Explained with ayahs 17–18
عالم نزع سے پہلے توبہ ؟
مطلب یہ ہے کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ اپنے ان بندوں کی توبہ قبول فرماتا ہے جو ناواقفیت کی وجہ سے کوئی برا کام کر بیٹھیں پھر توبہ کرلیں گو یہ توبہ فرشتہ موت کو دیکھ لینے کے بعد عالم نزع سے پہلے ہو، حضرت مجاہد وغیرہ فرماتے ہیں جو بھی قصداً یا غلطی سے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرے وہ جاہل ہے جب تک کہ اس سے باز نہ آجائے۔ ابو العالیہ فرماتے ہیں صحابہ کرام فرمایا کرتے تھے کہ بندہ جو گناہ کرے وہ جہالت ہے، حضرت قتادہ بھی صحابہ کے مجمع سے اس طرح کی روایت کرتے ہیں عطاء اور حضرت ابن عباس سے بھی اسی طرح مروی ہے۔ توبہ جلدی کرلینے کی تفسیر میں منقول ہے کہ ملک الموت کو دیکھ لینے سے پہلے،…
Read the full tafseer →سورة النِّسَآء 27
توبہ کے معنی پلٹنے اور رجوع کرنے کے ہیں۔ گناہ کے بعد بندے کا خدا سے توبہ کرنا یہ معنی رکھتا ہے کہ ایک غلام، جو اپنے آقا کا نافرمان بن کر اسے منہ پھیر گیا تھا، اب اپنے کیے پر پشیمان ہے اور اطاعت و فرماں برداری کی طرف پلٹ آیا ہے۔ اور خدا کی طرف سے بندے پر توبہ یہ معنی رکھتی ہے کہ غلام کی طرف سے مالک کی نظر عنایت جو پھر گئی تھی وہ ازسرنو اس کی طرف منعطف ہوگئی۔ اللہ تعالیٰ اس آیت میں فرماتا ہے کہ میرے ہاں معافی صرف ان بندوں کے لیے ہے جو قصداً نہیں بلکہ نادانی کی بنا پر قصور کرتے ہیں، اور جب آنکھوں پر سے جہالت کا پردہ ہٹتا ہے تو شرمندہ ہو کر اپنے قصور کی معافی مانگ لیتے ہیں۔ ایسے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
ربط آیات
ماقبل کی آیت میں توبہ کا ذکر آیا تھا، اب ان دو آیتوں میں قبول کی شرائط اور اس کے قبول ہونے اور نہ ہونے کی صورتیں بتلاتے ہیں۔
خلاصہ تفسیر
توبہ جس کا قبول کرنا (حسب وعدہ) اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے وہ تو انہی کی ہے، جو حماقت سے کوئی گناہ (صغیرہ ہو یا کبیرہ ہو) کر بیٹھے ہیں، پھر قریب ہی وقت میں (یعنی قبل حضور موت جس کے معنی آگے آتے ہیں) توبہ کرلیتے ہیں، سو ایسوں پر تو اللہ تعالیٰ (قبول توبہ کے ساتھ) توجہ فرماتے ہیں (یعنی توبہ قبول کرلیتے ہیں) اور اللہ تعالیٰ خوب جانتے ہیں (کہ کس نے دل سے توبہ کی) حکمت والے ہیں (کہ دل سے توبہ نہ کرنے والے فضیحت نہیں کرتے) اور ایسے لوگوں کی توبہ (قبول) نہیں…
Read the full tafseer →اسی طرح ان لوگوں کی توبہ بھی توبہ نہیں ہے جو زندگی بھر تو گناہوں میں ڈوبے رہے، جب دیکھا کہ موت سر پر آن کھڑی ہوئی تو بلے کہ اب میری توبہ ! علی ہذا القیاس کفر کی حالت میں مرنے والوں کی بھی توبہ نہیں ہے۔
ایک سوال اور اس کا جواب :۔ ان دونوں آیتوں (آیت 17 اور 18) پر غور کرنے سے توبہ کی قبولیت اور عدم قبولیت کی دو صورتیں معین ہوجاتی ہیں۔ جو لوگ جذبات سے مغلوب ہو کر کوئی برائی کر بیٹھتے ہیں پھر فوراً توبہ اور اصلاح کرلیتے ہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے اوپر ان کی توبہ قبول کرنے کی ذمہ داری لی ہے۔ اس کے برعکس جو لوگ برابر گناہ کیے چلے جاتے ہیں یہاں تک کہ جب ملک الموت ان کے سر پر آ دھمکتا ہے اس وقت وہ توبہ…
Read the full tafseer →18۔ 1 اس سے واضح ہے کہ موت کے وقت کی گئی توبہ غیر مقبول ہے، جس طرح کہ حدیث میں بھی آتا ہے اس کی ضروری تفصیل آل عمران کی 90 آیت میں گزر چکی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–18
15: یہ مردوں کے خلاف فطرت ہم جنسی کے عمل کی طرف اشارہ ہے اس کی کوئی متعین سزا مقرر کرنے کے بجائے صرف یہ ہدایت دی گئی ہے کہ ایسے مردوں کو اذیت دی جائے جس کے مختلف طریقے فقہائے کرام نے تجویز کئے ہیں مگر ان میں سے کوئی لازمی نہیں، صحیح یہ ہے کہ اس کو حاکم کی صوابدید پر چھوڑدیا گیا ہے۔
Read the full tafseer →(آیت) ” ولیست التوبة للذین یعملون السیات ، حتی اذا حضر احدھم الموت قال انی تبت الئن ” مگر توبہ ان لوگوں کے لئے نہیں ہے جو برے کام کئے چلے جاتے ہیں یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کی موت کا وقت قریب آجاتا ہے اس وقت وہ کہتا ہے کہ میں نے توبہ کی ۔ “ اس لئے کہ یہ توبہ گویا اب مضطر کی توبہ ہے جو گمراہی میں ڈوب گیا ہے ۔ اور خطا کاری میں وہ گھرا ہوا ہے ۔ یہ اس شخص کی توبہ ہے جس کے لئے اب ارتکاب گناہ کا کوئی موقعہ ہی نہیں رہا ہے۔ نہ اب وہ کسی غلط کاری میں پڑ سکتا ہے ۔ اور اس حالت میں اللہ تعالیٰ کو یہ توبہ قبول نہیں ہے۔ اس لئے کہ اس سے قلبی اصلاح اور زندگی کی عملی اصلاح کا اظہار نہیں ہوتا ۔ اس سے یہ…
Read the full tafseer →4 یعنی اور ایسے لوگوں کی توبہ قبول نہیں ہوتی جو برابر گناہ کئے جاتے ہیں اور باز نہیں آتے یہاں تک کہ جب موت ہی نظر آگئی تو اس وقت کہنے لگا کہ اب میں توبہ کرتا ہوں اور نہ ان کی توبہ قبول ہوگی جو کفر پر مرگئے اور اس کے بعد عذاب اخروی کو دیکھ کر توبہ کریں۔ ایسے لوگوں کے واسطے عذاب شدید تیار ہے۔ جاننا چاہیے کہ یہ دونوں آیتیں جو دربارہ قبول توبہ اور عدم قبول توبہ یہاں مذکور ہیں ہم نے جو ان کا مطلب بیان کیا یہ بعض اکابر محققین کی تحقیق کے موافق ہے اور اس میں یہ خوبی ہے کہ قید جہالت اور لفظ قریب دونوں اپنے ظاہری معنی پر قائم رہے اور علی اللّٰہ کے معنی بھی سہولت سے بن گئے اور اس موقع پر قبول اور عدم…
Read the full tafseer →آیت 18 وَلَیْسَتِ التَّوْبَۃُ لِلَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ السَّیِّاٰتِ ج۔
مسلسل حرام خوریاں کرتے رہتے ہیں ‘ زندگی بھر عیش اڑاتے رہتے ہیں۔
حَتّٰیٓ اِذَا حَضَرَ اَحَدَہُمُ الْمَوْتُ قَالَ اِنِّیْ تُبْتُ الأٰنَ وَلاَ الَّذِیْنَ یَمُوْتُوْنَ وَہُمْ کُفَّارٌ ط
ان کی توبہ کا کوئی سوال ہی نہیں۔
Read the full tafseer →31 جب انسان پر نزع کا عالم طاری ہوجائے، وہ موت کے آثار دیکھ لے اور اسے روح قبض کرنے والے فرشتے نظر آنے لگیں تو توبہ کا وقت ختم ہوچکا۔ کیونکہ اب وہ دارالامتحان سے نکل کر دارالآخرت کی سرحد پر کھڑا ہے اور توبہ ایک عمل ہے جس کا وقت گزر چکا۔ اس آیت میں دو طرح کے لوگوں کا ذکر ہے۔ ایک وہ جو تھے تو مسلمان مگر ساری عمر گناہ کرتے کرتے ہی گزار دی اور دوسرے وہ جو کافر تھے پھر اسی کفر کی حالت میں مرگئے۔ دونوں طرح کے لوگوں کے لیے دردناک عذاب ہوگا۔
ان دو آیات میں چار قسم کے لوگوں کی توبہ کا ذکر ہوا ہے۔ ایک وہ جس نے نادانستہ گناہ کیا۔ مگر جب اسے معلوم ہوگیا تو اس نے فوراً توبہ کرلی۔ ایسے لوگوں کے متعلق…
Read the full tafseer →62 ۔ یعنی ایسے لوگوں سے قبول توبہ کا وعدہ نہیں۔ باقی اگر اور کسی کے ساتھ محض فضل وکرم ہی کا معاملہ کرنا چاہے تو اس کی راہ میں حائل کون ہوسکتا ہے۔
63 ۔ (اور عالم برزخ اس پر منکشف ہونے لگے) یعنی حالت نزع وسکرات شروع ہوجائے کہ اب عذاب وملائ کہ عذاب کے مشاہدہ کے بعد جو توبہ ہوگی وہ اضطراری ہوگی اور اس لیے کسی درجہ میں بھی مقبول نہیں۔ (آیت) ” الذین یعملون السیات “۔ معصیت کا صدور اگر ایک ہی آدھ بار ہو لیکن اس سے توبہ نہ کی جائے تو اس کا شمار بھی اصرار علی المعصیت میں ہوگا اور یہ عمل گناہ متواتر کرتے رہنے کے حکم میں داخل ہوگا۔ سیات۔ یہ صیغہ جمع لانے سے یہ لازم نہیں کہ گناہوں کی مختلف قسمیں صادر ہوتی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–18
آیت نمبر 15 تا 22
ترجمہ : اور تمہاری عورتوں میں سے جو بےحیائی، زنا، کی مرتکب ہوں ان پر اپنوں (مسلمانوں) میں سے چار آدمی گواہ کرلو، سو اگر وہ ان پر بےحیائی کی شہادت دیدیں تو ان کو گھروں میں نظر بند کردو اور ان کو لوگوں سے ملنے جلنے سے روک دو ، یہاں تک کہ موت (ملائکہ) اس کا خاتمہ کر دے یا اللہ ان کے لئے کوئی (اور) راہ نکال دے یعنی اس سے نکلنے کی کوئی صورت نکال دے یہ حکم ابتداء اسلام میں دیا گیا تھا پھر ان کے لئے باکرہ کو سو کوڑے اور ایک سال کی جلاوطنی کی صورت میں اور محصنہ کو رجم کی صورت میں سبیل نکالدی، اور حدیث شریف میں ہے کہ جب اللہ نے حد بیان فرمائی تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ : مجھ سے لے لو مجھ…
Read the full tafseer →ولیست التوبۃ للذین یعملون السیات حتی اذا حضر احدھم الموت قال انی تبت الاٰن اور توبہ قبول ان لوگوں کی نہیں ہے جو بدیاں کرتے رہتے ہیں۔ یہاں تک کہ جب موت سامنے آجاتی ہے تو کہتے ہیں کہ اے رب میں نے توبہ کی یعنی جان کنی کی حالت ہوگئی اور عذاب کے فرشتے دکھنے لگے اور روح کی روانگی ہونے لگی تو اس وقت کافر کا ایمان اور (مومن) گنہگار کی توبہ قبول نہیں کی جاتی۔
و لا الذین یموتون و ھم کفار . اور نہ ان لوگوں کی توبہ قبول ہے جو حالت کفر میں مرجائیں۔ یعنی اللہ ان کی مغفرت نہیں کرے گا اور نہ ان کے عذاب سے رجوع کرے گا یا یہ مطلب کہ آخرت میں جب وہ توبہ کریں گے اور کہیں گے : رَبَّنَا اَبْصَرْنَا وَسَمِعْنَا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
(17۔ 18) اللہ کی جانب سے توبہ تو ان ہی کی قبول ہے جو سزا سے واقف نہ ہونے کے سبب کوئی جرم کرلیتے ہیں اور پھر موت سے پہلے توبہ کرلیتے ہیں تو اللہ تعالیٰ نزع کی حالت سے قبل توبہ قبول فرمانے والے ہیں البتہ اس کے بعد توبہ قبول نہیں کرتے اور ایسے لوگوں کی جو موت کے سر پر آنے کے وقت توبہ کریں، قبول نہیں فرماتا، ان کفار کے لیے تو درد ناک عذاب ہے یہ آیت طعمہ اور اس کے ساتھیوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے جو مرتد ہوگئے تھے۔
Read the full tafseer →وَلَيْسَتِ التَّوْبَةُ۔۔ : یعنی ایسے لوگوں کی توبہ قبول نہیں ہوتی۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی توبہ کو اس وقت تک قبول کرتا ہے جب تک کہ موت کے وقت اس کی روح حلق تک نہ پہنچ جائے۔“ [ ترمذی، الدعوات، باب إن اللہ یقبل۔۔ : 3537، عن ابن عمر ؓ ] آخری وقت میں تو فرعون نے بھی توبہ کرلی تھی مگر اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (اٰۗلْئٰنَ وَقَدْ عَصَيْتَ قَبْلُ وَكُنْتَ مِنَ الْمُفْسِدِيْنَ) [ یونس : 91 ] ”کیا اب ؟ حالانکہ بیشک تو نے اس سے پہلے نافرمانی کی اور تو فساد کرنے والوں سے تھا۔“
وَلَا الَّذِيْنَ يَمُوْتُوْنَ وَھُمْ كُفَّارٌ : یعنی جو لوگ مرتے دم تک شرک میں مبتلا رہتے ہیں اور موت کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
آیت نمبر 17 تا 18۔
اس آیت میں چار مسائل ہیں۔
مسئلہ نمبر : (1) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” انما التوبۃ علی اللہ “۔ بعض علماء نے فرمایا : یہ آیت ہر اس شخص کو جس نے کوئی گناہ کیا، بعض علماء نے فرمایا : یہ صرف ان لوگوں کے لیے ہے جن سے جہالت کی بنا پر گناہ ہوا اور توبہ ہر اس شخص کے لیے ہے جس نے دوسری جگہ میں گناہ کیا اور امت کا اتفاق ہے کہ مومنین پر توبہ کرنا فرض ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” وتوبوا الی اللہ جمیعا ایہ المؤمنون “۔ (نور : 31) رجوع کرو اللہ کی طرف سب کے سب اے ایمان والو !
اور ایک گناہ سے توبہ کرنا صحیح ہے جب کہ کسی دوسرے گناہ پر قائم بھی ہو جو اس پہلے گناہ کی نوع سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
(1) عبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابو العالیہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” انما التوبۃ علی اللہ “ یہ ایمان والوں کے لئے ہے (اور) ” ولیست التوبۃ للذین یعملون السیات “ یہ منافق لوگوں کے لئے ہے (اور) لفظ آیت ” ولا الذین یموتون وہم کفار “ یہ شرک والوں کے لئے ہے۔
(2) ابن جریر نے ربیع (رح) سے روایت کیا کہ پہلی آیت ایمان والوں کے بارے میں نازل ہوئی اور درمیانی آیت منافقین کے لئے نازل ہوئی اور آخری آیت کافروں کے لئے نازل ہوئی۔
(3) عبد بن حمید ابن جریر وابن المنذر نے مردہ آخر سے ابو العالیہ (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ کے اصحاب فرمایا کرتے تھے ہر گناہ جو بندہ کرتا ہے وہ جہالت ہے۔
(4)…
Read the full tafseer →[ وَلَـیْسَتِ : اور (ثابت) نہیں ہے ] [ التَّوْبَۃُ : توبہ (اللہ پر) ] [ لِلَّذِیْنَ : ان لوگوں کے لیے جو ] [ یَعْمَلُوْنَ : عمل کرتے رہتے ہیں ] [ السَّیِّاٰتِ : برائیوں کا ] [ حَتّٰیٓ : یہاں تک کہ ] [ اِذَا : جب ] [ حَضَرَ : سامنے آتی ہے ] [ اَحَدَہُمُ : ان کے کسی ایک کے ] [ الْمَوْتُ : موت ] [ قَالَ : تو وہ کہتا ہے ] [ اِنِّیْ تُـبْتُ : بیشک میں توبہ کرتا ہوں ] [ الْـئٰـنَ : اب ] [ وَلاَ الَّذِیْنَ : اور نہ ہی ان کے لیے جو ] [ یَمُوْتُوْنَ : مرتے ہیں ] [ وَ : اس حال میں کہ ] [ ہُمْ : وہ ] [ کُفَّارٌ : کفر کرنے والے ہیں ] [ اُولٰٓئِکَ : یہ لوگ ہیں ] [ اَعْتَدْنَا : ہم نے تیار کیا ] [ لَہُمْ :…
Read the full tafseer →فائدہ : آیت شریفہ میں (یَعْمَلُوْنَ السُّوْٓءَ بِجَھَالَۃٍ ) فرمایا ہے اس میں جہالت حماقت کے معنی میں ہے جو بھی کوئی شخص گناہ کرتا ہے وہ حماقت ہی سے کرتا ہے کیونکہ یہ شخص اپنے آپ کو عذاب سے آخرت میں مبتلا کرنے کا راستہ اختیار کرتا ہے گناہ میں جو ذرا سا مزہ ہے اس کے لیے آخرت کے بڑے عذاب کے لیے اپنی جان کو تیار کرنا حماقت نہیں ہے تو کیا ہے ؟ حضرات صحابہ کرام ؓ سے جہالت کے یہی معنی منقول ہیں، لہٰذا آیت کا مطلب یہ نہ سمجھا جائے کہ عمداً گناہ کو گناہ جانتے ہوئے کوئی شخص گناہ کرے تو توبہ قبول نہ ہوگی، گناہ عمداً ہوں یا سہواً خطاً ہوں یا جہلاً توبہ سے سب معاف ہوجاتے ہیں مگر شرط وہی ہے کہ توبہ اصول و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–18
قال تعالیٰ والتی۔۔۔ الی۔۔ رحیما۔ آیت۔
ربط) گزشتہ آیات میں حدود اللہ سے تعدی کا قانون بیان فرمایا تھا اب اس قانون عام کے بعد اس کی بعض خاص صورتیں بیان فرماتے ہیں اور ان کی اصلاح کا طریقہ ارشاد فرماتے ہیں چناچہ فرماتے ہیں کہ منجملہ تعدی حدود اللہ ایک زنا ہے اور اس کا حکم یہ ہے کہ تمہاری منکوحہ بیبیوں میں سے جو عورتیں بےحیائی جامرتکب ہوں یعنی زنا کریں تو تم ان سے اس فعل پر اپنی جنس میں کے یعنی عاقل بالغ آزاد مذکر چار آدمی گواہ لاؤ پس اگر وہ چار آدمی ان پر اپنی چشم دید گواہی دے دیں اور اپنا عینی مشاہدہ بیان کردیں و ان عورتوں کو گھروں میں محبوس اور بند رکھو کہ گھر سے باہر نہ نکلنے دو یہاں تک کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–18
17 ساتواں حکم رعیت (عورتوں کو وراثت سے حصہ ضرور دو لیکن اگر ان سے زنا سرزد ہوجائے تو ان پر شرعی حکم نافذ کرو) ۔ احکام وراثت بیان کرنے کے بعد ان عورتوں کا حکم بیان کیا گیا جن سے زنا کا رتکاب ہوجائے۔ یعنی عورتوں کو میراث سے بیشک حصہ دو لیکن اگر کسی عورت سے زنا سرزد ہوجائے تو اگر چار گواہوں کی شہادت سے ان کا جرم ثابت ہوجائے تو ان کو بند رکھو یہاں تک کہ ان کے لیے کوئی دوسرا حکم آجائے اور اگر ان کو بطور سزا کوئی تکلیف دینا چاہو تو زیادہ نہ دو اور حد اعتدال سے آگے نہ بڑھو۔ یہ حکم حد شرعی کے نزول سے پہلے تھا۔ اور اگر وہ سچی توبہ کرلیں تو پھر ان سے تعرض نہ کرو اور انہیں کچھ نہ کہو کیونکہ جو شخص گناہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
ربط آیات
پہلے وراثت کے مسائل بیان ہوئے۔ اس کے بعد معاشرے کی درستگی اور اس کی پاکیزگی کے احکام کا تذکرہ ہوا۔ اور زنا اور لواطت جیسی قبیح بیماری کی مذمت کی گئی اور بدکار عورتوں کو تازیست محبوس رکھنے اور مردوں کو اذیت پہنچانے کا حکم دیا گیا۔ البتہ اگر ایسے لوگ توبہ کرکے اپنی اصلاح کرلیں تو فرمایا کہ پھر انہیں ایذا نہ پہنچائو۔ اس مقام پر اللہ تعالیٰ کی صفات بیان ہوئیں کہ وہ توبہ قبول کرنے والا اور مہربان ہے۔ اب یہاں درمیان میں جملہ معترضہ کے طور پر توبہ کی شرائط کا ذکر آگیا ہے اور اس بات کی وضاحت فرمادی گی ہے کہ زنا اور لواطت جیسے کبیرہ گناہ سے بھی توبہ کرلی جائے ، انسان سچے دل سے نادم ہوجائے تو…
Read the full tafseer →وَلَيْسَتِ التَّوْبَۃُ لِلَّذِيْنَ يَعْمَلُوْنَ السَّـيِّاٰتِ 0 ۚ حَتّٰٓي اِذَا حَضَرَ اَحَدَھُمُ الْمَوْتُ قَالَ اِنِّىْ تُبْتُ الْـــٰٔنَ وَلَا الَّذِيْنَ يَمُوْتُوْنَ وَھُمْ كُفَّارٌ 0 ۭ اُولٰۗىِٕكَ اَعْتَدْنَا لَھُمْ عَذَابًا اَلِـــيْمًا 18
سَّيِّئَةُ :
الفعلة القبیحة، وهي ضدّ الحسنة، قال : ثُمَّ كانَ عاقِبَةَ الَّذِينَ أَساؤُا السُّوای[ الروم/ 10]: بَلى مَنْ كَسَبَ سَيِّئَةً [ البقرة/ 81]
سَّيِّئَةُ :
اور ہر وہ چیز جو قبیح ہو اسے سَّيِّئَةُ :،
، سے تعبیر کرتے ہیں ۔ اسی لئے یہ لفظ ، ، الحسنیٰ ، ، کے مقابلہ میں آتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ثُمَّ كانَ عاقِبَةَ الَّذِينَ أَساؤُا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–18
(2) والذان اس سے مراد بھی جمہور کے نزدیک زنا ہے۔ نزول میں تقدیم و تاخیر ہے۔ اول اسلام میں صرف ایذا دینا ہی سزا مقرر تھی کہ ان کو زبان سے برا بھلا کہو ٗ ملامت کرو فاذوھما سے یہی مراد ہے۔ اگر باز آویں اور توبہ کرلیں تو اس کا پیچھا چھوڑ دو چونکہ عرب اس گناہ کے عادی تھے ان کو بتدریج منع فرمایا۔ پھر اس کے بعد والتی آیت مقدمہ نازل ہوئی کہ جس میں قید کا حکم ہوا۔ اس کے بعد سورة نور میں سزامعین کردی۔ بعض کہتے ہیں والتی سے مراد زنا ہے۔ والذان سے مراد لواطت ہے اور فاذوہما سے مراد تعزیر ہے اور یہی قول امام ابوحنیفہ (رح) کا ہے کہ اغلام کے لئے زنا کا حکم نہیں۔ اس کے لئے تعزیر ہے نہ حد۔ امام شافعی (رح) کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
اِنَّمَا التَّوْبَۃُ عَلَی اللّٰہِ لِلَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ السُّوْٓئَ بِجَھَالَۃٍ ثُمَّ یَتُوْبُوْنَ مِنْ قَرِیْبٍ فَاُولٰٓئِکَ یَتُوْبُ اللّٰہُ عَلَیْہِمْ ط وَکَانَ اللّٰہُ عَلِیْمًا حَکِیْمًا وَلَیْسَتِ التَّوْبَۃُ لِلَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ السَّیِّاٰتِج حَتّٰیٓ اِذَا حَضَرَ اَحَدَھُمُ الْمَوْتُ قَالَ اِنِّیْ تُبْتُ الْئٰنَ وَلَا الَّذِیْنَ یَمُوْتُوْنَ وَھُمْ کُفَّارَ ط اُوْلٰٓئِکَ اَعْتَدْنَا لَھُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا
(اللہ پر توبہ قبول کرنے کی ذمہ داری تو انھیں کے لیے ہے جو کرتے ہیں برا کام جہالت سے پھر جلدی ہی توبہ کرلیتے ہیں۔ وہی ہیں جن کی توبہ اللہ قبول فرماتا ہے اور اللہ سب کچھ جاننے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
فہم القرآن
ربط کلام : اخلاقی بےراہروی کی سزا اور اس کی توبہ اور اب ان لوگوں کا ذکر ہوتا ہے جن کی توبہ قبول ہوگی اور جن کی توبہ قبول نہیں کی جائے گی۔
قرآن مجید کے اسلوب بیان میں بیشمار لطافتیں اور حکمتیں ہیں ان میں یہ بھی حکمت ہے کہ یہ محض قانون اور ضابطوں کی کتاب نہیں کہ جس میں پھیکا پن، جرم کی تفصیل اور صرف سزاؤں کا تذکرہ ہو قرآن مجید کی لطافت و بلاغت یہ ہے کہ وہ کسی قانون اور سزا کو محض ضابطے کے طور پر نہیں بلکہ اسے نصیحت اور خیر خواہی کے طور پر بیان اور نافذ کرتا ہے۔ بدکار لوگوں کی سزا کا ذکر کرنے کے فوراً بعد توبہ کا اعلان کرتے ہوئے فرمایا کہ جو لوگ جہالت سے سرزد ہونے والے گناہ کے فوراً…
Read the full tafseer →آیت 18 :
وَلَیْسَتِ التَّوْبَۃُ لِلَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ السَّیِّاٰتِ حَتّٰی اِذَا حَضَرَ اَحَدَہُمُ الْمَوْتُ قَالَ اِنِّیْ تُبْتُ الْئٰنَ (اور توبہ مقبول نہیں ان لوگوں کی جو برے کام کرتے رہتے ہیں۔ یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کو موت آنے لگتی ہے تو کہنے لگتا ہے اب میں توبہ کرتا ہوں) مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں کی کوئی توبہ نہیں جو گناہ کرتے رہتے ہیں۔ اور اپنی توبہ کو ٹالتے رہتے ہیں یہاں تک کہ ان سے تکلیف دور ہوجائے اسباب موت جمع ہو کر اور ملک الموت کو سامنے دیکھ کر۔ ایسے لوگوں کی توبہ غیر مقبول ہے کیونکہ یہ اضطراری حالت ہے۔ اختیاری نہیں۔ قبولیت توبہ تو ثواب و رجوع ہے اسکا کوئی کسی سے وعدہ نہیں مگر…
Read the full tafseer →(تفسیر) 18۔:
(آیت)” ولیست التوبۃ للذین یعملون السیئات “۔ اس سے مراد گناہ ہیں (آیت)” حتی اذا حضر احدھم الموت “۔ اس سے نزع کی حالت مراد ہے ، (آیت)” قال انی تبت الان “۔ یعنی یہ روح کی روانگی کی حالت ہے ، یہاں تک کہ اس کی روح کھینچی نہ جائے، لہذا کافر کا نہ ایمان قبول ہے اور نہ نافرمان کی توبہ قبول ہے (آیت)” فلم یک ینفعھم ایمانھم لما راوا باسنا “۔ اسی وجہ سے فرعون کو ایمان کا نفع نہیں پہنچا جب وہ غرق ہوچکا تھا ، (آیت)” ولا الذین یموتون وھم کفار اولئک اعتدنا “۔ یعنی ان کے لیے تیار کر کے رکھا ہے (آیت)” لھم عذابا الیما “۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
(17 ۔ 18) ۔ اوپر کی آیت میں توبہ کا ذکر تھا۔ اس لئے اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے توبہ کے قبول ہونے اور نہ ہونے کا ذکر فرمایا اوپر گذر چکا ہے کہ توبہ کے قبول ہونے کا وقت وہی ہے کہ آدمی گناہ کر کے اضطرار کی حالت سے پہلے تو بہ کرلے ورنہ موت کے آثار پیدا ہوجانے اور اضطرار کی حالت پیش آجانے کے وقت کی توبہ قبول نہیں ہوتی۔ اضطرار کی حالت کے پیش آجانے کا یہ مطلب یہ ہے کہ جس طرح فرعون نے بالکل ڈوبتے وقت توبہ کی اور قبول نہ ہوئی اسی طرح خراٹا لگ جانے اور دم اکھڑے جانے کے وقت کوئی شخص توبہ کرے گا تو اس کی توبہ قبول نہ ہوگی۔ چناچہ اس بات میں حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ کی حدیث جس کو ترمذی نے حسن کہا ہے 1 اوپر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–20
آیت 17
اللہ تعالیٰ کا بندوں کی طرف رجوع کرنے کی دو قسمیں ہیں۔ (1) اللہ تعالیٰ کا بندے کو توبہ کی توفیق عطا کرنا۔
(2) بندے کے توبہ کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ کا اس کو قبول کرلینا۔
اللہ تعالیٰ نے یہاں آگاہ فرمایا ہے کہ توبہ اللہ تعالیٰ پر استحقاق ہے، قبولیت توبہ ایک ایسا حق ہے جسے خود اللہ تعالیٰ نے اپنے جودو کرم کی بنا پر اپنے آپ پر اس بندے کے لئے لازم فرمایا ہے جو برا کام کر بیٹھتا ہے (بجھالۃ) یعنی وہ اس برائی کے انجام، اللہ تعالیٰ کی ناراضی اور اس کے عذاب سے، جس کی یہ برائی موجب ہوتی ہے۔ لاعلمی کی وجہ سے برائی کا ارتکاب کرتا ہے۔ وہ برائی کرتے وقت اس بات سے بھی جاہل ہوتا ہے کہ اللہ دیکھ رہا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
یہی بات درست ہے اس لیے حدیث کے ابتدائی الفاظ سے ضروری ہوجاتا ہے کہ اسے آیت میں مذکورسبیل کا بیان تسلیم کرلیاجائے۔
اوریہ بات تو معلوم ہی ہے کہ حضور ﷺ کے اس ارشاد اور حبس واذیت کے مابین کسی اور حکم کا واسطہ نہیں ہے اور یہ کہ سورة نور میں کوڑوں کی سزا کے حکم پر مشتمل آیت اس وقت تک نازل نہیں ہوئی تھی۔ اس لیے کہ اگر اس وقت تک اس کا نزول ہوچکا ہوتا ہے تو آیت زیربحث میں مذکورسبیل کے بیان کے سلسلے میں مذکورہ بالاحدیث پرا سے مقدم تسلیم کرلیاجاتا۔
نیز حضور ﷺ کے اس ارشاد (خذواعنی ، قدجعل اللہ لھن سبیلا، کے کوئی معنی نہ ہوتے۔ اس لیے یہ بات ثابت ہوگئی کہ حبس اور اذیت کے حکم کو منسوخ کرنے والی وہ حدیث ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–20
43 دو قسم کے لوگوں کیلئے کوئی توبہ نہیں : سو یہ دونوں قسم کے لوگ اپنی ہی تقصیر و کوتاہی کی بنا پر قبولیت توبہ کے شرف سے محروم رہینگے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ یعنی ایک وہ شخص جو آخر وقت تک گناہوں میں مشغول رہا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ یہاں تک کہ جب موت اس کے سامنے آگئی تو وہ توبہ کرنے لگا کہ یہ توبہ اختیاری نہیں اضطراری ہے۔ کیونکہ یہ عذاب کو دیکھنے کے بعد کی توبہ ہے اور مُعَاینہ عذاب کے بعد، جبکہ مطلوب وہ توبہ ہے جو کہ اپنے ارادہ و اختیار سے ہو۔ اور دوسرا وہ شخص جو زندگی بھر اپنے کفر و باطل پر ہی اڑا رہا یہاں تک کہ وہ مرتے وقت یا آخرت میں پہنچ کر توبہ کرتا ہے تو اس کی توبہ بھی قبول نہیں ہوگی،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
سچی اور جھوٹی توبہ
تشریح : ان آیات میں اللہ غفورورحیم نے اپنے بندوں کی نجات کے لیے ایک ایسا دروازہ کھول رکھا ہے جو ان کو درد ناک عذاب سے بچا سکتا ہے۔ انسان غلطیوں کا پتلا ہے شیطان ہر وقت اس کو شکار کرنے کے لیے تیار ہوتا ہے، لہٰذا اللہ رب العزت فرماتا ہے کہ وہ ظلم و زیادتی کو پسند نہیں کرتا لہٰذا اگر کسی سے گناہ ہوجائے تو اسے چاہیے فوراً خلوص نیت سے اللہ سے معافی مانگ لے تو اس کی توبہ یقیناً قبول کرلی جائے گی۔ توبہ کرنے کی شرائط تین یا چار ہیں : اول اپنے کئے پر ندامت محسوس کرے۔ دوم جس گناہ پر توبہ کی ہے اس کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے چھوڑ دے۔ سوم دوبارہ وہ کام نہ کرنے کا عہد کرے۔ چہارم اگر اس کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
آیات 17 تا 18: انما التوبۃ۔۔۔ اولئک اعتدنا لھم عذابا الیما۔
توبہ اور اس کی حقیقت :
چونکہ توبہ کا ذکر آگیا تو اللہ کریم نے توبہ کی صورت ارشاد فرما دی کہ اگر کوئی نادانی سے برائی کر بیٹھے اور پھر اس حرکت پر شرمندہ ہو اور فوراً توبہ کرلے تو اللہ کریم ایسے لوگوں کی توبہ قبول فرماتے ہیں۔ یہاں برائی کا تعلق جہالت سے ارشاد ہوا ہے تو مراد یہ نہ ہوگا کہ گناہ سے واقف نہ تھا ورنہ عمداً ایسا نہ کرتا بلکہ مراد یہ ہے کہ وہ فعل جو اللہ کریم اور اس کے رسول ﷺ کے حکم کے خلاف ہو وہ جہالت ہے خواہ کتنے بڑے دانشور سے صادر ہو حضرت قتادہ ؓ کی روایت ہے اجمع اصحاب رسول اللہ ﷺ علی ان کل معصیۃ جھالۃ عمدا کان اولم یکن…
Read the full tafseer →ف 3 یعنی ایسے لوگوں کی توبہ قبول نہیں ہوتی، ترمذی میں عبد اللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا ان اللہ یقبل توبتہ العبد مالم یفر غر کہ اللہ تعالیٰ اس وقت تک اپنے بندے کی توبہ قبول فرماتا ہے جب تک وہ جان کنی کی حد تک نہیں پہنچ جاتا۔ (ترمذی) اس معنی میں اور بھی بہت سی مسند اور مرسل ورایات موجود ہیں (ان کثیر۔ قرطبی)
Read the full tafseer →(4:18) اعتدنا۔ ہم نے تیار کر رکھا ہے۔ اعتاد (افعال) مصدر۔ الاعداد۔ تیار کرنا ۔ مہیا کرنا۔ عدد مادہ۔
واعدلہم جنت (9:100) اور اس نے ان کے لئے باغات تیار کئے ہیں۔ وآیۃ ہذا۔ اور اگر مصدر اعتداء سے ہو تو معنی ہوتے ہیں زیادتی کرنے کے لیکن اس کا مادہ عدو ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
آیت نمبر 17-18
لغات القرآن : التوبہ، توبہ، (لوٹنا) ۔ السوء، برائی ، گناہ۔ بجھالۃ، جہالت، نادانی۔ یتوبون، وہ توبہ کرتے ہیں۔ یعملون، عمل کرتے ہیں۔ السیات، (سیئۃ) برائی، گناہ۔ تبت، میں نے توبہ کرلی۔ اعتدنا، ہم نے تیار کیا ہے۔
تشریح : گذشتہ آیات میں بدکار مردوں اور بدکار عورتوں کی سزا کے بعد اللہ تعالیٰ نے توبہ کا ذکر فرمایا تھا۔ اب سورة النساء کی آیت 17، 18 میں توبہ قبول ہونے اور نہ ہونے کی صورتوں کا بیان فرمایا ہے۔ توبہ کے لفظی معنی ہیں ” لوٹنا “ واپس آنا ۔ جس جگہ کو چھوڑا تھا وہیں پلٹ کر واپس آنا۔ جب کوئی انسان گناہ کرتا ہے تو گویا وہ اللہ کی راہ سے ہٹ جاتا ہے لیکن جب وہ ندامت کے آنسوؤں کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
توبہ کب تک قبول ہوتی ہے ؟
توبہ کے قبول ہونے کا وقت وہی ہے کہ آدمی گناہ کر کے اضطرار کی حالت سے پہلے توبہ کر لیوے ورنہ موت کے آثار پیدا ہوجانے اور اضطرار کی حالت پیش آجانے کے وقت کی توبہ قبول نہیں ہوئی، اسی طرح غراٹا لگ جانے اور دم اکھڑ جانے کے وقت کوئی شخص توبہ کرے گا تو اس کی توبہ قبول نہ ہوگی۔ توبہ قبول ہونے کے لئے آئندہ گناہ سے باز رہنے اور نیک کام کرنے کا ارادہ کرنا ضروری ہے۔
Read the full tafseer →[21] یعنی جب کوئی شخص کفر کی حالت میں دنیا سے رخصت ہوجائے اور دوسری زندگی میں داخل ہو کر اپنی
آنکھوں سے دیکھ لے کہ معاملہ اس کے برعکس ہے جو وہ دنیا میں سمجھتا رہا تو اس وقت معافی مانگنے کا کوئی موقع نہیں۔
Read the full tafseer →توبہ کا وقت :
(ف 3) فحش و حرام کاری کے بعد ضروری تھا کہ فلسفہ توبہ پر روشنی ڈالی جائے اس آیت میں یہی بتایا ہے کہ توبہ اس وقت مفید ہو سکتی ہے جب گناہ کے ارتکاب کی پوری ہمت موجود ہو اور وقت مساعد ہو ، ورنہ اس وقت جب کاروان منزل تک پہنچ چکا ہو اور ہمت وقوت جواب دے چکی ہو ، توبہ سے کیا حاصل ؟ اس وقت کی توبہ کے یہ معنی ہوتے ہیں کہ اپنے گناہوں کے سامنے ہتھیار ڈال دیئے ہیں ، جب زندگی ہی نہیں تو ارتکاب گناہ کیسا ؟
بات یہ ہے کہ اسلامی فرائض ومناہی استدلال ومنطق پر مبنی ہیں اور جب عالم غیب کی بہت سی چیزیں بلاغور وفکر کئے آنکھوں کے سامنے آموجود ہوں اور فطرت کے راز ہائے سربستہ خود اپنی چہرہ کشائی پر…
Read the full tafseer →ف 1 سوائے اس کے نہیں کہ وہ توبہ جس کا قبول کرنا وعدے کی بنا پر اللہ کے ذمہ ہے وہ تو ان لوگوں کی توبہ ہے جو کوئی گناہ خواہ کبیرہ ہو یا صغیرہ اپنی نادانی اور بیوقوفی سے کر گزرتے ہیں پھر وہ قریب ہی وقت میں یعنی حضور موت سے قبل اور موت کے آنے سے پہلے پہلے توبہ کرلیتے ہیں تو یہی لوگ وہ ہیں جن کی توبہ اللہ تعالیٰ قبول کرلیتا ہے اور نظر عفو کے ساتھ ان پر توجہ فرماتا ہے اور اللہ تعالیٰ کمالِ علم اور کمال حکمت کا مالک ہے وہ ہر توبہ کرنے والے کی نیت سے باخبر ہے اور گنہگار کی گرفت جلدی نہ کرنے کی حکمت سے واقف ہے اور ایسے لوگوں کی توبہ کسی توجہ کے قابل نہیں ہے جو گناہوں کے مرتکب ہوتے رہتے ہیں یہاں تک کہ…
Read the full tafseer →ف 1۔ حضور موت کا مطلب یہ ہے اس سرور عالم کی چیزیں نظر آنے لگیں۔
Read the full tafseer →موت کو سامنے کھڑا دیکھ کر توبہ توبہ کرنے والوں کی کوئی توبہ نہیں ہے :
46: یہ مضمون قرآن کریم میں متعدد مقامات پر بیان کیا گیا ہے کہ مجرمین موت کی سرحد میں داخل ہونے کے وقت سے لے کر آخرت میں واصل جہنم ہونے تک بلکہ اس کے بعد بھی بار بار یہی درخواستیں کرتے رہیں گے کہ ہمیں بس ایک دفعہ دنیا میں اور بھیج دیا جائے۔ اب ہماری توبہ ہے۔ اب ہم کبھی نافرمانی نہیں کریں گے۔ اب ہم سیدھی راہ چلیں گے۔ چناچہ ایک جگہ ارشاد الٰہی ہوتا ہے کہ :
” کاش ! تم اس وقت کی حالت دیکھ سکتے جب وہ دوزخ کے کنارے کھڑے کیے جائیں گے۔ اس وقت وہ کہیں گے کہ کاش کوئی صورت ایسی ہو کہ ہم دنیا میں پھر واپس بھیجے جائیں اور اپنے رب کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
Repentance was mentioned in the previous verse. Now, given in the present two verses are conditions under which repentance is or is not accepted.
Commentary
Repentance from a deliberate sin
At this point, it should be noted that the Holy Qur'an has used the words "in ignorance" which apparently gives an impression that the repentance may be accepted when a sin is committed unintentionally and unknowingly. But if it is committed deliberately, it will not be acceptable. However, according to the explanation of this verse given by the noble Companions, may Allah be pleased with them all, the…
Read the full tafseer →27. The Arabic word tawbah means 'to return, to come back'. A man's tawbah after he has sinned means that God's servant, who had turned away from his Master in disobedience, has repented, and has returned to obedience and service. On the other hand, tawbah on the part of God means that the attention of the Master, which had turned away from His erring servant, has once again turned towards him. In this verse, however, God makes it clear to His servants that tawbah is acceptable only from those who commit errors inadvertently and out of ignorance. Such persons will always find the door of God…
Read the full tafseer →