر چند در چند پابندیاں لگائی ہیں۔ اس سلسلے میں پہلے درج ذیل حدیث ملاحظہ فرمائیے :
قیدی عورتوں اور لونڈیوں سے تمتع کی شرط :۔ ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم نے حنین کے دن ایک لشکر اوطاس کی طرف روانہ کیا۔ ان کا دشمن سے مقابلہ ہوا، مسلمانوں…
Read the full tafseer →76 ۔ (بہ طور کنیز شرعی کے) (آیت) ’ ’ الا ماملکت ایمانکم “ یعنی ایسی بیاہی ہوئی عورتیں جو اب مسلمانوں کی قید میں جہاد کے بعد آگئی ہیں، ان کی ازواج بن سکتی ہیں باوجود اس کے کہ ان کے شوہر زندہ اور دارالحرب میں موجود ہیں، ان کا وہ نکاح کافرانہ ان کے مسلمانوں کے ملک یمین میں جانے سے مانع نہیں ہوسکتا، (آیت) ” ماملکت ایمانکم “۔ پر حاشیہ اوپر گزر چکا ہے پ 4، حاشیہ 10 لفظی معنی ہیں ” وہ جن کے مالک تمہارے دونوں ہاتھ ہوجائیں “ مراد شرعی کنزیں ہیں۔ (آیت) ” المحصنت “۔ احصان کے معنی ہیں روک میں آجانا۔ الاحصان ھو ان یحمی الشیء ویمنع منہ (ابن قتیبہ) الاحصان فی اللغۃ المنع (کبیر) (آیت) ” محصنت “ کے معنی ہوئے…
Read the full tafseer →آیت نمبر 24 تا 25
ترجمہ : اور حرام کردی گئی ہیں تمہارے لئے شوہر والی عورتیں یہ کہ ان سے ان کے شوہروں کی مفارقت کے بغیر نکاح کرو خواہ آزاد مسلمان عورتیں ہوں یا دیگر، مگر یہ کہ وہ باندیاں کہ جو گرفتار ہو کر تمہاری قید میں آجائیں تو تمہارے لئے جائز ہے کہ ان سے وطی کرواستبراء (رحم) کے بعد، اگرچہ دارالحراب میں ان کے شوہرموجود ہوں، اللہ نے (ان احکام کو) تم پر فرض کردیا ہے نصب مصدریت کی وجہ سے ہے ای کَتَبَ ذلک، اور تمہارے لئے مذکورہ حرام کردہ عورتوں کے علاوہ حلال کردی گئی ہیں یہ کہ تم عورتوں کو اپنے مالوں کے ذریعہ مہر یا قیمت طلب کرو (اس طریقہ پر) کہ ارادہ نکاح کا ہو نہ کہ (محض) شہوت رانی کرنے والے،…
Read the full tafseer →والمحصنت من النسآء اور حرام کردی گئی ہیں شوہروں والی عورتیں۔ یعنی شوہروں والی عورتوں سے کسی دوسرے کا نکاح اس وقت تک درست نہیں جب تک ان کے شوہر مر نہ جائیں یا طلاق نہ دے دیں اور عدت وفات یا عدت طلاق گزر نہ جائے۔ سہاگن عورتوں کو محصنات کہنے کی وجہ یہ ہے کہ نکاح اور بیاہ سے ان کا تحفظ ہوجاتا ہے۔
حضرت ابو سعید خدری ؓ کی روایت ہے کہ اس آیت کا نزول ان مہاجر عورتوں کے متعلق ہوا جو خود بغیر شوہر کے مسلمان ہو کر ہجرت کر کے آجاتی تھیں اور بعض مسلمان ان سے نکاح کرلیتے تھے پھر ان کے شوہر مسلمان ہو کر ہجرت کر کے آجاتے تھے اللہ نے ایسی عورتوں سے نکاح کرنے کی اس آیت میں ممانعت فرما دی۔
میں کہتا ہوں شاید اس…
Read the full tafseer →(24) شوہر والی عورتیں بھی تم پر حرام ہیں مگر اس حکم میں وہ مستثنی ہیں جو شرعی طور پر تمہاری مملوک ہوجائیں اور ان کے حربی شوہر ”دار الحرب“ میں موجود ہوں وہ ایک حیض آجانے (یا وضع حمل کے بعد) مشروط طور پر حلال ہیں، اللہ تعالیٰ نے کتاب اللہ میں جن کو حرام کردیا ہے وہ تم پر حرام ہیں۔
جن رشتوں کی حرمت بیان کردی گئی ان کے علاوہ چار تک شادی کرنا حلال ہے یا یہ کہ اپنے مالوں سے باندیاں خریدو یا اپنے اموال دے کر عورتوں سے شادی کرو مگر متع کا حکم منسوخ ہوگیا (وہ اب ہرگز کسی بھی نوعیت کے ساتھ کسی کے لیے بھی جائز نہیں) اس طریقہ پر تم ان کو بیوی بنا لو، مال دے کر نکاح کے علاوہ اور کوئی مستی کی صورت مت کرو…
Read the full tafseer →وَّالْمُحْصَنٰتُ مِنَ النِّسَاۗءِ۔۔ : اوپر کی آیت میں حرام رشتوں کا ذکر تھا، وہ تو بہر صورت حرام ہیں، خواہ ان میں سے کوئی عورت کسی کی لونڈی بن کر آجائے۔ اس بنا پر علماء نے لکھا ہے کہ دو بہنوں کو جمع کرنا صرف نکاح ہی میں نہیں بلکہ ایک مالک کی لونڈیاں ہوں تب بھی اسے دونوں سے صحبت حرام ہے۔ (ابن کثیر) اب یہاں فرمایا کہ جن عورتوں کے شوہر موجود ہوں ان سے نکاح بھی حرام ہے، ہاں جنگ کی صورت میں دارالحرب سے جو عورتیں قیدی بن کر آئیں تو اموال غنیمت کی تقسیم کے بعد جن کے حصہ میں آئیں گی ان کے لیے ”استبراء“ کے بعد ان سے صحبت جائز ہے، خواہ پیچھے ان کے خاوند موجود ہی کیوں نہ ہوں۔ ”استبراء“ یہ ہے کہ وہ عورت…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 24۔
اس آیت میں چودہ مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر : (1) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” والمحصنت “ اس کا عطف محرمات اور پہلے ذکر کی گئی عورتوں پر ہے، التحصن کا معنی بچنا ہے اس سے الحصن (قلعہ) ہے، کیونکہ اس میں حفاظت کی جاتی ہے، اسی سے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” وعلمنہ صنعۃ لبوس لکم لتحصنکم من باسکم “۔ (الانبیائ : 80) (اور ہم نے سکھا دیا انہیں زرہ بنانے کا ہنز تمہارے فائدے کے لیے تاکہ وہ زرہ بچائے تمہیں تمہاری زد سے) اسی سے گھوڑے کے لیے حصان (بکسر الحائ) استعمال ہوتا ہے، کیونکہ گھوڑا بھی اپنے مالک کو ہلاکت سے بچاتا ہے، الحصان (بفتح الحائ) پاک دامن عورت جو اپنے آپ کو ہلاکت سے بچاتی…
Read the full tafseer →خاوند والی عورت سے نکاح حرام ہے
(1) الطیالسی وعبد الرزاق والفریابی وابن ابی شیبہ واحمد وعبد بن حمید ومسلم وابو داؤد و ترمذی والنسائی وابو یعلی وابن جریر والمنذر وابن ابی حاتم والبخاری وابن حبان والبیہقی نے اپنی سنن میں ابو سعید خدری ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے حنین کے دن ایک لشکر اوطاس کی طرف بھیجا یہ لوگ دشمن سے ملے اور ان سے قتال کیا۔ ان پر غالب آئے اور ان کے قیدی بھی ہاتھ آئے رسول اللہ ﷺ کے صحابہ نے ان قیدی عورتوں کے ساتھ جماع کرنا مناسب نہ سمجھا ان عورتوں کے مشرک خاوند موجود تھے تو اللہ تعالیٰ نے اس آیت کو نازل فرمایا۔ لفظ آیت ” والمحصنت من النساء الا ما ملکت ایمانکم “ فرمایا مگر جو…
Read the full tafseer →[ وَّالْمُحْصَنٰتُ : اور شادی شدہ خواتین (بھی)] [ مِنَ النِّسَآئِ : عورتوں میں سے ] [ اِلاَّ : سوائے اس کے کہ ] [ مَا : جن کے ] [ مَلَکَتْ : مالک ہوئے ] [ اَیْمَانُکُمْ : تمہارے داہنے ہاتھ ] [ کِتٰبَ اللّٰہِ : اللہ کا لکھا ہوا ہوتے ہوئے ] [ عَلَیْکُمْ : تم پر ] [ وَاُحِلَّ : اور حلال کیا گیا ] [ لَـکُمْ : تمہارے لیے ] [ مَّا وَرَآئَ ذٰلِکُمْ : جو اس کے علاوہ ہے ] [ اَنْ : کہ ] [ تَـبْـتَغُوْا : تم لوگ چاہو (ان کو) ] [ بِاَمْوَالِکُمْ : اپنے مال سے ] [ مُّحْصِنِیْنَ : حفاظت کرنے والے ہوتے ہوئے ] [ غَیْرَ مُسٰفِحِیْنَ : بدکاری نہ کرنے والے ہوتے ہوئے ] [ فَمَا اسْتَمْتَعْتُمْ : پھر جو تم نے…
Read the full tafseer →جو عورت کسی کے نکاح میں ہو اس سے نکاح کرنے کی حرمت
محرمات بالسبب میں وہ عورتیں بھی ہیں جو کسی مرد کے نکاح میں ہوں یعنی جب کسی عورت کا کسی مرد سے نکاح ہوگیا ہو اگرچہ رخصتی ابھی نہ ہوئی ہو تو اس کا نکاح کسی دوسرے مرد سے نہیں ہوسکتا جب تک کہ وہ عورت اپنے شوہر کے نکاح سے نہ نکلے اس کا شوہر مرجائے یا طلاق دیدے اور پھر اس کی عدت گزر جائے تب کسی دوسرے مرد سے اس کا نکاح ہوسکتا ہے، اس کے بغیر نہیں ہوسکتا اسی کو (وَّ الْمُحْصَنٰتُ مِنَ النِّسَآءِ ) میں بیان فرمایا ہے ہاں اگر ایسی صورت پیش آئے کہ مسلمانوں کافروں سے جہاد کریں اور وہاں سے عورتوں کو قید کر کے لے آئیں اور امیر المؤمنین عورتوں کو باندی بنا…
Read the full tafseer →قسم چہارم شوہر والی عورتیں۔
قال اللہ تعالیٰ والمحصنت۔۔۔ الی۔۔۔ علیکم۔ آیت۔
اور حرام کی گئیں تم پر شوہر دار عورتیں کہ جو کسی کے قید نکاح میں ہیں یعنی خاوند والی عورتیں تم پر حرام ہیں جب تک ان کے خاوند نہ مریں یا طلاق نہ دیں اور وفات یا طلاق کی عدت نہ گزر جائے تو دوسروں کو ان سے نکاح درست نہیں۔
(ف 2) ۔ خاوند والی عورتوں کو المحصنت اس لیے فرمایا کہ لفظ محصنات حصن بمعنی قلعہ سے مشتق ہے یعنی جو عورتیں نکاح کے قلعہ میں مقید ہیں جب تک مالک دروازہ نہ کھولے اس وقت تک قلعہ سے باہر نہیں نکل سکتیں خاوند نے یا نکاح نے ان کو مقید کر رکھا ہے مگر وہ خاوند والی عورتیں جو جہاد میں قید ہو کر آئیں اور ان کے شوہر…
Read the full tafseer →20 دسواں حکم رعیت (جن عورتوں سے نکاح جائز ہے خواہ حرہ ہوں یا لونڈیاں، ان کو مہر دینا ہوگا) یہ آٹھویں اور نویں حکم سے متعلق ہے۔ آٹھویں حکم میں فرمایا کہ میراث میں مال ملا کرتا ہے عورتیں نہیں ملا کرتیں۔ ہاں جو عورتیں خوشی سے نکاح کرنا چاہیں ان سے نکاح کرسکتے ہو۔ نویں حکم میں فرمایا کہ یہ پندرہ عورتیں تم پر حرام ہیں وہ اگر راضی ہوں تو بھی ان سے نکاح جائز نہیں۔ اب یہاں علی سبیل الترقی فرمایا کہ ان کے علاوہ باقی عورتیں تم پر حلال ہیں لیکن حلت کی شرط یہ ہے کہ تم ان کو ہمیشہ کے لیے اپنی زوجیت میں رکھنے کی غرض سے ان سے شرعی عقد کرو۔ وقتی یا چند روزہ شہوت رانی مقصود نہ ہو اس سے متعہ کی ممانعت کی طرف…
Read the full tafseer →منکوحہ عورتیں
گزشتہ دروس میں تین قسم کے محرمات نکاح کا تذکرہ ہوچکا ہے۔ محرمات کی پہلی قسم نسبی اعتبار سے ہے جسے ماں ، بیٹی ، بہن وغیرہ دوسری قسم رضاعی ہے اور اس میں وہ رشتے آتے ہیں جو دودھ میں شرکت کی بناء پر پیدا ہوتے ہیں۔ تیسری قسم مصاہرت کی ہے یعنی وہ رشتے جو دامادی اور سسرالی کی وجہ سے وجود میں آتے ہیں آج کے درس میں محرمات کی چوتھی اور آخری قسم کا بیان ہے اور اس میں منکوحہ عورتیں آتی ہیں۔ ارشاد ہے والمحصنت من النساء اور خاوند والی یعنی منکوحہ عورتیں بھی تم پر حرام ہیں۔ مقصد یہ ہے کہ جو عورت کسی شخص کے نکاح میں ہے اس کے ساتھ کوئی دوسرا شخص نکاح نہیں کرسکتا۔ نکاح ثانی کے لیے پہلے نکاح کا…
Read the full tafseer →وَّالْمُحْصَنٰتُ مِنَ النِّسَاۗءِ اِلَّا مَا مَلَكَتْ اَيْمَانُكُمْ 0 ۚ كِتٰبَ اللہِ عَلَيْكُمْ 0 ۚ وَاُحِلَّ لَكُمْ مَّا وَرَاۗءَ ذٰلِكُمْ اَنْ تَبْتَغُوْا بِاَمْوَالِكُمْ مُّحْصِنِيْنَ غَيْرَ مُسٰفِحِيْنَ 0 ۭ فَـمَا اسْتَمْتَعْتُمْ بِہٖ مِنْھُنَّ فَاٰتُوْھُنَّ اُجُوْرَھُنَّ فَرِيْضَۃً 0 ۭ وَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيْمَا تَرٰضَيْتُمْ بِہٖ مِنْۢ بَعْدِ الْفَرِيْضَۃِ 0 ۭ اِنَّ اللہَ كَانَ عَلِــيْمًا حَكِـيْمًا 24
محْصِنة
فالمُحْصِن يقال : إذا تصوّر حصنها من نفسها، والمُحْصَن يقال إذا تصوّر حصنها من غيرها، وقوله عزّ وجل : وَآتُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ مُحْصَناتٍ غَيْرَ…
Read the full tafseer →محصنات : والمحصنات من النساء احصان لغت میں منع کرنے کو کہتے ہیں اور چونکہ قلعہ غیر کو آنے سے منع کرتا ہے اس لئے اس کو حصن کہتے ہیں اور اسی لئے شہر پناہ والے شہر کو مدینہ حصینہ بولتے ہیں۔ حصان بالکسر نر گھوڑا جو مالک کو قبضہ دشمن سے روکتا ہے۔ حصان بالفتح پارسا عورت جو اپنے ستر کو بدکاری سے روکتی ہے۔ قرآن میں لفظ احصان چند معنی کے لئے بولا گیا ہے۔ (1) حر یعنی آزاد مرد و عورت پر جو کسی کے غلام نہ ہوں۔ والذین یرمون المحصنات اے الحرائر (2) پارسا پر محصناتٍ غیر مسافحات (3) خاوند والی عورت پر والمحصنات من النساء اس صورت میں جمہور کے نزدیک آیت کے یہ معنی ہوئے کہ تم پر شوہر دار عورتیں بھی حرام ہیں الا…
Read the full tafseer →وَّالْمُحْصَنٰتُ مِنَ النِّسَآئِ اِلَّامَا مَلَـکَتْ اَیْمَانُـکُمْ ج کِتٰبَ اللّٰہِ عَلَیْکُمْ ج وَاُحِلَّ لَـکُمْ مَّا وَرَآئَ ذٰلِکُمْ اَنْ تَبْتَغُوْا بِاَمْوَالِـکُمْ مُّحْصِنِیْنَ غَیْرَ مُسٰفِحِیْنَ ط فَمَااسْتَمْتَعْتُمْ بِِہٖ مِنْھُنَّ فَاٰتُوْھُنَّ اُجُوْرَھُنَّ فَرِیْضَۃً ط وَلاَ جُنَاحَ عَلَیْکُمْ فِیْمَا تَرٰضَیْتُمْ بِہٖ مِنْ م بَعْدِالْفَرِیْضَۃِ ط اِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَلِیْمًا حَکِیْمًا
(اور وہ عورتیں بھی حرام ہیں جو کسی کے نکاح میں ہوں مگر یہ کہ وہ تمہاری مِلکِ یمین بن جائیں یہ تم پر اللہ کا لکھا ہوا فریضہ ہے اور حلال کی گئی ہیں تمہارے لیے ان کے ماسوا عورتیں اس طرح کہ تم اپنے…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔
جن عورتوں کے خاوند موجود ہوں وہ بھی حرام ہیں۔ البتہ جو عورتیں جنگی قیدی یعنی لونڈیاں بن کر تمہاری ملک (capture) میں آجائیں اور ان کے خاوند دار الحرب میں رہ جائیں تو وہ عورتیں تمہارے لیے حلال ہیں۔ کیونکہ قیدی ہونے کی وجہ سے ان کا سابقہ نکاح ختم تصور ہوگا۔
مذکورہ عورتوں کے علاوہ دوسری عورتوں سے نکاح کرنا جائز ہے۔ یہاں نکاح کا مقصد بیان فرمایا کہ یہ کام عیاشی کے لیے نہیں بلکہ بدکاری سے بچنے کے لیے ہونا چاہیے بشرطیکہ آزاد عورتوں کے حق مہر ادا کیے جائیں۔ حق مہر کی ادائیگی کے معاملہ میں باہمی رضامندی سے کچھ طے کرلیا جائے تو اس میں گناہ کی بات نہیں۔ یہ اللہ…
Read the full tafseer →آیت 24 :
وَالْمُحْصَنٰتُ مِنَ النِّسَآئِ (اور خاوندوں والی عورتیں) کیونکہ انہوں نے اپنی شرمگاہوں کو نکاح کے ذریعہ محفوظ کرلیا۔
قراءت : یہاں کسائی نے محصنات۔ صاد کے فتحہ سے پڑھا۔ اور باقی تمام قرآن مجید میں کسرئہ صاد سے پڑھا۔
لونڈیوں کی حلّت :
اِلاَّ مَا مَلَکَتْ اَیْمَانُکُمْ (مگر جن کے مالک تمہارے دائیں ہاتھ ہوں) قید ہوجانے کی وجہ سے جبکہ اس کا خاوند دارالحرب میں ہو۔ مطلب یہ ہوا، تم پر منکوحہ عورتوں سے نکاح حرام ہے۔ یعنی وہ عورتیں جن کے خاوند ہوں مگر وہ عورتیں کہ جن کے مالک تمہارے دائیں ہاتھ بنے ان کے قید ہوجانے کی وجہ سے اور ان کے بلا خاوند نکالنے کی وجہ سے۔ دارین کے مختلف ہونے کی وجہ سے ان…
Read the full tafseer →(والمحصنات من النساء کی تفسیر اور شان نزول)
(تفسیر) 24۔:
(آیت)” والمحصنات من النساء الا ما ملکت ایمانکم “۔ اس سے مراد شوہروں والی ہیں ، ان عورتوں کے ساتھ دوسرے شخص کا نکاح کرنا حرام ہے جب تک کہ یہ ان کو چھوڑ نہ دیں ، یہ ساتویں قسم ہے جو حرمت بالسبب کی وجہ سے ہے ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ یہ ان عورتوں کے متعلق نازل ہوئیں جو آپ ﷺ کے ساتھ ہجرت کرکے مدینہ آئیں تھیں اور وہ شوہر والی تھیں ، ان سے بعض مسلمانوں نے نکاح کرلیا ، پھر ان کے شوہر سابق ہجرت کرکے آئے ، ان سے مسلمانوں کو نکاح کرنے سے روکا گیا ، پھر اس سے استثناء کیا لونڈیوں اور باندیوں کو اس آیت سے (آیت)” الاما ملکت ایمانکم “۔…
Read the full tafseer →اگرچہ بعض مفسروں نے اس آیت سے چند روزہ نکاح کے جائز ہونے کا مطلب نکالا ہے۔ جس کو متعہ کہتے ہیں لیکن اوائل اسلام میں یہ نکاح چند روزہ جائز تھا۔ اب قطعی حرام ہے۔ چناچہ صحیح مسلم میں فتح مکہ یا حجۃ الوداع کے وقت بطور وعظ کے آپ نے جو لوگوں کو مخاطب ٹھہرا کر حدیث فرمائی ہے۔ اس میں صاف فرما دیا ہے کہ یہ نکاح اب قیامت تک حرام ہے 1 اس واسطے صحیح معنی آیت کے وہی ہیں جو مجاہد نے بیان کئے ہیں کہ جن عورتوں سے نکاح کیا اور ان سے گھرداری کا ان کا مہر ادا کرنا تم پر واجب ہے۔ اب ٹھہرا ہوگا تو وہ دو بہنیں تو رواج سے معافق مہر مثل دو اجز کے معنی مہر کے ہی اور فریضہ کے معنی ٹھہرے ہوئے مہر کے ہیں پھر فرمایا مہر…
Read the full tafseer →آیت 24
نیز ان عورتوں سے بھی نکاح حرام ہے جو اس آیت میں مذکور ہیں۔ (والمحصنت من النسآء) ” اور شوہر والی عورتیں بھی “ (تم پر حرام ہیں) یعنی جو پہلے سے شادی شدہ اور خاوند والی ہیں۔ جب تک یہ عورتیں پہلے شوہر کی زوجیت میں ہیں اور جب تک پہلا خاوند طلاق نہ دے دے اور یہ اپنی عدت پوری نہ کرلیں، اس وقت تک دوسرے خاوند کے لئے حرام ہیں۔ (الاماملکت ایمانکم) البتہ تمہارے لئے تمہاری لونڈیاں حلال ہیں۔ اگر جنگ کے دوران خاوند والی عورت کو قیدی بنا لیا جائے تو وہ استبرائے رحم (ایک حیض) کے بعد مسلمانوں کے لئے حلال ہے۔ اگر منکوحہ لونڈی کو فروخت کردیا جائے یا کسی کو ہبہ میں دے دی جائے تو اس سے لونڈی کا نکاح فسخ…
Read the full tafseer →شوہروں والی عورتوں سے نکاح کی تحریم
قول باری ہے (والمحصنات من النساء الاماملکت ایمانکم، اور جو عورتیں کسی دوسرے کے نکاح میں ہوں (وہ تم پر حرام ہیں) البتہ ایسی عورتیں اس سے مستثنیٰ ہیں جو جنگ میں ہمارے ہاتھ آئیں) اس کا عطف ان عورتوں پر ہے جن کی تحریم کا ذکرقول باری (حرمت علیکم امھاتکم) سے شروع ہوا ہے۔
سفیان نے حماد سے، انہوں نے ابراہیم نخعی سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ بن مسعو ؓ د سے روایت کی ہے کہ (والمصنات من النساء ) سے مسلمان اور مشرک شوہروں والی عورتیں مراد ہیں۔ حضرت علی ؓ کا قول ہے کہ اس سے مشرک شوہروں والی عورتیں مراد ہیں۔
سعیدبن جبیرنے حضرت ابن عباس سے روایت کی ہے کہ اس سے مراد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
53 حرمت رضاعت کا بیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ تم پر حرام کردیا گیا تمہاری ان ماؤں کو جنہوں نے تم کو دودھ پلایا۔ اگرچہ وہ تھوڑا ہی کیوں نہ ہو، مگر ہو زمانہ رضاعت کے دوران، نہ کہ اس کے بعد کا۔ چناچہ صحیح حدیث میں ارشاد فرمایا گیا یعنی رضاعت وہی معتبر ہوتی ہے جو بھوک مٹائے۔ یعنی یہ زمانہ رضاعت کے دوران ہو جبکہ بچے کی بھوک مٹانے کا ذریعہ رضاعت ہی ہوتی ہے، اس کے علاوہ وہ کسی اور خوراک سے بھوک نہ مٹاتا ہو۔ پس رضاعت وہی معتبر ہوتی ہے جو زمانہ رضاعت میں اور قبل الفطام یعنی دودھ چھڑانے سے پہلے ہو۔ یعنی دو سال کی مدت کے اندر ہو، جیسا کہ حضرت ابن عباس ؓ سے مرفوعاً مروی ہے کہ رضاعت وہی معتبر ہے جو کہ…
Read the full tafseer →نکاح کی شرائط اور مہر
تشریح : اس آیت میں یہ واضح کردیا گیا ہے کہ مرد کو تو چار بیویوں کی اجازت دی گئی ہے اس شرط کے ساتھ کہ وہ ان کے ساتھ انصاف کرسکتا ہو۔ مگر بیویوں کو اس کی ہرگز اجازت اسلام میں نہیں دی گئی کہ ایک وقت میں دو یا کئی شوہر رکھیں۔ اس کی بیشمار معقول وجوہات ہیں۔ سب سے بڑی وجہ تو اولاد کا فساد ہے کہ یہ کیسے معلوم ہو یہ کس کی اولاد ہے، اور یہ فساد بیشمار فسادوں کی جڑ بن سکتا ہے، لہٰذا سختی سے منع کیا گیا ہے کہ شادی شدہ عورت سے نکاح کی اجازت نہیں صرف ایک صورت بنتی ہے کہ مال غنیمت کے ساتھ اگر کچھ عورتیں بھی پکڑی جائیں تو ان سے کچھ شرائط پوری کرنے کے بعد نکاح ہوسکتا ہے۔ (مال غنیمت وہ…
Read the full tafseer →آیت نمبر 24: والمحصنت من النساء الا ما ملکت ایمانکم ۔۔۔۔ علیما حکیما۔
اور شوہروں والی عورتیں یعنی جب تک کوئی عورت کسی دوسرے کے نکاح میں ہے کسی کے لیے حلال نہ ہوگی سوائے اس کے کہ جو جنگی اسیر ہو کر تمہاری ملکیت میں آجائیں کہ جو عورت جنگ میں قید ہو کر آتی ہے اگر اس کا شوہر دار الحرب میں رہ گیا ہو تو نکاح خود بخود ٹوٹ جائے گا اگرچہ کتابیہ یا مسلمہ بھی ہو اس صورت میں دار الاسلام کا کوئی بھی مسلمان اس سے نکاح کرسکتا ہے باندیوں یا مملوکہ عورتوں کے معاملہ میں مستشرقین نے بھی بہت اعتراضات کرنے کی کوشش کی ہے اور جدید تہذیب کے شیدائی مسلمانوں نے بھی مستشرقین ذرا اس کی اصل پر نظر ہوجائے تو رائے قائم…
Read the full tafseer →ف 1 اوپر آیتہ التحریم میں مذکورہ محارم تو بہر صورت حرام ہیں خواہ وہ ملک یمین ہی میں آجائیں اس بنا پر علما نے لکھا ہے کہ ملک یمین کے ساتھ جمع بین الا ختین بھی حرام ہے۔ (ابن کثیر) اب یہاں فرمایا کہ شوہر والی عورتیں بھی حرام ہیں ہاں دارالحرب سے قیدی بن کر آجائیں تو اموال غنیمت کی تقسیم کے بعد کے حصہ میں آئیں گی ان کے لیے استبر کے بعد ان سے صحبت جائز ہے خواہ دارالحرب میں ان کے خاوند موجود ہی کیوں نہ ہو استبرا یہ ہے کہ عورت ایک حیض سے پاک ہوجائے یا اگر حاملہ ہے تو واضع حمل ہوجائے صحیح مسلم اور سنن میں ابو سعید خدری سے روایت ہے کہ 8 ھ غزوہ اوطاس دیار غطفان میں ایک وادی کا نام ہے) میں دوسرے اموال…
Read the full tafseer →(4:24) المحصنت۔ اسم مفعول۔ جمع مؤنث۔ محصنۃ واحد محصنۃ۔ اسم فاعل۔ واحد۔ احصان۔ مصدر ۔ (بروزن افعال) آزاد۔ (1) پاکدامن عورتیں ۔ دوشیزہ ہوں یا نہ ہوں۔ (2) شوہر والیان یعنی منکوحہ۔ (3) آزاد دوشیزائیں۔
صاحب معجم القرآن نے لکھا ہے کہ سورة النساء میں مندرجہ بالا معانی محصنت کے بالترتیب لئے گئے ہیں۔ جس ترتیب سے یہ لفظ سورة نساء میں آیا ہے۔
ثعلب نے لکھا ہے کہ ہر پاک دامن عورت کو محصنہ (اسم مفعول) اور محصنہ (اسم فاعل) کہا جاتا ہے۔ لیکن شوہر والی عورت کو محصنہ (اسم مفعول) کہیں گے۔
قاموس میں ہے امرأۃ حصان پاک دامن یا شوہر والی عورت۔
راغب نے اس کی تائید کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اگر حرمت کے بعد المحصنت قرآن…
Read the full tafseer →آیت نمبر 24
لغت القرآن : المحصنت، شوہر والی عورتیں (شوہر کے قلعہ میں محفوظ) ۔ ملکت، مالک ہیں۔ ایمانکم، تمہارے داہنے ہاتھ (مکمل ملکیت) ۔ احل، حلال کردیا گیا۔ ماوراء، جو اس کے علاوہ ہے۔ تبتغوا، تم تلاش کرو۔ محصنین، حفاظت کے قلع میں لانے کیلئے (نکاح میں لانے کے لئے) ۔ غیر مسافحین، نہ مستی نکالنے کے لئے۔ استمتعتم، تم نے فائدہ حاصل کیا۔ اجورھن، ان کے مہر (اجر۔ مہر) ۔ تراضیتم، تم آپس میں راضی ہوگئے۔ بعد الفریضۃ، فرض کی ادائیگی کے بعد۔ مقرر کرلینے کے بعد۔
تشریح : نکاح کے لئے حرام عورتوں کی فہرست میں ایک اہم اضافہ ہے۔ فرمایا تمام شوہر والی عورتیں تم پر حرام ہیں۔ مگر یہاں بھی ایک استثنیٰ ہے۔
اس بارے…
Read the full tafseer →حاصل معنی اس آیت کے یہ ہیں کہ خاوند والی عورت سے دوسرے کو صحبت حرام ہے کہ حمل کے ہونے نہ ہونے کا حال معلوم ہوجاوے تاکہ آئندہ اولاد میں شبہ نہ پڑے کہ کس کی ہے ۔ اس آیت سے چند روزہ نکاح کے جائز ہونے کا مطلب نکالا ہے جس کو متعہ کہتے ہیں ۔ اوائل اسلام میں یہ چند روزہ نکاح جائز تھا مگر اب قطعی حرام ہے اور قیامت تک حرام رہے گا۔ جن عورتوں سے تم نے نکاح کیا اور ان سے گھر داری کی ، ان کا مہر ادا کرنا تم پر واجب ہے ۔ اگر میاں بی بی کی رضا مندی سے اس میں کچھ کمی وبیشی ہو تو اس کا مضائقہ نہیں اللہ تعالیٰ غیب داں ہے۔
Read the full tafseer →[23] یعنی ایسی بیاہی ہوئی عورتیں حرام نہیں ہیں جو جنگ میں پکڑی ہوئی آئیں باوجود اس کے کہ ان کے شوہر زندہ دارالحرب میں موجود ہیں کیونکہ دارالحرب سے دارالسلام آنے کے بعد ان کے نکاح ٹوٹ گئے۔
Read the full tafseer →متعہ حرام ہے :
(ف 1) ان آیات میں بتایا ہے کہ شادی شدہ عورتیں کسی طرح بھی دوسروں کے لئے جائز نہیں البتہ مملوکہ عورتیں چونکہ بوجہ عین بمنزلہ منکوحات کے ہیں اور ان کا سابقہ نکاح فسخ ہوچکا ہے ، اس لئے وہ ” محصنات “ کی فہرست میں داخل نہیں ۔
ذیل کے الفاظ سے بعض لوگوں نے متعہ کا جواز نکالا ہے ، (آیت) ” ان تبتغوا باموالکم فما استمتعتم بہ منھن فاتوھن اجورھن “۔ حالانکہ آیت کے سیاق وسباق سے ظاہر ہے کہ بیان نکاح کا ہو رہا ہے جس کے معنی دائما کسی کو حبالہ عقد میں لے آنے کے ہیں نہ متعہ کا ، جو وقتی جذبات کے ماتحت یکسر حیوانی حرکت ہے ، (آیت) ” محصنین غیر مسافحین “ کی تصریح ہرگز کسی شک وشبہ کی متحمل نہیں ،…
Read the full tafseer →ف 1 اور تمہارے ان بیٹوں کی بیویاں جو تمہاری پشت سے اور تمہاری نسل سے ہوں یعنی متبنی منہ بولے اور لے پالک نہ ہوں۔ کیونکہ لے پالک اور متنبی کو حرمت میں کوئی دخل نہیں اور لے پالک کی بیوی حرام نہیں اور تم پر بھی حرام ہے کہ تم دو بہنوں کو ایک ساتھ نکاح میں رکھو خواہ وہ دونوں رضاعی بہنیں ہوں یا نسبتی ہوں مگر ہاں جو اس حکم سے پہلے ہوچکا وہ ہوچکا اور گزشتہ دور میں جو کرچکے وہ کرچکے اس پر مواخذہ نہیں۔
یقین جانو ! کہ اللہ تعالیٰ بڑا بخشنے والا اور بڑی مہربانی کرنے والا ہے اور عورتوں میں سے وہ عورتیں بھی تم پر حرام کی گئی ہیں جو دوسروں کی منکوحہ اور شوہر والیاں ہوں۔ مگر ہاں ! ان میں سے وہ عورتیں مستثنیٰ…
Read the full tafseer →ف 2۔ یہاں تک محرمات کا بیان تھا اس کے بعد ان کے ماسوا کی حلت نکاح کا مع بعض شرائط حلت کے بیان ہے۔
3۔ یعنی مہر ہونا نکاح میں ضروری ہے۔
4۔ اس کے عموم میں زنا اور متعہ سب داخل ہوگیا۔
Read the full tafseer →وہ عورتیں جو دوسروں کے نکاح میں موجود ہیں تمہارے نکاح میں نہیں آسکتیں :
54: جب تک کوئی عورت کسی شخص کے نکاح میں ہو دوسرا شخص اس سے نکاح نہیں کرسکتا۔ اس سے واضح طور پر یہ معلوم ہوگیا کہ ایک عورت بیک وقت ایک سے زائد شوہر والی نہیں ہو سکتی۔ اس طرح گویا یہ رد ہے ان لوگوں کو جو یہ کہتے ہیں کہ ملک یمین سے نکاح کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ نکاح ہی اس کو بیوی بنایا جاسکتا ہے۔ ایک شخص نے جب اپنی ملک یمین کو کسی دوسرے کے نکاح میں دے دیا تو اس طرح جس کے نکاح میں وہ دی وہ اس کا نکاح کی وجہ سے شوہر ہوگیا اور ظاہر ہے کہ وہ اس سے زنا شوئی کا تعلق قائم کرے گا اور دوسرا جس کی وہ ملک یمین ہے اگر وہ بھی ملک…
Read the full tafseer →وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ النِّسَاءِ (the women already bound in marriage): It means that women having husbands have also been made unlawful. So far as a woman is married to a person, no other person can marry her. From here, it becomes very clear that a woman cannot live with more than one husband simultaneously. There are some ignorant and loudmouthed people in our time who have started saying - when men are allowed to take more than one wife, women too should have the permission to enjoy more than one husband. This tasteless bravado is totally contrary to this noble verse. People who indulge…
Read the full tafseer →44. Women who come as captives of war, leaving their husbands behind in Dar al-Harb (Domain of War), are not prohibited, for their marriage is nullified by virtue of their entry into Dar al-Islam (Domain of Islam). A man may marry such women and, if they happen to be his slave-girls, he may have sexual relations with them. There is disagreement, however, among jurists as to what should be done if both husband and wife have been taken captive together. Abu Hanifah and the jurists of his school are of the opinion that their marriage should remain intact. Malik and Shafi'i, on the other hand,…
Read the full tafseer →