An-Nisaa 4:22

An-Nisaa · from ayah 22

4:22

وَلَا تَنْكِحُوْا مَا نَكَحَ اٰبَآؤُكُمْ مِّنَ النِّسَآءِ اِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ ؕ— اِنَّهٗ كَانَ فَاحِشَةً وَّمَقْتًا ؕ— وَسَآءَ سَبِیْلًا ۟۠وَلَا تَنۡكِحُوۡا مَا نَكَحَ اٰبَآؤُكُمۡ مِّنَ النِّسَآءِ اِلَّا مَا قَدۡ سَلَفَ‌ ؕ اِنَّهٗ كَانَ فَاحِشَةً وَّمَقۡتًا ؕ وَسَآءَ سَبِيۡلًا

اور جن عورتوں سے تمہارے باپ نے نکاح کیا ہو ان نکاح مت کرنا (مگر جاہلیت میں) جو ہوچکا (سوہوچکا) یہ نہایت بےحیائی اور (خدا کی) ناخوشی کی بات تھی۔ اور بہت برا دستور تھا

— Fateh Muhammad Jalandhari

And do not marry those [women] whom your fathers married, except what has already occurred. Indeed, it was an immorality and hateful [to Allah] and was evil as a way.

— Saheeh International

Juz 4 · Ruku 3 of surah · Ruku 14 of juzع

Read the whole surah · Surah An-Nisaa

All translations of 4:22

اور جن عورتوں سے تمہارے باپ نکاح کر چکے ہوں اُن سے ہرگز نکاح نہ کرو، مگر جو پہلے ہو چکا سو ہو چکا در حقیقت یہ ایک بے حیائی کا فعل ہے، ناپسندیدہ ہے اور برا چلن ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور جن عورتوں سے تمہارے باپ نے نکاح کیا ہو ان نکاح مت کرنا (مگر جاہلیت میں) جو ہوچکا (سوہوچکا) یہ نہایت بےحیائی اور (خدا کی) ناخوشی کی بات تھی۔ اور بہت برا دستور تھا

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور ان عورتوں سے نکاح نہ کرو جن سے تمہارے باپوں نے نکاح کیا ہے مگر جو گزر چکا ہے، یہ بے حیائی کا کام اور بغض کا سبب ہے اور بڑی بری راه ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور جن عورتوں سے تمہارے باپ دادا (کسی وقت) نکاح کرچکے ہوں، تم انہیں نکاح میں نہ لاؤ، البتہ پہلے جو کچھ ہوچکا وہ ہوچکا۔ یہ بڑی بےحیائی ہے، گھناؤنا عمل ہے، اور بےراہ روی کی بات ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور باپ دادا کی منکوحہ سے نکاح نہ کرو مگر جو ہو گزرا وہ بیشک بے حیائی اور غضب کا کام ہے، اور بہت بری راہ

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور ان عورتوں سے نکاح نہ کرو جن سے تمہارے باپ دادا نکاح کر چکے ہوں مگر جو (اس حکم سے پہلے) گزر چکا (وہ معاف ہے)، بیشک یہ بڑی بے حیائی اور غضب (کا باعث) ہے اور بہت بری روِش ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور ان عورتوں سے نکاح مت کرو جن سے تمہارے باپ نکاح کرچکے ہوں، مگر جو پہلے گزر چکا، بیشک یہ ہمیشہ سے بڑی بےحیائی اور سخت غصے کی بات ہے اور برا راستہ ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور جن عورتوں کو تمہارے باپ نکاح میں لا چکے ہیں ان سے نکاح نہ کرو مگر پہلے جو ہوچکا سو ہوچکا۔ یہ بڑی بےحیائی اور بیزاری کی بات ہے اور برا چلن ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور جن عورتوں سے تمہارے باپ نکاح کرچکے ہوں ان سے نکاح نہ کرو، مگر جو کچھ ہوچکا، بیشک یہ کھلی بےحیائی اور نفرت کی بات ہے اور نہایت برا طریقہ ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور مت نکاح کرو تم ان عورتوں سے جن سے نکاح کرچکے ہوں تمہارے باپ (دادا) مگر جو ہوچکا (سو وہ ہوچکا) بیشک یہ بڑی بےحیائی اور نفرت کی بات ہے، اور بڑا ہی برا راستہ

— مولانا اسحاق مدنی

اور ان عورتوں سے نکاح مت کرو جن سے تمہارے باپ نکاح کرچکے ہیں مگر ہاں جو کچھ ہوچکا (ہوچکا) ۔ بیشک یہ بڑی بےحیائی اور نفرت کی بات تھی اور بہت برا طریقہ تھا۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور جن عورتوں سے تمہارے باپ نکاح کرچکے ہوں ان سے تم نکاح مت کرو یقیناً یہ بڑی بےحیائی کی بات ہے اور اللہ تعالیٰ کے غضب کو بھڑکانے والی ہے اور بہت ہی برا راستہ ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور جن عورتوں سے تمہارے باپ نکاح کرچکے ہوں ان سے ہرگز نکاح نہ کرو، مگر جو پہلے ہوچکا سو ہوچکا۔ درحقیقت یہ ایک بےحیائی کا فعل، ناپسندیدہ اور برا چلن ہے

— محترمہ رفعت اعجاز

Do not marry the women whom your fathers married, although what is past is past. This indeed was a shameful deed, a hateful thing, and an evil way.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Do not marry those women whom your fathers had married except what has passed. It is indeed shameful and detestable, and it is an evil practice.

— Muhammad Taqi Usmani

Do not marry those women whom your fathers had married except what has passed. It is indeed shameful and detestable, and it is an evil practice.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And marry not women whom your fathers married, except what has already passed; indeed it was shameful and Maqtan, and an evil way.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And marry not those women whom your fathers married, except what hath already happened (of that nature) in the past. Lo! it was ever lewdness and abomination, and an evil way.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And do not marry those [women] whom your fathers married, except what has already occurred. Indeed, it was an immorality and hateful [to Allah] and was evil as a way.

— Saheeh International

Do not marry, from now on, the ex-wives of your fathers for that custom was sinful, loathsome, and abominable.

— Muhammad Sarwar

And marry not woman whom your fathers married, except what has already passed; this surely is indecent and hateful, and it is an evil way.

— Muhammad Habib Shakir

And wed not of women those whom your fathers had wedded, except that which hath already passed. Verily it hath been an indecency and an abomination and an evil way:

— Abdul Majid Daryabadi

And marry not women whom your fathers married,- except what is past: It was shameful and odious,- an abominable custom indeed.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 4:22

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 19–22

عورت پر ظلم کا خاتمہ صحیح بخاری میں ہے حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ قبل اسلام جب کوئی شخص مرجاتا ہے تو اس کے وارث اس کی عورت کے پورے حقدار سمجھے جاتے اگر ان میں سے کوئی چاہتا تو اپنے نکاح میں لے لیتا اگر وہ چاہتے تو دوسرے کسی کے نکاح میں دے دیتے اگر چاہتے تو نکاح ہی نہ کرنے دیتے میکے والوں سے زیادہ اس عورت کے حقدار سسرال والے ہی گنے جاتے تھے جاہلیت کی اس رسم کے خلاف یہ آیت نازل ہوئی، دوسری روایت میں یہ بھی آیا ہے کہ وہ لوگ اس عورت کو مجبور کرتے کہ وہ مہر کے حق سے دست بردار ہوجائے یا یونہی بےنکاحی بیٹھی رہے، یہ بھی مروی ہے کہ اس عورت کا خاوند مرتے ہی کوئی بھی آ کر اس پر اپنا کپڑا ڈال دیتا اور…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة النِّسَآء 32 تمدنی اور معاشرتی مسائل میں جاہلیت کے غلط طریقوں کو حرام قرار دیتے ہوئے بالعموم قرآن مجید میں یہ بات ضرور فرمائی جاتی ہے کہ ”جو ہوچکا سو ہو چکا“۔ اس کے دو مطلب ہیں ایک یہ کہ بےعلمی اور نادانی کے زمانہ میں جو غلطیاں تم لوگ کرتے رہے ہو ان پر گرفت نہیں کی جائے گی، بشرطیکہ اب حکم آجانے کے بعد اپنے طرز عمل کی اصلاح کرلو اور جو غلط کام ہیں انہیں چھوڑ دو۔ دوسرے یہ کہ زمانہ سابق کے کسی طریقے کو اب اگر حرام ٹھیرایا گیا ہے تو اس سے یہ نتیجہ نکالنا صحیح نہیں ہے کہ پچھلے قانون یا رسم و رواج کے مطابق جو کام پہلے کیے جا چکے ہیں ان کو کالعدم، اور ان سے پیدا شدہ نتائج کو ناجائز، اور عائد…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

ربط آیات اوپر سے جاہلیت کی رسوم قبیحہ کا ذکر چلا آ رہا ہے، ان میں سے ایک رسم یہ تھی کہ بعض حرام عورتوں سے نکاح کرلیا کرتے تھے، مثلاً اپنی سوتیلی ماں سے، ایک بہن کے نکاح میں ہوتے ہوئے دوسری بہن سے اسی کی مناسبت سے دوسری محرکات کا بھی ذکر آ گیا، نیز وہ لوگ لے پالک بیٹے کی بیوی سے نکاح کرنے کو حرام سمجھتے تھے، اس کا بھی ابطال فرما دیا اس سلسلہ میں بعض ان عورتوں کی حلت کو بھی بیان کیا گیا جن میں مسلمانوں کو شبہ ہوا تھا، مثلاً باندی جو مسلمانوں کے قبضہ میں آگئی ہو اور اس کا پہلا شوہر دارالحرب میں ہو، اسی کے ساتھ نکاح کے شرائط اور اس کے متعلقات مہر وغیرہ کا بھی ذکر آ گیا۔ خلاصہ تفسیر اور تم ان…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

وَلَا تَنْكِحُوْا مَا نَكَحَ اٰبَاۗؤُكُمْ مِّنَ النِّسَاۗءِ اِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ ۭاِنَّهٗ كَانَ فَاحِشَةً وَّمَقْتًا ۭوَسَاۗءَ سَبِيْلًا۔ مقت اور ممقوت، مبغوض اور نفرت انگیز شے یا فعل کو کہتے ہیں۔ باپ کی منکوحہ سے نکاح کے لیے زواج المقت کی تعبیر مشہور رہی ہے۔ اسی طرح اس شخص کو مقتی کہتے تھے جو اس فعلِ شنیع کا مرتکب ہوا ہو۔ اِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ ، کا مطلب یہ ہے کہ یہ قانون ماضی پر لاگو نہیں ہوگا کہ اس کو بنیاد قرار دے کر تمام پچھلے رشتوں کی تحقیق ہو اور اس کی روشنی میں جائش و ناجائز کے احکام صادر ہوں۔ یہ چیز عملاً ناممکن ہے۔ قانون اپنی فطرت ہی سے ایک ایسی چیز ہے کہ اس کا نفاذ حاضر و مستقبل…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

22۔ 1 زمانہ جاہلیت میں سوتیلے بیٹے اپنے باپ کی بیوی سے (یعنی سوتیلی ماں سے) نکاح کرلیتے تھے، اس سے روکا جا رہا ہے، کہ یہ بہت بےحیائی کا کام ہے اسلام ایسی عورت سے نکاح کو ممنوع قرار دیتا ہے جس سے اس کے باپ نے نکاح کیا لیکن دخول سے قبل ہی طلاق دے دی۔ حضرت ابن عباس ؓ سے بھی یہ بات مروی ہے اور علماء اسی کے قائل ہیں (تفسیر طبری)

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

18: جاہلیت میں لوگ اپنی سوتیلی ماں سے نکاح کرنے کو کوئی عیب نہیں سمجھتے تھے، اس آیت نے اس بےشرمی کو ممنوع قراردیا، البتہ جن لوگوں نے اسلام سے پہلے ایسا نکاح کیا تھا ان کے بارے میں فرمایا گیا کہ پچھلا گناہ معاف ہے ؛ کیونکہ اسلام لانے سے پچھلے گناہ معاف ہوجاتے ہیں، بشرطیکہ اس آیت کے نزول کے بعد نکاح کا یہ تعلق ختم کرلیا جائے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

(آیت) ” ولا تنکحوا مانکح ابآوکم من النسآء الا ما قد سلف ، انہ کان فاحشة ومقتا وسآء سبیلا “۔ (22) ” اور جن عورتوں سے تمہارے باپ نکاح کرچکے ہیں ان سے ہر گز نکاح نہ کرو ‘ مگر جو پہلے ہوچکا سو ہوچکا ، درحقیقت یہ ایک بےحیائی کا فعل ہے ‘ ناپسندیدہ ہے ۔ اور برا چلن ہے ۔ “ اس تحریم کی حکمت کے حوالے سے دو تین باتیں ذہن میں آتی ہیں اگرچہ انسان کے لئے یہ تو ناممکن ہی نہیں ہے کہ وہ شرعی احکام کی تمام حکمتوں اور رازوں کا احاطہ کرسکے ۔ ہمارے لئے تو بس یہی کافی ہے کہ اللہ نے یہ قانون بنایا ہے جو ہمارے لئے بنا دیا ہے ۔ اور ہمیں یقین ہے کہ اس میں ضرور کوئی حکمت اور مصلحت ہوگی بہرحال جو تین چیزیں سمجھ میں آتی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

3 جاہلیت والے اپنی سوتیلی، ماں اور بعض دیگر محرمات سے بھی نکاح کرلیتے تھے جس کا تذکرہ ابھی گزرا، اس کی ممانعت کی جاتی ہے کہ جن عورتوں سے تمہارے باپ نے نکاح کیا ہو ان سے نکاح مت کرو یہ بےحیائی اور اللہ کے غضب اور نفرت کرنے کی بات ہے اور بہت برا طریقہ ہے۔ زمانہ جاہلیت میں بھی سمجھ دار لوگ اس کو مذموم سمجھتے تھے اور اس نکاح کو نکاح مقت اور اس نکاح سے جو اولاد ہوتی اس کو مقتی کہتے تھے۔ سو ایسے نکاح جو ہوچکے ہوچکے آئندہ کو ہرگز ایسا نہ ہو۔ فائدہ : باپ کی منکوحہ کا جو حکم ہے اسی حکم میں دادے اور نانے کی منکوحہ بھی داخل ہے کتنا ہی اوپر کا دادا اور نانا کیوں نہ ہو۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 22 وَلَا تَنْکِحُوْا مَا نَکَحَ اٰبَآؤُکُمْ مِنَ النِّسَاءِ جیسا کہ پہلے ذکر ہوا ‘ ایام جاہلیت میں سوتیلی ماؤں کو نکاح کر کے یا بغیر نکاح کے گھر میں ڈال لیا جاتا تھا۔ ایسے نکاح کو اس معاشرے میں بھی نکاح مقت کہا جاتا تھا۔ یعنی یہ بہت ہی برا نکاح ہے۔ ظاہر ہے فطرت انسانی تو ایسے تعلق سے ابا کرتی ہے ‘ مگر ان کے ہاں یہ رواج تھا۔ قرآن مجید نے اس مقام پر اس کا سختی سے سدّباب کیا ہے۔ اِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ ط سوائے اس کے جو ہوچکا۔ اِنَّہٗ کَانَ فَاحِشَۃً وَّمَقْتًا ط وَسَآءَ سَبِیْلًا اگلی آیت میں محرمات ابدیہ کا بیان ہے کہ کن رشتوں میں نکاح کا معاملہ نہیں ہوسکتا۔ یعنی ایک مرد اپنی کن کن رشتہ دار…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

36 سوتیلی ماؤں سے نکاح :۔ یعنی تمہاری سوتیلی مائیں بھی ماؤں ہی کے مقام پر ہیں لہذا انہیں ورثہ کا مال سمجھنا اور زبردستی ان سے نکاح کرنا، ان کے ترکہ کے وارث بن بیٹھنا، یہ سب باتیں انتہائی شرمناک اور قابل مذمت ہیں۔ البتہ جو نکاح اس حکم کے آنے سے پہلے تک تم کرچکے ہو وہ کالعدم قرار نہیں دیئے جائیں گے، نہ ان سے پیدا شدہ اولاد حرامی تصور ہوگی۔ وراثت کے احکام بھی ان پر لاگو ہوں گے لیکن اس حکم کے بعد تم پر سوتیلی ماؤں سے نکاح کرنا حرام ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

73 ۔ یعنی اس حکم کے نزول سے قبل جو ہوچکا۔ اب اس پر باز پرس نہیں۔ ای قبل نزول ایۃ التحریم فانہ معفوعنہ (کبیر) (آیت) ” لا تنکحوا “ میں نکاح اپنے لغوی معنی یعنی صحبت کرنے کے مفہوم میں لیا گیا ہے۔ فیہ تحریم وطی موطوء ۃ الاب بنکاح اوبملک یمین اور بزنا کما ھو مذھبنا وعلیہ کثیر من المفسرین (مدارک) (آیت) ” مانکح ابآؤکم “۔ عرب جاہلیت کے اس دستور کی طرف اشارہ ہے کہ سوتیلی ماؤں سے بھی نکاح کرلیا جاتا تھا۔ قال ابن عباس وجمھور المفسرین کان اھل الجاھلیۃ یتزوجون بازواج اباءھم (کبیر) (آیت) مانکح “ میں یتزوجون بازواج اباءھم (کبیر) (آیت) ” مانکح “ میں ما۔ من۔ کے معنی میں ہے۔ مابمعنی من (جلالین) (آیت) ” ابآؤکم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

آیت نمبر 22 ترجمہ : اور تم پر تمہاری ماؤں سے نکاح کرنا حرام کردیا گیا ہے اور اس حکم میں دادیاں اور نانیاں بھی شامل ہیں، اور تمہاری بیٹیاں اور اس میں پوتیاں بھی داخل ہیں اگرچہ نیچے تک ہوں، اور علاتی اور اخیافی بہنیں (اور حقیقی بہنیں) تمہارے لئے حرام کردی گئی ہیں، اور تمہاری پھوپھیاں یعنی تمہارے باپ دادوں کی بہنیں اور تمہاری خالائیں یعنی تمہاری ماؤں اور دادیوں کی بہنیں اور بھتیجیاں اور بھانجیاں اور اس میں ان کی لڑکیاں بھی شامل ہیں، اور تمہاری وہ مائیں جنہوں نے تم کو دو سال مکمل ہونے سے پہلے پانچ گھونٹ دودھ پلایا ہو جیسا کہ حدیث نے اس کو بیان کیا ہے، اور تمہاری رضاعی بہنیں، اور ان کے ساتھ ازروئے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

و لا تنکحوا ما نکح اباء کم من النساء اور جن عورتوں سے تمہارے باپ دادا نے نکاح کیا ہو ان سے نکاح نہ کرو۔ ما صولہ ہے اور چونکہ وصفی معنی مراد ہے اس لیے (بجائے مَن کے) ما کا لفظ ذکر کیا ہے بعض نے کہا کہ ما مصدری ہے اور مصدر بمعنی مفعول ہے (باپ کی نکاح کی ہوئی عورت سے نکاح نہ کرو) یہ تو ظاہر تھا کہ باپ دادا نے جن سے نکاح کیا ہوگا وہ عورتیں ہی ہوں گی پھر بھی ما کے ابہام کی توضیح من النساء سے صرف تعمیم کے لیے کردی۔ الا ما قد سلف بظاہر یہ استثناء منقطع ہے یعنی جو پہلے ہوچکا اس کا مواخذہ نہ ہوگا بعض علماء نے کہا استثناء متصل ہے نہی کے لیے جو معنی لازم تھا اس سے استثناء ہے گویا یوں کہا گیا کہ جس سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(22) اور اب اللہ تعالیٰ ان پر ان کے آباء کی عورتوں سے شادی کرنے کی حرمت کو بیان فرماتے ہیں، زمانہ جاہلیت میں لوگ اپنے آباء کی عورتوں سے شادی کرلیا کرتے تھے، اللہ تعالیٰ نے اس چیز کی ممانعت فرما دی۔ یعنی اپنے آباء کی عورتوں سے شادی مت کرو۔ البتہ زمانہ جاہلیت میں جو ہوگیا وہ معاف ہے یہ چیز بےحیائی اور نفرت والی اور بدترین طریقہ ہے، یہ آیت محسن بن ابی قیس انصاری کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ شان نزول : (آیت) ”ولا تنکحوا“۔ (الخ) یعنی جن سے تمہارے آباء نے نکاح کیا ہے ان سے نکاح مت کرو اور ابن سعد نے محمد بن کعب قرظی سے نقل کیا ہے کہ جب کوئی شخص اپنی عورت کو چھوڑ کر مرجاتا تھا تو اس کا لڑکا اگر وہ اس…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَلَا تَنْكِحُوْا مَا نَكَحَ۔۔ : جاہلیت کے دستور میں بیٹے کے لیے اپنے باپ کی منکوحہ (سوتیلی ماں) سے شادی کرلینا جائز تھا، ابن عباس ؓ نے فرمایا : ”اہل جاہلیت ان رشتوں کو حرام سمجھتے تھے جنھیں اللہ تعالیٰ نے حرام کیا، سوائے باپ کی بیوی اور دو بہنوں کو جمع کرنے کے، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل کیں : (وَلَا تَنْكِحُوْا مَا نَكَحَ اٰبَاۗؤُكُمْ مِّنَ النِّسَاۗءِ) [ النساء : 33 ] اور (وَاَنْ تَجْمَعُوْا بَيْنَ الْاُخْتَيْنِ) [ النساء : 23 ] [ ابن جریر : 4؍369، صحیح ] اللہ تعالیٰ نے اسے سخت حرام قرار دیا، حتیٰ کہ اگر باپ نے صرف عقد ہی کیا ہو تو بھی بیٹے کا اس سے نکاح حرام ہے۔ یہ سخت بےحیائی اور…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر : 22۔ اس میں چار مسائل ہیں : مسئلہ نمبر : (1) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” ولا تنکحوا مانکح ابآؤکم من النسآء “۔ کہا جاتا ہے کہ لوگ (آیت) ” یایھا الذین امنوا لایحل لکم ان ترثوا النساء کرھا “۔ (اے ایمان والو ! نہیں حلال تمہارے لیے کہ وارث بن جاؤ عورتوں کے زبردستی) کے نزول کے بعد اپنے باپ کی بیوی سے اس کی رضا سے نکاح کرلیتے تھے تھی کہ یہ آیت نازل ہوئی (آیت) ” ولا تنکحوا “۔ الخ پس یہ تمام احوال میں حرام ہوگیا، کیونکہ نکاح کا اطلاق جماع اور نکاھ کرنے پر ہوتا ہے۔ اگر باپ کسی عورت سے نکاح کرے یا اس سے وطی کرے بغیر نکاح کے بیٹے پر وہ عورت حرام ہوجائے گی، اس کا مزید بیان آگے آئے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

(1) الفریابی وابن المنذر وابن ابی حاتم و طبرانی اور بیہقی نے اپنی سنن میں عدی بن ثابت انصاری ؓ سے روایت کیا کہ ابو قیس بن سلت ؓ وفات پاگئے جو انصار کے نیک لوگوں میں سے تھے قیس کے بیٹے نے ان کی بیوی کو نکاح کا پیغام دیا تو اس نے کہا میں تجھ کو اپنا بیٹا شمار کرتی ہوں اور تو اپنی قوم کے نیک لوگوں میں سے ہے۔ لیکن میں رسول اللہ ﷺ کے پاس حاضر ہوں گی اور آپ سے رائے لوں گی وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئی اور کہنے لگی کہ ابو قیس وفات پاگئے تو آپ نے اس کے لئے خیر کے کلمات ارشاد فرمائے اس کے بیٹے قیس نے مجھے نکاح کا پیغام دیا ہے حالانکہ وہ اپنی قوم کا نیک آدمی ہے۔ اور میں اس کو اپنا بیٹا شمار کرتی ہوں پس آپ…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ وَلاَ تَـنْکِحُوْا : اور تم لوگ نکاح مت کرو ] [ مَا : اس سے ‘ جس سے ] [ نَــکَحَ : نکاح کیا ] [ اٰبَــآؤُکُمْ : تمہارے اجداد نے ] [ مِّنَ النِّسَآئِ : عورتوں میں سے ] [ اِلاَّ : سوائے اس کے کہ ] [ مَا : جو ] [ قَدْ سَلَفَ : گزر گیا ہے ] [ اِنَّـہٗ : یقینا یہ ] [ کَانَ : ہے ] [ فَاحِشَۃً : بےحیائی ] [ وَّمَقْتًا : اور بیزاری ] [ وَسَآئَ : اور برا ہے ] [ سَبِیْلاً : بلحاظ راستے کے ] م ق ت مَقَتَ ۔ یَمْقُتُ (ن) مَقْتًا : نفرت کرنا ‘ بیزار ہونا۔ مَقْتٌ (اسم ذات) : نفرت ‘ بیزاری ‘ آیت زیر مطالعہ۔ نوٹ : ان آیات میں ان غلط رسوم کی ممانعت ہے جو اسلام سے پہلے خواتین کے ضمن میں عام تھیں۔ عورت کی…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

والد کی بیوی سے نکاح کرنے کی حرمت اسباب نزول صفحہ 141 میں نقل کیا ہے کہ یہ آیت حصن بن ابی قیس کے بارے میں نازل ہوئی جس نے اپنے باپ کی بیوی سے نکاح کرنا چاہا نیز اسود بن خلف اور صفوان بن امیہ نے اور بھی دو تین افراد کے نام لکھے ہیں جو باپ کی بیوی سے نکاح کرنے کے مرتکب ہوئے ابو قیس کی بیوی کو جب ابو قیس کے بیٹے نے نکاح کا پیغام دیا تو وہ کہنے لگی کہ میں تجھے اپنا بیٹا سمجھتی ہوں تجھ سے کیسے نکاح کروں ؟ میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر دریافت کروں گی۔ چناچہ وہ آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں (اور بات سامنے رکھی) اس پر اللہ تعالیٰ شانہ نے آیت نازل فرمائی۔ زمانہ جاہلیت میں لوگ مرنے والے باپ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 22–23

حکم یاز دہم تفصیل محرمات۔ قال اللہ تعالی۔۔ ولاتنکحوا۔۔۔ الی۔۔۔ رحیما۔ آیت۔ ربط۔ زمانہ جاہلیت میں نکاح کے معاملات میں سخت افراط وتفریط ہوتی تھی اور حدود اللہ سے تعدی میں گرفتار بھی تھے بعض لوگ اپنے باپ کی منکوحہ یعنی سوتیلی ماں سے بھی نکاح کرلیتے اور بعض اپنے بیٹوں کی بیویوں سے نکاح کرلیتے اور بعض دو بہنوں کو نکاح میں جمع کرتے اس لیے حق تعالیٰ نے ان آیات میں ان عورتوں کا ذکر فرمایا جن سے نکاح حرام ہے اور اس سلسلہ میں سب سے پہلے باپ کی منکوحہ سے نکاح کی حرمت اور ممانعت کو بیان فرمایا اور مت نکاح میں لاؤ ان عورتوں کو جن کو تمہارے آباؤ و اجداد نکاح میں لا چکے ہیں لیکن جو ہوچکا سو ہوچکا اس پر کوئی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 22–23

19 نواں حکم رعیت : (عورتیں نکاح سے ملتی ہیں لیکن حسب ذیل عورتیں اگر راضی بھی ہوں تب بھی نکاح میں نہیں آسکتیں) پہلے فرمایا تھا کہ جو عورتیں رضامندی سے تمہارے ساتھ نکاح کرنا چاہیں ان سے نکاح کرلو لیکن حسب ذیل عورتیں اگر راضی ہوں تب بھی ان سے نکاح نہ کرو کیونکہ یہ محرمات ہیں اور ان سے نکاح کرنا تمہارے لیے ابدی حرام ہے یہاں پندرہ محرمات مذکور ہیں۔ (1) باپ کی منکوحہ، یعنی جو عورت باپ کی زوجیت میں آچکی ہو پھر بیوہ یا مطلقہ ہوجائے۔ (2) ماں۔ دادی اور نانی بھی امہات میں داخل ہیں۔ (3) وَبَنٰتُکُمْ بیٹیاں اس میں پوتیاں اور نواسیاں بھی داخل ہیں۔ (4) اَخَوٰتُکُمْ بہنیں خواہ عینی ہوں یا علاتی اور اخیافی۔…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

ربط آیات گزشتہ دروس میں عورتوں کے ساتھ اس ناانصافی کا تذکرہ ہوچکا ہے جو زمانہ جاہلیت میں ان سے روا رکھی جاتی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے اس قبیح رسم و رواج کی اصلاح کا قانون بیان فرمایا ، اور حکم دیا کہ عورتوں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آئو اور جبراً ان کو وراثت کا حصہ نہ بنالو۔ اللہ تعالیٰ نے یہ بھی ارشاد فرمایا کہ علیحدگی کی صورت میں عورتوں کے مقررہ مہر ہر حالت میں ادا کرو خواہ کتنے ہی زیادہ کیوں نہ ہوں اور حیلے بہانے سے انہیں واپس لینے کی کوشش مت کرو۔ اب آج کے درس میں اللہ تعالیٰ نے نکاح ہی کے متعلق بعض دیگر قباحات کا تذکرہ فرمایا ہے ، جو نزول قرآن کے زمانہ میں عربوں میں اکثر پائی جاتی تھیں۔ محرکات…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَلَا تَنْكِحُوْا مَا نَكَحَ اٰبَاۗؤُكُمْ مِّنَ النِّسَاۗءِ اِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ۝ 0 ۭ اِنَّہٗ كَانَ فَاحِشَۃً وَّمَقْتًا۝ 0 ۭ وَسَاۗءَ سَبِيْلًا۝ 22 ۧ نكح أصل النِّكَاحُ للعَقْدِ ، ثم استُعِيرَ للجِماع، ومُحالٌ أن يكونَ في الأصلِ للجِمَاعِ ، ثمّ استعیر للعَقْد، لأَنَّ أسماءَ الجِمَاعِ كلَّهَا كِنَايَاتٌ لاسْتِقْبَاحِهِمْ ذكرَهُ كاسْتِقْبَاحِ تَعَاطِيهِ ، ومحال أن يَسْتَعِيرَ منَ لا يَقْصِدُ فحْشاً اسمَ ما يَسْتَفْظِعُونَهُ لما يَسْتَحْسِنُونَهُ. قال تعالی: وَأَنْكِحُوا الْأَيامی [ النور/ 32] ، إِذا نَكَحْتُمُ الْمُؤْمِناتِ [ الأحزاب/ 49] ، فَانْكِحُوهُنَّ بِإِذْنِ أَهْلِهِنَ [ النساء/ 25]…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

ترکیب : مانکح ما بمعنی من والعائد محذوف ای من نکحہا آبائو کم الاما استثناء منقطع ہے حرمت فعل مجہول امہاتکم الخ مفعول مالم یسم فاعلہ من الرضاعۃ حال ہے اخوات سے۔ التی صفت ہے من نساء کم کی وان تجمعوا الخ بتاویل مصدر معطوف ہے امہاتکم پر۔ والمحصنت بھی امہاتکم پر معطوف ہے۔ الا ما ملکت استثناء متصل ہے والمعنی حرمت علیکم ذوات الازواج الا السبایا من المحصنات کتاب اللہ مفعول مطلق ہے کس لئے کہ حرمت بمعنی کتب ‘ احل فعل مجہول ‘ ماورا مابمعنی من ای احل لکم غیر المذکورات من النساء بشرط ان اے بان الخ۔ محصنین حال ہے فاعل تبتغوا سے فما بمعنی الذی شرط جو ابہ فاتوھن یا کہو شرط نہیں مبتداء اور فاتوھن خبر۔

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَلاَ تَنْکِحُوْا مَانَـکَحَ اٰ بَآؤُکُمْ مِّنَ النِّسَآئِ اِلَّا مَا قَدْ َسَلَفَ ط اِنَّـہٗ کَانَ فَاحِشَۃً وَّمَقْتًا ط وَسَآئَ سَبِیْلًا ع ( اور جن عورتوں سے تمہارے باپ نکاح کرچکے ہوں ان سے نکاح نہ کرو مگر جو کچھ ہوچکا۔ بیشک یہ کھلی بےحیائی اور نفرت کی بات ہے اور نہایت برا طریقہ ہے) (النسآء : 22) اس رکوع کے آغاز میں یہ بات گزرچکی ہے کہ عرب جاہلیت کے بعض طبقات میں یہ رواج تھا کہ باپ کی منکوحہ بیویاں بیٹے کو وراثت میں ملتی تھیں اور بیٹے بعض دفعہ ان سے نکاح بھی کرلیتے تھے اور اس میں کوئی قباحت محسوس نہیں کرتے تھے۔ وہاں دوسری قباحتوں کے ضمن میں اس کے ارتکاب سے بھی روکا گیا تھا۔ لیکن اس آیت…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 22–23

فہم القرآن ربط کلام : عورت کی عفت و تکریم کے تحفظ ‘ گھر کے ماحول میں آزادی کی نعمت اور باہمی شرم و حیا اور حد درجہ احترام کے لیے کچھ رشتے مستقل طور پر اور چند رشتوں کو حسد وبغض سے بچانے اور تقدس کے تحفظ کی خاطر مخصوص مدّت کے لیے حرام قرار دیا۔ مستقل طور پر حرام کردہ رشتے درج ذیل ہیں : 1۔ ماں ‘ دادی ‘ نانی ‘ اوپر تک۔ 2۔ بیٹیاں ‘ پوتیاں نیچے تک اور نواسیاں۔ 3۔ سگی بہنیں۔ 4۔ باپ یا ماں کی طرف سے یعنی سوتیلی بہنیں جنہیں علاتی اور اخیافی بہنیں کہا جاتا ہے۔ 5۔ پھوپھیاں۔ 6۔ خالائیں ‘ خواہ یہ سگی ہوں یا اخیافی یا علاتی۔ 7۔ بھتیجیاں اور ان کی بیٹیاں۔ 8۔ بھانجیاں اور ان کی بیٹیاں۔ 9۔ رضاعی مائیں۔ 10۔…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 22 : جب یہ آیت لایحل لکم ان ترثوا اتری۔ تو لوگوں نے کہا ہم نے سابقہ رواج کو ترک کردیا۔ ہم ان کی ناپسندیدگی سے ان کے وارث نہ بنیں گے۔ لیکن ہم ان کو پیغام نکاح دیں گے اور ان کی رضا ورغبت سے ان سے نکاح کریں گے۔ تو اس پر یہ آیت اتری۔ باپ کی موطوءہ حرام ہے : وَلَا تَنْکِحُوْا مَانَکَحَ اٰبَآؤُکُمْ مِّنَ النِّسَآئِ (ان عورتوں سے نکاح نہ کرو جن سے تمہارے باپوں نے نکاح کیا ہے) ایک قول یہ ہے کہ نکاح سے مراد وطی ہے۔ یعنی ان عورتوں سے وطی نہ کرو جن سے تمہارے باپوں نے وطی کی ہو۔ فائدہ : اس سے یہ ثابت ہوا کہ باپ کی موطوءہ سے نکاح حرام ہے خواہ وہ موطوءہ نکاح سے ہو یا ملک یمین یا زناء سے جیسا کہ ہمارا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

22۔ (آیت)” ولا تنکحوا ما نکاح ۔۔۔۔۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ قد سلف “۔ بعض نے کہا کہ پہلے جو کچھ ہوچکا اس میں مؤاخذہ نہیں، بعض نے کہا کہ اس کا معنی ہے کہ زمانہ جاہلیت میں جو گناہ تم اس معاملے میں کرچکے ہو وہ معاف ہیں ، ” انہ کان فاحشۃ “۔ یعنی بےحیائی کا کام ہے ، کان صلہ ہے فاحشہ بدترین گناہ کو کہتے ہیں ” ومقتا “ یہ اللہ کے غضب کا باعث ہے ، مقت کہا جاتا ہے سخت ترین بغض ، وساء سبیلا “ یہ راستہ برا ہے عرب کے ہاں باپ کی بیوی سے کسی کا کوئی بیٹا ہوتا تو اس کو مقیت کہتے تھے اشعث بن قیس ، ابو معیط ، عمرو بن امیہ یہ مقیت ہی تھے ۔ عدی بن ثابت براء بن عازب ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ میرا ماموں جھنڈا لیے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

اوپر کی آیت میں سوتیلی ماں سے نکاح کے دستور کو منع فرما کر اسی سلسلہ میں دوسری عورتوں کا ذکر فرمایا ہے جن سے نکاح حرام ہے آدمی کی پیدائش جس خاندان میں ہو اس میں سے سات عورتیں اس شخص پر حرام ہیں وہ عورتیں یہ ہیں۔ ماں 1۔ بہن 2۔ بیٹی 3۔ پھوپھی 4۔ بھتیجی 6۔ بھانجی 7۔ ان کو محرمات نسبی کہتے ہیں دودھ پلانے سے بھی عورتیں اس رشتہ کی ہوں وہ ساتوں حرام ہیں آیت میں فقط دودھ کی ماں اور بہن کا ذکر فرما کر باقی کو نسب کے قیاس پر اس سبب سے چھوڑدیا ہے کہ دودھ کا رشتہ بھی پیدائش کے رشتہ کی ایک شاخ ہے وہاں خون آدمی کے بدن کا جز تو یہاں دودھ بن کرو ہی بات پیدا ہوگئی ہے۔ صحیح بخاری اور مسلم میں حضرت عائشہ ؓ سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

آیت 22 یعنی ان عورتوں سے نکاح نہ کرو جن سے تمہارے باپ اور دادا نکاح کرچکے ہوں (ان ہکان فاحشہ) ” یہ بہت قبیح کام ہے “ اور اس کی قباحت بہت بڑھی ہوئی ہے (ومقتا) تمہارے لئے اللہ تعالیٰ اور مخلوق کی ناراضی کا باعث ہے۔ بلکہ اس کے سبب سے بیٹا باپ سے اور باپ بیٹے سے ناراض ہوجاتا ہے، حالانکہ بیٹے کو باپ کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آنے کا حکم ہے۔ (وسآء سبیلاً ) (اس راستے پر) چلنے والے کے لئے یہ برا راستہ ہے۔ کیونکہ یہ جاہلیت کی قبیح رسوم و عادات ہیں جن سے (معاشرے کو) پاک کرنے کے لئے اسلام آیا ہے۔

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

ان عورتوں کا بیان جن سے نکاح حرام ہے قول باری ہے۔ (ولاتنکحوامانکح اباء کم من النساء الا ماقد سلف، اور جن عورتوں سے تمہارے باپ نکاح کرچکے ہوں ان سے ہرگز نکاح نہ کرومگر پہلے جو ہوچکا سوہوچکا۔ ) ابوبکرجصاص کہتے ہیں کہ ہمیں ثعلب کے غلام ابوعمرونے بتایا ہے کہ ہمیں ثعلب سے اور انہیں کوفہ کے اہل لغت سے نیز مبرد کو بصرہ کے اہل لغت سے جو بات معلوم ہوئی ہے کہ لغت میں نکاح کے اصل معنی دوچیزوں کواکٹھا کردینے کے ہیں۔ عربوں کا قول ہے۔ انکحنا الفرافسنری، (ہم نے جنگلی گدھے اور اس کی مادہ کو اکٹھا کردیا ہے تم دیکھ لوگے کہ کیا بنتا ہے) ۔ یہ ایک ضرب المثل ہے اور اس وقت کہاجاتا ہے جب کسی معاملہ میں لوگ باہم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

50 باپ دادا کی منکوحہ سے نکاح کرنے کی حرمت کا بیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ تم لوگ ان عورتوں سے نکاح مت کرو جن سے تمہارے باپ دادا نکاح کرچکے ہوں۔ اگرچہ وہ تمہاری حقیقی مائیں نہ ہوں، کہ تمہارے باپ دادا میں سے کسی کے نکاح میں آجانے اور اس کی منکوحہ بن جانے کے بعد ان کیلئے وہی احترام ہے جو تمہاری اپنی حقیقی ماؤں کا ہوتا ہے، زمانہ جاہلیت میں باپ کی منکوحات سے نکاح کرلینے کا رواج عام تھا (ابن کثیر، محاسن التاویل، جامع البیان وغیرہ) ۔ سو دین حق کے نور مبین کے طلوع کرنے کے بعد اس سے منع فرما دیا گیا۔ اور اس کے بعد یہ ہمیشہ حرام قرار دے دیا گیا۔ اور ایسا کہ اگر اسلام کے بعد کوئی ایسا کرے گا تو وہ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 22–23

محرم عورتیں، ماؤں کا احترام تشریح : پہلی آیت میں صرف سوتیلی ماں سے نکاح سے منع کیا گیا تھا اب ان عورتوں کا تفصیل سے بتایا جارہا ہے جن سے نکاح کرنا جائز نہیں اول تو ان عورتوں کا بتایا جارہا ہے جن سے نسبی تعلق ہو مثلاً ماں، بیٹی، بہن، پھوپھی، خالہ، بھتیجی، بھانجی ان سب سے نکاح جائز نہیں اسی طرح دادی اور نانی اوپر تک سب ہی اس میں شامل ہیں، پھر اسی طرح بیٹی سے نکاح کرنے کی ممانعت میں پوتی، نواسی اور ان کے نیچے تک سب شامل ہیں اور بہن کے سلسلے میں عینی، علاتی اور اخیافی سب شامل ہیں۔ پھوپھی، باپ، دادا اور اوپر تک کی پشتوں کی بہنیں سگی ہوں یا سوتیلی سب شامل ہوگئیں۔ خالہ میں ماں، نانی اور نانی کی نانی…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 19–22

آیات 19 تا 22: یا ایہا الذین امنوا لا یحل لکم۔۔۔ انہ کان فاحشۃ و مقتا۔ وساء سبیلا۔ معاشرہ میں عورت کا مقام : عورت ہی کے حقوق و فرائض کی بحث میں توبہ کی بات تو ضمناً آگئی تھی چناچہ عورت کا مال میں اور وراثت میں حق پھر عورت کا فرض کہ جس خاندان سے وراثت پاتی ہے اس کی آبرو کی حفاظت کرے اب عورت کا مقام بیان ہورہا ہے کہ بیوی بن کر وہ کسی کی غلام نہیں بن جاتی بلکہ اس کے حقوق اور زیادہ محفوظ ہوجاتے ہیں یہاں ان مظالم کا رد فرمایا جو قبل اسلام عورت پر روا رکھے جاتے تھے یا بعض رواج جو ابھی تک غیر مسلم اقوام میں پائے جاتے ہیں مثلاً اگر کوئی عورت بیوہ ہوجاتی تو اس کی کوئی حیثیت نہ رہتی اور شوہر کے وارث…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 3 جاہلیت کے دستو رکے مطا بق بیٹے کے لیے باپ کی منکو حہ (سوتیلی ماں) سے شادی کرلینا چائز تھا۔ چناچہ حضرت قیس ؓ نے اسلت نے اپنے والد کی وفات پر جب اپنی سوتیلی ماں سے نکاح کرنا چاہا تو اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور اسے سخت حرام قرار دیا۔ (ابن کثیر) حدیث سے ثابت ہے کہ ایسا نکاح کرنے والا واجب القتل ہے۔ (مسند احمد )

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(4:22) مقتا۔ مصدر۔ منصوب۔ کسی شخص کو برائی کا مرتکب دیکھ کر اس سے بغض رکھنا ۔ سبب بغض۔ کبر مقتا عند اللہ (61:3) سخت مبغوض ہے اللہ کے نزدیک م ق ت مادہ۔ یعنی تمہارا یہ فعل اللہ تعالیٰ کی سخت ناپسندیدگی کا سبب ہوگا۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 22–23

آیت نمبر 22-23 لغات القرآن : سلف، جو گزر گیا۔ مقت، اللہ کے عذاب کا (سبب) ۔ ساء سبیلا، برا راستہ۔ حرمت، حرام کردی گئی۔ امھت، مائیں۔ بنت، بیٹیاں۔ اخوات، بہنیں۔ عمت، پھوپھیاں۔ خلت، خالائیں۔ بنت الاخ، بھتیجیاں۔ بنت الاخت، بھانجیاں۔ ارضعن، جن عورتوں نے دودھ پلایا۔ الرضاعۃ، دودھ پلانا۔ ربائب، (ربیبہ) گود میں پلنے والیاں۔ حجور، گود میں (حجر، پہلو) ۔ دخلتم، تم نے صحبت کی ہے۔ ابناء، بیٹے۔ اصلاب، (صلب) پیٹھ۔ ان تجمعوا، یہ کہ تم جمع کرو (جمع نہ کرو) ۔ الاختین، دو بہنیں۔ تشریح : ان آیتوں میں سے سب پہلے عرب کی ایک جاہلانہ رسم کو مٹانے کا حکم فرمایا جا رہا ہے۔ عربوں میں یہ بھیجہالت رائج تھی کہ وہ اپنی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

کن کن عورتوں سے نکاح حرام ہے جیسا کہ زمانہ جاہلیت میں رواج تھا کہ اپنے ماں کے سوا باپ کے بعد اس کی دوسری عورت کو بیٹا بیاہ لیتا تھا کیونکہ باپ کی بیوی بمزلہ ماں کے ہے۔ جس سے اس نے صحبت کی ہو خواہ نکاح کرکے یا بطریق زنا۔ یا وہ باندی ہو اس کا ہو مالک ہو کہ ان میں ہر صورت میں بیٹے کا اس سے نکاح حرام ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 19–23

[22] یعنی شوہر کے مرنے کے بعد اس کے خاندان والے اس کی بیوہ کو میراث سمجھ کر اس کے والی وارث نہ بن بیٹھیں۔ شوہر کے مرنے کے بعد عورت آزاد ہے کہ عدت گزار کر جہاں چاہے جائے اور جس سے چاہے نکاح کرے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 20–22

مہر واپس نہ لو : (ف 1) اس آیت میں بتایا ہے کہ بیوی لو طلاق دینے کے بعد مہر یا وہ تحائف جو تم نے وقتا فوقتا اسے دیئے ہیں واپس نہ لو کہ یہ مروت اور حسن معاشرت کے منافی ہے یعنی طلاق کے معنی باقاعدہ اور آداب کے مطابق علیحدگی کے ہیں ، نہ اظہار بغض وعداوت کے ۔ اسلام نے ہر مرحلہ پر انسان کو اخلاق کی بلند شاہراہ پر قائم رہنے کی تلقین کی ہے ، اسی لئے وہ کہتا ہے کہ تم طلاق و علیحدگی کے بعد بھی حسن سلوک کے اصول کو نہ بھولو ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

ف 2 اور تم ان عورتوں سے نکاح نہ کرو جن عورتوں سے تمہارے باپ دادا پر دادا وغیرہ نکاح کرچکے ہوں مگر جو بات پہلے گزر چکی وہ گزر چکی اور اسلام سے پہلے جو کرچکے وہ کرچکے یہ باپ دادا کی منکوحہ سے نکاح کرنا بڑی بےحیائی کی بات ہے اور بڑے غضب کا کام اور بہت برا طریقہ ہے۔ (تیسیر) زمانۂ جاہلیت میں یہ بھی ایک دستور تھا کہ باپ کے مرنے کے بعد بیٹا اس سے نکاح کرلیتا تھا اگرچہ کفر کے زمانے میں بھی بعض شائستہ لوگ اس کو ناپسند کرتے تھے اور ایسے نکاح کو نکاح مقت کہا کرتے تھے اور اس نکاح سے جو اولاد ہوتی تھی اس کو مقتی کہتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اس حرکت شنیعہ کی مذمت میں تین الفاظ فرمائے۔ فاحشہ، مقت اور سبیل سوء…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 4۔ جس عورت سے باپ نے زنا کیا ہو اس سے بیٹا نکاح نہیں کرسکتا اسی طرح جہاں جہاں نکاح سے تحریم شدید ہوجاتی ہے زنا سے بھی ہوجاتی ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

باپ کی منکوحہ سے نکاح حرام ہے اس لیے کہ وہ ماں کے حکم میں داخل ہے : 52: جاہلیت کے دور میں اس میں کوئی قباحت نہیں سمجھی جاتی تھی جیسا کہ اوپر آیت 19 میں مذکور ہو ابل کہ ان کے ہاں عام رواج تھا کہ جب کسی کا باپ وفات پا جائے تو اس کا بڑا لڑکا یا اس کا کوئی قریبی رشتہ دار اٹھتا اور اس کی بیوی پر جو کپڑا ڈالنے والے کی حقیقی والدہ نہ ہوتی کپڑا ڈالنے سے اس کی ملکیت تصور ہوتی اب وہ چاہے اس کو زوجہ بنا کر ازدواجی تعلقات پیدا کرے اور چاہے کسی دوسرے کو نکاح میں دے کر اس کا حق مہر خود وصول کرلے اور چاہے کپڑا ڈال کر بس چھوڑ دے تاکہ وہ اس طرح کسی دوسری جگہ جا کر نکاح نہ کرسکے۔ اس رسم بد کو قرآن کریم نے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

The present verses are an extension of the description of evil practices common in Jahiliyyah which have been taken up earlier. A detailed discussion appears in the Commentary. Commentary: These verses give details of محرَّمات muharramat, that is, women with whom marriage is prohibited. Some of them are prohibited forever, never becoming lawful under any condition. Some are not permanently prohibited. They become lawful under some particular circumstances. There are three kinds of permanently-prohibited women referred to in the first category. They are those by kinship, by fosterage and by…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

32. The Qur'an rounds off all statements prohibiting the objectionable features of the social life of the Jahiliyah period by condoning violations of those prohibitions prior to their revelation: 'What is past is past.' This has two meanings. First, that those concerned would not be punished for mistakes committed in their state of Ignorance, providing they rectified their conduct after the prohibitory injunction had been revealed. Second, that the prohibition of any ancient custom, usage and law did not mean that all acts which took place in the past would be nullified, and that all the…

Read the full tafseer →