An-Nisaa 4:19

An-Nisaa · from ayah 19

4:19

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا یَحِلُّ لَكُمْ اَنْ تَرِثُوا النِّسَآءَ كَرْهًا ؕ— وَلَا تَعْضُلُوْهُنَّ لِتَذْهَبُوْا بِبَعْضِ مَاۤ اٰتَیْتُمُوْهُنَّ اِلَّاۤ اَنْ یَّاْتِیْنَ بِفَاحِشَةٍ مُّبَیِّنَةٍ ۚ— وَعَاشِرُوْهُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ ۚ— فَاِنْ كَرِهْتُمُوْهُنَّ فَعَسٰۤی اَنْ تَكْرَهُوْا شَیْـًٔا وَّیَجْعَلَ اللّٰهُ فِیْهِ خَیْرًا كَثِیْرًا ۟يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَا يَحِلُّ لَـكُمۡ اَنۡ تَرِثُوا النِّسَآءَ كَرۡهًا‌ ؕ وَلَا تَعۡضُلُوۡهُنَّ لِتَذۡهَبُوۡا بِبَعۡضِ مَاۤ اٰتَيۡتُمُوۡهُنَّ اِلَّاۤ اَنۡ يَّاۡتِيۡنَ بِفَاحِشَةٍ مُّبَيِّنَةٍ‌ ۚ وَعَاشِرُوۡهُنَّ بِالۡمَعۡرُوۡفِ‌ ۚ فَاِنۡ كَرِهۡتُمُوۡهُنَّ فَعَسٰۤى اَنۡ تَكۡرَهُوۡا شَيۡـئًـا وَّيَجۡعَلَ اللّٰهُ فِيۡهِ خَيۡرًا كَثِيۡرًا

مومنو! تم کو جائز نہیں کہ زبردستی عورتوں کے وارث بن جاؤ۔ اور (دیکھنا) اس نیت سے کہ جو کچھ تم نے ان کو دیا ہے اس میں سے کچھ لے لو انہیں (گھروں میں) میں مت روک رکھنا ہاں اگر وہ کھلے طور پر بدکاری کی مرتکب ہوں (تو روکنا مناسب نہیں) اور ان کے ساتھ اچھی طرح رہو سہو اگر وہ تم کو ناپسند ہوں تو عجب نہیں کہ تم کسی چیز کو ناپسند کرو اور خدا اس میں بہت سی بھلائی پیدا کردے

— Fateh Muhammad Jalandhari

O you who have believed, it is not lawful for you to inherit women by compulsion. And do not make difficulties for them in order to take [back] part of what you gave them unless they commit a clear immorality. And live with them in kindness. For if you dislike them - perhaps you dislike a thing and Allah makes therein much good.

— Saheeh International

Juz 4 · Ruku 3 of surah · Ruku 14 of juz

Read the whole surah · Surah An-Nisaa

All translations of 4:19

اے لوگو جو ایمان لائے ہو، تمہارے لیے یہ حلال نہیں ہے کہ زبردستی عورتوں کے وارث بن بیٹھو اور نہ یہ حلال ہے کہ انہیں تنگ کر کے اُس مہر کا کچھ حصہ اڑا لینے کی کوشش کرو جو تم انہیں دے چکے ہو ہاں اگر وہ کسی صریح بد چلنی کی مرتکب ہو ں (تو ضرور تمہیں تنگ کرنے کا حق ہے) ان کے ساتھ بھلے طریقہ سے زندگی بسر کرو اگر وہ تمہیں ناپسند ہوں تو ہو سکتا ہے کہ ایک چیز تمہیں پسند نہ ہو مگر اللہ نے اُسی میں بہت کچھ بھلائی رکھ دی ہو

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

مومنو! تم کو جائز نہیں کہ زبردستی عورتوں کے وارث بن جاؤ۔ اور (دیکھنا) اس نیت سے کہ جو کچھ تم نے ان کو دیا ہے اس میں سے کچھ لے لو انہیں (گھروں میں) میں مت روک رکھنا ہاں اگر وہ کھلے طور پر بدکاری کی مرتکب ہوں (تو روکنا مناسب نہیں) اور ان کے ساتھ اچھی طرح رہو سہو اگر وہ تم کو ناپسند ہوں تو عجب نہیں کہ تم کسی چیز کو ناپسند کرو اور خدا اس میں بہت سی بھلائی پیدا کردے

— مولانا فتح محمد جالندہری

ایمان والو! تمہیں حلال نہیں کہ زبردستی عورتوں کو ورﺛے میں لے بیٹھو انہیں اس لئے روک نہ رکھو کہ جو تم نے انہیں دے رکھا ہے، اس میں سے کچھ لے لو ہاں یہ اور بات ہے کہ وه کوئی کھلی برائی اور بے حیائی کریں ان کے ساتھ اچھے طریقے سے بودوباش رکھو، گو تم انہیں ناپسند کرو لیکن بہت ممکن ہے کہ تم کسی چیز کو برا جانو، اور اللہ تعالیٰ اس میں بہت ہی بھلائی کر دے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اے ایمان والو ! یہ بات تمہارے لیے حلال نہیں ہے کہ تم زبردستی عورتوں کے مالک بن بیٹھو، اور ان کو اس غرض سے مقید مت کرو کہ تم نے جو کچھ ان کو دیا ہے اس کا کچھ حصہ لے اڑو، الا یہ کہ وہ کھلی بےحیائی کا ارتکاب کریں، اور ان کے ساتھ بھلے انداز میں زندگی بسر کرو، اور اگر تم انہیں پسند نہ کرتے ہو تو یہ عین ممکن ہے کہ تم کسی چیز کو ناپسند کرتے ہو اور اللہ نے اس میں بہت کچھ بھلائی رکھ دی ہو۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اے ایمان والو! تمہیں حلال نہیں کہ عورتوں کے وارث بن جاؤ زبردستی اور عورتوں کو روکو نہیں اس نیت سے کہ جو مہر ان کو دیا تھا اس میں سے کچھ لے لو مگر اس صورت میں کہ صریح بے حیا ئی کا کام کریں اور ان سے اچھا برتاؤ کرو پھر اگر وہ تمہیں پسند نہ آئیں تو قریب ہے کہ کوئی چیز تمہیں ناپسند ہو اور اللہ اس میں بہت بھلائی رکھے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اے ایمان والو! تمہارے لئے یہ حلال نہیں کہ تم زبردستی عورتوں کے وارث بن جاؤ، اور انہیں اس غرض سے نہ روک رکھو کہ جو مال تم نے انہیں دیا تھا اس میں سے کچھ (واپس) لے جاؤ سوائے اس کے کہ وہ کھلی بدکاری کی مرتکب ہوں، اور ان کے ساتھ اچھے طریقے سے برتاؤ کرو، پھر اگر تم انہیں نا پسند کرتے ہو تو ممکن ہے کہ تم کسی چیز کو ناپسند کرو اور اللہ اس میں بہت سی بھلائی رکھ دے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! تمہارے لیے حلال نہیں کہ زبردستی عورتوں کے وارث بن جاؤ اور نہ انھیں اس لیے روک رکھو کہ تم نے انھیں جو کچھ دیا ہے اس میں سے کچھ لے لو، مگر اس صورت میں کہ وہ کھلم کھلا بےحیائی کا ارتکاب کریں اور ان کے ساتھ اچھے طریقے سے رہو، پھر اگر تم انھیں ناپسند کرو تو ہوسکتا ہے کہ تم ایک چیز کو ناپسند کرو اور اللہ اس میں بہت بھلائی رکھ دے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اے ایمان والو ! تمہارے لیے یہ جائز نہیں کہ تم زبردستی عورتوں کے وارث بن بیٹھو۔ اور نہ ہی انہیں اس لیے روکے رکھو کہ جو مال (حق مہر وغیرہ) تم انہیں دے چکے ہو اس کا کچھ حصہ اڑا لو۔ اِلا ّ یہ کہ وہ صریح بدچلنی کا ارتکاب کریں۔ اور ان کے ساتھ بھلے طریقے سے زندگی بسر کرو۔ اگر وہ تمہیں ناپسند ہوں تو ہوسکتا ہے کہ کوئی چیز تمہیں ناگوار ہو مگر اللہ نے اس میں بہت۔ بھلائی رکھ دی ہو

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اے ایمان والو، تمہارے لیے یہ بات جائز نہیں ہے کہ تم عورتوں کے زبردستی وارث بن جاؤ اور نہ یہ بات جائز ہے کہ جو کچھ تم نے ان کو دیا ہے اس کا کچھ حصہ واپس لینے کے لیے ان کو تنگ کرو مگر اس صورت میں کہ وہ کسی کھلی ہوئی بدکاری کی مرتکب ہوئی ہوں اور ان کے ساتھ معقول طریقے کا برتاؤ کرو۔ اگر تم ان کو ناپسند کرتے ہو تو بعید نہیں کہ ایک چیز کو تم ناپسند کرو اور اللہ تمہارے لیے اس میں بہت بڑی بہتری پیدا کردے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اے وہ لوگوں جو ایمان لائے ہو، تمہارے لئے یہ جائز نہیں کہ تم وارث بن جاؤ عورتوں کے زبردستی، اور نہ یہ کہ تم ان کو تنگ کرو کہ تاکہ اس طرح تم ہتھیا لو کچھ حصہ اس (مال) کا جو تم نے ان کو دیا ہو، مگر اس صورت میں کہ وہ ارتکاب کریں کسی کھلی بےحیائی کا، اور تم ان سے اچھائی ہی کا برتاؤ کرو، سو اگر وہ تمہیں یونہی بری لگیں تو (اس کا کوئی اعتبار نہیں کہ) ہوسکتا کہ ایک چیز تمہیں تو بری لگتی ہو مگر اللہ نے اس میں بہت کچھ بھلائی رکھی ہو

— مولانا اسحاق مدنی

اے ایمان والو تمہارے لیے جائز نہیں کہ تم عورتوں کے جبرا مالک ہوجاؤ۔ اور نہ انہیں اس غرض سے قید رکھو کہ تم نے انہیں جو کچھ دے رکھا ہے اس کا کچھ حصہ وصول کرلو بجر اس صورت کے کہ وہ صریح بدکرداری کی مرتکب ہوں۔ اور بیویوں کے ساتھ خوش اسلوبی سے گزر بسر کیا کرو۔ اگر وہ تمہیں ناپسند ہوں تو عجب کیا کہ تم ایک شے کو ناپسند کرو اور اللہ اس کے اندر کوئی بڑی بھلائی رکھ دے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اے اہل ایمان ! تمہارے لیے جائز نہیں کہ تم عورتوں کو زبردستی وراثت میں لے لو اور نہ یہ جائز ہے کہ تم انہیں روکے رکھو تاکہ تم ان سے واپس لے لو اس کا کچھ حصہ جو کچھ تم نے ان کو دیا ہے ہاں اگر وہ صریح بدکاری کی مرتکب ہوئی ہوں (تو تمہیں ان کو تنگ کرنے کا حق ہے) اور عورتوں کے ساتھ اچھے طریقے پر معاشرت اختیار کرو اگر وہ تمہیں ناپسند ہوں تو بعید نہیں کہ ایک چیز تمہیں ناپسند ہو اور اس میں اللہ نے تمہارے لیے بہت کچھ بہتری رکھ دی ہو

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اے ایمان والو ! تمہارے لیے یہ حلال نہیں ہے کہ زبردستی عورتوں کے وارث بن بیٹھو اور نہ یہ حلال ہے کہ انہیں تنگ کرکے اس مہر کا کچھ حصہ اڑا لینے کی کوشش کرو جو تم انہیں دے چکے ہو۔ ہاں اگر وہ کسی صریح بدچلنی کی مرتکب ہوں تو (پھر تمہیں تنگ کرنے کا حق ہے) ان کے ساتھ بھلے طریقے سے زندگی بسر کرو، اگر وہ تمہیں ناپسند ہوں تو ہوسکتا ہے ایک چیز تمہیں پسند نہ ہو مگر اللہ نے اسی میں بہت سی بھلائی رکھ دی ہو

— محترمہ رفعت اعجاز

Believers! It is not lawful for you to become heirs to women against their will. It is not lawful that you should put constraint upon them that you may take away anything of what you have given them; (you may not put constraint upon them) unless they are guilty of brazenly immoral conduct. Live with your wives in a good manner. If you dislike them in any manner, it may be that you dislike something in which Allah has placed much good for you.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

O you who believe, it is not lawful for you that you should forcibly take women as inheritance. Do not hold on to them so that you may take away some of what you have given them, unless they commit a clearly shameful act. Live with them in the recognized manner. If you dislike them, then it is quite likely that you dislike something and Allah has placed a lot of good in it.

— Muhammad Taqi Usmani

O you who believe, it is not lawful for you that you should forcibly take women as inheritance. Do not hold on to them so that you may take away some of what you have given them, unless they commit a clearly shameful act. Live with them in the recognized manner. If you dislike them, then it is quite likely that you dislike something and Allah has placed a lot of good in it.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

O you who believe! You are not permitted to inherit women against their will, nor to prevent them from marriage in order to get part of (the dowry) what you have given them, unless they commit open Fahishah. And live with them honorably. If you dislike them, it may be that you dislike a thing and Allah brings through it a great deal of good.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

O ye who believe! It is not lawful for you forcibly to inherit the women (of your deceased kinsmen), nor (that) ye should put constraint upon them that ye may take away a part of that which ye have given them, unless they be guilty of flagrant lewdness. But consort with them in kindness, for if ye hate them it may happen that ye hate a thing wherein Allah hath placed much good.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

O you who have believed, it is not lawful for you to inherit women by compulsion. And do not make difficulties for them in order to take [back] part of what you gave them unless they commit a clear immorality. And live with them in kindness. For if you dislike them - perhaps you dislike a thing and Allah makes therein much good.

— Saheeh International

Believers, it is not lawful for you to inherit women against their will as part of the legacy. Do not create difficulties for your wives in order to force them to give-up part of what you had given to them to set themselves free from the bond of marriage, unless they have clearly committed adultery. Always treat them reasonably. If you dislike them, you could be disliking that which God has filled with abundant good.

— Muhammad Sarwar

O you who believe! it is not lawful for you that you should take women as heritage against (their) will, and do not straiten them in order that you may take part of what you have given them, unless they are guilty of manifest indecency, and treat them kindly; then if you hate them, it may be that you dislike a thing while Allah has placed abundant good in it.

— Muhammad Habib Shakir

O Ye who believe! it is not allowed unto you that ye may heir the women forcibly; nor shut them up that ye may take away from them part of that which ye had given them, except when they be guilty of manifest enormity. And live with them reputably if ye detest them, belike ye detest a thing and yet Allah hath placed therein abundant good.

— Abdul Majid Daryabadi

O ye who believe! Ye are forbidden to inherit women against their will. Nor should ye treat them with harshness, that ye may Take away part of the dower ye have given them,-except where they have been guilty of open lewdness; on the contrary live with them on a footing of kindness and equity. If ye take a dislike to them it may be that ye dislike a thing, and Allah brings about through it a great deal of good.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 4:19

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 19–22

عورت پر ظلم کا خاتمہ صحیح بخاری میں ہے حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ قبل اسلام جب کوئی شخص مرجاتا ہے تو اس کے وارث اس کی عورت کے پورے حقدار سمجھے جاتے اگر ان میں سے کوئی چاہتا تو اپنے نکاح میں لے لیتا اگر وہ چاہتے تو دوسرے کسی کے نکاح میں دے دیتے اگر چاہتے تو نکاح ہی نہ کرنے دیتے میکے والوں سے زیادہ اس عورت کے حقدار سسرال والے ہی گنے جاتے تھے جاہلیت کی اس رسم کے خلاف یہ آیت نازل ہوئی، دوسری روایت میں یہ بھی آیا ہے کہ وہ لوگ اس عورت کو مجبور کرتے کہ وہ مہر کے حق سے دست بردار ہوجائے یا یونہی بےنکاحی بیٹھی رہے، یہ بھی مروی ہے کہ اس عورت کا خاوند مرتے ہی کوئی بھی آ کر اس پر اپنا کپڑا ڈال دیتا اور…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 19–20

سورة النِّسَآء 28 اس سے مراد یہ ہے کہ شوہر کے مرنے کے بعد اس کے خاندان والے اس کی بیوہ کو میت کی میراث سمجھ کر اس کے ولی وارث نہ بن بیٹھیں۔ عورت کا شوہر جب مر گیا تو وہ آزاد ہے۔ عدت گزار کر جہاں چاہے جائے اور جس سے چاہے نکاح کرلے۔ سورة النِّسَآء 29 مال اڑانے کے لیے نہیں بلکہ بدچلنی کی سزا دینے کے لیے۔ سورة النِّسَآء 30 یعنی اگر عورت خوبصورت نہ ہو، یا اس میں کوئی ایسا نقص ہو جس کی بنا پر شوہر کو پسند نہ آئے، تو یہ مناسب نہیں ہے کہ شوہر فوراً دل برداشتہ ہو کر اسے چھوڑ دینے پر آمادہ ہوجائے۔ حتی الامکان اسے صبر و تحمل سے کام لینا چاہیے۔ بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ ایک عورت خوبصورت نہیں ہوتی مگر اس…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

ربط آیات مندرجہ بالا آیات میں توبہ کا ذکر ایک مناسبت سے آیا تھا، اس سے پہلے عورتوں سے متعلق احکام کا ذکر چل رہا تھا، ان آیات میں بھی عورتوں کے متعلق احکام ہیں، جاہلیت میں عورتوں پر ان کے شوہروں کی طرف سے بھی ظلم ہوتا تھا اور ان کے وارثوں کی طرف سے بھی۔ جب عورت کا شوہر مر جاتا تو شوہر کے ورثاء اپنی من مانی کرتے تھے، دل چاہتا تو اسی عورت کے ساتھ خود نکاح کرلیتے یا دوسرے کے ساتھ کرا دیتے اور اگر رغبت نہ ہوئی تو نہ خود نکاح کریں اور نہ دوسرے سے نکاح کرنے دیں بلکہ ان کو قیدی بنا کر رکھیں، تاکہ اس کو ذریعہ آمدنی نہ دیں، اس لئے کہا اس صورت میں اب وہ یا تو اپنا مال متاع ان کو دے کر اپنے آپ کو چھڑا…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا يَحِلُّ لَكُمْ اَنْ تَرِثُوا النِّسَاۗءَ كَرْهًا ۭوَلَا تَعْضُلُوْھُنَّ لِتَذْهَبُوْا بِبَعْضِ مَآ اٰتَيْتُمُوْھُنَّ اِلَّآ اَنْ يَّاْتِيْنَ بِفَاحِشَةٍ مُّبَيِّنَةٍ ۚ وَعَاشِرُوْھُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ ۚ فَاِنْ كَرِھْتُمُوْھُنَّ فَعَسٰٓى اَنْ تَكْرَهُوْا شَـيْـــــًٔـا وَّيَجْعَلَ اللّٰهُ فِيْهِ خَيْرًا كَثِيْرًا وَلَا تَعْضُلُوْھُنَّ۔ عضل کے معنی : عضل یعضل کے معنی تنگ کرنے، زچ کرنے اور روکنے کے ہیں۔ معاشرت بالمعروف : َعَاشِرُوْھُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ ، یعنی ان کے ساتھ اس طرح کا برتاؤ کرو جو شریفوں کے شایان شان، عقل و فطرت کے مطاب، رحم و مروت اور عدل و انصاف…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

19۔ 1 اسلام سے قبل عورت پر ایک ظلم بھی ہوتا تھا کہ شوہر کے مرجانے کے بعد اس کے گھر کے لوگ اس کے مال کی طرح اس کی عورت کے بھی زبردستی وارث بن بیٹھتے تھے اور خود اپنی مرضی سے، اس کی رضامندی کے بغیر اس سے نکاح کرلیتے یا اپنے بھائی بھتیجے سے اس کا نکاح کردیتے، حتی کہ سوتیلا بیٹا تک بھی مرنے والے باپ کی عورت سے نکاح کرلیتا اور اگر چاہتے تو کسی اور جگہ نکاح نہ کرنے دیتے تھے۔ اور ساری عمر یونہی رہنے پر مجبور ہوتی اسلام نے ظلم کے ان تمام طریقوں سے منع فرمایا۔ 19۔ 2 ایک ظلم یہ بھی کیا جاتا تھا کہ اگر خاوند کو پسند نہ ہوتی اور وہ اس سے چھٹکارہ حاصل کرنا چاہتا تو از خود اس کو طلاق نہ دیتا بلکہ اسے خوب…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

16: زمانہ جاہلیت میں یہ ظالمانہ رسم چلی آتی تھی کہ جب کسی عورت کے شوہر کا انتقال ہوجاتا تو اس کے ورثاء اس عورت کو بھی میراث کا حصہ سمجھ کر اس کے اس معنی میں مالک بن بیٹھتے تھے کہ وہ ان کی اجازت کے بغیر نہ دوسری شادی کرسکتی تھی اور نہ زندگی کے دوسرے اہم فیصلے کرنے کا حق رکھتی تھی اس آیت نے اس ظالمانہ ہر رسم کو ختم فرمایا ہے۔ اسی طرح ایک ظالمانہ رواج یہ تھا کہ جب کوئی شوہر اپنی بیوی کو طلاق دینا چاہتا، لیکن ساتھ ہی یہ بھی چاہتا کہ جو مہر ان کو دے چکا ہے وہ اسے واپس مل جائے تو وہ اپنی بیوی کو طرح طرح سے تنگ کرنا شروع کردیتا تھا، مثلاً وہ اس کو گھر میں اس طرح مقید رکھتا تھا کہ وہ بیچاری مجبور ہو…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

(آیت) ” یایھا الذین امنوا لا یحل لکم ان ترثوا النسآء کرھا ولا تعضلوھن لتذھبواببعض ما اتیتموھن الا ان یاتین بفاحشة مبینة وعاشروھن بالمعروف ، فان کرھتموھن فعسی ان تکرھوا شیئا ویجعل اللہ فیہ خیرا کثیرا ۔ (91) وان اردتم استبدال زوج مکان زوج واتیتم احدھن قنطارا فلا تاخذوا منہ شیئا ، اتاخذونہ بھتانا واثما مبینا (02) وکیف تاخذونہ وقد افضی بعضکم الی بعض واخذن منکم میثاقا غلیظا (12) ولا تنکحوا مانکح ابآوکم من النسآء الا ما قد سلف ، انہ کان فاحشة ومقتا وسآء سبیلا “۔ (22) اس سے پہلے کہ اسلام عربوں کو قعر مذلت سے نکال کر عزت و شرافت کی بلند سطح تک پہنچاتا ‘ عربوں کی حالت یہ تھی کہ جب کوئی فوت ہوجاتا تو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

5 حسب بیان سابق عورتوں کی بد افعالی کی بابت تادیب و سیاست کا حکم دے کر اب اہل جاہلیت کی اس ظلم وتعدی کو روکا جاتا ہے جو تعدی عورتوں پر وہ طرح طرح سے کیا کرتے تھے سو منجملہ ان صورتوں کے ایک صورت یہ ہوتی تھی کہ جب کوئی مرجاتا تو اس کی عورت کو میت کا سوتیلا بیٹا یا بھائی یا اور کوئی وارث لے لیتا پھر چاہتا تو اس سے نکاح کرلیتا یا بغیر نکاح ہی اپنے گھر میں رکھتا یا کسی دوسرے سے نکاح کر کے اس کا مہر کل یا بعض لے لیتا یا ساری عمر اس کو اپنی قید میں رکھتا اور اس کے مال کا وارث ہوتا۔ اس کی بابت یہ آیت نازل ہوئی جس کا خلاصہ یہ ہے کہ جب کوئی مرجائے تو اس کی عورت اپنے نکاح کی مختار ہے میت کے بھائی اور اس…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 19 یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لاَ یَحِلُّ لَکُمْ اَنْ تَرِثُوا النِّسَآءَ کَرْہًا ط۔ یہ بھی عرب جاہلیت کی ایک مکروہ رسم تھی جس میں عورتوں کے طبقے پر شدید ظلم ہوتا تھا۔ ہوتا یوں تھا کہ ایک شخص فوت ہوا ہے ‘ اس کی چار پانچ بیویاں ہیں ‘ تو اس کا بڑا بیٹا وارث بن گیا ہے۔ اب اس کی حقیقی ماں تو ایک ہی ہے ‘ باقی سوتیلی مائیں ہیں ‘ تو وہ ان کو وراثت میں لے لیتا تھا کہ یہ میرے قبضے میں رہیں گی ‘ بلکہ ان سے شادیاں بھی کرلیتے تھے یا بغیر نکاح اپنے گھروں میں ڈالے رکھتے تھے ‘ یا پھر یہ کہ اختیار اپنے ہاتھ میں رکھ کر ان کی شادیاں کہیں اور کرتے تھے تو مہر خود لے لیتے تھے۔ چناچہ فرمایا کہ اے اہل…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

32 جاہلیت میں عورت ترکہ کا مال تھا :۔ یعنی عورت بھی ترکہ کا مال تصور ہوتی تھی اور اس کا وارث سوتیلا بیٹا یا میت کا بھائی ہوتا تھا چناچہ درج ذیل حدیث سے واضح ہے : سیدنا ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ عربوں میں یہ دستور تھا کہ جب کوئی شخص مرتا تو اس کی بیوی پر میت کے وارثوں کا زور چلتا تھا (وہ بھی ترکہ ہی تصور ہوتی تھی) چاہتے تو خود اس سے نکاح پڑھا لیتے، چاہتے تو کسی اور سے نکاح کردیتے اور چاہتے تو اسے بلانکاح ہی رہنے دیتے۔ غرض اس پر خاوند کے وارثوں کا اختیار تھا، عورت کے وارثوں کا کچھ بھی اختیار نہ تھا۔ پھر یہ آیت اتری (جس سے عورتوں کو پوری آزادی مل گئی۔ ) (بخاری، کتاب التفسیر) 33 یعنی انہیں گھر میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

65 ۔ عرب جاہلیت میں میت کی جائداد کی طرح اس کی بیویاں بھی وارث کے قبضہ میں آجاتی تھیں اور یہی دستور یونانی تمدن اور رومی تمدن میں بھی رہ چکا ہے۔ (ملاحظہ ہو حاشیہ تفسیر انگریزی) پھر مرد اگر چاہتا تو ان سے جبرا یا خودنکاح کرلیتا یا دوسروں کے نکاح میں دے دیتا (آیت) ” ترثوالنسآء “۔ میں بیویوں کے جسم کا مالک ہونا بھی آگیا اور ان کے مال وجائداد کا بھی، عورتوں کے مال کے مالک ہوجانے کی تین صورتیں مفسر تھانوی (رح) نے لکھا ہے کہ عرب میں رائج تھیں، ایک یہ کہ عورت کا جو حق شرعی میراث میں نکل رہا ہو اسے خود لے لیا جائے اور اسے نہ دیا جائے، دوسرے یہ کہ اس کو نکاح نہ کرنے دیا جائے یہاں تک کہ وہ مرجائے اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 19–21

یٰآیُّھَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا لَایَحِلُّ لَکُمْ اَنْ تَرِثُوا النِّسَآءَ ، عرب جاہلیت میں میت کی جائداد کی طرح اس کی بیوی بھی سوتیلے لڑکوں کے ورثہ میں آجاتی تھی اور یہی دستور یونانی اور رومی تمدن کے بھی کسی دور میں رہ چکا ہے (ماجدی) عرب جاہلیت میں وارث اگر چاہتا تو ان سے جبراً خود نکاح کرلیتا یا دوسروں کے نکاح میں دیدیتا گار چاہتا تو کسی سے بھی نکاح کی اجازت نہ دیتا اور ساری عمر یوں ہی گزارنے پر مجبور کردیتا، اسلام نے ظلم کے ان تمام طریقوں سے منع کیا ہے، عرب جاہلیت میں ایک ظلم عورت پر یہ بھی کیا جاتا تھا کہ اگر شوہر کو وہ ناپسند ہوتی اور وہ اس سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہتا تو از خود اس کو طلاق…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

یایھا الذین امنوا لا یحل لکم ان ترثوالنساء کرھا . اے اہل ایمان تمہارے لیے حلال نہیں کہ زبردستی عورتوں کے مالک بن جاؤ۔ یعنی یہ جائز نہیں کہ عورتوں کو مال میراث کی طرح اپنے قبضہ میں لے لو اور ان سے نکاح کرلو مجبور کرکے یا کرھا کا یہ معنی ہے کہ وہ نہ چاہتی ہوں اور تم ان سے نکاح کرلو (اوّل معنی پر کرھا مصدر مجہول ہوگا اور دوسرے معنی پر مصدر مبنی للفاعل) حمزہ اور کسائی نے اس جگہ اور سورة توبہ میں کرھا بضم کاف پڑھا ہے دوسرے قراء نے ہر جگہ بفتح کاف روایت کیا ہے فراء نے کہا بضم کاف کا معنی یہ ہے کہ دوسرے کو مجبور کیا جائے اور بفتح کاف کا معنی یہ ہے کہ کوئی خود بادل نا خواستہ کوئی فعل کرے۔ کسائی نے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(19) اپنے آباء کی عورتوں کے مال کا زبردستی مالک ہونا حلال نہیں، اور ان کو شادی کرنے سے مت روکو تاکہ تمہارے آباء نے جو مال دیا ہے، وہ بھی وصول کرلو، یہ آیت کبشہ بنت معن انصاریہ اور محض بن ابی قیس انصاری کے بارے میں نازل ہوئی ہے اور یہ لوگ اس سے قبل اس مال کے وارث ہوجایا کرتے تھے۔ مگر یہ کہ ان کے زنا پر گواہ قائم ہوجائیں تو پھر ان کو جیل میں بند رکھو اور جیل کا حکم آیت رجم سے منسوخ ہوگیا اور جس طریقہ سے وہ اپنے آباء کے اموال کے وارث ہوتے تھے، اسی طرح ان کی عورتوں کے بھی وارث ہوجایا کرتے تھے۔ سب سے بڑا لڑکا وارث بنتا تھا اگر وہ عورت خوبصورت اور مالدار ہوتی تو بغیر مہر کے اس سے تعلق قائم کرلیتا…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

اَنْ تَرِثُوا النِّسَاۗءَ كَرْهًا ۭ : زنا وغیرہ کے سلسلہ میں ضمناً توبہ کے احکام بیان فرمانے کے بعد اب یہاں سے پھر عورتوں کے حقوق کا بیان ہو رہا ہے اور اس سے مقصد عورتوں کو اس ظلم و زیادتی سے نجات دلانا ہے جو جاہلیت میں ان پر روا رکھی جاتی تھی۔ اس کے مخاطب یا تو شوہر کے اولیاء ہیں، جیسا کہ امام بخاری ؓ اور دوسرے محدثین نے اس آیت کی شان نزول میں ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ زمانۂ جاہلیت میں میت کے اولیاء دوسری چیزوں کی طرح اس کی بیوی کے بھی مالک ہوتے تھے، ان میں سے اگر کوئی چاہتا تو خود اس سے شادی کرلیتا، یا کسی دوسرے سے شادی کردیتے (اور مہر خود لے لیتے) اور اگر چاہتے تو عورت کو کلیتاً شادی سے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر : 19۔ اس آیت میں آٹھ مسائل ہیں : مسئلہ نمبر : (1) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” لا یحل لکم ان ترثوا النسآء کرھا “۔ اس کا تعلق پہلے مذکور بیویوں کے ذکر سے ہے، اس سے مقصود ان سے ظلم اور تکلیف کو دور کرنا ہے اور خطاب اولیاء کو ہے ان، یحل کی وجہ سے محل رفع میں ہے، یعنی تمہارے لیے عورتوں کا وارث بننا صحیح نہیں ہے، کرھا مصدر ہے حال واقع ہو رہا ہے۔ اس آیت کے نزول کے سبب میں روایات اور مفسرین کے اقوال مختلف ہیں، بخاری نے اس آیت کی تفسیر میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے فرمایا : جب کوئی شخص فوت ہوجاتا تو اس کے ورثاء اس کی بیوی کے زیادہ حقدار ہوتے اگر کوئی چاہتا تو اس سے نکاح کرلیتا، اگر…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

(1) بخاری و ابوداؤد و نسائی و بیہقی نے اپنی سنن میں وابن مردویہ نے وابن المنذر وابن ابی حاتم نے عکرمہ کے طریق سے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” یایھا الذین امنوا لا یحل لکم ان ترثوا النساء کرھا “ کے بارے میں روایت کیا کہ جب کوئی آدمی مرجاتا تھا تو اس کے ورثاء اس کی بیوی کے مالک کے بارے میں فیصلہ کرنے کے مجاز ہوتے (یعنی مالک بن جاتے تھے) ان میں سے بعض اگر چاہتے تو اس سے شادی کرلیتے تھے اور اگر چاہتے تو اس کا نکاح کہیں کرا دیتے تھے اور اگر چاہتے تو کسی سے بھی شادی نہ کرتے اور یہ لوگ اس کے حقدار یعنی مالک بن جاتے تھے اس کے اہل و عیال میں سے اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ (2) ابو داؤد نے (وجہ…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ یٰٓـــاَیـُّــہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا : اے لوگو جو ایمان لائے ہو ] [ لاَ یَحِلُّ : حلال نہیں ہوتا ] [ لَــکُمْ : تمہارے لیے ] [ اَنْ : کہ ] [ تَرِثُوا : تم لوگ وارث بنو ] [ النِّسَآئَ : عورتوں کے ] [ کَرْہًا : زبردستی ] [ وَلاَ تَعْضُلُوْہُنَّ : اور تم لوگ مت روکو ان کو ] [ لِتَذْہَبُوْا : تاکہ تم لوگ لے جائو ] [ بِبَعْضِ مَـآ : اس کے بعض کو جو ] [ اٰتَـیْتُمُوْہُنَّ : تم لوگوں نے دیا ان کو ] [ اِلَّآ اَنْ : سوائے اس کے کہ ] [ یَّـاْتِیْنَ : وہ کریں ] [ بِفَاحِشَۃٍ مُّـبَــیِّنَۃٍ : کوئی کھلی بےحیائی ] [ وَعَاشِرُوْہُنَّ : اور تم لوگ مل جل کر رہو ان سے ] [ بِالْمَعْرُوْفِ : بھلے طریقے سے ]…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

جبروا کراہ کے ساتھ عورتوں کی جان و مال کا وارث بننے کی ممانعت جاہلیت کے زمانہ میں عورتوں پر لوگ طرح طرح سے ظلم و زیادتی کرتے تھے۔ یہ ظلم ان کی جانوں پر بھی ہوتا تھا اور ان کے مالوں پر بھی۔ ان کی جانوں پر اس طرح ظلم ہوتا تھا کہ جب کسی عورت کا شوہر مرگیا تو اس عورت کو میت کے ساتھ مال کی طرح اپنی میراث سمجھتے تھے۔ عورت کو اپنی جان میں کوئی اختیار نہ ہوتا تھا کہ خود سے کہیں اپنا نکاح نہیں کرسکتی تھیں۔ پھر جو لوگ وارث ہوتے اس عورت کو اپنی مرضی سے جہاں چاہتے بیاہ دیتے تھے اور یہ بیاہنا ایک طرح کا بیچنا ہوتا تھا۔ مہر میں جو مال ملتا تھا خود ہی کھا جاتے تھے۔ یا باقاعدہ باندی کی طرح بیچ دیتے تھے او…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

حکم دہم ممانعت ظلم برنسواں قال تعالیٰ یا ایھا الذین۔۔۔ الی۔۔ کثیرا۔ آیت۔ ربط) اس آیت میں بھی من جملہ تعدی حدود اللہ کی ایک خاص صورت کو بیان فرمایا کہ عورتوں کا زبردستی مالک بن جانا یہ بھی حدود اللہ سے تجاوز کرنا ہے زمانہ جاہلیت میں یہ رسم تھی کہ جب کوئی شخص بیوی چھوڑ کر مرجاتا تو اس کا سوتیلابیٹا جو دوسری بیوی سے ہوتا یا کوئی اور وارث آکر اس بیوہ عورت پر کوئی چادر یا کپڑاڈال دیتا اور یہ کہتا کہ جس طرح میں میت کے مال کا وارث ہوں اسی طرح اس کی بیوہ کا بھی وارث ہوں اس کے بعد اگر وہ چاہتا تو بغیر مہر کے خود اس سے نکاح کرلیتا یا کسی اور سے نکاح کردیتا مگر اس کا مہر خود لے لیتا یا نہ خود نکاح اور…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 19–21

18 آٹھواں حکم رعیت۔ (ورثہ میں مال ملا کرتا ہے عورتیں نہیں ملا کرتیں۔ ہاں اگر وہ راضی ہوں تو ان سے نکاح کرلو) زمانہ جاہلیت کی ایک ننگ انسانیت رسم یہ تھی کہ ورثاء مال کی طرح اپنے مورثوں کی بیویوں کو بھی اپنی وراثت سمجھتے تھے اور اگر وہ کسی سے نکاح کرنا چاہتی تھیں تو انہیں جبرا روک دیتے تھے اگر وہ خوبرو ہوتی تو خود اس سے نکاح کرلیتے ورنہ اسے محبوس رکھتے اور اس کے مرنے کے بعد اس کے مال پر قابض ہوجاتے تو اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ وراثت میں مال ملا کرتا ہے عورتیں نہیں ملا کرتیں۔ ہاں اگر کوئی عورت بخوشی نکاح کرنا چاہے تو نکاح کرلو بشرطیکہ وہ تمہاری محرم نہ ہو۔ کَرْھاً ۔ فعلِ محذوف کا مفعول مطلق…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 19–21

ربط آیات گزشتہ سے پیوستہ درس میں مردوں اور عورتوں کی اخلاقی بےحیائی کا ذکر تھا ، اور اس کی سزا کا تعین بھی تھا پھر درمیان میں اللہ تعالیٰ نے توبہ کی قبولیت کا وقت تواب اور رحیم کا تذکرہ فرمایا۔ توبہ کی شرائط کا بیان آیا ، نیز یہ بھی کہ توبہ کی قبولیت کا وقت نزع کی حالت شروع ہونے سے پہلے پہلے ہے۔ جب دوسرے جہان کی چیزیں نظر آنے لگیں۔ انسان قریب المرگ ہوجائے تو اس وقت کی توبہ قبول نہیں ، اسی طرح جو لوگ کفر کی حالت پر ہی مرجائیں ان کی توبہ بھی قبول نہیں۔ البتہ ان حالات سے پہلے پہلے جو شخص سچے دل سے توبہ کرلے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرمالیتے ہیں۔ مسند احمد کی روایت میں آتا ہے کہ ابلیس نے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا يَحِلُّ لَكُمْ اَنْ تَرِثُوا النِّسَاۗءَ كَرْہًا۝ 0 ۭ وَلَا تَعْضُلُوْھُنَّ لِتَذْہَبُوْا بِبَعْضِ مَآ اٰتَيْتُمُوْھُنَّ اِلَّآ اَنْ يَّاْتِيْنَ بِفَاحِشَۃٍ مُّبَيِّنَۃٍ۝ 0 ۚ وَعَاشِرُوْھُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ۝ 0 ۚ فَاِنْ كَرِھْتُمُوْھُنَّ فَعَسٰٓى اَنْ تَكْرَہُوْا شَـيْــــًٔـا وَّيَجْعَلَ اللہُ فِيْہِ خَيْرًا كَثِيْرًا۝ 19 أیمان يستعمل اسما للشریعة التي جاء بها محمّد عليه الصلاة والسلام، وعلی ذلك : الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ [ المائدة/ 69] ، ويوصف به كلّ من دخل في شریعته مقرّا بالله وبنبوته . قيل : وعلی هذا قال تعالی: وَما…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 19–21

ترکیب : ان ترثوا بتاویل مصدر فاعل لا یحل اور کرھا مصدر اور حال ہے مفعول سے اور وہ بالفتح والضم پڑھا جاتا ہے لتذھبوا کالام متعلق ہے تعضلوا سے الا ان یاتین استثنائِ منقطع ہے۔ تفسیر : توبہ کا وصف بیان کرکے پھر عورتوں کے متعلق احکام بیان فرماتا ہے۔ ایام جاہلیت میں عرب طرح طرح سے عورتوں کو تکلیف دیتے تھے جس سے ان آیات میں منع فرماتا ہے۔ اول لا یحل لکم عرب میں پہلے دستور تھا کہ جب کوئی شخص بیوی چھوڑ کر مرتا تھا تو اس کا بیٹا جو دوسری بیوی سے ہوتا تھا یا کوئی اور وارث آکر اس بیوہ پر کپڑا ڈال دیتا تھا اور کہتا تھا کہ جس طرح میں میت کے مال کا وارث ہوں اسی طرح اس کی بیوی کا بھی۔ اس کے بعد یا تو بغیر…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا یَحِلُّ لَـکُمْ اَنْ تَرِثُوا النِّسَآئَ کَرْھًا ط وَلَا تَعْضُلُوْھُنَّ لِتَذْھَبُوْا بِبَعْضِ مَآاٰ تَیْتُمُوْھُنَّ اِلاَّ ٓ اَنْ یَّاْتِیْنَ بِفَاحِشَۃٍ مُّبَیِّنَۃٍ ج وَعَاشِرُوْھُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ ج فَاِنْ کَرِھْتُمُوْھُنَّ فَعَسٰٓی اَنْ تَکْرَھُوْا شَیْئًا وَّیَجْعَلَ اللّٰہُ فِیْہِ خَیْرًا کَثِیْرًا (اے ایمان والو ! تمہارے لیے یہ بات جائز نہیں ہے کہ تم عورتوں کے زبردستی وارث بن جاؤ اور نہ یہ بات جائز ہے کہ جو کچھ تم نے ان کو دیا ہے اس کا کچھ حصہ واپس لینے کے لیے ان کو تنگ کرو۔ مگر اس صورت میں کہ وہ صریح بدکرداری کی مرتکب ہوں اور بیویوں کے ساتھ خوش…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : بدکاری کی سزا اور اس کی توبہ کے بیان سے پہلے عورتوں کے حقوق کا ذکر ہو رہا تھا اب اس کا تسلسل بحال ہوتا ہے۔ عورتوں کے بارے میں عربوں کی جہالت اس حد تک پہنچ چکی تھی کہ وہ عورت کو منڈی کا مال سمجھتے تھے۔ اگر کسی عورت کا خاوند فوت ہوجاتا تو نہ صرف وہ اپنی وراثت سے محروم ہوتی بلکہ مرنے والے کے وارث اس عورت کو اپنی ملک سمجھتے ہوئے اس سے من مرضی کا سلوک کرتے جس کی چار صورتیں تھیں۔ 1۔ بیوہ کو جبراً نکاح میں لینا یہاں تک کہ بعض قبائل میں لوگ اپنی سوتیلی والدہ کو بیوی بنا لیا کرتے تھے۔ 2۔ عورت کو طلاق دینے کے باوجود آگے نکاح کرنے سے روکنا۔ 3۔ عورت کی جائیداد اور حق مہر پر قبضہ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 19 : یٰٓـاَ ۔ یُّہَا الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا لَایَحِلُّ لَکُمْ اَنْ تَرِثُوا النِّسَآئَ کَرْہًا۔ (اے ایمان والو ! تمہارے لئے حلال نہیں کہ تم مالک بن جائو عورتوں کے زبردستی) طریق جاہلیت کا خاتمہ : زمانہ جاہلیت میں آدمی عورتوں کے اس طرح وارث بن جاتے کہ اپنا کپڑا اس پر ڈال دیتے اور بلا مہر اس سے شادی کرلیتے۔ خواہ عورت کو پسند ہو یا نہ، یہ آیت اتاری کہ تمہارا ان کو بطور وراثت لینا درست نہیں۔ جس طرح کہ میراث لی جاتی ہے۔ جبکہ عورتیں بھی اس کو ناپسند کرنے والی ہوں۔ یا ان کو مجبور کر کے ایسا کرو۔ نحو ٗ قراءت : کَرہًا فتحہ کے ساتھ یہ کراہت سے ہے۔ اور ضمہ کے ساتھ اکراہ سے ہے اور مصدر ہے۔ حمزہ ٗ علی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

19۔ (آیت)” یایھا الذین ۔۔۔۔۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔۔۔۔۔ ان ترثوا النساء کرھا “۔ یہ اہل مدینہ کے متعلق نازل ہوئی ۔ (زمانہ جاہلیت کی ایک رسم بد کی تردید میں آیات کا نزول) زمانہ جاہلیت میں یہ رواج تھا اور اسی طرح ابتداء اسلام میں بھی یہی رواج تھا کہ جب کسی عورت کا خاوند مرجاتا تو اس عورت کے بیٹے کے سوا کوئی نہ ہوتا تو وہ بیٹا اس کے اوپر اپنا کپڑا ڈال دیتا یا اپنا خیمہ اس پر ڈال دیتا تھا اور اس کا حق دار بن جاتا تھا ، اس عورت کو اپنی ذات پر خود کوئی حق نہیں رہتا تھا ، اب اگر وہ چاہتا تو بغیر کسی جدید مہر کے صرف مردہ باپ کے مہر سے اس سے نکاح کرلیتا تھا اور اگر خود نکاح نہ کرنا چاہتا تو کسی دوسرے سے نکاح کرا…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 19–21

(19 ۔ 21) ۔ بخاری ابوداؤد اور نسائی میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ اسلام سے پہلے یہ دستور تھا کہ مردے کے وارث بیوہ عورت کو غیر جگہ نکاح نہیں کرنے دیتے تھے بلکہ اس عورت کو مجبور کر کے خود ہی اس سے نکاح کرتے تھے اور دوسرے شخص سے نکاح کرنے کی اجازت دیتے تھے تو مہر کی ساری رقم یا اس میں کا کوئی حصہ اس عورت سے خود لے لیتے تھے۔ غرض بہ نسبت عورت کے رشتہ دار اور وارثوں کے خود ہی عورت کے زیادہ حق دار ٹھہر تھے تھے اس دستور کو اسلام میں بند کرنے کی غرض سے اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی 4۔ اور فرمایا کہ مردے کے وارثوں کو یہ نہ چاہیے کہ بیوہ کو غیر جگہ نکاح کرنے سے روکیں تاکہ بیوہ عاجز ہو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 17–20

آیت 17 اللہ تعالیٰ کا بندوں کی طرف رجوع کرنے کی دو قسمیں ہیں۔ (1) اللہ تعالیٰ کا بندے کو توبہ کی توفیق عطا کرنا۔ (2) بندے کے توبہ کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ کا اس کو قبول کرلینا۔ اللہ تعالیٰ نے یہاں آگاہ فرمایا ہے کہ توبہ اللہ تعالیٰ پر استحقاق ہے، قبولیت توبہ ایک ایسا حق ہے جسے خود اللہ تعالیٰ نے اپنے جودو کرم کی بنا پر اپنے آپ پر اس بندے کے لئے لازم فرمایا ہے جو برا کام کر بیٹھتا ہے (بجھالۃ) یعنی وہ اس برائی کے انجام، اللہ تعالیٰ کی ناراضی اور اس کے عذاب سے، جس کی یہ برائی موجب ہوتی ہے۔ لاعلمی کی وجہ سے برائی کا ارتکاب کرتا ہے۔ وہ برائی کرتے وقت اس بات سے بھی جاہل ہوتا ہے کہ اللہ دیکھ رہا ہے…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

قول باری ہے (یایھا الذین امنوالایحل لکم انترثوالنساء کرھا ولا تعضلوھن لتذھبواببعض مااتیتموھن الاان یاتین بفاحشۃ مبینۃ، اے ایمان والو ! تمہارے لیے یہ حلال نہیں ہے کو زبردستی عورتوں کے وارث بن بیٹھو اور نہ یہ حلال ہے کہ انہیں تنگ کرکے اس مہرکا کچھ حصہ اڑالینے کی کوشش کروجوتم انہیں دے چکوہو۔ ہاں اگر وہ کسی صریح بدچلنی کی مرتکب ہوں (توضرور تمہیں تنگ کرنے کا حق ہے) ۔ شیبانی نے عکرمہ سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس ؓ سے اس آیت کی تفسیر میں نقل کیا ہے کہ لوگوں کا طریقہ یہ تھا کہ جب کوئی شخص فوت ہوجاتاتو اس کے اولیاء اس کی بیوہ کے زیادہ حق دارس مجھے جاتے۔ بیوہ کے ولی کو ان کے مقابلے میں کم حق حاصل…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 18–20

43 دو قسم کے لوگوں کیلئے کوئی توبہ نہیں : سو یہ دونوں قسم کے لوگ اپنی ہی تقصیر و کوتاہی کی بنا پر قبولیت توبہ کے شرف سے محروم رہینگے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ یعنی ایک وہ شخص جو آخر وقت تک گناہوں میں مشغول رہا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ یہاں تک کہ جب موت اس کے سامنے آگئی تو وہ توبہ کرنے لگا کہ یہ توبہ اختیاری نہیں اضطراری ہے۔ کیونکہ یہ عذاب کو دیکھنے کے بعد کی توبہ ہے اور مُعَاینہ عذاب کے بعد، جبکہ مطلوب وہ توبہ ہے جو کہ اپنے ارادہ و اختیار سے ہو۔ اور دوسرا وہ شخص جو زندگی بھر اپنے کفر و باطل پر ہی اڑا رہا یہاں تک کہ وہ مرتے وقت یا آخرت میں پہنچ کر توبہ کرتا ہے تو اس کی توبہ بھی قبول نہیں ہوگی،…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

مجرموں سے سلوک تشریح : پچھلی آیات میں بدکاری کی سزا اور پھر توبہ کا بیان ہوچکا ہے اس آیت میں عورتوں کو ایک اور ظلم سے بچایا گیا ہے۔ جاہلیت کے زمانے میں یہ دستور تھا کہ مرنے والے کا مال تو اڑا ہی لیا جاتا تھا بلکہ اس کی بیوہ کو بھی اپنی ہی ملکیت سمجھ کر رکھ لیا جاتا تھا۔ یا تو خود عورت کا دیور یا جیٹھ وغیرہ اس سے نکاح کرلیتا یا کسی سے رقم لے کر اس سے بیوہ کا نکاح کروا دیا جاتا یا پھر بغیر نکاح کے ہی عمر بھر کے لیے اس کو اپنے پاس زبردستی رکھ کر اس کے تمام مال پر قبضہ کرلیا جاتا اس ظلم سے پوری طرح منع کردیا گیا اور صاف طور پر حکم دیا گیا کہ شوہر کے مرنے کے بعد عورت (بیوہ) کو پورا اختیار حاصل ہے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 19–22

آیات 19 تا 22: یا ایہا الذین امنوا لا یحل لکم۔۔۔ انہ کان فاحشۃ و مقتا۔ وساء سبیلا۔ معاشرہ میں عورت کا مقام : عورت ہی کے حقوق و فرائض کی بحث میں توبہ کی بات تو ضمناً آگئی تھی چناچہ عورت کا مال میں اور وراثت میں حق پھر عورت کا فرض کہ جس خاندان سے وراثت پاتی ہے اس کی آبرو کی حفاظت کرے اب عورت کا مقام بیان ہورہا ہے کہ بیوی بن کر وہ کسی کی غلام نہیں بن جاتی بلکہ اس کے حقوق اور زیادہ محفوظ ہوجاتے ہیں یہاں ان مظالم کا رد فرمایا جو قبل اسلام عورت پر روا رکھے جاتے تھے یا بعض رواج جو ابھی تک غیر مسلم اقوام میں پائے جاتے ہیں مثلاً اگر کوئی عورت بیوہ ہوجاتی تو اس کی کوئی حیثیت نہ رہتی اور شوہر کے وارث…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 4 یعنی جو لوگ تادم مرگ شرک میں مبتلا رہتے ہیں اور موت کے آثار دیکھ کر تو بہ کرنا چاہتے ہیں انکی توبہ بھی قبول نہیں ہوتی حضرت ابو ذر ؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا۔ اللہ تعالیٰ بندے کی توبہ اس وقت تک قبول فرماتے ہیں کہ جب تک حجاب نہ گرے صحابہ ؓ نے دریافت کیا کہ حجاب گرنے سے کیا مراد ہے فرمایا یہ کہ جان نکلنے اور وہ مشرک ہو (ابن کثیر) بعض نے لکھا ہے کا فرمرنے کے بعد جب عذاب کا مشاہدہ کریں گے تو اس وقت تو بہ کریں گے مگر وہ تو بہ قبول نہ ہوگی۔ (قرطبی)5 زنا وغیرہ کے سلسلہ میں ضمنا توبہ کے احکام بیان فرمانے کے بعد اب یہاں سے پھر عورتوں کے حقوق کا بیان ہو رہا ہے اور اسے مقصد عورتوں کو اس ظلم…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(4:19) ترثوا۔ تم وارث ہوجاؤ۔ تم میراث میں لے لو۔ (حسب یحسب) وراثۃ سے مضارع جمع مذکر حاضر نون اعرابی ان ناصیہ کے آنے سے گرگیا۔ ان ترثوا ۔۔ کرھا۔ کہ تم (اس کے شوہر کے مرنے کے بعد بیوہ کو متوفی کی میراث سمجھ کر) زبردستی وارث بن جاؤ۔ لا تعضلوھن۔ مضارع نفی۔ جمع مذکر حاضر۔ ہن ضمیر مفعول جمع مؤنث غائب تم ان کو نہ روکو۔ تم ان کو بند نہ کرو۔ تم ان وک منع نہ کرو۔ (باب نصر) عضل سے ۔ سختی کے ساتھ روکنا یعنی عدت ختم ہونے کے بعد ان کو نکاح ثانی سے مت روکو۔ تذھبوا ۔ ب تم لے جاؤ۔ ولو شاء اللہ لذھب بسمعہم وابصارھم (2:20) اور اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو لیجائے ان کے سننے کی قوت اور ان کی بینائی۔ بعض۔ کچھ حصہ۔…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 19–21

آیت نمبر 19-21 لغات القرآن : لایحل، حلال نہیں ہے۔ ترثوا، وارث (نہ) بن جاؤ (مالک بن بیٹھنا) ۔ کرہ، زبردستی کرنا۔ لاتعضلوا، مت روکو، بند نہ کرو۔ لتذھبوا، تاکہ تم لے جاؤ۔ اتیتموھن، تم نے ان کو دیا۔ عاشروا، تم زندگی گزارو۔ کر ھتموا، تم نے برا سمجھا۔ عسی، شاید۔ ان تکرھوا، یہ کہ تم برا سمجھو۔ یجعل، بناتا ہے، ڈالتا ہے۔ اردتم، تم نے ارادہ کرلیا۔ استبدال، بدلنا، بدلنے کی خواہش۔ زوج مکان زوج، بیوی کی جگہ بیوی۔ اتیتم، تم نے دیا۔ احدھن، ان میں سے کوئی ایک۔ قنطار، مال کا ڈھیر۔ تشریح : عرب جاہلیت میں عورتوں پر طرح طرح کے ظلم ہوا کرتے تھے جس سے ایک عورت کو اپنے معاشرہ میں تحفظ کے لئے کسی طرح کے بھی حقوق…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 19–21

حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ اسلام سے پہلے یہ دستور تھا کہ مردے کے وارث بیوہ عورت کو غیر جگہ نکاح نہیں کرنے دیتے تھے۔ بلکہ مجبور کرکے خود ہی کرتے تھے اور اگر دوسرے شخص سے نکاح کرنے کی اجازت دیتے بھی تو مہر کی ساری رقم یا جزو اس عورت سے خود لے لیتے تھے۔ اس دستور کو اسلام میں بند کرنے کی غرض سے اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 19–23

[22] یعنی شوہر کے مرنے کے بعد اس کے خاندان والے اس کی بیوہ کو میراث سمجھ کر اس کے والی وارث نہ بن بیٹھیں۔ شوہر کے مرنے کے بعد عورت آزاد ہے کہ عدت گزار کر جہاں چاہے جائے اور جس سے چاہے نکاح کرے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

عورتیں مال ڈھور نہیں : (ف 1) جاہلیت میں عورت مال ڈھور کی طرح قابل بیع وشرا تھی اور جب کوئی ؤدمی مر جاتا تو اس کی سوتیلی اولاد اس کی وارث ٹھہرتی ، ان آیات میں بتایا کہ تم ان پر جبر وستم روا نہیں رکھ سکتے ، وہ تمہاری طرح جذبہ عزت نفس سے بہرہ ورہ ہیں اور انہیں بھی تمہاری طرح پوری عزت کے ساتھ زندہ رہنے کا حق ہے اور یہ طریق بالکل ناجائز ہے کہ تم انہیں محض اس لئے تنگ رکھو کہ وہ تمہیں کچھ دے کر طلاق حاصل کریں ۔ (آیت) ” وعاشروھن بالمعروف “ کے معنی یہ ہیں کہ عورت سے حسن سلوک از قبیل فرائض وواجبات ہے ۔ (آیت) ” فعسی ان تکرھوا “ میں ازدواجی زندگی کا ایک بیش قیمت نکتہ بیان فرمایا ہے یعنی بیوی میں اگر…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

Explained with ayahs 19–20

ف 2 اے ایمان والو تمہارے لئے یہ بات حلال نہیں کہ تم عورتوں پر زبردستی قابض ہوجائو اور ان کی جان اور ان کے مال کے زبردستی مالک بن جائو اور نہ ان کو اس غرض سے مقید رکھو اور روکے رہو کہ جو مال تم نے ان کو دیا ہے اس مال میں سے کوئی حصہ ان سے واپس لے لو اور کچھ حصہ اس مال کا ان سے وصول کرلو مگر ہاں اس وقت جب کہ وہ کسی صریح بےحیائی اور ناشائستہ حرکت کی مرتکب ہوں تو ایسی صورت میں ان کو مقید کرنا جائز ہے اور دیکھو عورتوں سے حسن سلوک کے ساتھ زندگی بسر کرو اور خوبی اور بھلائی کے ساتھ ان سے گذران کرو پھر اگر تم ان کو پسند نہ کرو اور وہ طبعاً تم کو پسند نہ ہوں تو اس بات کو یاد رکھو کہ ایسا ہوسکتا ہے اور…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 2۔ مال کا مالک ہونا تین طرح ہے ایک یہ کہ اس عورت کا جو حق شرعی میراث میں ہے اس کو خود لے لیا جائے اس کو نہ دیا جائے اور دورے یہ کہ اس کو نکاح نہ کرنے دیا جائے یہاں تک کہ وہ یہاں ہی مرجائے پھر اس کا مال لے لیں یا وہ اپنے ہاتھ سے کچھ دے تیسری یہ کہ خاوند اس کو بےوجہ مجبور کرے کہ وہ اس کو کچھ مال دے تب یہ اس کو چھوڑے اور جان کا مالک ہونا یہ تھا کہ مردہ کی عورت کی مثل مال مردہ کے اپنی میراث سمجھتے تھے اس صورت میں جبر کی قید واقعی ہے کہ وہ ایسا کرتے تھے یہ نہیں کہ اگر عورت اگر راضی ہو تو وہ سچ مچ میراث اور ملک ہوجائے گی۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

عورتوں کو جو کچھ تم نے دیا ہے ان سے بزور لینے کی کوشش نہ کرو اور اپنا مقام مت بھول جاؤ : 47: اوپر چونکہ وراثت کی تقسیم کا مسئلہ بیان کیا گیا تھا اور مرنے والے کے ترکہ میں جن جن لوگوں کا حصہ بنتا تھا تو اس کی وضاحت کی تھی اب عربوں کی اس بری رسم کا ذکر کیا جا رہا ہے جو ان میں اس وقت موجود تھا جب قرآن کریم اتر رہا تھا اور اس کے کچھ نہ کچھ اثرات آج بھی ہمارے معاشرے میں موجود ہیں گویا قرآن کریم پڑھنے والوں میں وہ جراثیم موجود ہیں جو اس وقت جاہل اور اکھڑ عربوں میں پائے جاتے ہیں۔ رسم یہ تھی کہ جب کوئی آدمی مر جاتا تو اس کا بڑا لڑکا اگر ہوتا تو یہ مرنے والے کا کوئی عزیز آ کر اپنا کپڑا اس عورت پر یا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Sequence of verses Repentance was mentioned in the previous verses in proportion to the related requirement of the text. Before this, there was a series of injunctions pertaining to women. The present verses too carry some more imperatives against the excesses suffered by women at the hands of their husbands, even heirs. Details appear in the Commentary. The aim is to correct such social disorders. It may be noted that husbands have been particularly addressed in وَعَاشِرُ‌وهُنَّ (live with them). Verses 20 and 21 conclude the subject. Commentary Women before Islam: Eradication of…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 19–20

28. This means that the relatives of the husband should not treat the widow of the deceased as if she were a part of the inheritance and begin imposing their will on her. Upon the death of her husband a woman becomes independent. As soon as her legally-prescribed period of waiting ends, she is free to go to wherever she likes and to marry anyone she wishes. 29. This permission is intended not in order to provide them with an excuse to misappropriate her property but to exercise a restraint on her conduct and prevent her from lewdness. 30. This means that if the wife is either not beautiful or…

Read the full tafseer →