An-Nisaa 4:23

An-Nisaa · from ayah 23

4:23

حُرِّمَتْ عَلَیْكُمْ اُمَّهٰتُكُمْ وَبَنٰتُكُمْ وَاَخَوٰتُكُمْ وَعَمّٰتُكُمْ وَخٰلٰتُكُمْ وَبَنٰتُ الْاَخِ وَبَنٰتُ الْاُخْتِ وَاُمَّهٰتُكُمُ الّٰتِیْۤ اَرْضَعْنَكُمْ وَاَخَوٰتُكُمْ مِّنَ الرَّضَاعَةِ وَاُمَّهٰتُ نِسَآىِٕكُمْ وَرَبَآىِٕبُكُمُ الّٰتِیْ فِیْ حُجُوْرِكُمْ مِّنْ نِّسَآىِٕكُمُ الّٰتِیْ دَخَلْتُمْ بِهِنَّ ؗ— فَاِنْ لَّمْ تَكُوْنُوْا دَخَلْتُمْ بِهِنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ ؗ— وَحَلَآىِٕلُ اَبْنَآىِٕكُمُ الَّذِیْنَ مِنْ اَصْلَابِكُمْ ۙ— وَاَنْ تَجْمَعُوْا بَیْنَ الْاُخْتَیْنِ اِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ ؕ— اِنَّ اللّٰهَ كَانَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا ۟ۙحُرِّمَتۡ عَلَيۡكُمۡ اُمَّهٰتُكُمۡ وَبَنٰتُكُمۡ وَاَخَوٰتُكُمۡ وَعَمّٰتُكُمۡ وَخٰلٰتُكُمۡ وَبَنٰتُ الۡاٰخِ وَبَنٰتُ الۡاُخۡتِ وَاُمَّهٰتُكُمُ الّٰتِىۡۤ اَرۡضَعۡنَكُمۡ وَاَخَوٰتُكُمۡ مِّنَ الرَّضَاعَةِ وَ اُمَّهٰتُ نِسَآئِكُمۡ وَرَبَآئِبُكُمُ الّٰتِىۡ فِىۡ حُجُوۡرِكُمۡ مِّنۡ نِّسَآئِكُمُ الّٰتِىۡ دَخَلۡتُمۡ بِهِنَّ فَاِنۡ لَّمۡ تَكُوۡنُوۡا دَخَلۡتُمۡ بِهِنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَيۡكُمۡ وَحَلَاۤئِلُ اَبۡنَآئِكُمُ الَّذِيۡنَ مِنۡ اَصۡلَابِكُمۡۙ وَاَنۡ تَجۡمَعُوۡا بَيۡنَ الۡاُخۡتَيۡنِ اِلَّا مَا قَدۡ سَلَفَ‌ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ غَفُوۡرًا رَّحِيۡمًا ۙ‏

تم پر تمہاری مائیں اور بیٹیاں اور بہنیں اور پھوپھیاں اور خالائیں اور بھتیجیاں اور بھانجیاں اور وہ مائیں جنہوں نے تم کو دودھ پلایا ہو اور رضاعی بہنیں اور ساسیں حرام کر دی گئی ہیں اور جن عورتوں سے تم مباشرت کر چکے ہو ان کی لڑکیاں جنہیں تم پرورش کرتے (ہو وہ بھی تم پر حرام ہیں) ہاں اگر ان کے ساتھ تم نے مباشرت نہ کی ہو تو (ان کی لڑکیوں کے ساتھ نکاح کر لینے میں) تم پر کچھ گناہ نہیں اور تمہارے صلبی بیٹوں کی عورتیں بھی اور دو بہنوں کا اکٹھا کرنا بھی (حرام ہے) مگر جو ہو چکا (سو ہو چکا) بے شک خدا بخشنے والا (اور) رحم کرنے والا ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Prohibited to you [for marriage] are your mothers, your daughters, your sisters, your father's sisters, your mother's sisters, your brother's daughters, your sister's daughters, your [milk] mothers who nursed you, your sisters through nursing, your wives' mothers, and your step-daughters under your guardianship [born] of your wives unto whom you have gone in. But if you have not gone in unto them, there is no sin upon you. And [also prohibited are] the wives of your sons who are from your [own] loins, and that you take [in marriage] two sisters simultaneously, except for what has already occurred. Indeed, Allah is ever Forgiving and Merciful.

— Saheeh International

Juz 4 · Ruku 4 of surah · Ruku 15 of juz

Read the whole surah · Surah An-Nisaa

All translations of 4:23

تم پر حرام کی گئیں تمہاری مائیں، بیٹیاں، بہنیں، پھوپھیاں، خالائیں، بھتیجیاں، بھانجیاں، اور تمہاری وہ مائیں جنہوں نے تم کو دودھ پلایا ہو، اور تمہاری دودھ شریک بہنیں، اور تمہاری بیویوں کی مائیں، اور تمہاری بیویوں کی لڑکیاں جنہوں نے تمہاری گودوں میں پرورش پائی ہے اُن بیویوں کی لڑکیاں جن سے تمہارا تعلق زن و شو ہو چکا ہو ورنہ اگر (صرف نکاح ہوا ہو اور) تعلق زن و شو نہ ہوا ہو تو (ا نہیں چھوڑ کر ان کی لڑکیوں سے نکاح کر لینے میں) تم پر کوئی مواخذہ نہیں ہے اور تمہارے اُن بیٹوں کی بیویاں جو تمہاری صلب سے ہوں اور یہ بھی تم پر حرام کیا گیا ہے کہ ایک نکاح میں دو بہنوں کو جمع کرو، مگر جو پہلے ہو گیا سو ہو گیا، اللہ بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

تم پر تمہاری مائیں اور بیٹیاں اور بہنیں اور پھوپھیاں اور خالائیں اور بھتیجیاں اور بھانجیاں اور وہ مائیں جنہوں نے تم کو دودھ پلایا ہو اور رضاعی بہنیں اور ساسیں حرام کر دی گئی ہیں اور جن عورتوں سے تم مباشرت کر چکے ہو ان کی لڑکیاں جنہیں تم پرورش کرتے (ہو وہ بھی تم پر حرام ہیں) ہاں اگر ان کے ساتھ تم نے مباشرت نہ کی ہو تو (ان کی لڑکیوں کے ساتھ نکاح کر لینے میں) تم پر کچھ گناہ نہیں اور تمہارے صلبی بیٹوں کی عورتیں بھی اور دو بہنوں کا اکٹھا کرنا بھی (حرام ہے) مگر جو ہو چکا (سو ہو چکا) بے شک خدا بخشنے والا (اور) رحم کرنے والا ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

حرام کی گئیں تم پر تمہاری مائیں اور تمہاری لڑکیاں اور تمہاری بہنیں، تمہاری پھوپھیاں اور تمہاری خاﻻئیں اور بھائی کی لڑکیاں اور بہن کی لڑکیاں اور تمہاری وه مائیں جنہوں نے تمہیں دودھ پلایا ہو اور تمہاری دودھ شریک بہنیں اور تمہاری ساس اور تمہاری وه پرورش کرده لڑکیاں جو تمہاری گود میں ہیں، تمہاری ان عورتوں سے جن سے تم دخول کر چکے ہو، ہاں اگر تم نے ان سے جماع نہ کیا ہو تو تم پر کوئی گناه نہیں اور تمہارے صلبی سگے بیٹوں کی بیویاں اور تمہارا دو بہنوں کا جمع کرنا ہاں جو گزر چکا سو گزر چکا، یقیناً اللہ تعالیٰ بخشنے واﻻ مہربان ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

تم پر حرام کردی گئی ہیں تمہاری مائیں، تمہاری بیٹیاں، تمہاری بہنیں، تمہاری پھوپھیاں، تمہاری خالائیں، اور بھتیجیاں اور بھانجیاں، اور تمہاری وہ مائیں جنہوں نے تمہیں دودھ پلایا ہے، اور تمہاری دودھ شریک بہنیں، اور تمہاری بیویوں کی مائیں، اور تمہارے زیر پرورش تمہاری سوتیلی بیٹیاں جو تمہاری ان بیویوں (کے پیٹ) سے ہوں جن کے ساتھ تم نے خلوت کی ہو۔ ہاں اگر تم نے ان کے ساتھ خلوت نہ کی ہو (اور انہیں طلاق دے دی ہو یا ان کا انتقال ہوگیا ہو) تو تم پر (ان کی لڑکیوں سے نکاح کرنے میں) کوئی گناہ نہیں ہے، نیز تمہارے صلبی بیٹوں کی بیویاں بھی تم پر حرام ہیں، اور یہ بات بھی حرام ہے کہ تم دو بہنوں کو ایک ساتھ نکاح میں جمع کرو، البتہ جو کچھ پہلے ہوچکا وہ ہوچکا۔ بیشک اللہ بہت معاف کرنے والا، بڑا مہربان ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

حرام ہوئیں تم پر تمہاری مائیں اور بیٹیاں اور بہنیں اور پھوپھیاں اور خالائیں اور بھتیجیاں اور بھانجیاں اور تمہاری مائیں جنہوں نے دودھ پلایا اور دودھ کی بہنیں اور عورتوں کی مائیں اور ان کی بیٹیاں جو تمہاری گود میں ہیں ان بیبیوں سے جن سے تم صحبت کرچکے ہو تو پھر اگر تم نے ان سے صحبت نہ کی ہو تو ان کی بیٹیوں سے حرج نہیں اور تمہاری نسلی بیٹوں کی بیبیں اور دو بہنیں اکٹھی کرنا مگر جو ہو گزرا بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

تم پر تمہاری مائیں اور تمہاری بیٹیاں اور تمہاری بہنیں اور تمہاری پھوپھیاں اور تمہاری خالائیں اور بھتیجیاں اور بھانجیاں اور تمہاری (وہ) مائیں جنہوں نے تمہیں دودھ پلایا ہو اور تمہاری رضاعت میں شریک بہنیں اور تمہاری بیویوں کی مائیں (سب) حرام کر دی گئی ہیں، اور (اسی طرح) تمہاری گود میں پرورش پانے والی وہ لڑکیاں جو تمہاری ان عورتوں (کے بطن) سے ہیں جن سے تم صحبت کر چکے ہو (بھی حرام ہیں)، پھر اگر تم نے ان سے صحبت نہ کی ہو تو تم پر (ان کی لڑکیوں سے نکاح کرنے میں) کوئی حرج نہیں، اور تمہارے ان بیٹوں کی بیویاں (بھی تم پر حرام ہیں) جو تمہاری پشت سے ہیں، اور یہ (بھی حرام ہے) کہ تم دو بہنوں کو ایک ساتھ (نکاح میں) جمع کرو سوائے اس کے کہ جو دورِ جہالت میں گزر چکا۔ بیشک اللہ بڑا بخشنے والا مہربان ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

حرام کی گئیں تم پر تمہاری مائیں اور تمہاری بیٹیاں اور تمہاری بہنیں اور تمہاری پھوپھیاں اور تمہاری خالائیں اور بھتیجیاں اور بھانجیاں اور تمہاری وہ مائیں جنھوں نے تمہیں دودھ پلایا ہو اور تمہاری دودھ شریک بہنیں اور تمہاری بیویوں کی مائیں اور تمہاری پالی ہوئی لڑکیاں، جو تمہاری گود میں تمہاری ان عورتوں سے ہیں جن سے تم صحبت کرچکے ہو، پھر اگر تم نے ان سے صحبت نہ کی ہو تو تم پر کوئی گناہ نہیں اور تمہارے ان بیٹوں کی بیویاں جو تمہاری پشتوں سے ہیں اور یہ کہ تم دو بہنوں کو جمع کرو، مگر جو گزر چکا۔ بیشک اللہ ہمیشہ سے بےحد بخشنے والا، نہایت مہربان ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

تم پر حرام کی گئیں تمہاری مائیں، تمہاری بیٹیاں، تمہاری بہنیں، تمہاری پھوپھیاں، تمہاری خالائیں، بھتیجیاں، بھانجیاں، اور تمہاری وہ مائیں جنہوں نے تمہیں دودھ پلایا ہو اور تمہاری دودھ شریک بہنیں، تمہاری بیویوں کی مائیں اور تمہاری بیویوں کی وہ بیٹیاں جو تمہاری گود میں پرورش پارہی ہوں بشرطیکہ تم اپنی بیویوں سے صحبت کرچکے ہو۔ اور اگر ابھی تک صحبت نہیں کی، تو ان کو چھوڑ کر ان کی لڑکیوں سے نکاح کرلینے میں تم پر کوئی گناہ نہیں، اور تمہارے ان بیٹوں کی بیویاں بھی (تم پر حرام ہیں) جو تمہاری صلب سے ہوں۔ نیز یہ کہ تم دو بہنوں کو اپنے نکاح میں جمع کرلو۔ مگر جو پہلے گزر چکا سو گزر چکا۔ (کیونکہ) اللہ تعالیٰ بہت بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

تم پر حرام کی گئیں تمہاری مائیں، تمہاری بیٹیاں، تمہاری بہنیں، تمہاری پھوپھیاں، تمہاری خالائیں، تمہاری بھتیجیاں اور بھانجیاں اور تمہاری وہ مائیں جنہوں نے تم کو دودھ پلایا، تمہاری رضاعی بہنیں، تمہاری ساسیں اور تمہاری ربیبائیں جو تمہاری گودوں میں پلیں اور تمہاری مدخولہ بیویوں سے ہوں، اگر وہ تمہاری مدخولہ نہ رہی ہوں تو کچھ گناہ نہیں، اور تمہارے صلبی بیٹوں کی بیویاں اور یہ کہ تم دو بہنوں کو بیک وقت جمع کرو مگر جو گزر چکا۔ بیشک اللہ غفور رحیم ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

حرام کردی گئیں تم پر تمہاری مائیں، بیٹیاں، بہنیں، پھوپھیاں، خالائیں، بھتیجیاں، بھانجیاں، اور تمہاری وہ مائیں جنہوں نے تمہیں دودھ پلایا ہو، اور تمہاری دودھ شریک بہنیں، اور تمہاری بیویوں کی مائیں، اور تمہاری بیویوں کی وہ لڑکیاں جو تمہاری پرورش میں ہوں، تمہاری ان بیویوں سے جن سے تم صحبت کرچکے ہو، پس اگر تم نے ان سے صحبت نہ کی ہو تو (ان کے بارے میں) تم پر کوئی گناہ نہیں، اور تمہارے ان بیٹوں کی بیویاں جو تمہاری پشت سے ہوں، اور یہ کہ تم جمع کرو (نکاح میں) دو بہنوں کو، مگر جو ہوچکا (کہ وہ بہرحال ہوچکا) بلاشبہ اللہ بڑا ہی بخشنے والا نہایت ہی مہربان ہے۔

— مولانا اسحاق مدنی

تمہارے اوپر حرام کی گئی ہیں تمہاری مائیں اور تمہاری بیٹیاں اور تمہاری بہنیں اور تمہاری پھوپھیاں اور تمہاری خالائیں اور بھائی کی بیٹیاں اور بہن کی بیٹیاں اور تمہاری وہ مائیں جنہوں نے تمہیں دودھ پلایا ہے اور تمہاری دودھ شریک بہنیں اور تمہاری بیویوں کی مائیں اور تمہاری بیویوں کی بیٹیاں جو تمہاری پرورش میں رہی ہیں اور جو تمہاری ان بیویوں سے ہوں جن سے تم نے صحبت کی ہے لیکن اگر ابھی تم نے ان بیویوں سے صحبت نہ کی ہو تو تم پر کوئی گناہ نہیں اور جو بیٹے تمہاری نسل سے ہوں ان کی بیویاں اور یہ بھی (حرام ہے) کہ تم دو بہنوں کو یکجا کرو مگر ہاں جو ہوچکا (ہوچکا) بیشک اللہ بڑا بخشنے والا ہے بڑا مہربان ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

حرام کردی گئیں تم پر تمہاری مائیں اور تمہاری بیٹیاں اور تمہاری بہنیں اور تمہاری پھوپھیاں اور تمہاری خالائیں اور تمہاری بھتیجیاں اور بھانجیاں اور تمہاری وہ مائیں جنہوں نے تمہیں دودھ پلایا ہے اور تمہاری دودھ شریک بہنیں اور تمہاری بیویوں کی مائیں اور تمہاری ربیبائیں جو تمہاری گودوں میں پلی بڑھی ہوں تمہاری ان بیویوں سے جن کے ساتھ تم نے مقاربت کی ہو اور اگر تم نے ان بیویوں سے مقاربت نہ کی ہو تو تم پر کچھ گناہ نہیں اور تمہارے ان بیٹوں کی بیویاں جو تمہاری صلب سے ہوں اور یہ (بھی تم پر حرام کردیا گیا ہے) کہ تم بیک وقت دو بہنوں کو ایک نکاح میں جمع کرو سوائے اس کے کہ جو گزر چکا یقیناً اللہ غفور اور رحیم ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

تم پر حرام کی گئیں تمہاری مائیں، بیٹیاں، بہنیں، پھوپھیاں، خالائیں، بھتیجیاں، بھانجیاں اور تمہاری وہ مائیں جنہوں نے تم کو دودھ پلایا ہو اور تمہاری دودھ شریک بہنیں اور تمہاری بیویوں کی مائیں اور تمہاری بیویوں کی بیٹیاں جنہوں نے تمہاری گودوں میں پرورش پائی ہو۔ ان بیویوں کی لڑکیاں جن سے تمہارا نکاح ہوچکا ہو اور اکٹھے رہ چکے ہوں ورنہ اگر تعلق زن و شوہر نہ ہوا ہو تو پھر تم پر کوئی مؤاخذہ نہیں ہے اور تمہارے ان بیٹوں کی بیویاں جو تمہاری صلب سے ہوں اور یہ بھی تم پر حرام کیا گیا ہے کہ ایک نکاح میں دو بہنوں کو جمع کرو مگر جو پہلے ہوگیا سو ہوگیا، اللہ بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے

— محترمہ رفعت اعجاز

Forbidden to you are your mothers, your daughters, your sisters, your father's sisters and your mother's sisters, your brother's daughters and your sister's daughters, your milk-mothers, your milk-sisters, the mothers of your wives, and the stepdaughters - who are your foster-children, born of your wives with whom you have consummated the marriage; but if you have not consummated the marriage with them, there will be no blame upon you (if you marry their daughters). It is also forbidden for you to take the wives of the sons who have sprung from your loins and to take two sisters together in marriage, although what is past is past. Surely Allah is All-Forgiving, All-Compassionate.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Prohibited for you are your mothers, your daughters, your sisters, your paternal aunts, your maternal aunts, daughters of brother, daughters of sister, your mothers who suckled you, your sisters through suckling, mothers of your wives and your step-daughters under your care who are born of your women with whom you have had intercourse,_though if you have not had intercourse with them, there is no sin on you,_and the wives of your sons from your loins, and that you combine two sisters (in wedlock), except what has passed. Surely, Allah is Most-Forgiving, Very-Merciful.

— Muhammad Taqi Usmani

Prohibited for you are your mothers, your daughters, your sisters, your paternal aunts, your maternal aunts, daughters of brother, daughters of sister, your mothers who suckled you, your sisters through suckling, mothers of your wives and your step-daughters under your care who are born of your women with whom you have had intercourse,_though if you have not had intercourse with them, there is no sin on you,_and the wives of your sons from your loins, and that you combine two sisters (in wedlock), except what has passed. Surely, Allah is Most-Forgiving, Very-Merciful.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Forbidden to you (for marriage) are: your mothers, your daughters, your sisters, your father's sisters, your mother's sisters, your brother's daughters, your sister's daughters, your foster mothers who suckled you, your foster milk suckling sisters, your wives' mothers, your stepdaughters under your guardianship, born of your wives unto whom you have gone in -- but there is no sin on you if you have not gone in unto them (to marry their daughters), -- the wives of your sons who (spring) from your own loins, and two sisters in wedlock at the same time, except for what has already passed; verily, Allah is Oft- Forgiving, Most Merciful.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Forbidden unto you are your mothers, and your daughters, and your sisters, and your father's sisters, and your mother's sisters, and your brother's daughters and your sister's daughters, and your foster-mothers, and your foster-sisters, and your mothers-in-law, and your step-daughters who are under your protection (born) of your women unto whom ye have gone in - but if ye have not gone in unto them, then it is no sin for you (to marry their daughters) - and the wives of your sons who (spring) from your own loins. And (it is forbidden unto you) that ye should have two sisters together, except what hath already happened (of that nature) in the past. Lo! Allah is ever Forgiving, Merciful.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Prohibited to you [for marriage] are your mothers, your daughters, your sisters, your father's sisters, your mother's sisters, your brother's daughters, your sister's daughters, your [milk] mothers who nursed you, your sisters through nursing, your wives' mothers, and your step-daughters under your guardianship [born] of your wives unto whom you have gone in. But if you have not gone in unto them, there is no sin upon you. And [also prohibited are] the wives of your sons who are from your [own] loins, and that you take [in marriage] two sisters simultaneously, except for what has already occurred. Indeed, Allah is ever Forgiving and Merciful.

— Saheeh International

You are forbidden to marry your mothers, daughters, sisters, paternal aunts, maternal aunts, nieces, your foster-mothers, your foster-sisters, your mothers-in-law, your step-daughters whom you have brought up and with whose mothers you have had carnal relations. It would not be a sin to marry her if you did not have carnal relations with her mother. You are forbidden to marry the wives of your own sons and to marry two sisters at the same time without any adverse affect to the such relations of the past. God is All-forgiving and All-merciful.

— Muhammad Sarwar

Forbidden to you are your mothers and your daughters and your sisters and your paternal aunts and your maternal aunts and brothers' daughters and sisters' daughters and your mothers that have suckled you and your foster-sisters and mothers of your wives and your step-daughters who are in your guardianship, (born) of your wives to whom you have gone in, but if you have not gone in to them, there is no blame on you (in marrying them), and the wives of your sons who are of your own loins and that you should have two sisters together, except what has already passed; surely Allah is Forgiving, Merciful.

— Muhammad Habib Shakir

Forbidden unto you are your mothers and your daughters and your sisters and your father's sisters and your mother's sisters, and your brother's daughters and your sister's daughters. and your foster mothers and your foster sisters, and the mothers of your wives and your step-daughters, that are your wards, born of your wives unto whom ye have gone in, but if ye have not gone in unto them, no sin shall be on you, and the wives of your sons that are from your own loins, and, also that ye should have two sisters together, except that which hath already passed; verily Allah is ever Forgiving, Merciful.

— Abdul Majid Daryabadi

Prohibited to you (For marriage) are:- Your mothers, daughters, sisters; father's sisters, Mother's sisters; brother's daughters, sister's daughters; foster-mothers (Who gave you suck), foster-sisters; your wives' mothers; your step-daughters under your guardianship, born of your wives to whom ye have gone in,- no prohibition if ye have not gone in;- (Those who have been) wives of your sons proceeding from your loins; and two sisters in wedlock at one and the same time, except for what is past; for Allah is Oft-forgiving, Most Merciful;-

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 4:23

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

کون سی عورتیں مردوں پر حرام ہیں ؟ نسبی، رضاعی اور سسرالی رشتے سے جو عورتیں مرد پر حرام ہیں ان کا بیان آیہ کریمہ میں ہو رہا ہے، حضرت ابن عباس فرماتے ہیں سات عورتیں بوجہ نسب حرام ہیں اور سات بوجہ سسرال کے پھر آپ نے اس آیت کی تلاوت کی جس میں بہن کی لڑکیوں تک نسبی رشتوں کا ذکر ہے جمہور علماء کرام نے اس آیت سے استدلال کیا ہے کہ زنا سے جو لڑکی پیدا ہوئی وہ بھی اس زانی پر حرام ہے کیونکہ یہ بھی بیٹی ہے اور بیٹیاں حرام ہیں، یہی مذہب ابوحنیفہ مالک اور احمد بن حنبل کا ہے، امام شافعی سے کچھ اس کی اباحت میں بھی بحث کی گئی ہے اس لئے کہ شرعاً یہ بیٹی نہیں پس جیسے کہ ورثے کے حوالے سے یہ بیٹی کے حکم سے خارج…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة النِّسَآء 34 ماں کا اطلاق سگی اور سوتیلی، دونوں قسم کی ماؤں پر ہوتا ہے اس لیے دونوں حرام ہیں۔ نیز اسی حکم میں باپ کی ماں اور ماں کی ماں بھی شامل ہے۔ اس امر میں اختلاف ہے کہ جس عورت سے باپ کا ناجائز تعلق ہوچکا ہو وہ بھی بیٹے پر حرام ہے یا نہیں۔ سلف میں سے بعض اس کی حرمت کے قائل نہیں ہیں، اور بعض اسے بھی حرام قرار دیتے ہیں، بلکہ ان کے نزدیک جس عورت کو باپ نے شہوت سے ہاتھ لگایا ہو وہ بھی بیٹے پر حرام ہے۔ اسی طرح سلف میں اس امر پر بھی اختلاف رہا ہے کہ جس عورت سے بیٹے کا ناجائز تعلق ہوچکا ہو، وہ باپ پر حرام ہے یا نہیں۔ اور جس مرد سے ماں یا بیٹی کا ناجائز تعلق رہا ہو یا بعد میں ہوجائے اس سے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

حرمت علیکم امھاتکم یعنی اپنی والدہ سے نکاح کرنا حرام ہے اور لفظ امھاتکم کے عموم میں دادیاں اور نانیاں سب داخل ہیں۔ وبنتکم، اپنی صلبی لڑکی سے نکاح کرنا حرام ہے اور لڑکی کی لڑکی سے بھی اور بیٹے کی لڑکی سے بھی۔ خلاصہ یہ ہے کہ بیٹی، پوتی، پر پوتی، نواسی، پڑنواسی، ان سب سے نکاح کرنا حرام ہے اور سوتیلی لڑکی جو دوسرے شوہر کی ہو اور بیوی ساتھ لائی ہو اس سے نکاح کرنے نہ کرنے میں تفصیل ہے جو اگٓے آ رہی ہے اور جو لڑکا لڑکی صلبی نہ ہو بلکہ گودلے کر پال لیا ہو ان سے اور ان کی اولاد سے نکاح جائز ہے، بشرطیکہ کسی دوسرے طریقہ سے حرمت نہ آئی ہو، اسی طرح اگر کسی شخص نے کسی عورت سے زنا کیا تو اس نطفہ سے جو لڑکی…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ اُمَّھٰتُكُمْ وَبَنٰتُكُمْ وَاَخَوٰتُكُمْ وَعَمّٰتُكُمْ وَخٰلٰتُكُمْ وَبَنٰتُ الْاَخِ وَبَنٰتُ الْاُخْتِ وَاُمَّھٰتُكُمُ الّٰتِيْٓ اَرْضَعْنَكُمْ وَاَخَوٰتُكُمْ مِّنَ الرَّضَاعَةِ وَاُمَّھٰتُ نِسَاۗىِٕكُمْ وَرَبَاۗىِٕبُكُمُ الّٰتِيْ فِيْ حُجُوْرِكُمْ مِّنْ نِّسَاۗىِٕكُمُ الّٰتِيْ دَخَلْتُمْ بِهِنَّ ۡ فَاِنْ لَّمْ تَكُوْنُوْا دَخَلْتُمْ بِهِنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ ۡ وَحَلَاۗىِٕلُ اَبْنَاۗىِٕكُمُ الَّذِيْنَ مِنْ اَصْلَابِكُمْ ۙ وَاَنْ تَجْمَعُوْا بَيْنَ الْاُخْتَيْنِ اِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ ۭاِنَّ اللّٰهَ كَانَ غَفُوْرًا رَّحِـيْمًا۔ اس آیت میں جو حرمتیں بیان ہوئی ہیں…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

23۔ 1 جن عورتوں سے نکاح کرنا حرام ہے ان کی تفصیل بیان کی جارہی ہے۔ ان میں سات محرمات نسبی، اور سات رضاعی اور چار سسرالی بھی ہیں۔ ان کے علاوہ حدیث رسول سے ثابت ہے کہ بھتیجی اور پھوپھی اور بھانجی اور خالہ کو ایک نکاح میں جمع کرنا حرام ہے۔ سات نسبی محرمات میں مائیں، بیٹیاں، بہنیں، پھوپھیاں، خالائیں بھتیجی اور بھانجی ہیں اور سات رضاعی محرمات میں رضاعی مائیں، رضاعی بیٹیاں، رضاعی بہنیں، رضاعی پھوپھیاں، رضاعی خالائیں رضاعی بھتیجیاں اور رضاعی بھانجیاں اور سسرالی محرمات میں ساس، (مدخولہ بیوی کے پہلے خاوند کی لڑکیاں) ، بہو اور دو سگی بہنوں کا جمع کرنا ہے ان کے علاوہ باب کی منکوحہ (جس کا ذکر اس سے پہلی…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

19: سوتیلی ماں کی حرمت بیان فرما کر اب جن عورتوں سے نکاح جائز نہیں ان سب کو بیان فرماتے ہیں، وہ عورتیں چند قسم ہیں، اوّل ان کو بیان کیا جاتا ہے جو علاقہ نسب کی وجہ سے حرام ہیں اور وہ سات ہیں ماں، بیٹی، بہن، پھوپھی، خالہ، بھتیجی، بھانجی ان میں سے کسی کے ساتھ کسی کو نکاح کرنا جائز نہیں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

(آیت) ” حرمت علیکم امھتکم وبنتکم واخوتکم وعمتکم وخلتکم وبنت الاخ وبنت الاخت وامھتکم التی ارضعنکم واخوتکم من الرضاعة وامھت نسآئکم وربآئبکم التی فی حجورکم من نسآئکم التی دخلتم بھن فان لم تکونوا دخلتم بھن فلا جناح علیکم وحلآئل ابنائکم الذین من اصلابکم وان تجمعوا بین الاختین الا ما قد سلف ، ان اللہ کان غفورا رحیما (32) والمحصنت من النسآء الا ملکت ایمانکم “۔ محرمات ‘ یعنی وہ عورتیں جن سے نکاح حرام ہے وہ تمام اقوام اومم میں معروف ہیں ۔ چاہے پسماندہ واقوام ہوں یا ترقی یافتہ اقوام ہوں ۔ تحریم کے اسباب اور تحریم کے درجات مختلف اقوام کے ہاں مختلف رہے ہیں ۔ قدیم پسماندہ اقوام کے اندر یہ دائرہ بہت ہی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

4 سوتیلی ماں کی حرمت بیان فرما کر اب جن عورتوں سے نکاح جائز نہیں ان سب کو بیان فرماتے ہیں وہ عورتیں چند قسم ہیں۔ اوّل انکو بیان کیا جاتا ہے جو علاقہ نسب کی وجہ سے حرام ہیں اور وہ سات ہیں ماں، بیٹی، بہن، پھوپھی، خالہ، بھتیجی، بھانجی ان میں سے کسی کے ساتھ کسی کو نکاح کرنا جائز نہیں۔ فائدہ : ماں کے حکم میں دادی، نانی، اوپر تک کی سب داخل ہیں ایسے ہی بیٹی میں پوتی اور نواسی نیچے تک کی سب داخل ہیں اور بہن میں عینی اور علاتی اور اخیافی سب داخل ہیں اور پھوپھی میں باپ دادا اور اوپر تک کی پشتوں کی بہن سگی ہو یا سوتیلی سب آگئیں اور خالہ میں ماں اور نانی اور نانی کی نانی سب کی بہن تینوں قسم کی داخل ہیں…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

وَاُمَّہٰتُ نِسَآءِکُمْ جن کو ہم ساس یا خوش دامن کہتے ہیں۔ وَرَبَآءِبُکُمُ الّٰتِیْ فِیْ حُجُوْرِکُمْ مِّنْ نِّسَآءِکُمُ الّٰتِیْ دَخَلْتُمْ بِہِنَّز فَاِنْ لَّمْ تَکُوْنُوْا دَخَلْتُمْ بِہِنَّ فَلاَ جُنَاحَ عَلَیْکُمْ ز ربیبہبیوی کی اس لڑکی کو کہا جاتا ہے جو اس کے سابق شوہر سے ہو۔ اگر موجودہ شوہر اس بیوی سے تعلق زن و شو قائم ہونے کے بعد اس کو طلاق دے دے تو ربیبہ کو اپنے نکاح میں نہیں لاسکتا ‘ یہ اس کے لیے حرام ہے۔ لیکن اگر اس بیوی کے ساتھ تعلق زن و شو قائم نہیں ہوا اور اسے طلاق دے دی تو پھر ربیبہ کے ساتھ نکاح ہوسکتا ہے۔ چناچہ فرمایا کہ اگر تم نے ان بیویوں کے ساتھ مقاربت نہ کی ہو تو پھر انہیں…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

37 رضاعت کے رشتوں کی حرمت سے متعلق درج ذیل احادیث نبویہ بھی ملاحظہ فرمائیں : 1۔ سیدنا ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا جو رشتے نسب کی رو سے حرام ہیں وہ رضاعت سے حرام ہوجاتے ہیں (بخاری، کتاب الشہادات، باب الشہادت علی الانساب) 3 رضاعت کے رشتے اور احکام رضاعت :۔ 2۔ عقبہ بن حارث کہتے ہیں کہ میں نے ابو اہاب بن عزیز کی بیٹی سے نکاح کیا۔ پھر ایک عورت آئی اور کہنے لگی کہ میں نے عقبہ اور اس کی بیوی دونوں کو دودھ پلایا ہے۔ میں نے اسے کہا میں تو نہیں سمجھتا کہ تو نے مجھے دودھ پلایا ہے نہ ہی تو نے مجھے کبھی بتایا۔ پھر میں سوار ہو کر مدینہ آپ کے پاس پہنچا اور آپ سے پوچھا تو آپ نے فرمایا : اب یہ نکاح…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

75 ۔ اس لیے جو غلطیاں نزول حکم سے قبل ہوچکیں، ان پر وہ گرفت نہیں کرتا۔ اور ان پر وہ خط عفو کھینچ دیتا ہے۔ قرآن مجید نے یہاں ایک مفصل فہرست دے کر بتا دیا کہ ان ان عورتوں سے مطلقا یا فلاں فلاں صورتوں میں نکاح حرام ہے۔ اور یہ فہرست محرمات قرآن مجید کی کاملیت کے دلائل میں سے ایک قوی دلیل ہے۔ موجودہ انجیل اور خدا معلوم کتنی نام نہاد آسمانی کتابوں میں تعلیم کا یہ ورق سرے سے سادہ موجود ہے۔ (آیت) ” امھتکم “۔ تمہاری مائیں اور اسی طرح ماں کی مائیں، دادیاں، نانیاں وغیرہا۔ والجدۃ من قبل الام والاب ملحقۃ بھن (مدارک) (آیت) ” بنتکم “ تمہاری بیٹیاں اور اسی طرح بیٹیوں کی بیٹیاں، پوتیاں، نواسیاں وغیرہا، وبنات…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

لفظ اُمّھَاتُکم کے عموم میں دادیاں اور نانیاں سب داخل ہیں، اسی طرح بنْتکم، میں اپنی صلبی لڑکیاں اور لڑکے کی لڑکی اور لڑکی کی لڑکی بھی حرام ہے۔ خلاصہ یہ کہ بیٹیم پوتی، پڑپوتی، نواسی پڑنواسی ان سب سے نکاح حرام ہے، اور سوتیلی لڑکی جو دوسرے شوہر کی ہو اور بیوی ساتھ لائی ہو اس سے نکاح کرنے نہ کرنے میں تفصیل ہے جو آگے آرہی ہے اور جو لڑکا لڑکی صلبی نہ ہو بلکہ گود لے کر پال لیا ہو ان سے اور ان کی اولاد سے نکاح جائز ہے بشرطیکہ کسی دوسرے طریقہ سے حرمت نہ آئی ہو، اسی طرح اگر کسی شخص نے کسی عورت سے زنا کیا تو اس نطفہ سے جو لڑکی پیدا ہو وہ بھی بیٹی کے حکم میں ہے، اس سے بھی نکاح درست…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

حرمت علیکم امھتکم تمہاری مائیں تمہارے لیے حرام کردی گئی ہیں بطور عموم مجاز ماؤں سے مراد ہیں باپ دادا یا ماں اور نانی نانا کی طرف سے تمام اصولی عورتیں (جیسے ماں، دادی، پر دادی، نانی، پر نانی وغیرہ) بعض علماء نے کہا کہ لفظ ام کا لغوی معنی ہے اصل۔ قاموس میں ہے : ام کل شی اصلہ ہر چیز کی ماں اس کی اصل کو کہتے ہیں۔ ام القریٰ مکہ۔ ام الکتاب سورة فاتحہ یا لوح محفوظ۔ اس تحقیق پر لفظ امہات باپ اور ماں کی طرف سے تمام جدات کو خواہ کتنا ہی اونچا رشتہ ہو لغۃً باجماع علماء شامل ہے۔ و بنٰتکم اور تمہاری بیٹیاں۔ بنات کا لفظ بھی بطور عموم تمام فروع کو شامل ہے پوتیاں اور نواسیاں نیچے تک بالاجماع اس لفظ میں داخل…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(23) یہ تمام نسبتی رشتے تم پر حرام ہیں خواہ کسی بھی طریقہ سے ہوں اور اسی طرح جب کہ مدت رضاعت میں دودھ پیا ہو تو یہ رشتہ حرام ہے، اور تمہاری بیبیوں کی مائیں بھی تم پر حرام ہیں، خواہ تم نے ان بیبیوں کے ساتھ صحبت کی ہو یا صحبت نہ کی وہ اور تمہاری عورتوں کی وہ لڑکیاں جو تمہاری پرورش میں ہیں اور تم نے ان کی ماں کے ساتھ صحبت بھی کی ہو تو وہ بھی حرام ہیں اور اگر تم نے ان کے ساتھ صحبت نہیں کی تو ان کی ماں طلاق دے کر ان کی لڑکیوں کی شادی کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں، اور تمہارے نسبی بیٹوں کی بیبیاں بھی تم پر حرام ہیں اور اسی طرح دو بہنوں کا خواہ وہ آزاد ہوں یا باندیاں ایک ساتھ رکھنا حرام ہے مگر زمانہ…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ اُمَّھٰتُكُمْ : جن عورتوں سے نکاح کرنا حرام ہے ان کی تفصیل بیان کی جا رہی ہے، ایک تو پچھلی آیت میں بیان ہوا کہ باپ کی منکوحہ سے نکاح کرنا حرام ہے، اب یہاں نسب کے سات حرام رشتوں کا ذکر ہے : 1 ماں : اس کے حکم میں نانی اور دادی اوپر تک، مثلاً ، پڑدادی، پڑنانی شامل ہیں۔ 2 بیٹی : اس کے حکم میں پوتی اور نواسی نیچے تک آجاتی ہیں۔ 3 بہن : سگی ہو یا علاتی یا اخیافی، بہرحال حرام ہے۔ 4 پھوپھی میں دادا کی بہن اور نانا کی بہن بھی داخل ہے۔ 5 خالہ کا لفظ ماں، نانی اور دادی سب کی بہنوں کو شامل ہے۔ (6، 7) بھتیجی اور بھانجی کے حکم میں ان کی بیٹیاں نیچے تک آجاتی ہیں۔ (قرطبی) وَاُمَّھٰتُكُمُ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر : 23۔ اس آیت میں گیارہ مسائل ہیں : مسئلہ نمبر : (1) (آیت) ” حرمت علیکم امھتکم وبنتکم “۔ یعنی تم پر اپنی ماوؤں سے نکاح کرنا اور اپنی بیٹیوں سے نکاح کرنا حرام کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں ان عورتوں کا ذکر فرمایا جن سے نکاح کرنا حلال ہے اور جن سے نکاح کرنا حرام ہے جیسا کہ باپ کی بیوی سے نکاح کرنے کی حرمت ذکر کی گئی ہے، اللہ تعالیٰ نے سات عورتین نسب کی وجہ سے اور چھ عورتیں حرمت رضاعت اور حرمت مصاہرت کیوجہ سے حرم کی ہیں اور سنت متواترہ نے ساتویں عورت کو اسکے ساتھ لاحق کیا ہے وہ ہے پھوپھی، بھتیجی کو جمع کرنا، اس پر اجماع ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ سے ایک روایت ثابت ہے کہ انہوں نے فرمایا…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

محرمات ابدیہ کا ذکر (1) عبد الرزاق والفریابی والبخاری وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم وحاکم و بیہقی نے اپنی سنن میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ حرام کئے گئے ہیں سات رشتے نسب سے اور سات رشتے سسرال سے پھر (یہ آیت) ” حرمت علیکم امھتکم “ سے لے کر ” وبنت الاخ “ تک پڑھی پھر فرمایا یہاں تک کہ نسبی رشتے ہیں اور باقی سسرال ہیں اور سسرالی رشتے اس آیت ” ولا تنکحوا ما نکح اباؤکم من النساء “ میں مذکور ہیں۔ (2) سعید بن منصور وابن ابی شیبہ و بیہقی نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ سات سسرالی رشتے اور سات نسبی رشتے حرام ہیں اور دودھ پلانے سے (وہی رشتہ) حرام ہوجاتا ہے جو نسب سے حرام…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ حُرِّمَتْ : حرام کی گئیں ] [ عَلَیْـکُمْ : تم لوگوں پر ] [ اُمَّہٰتُـکُمْ : تمہاری مائیں ] [ وَبَنٰـتُـکُمْ : اور تمہاری بیٹیاں ] [ وَاَخَوٰتُـکُمْ : اور تمہاری بہنیں ] [ وَعَمّٰتُـکُمْ : اور تمہاری پھوپھیاں ] [ وَخٰلٰـتُـکُمْ : اور تمہاری خالائیں ] [ وَبَنٰتُ الْاَخِ : اور بھائی کی بیٹیاں ] [ وَبَنٰتُ الْاُخْتِ : اور بہن کی بیٹیاں ] [ وَاُمَّہٰتُـکُمُ الّٰتِیْ : اور تمہاری وہ مائیں جنہوں نے ] [ اَرْضَعْنَـکُمْ : دودھ پلایا تم کو ] [ وَاَخَوٰتُـکُمْ مِّنَ الرَّضَاعَۃِ : اور تمہاری دودھ شریک بہنیں ] [ وَاُمَّہٰتُ نِسَآئِکُمْ : اور تمہاری عورتوں (بیویوں) کی مائیں ] [ وَرَبَــآئِبُـکُمُ : اور…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

جن عورتوں سے نکاح حرام ہے ان کا تفصیلی بیان ان آیات میں تفصیل کے ساتھ محرمات کا تذکرہ فرمایا ہے محرمات وہ عورتیں ہیں جن سے نکاح جائز نہ ہو۔ بعض عورتیں تو وہ ہیں جن سے کبھی بھی نکاح جائز ہونے کا کوئی راستہ نہیں ہے۔ پہلی آیت میں ان عورتوں کا ذکر ہے اور بعض عورتیں وہ ہیں جن سے کسی موجودہ سبب کی وجہ سے نکاح جائز نہیں۔ اگر وہ سبب دور ہوجائے تو نکاح جائز ہوجاتا ہے مثلاً کوئی عورت کسی مرد کے نکاح میں ہو تو جب تک وہ عورت اس مرد کے نکاح سے نہ نکل جائے (اس مرد کی وفات ہوجانے کے بعد عدت یا طلاق دینے کی وجہ سے) اور عدت نہ گزر جائے، اس وقت تک کسی دوسرے مرد سے اس عورت کا نکاح نہیں ہوسکتا، طلاق یا موت کے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 22–23

حکم یاز دہم تفصیل محرمات۔ قال اللہ تعالی۔۔ ولاتنکحوا۔۔۔ الی۔۔۔ رحیما۔ آیت۔ ربط۔ زمانہ جاہلیت میں نکاح کے معاملات میں سخت افراط وتفریط ہوتی تھی اور حدود اللہ سے تعدی میں گرفتار بھی تھے بعض لوگ اپنے باپ کی منکوحہ یعنی سوتیلی ماں سے بھی نکاح کرلیتے اور بعض اپنے بیٹوں کی بیویوں سے نکاح کرلیتے اور بعض دو بہنوں کو نکاح میں جمع کرتے اس لیے حق تعالیٰ نے ان آیات میں ان عورتوں کا ذکر فرمایا جن سے نکاح حرام ہے اور اس سلسلہ میں سب سے پہلے باپ کی منکوحہ سے نکاح کی حرمت اور ممانعت کو بیان فرمایا اور مت نکاح میں لاؤ ان عورتوں کو جن کو تمہارے آباؤ و اجداد نکاح میں لا چکے ہیں لیکن جو ہوچکا سو ہوچکا اس پر کوئی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 22–23

19 نواں حکم رعیت : (عورتیں نکاح سے ملتی ہیں لیکن حسب ذیل عورتیں اگر راضی بھی ہوں تب بھی نکاح میں نہیں آسکتیں) پہلے فرمایا تھا کہ جو عورتیں رضامندی سے تمہارے ساتھ نکاح کرنا چاہیں ان سے نکاح کرلو لیکن حسب ذیل عورتیں اگر راضی ہوں تب بھی ان سے نکاح نہ کرو کیونکہ یہ محرمات ہیں اور ان سے نکاح کرنا تمہارے لیے ابدی حرام ہے یہاں پندرہ محرمات مذکور ہیں۔ (1) باپ کی منکوحہ، یعنی جو عورت باپ کی زوجیت میں آچکی ہو پھر بیوہ یا مطلقہ ہوجائے۔ (2) ماں۔ دادی اور نانی بھی امہات میں داخل ہیں۔ (3) وَبَنٰتُکُمْ بیٹیاں اس میں پوتیاں اور نواسیاں بھی داخل ہیں۔ (4) اَخَوٰتُکُمْ بہنیں خواہ عینی ہوں یا علاتی اور اخیافی۔…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

حرمت بوجہ رضاعت نسب کے لحاظ سے حرام عورتوں کا ذکر گزشتہ درس میں ہوچکا ہے۔ اب آج کے درس میں رضاعت اور مصاہرت کی بناء پر حرام ہونے والی عورتوں کا تذکرہ آئے گا تو اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا وامھتکم التی ارضعنکم اور تمہاری وہ مائیں تم پر حرام قرار دی گئی ہیں جنہوں نے تمہیں دودھ پلایا ہے واخوتکم من الرضاعۃ اور تمہاری دودھ شریک بہنیں بھی تم پر حرام ہیں۔ آیت کریمہ میں رضاعت کے اعتبار سے صرف دورشتوں یعنی ماں اور بہن کا ذکر کیا گیا ہے۔ تاہم حضور نبی کریم (علیہ السلام) نے اس کی وضاحت میں فرمایا یحرم من الرضاعۃ ما یحرم من النسب یعنی جو رشتے نسب کی وجہ سے حرام ہیں وہ رضاعت کی وجہ سے بھی حرام ہیں۔ بخاری…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ اُمَّھٰتُكُمْ وَبَنٰتُكُمْ وَاَخَوٰتُكُمْ وَعَمّٰـتُكُمْ وَخٰلٰتُكُمْ وَبَنٰتُ الْاَخِ وَبَنٰتُ الْاُخْتِ وَاُمَّھٰتُكُمُ الّٰتِيْٓ اَرْضَعْنَكُمْ وَاَخَوٰتُكُمْ مِّنَ الرَّضَاعَۃِ وَاُمَّھٰتُ نِسَاۗىِٕكُمْ وَرَبَاۗىِٕبُكُمُ الّٰتِيْ فِيْ حُجُوْرِكُمْ مِّنْ نِّسَاۗىِٕكُمُ الّٰتِيْ دَخَلْتُمْ بِہِنَّ۝ 0 ۡفَاِنْ لَّمْ تَكُوْنُوْا دَخَلْتُمْ بِہِنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ۝ 0 ۡ وَحَلَاۗىِٕلُ اَبْنَاۗىِٕكُمُ الَّذِيْنَ مِنْ اَصْلَابِكُمْ۝ 0 ۙ وَاَنْ تَجْمَعُوْا بَيْنَ الْاُخْتَيْنِ اِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ۝ 0 ۭ اِنَّ اللہَ كَانَ غَفُوْرًا رَّحِـيْمًا۝ 23 ۙ حرم الحرام : الممنوع…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

تفسیر : پہلے فرمایا تھا عورتوں کے زبردستی سے وارث نہ ہوجایا کرو جس کے متعدد طریق تھے۔ ان میں سے ایک کو اور بھی صراحۃً منع فرماتا ہے کہ جس میں سخت بےحیائی ہے۔ وہ یہ کہ عرب میں دستور تھا کہ بڑا بیٹا اپنے باپ کی بیویوں کو گھر میں ڈال لیا کرتا تھا۔ سو اس سے خدا نے ولا تنکحوا فرما کر منع کردیا اور فرمایا الا ما قد سلف کہ جو ایام جاہلیت میں ہوچکا سو ہوچکا۔ لفظ نکاح کی بحث : نکاح کے معنی لغت میں عورت سے صحبت کرنے کے ہیں اور اس کا اطلاق ایجاب و قبول عقد شرعی پر بھی ہوتا ہے۔ اول معنی کے لحاظ سے امام ابوحنیفہ (رح) فرماتے ہیں کہ آیت کے معنی یہ ہوئے جس سے تمہارے باپ نے مباشرت کی ہو یا علی سبیل عموم…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

حُرِّمَتْ عَلَیْکُمْ اُمَّھٰتُـکُمْ وَبَنٰـتُـکُمْ وَاَخَوٰ تُـکُمْ وَعَمّٰـتُـکُمْ وَخٰلٰـتُـکُمْ وَبَنٰتُ الْاَخِ وَبَنٰتُ الْاُخْتِ وَاُمَّھٰـتُـکُمُ الّٰتِیْٓ اَرْضَعْنَـکُمْ وَاَخَوٰ تُـکُمْ مِّنَ الرَّضَاعَۃِ وَاُمَّھٰتُ نِسَآئِکُمْ وَرَبَآئِبُکُمُ الّٰتِیْ فِیْ حُجُوْرِکُمْ مِّنْ نِّسَآئِکُمُ الّٰتِیْ دَخَلْتُمْ بِھِنَّ ز فَاِنْ لَّمْ تَـکُوْنُوْا دَخَلْتُمْ بِھِنَّ فَلاَ جُنَاحَ عَلَیْـکُمْ ز وَحَلَآ ئِلُ اَبْنَـآئِکُمُ الَّذِیْنَ مِنْ اَصْلاَ بِکُمْ لا وَاَنْ تَجْمَعُوْا بَیْنَ الْاُخْتَیْنِ اِلَّا مَاقَدْ سَلَفَ ط اِنَّ اللّٰہَ کَانَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا لا (تم پر حرام کی گئیں…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 22–23

فہم القرآن ربط کلام : عورت کی عفت و تکریم کے تحفظ ‘ گھر کے ماحول میں آزادی کی نعمت اور باہمی شرم و حیا اور حد درجہ احترام کے لیے کچھ رشتے مستقل طور پر اور چند رشتوں کو حسد وبغض سے بچانے اور تقدس کے تحفظ کی خاطر مخصوص مدّت کے لیے حرام قرار دیا۔ مستقل طور پر حرام کردہ رشتے درج ذیل ہیں : 1۔ ماں ‘ دادی ‘ نانی ‘ اوپر تک۔ 2۔ بیٹیاں ‘ پوتیاں نیچے تک اور نواسیاں۔ 3۔ سگی بہنیں۔ 4۔ باپ یا ماں کی طرف سے یعنی سوتیلی بہنیں جنہیں علاتی اور اخیافی بہنیں کہا جاتا ہے۔ 5۔ پھوپھیاں۔ 6۔ خالائیں ‘ خواہ یہ سگی ہوں یا اخیافی یا علاتی۔ 7۔ بھتیجیاں اور ان کی بیٹیاں۔ 8۔ بھانجیاں اور ان کی بیٹیاں۔ 9۔ رضاعی مائیں۔ 10۔…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 23 … بیان محرمات : جب شروع سورت میں ان عورتوں کا ذکر کیا جن سے نکاح حلال تھا۔ اور اس سے قبل بعض محرمات کا ذکر دیا گیا۔ اور وہ باپوں کی موطوءہ ہیں۔ تو اب باقی محرمات کا ذکر فرمایا۔ وہ سات نسب سے ہیں۔ سات سبب سے ہیں۔ ابتداء نسب والی عورتوں سے کی۔ فرمایا۔ حُرِّمَتْ عَلَیْکُمْ اُمَّہٰتُکُمْ (تم پر تمہاری مائیں حرام کردی گئیں) مراد ان سے نکاح کا حرام ہونا ہے عند البعض۔ ہم نے شرح المنار میں مختار قول ذکر کردیا ہے۔ نانی یا دادی وہ بھی امہات میں شامل ہیں۔ وَبَنٰتُکُمْ (اور تمہاری بیٹیاں) پوتیاں ٗ نواسیاں وہ بھی ان کے ساتھ شامل ہیں۔ قاعدہ : جب جمع کا مقابلہ جمع سے ہو تو پھر تقسیم احاد کی احاد پر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

(تفسیر) 23۔: حرمت علیکم امھاتکم “ اس آیت میں تمام اصولی عورتیں جو حرام ہیں ان کو بیان کیا گیا ہے۔ (محرمات کی تفصیل) محرمات جن کا ذکر کتاب اللہ میں ہے وہ چودہ ہیں ، سات نسب سے حرام ہونے والی سات حرمت بالسبب ہیں، سات جو کسی سبب سے حرام ہیں ، ان میں دو جن کا تعلق رضاعت سے ہے اور چار صھر یہ سے متعلق ہیں اور ساتویں محصنات ہیں اور وہ شوہر والیاں ہیں ، امہات جمع ہے ام کی ، اس میں وادیاں بھی داخل ہیں ، اگرچہ وہ ماؤں کی جانب سے ہو اور باپ کی جانب سے ہو ، ” وبناتکم “ جمع ہے بنت کی اس میں پوتیاں بھی داخل ہیں ، اگرچہ ان سے نیچے ہو ” واخواتکم “ اخت کی جم ہے برابر ہے خواہ وہ حقیقی ماں باپ کی بیٹی ہو یا…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

تفسیر ابن جریر میں ابن جریج سے روایت ہے کہ میں نے عطاء ابن رباح سے اس آیت کی شان نزول پوچھی انہوں نے کہا کہ جب آنحضرت ﷺ نے مدینہ میں اپنے متنبیٰ زید بن حارثہ ؓ کی بی بی زینت سے نکاح کرلیا تو مکہ میں مشرکین نے اس کا چرچہ کیا اس چرچہ کے غلط قرار دینے کے لئے اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اور آیت وَمَا جَعَلَ اَدْعِیَآ ئَ کُمْ اَبْنَآئَ کُمْ (33۔ 4) اور آیت مَا کَانَ مُحَمَّدٌ اَبَآ اَحَدٍ مِنْ رِّجَالِکُمْ ( 33۔ 4) نازل فرمائی 2۔ اور بہو کے حرام ہونے میں بیٹے کے صلبی ہونے کی قید اس لئے لگا دی تاکہ معلوم ہوجائے کہ زمانہ جاہلیت میں متبنبیٰ بیٹے کی بی بی کو جو حرام ٹھہرانے کا دستور تھا وہ دستور ابراہیمی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

آیت 23 یہ آیات کریمہ نسبی محرمات، رضاعی محرمات اور سسرالی قرابت کی بنا پر محرمات، جمع کرنے کی بنا پر محرمات اور حلال عورتوں کے احکام پر مشتمل ہیں۔ نسب کے اعتبار سے حرام عورتیں سات ہیں، جن کا اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے۔ (1) ماں : اس میں ہر وہ عورت داخل ہے جس سے آپ پیدا ہوئے ہیں خواہ وہ کتنی ہی دور اوپر چلی جائیں۔ (2) بیٹی : بیٹی کے رشتے میں ہر وہ عورت داخل ہے جس کو آپ نے جنم دیا ہے۔ (؍واہ وہ کس قدر نیچے تک چلی جائیں) (3) بہن : اس رشتے میں تمام حقیقی، اخیافی (ماں شریک) اور علاقی (باپ شریک) بہنیں شامل ہیں۔ (4) پھوپھی : ہر وہ عورت جو آپ کے باپ یا دادا کی بہن ہے خواہ وہ کتنی ہی دور اوپر تک چلی…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

سات نسبی اور سات سسرالی رشتے حرام ہیں قول باری ہے (محرمت علیکم امھا تکم وبناتکم، تم پر تمہاری مائیں اور تمھاری بیٹیاں حرام کردی گئی ہیں) تاآخر آیت۔ ہمیں عبدالباقی بن قانع نے روایت بیان کی ، انہیں محمد بن الفضل بن سلمہ نے انہیں سنیدبن داؤدنے، انہیں وکیع نے ، انہیں علی بن صالح نے سماک سے، انہوں نے عکرمہ سے، انہوں نے حضرت ابن عباس ؓ سے کہ قول باری (حرمت علیکم امھاتکم، تاقول باری (وینات الاخت، اور بہن کی بیٹیاں کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے سات نسبی رشتے اور مصاہرت کی بناپرحاصل ہونے والے سات سسترالی رشتے حرام کردیئے ہیں۔ پھر فرمایا (کتاب اللہ علیکم واحل لکم ماوراء ذلکم، اللہ تعالیٰ کا قانون ہے جس کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 23–24

53 حرمت رضاعت کا بیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ تم پر حرام کردیا گیا تمہاری ان ماؤں کو جنہوں نے تم کو دودھ پلایا۔ اگرچہ وہ تھوڑا ہی کیوں نہ ہو، مگر ہو زمانہ رضاعت کے دوران، نہ کہ اس کے بعد کا۔ چناچہ صحیح حدیث میں ارشاد فرمایا گیا یعنی رضاعت وہی معتبر ہوتی ہے جو بھوک مٹائے۔ یعنی یہ زمانہ رضاعت کے دوران ہو جبکہ بچے کی بھوک مٹانے کا ذریعہ رضاعت ہی ہوتی ہے، اس کے علاوہ وہ کسی اور خوراک سے بھوک نہ مٹاتا ہو۔ پس رضاعت وہی معتبر ہوتی ہے جو زمانہ رضاعت میں اور قبل الفطام یعنی دودھ چھڑانے سے پہلے ہو۔ یعنی دو سال کی مدت کے اندر ہو، جیسا کہ حضرت ابن عباس ؓ سے مرفوعاً مروی ہے کہ رضاعت وہی معتبر ہے جو کہ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 22–23

محرم عورتیں، ماؤں کا احترام تشریح : پہلی آیت میں صرف سوتیلی ماں سے نکاح سے منع کیا گیا تھا اب ان عورتوں کا تفصیل سے بتایا جارہا ہے جن سے نکاح کرنا جائز نہیں اول تو ان عورتوں کا بتایا جارہا ہے جن سے نسبی تعلق ہو مثلاً ماں، بیٹی، بہن، پھوپھی، خالہ، بھتیجی، بھانجی ان سب سے نکاح جائز نہیں اسی طرح دادی اور نانی اوپر تک سب ہی اس میں شامل ہیں، پھر اسی طرح بیٹی سے نکاح کرنے کی ممانعت میں پوتی، نواسی اور ان کے نیچے تک سب شامل ہیں اور بہن کے سلسلے میں عینی، علاتی اور اخیافی سب شامل ہیں۔ پھوپھی، باپ، دادا اور اوپر تک کی پشتوں کی بہنیں سگی ہوں یا سوتیلی سب شامل ہوگئیں۔ خالہ میں ماں، نانی اور نانی کی نانی…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

رکوع نمبر 4 ۔ اسرار و معارف : آیت 23 ۔ حرمت علیکم امھتکم ۔۔۔ غفورا رحیما۔ محرمات کا بیان : جب باپ کی وفات پر اس کی زندہ رہ جانے والی بیوی کا ذکر چلا تو رب کریم نے تمام محرمات کی تفصیل ارشاد فرما دی اور یہ اسلام کا عورت پہ ایک عظیم احسان تھا کہ انتہائی بےراہ روی کے دور میں انتہائی مضبوط اخلاقی بنیاد فراہم کی اور عورت کے سب سے محترم مقام یعنی ماں اور اس کی ہر حیثیت یعنی بہن ، بیوی اور بیٹی کی حفاظت کا انتظام فرما دیا جبکہ یورپ نے آج کے بزعم خود مہذب دور میں داماد کو ساس سے اور سسر کو بہو سے شادی رچانے کی اجازت دے کر رشتوں کی حرمت کو تباہ کرنے کا کارنامہ سرانجام دیا ہے اور اس سے بھی بڑھ کر مرد…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 4 قرآن نے چودہ ناتے حرام قرار دیئے سات نسبی اور سات رضاعی سسرال وغیرہ کی جانب سے (ابن عباس) یہاں تک سات نسبی رشتوں کی حرمیت کا بیان تھا ماں کے حکم میں نانی اور دادی بھی شامل ہیں اور بیٹی کے حکم میں پوتی اور نواسی بھی آجاتی ہے اور بہن سگی ہو یا علاتی یا اخیافی بہر حال حرام ہے اور پھو پھی میں دادا کی بہن بھی داخل ہے اور خالہ کا لفظ ماں نانی دادی سب کی بہنوں کو شامل ہے اور بھتیجی اور بھانجی کے حکم میں پوتی اور نوسی بھی آجاتی ہے (قرطبی)5 یعنی نسبی ماں اور بہن کی طرح رضاعی ماں اور بہن بھی حرام ہے ایک حدیث میں ہے ہر وہ رشتہ جو نسب سے حرام ہے رحاعت سے بھی حرام ہوجاتا ہے۔ یہ یادر رہے کہ قرآن نے…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(4:23) ارضعنکم۔ ماضی جمع مؤنث غائب کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ رضع (سمع) رضع (فتح) رضعا ورضعا ورضاعۃ۔ بچے کا ماں کا دودھ پینا۔ راضعہ رضاعا و مراضعۃ دودھ شریک بھائی کے ساتھ دودھ پینا۔ ارضعہ دودھ پلایا اس کو۔ ربائیکم۔ ربائب۔ ربیبۃ کی جمع ہے۔ زیر پرورش لڑکی جو اگلے شوہر سے ہو۔ ربیبہ اس لئے کہتے ہیں کہ وہ اپنی ماں کے دوسرے شوہر کی آغوش میں تربیت پاتی ہے۔ تمہاری جوروں کی پہلے خاوند سے لڑکیاں۔ فی حجورکم۔ حجور۔ حجر کی جمع۔ حفاظت۔ جو تمہاری حفاظت۔ نگرانی میں ۔ دخلتم بھن۔ جن سے تم صحبت کرچکے ہو۔ حلال۔ جمع حلیلۃ۔ واحد بمعنی زوجہ۔ حل سے مشتق ہے حل گرہ کھولنا۔ اترنا۔ جلال ہونا۔ من اصلابکم۔ اصلاب جمع…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 22–23

آیت نمبر 22-23 لغات القرآن : سلف، جو گزر گیا۔ مقت، اللہ کے عذاب کا (سبب) ۔ ساء سبیلا، برا راستہ۔ حرمت، حرام کردی گئی۔ امھت، مائیں۔ بنت، بیٹیاں۔ اخوات، بہنیں۔ عمت، پھوپھیاں۔ خلت، خالائیں۔ بنت الاخ، بھتیجیاں۔ بنت الاخت، بھانجیاں۔ ارضعن، جن عورتوں نے دودھ پلایا۔ الرضاعۃ، دودھ پلانا۔ ربائب، (ربیبہ) گود میں پلنے والیاں۔ حجور، گود میں (حجر، پہلو) ۔ دخلتم، تم نے صحبت کی ہے۔ ابناء، بیٹے۔ اصلاب، (صلب) پیٹھ۔ ان تجمعوا، یہ کہ تم جمع کرو (جمع نہ کرو) ۔ الاختین، دو بہنیں۔ تشریح : ان آیتوں میں سے سب پہلے عرب کی ایک جاہلانہ رسم کو مٹانے کا حکم فرمایا جا رہا ہے۔ عربوں میں یہ بھیجہالت رائج تھی کہ وہ اپنی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

ان آیتوں میں ایسی عورتوں کا ذکر فرمایا ہے جن سے نکاح حرام ہے۔ آدمی کی پیدائش جس خاندان میں ہوئی اس میں سے سات عورتیں اس شخص پر حرام ہیں وہ عورتیں یہ ہیں : ماں، بہن، بیٹی، پھوپھی، خالہ، بھتیجی، بھانجی، ان سب کو محرمات نسبی کہتے ہیں۔ دودھ پلانے سے بھی جو عورتیں اس رشتے کی ہوں وہ ساتوں حرام ہیں۔ بیاہ شادی کے سبب سے ساس اور سوتیلی بیٹی کے حرام ہونے کا ذکر بھی اس آیت میں ہے۔ سوتیلی ماں کا ذکر اوپر کی آیت میں گزرا۔ سوتیلی بیٹی کے حرام ہونے کی یہ شرط بھی ہے کہ اس کی ماں سے اس سوتیلے باپ نے صحبت بھی کی ہو۔ ان ماؤں سے طلاق یا موت وغیرہ کے ذریعہ سے قبل صحبت جدائی ہونے کی صورت میں ان کے ساتھ نکاح جائز…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 19–23

[22] یعنی شوہر کے مرنے کے بعد اس کے خاندان والے اس کی بیوہ کو میراث سمجھ کر اس کے والی وارث نہ بن بیٹھیں۔ شوہر کے مرنے کے بعد عورت آزاد ہے کہ عدت گزار کر جہاں چاہے جائے اور جس سے چاہے نکاح کرے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

کن کن عورتوں سے نکاح درست نہیں ؟ (ف 2) اسلام میں خوبی یہ ہے کہ وہ الہیات کی مشکل گتھیاں بھی سلجھاتا ہے اور معاشرت کے نکات بھی اس کے ریاض توحید میں عالم غیب کے اسرار بھی ہیں اور عالم شہود کے واقعات بھی ، اخلاق کے دقیق ابواب معاشرت کے چھوٹے چھوٹے مسائل تک ہے اور بہرحال یہ دعوی درست ہے کہ اسلام ایک کامل ومفصل مذہب ہے ، یہ بات کتنی افسوسناک ہے کہ وہ مذاہب جن میں الہیات کے اسرار وغوامض پر تو بحث ہے مگر روز مرہ کے واقعات سے تعرض نہیں ‘ عزت کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں اور وہ مسلک جس میں جامعیت و کمال تابحد مبالغہ ہے ، بدنام ہے ۔ ان آیات میں محرمۃ النکاح عورتوں کا بیان ہے ۔ یعنی وہ عورتیں جن سے نکاح…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

ف 3 تم پر حسب ذیل عورتیں حرام کردی گئی ہیں یعنی ان سے نکاح کرنا حرام ہے اگر نکاح کرو گے تو وہ نکاح باطل ہوگا۔ تمہاری مائیں اور تمہاری بہنیں خواہ عینی ہوں یا باپ شریک ہوں یا ماں شریک ہوں اور تمہاری پھوپھیاں۔ خواہ وہ تمہارے باپ کی علاتی بہنیں ہوں یا حقیقی بہنیں ہوں یا اخیانی ہوں اور تمہاری خالائیں خواہ وہ تمہاری ماں کی حقیقی بہنیں ہوں خواہ علاتی ہوں خواہ اخیانی ہوں اور تمہارے بھائی کی بیٹیاں یعنی بھتیجیاں خواہ وہ حقیقی بھائی کی بیٹیاں ہوں یا علاتی کی ہوں یا اخیانی بھائی کی بیٹیاں ہوں اور تمہاری بہن کی بیٹیاں یعنی بھانجیاں خواہ وہ تمہاری حقیقی بہنوں کی بیٹیاں ہوں یا علاتی اور اخیانی بہنوں کی ہوں…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 5۔ ان میں سب اصول و فروع بواسطہ وبلاواسطہ سب ہیں۔ 6۔ خوہ عنی ہوں یا علاتی یا اخیافی۔ 7۔ اس میں باپ کی اور سب مذکر اصول کی تینوں قسم کی بہنیں آگئیں۔ 8۔ اس میں ماں کی اور سب مونث اصول کی تینوں قسم کی بہنیں آگئیں۔ 9۔ اس میں تینوں قسم کی بہنوں کی اولاد بواسطہ وبلاواسطہ سب آگئیں۔ 01۔ یعنی تم سے ان کی حقیقی یارضاعی ماں کا دودھ پیا ہے یا انہوں نے تمہاری حقیقی یا رضاعی ماں کا دودھ پیا ہے گومختلف وقت میں پیا ہو۔ 11۔ اس میں زوجہ کے مونث اصول آگئے۔ 21۔ اس میں زوجہ کے سب مونث فروع آگئے۔ 31۔ یعنی کسی عورت کے ساتھ صرف نکاح کرنے سے اس کی لڑکی حرام نہیں ہوتی بلکہ جب اس عورت سے صحبت ہوجاوے تب لڑکی حرام…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

حرام رشتوں کی پوری وضاحت فرما دی تاکہ کوئی بات مبہم نہ رہ جائے : 53: امہات ام کی جمع ہے اور اس میں قریب ترین وہ والدہ ماجدہ ہے جس کے بطن سے انسان پیدا ہوتا ہے یعنی جس بطن سے میں پیدا ہوا وہ میری ماں اور جس بطن سے آپ پیدا ہوئے وہ آپ کی ماں ، یہ حقیقی ماں کہلاتی ہے۔ لیکن جس نے کسی جننے والی کو جنا ہو وہ بھی ماں ہی کے حکم میں داخل ہے۔ جیسے والد کی ماں دادی اور والدہ کی ماں نانی۔ اسی طرح جب اوپر کو چلے جائیں تو ساری ماں ہی کے حکم میں داخل ہیں اور ان سب سے نکاح حرام ہے۔ پھر ان حرام رشتوں کی تفصیل بھی بیان کردی گئی ہے جن سے نکاح حرام ہے۔ جن میں سے بعض محرمات تو وہ ہیں جو کسی حال میں بھی حلال نہیں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

If the father has fallen into illicit relations with some woman, even then it will not be permissible for the son to marry that woman. حُرِّ‌مَتْ عَلَيْكُمْ أُمَّهَاتُكُمْ (Prohibited for you are your mothers): It means that it is unlawful to marry one's own mother and the word, أُمَّهَاتُكُمُ "ummahatukum" (your mothers), includes all grandmothers, paternal or maternal وَبَنَاتُكُمْ and your daughters) means that it is unlawful to marry one's own real daughter, and the daughter of the daughter, and the daughter of the son. In short, marrying a daughter, grand-daughter, great-granddaughter;…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

34. The word 'mother' applies to one's step-mother as well as to one's real mother. Hence the prohibition extends to both. This injunction also includes prohibition of the grandmother, both paternal and maternal. There is disagreement on whether a woman with whom a father has had an unlawful sexual relationship is prohibited to his son or not. There are some among the early authorities who do not believe in such prohibition. But there are others who go so far as to say that a woman whom a father has touched with sexual desire becomes prohibited to the son. Likewise, there is disagreement…

Read the full tafseer →