Explained with ayahs 19–22
عورت پر ظلم کا خاتمہ
صحیح بخاری میں ہے حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ قبل اسلام جب کوئی شخص مرجاتا ہے تو اس کے وارث اس کی عورت کے پورے حقدار سمجھے جاتے اگر ان میں سے کوئی چاہتا تو اپنے نکاح میں لے لیتا اگر وہ چاہتے تو دوسرے کسی کے نکاح میں دے دیتے اگر چاہتے تو نکاح ہی نہ کرنے دیتے میکے والوں سے زیادہ اس عورت کے حقدار سسرال والے ہی گنے جاتے تھے جاہلیت کی اس رسم کے خلاف یہ آیت نازل ہوئی، دوسری روایت میں یہ بھی آیا ہے کہ وہ لوگ اس عورت کو مجبور کرتے کہ وہ مہر کے حق سے دست بردار ہوجائے یا یونہی بےنکاحی بیٹھی رہے، یہ بھی مروی ہے کہ اس عورت کا خاوند مرتے ہی کوئی بھی آ کر اس پر اپنا کپڑا ڈال دیتا اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
سورة النِّسَآء 28
اس سے مراد یہ ہے کہ شوہر کے مرنے کے بعد اس کے خاندان والے اس کی بیوہ کو میت کی میراث سمجھ کر اس کے ولی وارث نہ بن بیٹھیں۔ عورت کا شوہر جب مر گیا تو وہ آزاد ہے۔ عدت گزار کر جہاں چاہے جائے اور جس سے چاہے نکاح کرلے۔
سورة النِّسَآء 29
مال اڑانے کے لیے نہیں بلکہ بدچلنی کی سزا دینے کے لیے۔
سورة النِّسَآء 30
یعنی اگر عورت خوبصورت نہ ہو، یا اس میں کوئی ایسا نقص ہو جس کی بنا پر شوہر کو پسند نہ آئے، تو یہ مناسب نہیں ہے کہ شوہر فوراً دل برداشتہ ہو کر اسے چھوڑ دینے پر آمادہ ہوجائے۔ حتی الامکان اسے صبر و تحمل سے کام لینا چاہیے۔ بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ ایک عورت خوبصورت نہیں ہوتی مگر اس…
Read the full tafseer →اگلی دو آیتوں میں بھی اسی مضمون کا تفصیلی بیان ہے، ارشاد ہے کہ جب عورت کی طرف سے کوئی سرکشی یا بےحیائی کا کام سر زد نہ ہو، مگر شوہر محض اپنی طبعی خواہش اور خوشی کے لئے موجودہ بیوی کو چھوڑ کر دوسری شادی کرنا چاہتا ہے، تو اس صورت میں اگر وہ ڈھیروں مال بھی اس کو دے چکا ہے اس کے لئے یہ جائز نہیں کہ اس سے دیئے ہوئے مال کا کوئی حصہ طلاق کے معاوضہ میں واپس لے یا واجب الادا مہر کو معاف کرائے کیونکہ عورت کا کوئی قصور نہیں اور جس سبب سے مہر واجب ہوتا ہے وہ سبب بھی پورا ہوچکا ہے، یعنی عقد نکاح بھی ہوگیا اور دونوں آپس میں بےحجابانہ مل بھی چکے ہیں تو اب دیا ہوا مال واپس لینے یا واجب الادا مہر کے معاف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–21
تفسیر آیت 21۔۔ 22
وَاِنْ اَرَدْتُّمُ اسْتِبْدَالَ زَوْجٍ مَّكَانَ زَوْجٍ ۙ وَّاٰتَيْتُمْ اِحْدٰىھُنَّ قِنْطَارًا فَلَا تَاْخُذُوْا مِنْهُ شَـيْـــًٔـا ۭ اَتَاْخُذُوْنَهٗ بُھْتَانًا وَّاِثْمًا مُّبِيْنًا۔ وَكَيْفَ تَاْخُذُوْنَهٗ وَقَدْ اَفْضٰى بَعْضُكُمْ اِلٰى بَعْضٍ وَّاَخَذْنَ مِنْكُمْ مِّيْثَاقًا غَلِيْظًا۔
قنطار کا مفہوم : قنطار۔ اصل میں تو ایک وزن ہے جس کی مقدار زمانے کے ساتھ گھٹتی بڑھتی رہی ہے لیکن عام استعمال میں اس سے مراد مال کثیر ہوتا ہے۔ جیسے ہم منوں مال، ڈھیروں مال، بولتے ہیں، عربی میں اسی مفہوم کی تعبیر کے لیے یہ لفظ ہے۔ اسی سے قناطیر مقنطرۃ کی ترکیب بھی قرآن میں استعمال ہوئی…
Read the full tafseer →20۔ 1 خود طلاق دینے کی صورت میں حق مہر واپس لینے سے نہایت سختی سے روک دیا گیا ہے، یعنی کتنا بھی حق مہر دیا ہو واپس نہیں لے سکتے۔ اگر ایسا کرو گے تو یہ ظلم (بہتان) اور کھلا گناہ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–21
17: اوپر یہ بتایا جاچکا ہے کہ عورتوں کو گلوخلاصی کے لئے مہر واپس کرنے پر مجبور کرنا صرف اس صورت میں جائز ہے جب انہوں نے کھلی بےحیائی کا ارتکاب کیا ہو، اب یہ فرمایا جارہا ہے کہ اگر تم ان سے مہر واپس کرنے کا مطالبہ کروگے تو یہ تمہاری طرف سے ان پر بہتان باندھنے کے مرادف ہوگا کہ انہوں نے کھلی بےحیائی کا ارتکاب کیا ہے، کیونکہ ان کو مہر کی واپسی پر مجبور کرنا اس صورت کے سوا کسی حالت میں جائز نہیں ہے۔
Read the full tafseer →(آیت) ” وان اردتم استبدال زوج مکان زوج واتیتم احدھن قنطارا فلا تاخذوا منہ شیئا ، اتاخذونہ بھتانا واثما مبینا (02)
” اور اگر تم ایک بیوی کی جگہ دوسری بیوی لے آنے کا ارادہ ہی کرلو تو خواہ تم نے اسے ڈھیر سا مال ہی کیوں نہ دیا ہو ‘ اس میں سے کچھ واپس نہ لینا ۔ کیا تم اسے بہتان لگا کر اور صریح ظلم کرکے واپس لوگے ؟ “۔
یہاں بھی ایک گہرا انسانی اور وجدانی ٹچ دیا جاتا ہے ۔ عائلی زندگی کی ایک جھلک دکھائی جاتی ہے ۔ عجیب انداز تعبیر اور اشارات سے بھر پور رموز ہیں ۔
Read the full tafseer →1 اسلام سے پہلے یہ بھی ہوتا تھا کہ جب کوئی چاہتا کہ پہلی عورت کو چھوڑ کر دوسری عورت سے نکاح کرے تو پہلی عورت پر تہمت لگاتا اور مختلف طرح سے اس پر زیادتی اور سختی کرتا کہ مجبور ہو کر مہر واپس کر دے اور نکاح جدید میں کام آئے۔ یہ آیت اس کی ممانعت میں نازل ہوئی کہ جب پہلی عورت کو چھوڑ کر دوسری کرو اور پہلی عورت کو بہت سا مال دے چکے ہو تو اب اس میں سے کچھ بھی واپس مت لو، کیا تم بہتان باندھ کر اور صریح ظلم کر کے زوجہ اولیٰ سے وہ مال لینا چاہتے ہو یہ ہرگز جائز نہیں۔
Read the full tafseer →آیت 20 وَاِنْ اَرَدْتُّمُ اسْتِبْدَالَ زَوْجٍ مَّکَانَ زَوْجٍلا
اگر تم نے فیصلہ کر ہی لیا ہو کہ ایک بیوی کی جگہ دوسری بیوی لانی ہے۔
وَّاٰتَیْتُمْ اِحْدٰٹہُنَّ قِنْطَارًا فَلاَ تَاْخُذُوْا مِنْہُ شَیْءًا ط
عورتوں کو تم نے جو مہر دیا تھا وہ ان کا ہے ‘ اب اس میں سے کچھ واپس نہیں لے سکتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–21
35 خطلاق دیتے وقت عورت سے مال ہتھیانے کی کوشش :۔ یہاں دینے سے مراد صرف حق مہر نہیں۔ اس کے علاوہ بھی جو کچھ تم اپنی بیویوں کو دے چکے ہو۔ وہ ہرگز واپس نہ لینا چاہیے۔ بیوی کا تو خیر حق بھی ہوتا ہے۔ انسان اگر کسی دوسرے شخص کو کوئی چیز دے تو پھر اسے وہ واپس نہیں لینی چاہیے۔ کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ اپنے صدقہ (اور دوسری روایت کے مطابق اپنے ہبہ) کو واپس لینے والا اس کتے کی طرح ہے جو قے کر کے چاٹ لیتا ہے۔ (بخاری، کتاب الہبہ، باب ھبۃ الرجل لامراتہ والمرأۃ لزوجھا)
اور یہ بہتان اور صریح گناہ اس لحاظ سے ہے کہ نکاح کے وقت تم نے بھری مجلس میں گواہوں کے سامنے حق مہر کی ادائیگی کا اقرار کیا تھا۔…
Read the full tafseer →69 ۔ بلا اس کے کہ اس پہلی بیوی کا کوئی قصور ہو۔ یعنی محض اپنی رغبت و خواہش سے تم ایک بیوی چھوڑ کر دوسری کرنا چاہتے ہو۔
70 ۔ (اور اس طرح اقرار کیے ہوئے مال کو روک بھی مت رکھو) (آیت) ” احدھن “۔ یعنی اس پہلی بیوی کو جسے اب چھوڑ رہے ہو، (آیت) ” قنطارا “۔ کے معنی مال کے انبار کے ہیں۔ القنطار المال العظیم (کبیر وکشاف) اس پر ایک سوال یہ پیدا ہوا ہے کہ حدیث میں تو مہر کی زیادتی کی ممانعت آئی ہے لیکن خلیفہ راشد حضرت عمر ؓ نے ایک مسجد میں سرمنبر گوپہلے مہر کی زیادتی سے روکا لیکن ایک ضعیفہ کے ٹوکنے پر اس کا جواز بھی تسلیم کرلیا اور خود اس آیت سے بھی ڈھیروں مال کا جواز ثابت ہو رہا ہے ؟ سوال کا ایک مشہور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–21
یٰآیُّھَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا لَایَحِلُّ لَکُمْ اَنْ تَرِثُوا النِّسَآءَ ، عرب جاہلیت میں میت کی جائداد کی طرح اس کی بیوی بھی سوتیلے لڑکوں کے ورثہ میں آجاتی تھی اور یہی دستور یونانی اور رومی تمدن کے بھی کسی دور میں رہ چکا ہے (ماجدی) عرب جاہلیت میں وارث اگر چاہتا تو ان سے جبراً خود نکاح کرلیتا یا دوسروں کے نکاح میں دیدیتا گار چاہتا تو کسی سے بھی نکاح کی اجازت نہ دیتا اور ساری عمر یوں ہی گزارنے پر مجبور کردیتا، اسلام نے ظلم کے ان تمام طریقوں سے منع کیا ہے، عرب جاہلیت میں ایک ظلم عورت پر یہ بھی کیا جاتا تھا کہ اگر شوہر کو وہ ناپسند ہوتی اور وہ اس سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہتا تو از خود اس کو طلاق…
Read the full tafseer →و ان اردتم استبدال زوج مکان زوج اور اگر تم ایک بیوی کی جگہ دوسری بیوی کرنا چاہو یعنی بغیر نافرمانی کرنے اور مرتکب زناء ہونے کے اگر کسی بیوی کو طلاق دے کر تم دوسری عورت سے نکاح کرنا چاہو۔
و اتیتم احدھن قنطارا اور بیویوں میں سے کسی بیوی کے مہر میں تم نے ڈھیروں مال دے دیا ہو ھُنَّ کی ضمیر زوج کی طرف راجع ہے کیونکہ زوج کا اطلاق واحد پر بھی ہوتا ہے اور جمع پر بھی اور چونکہ یہاں مردوں کی جماعت سے خطاب ہے اس لیے زوج سے عورتوں کو جماعت مراد ہے تاکہ افراد کا مقابلہ افراد سے صحیح ہوجائے۔ قنطار کا معنی ہے مال کثیر، مراد ہے مہر میں دیا ہو امال کثیر۔ ابن جریر نے حضرت انس کی راویت سے قنطار کی تشریح میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–21
(20۔ 21) اور اگر تم ایک کو طلاق دے کر دوسری سے شادی کرنا چاہتے ہو یا اس ایک کے ہوتے ہوئے ایک اور سے شادی کا ارادہ ہے اور تم نے اس پہلے والی کو مہر بھی دے دیا تو تم اس مہر میں سے ناجائز طور سے کچھ بھی مت لو اور یہ ناجائز طریقہ پر مہر وصول کرنا صریح ظلم ہے اور تم اس مہر کو کیوں جائز سمجھتے ہو جب ایک لحاف میں مہر اور نکاح کے ساتھ خلوت کرچکے ہو اور اللہ تعالیٰ عورتوں کے بارے میں تم سے ایک پختہ وعدہ لے چکا ہے کہ رکھو تو خوبی اور حسن معاشرت کے ساتھ رکھو ورنہ خوبی کے ساتھ چھوڑ دو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–21
وَاِنْ اَرَدْتُّمُ اسْتِبْدَالَ زَوْجٍ۔۔ : یہ عورتوں سے متعلق چوتھا حکم ہے۔ جب پہلی آیات میں بیان فرمایا کہ اگر صحیح طریقے سے ساتھ نہ رہنے کی وجہ عورت کی جانب سے ہو تو مہر واپس لینے کے لیے اسے تنگ کرنا جائز ہے، یہاں بتایا کہ جب زیادتی شوہر کی جانب سے ہو تو پھر عورت سے فدیۂ طلاق لینا ممنوع اور حرام ہے۔ یعنی بلاوجہ تنگ کر کے ان سے مہر واپس لو گے تو یہ ایسا ہی ہے جیسے کوئی بہتان باندھ کر مہر واپس لے رہا ہے اور اس صورت میں تم ان پر دوہرا ظلم کرو گے، ایک بلاوجہ تنگ کرنا اور دوسرا مہر واپس لینا، اس لیے اسے ”اثما مبینا“ فرمایا۔
وَّاٰتَيْتُمْ اِحْدٰىھُنَّ قِنْطَارًا : اس سے معلوم ہوتا ہے کہ زیادہ مہر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–21
آیت نمبر : 20 تا 21۔
ان آیات میں تین مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر : (1) گزشتہ آیات میں اس جدائی کا حکم گزر چکا جس کا سبب عورت ہے اس صورت میں خاوند کے لیے اپنا مہر واپس لینا جائز تھا اب اس جدائی کا ذکر ہو رہا ہے جس کا سبب خاوند ہے، یہاں فرمایا کہ جب مرد، عورت کو بغیر بدخلقی اور سوء معاشرت کے اسے طلاق دینے کا ارادہ کرے تو اس سے مال طلب نہ کرے۔
مسئلہ نمبر : (2) علماء کا اختلاف ہے کہ جب میاں، بیوی آپس میں جدائی کا ارادہ کرتے ہوں اور دونوں کی طرف سے نافرمانی اور سوء معاشرت کا مظاہرہ ہو، تو امام مالک (رح) نے فرمایا : خاوند کے لیے اس سے مال لینا جائز ہے جب جدائی کا سبب عورت بھی ہو، مرد کے سبب ہونے کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–21
(1) ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” وان اردتم استبدال زوج مکان زوج “ سے مراد ہے اگر تو ناپسند کرے اپنی عورت کو اور اس کے علاوہ دوسری عورت کو پسند کرے تو اس کو طلاق دے دے اور اس سے شادی کرلے۔ اور اس کو مہر دے دے اگرچہ بڑا مال ہو۔
(2) عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” وان اردتم استبدال زوج مکان زوج “ سے مراد ہے کہ ایک عورت کو طلاق اور دوسری سے نکاح پھر مطلقہ کے مال میں سے وہ مرد کے لئے کوئی چیز حلال نہیں اگرچہ بہت مال ہو۔
(3) ابن جریر نے انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا لفظ آیت ” اوتیتم احدہن قنطارا “ سے مراد ہے دو…
Read the full tafseer →[ وَاِنْ : اور اگر ] [ اَرَدْتُّمُ : تم لوگ ارادہ کرو ] [ اسْتِبْدَالَ زَوْجٍ : کسی بیوی کا بدلے میں لینا ] [ مَّـکَانَ زَوْجٍ : کسی بیوی کی جگہ ] [ وَّاٰتَـیْتُمْ : اور تم نے دیاہو ] [ اِحْدٰٹہُنَّ : ان کی کسی ایک کو ] [ قِنْطَارًا : ایک ڈھیر (مال) ] [ فَلاَ تَاْخُذُوْا مِنْہُ : تم لوگ مت لو اس میں سے ] [ شَیْئًا : کوئی چیز ] [ اَتَـاْخُذُوْنَـہٗ : کیا تم لوگ لیتے ہو اس کو ] [ بُہْتَاناً : جھوٹا الزام لگاتے ہوئے ] [ وَّاِثْمًا مُّبِیْنًا : اور کھلاگناہ ہوتے ہوئے ]
Read the full tafseer →بیویوں کو جو کچھ دے دیا ہو اس کے واپس لینے کی ممانعت
اگر کسی شخص کے نکاح میں کوئی عورت ہو اور وہ اسے طلاق دے کر دوسری عورت سے نکاح کرنا چاہے اس کے متعلق آیت بالا میں ہدایت فرمائی ہے کہ اگر کسی بیوی کو چھوڑ رہے ہو جسے تم مہر میں یا مہر کے علاوہ بھی بطور ہبہ و عطیہ کے بہت سامال دے چکے ہو تو اس مال میں سے کچھ نہ لو، اول تو طلاق دینا ہی مبغوض چیز ہے پھر ایسی عورت کو جو ایک عرصہ ساتھ رہی ہے خصوصاً جبکہ اس کا کوئی قصور نہ ہو اس کو طلاق دینا اور جو مال اس کو دے دیا ہو وہ اس سے واپس لے لینا اخلاق اسلامیہ کے خلاف ہے اس قسم کے مواقع میں عورتیں مال واپس کرنے سے گریز کرتی ہیں لہٰذا مال لینے کے لیے طرح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–21
تتمہ مضمون سابق۔
اوپر کی آیت میں اللہ نے یہ فرمایا کہ تمہاری بیویاں فحاچی کی مرتکب ہوں تو ان کو ضرر پہنچا کر خلع پر مجبور کرنا اور اس طرح ان سے دیا ہوا مہر واپس لے لینا روا ہے اب اس آیت میں یہ فرمایا کہ اگر عورتیں بےقصور ہیں اور بدکار اور نافرمان نہ ہوں اور تم ان کو محض اپنی رغبت سے چھوڑنا چاہو تو پھر ان کو ستا کرا اور تنگ کرکے اپنا دیا ہو امہر ان سے واپس لینا تمہارے لیے روا نہیں خواہ وہ دیا ہوا مہر کتنا ہی کثیر کیوں نہ ہو کیونکہ جب وہ بےقصور ہیں تو انکو ایذا پہنچانا حرام ہے زمانہ جاہلیت کا ایک دستور یہ بھی تھا کہ جب کوئی شخص اپنی عورت سے ناخوش ہوتا اور اسے چھوڑ کر دوسری عورت سے نکاح کرنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–21
18 آٹھواں حکم رعیت۔ (ورثہ میں مال ملا کرتا ہے عورتیں نہیں ملا کرتیں۔ ہاں اگر وہ راضی ہوں تو ان سے نکاح کرلو) زمانہ جاہلیت کی ایک ننگ انسانیت رسم یہ تھی کہ ورثاء مال کی طرح اپنے مورثوں کی بیویوں کو بھی اپنی وراثت سمجھتے تھے اور اگر وہ کسی سے نکاح کرنا چاہتی تھیں تو انہیں جبرا روک دیتے تھے اگر وہ خوبرو ہوتی تو خود اس سے نکاح کرلیتے ورنہ اسے محبوس رکھتے اور اس کے مرنے کے بعد اس کے مال پر قابض ہوجاتے تو اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ وراثت میں مال ملا کرتا ہے عورتیں نہیں ملا کرتیں۔ ہاں اگر کوئی عورت بخوشی نکاح کرنا چاہے تو نکاح کرلو بشرطیکہ وہ تمہاری محرم نہ ہو۔ کَرْھاً ۔ فعلِ محذوف کا مفعول مطلق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–21
ربط آیات
گزشتہ سے پیوستہ درس میں مردوں اور عورتوں کی اخلاقی بےحیائی کا ذکر تھا ، اور اس کی سزا کا تعین بھی تھا پھر درمیان میں اللہ تعالیٰ نے توبہ کی قبولیت کا وقت تواب اور رحیم کا تذکرہ فرمایا۔ توبہ کی شرائط کا بیان آیا ، نیز یہ بھی کہ توبہ کی قبولیت کا وقت نزع کی حالت شروع ہونے سے پہلے پہلے ہے۔ جب دوسرے جہان کی چیزیں نظر آنے لگیں۔ انسان قریب المرگ ہوجائے تو اس وقت کی توبہ قبول نہیں ، اسی طرح جو لوگ کفر کی حالت پر ہی مرجائیں ان کی توبہ بھی قبول نہیں۔ البتہ ان حالات سے پہلے پہلے جو شخص سچے دل سے توبہ کرلے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرمالیتے ہیں۔ مسند احمد کی روایت میں آتا ہے کہ ابلیس نے…
Read the full tafseer →وَاِنْ اَرَدْتُّمُ اسْتِبْدَالَ زَوْجٍ مَّكَانَ زَوْجٍ 0 ۙ وَّاٰتَيْتُمْ اِحْدٰىھُنَّ قِنْطَارًا فَلَا تَاْخُذُوْا مِنْہُ شَـيْـــًٔـا 0 ۭ اَتَاْخُذُوْنَہٗ بُھْتَانًا وَّاِثْمًا مُّبِيْنًا 20
رود
والْإِرَادَةُ منقولة من رَادَ يَرُودُ : إذا سعی في طلب شيء، والْإِرَادَةُ في الأصل : قوّة مركّبة من شهوة وحاجة وأمل، نحو : إِنْ أَرادَ بِكُمْ سُوءاً أَوْ أَرادَ بِكُمْ رَحْمَةً [ الأحزاب/ 17]
( ر و د ) الرود
الا رادۃ یہ اراد یرود سے ہے جس کے معنی کسی چیز کی طلب میں کوشش کرنے کے ہیں اور ارادۃ اصل میں اس قوۃ کا نام ہے ، جس میں خواہش ضرورت اور آرزو کے جذبات ملے جلے ہوں ۔ چناچہ فرمایا : إِنْ أَرادَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–21
ترکیب : ان ترثوا بتاویل مصدر فاعل لا یحل اور کرھا مصدر اور حال ہے مفعول سے اور وہ بالفتح والضم پڑھا جاتا ہے لتذھبوا کالام متعلق ہے تعضلوا سے الا ان یاتین استثنائِ منقطع ہے۔
تفسیر : توبہ کا وصف بیان کرکے پھر عورتوں کے متعلق احکام بیان فرماتا ہے۔ ایام جاہلیت میں عرب طرح طرح سے عورتوں کو تکلیف دیتے تھے جس سے ان آیات میں منع فرماتا ہے۔ اول لا یحل لکم عرب میں پہلے دستور تھا کہ جب کوئی شخص بیوی چھوڑ کر مرتا تھا تو اس کا بیٹا جو دوسری بیوی سے ہوتا تھا یا کوئی اور وارث آکر اس بیوہ پر کپڑا ڈال دیتا تھا اور کہتا تھا کہ جس طرح میں میت کے مال کا وارث ہوں اسی طرح اس کی بیوی کا بھی۔ اس کے بعد یا تو بغیر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–21
وَاِنْ اَرَدْتُّمُ اسْتِبْدَالَ زَوْجٍ مَّکَانَ زَوْجٍ لا وَّاٰتَیْتُمْ اِحْدٰھُنَّ قِنْطَارًا فَلاَ تَاْخُذُوْا مِنْہُ شَیْئًا ط اَتَاْخُذُوُنَہٗ بُھْتَانًا وَّ اِثْمًا مُّبِیْنًا وَکَیْفَ تَاْخُذُوْنَہٗ وَقَدْ اَفْضٰی بَعْضُکُمْ اِلٰی بَعْضٍ وَّاَخَذْنَ مِنْـکُمْ مِّیْثَاقًا غَلِیْظًا
(اگر تم ایک بیوی کی جگہ دوسری بیوی لے آنے کا ارادہ ہی کرلو اور تم نے ایک کو ڈھیروں مال دے رکھا ہو تو بھی اس میں سے کچھ نہ لو کیا تم بہتان لگا کر اور کھلی ہوئی حق تلفی کرکے اس کو لوگے اور آخر تم اس سے کس طرح لے لوگے جبکہ تم ایک دوسرے سے لطف اندوز ہوچکے ہو اور انھوں نے تم سے مضبوط عہد لے رکھا ہے) (النسآء : 20 تا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–21
فہم القرآن
ربط کلام : عورتوں کے حقوق و فرائض کا تذکرہ جاری ہے۔
بیوی کی کوئی بات ناگوار ہو تو پھر بھی اس کے ساتھ گزارا کرنا چاہیے ‘ بصورت دیگر طلاق دیتے ہوئے اس سے حق مہر واپس لینے کی اجازت نہیں۔ پہلے حکم تھا اگر بیوی کی کوئی عادت ناگوار ہو تب بھی اس کے ساتھ اچھے طریقے سے رہنا چاہیے اور جبرًا کسی عورت کو نکاح میں لینا یا بیوی کی کسی چیز پر قبضہ کرنا جائز نہیں۔ اب اس بات کی اجازت دی گئی ہے کہ اگر بیوی کے ساتھ نباہ کی کوئی صورت باقی نہ رہے اور خاوند نے بیوی بدلنے کا فیصلہ کرلیا ہو تو ایسی صورت میں اس کو دیا ہوا حق مہر یا کوئی تحفہ بیشک وہ کتنا ہی گرانقدر اور قیمتی کیوں نہ ہو اس میں کچھ بھی واپس…
Read the full tafseer →آیت 20: ایک جاہلانہ روش :
زمانہ جاہلیت میں جب کوئی آدمی کسی عورت کو دیکھتا اور وہ اس کو پسند آجاتی۔ تو اپنی سابقہ بیوی پر بہتان لگاتا اور زنا کی طرف اس کی نسبت کرتا۔ تاآنکہ مجبور ہو کر وہ اپنے مہر سے دست بردار ہوتی یا اس کو واپس کرتی۔ اس آیت میں فرمایا گیا۔ وَاِنْ اَرَدْتُّمُ اسْتِبْدَالَ زَوْجٍ مَّکَانَ زَوْجٍ (اگر تم ایک بیوی کو طلاق دے کر دوسری کو اس کی جگہ بدلنا چاہتے ہو) وَ ٰاتَیْتُمْ اِحْدٰٹہُنَّ (اور تم نے ایک بیوی کو دے رکھا ہے) احدٰٹہن سے احدی الزوجات مراد ہے۔ اور زوج سے مراد جمع ہے۔ کیونکہ ٰاتَیْتُمْ میں ضمیر خطاب جماعت رجال کو ہے۔ قِنْطَارًا (خزانہ) بہت زیادہ مال جیسا کہ آل عمران…
Read the full tafseer →(تفسیر) 20۔:
(آیت)” وان ارتم استبدال زوج مکان زوج “۔ اگر تم ایک بیوی کی جگہ دوسری بیوی کرنا چاہتے ہو ، اگر پہلی کی طرف سے کوئی نافرمانی یا فاحش کا ارتکاب نہ ہو تو (آیت)” واتیتم احداھن قنطارا ‘ ؓ تو تم نے مال کثیر مہر میں دیا ہو ۔ (آیت)” فلا تاخذوا منہ “۔ تو نہ لو اس مال کثیر سے ” شیئا “۔ کچھ بھی چیز ” اتاخذونہ “۔ میں ہمزہ استفہام برائے توبیخ کے لیے ہے ، (آیت)” بھتانا واثمامبینا “۔ یہ دونوں منصوب ہیں ایک وجہ تو یہ ہے کہ منصوب ہے حروف جارہ کے حذف ہونے کی وجہ سے اور دوسرا مااضمر عاملہ کی وجہ سے تقدیری عبارت یوں ہوگی ” تصیبون فی اخذہ بھتانا واثما “۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–21
(19 ۔ 21) ۔ بخاری ابوداؤد اور نسائی میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ اسلام سے پہلے یہ دستور تھا کہ مردے کے وارث بیوہ عورت کو غیر جگہ نکاح نہیں کرنے دیتے تھے بلکہ اس عورت کو مجبور کر کے خود ہی اس سے نکاح کرتے تھے اور دوسرے شخص سے نکاح کرنے کی اجازت دیتے تھے تو مہر کی ساری رقم یا اس میں کا کوئی حصہ اس عورت سے خود لے لیتے تھے۔ غرض بہ نسبت عورت کے رشتہ دار اور وارثوں کے خود ہی عورت کے زیادہ حق دار ٹھہر تھے تھے اس دستور کو اسلام میں بند کرنے کی غرض سے اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی 4۔ اور فرمایا کہ مردے کے وارثوں کو یہ نہ چاہیے کہ بیوہ کو غیر جگہ نکاح کرنے سے روکیں تاکہ بیوہ عاجز ہو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–20
آیت 17
اللہ تعالیٰ کا بندوں کی طرف رجوع کرنے کی دو قسمیں ہیں۔ (1) اللہ تعالیٰ کا بندے کو توبہ کی توفیق عطا کرنا۔
(2) بندے کے توبہ کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ کا اس کو قبول کرلینا۔
اللہ تعالیٰ نے یہاں آگاہ فرمایا ہے کہ توبہ اللہ تعالیٰ پر استحقاق ہے، قبولیت توبہ ایک ایسا حق ہے جسے خود اللہ تعالیٰ نے اپنے جودو کرم کی بنا پر اپنے آپ پر اس بندے کے لئے لازم فرمایا ہے جو برا کام کر بیٹھتا ہے (بجھالۃ) یعنی وہ اس برائی کے انجام، اللہ تعالیٰ کی ناراضی اور اس کے عذاب سے، جس کی یہ برائی موجب ہوتی ہے۔ لاعلمی کی وجہ سے برائی کا ارتکاب کرتا ہے۔ وہ برائی کرتے وقت اس بات سے بھی جاہل ہوتا ہے کہ اللہ دیکھ رہا ہے…
Read the full tafseer →قول باری ہے (فان کرھتموھن فعسی ان تکرھواشیئا ویجعل اللہ فیہ خیرا کثیر، اگر تمہیں وہ بری لگیں تو ہوسکتا ہے کہ ایک چیز تمہیں بری لگے اور اللہ نے اس میں بڑی بھلائی رکھ دی ہو۔
اس میں یہ دلالت ہے کہ شوہر کو اس بات کی ترغیب دی گئی ہے کہ وہ بیوی کو ناپسند کرنے کے باوجودا سے عقدزوجیت میں باقی رکھے۔
حضور ﷺ سے بھی اس معنی میں روایت ہے جسے ہمیں محمد بن ب کرنے بیان کیا، انہیں ابوداؤدنے، انہیں کثیر بن عبدنے انہیں محمد بن خالد نے معروف بن واصل سے، انہوں نے محارب بن وثار سے، انہوں نے حضرت ابن عمر ؓ سے اور انہوں نے حضور ﷺ سے کہ (البغض الحلال الی اللہ تعالیٰ الطلاق، اللہ کے نزدیک تمام حلال اور جائز باتوں میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–20
43 دو قسم کے لوگوں کیلئے کوئی توبہ نہیں : سو یہ دونوں قسم کے لوگ اپنی ہی تقصیر و کوتاہی کی بنا پر قبولیت توبہ کے شرف سے محروم رہینگے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ یعنی ایک وہ شخص جو آخر وقت تک گناہوں میں مشغول رہا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ یہاں تک کہ جب موت اس کے سامنے آگئی تو وہ توبہ کرنے لگا کہ یہ توبہ اختیاری نہیں اضطراری ہے۔ کیونکہ یہ عذاب کو دیکھنے کے بعد کی توبہ ہے اور مُعَاینہ عذاب کے بعد، جبکہ مطلوب وہ توبہ ہے جو کہ اپنے ارادہ و اختیار سے ہو۔ اور دوسرا وہ شخص جو زندگی بھر اپنے کفر و باطل پر ہی اڑا رہا یہاں تک کہ وہ مرتے وقت یا آخرت میں پہنچ کر توبہ کرتا ہے تو اس کی توبہ بھی قبول نہیں ہوگی،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–21
مہر کے مسائل
تشریح : ان آیات میں تین صورتیں مہر کے بارے میں بیان کی گئی ہیں۔ پہلی یہ صورت ہے کہ اگر کسی وجہ سے مرد دوسری شادی کرنا چاہتا ہے اور وہ خیال کرتا ہے کہ کسی صورت پہلی بیوی سے مہر کی رقم واپس لے لے یا جو کچھ بہت سا مال تحفہ کے طور پر یا کسی بھی طور سے وہ بیوی کو دے چکا ہے اس سے واپس لے کر دوسری بیوی کے لیے خرچ کرے یا کہیں اور خرچ کرے تو اس سے سختی سے منع کیا گیا ہے کہ جو مال بیوی کو دیا جاچکا ہے واپس لینا ہرگز جائز نہیں۔ سوائے اس صورت کے جو پچھلی آیت میں بیان ہوچکی تو اس صورت کے لیے فرمایا کہ صرف مال واپس لینے کے لیے یا بیوی کو ستانے کے لیے مرد کو اس حرکت کی اجازت نہیں دی گئی کہ وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–22
آیات 19 تا 22: یا ایہا الذین امنوا لا یحل لکم۔۔۔ انہ کان فاحشۃ و مقتا۔ وساء سبیلا۔
معاشرہ میں عورت کا مقام :
عورت ہی کے حقوق و فرائض کی بحث میں توبہ کی بات تو ضمناً آگئی تھی چناچہ عورت کا مال میں اور وراثت میں حق پھر عورت کا فرض کہ جس خاندان سے وراثت پاتی ہے اس کی آبرو کی حفاظت کرے اب عورت کا مقام بیان ہورہا ہے کہ بیوی بن کر وہ کسی کی غلام نہیں بن جاتی بلکہ اس کے حقوق اور زیادہ محفوظ ہوجاتے ہیں یہاں ان مظالم کا رد فرمایا جو قبل اسلام عورت پر روا رکھے جاتے تھے یا بعض رواج جو ابھی تک غیر مسلم اقوام میں پائے جاتے ہیں مثلاً اگر کوئی عورت بیوہ ہوجاتی تو اس کی کوئی حیثیت نہ رہتی اور شوہر کے وارث…
Read the full tafseer →ف 1 یہ عورتوں کے متعلق چوتھا حکم ہے جب پہلی آیت میں بیان فرمایا کہ اگر سو عشرت عورت کی جانب سے ہو تو مہر واپس لینے کے لیے اسے تنگ کرنا جائز ہے۔ یہاں بتایا کہ جب زیادتی حرام ہے۔ (کبیر) یعنی کہ بلا وجہ تنگ کر کے ان سے مہر واپس لو گے تو یہ ایسا ہی ہے جیسے کوئی بہتان باندھ کر واپس لے رہا ہے اور اس صورت میں تم ان پر دو ہر اظلم کروگے بلا وجہ تنگ کرنا اور مہر واپس لینا۔ اس لیے اسے اثمامبینا فرمایا (کبیر) آپ سے ثابت ہوا کہ جماع کے بعد دیا ہوا مہر واپس نہیں ہوسکتا چناچہ مذکور ہے کہ آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں ایک شخص نے کسی عورت سے نکاح کرلیا۔ جب اس کے پاس گیا تو معلوم ہوا کہ وہ زنا سے حاملہ ہے اس پر وہ نبی…
Read the full tafseer →(4:20) استبدال (استفعال) بدلنا۔ تبدیلی چاہنا۔ مصدر ہے۔
قنطار۔ مال کثیر۔ مال کا انبار۔ بھتانا۔ بہتان لگا کر۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–21
آیت نمبر 19-21
لغات القرآن : لایحل، حلال نہیں ہے۔ ترثوا، وارث (نہ) بن جاؤ (مالک بن بیٹھنا) ۔ کرہ، زبردستی کرنا۔ لاتعضلوا، مت روکو، بند نہ کرو۔ لتذھبوا، تاکہ تم لے جاؤ۔ اتیتموھن، تم نے ان کو دیا۔ عاشروا، تم زندگی گزارو۔ کر ھتموا، تم نے برا سمجھا۔ عسی، شاید۔ ان تکرھوا، یہ کہ تم برا سمجھو۔ یجعل، بناتا ہے، ڈالتا ہے۔ اردتم، تم نے ارادہ کرلیا۔ استبدال، بدلنا، بدلنے کی خواہش۔ زوج مکان زوج، بیوی کی جگہ بیوی۔ اتیتم، تم نے دیا۔ احدھن، ان میں سے کوئی ایک۔ قنطار، مال کا ڈھیر۔
تشریح : عرب جاہلیت میں عورتوں پر طرح طرح کے ظلم ہوا کرتے تھے جس سے ایک عورت کو اپنے معاشرہ میں تحفظ کے لئے کسی طرح کے بھی حقوق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–21
حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ اسلام سے پہلے یہ دستور تھا کہ مردے کے وارث بیوہ عورت کو غیر جگہ نکاح نہیں کرنے دیتے تھے۔ بلکہ مجبور کرکے خود ہی کرتے تھے اور اگر دوسرے شخص سے نکاح کرنے کی اجازت دیتے بھی تو مہر کی ساری رقم یا جزو اس عورت سے خود لے لیتے تھے۔ اس دستور کو اسلام میں بند کرنے کی غرض سے اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–23
[22] یعنی شوہر کے مرنے کے بعد اس کے خاندان والے اس کی بیوہ کو میراث سمجھ کر اس کے والی وارث نہ بن بیٹھیں۔ شوہر کے مرنے کے بعد عورت آزاد ہے کہ عدت گزار کر جہاں چاہے جائے اور جس سے چاہے نکاح کرے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–22
مہر واپس نہ لو :
(ف 1) اس آیت میں بتایا ہے کہ بیوی لو طلاق دینے کے بعد مہر یا وہ تحائف جو تم نے وقتا فوقتا اسے دیئے ہیں واپس نہ لو کہ یہ مروت اور حسن معاشرت کے منافی ہے یعنی طلاق کے معنی باقاعدہ اور آداب کے مطابق علیحدگی کے ہیں ، نہ اظہار بغض وعداوت کے ۔
اسلام نے ہر مرحلہ پر انسان کو اخلاق کی بلند شاہراہ پر قائم رہنے کی تلقین کی ہے ، اسی لئے وہ کہتا ہے کہ تم طلاق و علیحدگی کے بعد بھی حسن سلوک کے اصول کو نہ بھولو ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
ف 2 اے ایمان والو تمہارے لئے یہ بات حلال نہیں کہ تم عورتوں پر زبردستی قابض ہوجائو اور ان کی جان اور ان کے مال کے زبردستی مالک بن جائو اور نہ ان کو اس غرض سے مقید رکھو اور روکے رہو کہ جو مال تم نے ان کو دیا ہے اس مال میں سے کوئی حصہ ان سے واپس لے لو اور کچھ حصہ اس مال کا ان سے وصول کرلو مگر ہاں اس وقت جب کہ وہ کسی صریح بےحیائی اور ناشائستہ حرکت کی مرتکب ہوں تو ایسی صورت میں ان کو مقید کرنا جائز ہے اور دیکھو عورتوں سے حسن سلوک کے ساتھ زندگی بسر کرو اور خوبی اور بھلائی کے ساتھ ان سے گذران کرو پھر اگر تم ان کو پسند نہ کرو اور وہ طبعاً تم کو پسند نہ ہوں تو اس بات کو یاد رکھو کہ ایسا ہوسکتا ہے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–21
ف 3۔ اگر کسی کو شبہ ہو کہ حدیث میں تاکید آئی ہے کہ مہر کم مقرر کرنے کی اور اس آیت سے زیادہ کا جواز معلوم ہوتا ہے تو اس کا دفع یہ ہے کہ یہ جواز مفہوم من القرآن بمعنی صحت ونفاذ ہے۔ اور حدیث میں جواز بمعنی اباحت مطلقہ وعدم کراہت کی نفی ہے پس کچھ تعارض نہیں رہا اور حضرت عمر کا ایک واقعہ میں زیادہ مہر کے جواب کو مان لینا اس لیے تھا کہ سامعین اس کو حرام نہ سمجھنے لگیں پس اس سے کراہت کا عدم ثابت نہیں ہوتا نہ حضرت عمر پر کوئی اعتراض لازم آتا ہے۔
Read the full tafseer →اگر ازدواجی زندگی کی بحالی کی کوئی صورت نہیں رہی تو نقصان کو بخوشی قبول کرلو :
49: اوپر کی آیت میں بتایا تھا کہ ناپسندیدگی کے باوجود اعلیٰ طریقہ یہی ہے کہ آدمی بیوی کے ساتھ شائستہ طریقہ پر نباہنے کی کوشش کرے۔ اب یہ بتایا جا رہا ہے کہ کوئی شخص اپنے حالات کے تقاضوں سے اگر اس فیصلہ پر پہنچ ہی گیا ہے کہ اس تعلق کو استوار نہیں رکھا جاسکتا اور اس طرح کوئی نیا جوڑ بند لگانا چاہتا ہے تو یہ تو بہرحال نہ کرے کہ جو کچھ پہلی بیوی کو لکھ دیا ہے اس کو واپس لینے کی کوشش کرے۔ یہاں تک کہ اگر اس کو ڈھیروں مال بھی اس نے دیا ہے جب بھی اس کے لیے جائز نہیں کہ وہ اس کے واپس لینے کے لیے ہتھکنڈے استعمال کرنے شروع کر…
Read the full tafseer →The next two verses (20, 21) also enlarge upon this subject. Here it has been said that, should it be that the woman has just not shown any contumacy or immodesty, but the husband, following his own physical desire and pleasure, intends to marry another woman in her place, then again it will not be permissible for him to claim anything from her in exchange of divorce, even though he had given her a lot of wealth. Similarly, it will not be allowed for him to force her to forgo the dower due against him. This is because there is no fault of the woman and the cause which makes the dower due and…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
28. This means that the relatives of the husband should not treat the widow of the deceased as if she were a part of the inheritance and begin imposing their will on her. Upon the death of her husband a woman becomes independent. As soon as her legally-prescribed period of waiting ends, she is free to go to wherever she likes and to marry anyone she wishes.
29. This permission is intended not in order to provide them with an excuse to misappropriate her property but to exercise a restraint on her conduct and prevent her from lewdness.
30. This means that if the wife is either not beautiful or…
Read the full tafseer →