An-Nisaa 4:21

An-Nisaa · from ayah 21

4:21

وَكَیْفَ تَاْخُذُوْنَهٗ وَقَدْ اَفْضٰی بَعْضُكُمْ اِلٰی بَعْضٍ وَّاَخَذْنَ مِنْكُمْ مِّیْثَاقًا غَلِیْظًا ۟وَ كَيۡفَ تَاۡخُذُوۡنَهٗ وَقَدۡ اَفۡضٰى بَعۡضُكُمۡ اِلٰى بَعۡضٍ وَّاَخَذۡنَ مِنۡكُمۡ مِّيۡثَاقًا غَلِيۡظًا‏

اور تم دیا ہوا مال کیونکر واپس لے سکتے ہو جب کہ تم ایک دوسرے کے ساتھ صحبت کرچکے ہو۔ اور وہ تم سے عہد واثق بھی لے چکی ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And how could you take it while you have gone in unto each other and they have taken from you a solemn covenant?

— Saheeh International

Juz 4 · Ruku 3 of surah · Ruku 14 of juz

Read the whole surah · Surah An-Nisaa

All translations of 4:21

اور آخر تم اُسے کس طرح لے لو گے جب کہ تم ایک دوسرے سے لطف اندو ز ہو چکے ہو اور وہ تم سے پختہ عہد لے چکی ہیں؟

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور تم دیا ہوا مال کیونکر واپس لے سکتے ہو جب کہ تم ایک دوسرے کے ساتھ صحبت کرچکے ہو۔ اور وہ تم سے عہد واثق بھی لے چکی ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

حاﻻنکہ تم ایک دوسرے سے مل چکے ہو اور ان عورتوں نے تم سے مضبوط عہد وپیمان لے رکھا ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور آخر تم کیسے (وہ مہر) واپس لے سکتے ہو جبکہ تم ایک دوسرے کے اتنے قریب ہوچکے تھے اور انہوں نے تم سے بڑا بھاری عہد لیا تھا ؟

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور کیونکر اسے واپس لوگے حالانکہ تم میں ایک دوسرے کے سامنے بے پردہ ہولیا اور وہ تم سے گاڑھا عہد لے چکیں

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور تم اسے کیسے واپس لے سکتے ہو حالانکہ تم ایک دوسرے سے پہلو بہ پہلو مل چکے ہو اور وہ تم سے پختہ عہد (بھی) لے چکی ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور تم اسے کیسے لو گے جب کہ تم ایک دوسرے سے صحبت کرچکے ہو اور وہ تم سے پختہ عہد لے چکی ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور تم لے بھی کیسے سکتے ہو جبکہ تم ایک دوسرے سے لطف اندوز ہوچکے ہو اور وہ تم سے پختہ عہد لے چکی ہیں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور کس طرح اس کو لو گے جب کہ تم ایک دوسرے کے آگے بےحجاب ہوچکے ہو اور انہوں نے تم سے مضبوط عہد لے رکھا ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور آخر تم اسے کیونکر واپس لو گے جبکہ تم ایک دوسرے کے آگے بےحجاب ہوچکے ہو، اور جبکہ وہ تم سے ایک پختہ عہد بھی لے چکی ہیں،

— مولانا اسحاق مدنی

اور تم کیسے اسے (واپس) لے سکتے ہو درآنحالیکہ ایک دوسرے سے خلوت کرچکے ہو اور وہ (بیویاں) تم سے ایک مضبوط اقرار لے چکی ہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور تم اسے کیسے واپس لے سکتے ہو جبکہ تم ایک دوسرے کے ساتھ صحبت کرچکے ہو ؟ اور وہ تم سے مضبوط قول وقرار لے چکی ہیں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور آخر تم اسے کس طرح واپس لو گے جب کہ تم ایک دوسرے سے لطف اندوز ہوچکے ہو اور وہ تم سے پختہ عہد لے چکی ہیں

— محترمہ رفعت اعجاز

How can you take it away after each one has enjoyed the other, and they have taken a firm covenant from you?

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

How can you take it when you have had access to each other and they have taken a firm covenant from you?

— Muhammad Taqi Usmani

How can you take it when you have had access to each other and they have taken a firm covenant from you?

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And how could you take it (back) while you have gone in unto each other, and they have taken from you a firm and strong covenant

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

How can ye take it (back) after one of you hath gone in unto the other, and they have taken a strong pledge from you?

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And how could you take it while you have gone in unto each other and they have taken from you a solemn covenant?

— Saheeh International

How can you take it back when you have had intimate relations and made a solemn agreement with each other?

— Muhammad Sarwar

And how can you take it when one of you has already gone in to the other and they have made with you a firm covenant?

— Muhammad Habib Shakir

And how can ye take it back when one of you hath gone in unto the other, and they have obtained from you a rigid bond!

— Abdul Majid Daryabadi

And how could ye take it when ye have gone in unto each other, and they have Taken from you a solemn covenant?

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 4:21

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 19–22

عورت پر ظلم کا خاتمہ صحیح بخاری میں ہے حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ قبل اسلام جب کوئی شخص مرجاتا ہے تو اس کے وارث اس کی عورت کے پورے حقدار سمجھے جاتے اگر ان میں سے کوئی چاہتا تو اپنے نکاح میں لے لیتا اگر وہ چاہتے تو دوسرے کسی کے نکاح میں دے دیتے اگر چاہتے تو نکاح ہی نہ کرنے دیتے میکے والوں سے زیادہ اس عورت کے حقدار سسرال والے ہی گنے جاتے تھے جاہلیت کی اس رسم کے خلاف یہ آیت نازل ہوئی، دوسری روایت میں یہ بھی آیا ہے کہ وہ لوگ اس عورت کو مجبور کرتے کہ وہ مہر کے حق سے دست بردار ہوجائے یا یونہی بےنکاحی بیٹھی رہے، یہ بھی مروی ہے کہ اس عورت کا خاوند مرتے ہی کوئی بھی آ کر اس پر اپنا کپڑا ڈال دیتا اور…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة النِّسَآء 31 پختہ عہد سے مراد نکاح ہے، کیونکہ وہ حقیقت میں ایک مضبوط پیمان وفا ہے جس کے استحکام پر بھروسہ کر کے ہی ایک عورت اپنے آپ کو ایک مرد کے حوالہ کرتی ہے۔ اب اگر مرد اپنی خواہش سے اس کو توڑتا ہے تو اسے معاوضہ واپس لینے کا حق نہیں ہے جو اس نے معاہدہ کرتے وقت پیش کیا تھا۔ (ملاحظہ ہو سورة بقرہ، 251)۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

دوسرا جملہ یہ ارشاد فرمایا گیاوکیف تاخذونہ وقد افضی بعضکم الی بعض ”یعنی اب تم اپنا مال ان سے کیسے واپس لے سکے ہو، جبکہ صرف عقد نکاح ہی نہیں بلکہ خلوت صحیحہ اور ایک دوسرے سے بےحجابانہ ملنا بھی ہوچکا ہے، کیونکہ اس صورت میں دیا ہوا مال اگر مہر کا ہے تو عورت اس کی پوری مستحق اور مالک ہوچکی ہے، کیونکہ اس نے اپنے نفس کو شوہر کے سپرد کردیا، اب اس کی واپسی کے کوئی معنی نہیں اور اگر دیا ہوا مال ہدیہ تحفہ کا ہے تو بھی اب اس کی واپسی ممکن نہیں، کیونکہ میاں بیوی جو آپس میں ایک دوسرے کو ہبہ کریں اس کی واپسی نہ شرعاً جائز ہے اور نہ قانوناً نافذ کی جاتی ہے، غرض ازدواجی تعلق ہبہ کی واپسی سے مانع ہے۔ اور اسی…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 20–21

تفسیر آیت 21۔۔ 22 وَاِنْ اَرَدْتُّمُ اسْتِبْدَالَ زَوْجٍ مَّكَانَ زَوْجٍ ۙ وَّاٰتَيْتُمْ اِحْدٰىھُنَّ قِنْطَارًا فَلَا تَاْخُذُوْا مِنْهُ شَـيْـــًٔـا ۭ اَتَاْخُذُوْنَهٗ بُھْتَانًا وَّاِثْمًا مُّبِيْنًا۔ وَكَيْفَ تَاْخُذُوْنَهٗ وَقَدْ اَفْضٰى بَعْضُكُمْ اِلٰى بَعْضٍ وَّاَخَذْنَ مِنْكُمْ مِّيْثَاقًا غَلِيْظًا۔ قنطار کا مفہوم : قنطار۔ اصل میں تو ایک وزن ہے جس کی مقدار زمانے کے ساتھ گھٹتی بڑھتی رہی ہے لیکن عام استعمال میں اس سے مراد مال کثیر ہوتا ہے۔ جیسے ہم منوں مال، ڈھیروں مال، بولتے ہیں، عربی میں اسی مفہوم کی تعبیر کے لیے یہ لفظ ہے۔ اسی سے قناطیر مقنطرۃ کی ترکیب بھی قرآن میں استعمال ہوئی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

21۔ 1 ' ایک دوسرے سے مل چکے ہو ' کا مطلب ہم بستری ہے۔ جسے اللہ تعالیٰ نے کنایۃً بیان فرمایا ہے 21۔ 2 مضبوط عہد پیماں سے مراد وہ عہد مراد ہے جو نکاح کے وقت مرد سے لیا جاتا ہے کہ تم اسے اچھے طریقے سے آباد کرنا یا احسان کے ساتھ چھوڑ دینا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 20–21

17: اوپر یہ بتایا جاچکا ہے کہ عورتوں کو گلوخلاصی کے لئے مہر واپس کرنے پر مجبور کرنا صرف اس صورت میں جائز ہے جب انہوں نے کھلی بےحیائی کا ارتکاب کیا ہو، اب یہ فرمایا جارہا ہے کہ اگر تم ان سے مہر واپس کرنے کا مطالبہ کروگے تو یہ تمہاری طرف سے ان پر بہتان باندھنے کے مرادف ہوگا کہ انہوں نے کھلی بےحیائی کا ارتکاب کیا ہے، کیونکہ ان کو مہر کی واپسی پر مجبور کرنا اس صورت کے سوا کسی حالت میں جائز نہیں ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

(آیت) ” وکیف تاخذونہ وقد افضی بعضکم الی بعض واخذن منکم میثاقا غلیظا (12) ” اور آخر تم اسے کس طرح واپس لے لوگے جبکہ تم ایک دوسرے سے لطف اندوز ہوچکے ہو اور وہ تم سے پختہ عہد لے چکی ہیں ۔ “ یہاں افضی فعل کے مفعول کو متعین نہیں کیا گیا لفظ کو عام چھوڑ دیا گیا ‘ اس سے اس کے ہر قسم کے مدلول کا اظہار ہو سکتا ہے تمام مفاہیم پر اس کا اطلاق ہو سکتا ہے تمام اشارات ذہن میں گردش کرتے ہیں ‘ جسمانی لطف اندوزی بھی ‘ جذبات ومیلانات بھی ‘ احسانات اور تصورات بھی ‘ راز ونیاز بھی اور وہ تمام دلچسپیاں بھی جو میاں بیوی کے درمیان ہو سکتی ہیں ۔ انسانی زندگی کے شب وروز کی ہر شکل و صورت اس لفظ افضی کے مفہوم میں آتی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

2 یعنی جب مرد اور عورت نکاح کے بعد مل چکے اور صحبت کی نوبت آچکی تو اس کے معاوضہ میں تمام مہر دینا مرد پر واجب ہوچکا تو اب کس وجہ سے اس مہر کو واپس لے سکتا ہے اور در صورت مہر ادانہ کرنے کے کیسے اس کے مہر کو دبا سکتا ہے اب تو بجز اس کے کہ عورت ہی اپنی خوشی سے معاف کر بیٹھے کوئی صورت رستگاری کی نہیں ہوسکتی اور وہ عورتیں تو بہت مضبوط اور گاڑھا اقرار تم سے لے چکیں جس کی وجہ سے وہ تمہارے قبضہ اور تصرف میں آچکیں اور تم ان سے پورے منتفع ہوچکے نہیں تو تم کو ان پر تصرف کا کیا اختیار تھا۔ اب اس قدر تکمیل اور قبضہء کامل اور تصرف تام کے بعد عورتوں کے مہر کو واپس لینا یا ان کا مہر نہ دینا کیسے ہوسکتا…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 21 وَکَیْفَ تَاْخُذُوْنَہٗ وَقَدْ اَفْضٰی بَعْضُکُمْ اِلٰی بَعْضٍ کچھ عقل کے ناخن لو ‘ کچھ شعور اور شرافت کا ثبوت دو۔ تم ان سے وہ مال کس طرح واپس لینا چاہتے ہو جبکہ تمہارے مابین دنیا کا انتہائی قریبی تعلق قائم ہوچکا ہے۔ وَّاَخَذْنَ مِنْکُمْ مِّیْثَاقًا غَلِیْظًا یہ قول وقرار نکاح کے وقت ہوتا ہے جب مرد عورت کے مہر و نفقہ کی پوری ذمہ داری لیتا ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 20–21

35 خطلاق دیتے وقت عورت سے مال ہتھیانے کی کوشش :۔ یہاں دینے سے مراد صرف حق مہر نہیں۔ اس کے علاوہ بھی جو کچھ تم اپنی بیویوں کو دے چکے ہو۔ وہ ہرگز واپس نہ لینا چاہیے۔ بیوی کا تو خیر حق بھی ہوتا ہے۔ انسان اگر کسی دوسرے شخص کو کوئی چیز دے تو پھر اسے وہ واپس نہیں لینی چاہیے۔ کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ اپنے صدقہ (اور دوسری روایت کے مطابق اپنے ہبہ) کو واپس لینے والا اس کتے کی طرح ہے جو قے کر کے چاٹ لیتا ہے۔ (بخاری، کتاب الہبہ، باب ھبۃ الرجل لامراتہ والمرأۃ لزوجھا) اور یہ بہتان اور صریح گناہ اس لحاظ سے ہے کہ نکاح کے وقت تم نے بھری مجلس میں گواہوں کے سامنے حق مہر کی ادائیگی کا اقرار کیا تھا۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

72 ۔ نکاح کے وقت کہ تم مہر ادا کروگے۔ (آیت) ” میثاقا غلیظا “ یعنی عہد مستحکم “۔ وصفہ بالغلظ لقوتہ وعظمہ (کشاف) عھدا وثیقا (مدارک) (آیت) ” وقد افضی بعضکم الی بعض “۔ یعنی جب انہوں نے اپنا جسم تمتع وتلذذ کے لیے تمہارے سپرد کردیا تو اب مہران سے واپس لینا اسے انہیں ادا نہ کرنا بڑی بےحمیتی بلکہ کم ظرفی کی بات ہے۔ افضی، افضاء لغۃ خلوت صحیحہ اور اصل عمل صحبت دونوں کو شامل ہے۔ حنیفہ نے مراد خلوت صحیحہ لی ہے۔ افضی الی امراتہ ای خلابھا (راغب) قال الکلبی الافضاء ان یکون معھا فی لحاف واحد جامعھا اولم یجامعھا وھذا القول اختیار الفراء ومذھب ابی حنیفۃ (رح) (کبیر) ذکر الفراء ان الافضاء ھو الخلوۃ وان لم یقع…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 19–21

یٰآیُّھَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا لَایَحِلُّ لَکُمْ اَنْ تَرِثُوا النِّسَآءَ ، عرب جاہلیت میں میت کی جائداد کی طرح اس کی بیوی بھی سوتیلے لڑکوں کے ورثہ میں آجاتی تھی اور یہی دستور یونانی اور رومی تمدن کے بھی کسی دور میں رہ چکا ہے (ماجدی) عرب جاہلیت میں وارث اگر چاہتا تو ان سے جبراً خود نکاح کرلیتا یا دوسروں کے نکاح میں دیدیتا گار چاہتا تو کسی سے بھی نکاح کی اجازت نہ دیتا اور ساری عمر یوں ہی گزارنے پر مجبور کردیتا، اسلام نے ظلم کے ان تمام طریقوں سے منع کیا ہے، عرب جاہلیت میں ایک ظلم عورت پر یہ بھی کیا جاتا تھا کہ اگر شوہر کو وہ ناپسند ہوتی اور وہ اس سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہتا تو از خود اس کو طلاق…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

و کیف تاخذونہ اور کونسی وجہ ہے کہ اس کو لے لو۔ یہ بھی انکاری سوال ہے یعنی جب مہر مقرر ہوچکا اور ادا کرنا واجب ہوگیا تو پھر واپس لینے کی کوئی وجہ نہیں۔ و قد افضیٰ بعضکم الی بعض امام شافعی کے نزدیک افضاء سے کنایۃً جماع مراد ہے اسی لیے انہوں نے آیت کا ترجمہ کیا ہے تم جماع کرچکے ان سے۔ امام شافعی کے دو قول ہیں ظاہر ترین قول یہ ہے کہ صرف خلوت سے مہر پختہ نہیں ہوتا ہے اگر جماع نہ کیا ہو اسی بنا پر انہوں نے فرمایا : کہ اگر خلوت صحیحہ ہوگئی اور جماع نہ کیا مگر جماع دے کوئی طبعی اور شرعی مانع نہ تھا پھر طلاق دیدی تو نصف مہر کی ادائیگی واجب ہے امام اعظم (رح) اور امام احمد (رح) نے فرمایا : خلوت صحیحہ سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 20–21

(20۔ 21) اور اگر تم ایک کو طلاق دے کر دوسری سے شادی کرنا چاہتے ہو یا اس ایک کے ہوتے ہوئے ایک اور سے شادی کا ارادہ ہے اور تم نے اس پہلے والی کو مہر بھی دے دیا تو تم اس مہر میں سے ناجائز طور سے کچھ بھی مت لو اور یہ ناجائز طریقہ پر مہر وصول کرنا صریح ظلم ہے اور تم اس مہر کو کیوں جائز سمجھتے ہو جب ایک لحاف میں مہر اور نکاح کے ساتھ خلوت کرچکے ہو اور اللہ تعالیٰ عورتوں کے بارے میں تم سے ایک پختہ وعدہ لے چکا ہے کہ رکھو تو خوبی اور حسن معاشرت کے ساتھ رکھو ورنہ خوبی کے ساتھ چھوڑ دو۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 20–21

وَاِنْ اَرَدْتُّمُ اسْتِبْدَالَ زَوْجٍ۔۔ : یہ عورتوں سے متعلق چوتھا حکم ہے۔ جب پہلی آیات میں بیان فرمایا کہ اگر صحیح طریقے سے ساتھ نہ رہنے کی وجہ عورت کی جانب سے ہو تو مہر واپس لینے کے لیے اسے تنگ کرنا جائز ہے، یہاں بتایا کہ جب زیادتی شوہر کی جانب سے ہو تو پھر عورت سے فدیۂ طلاق لینا ممنوع اور حرام ہے۔ یعنی بلاوجہ تنگ کر کے ان سے مہر واپس لو گے تو یہ ایسا ہی ہے جیسے کوئی بہتان باندھ کر مہر واپس لے رہا ہے اور اس صورت میں تم ان پر دوہرا ظلم کرو گے، ایک بلاوجہ تنگ کرنا اور دوسرا مہر واپس لینا، اس لیے اسے ”اثما مبینا“ فرمایا۔ وَّاٰتَيْتُمْ اِحْدٰىھُنَّ قِنْطَارًا : اس سے معلوم ہوتا ہے کہ زیادہ مہر…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 20–21

آیت نمبر : 20 تا 21۔ ان آیات میں تین مسائل ہیں : مسئلہ نمبر : (1) گزشتہ آیات میں اس جدائی کا حکم گزر چکا جس کا سبب عورت ہے اس صورت میں خاوند کے لیے اپنا مہر واپس لینا جائز تھا اب اس جدائی کا ذکر ہو رہا ہے جس کا سبب خاوند ہے، یہاں فرمایا کہ جب مرد، عورت کو بغیر بدخلقی اور سوء معاشرت کے اسے طلاق دینے کا ارادہ کرے تو اس سے مال طلب نہ کرے۔ مسئلہ نمبر : (2) علماء کا اختلاف ہے کہ جب میاں، بیوی آپس میں جدائی کا ارادہ کرتے ہوں اور دونوں کی طرف سے نافرمانی اور سوء معاشرت کا مظاہرہ ہو، تو امام مالک (رح) نے فرمایا : خاوند کے لیے اس سے مال لینا جائز ہے جب جدائی کا سبب عورت بھی ہو، مرد کے سبب ہونے کا…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 20–21

(1) ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” وان اردتم استبدال زوج مکان زوج “ سے مراد ہے اگر تو ناپسند کرے اپنی عورت کو اور اس کے علاوہ دوسری عورت کو پسند کرے تو اس کو طلاق دے دے اور اس سے شادی کرلے۔ اور اس کو مہر دے دے اگرچہ بڑا مال ہو۔ (2) عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” وان اردتم استبدال زوج مکان زوج “ سے مراد ہے کہ ایک عورت کو طلاق اور دوسری سے نکاح پھر مطلقہ کے مال میں سے وہ مرد کے لئے کوئی چیز حلال نہیں اگرچہ بہت مال ہو۔ (3) ابن جریر نے انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا لفظ آیت ” اوتیتم احدہن قنطارا “ سے مراد ہے دو…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ وَکَیْفَ : اور کیسے ] [ تَاْخُذُوْنَہٗ : تم لوگ لو گے اس کو ] [ وَ : درآنحالیکہ ] [ قَدْ اَفْضٰی : صحبت کرچکا ہے ] [ بَعْضُکُمْ : تم میں سے کوئی ] [ اِلٰی بَعْضٍ : کسی سے ] [ وَّاَخَذْنَ : اور انہوں نے لیا ] [ مِنْکُمْ : تم سے ] [ مِّیْـثَاقًا غَلِیْظًا : ایک پکا وعدہ ] ض و فَضَا یَفْضُوْ (ن) فَضَائً : کسی چیز یا جگہ کا کشادہ ہونا۔ اَفْضٰی (افعال) اِفْضَائً : کشادہ کرنا ‘ صحبت کرنا۔ آیت زیر مطالعہ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

پھر فرمایا (وَ کَیْفَ تَاْخُذُوْنَہٗ ) کہ جو مال تم نے اپنی بیوی کو دے دیا ہے حالانکہ تم ایک دوسرے سے بےحجاب ہو کر مل بھی چکے ہو، وہ اپنی ذات تمہارے حوالے کرچکی ہے (اور مہر اسی کا عوض ہے) تو اب اس عوض کو جو تم دے چکے ہو کس طرح واپس لو گے ؟ یہ تو عقلاً بھی برا ہے اور مزید یہ ہے کہ وہ عورتیں تم سے مضبوط اقرار لے چکی ہیں کہ تم نے جو مہر مقرر کیے وہ مہر ادا کرو گے، لہٰذا اس عہد کی خلاف ورزی کرنا عقلاً و شرعاً مذموم ہے۔ حاصل یہ ہوا کہ بوقت نکاح ادائے مہرکا عہد و پیمان ہوا، پھر آپس میں مل کر بےحجابانہ میل جول بھی رکھتے رہے اب ان کو مجبور کرنا کہ مال واپس کرو یا معاف کرو یہ سراپا ظلم و جور ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 20–21

تتمہ مضمون سابق۔ اوپر کی آیت میں اللہ نے یہ فرمایا کہ تمہاری بیویاں فحاچی کی مرتکب ہوں تو ان کو ضرر پہنچا کر خلع پر مجبور کرنا اور اس طرح ان سے دیا ہوا مہر واپس لے لینا روا ہے اب اس آیت میں یہ فرمایا کہ اگر عورتیں بےقصور ہیں اور بدکار اور نافرمان نہ ہوں اور تم ان کو محض اپنی رغبت سے چھوڑنا چاہو تو پھر ان کو ستا کرا اور تنگ کرکے اپنا دیا ہو امہر ان سے واپس لینا تمہارے لیے روا نہیں خواہ وہ دیا ہوا مہر کتنا ہی کثیر کیوں نہ ہو کیونکہ جب وہ بےقصور ہیں تو انکو ایذا پہنچانا حرام ہے زمانہ جاہلیت کا ایک دستور یہ بھی تھا کہ جب کوئی شخص اپنی عورت سے ناخوش ہوتا اور اسے چھوڑ کر دوسری عورت سے نکاح کرنا…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 19–21

18 آٹھواں حکم رعیت۔ (ورثہ میں مال ملا کرتا ہے عورتیں نہیں ملا کرتیں۔ ہاں اگر وہ راضی ہوں تو ان سے نکاح کرلو) زمانہ جاہلیت کی ایک ننگ انسانیت رسم یہ تھی کہ ورثاء مال کی طرح اپنے مورثوں کی بیویوں کو بھی اپنی وراثت سمجھتے تھے اور اگر وہ کسی سے نکاح کرنا چاہتی تھیں تو انہیں جبرا روک دیتے تھے اگر وہ خوبرو ہوتی تو خود اس سے نکاح کرلیتے ورنہ اسے محبوس رکھتے اور اس کے مرنے کے بعد اس کے مال پر قابض ہوجاتے تو اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ وراثت میں مال ملا کرتا ہے عورتیں نہیں ملا کرتیں۔ ہاں اگر کوئی عورت بخوشی نکاح کرنا چاہے تو نکاح کرلو بشرطیکہ وہ تمہاری محرم نہ ہو۔ کَرْھاً ۔ فعلِ محذوف کا مفعول مطلق…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 19–21

ربط آیات گزشتہ سے پیوستہ درس میں مردوں اور عورتوں کی اخلاقی بےحیائی کا ذکر تھا ، اور اس کی سزا کا تعین بھی تھا پھر درمیان میں اللہ تعالیٰ نے توبہ کی قبولیت کا وقت تواب اور رحیم کا تذکرہ فرمایا۔ توبہ کی شرائط کا بیان آیا ، نیز یہ بھی کہ توبہ کی قبولیت کا وقت نزع کی حالت شروع ہونے سے پہلے پہلے ہے۔ جب دوسرے جہان کی چیزیں نظر آنے لگیں۔ انسان قریب المرگ ہوجائے تو اس وقت کی توبہ قبول نہیں ، اسی طرح جو لوگ کفر کی حالت پر ہی مرجائیں ان کی توبہ بھی قبول نہیں۔ البتہ ان حالات سے پہلے پہلے جو شخص سچے دل سے توبہ کرلے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرمالیتے ہیں۔ مسند احمد کی روایت میں آتا ہے کہ ابلیس نے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَكَيْفَ تَاْخُذُوْنَہٗ وَقَدْ اَفْضٰى بَعْضُكُمْ اِلٰى بَعْضٍ وَّاَخَذْنَ مِنْكُمْ مِّيْثَاقًا غَلِيْظًا۝ 21 كيف كَيْفَ : لفظ يسأل به عمّا يصحّ أن يقال فيه : شبيه وغیر شبيه، كالأبيض والأسود، والصحیح والسّقيم، ولهذا لا يصحّ أن يقال في اللہ عزّ وجلّ : كيف، وقد يعبّر بِكَيْفَ عن المسئول عنه كالأسود والأبيض، فإنّا نسمّيه كيف، وكلّ ما أخبر اللہ تعالیٰ بلفظة كَيْفَ عن نفسه فهو استخبار علی طریق التنبيه للمخاطب، أو توبیخا نحو : كَيْفَ تَكْفُرُونَ بِاللَّهِ [ البقرة/ 28] ، كَيْفَ يَهْدِي اللَّهُ [ آل عمران/ 86] ، كَيْفَ يَكُونُ لِلْمُشْرِكِينَ عَهْدٌ [ التوبة/ 7] ، انْظُرْ كَيْفَ ضَرَبُوا لَكَ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 19–21

ترکیب : ان ترثوا بتاویل مصدر فاعل لا یحل اور کرھا مصدر اور حال ہے مفعول سے اور وہ بالفتح والضم پڑھا جاتا ہے لتذھبوا کالام متعلق ہے تعضلوا سے الا ان یاتین استثنائِ منقطع ہے۔ تفسیر : توبہ کا وصف بیان کرکے پھر عورتوں کے متعلق احکام بیان فرماتا ہے۔ ایام جاہلیت میں عرب طرح طرح سے عورتوں کو تکلیف دیتے تھے جس سے ان آیات میں منع فرماتا ہے۔ اول لا یحل لکم عرب میں پہلے دستور تھا کہ جب کوئی شخص بیوی چھوڑ کر مرتا تھا تو اس کا بیٹا جو دوسری بیوی سے ہوتا تھا یا کوئی اور وارث آکر اس بیوہ پر کپڑا ڈال دیتا تھا اور کہتا تھا کہ جس طرح میں میت کے مال کا وارث ہوں اسی طرح اس کی بیوی کا بھی۔ اس کے بعد یا تو بغیر…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 20–21

وَاِنْ اَرَدْتُّمُ اسْتِبْدَالَ زَوْجٍ مَّکَانَ زَوْجٍ لا وَّاٰتَیْتُمْ اِحْدٰھُنَّ قِنْطَارًا فَلاَ تَاْخُذُوْا مِنْہُ شَیْئًا ط اَتَاْخُذُوُنَہٗ بُھْتَانًا وَّ اِثْمًا مُّبِیْنًا وَکَیْفَ تَاْخُذُوْنَہٗ وَقَدْ اَفْضٰی بَعْضُکُمْ اِلٰی بَعْضٍ وَّاَخَذْنَ مِنْـکُمْ مِّیْثَاقًا غَلِیْظًا (اگر تم ایک بیوی کی جگہ دوسری بیوی لے آنے کا ارادہ ہی کرلو اور تم نے ایک کو ڈھیروں مال دے رکھا ہو تو بھی اس میں سے کچھ نہ لو کیا تم بہتان لگا کر اور کھلی ہوئی حق تلفی کرکے اس کو لوگے اور آخر تم اس سے کس طرح لے لوگے جبکہ تم ایک دوسرے سے لطف اندوز ہوچکے ہو اور انھوں نے تم سے مضبوط عہد لے رکھا ہے) (النسآء : 20 تا…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 20–21

فہم القرآن ربط کلام : عورتوں کے حقوق و فرائض کا تذکرہ جاری ہے۔ بیوی کی کوئی بات ناگوار ہو تو پھر بھی اس کے ساتھ گزارا کرنا چاہیے ‘ بصورت دیگر طلاق دیتے ہوئے اس سے حق مہر واپس لینے کی اجازت نہیں۔ پہلے حکم تھا اگر بیوی کی کوئی عادت ناگوار ہو تب بھی اس کے ساتھ اچھے طریقے سے رہنا چاہیے اور جبرًا کسی عورت کو نکاح میں لینا یا بیوی کی کسی چیز پر قبضہ کرنا جائز نہیں۔ اب اس بات کی اجازت دی گئی ہے کہ اگر بیوی کے ساتھ نباہ کی کوئی صورت باقی نہ رہے اور خاوند نے بیوی بدلنے کا فیصلہ کرلیا ہو تو ایسی صورت میں اس کو دیا ہوا حق مہر یا کوئی تحفہ بیشک وہ کتنا ہی گرانقدر اور قیمتی کیوں نہ ہو اس میں کچھ بھی واپس…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 21 : پھر اس آیت میں جماع کے بعد مہر لینے کو اور زیادہ براقرار دیتے ہوئے فرمایا۔ وَکَیْفَ تَاْخُذُوْنَہٗ وَقَدْ اَفْضٰی بَعْضُکُمْ اِلٰی بَعْضٍ (تم کس طرح اس کو لے لو گے۔ جبکہ تم جماع کرچکے) افضاء۔ ایسی خلوت جس میں رکاوٹ نہ ہو۔ اسی سے فضاء بمعنی صحراء ہے۔ احناف کی دلیل : نحو : یہ آیت ہم احناف کے لئے خلوت صحیحہ کے بعد لزوم مہر کی دلیل ہے۔ آیت میں مہر واپس لینے کو ناپسند قرار دیا گیا۔ اور اس کی علت اگلی آیت میں بیان فرمائی۔ پختہ وعدہ کی مراد : وَاَخَذْنَ مِنْکُمْ مِّیْثَاقًا غَلِیْظاً (اور وہ عورتیں تم سے پختہ وعدہ بھی لے چکیں) اور وہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ فامساک بمعروف او تسریح باحسان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

21۔ (آیت)” وکیف تاخذونہ “۔ یہ بھی استفہام بمعنی انکار ہی کے ہے ، (آیت)” وقد افضی بعضکم الی بعض “۔ اس سے مراد جماع ہے، افضاء کا اصل معنی یہ ہے کہ کسی چیز کی طرف پہنچنا بغیر کسی واسطے (آیت)” واخذن منکم میثاقا غلیظا “۔ حسن (رح) ، ابن سیرین (رح) ، ضحاک (رح) ، اور قتادہ (رح) ، کے نزدیک پختہ عہد سے مراد عورت کے ولی کا قول ہے کہ میں نے اس عورت کو تیرے نکاح میں ان شرائط وحقوق کے موجب دیا جو اللہ نے عورتوں کے لیے مردوں پر رکھے ہیں یعنی ضابطہ دستور کے مطابق نکاح میں رکھنا خوبی کے ساتھ آزاد کردینا ، شعبی (رح) اور عکرمہ (رح) کا بیان ہے اس عہد سے مراد وہ مضمون ہے جو مسلم شریف کی حدیث میں آیا ہے کہ آپ ﷺ نے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 19–21

(19 ۔ 21) ۔ بخاری ابوداؤد اور نسائی میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ اسلام سے پہلے یہ دستور تھا کہ مردے کے وارث بیوہ عورت کو غیر جگہ نکاح نہیں کرنے دیتے تھے بلکہ اس عورت کو مجبور کر کے خود ہی اس سے نکاح کرتے تھے اور دوسرے شخص سے نکاح کرنے کی اجازت دیتے تھے تو مہر کی ساری رقم یا اس میں کا کوئی حصہ اس عورت سے خود لے لیتے تھے۔ غرض بہ نسبت عورت کے رشتہ دار اور وارثوں کے خود ہی عورت کے زیادہ حق دار ٹھہر تھے تھے اس دستور کو اسلام میں بند کرنے کی غرض سے اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی 4۔ اور فرمایا کہ مردے کے وارثوں کو یہ نہ چاہیے کہ بیوہ کو غیر جگہ نکاح کرنے سے روکیں تاکہ بیوہ عاجز ہو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

آیت 21 زمانہ جاہلیت میں اگر کوئی شخص مرجاتا اور اپنے پیچھے بیوی چھوڑتا تو مرنے والے کا کوئی قریبی مثلاً بھائی یا چچا زاد بھائی وغیرہ سمجھتا تھا کہ وہ اس عورت کا سب سے زیادہ مستحق ہے۔ چناچہ عورت خواہ پسند کرتی یا ناپسند کرتی وہ اس عورت پر قبضہ کرلیتا تھا اور اسے کسی اور کے ساتھ نکاح نہ کرنے دیتا۔ اگر وہ چاہتا تو وہ اس کے ساتھ اپنی مرضی کے مطابق حق مہر پر اس سے نکاح کرلیتا اور اگر وہ اسے پسند نہ کرتا تو اسے نکاح کرنے سے روک دیتا اور صرف اسی کے ساتھ اس کا نکاح کرتا جسے وہ خود منتخب کرتا اور بسا اوقات وہ اس کا نکاح اس وقت تک نہ ہونے دیتا جب تک وہ مرنے والے شوہر کی میراث یا مہر میں سے اسے کچھ نہ…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

قول باری ہے (وکیف تاخذونہ وقدافضی بعضکم الی بعض واخذن منکم میثاقا غلیظا، اور آخرتم اسے کس طرح لے لوگے جبکہ تم اپنی بیویوں سے لطف اندوز ہوچکے ہو اور انہوں نے تم سے پختہ عہد بھی لے لیا ہے۔ ) ابوبکرجصاص کہتے ہیں کہ فراء کا قول ہے کہ افضاء خلوت کو کہتے ہیں خواہ ہمبستری نہ بھی ہوئی ہولغت کے لحاظ سے الفاظ کے معانی کے سلسلے میں فراء کا قول حجت ہے۔ اگر افضاء کے اسم کا اطلاق خلوت پر ہوتا ہے تو آیت میں خلوت میسرآجاے کے بعد طلاق کی صورت میں مطلقہ سے کسی چیز کو واپس لینے کی ممانعت ہوگئی ہے۔ اس لیے کہ قول باری (وان اردتم استبدال زوج) فرقت اور طلاق کے مفہوم کی طرف اشارہ کررہا ہے۔ افضاء کا لفظ فضاء سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

49 ازواج کا اپنے شوہروں سے ایک پختہ عہد : سو ارشاد فرمایا گیا کہ تم ان سے اپنا دیا ہوا مال کس طرح واپس لو گے جبکہ وہ تم سے ایک پختہ عہد لے چکی ہیں۔ عقد نکاح کی صورت میں۔ کہ یہ ایسا پختہ عہد ہے کہ اگر شوہر طلاق نہ دے تو کوئی طاقت اس پختہ عہد کو توڑ نہیں سکتی۔ سو اللہ پاک کا نام بہت عظمت والا ہے۔ اس لئے اس کے نام پاک کے حوالے سے کیا جانے والا عہد اس قدر پختہ اور مضبوط ہوتا ہے، کہ اس جیسا دوسرا کوئی عہد ہوسکتا ہی نہیں۔ چناچہ صحیح مسلم وغیرہ کی حدیث میں وارد ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ " تم اپنی بیویوں کے بارے میں اللہ سے ڈرو کہ تم نے ان کو اللہ کی امانت کے ذریعے حاصل کیا ہے، اور اللہ کے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 20–21

مہر کے مسائل تشریح : ان آیات میں تین صورتیں مہر کے بارے میں بیان کی گئی ہیں۔ پہلی یہ صورت ہے کہ اگر کسی وجہ سے مرد دوسری شادی کرنا چاہتا ہے اور وہ خیال کرتا ہے کہ کسی صورت پہلی بیوی سے مہر کی رقم واپس لے لے یا جو کچھ بہت سا مال تحفہ کے طور پر یا کسی بھی طور سے وہ بیوی کو دے چکا ہے اس سے واپس لے کر دوسری بیوی کے لیے خرچ کرے یا کہیں اور خرچ کرے تو اس سے سختی سے منع کیا گیا ہے کہ جو مال بیوی کو دیا جاچکا ہے واپس لینا ہرگز جائز نہیں۔ سوائے اس صورت کے جو پچھلی آیت میں بیان ہوچکی تو اس صورت کے لیے فرمایا کہ صرف مال واپس لینے کے لیے یا بیوی کو ستانے کے لیے مرد کو اس حرکت کی اجازت نہیں دی گئی کہ وہ…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 19–22

آیات 19 تا 22: یا ایہا الذین امنوا لا یحل لکم۔۔۔ انہ کان فاحشۃ و مقتا۔ وساء سبیلا۔ معاشرہ میں عورت کا مقام : عورت ہی کے حقوق و فرائض کی بحث میں توبہ کی بات تو ضمناً آگئی تھی چناچہ عورت کا مال میں اور وراثت میں حق پھر عورت کا فرض کہ جس خاندان سے وراثت پاتی ہے اس کی آبرو کی حفاظت کرے اب عورت کا مقام بیان ہورہا ہے کہ بیوی بن کر وہ کسی کی غلام نہیں بن جاتی بلکہ اس کے حقوق اور زیادہ محفوظ ہوجاتے ہیں یہاں ان مظالم کا رد فرمایا جو قبل اسلام عورت پر روا رکھے جاتے تھے یا بعض رواج جو ابھی تک غیر مسلم اقوام میں پائے جاتے ہیں مثلاً اگر کوئی عورت بیوہ ہوجاتی تو اس کی کوئی حیثیت نہ رہتی اور شوہر کے وارث…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 6 پختہ عہد سے مراد عقدہ نکاح ہے بعض نے اس کی تفسیر خطبئہ نکاح سے بھی کی ہے۔ (ابن کثیر )

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(4:21) قد افضی بعضکم الی بعض ۔ قد ماضی قریب کے لئے افضی الیٰ ۔ کسی جگہ پہنچنا افضی بیدہ الی کذا کئے معنی ہیں کسی جگہ ہاتھ پہنچ جانا۔ افضی الی۔ ای وصل۔ وافضی الی المراۃ ۔ خلابھا۔ اس کے ساتھ خلوت کی۔ جمار کیا۔ افضی۔ وہ پہنچ گیا ۔ وہ بےحجابانہ مل گیا۔ فضا اس جگہ کو کہتے ہیں جہاں کوئی عمارت اس جگہ کی کسی چیز کے ادراک سے مانع ہو۔ خلوت بھی اسی وجہ سے افضاء سے موسوم ہوئی کہ اس میں ہر وہ چیز جو مجامعت سے مانع تھی دور ہوگئی۔ قد افضی۔۔ بعض۔ حالانکہ تم تنہائی میں ایک دوسرے سے مل چکے ہو۔ اخذن۔ ماضی جمع مؤنث غائب وہ لے چکی ہیں۔ یا نہوں نے لیا۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 19–21

آیت نمبر 19-21 لغات القرآن : لایحل، حلال نہیں ہے۔ ترثوا، وارث (نہ) بن جاؤ (مالک بن بیٹھنا) ۔ کرہ، زبردستی کرنا۔ لاتعضلوا، مت روکو، بند نہ کرو۔ لتذھبوا، تاکہ تم لے جاؤ۔ اتیتموھن، تم نے ان کو دیا۔ عاشروا، تم زندگی گزارو۔ کر ھتموا، تم نے برا سمجھا۔ عسی، شاید۔ ان تکرھوا، یہ کہ تم برا سمجھو۔ یجعل، بناتا ہے، ڈالتا ہے۔ اردتم، تم نے ارادہ کرلیا۔ استبدال، بدلنا، بدلنے کی خواہش۔ زوج مکان زوج، بیوی کی جگہ بیوی۔ اتیتم، تم نے دیا۔ احدھن، ان میں سے کوئی ایک۔ قنطار، مال کا ڈھیر۔ تشریح : عرب جاہلیت میں عورتوں پر طرح طرح کے ظلم ہوا کرتے تھے جس سے ایک عورت کو اپنے معاشرہ میں تحفظ کے لئے کسی طرح کے بھی حقوق…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 19–21

حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ اسلام سے پہلے یہ دستور تھا کہ مردے کے وارث بیوہ عورت کو غیر جگہ نکاح نہیں کرنے دیتے تھے۔ بلکہ مجبور کرکے خود ہی کرتے تھے اور اگر دوسرے شخص سے نکاح کرنے کی اجازت دیتے بھی تو مہر کی ساری رقم یا جزو اس عورت سے خود لے لیتے تھے۔ اس دستور کو اسلام میں بند کرنے کی غرض سے اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 19–23

[22] یعنی شوہر کے مرنے کے بعد اس کے خاندان والے اس کی بیوہ کو میراث سمجھ کر اس کے والی وارث نہ بن بیٹھیں۔ شوہر کے مرنے کے بعد عورت آزاد ہے کہ عدت گزار کر جہاں چاہے جائے اور جس سے چاہے نکاح کرے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 20–22

مہر واپس نہ لو : (ف 1) اس آیت میں بتایا ہے کہ بیوی لو طلاق دینے کے بعد مہر یا وہ تحائف جو تم نے وقتا فوقتا اسے دیئے ہیں واپس نہ لو کہ یہ مروت اور حسن معاشرت کے منافی ہے یعنی طلاق کے معنی باقاعدہ اور آداب کے مطابق علیحدگی کے ہیں ، نہ اظہار بغض وعداوت کے ۔ اسلام نے ہر مرحلہ پر انسان کو اخلاق کی بلند شاہراہ پر قائم رہنے کی تلقین کی ہے ، اسی لئے وہ کہتا ہے کہ تم طلاق و علیحدگی کے بعد بھی حسن سلوک کے اصول کو نہ بھولو ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

ف 1 اگر تم خود اپنی خوشی اور رغبت سے ایک بیوی کی جگہ دوسری بیوی کرنا چاہو اور تم اس ایک کو یعنی پہلی بیوی جس کو چھوڑنا چاہتے ہو بطور مہر یا شورہبہ ڈھیر مال دے چکے ہو اور مال کے انبار اس کو تم نے دے دیئے ہوں تو اس مال میں سے عورت کو تنگ اور پریشان کرکے کچھ بھی واپس نہ لو کیا تم اس عورت پر نافرمانی اور بدکاری کا بہتان رکھ کر اور اس کے مال میں صریح گناہ یعنی ظلم کے مرتکب ہوکر اس مہر کے یا ہبہ کے مال کو واپس لینا چاہتے ہو اور بھلا تم اس مال کو کیسے واپس لے سکتے ہو حالانکہ تم آپس میں ایک دوسرے تک پہنچ چکے ہو یعنی لطف اندوز ہوچکے ہو اور آپس میں ایک دوسرے سے بےتکلف مل چکے ہو اور نیز یہ کہ وہ عورتیں…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 20–21

ف 3۔ اگر کسی کو شبہ ہو کہ حدیث میں تاکید آئی ہے کہ مہر کم مقرر کرنے کی اور اس آیت سے زیادہ کا جواز معلوم ہوتا ہے تو اس کا دفع یہ ہے کہ یہ جواز مفہوم من القرآن بمعنی صحت ونفاذ ہے۔ اور حدیث میں جواز بمعنی اباحت مطلقہ وعدم کراہت کی نفی ہے پس کچھ تعارض نہیں رہا اور حضرت عمر کا ایک واقعہ میں زیادہ مہر کے جواب کو مان لینا اس لیے تھا کہ سامعین اس کو حرام نہ سمجھنے لگیں پس اس سے کراہت کا عدم ثابت نہیں ہوتا نہ حضرت عمر پر کوئی اعتراض لازم آتا ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

حق مہر کی واپسی کے ظلم و گناہ ہونے کے مزید دو مراحل کی طرف اشارہ : 51: حق مہر کی واپسی کے ایک مرحلہ کا ذکر اوپر کی آیت کے آخری حصہ میں کردیا تھا اور باقی دو مرحلوں کا ذکر اس آیت میں کردیا گیا ہے۔ فرمایا : ” یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ تم اسے واپس لو جب کہ تم دونوں ایک دوسرے کے ساتھ شوہر و بیوی کا ملنا مل چکے ہو۔ “ وَقَدْ اَفْضٰی بَعْضُکُمْ بَعْضُکُمْ اِلٰی بَعْضٍ ۔ ” افضیٰ “ فضا فراح کا مکان کو کہتے ہیں اور مفردات میں ہے کہ عورت کی طرف افضیٰ کنایہ میں زیادہ بلیغ اور تصریح میں زیادہ ہے ” خلابھا “ سے یعنی اس سے خلوت کی اور مراد اس سے عورت سے خلوت کرنا ہی ہے۔ گویا اس طرح اس آیت میں اس حق مہر کی واپسی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Secondly, in the following sentence in verse 21, it was said: وَكَيْفَ تَأْخُذُونَهُ وَقَدْ أَفْضَىٰ بَعْضُكُمْ إِلَىٰ بَعْضٍ that is, how can you now take back what you had given her when not only the marriage has been solemnized, but you have also had access to each other in privacy? For, in this situa-tion, whatever has been given, if against dower, the woman certainly deserved it. She now owns it because she surrendered herself to her husband. The idea that it could be returned is senseless. Even if this money or property given by the husband was presented or gifted, even then, it is not…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

31. The 'firm covenant' in this verse refers to marriage. For marriage is a firm covenant of fidelity. It is only because a woman has faith in the firmness of this covenant that she entrusts herself to a man. If a man decides of his own will to break it, he has no right to withdraw the amount he offered his wife by way of bridal-due at the time of entering into that covenant. (See Towards Understanding the Qur'an, vol. I, Surah 2, n. 251.)

Read the full tafseer →