Explained with ayahs 17–18
عالم نزع سے پہلے توبہ ؟
مطلب یہ ہے کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ اپنے ان بندوں کی توبہ قبول فرماتا ہے جو ناواقفیت کی وجہ سے کوئی برا کام کر بیٹھیں پھر توبہ کرلیں گو یہ توبہ فرشتہ موت کو دیکھ لینے کے بعد عالم نزع سے پہلے ہو، حضرت مجاہد وغیرہ فرماتے ہیں جو بھی قصداً یا غلطی سے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرے وہ جاہل ہے جب تک کہ اس سے باز نہ آجائے۔ ابو العالیہ فرماتے ہیں صحابہ کرام فرمایا کرتے تھے کہ بندہ جو گناہ کرے وہ جہالت ہے، حضرت قتادہ بھی صحابہ کے مجمع سے اس طرح کی روایت کرتے ہیں عطاء اور حضرت ابن عباس سے بھی اسی طرح مروی ہے۔ توبہ جلدی کرلینے کی تفسیر میں منقول ہے کہ ملک الموت کو دیکھ لینے سے پہلے،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–17
سورة النِّسَآء 26
ان دونوں آیتوں میں زنا کی سزا بیان کی گئی ہے۔ پہلی آیت صرف زانیہ عورتوں کے متعلق ہے اور ان کی سزا یہ ارشاد ہوئی ہے کہ انہیں تاحکم ثانی قید رکھا جائے۔ دوسری آیت زانی مرد اور زانیہ عورت دونوں کے بارے میں ہے کہ دونوں کو اذیت دی جائے، یعنی مارا پیٹا جائے، سخت سست کہا جائے اور ان کی تذلیل کی جائے۔ زنا کے متعلق یہ ابتدائی حکم تھا۔ بعد میں سورة نور کی وہ آیت نازل ہوئی جس میں مرد اور عورت دونوں کے لیے ایک ہی حکم دیا گیا کہ انہیں سو 100 سو 100 کوڑے لگائے جائیں۔ اہل عرب چونکہ اس وقت تک کسی باقاعدہ حکومت کے ماتحت رہنے اور عدالت و قانون کے نظام کی اطاعت کرنے کے عادی نہ تھے، اس لیے یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
ربط آیات
ماقبل کی آیت میں توبہ کا ذکر آیا تھا، اب ان دو آیتوں میں قبول کی شرائط اور اس کے قبول ہونے اور نہ ہونے کی صورتیں بتلاتے ہیں۔
خلاصہ تفسیر
توبہ جس کا قبول کرنا (حسب وعدہ) اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے وہ تو انہی کی ہے، جو حماقت سے کوئی گناہ (صغیرہ ہو یا کبیرہ ہو) کر بیٹھے ہیں، پھر قریب ہی وقت میں (یعنی قبل حضور موت جس کے معنی آگے آتے ہیں) توبہ کرلیتے ہیں، سو ایسوں پر تو اللہ تعالیٰ (قبول توبہ کے ساتھ) توجہ فرماتے ہیں (یعنی توبہ قبول کرلیتے ہیں) اور اللہ تعالیٰ خوب جانتے ہیں (کہ کس نے دل سے توبہ کی) حکمت والے ہیں (کہ دل سے توبہ نہ کرنے والے فضیحت نہیں کرتے) اور ایسے لوگوں کی توبہ (قبول) نہیں…
Read the full tafseer →لفظ ’ جہالت ‘ کا مفہوم :۔ جہالت کے معنی عربی میں صرف نہ جاننے کے نہیں آتے بلکہ اس کا غالب استعمال جذبات سے مغلوب ہو کر کوئی شرارت یا ظلم یا گناہ کا کام کر گزرنے کے معنی میں ہے۔ یہ لفظ عام طور پر علم کے بجائے حلم کے ضد کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔ ایک حماسی کا شعر ہے
ولمحلم خیر فاعلمن مغبۃ۔ من الجہل الا ان تشمس من ظلم
اور یاد رکھو کہ جہالت کے مقابلے میں تحمل و بردباری انجام کار کے اعتبار سے بہتر ہے مگر یہ کہ تمہیں ظلم کی وجہ سے ذلیل کرنے کی کوشش کی جائے
معلقات کا مشہور شعر ہے
الا لا یجھلن احد علینا۔ فنجھل فوق جھل الجاھلینا
آگاہ، کہ کوئی ہمارے خلاف جہالت کا اظہار نہ کرے کہ ہم بھی تمام جاہلوں سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–17
16۔ 1 بعض نے اس میں اغلام بازی مراد لی ہے یعنی عمل لواطت۔ دو مردوں کا ہی آپس میں بدفعلی کرنا اور بعض نے اسے باکرہ مرد و عورت مراد لیئے ہیں اور اس سے قبل کی آیت کو انہوں نے محصنات یعنی شادی کے ساتھ کیا ہے اور بعض نے اس تثنیہ کے صیغے سے مراد لیا ہیں۔ قطع نظر اس سے کہ وہ باکرہ ہوں یا شادی شدہ (ابن جریر طبری) نے دوسرے مفہوم یعنی باکرہ (مرد و عورت) کو ترجیح دی ہے اور پہلی آیت میں بیان کردہ سزا کو نبی ﷺ کی بتلائی ہوئی سزا سزائے رجم سے اور اس آیت میں بیان کردہ سزا کو سورة نور میں بیان کردہ سو کوڑے کی سزا سے منسوخ قرار دی ہے۔ (تفسیر طبری)
16۔ 2 یعنی زبان سے زجر و توبیخ اور ملامت یا ہاتھ سے کچھ زدوکوب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–18
15: یہ مردوں کے خلاف فطرت ہم جنسی کے عمل کی طرف اشارہ ہے اس کی کوئی متعین سزا مقرر کرنے کے بجائے صرف یہ ہدایت دی گئی ہے کہ ایسے مردوں کو اذیت دی جائے جس کے مختلف طریقے فقہائے کرام نے تجویز کئے ہیں مگر ان میں سے کوئی لازمی نہیں، صحیح یہ ہے کہ اس کو حاکم کی صوابدید پر چھوڑدیا گیا ہے۔
Read the full tafseer →(آیت) ” انما التوبة علی اللہ للذین یعملون السوٓء بجھالة ثم یتوبون من قریب فاولئک یتوب اللہ علیھم ، وکان اللہ علیما حکیما ، (71) ولیست التوبة للذین یعملون السیات ، حتی اذا حضر احدھم الموت قال انی تبت الئن ولا الذین یموتون وھم کفار ، اولئک اعتدنا لھم عذابا الیما (81)
اسی بارے میں ہم فی ضلال القرآن میں سورة آل عمران کی تشریح کرتے ہوئے توبہ پر بات کر آئے ہیں وہاں آیت ”۔ والذین اذا فعلوا فاحشة او ظلموا انفسھم ذکروا اللہ فاستغفروا لذنوبھم “ ” وہ لوگ جو کوئی فحش فعل کرلیتے ہیں یا اپنے نفسوں کے اوپر ظلم کر گزرتے ہیں ‘ اللہ کو یاد کرتے ہیں اور فورا اپنے گناہوں کی معافی مانگتے ہیں “ ۔
وہ پوری بحث اس…
Read the full tafseer →3 یعنی توبہ تو بیشک ایسی چیز ہے کہ زنا اور لواطت جیسے سنگین جرم بھی اس سے اللہ تعالیٰ معاف فرما دیتا ہے جیسا کہ آیت سابقہ سے مفہوم ہوا لیکن اس کا بھی ضرور لحاظ رکھو کہ اللہ تعالیٰ نے جو اپنے فضل سے قبول توبہ کا ذمہ لے لیا ہے وہ اصل میں ان لوگوں کے ساتھ مخصوص ہے جو ناواقفیت اور نادانی سے کوئی صغیرہ یا کبیرہ گناہ کرلیتے ہیں مگر جب اپنی خرابی پر متنبہ اور مطلع ہوتے ہیں تو جب ہی نادم ہوتے ہیں اور توبہ کرتے ہیں سو ایسوں کی خطائیں اللہ ضرور معاف فرما دیتا ہے اور اللہ تعالیٰ سب کچھ جانتا ہے۔ اس کو معلوم ہے کس نے نادانی سے گناہ کیا اور کس نے اخلاص سے توبہ کی، اور حکمت والا ہے جس توبہ کا قبول کرنا…
Read the full tafseer →آیت 17 اِنَّمَا التَّوْبَۃُ عَلَی اللّٰہِ لِلَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ السُّوْءَ بِجَہَالَۃٍ ثُمَّ یَتُوْبُوْنَ مِنْ قَرِیْبٍ
ایک صاحب ایمان پر کبھی ایسا وقت بھی آسکتا ہے کہ خارجی اثرات اتنے شدید ہوجائیں یا نفس کے اندر کا ہیجان اسے جذبات سے مغلوب کر دے اور وہ کوئی گناہ کا کام کر گزرے۔ لیکن اس کے بعد اسے جیسے ہی ہوش آئے گا اس پر شدید ندامت طاری ہوجائے گی اور وہ اللہ کے حضور توبہ کرے گا۔ ایسے شخص کے بارے میں فرمایا گیا ہے کہ اس کی توبہ قبول کرنا اللہ کے ذمے ہے۔
Read the full tafseer →30 توبہ کس کی قبول ہے اور کس کی نہیں :۔ گویا اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے توبہ کی قبولیت کے لیے دو باتوں کی قید لگا دی۔ ایک تو یہ کہ وہ گناہ از راہ نادانی، جہالت یا نادانستہ طور پر سرزد ہوا ہو۔ اور دوسرے یہ کہ اس قصور وار کو بعد میں جلد ہی اپنی غلطی کا احساس ہوجائے اور وہ اللہ کے حضور توبہ کرے اور اگر اس کے برعکس معاملہ ہو یعنی گناہ بھی دانستہ طور پر اور اللہ کے احکام پر دلیر ہو کر کیا گیا ہو یا گناہ تو نادانستہ واقع ہوا ہو مگر توبہ میں عمداً تاخیر کرتا جائے تو ایسی صورتوں میں توبہ کے قبول ہونے کا کوئی امکان نہیں۔
Read the full tafseer →58 ۔ جو طبائع غیر سلیم ہیں۔ ان کے لیے ہر قسم کی بدعملی کی گنجائش آیت ماقبل سے نکل سکتی تھی اور وہ اپنے دل میں کہہ سکتے تھے کہ جب توبہ قبول ہو ہی جائے گی تو پھر اطمینان سے ہم ہر قسم کے فسق وفجور میں پڑے رہ سکتے ہیں۔ جب مرنے لگیں گے، توبہ کرلیں گے۔ اس خدشہ کے دور کرنے کے لیے ضرورت تھی کہ قبول توبہ کے قیود و شرائط کو صاف کردیا جاتا۔ (آیت) ” السوٓء “۔ لفظ جامع ہے گناہ کبیرہ اور صغیرہ دونوں کے لیے۔ ای المعصیۃ صغیرۃ اوکبیرۃ (روح) (آیت) ” التوبۃ “ توبہ کی حقیقت شریعت میں یہ ہے کہ ماضٰ پر ندامت ہو اور مستقبل کے لیے ترک معصیت کا عزم ہو اور یہاں توبہ سے مراد قبول توبہ ہے۔ التوبہ عبارۃ عن الندم علی ما…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–18
آیت نمبر 15 تا 22
ترجمہ : اور تمہاری عورتوں میں سے جو بےحیائی، زنا، کی مرتکب ہوں ان پر اپنوں (مسلمانوں) میں سے چار آدمی گواہ کرلو، سو اگر وہ ان پر بےحیائی کی شہادت دیدیں تو ان کو گھروں میں نظر بند کردو اور ان کو لوگوں سے ملنے جلنے سے روک دو ، یہاں تک کہ موت (ملائکہ) اس کا خاتمہ کر دے یا اللہ ان کے لئے کوئی (اور) راہ نکال دے یعنی اس سے نکلنے کی کوئی صورت نکال دے یہ حکم ابتداء اسلام میں دیا گیا تھا پھر ان کے لئے باکرہ کو سو کوڑے اور ایک سال کی جلاوطنی کی صورت میں اور محصنہ کو رجم کی صورت میں سبیل نکالدی، اور حدیث شریف میں ہے کہ جب اللہ نے حد بیان فرمائی تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ : مجھ سے لے لو مجھ…
Read the full tafseer →انما التوبۃ . توبہ قبول کرنا یا گناہ معاف کرکے ارادۂ عذاب سے باز رہنا۔
علی اللہ . اللہ کے ذمہ یعنی اس ذمہ داری کے تحت جس کا اللہ نے خود وعدہ کرلیا ہے۔
للذین یعملون السوء بجھالۃ . صرف ان لوگوں کے لیے ہے جو نادانی کے ساتھ گناہ کرتے ہیں بغوی نے لکھا ہے کہ قتادہ نے فرمایا : رسول اللہ کے صحابیوں کا اتفاق رائے ہے اس امر پر کہ ہر گناہ خواہ قصداً ہو یا بلا قصد جہالت ہے جو اللہ کی نافرمانی کرتا ہے وہ جاہل ہے۔ ابن جریر نے ابو العالیہ کا قول بھی یہی نقل کیا ہے۔ کلبی نے (بجھالۃ کی تفسیر کرتے ہوئے) کہا کہ گناہ ہونے سے وہ ناواقف نہیں ہے مگر اسکے عذاب سے ناواقف ہے بعض علماء نے جہالت کی تشریح میں کہا دوامی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
(17۔ 18) اللہ کی جانب سے توبہ تو ان ہی کی قبول ہے جو سزا سے واقف نہ ہونے کے سبب کوئی جرم کرلیتے ہیں اور پھر موت سے پہلے توبہ کرلیتے ہیں تو اللہ تعالیٰ نزع کی حالت سے قبل توبہ قبول فرمانے والے ہیں البتہ اس کے بعد توبہ قبول نہیں کرتے اور ایسے لوگوں کی جو موت کے سر پر آنے کے وقت توبہ کریں، قبول نہیں فرماتا، ان کفار کے لیے تو درد ناک عذاب ہے یہ آیت طعمہ اور اس کے ساتھیوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے جو مرتد ہوگئے تھے۔
Read the full tafseer →اِنَّمَا التَّوْبَةُ عَلَي اللّٰهِ : یہاں ”علی اللہ“ کے معنی یہ ہیں کہ ایسے لوگوں کی توبہ قبول کرنا اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے اپنے ذمہ لے لیا ہے، ورنہ اللہ تعالیٰ پر کوئی چیز لازم نہیں ہے۔ (قرطبی) یہاں ایک سوال ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ صرف ان لوگوں کی توبہ قبول کرتا ہے جو جہالۃ سے گناہ کرتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ اگر کوئی جہالۃ سے گناہ نہ کرے بلکہ دیدہ دانستہ علم رکھتے ہوئے گناہ کرے تو اس کی توبہ قبول ہی نہیں۔ جواب اس کا یہ ہے ”بجھالۃ“ یعنی اگر کبھی نادانی اور جذبات سے مغلوب ہو کر گناہ کا ارتکاب کر بھی لیتے ہیں تو ”من قریب“ یعنی جلد ہی توبہ کرلیتے ہیں، کہ یہاں ”بجہالۃ“ کی قید احتراز…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
آیت نمبر 17 تا 18۔
اس آیت میں چار مسائل ہیں۔
مسئلہ نمبر : (1) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” انما التوبۃ علی اللہ “۔ بعض علماء نے فرمایا : یہ آیت ہر اس شخص کو جس نے کوئی گناہ کیا، بعض علماء نے فرمایا : یہ صرف ان لوگوں کے لیے ہے جن سے جہالت کی بنا پر گناہ ہوا اور توبہ ہر اس شخص کے لیے ہے جس نے دوسری جگہ میں گناہ کیا اور امت کا اتفاق ہے کہ مومنین پر توبہ کرنا فرض ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” وتوبوا الی اللہ جمیعا ایہ المؤمنون “۔ (نور : 31) رجوع کرو اللہ کی طرف سب کے سب اے ایمان والو !
اور ایک گناہ سے توبہ کرنا صحیح ہے جب کہ کسی دوسرے گناہ پر قائم بھی ہو جو اس پہلے گناہ کی نوع سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
(1) عبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابو العالیہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” انما التوبۃ علی اللہ “ یہ ایمان والوں کے لئے ہے (اور) ” ولیست التوبۃ للذین یعملون السیات “ یہ منافق لوگوں کے لئے ہے (اور) لفظ آیت ” ولا الذین یموتون وہم کفار “ یہ شرک والوں کے لئے ہے۔
(2) ابن جریر نے ربیع (رح) سے روایت کیا کہ پہلی آیت ایمان والوں کے بارے میں نازل ہوئی اور درمیانی آیت منافقین کے لئے نازل ہوئی اور آخری آیت کافروں کے لئے نازل ہوئی۔
(3) عبد بن حمید ابن جریر وابن المنذر نے مردہ آخر سے ابو العالیہ (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ کے اصحاب فرمایا کرتے تھے ہر گناہ جو بندہ کرتا ہے وہ جہالت ہے۔
(4)…
Read the full tafseer →[ اِنَّمَا : کچھ نہیں سوائے اس کے کہ ] [ التَّوْبَۃُ : توبہ (یعنی اپنی رحمت کے ساتھ رجوع کرنا تو ثابت) ہے ] [ عَلَی اللّٰہِ : اللہ پر ] [ لِلَّذِیْنَ : ان لوگوں کے لیے جو ] [ یَعْمَلُوْنَ : کرتے ہیں ] [ السُّوْئَ : برا (کام) ] [ بِجَہَالَۃٍ : نادانی میں ] [ ثُمَّ : پھر
یَتُوْبُوْنَ : وہ لوگ توبہ کرتے ہیں ] [ مِنْ قَرِیْبٍ : قریب (یعنی جلدی) سے ] [ فَاُولٰٓئِکَ : تو یہ لوگ ہیں ] [ یَتُوْبُ : توبہ قبول کرتا ہے ] [ اللّٰہُ : اللہ ] [ عَلَیْہِمْ : جن کی ] [ وَکَانَ اللّٰہُ : اور اللہ ہے ] [ عَلِیْمًا : جاننے والا ] [ حَکِیْمًا : حکمت والا ]
ع ت د
عَتُدَ یَعْتُدُ (ک) عَتَادًا : تیار ہونا ‘ آمادہ…
Read the full tafseer →توبہ کی ضرورت اور اس کا طریقہ
ان دونوں آیتوں میں توبہ کا قانون بیان فرمایا ہے اولاً تو یہ فرمایا کہ جو لوگ حماقت سے گناہ کر بیٹھیں پھر جلدی ہی توبہ کرلیں تو اللہ تعالیٰ ان کی توبہ قبول فرماتا ہے اگر توبہ سچی ہو تو اللہ تعالیٰ کے ہاں ضرور قبول ہوئی اور گناہ معاف ہوجائے گا، صغیرہ گناہوں کا کفارہ تو نیکیوں سے بھی ہوتا رہتا ہے لیکن کبیرہ گناہ (یقینی طور پر) صرف توبہ ہی سے معاف ہوتے ہیں اور صغیرہ گناہ پر اصرار کرنے سے صغیرہ بھی کبیرہ ہوجاتا ہے اور صغیرہ گناہ کو بھی معمولی نہ سمجھا جائے کیونکہ یہ بھی خالق ومالک جل مجدہ کی بغاوت ہے اور اس پر بھی مواخذہ اور عذاب ہوسکتا ہے جب کوئی گناہ ہوجائے چھوٹا ہو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–18
قال تعالیٰ والتی۔۔۔ الی۔۔ رحیما۔ آیت۔
ربط) گزشتہ آیات میں حدود اللہ سے تعدی کا قانون بیان فرمایا تھا اب اس قانون عام کے بعد اس کی بعض خاص صورتیں بیان فرماتے ہیں اور ان کی اصلاح کا طریقہ ارشاد فرماتے ہیں چناچہ فرماتے ہیں کہ منجملہ تعدی حدود اللہ ایک زنا ہے اور اس کا حکم یہ ہے کہ تمہاری منکوحہ بیبیوں میں سے جو عورتیں بےحیائی جامرتکب ہوں یعنی زنا کریں تو تم ان سے اس فعل پر اپنی جنس میں کے یعنی عاقل بالغ آزاد مذکر چار آدمی گواہ لاؤ پس اگر وہ چار آدمی ان پر اپنی چشم دید گواہی دے دیں اور اپنا عینی مشاہدہ بیان کردیں و ان عورتوں کو گھروں میں محبوس اور بند رکھو کہ گھر سے باہر نہ نکلنے دو یہاں تک کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–18
17 ساتواں حکم رعیت (عورتوں کو وراثت سے حصہ ضرور دو لیکن اگر ان سے زنا سرزد ہوجائے تو ان پر شرعی حکم نافذ کرو) ۔ احکام وراثت بیان کرنے کے بعد ان عورتوں کا حکم بیان کیا گیا جن سے زنا کا رتکاب ہوجائے۔ یعنی عورتوں کو میراث سے بیشک حصہ دو لیکن اگر کسی عورت سے زنا سرزد ہوجائے تو اگر چار گواہوں کی شہادت سے ان کا جرم ثابت ہوجائے تو ان کو بند رکھو یہاں تک کہ ان کے لیے کوئی دوسرا حکم آجائے اور اگر ان کو بطور سزا کوئی تکلیف دینا چاہو تو زیادہ نہ دو اور حد اعتدال سے آگے نہ بڑھو۔ یہ حکم حد شرعی کے نزول سے پہلے تھا۔ اور اگر وہ سچی توبہ کرلیں تو پھر ان سے تعرض نہ کرو اور انہیں کچھ نہ کہو کیونکہ جو شخص گناہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
ربط آیات
پہلے وراثت کے مسائل بیان ہوئے۔ اس کے بعد معاشرے کی درستگی اور اس کی پاکیزگی کے احکام کا تذکرہ ہوا۔ اور زنا اور لواطت جیسی قبیح بیماری کی مذمت کی گئی اور بدکار عورتوں کو تازیست محبوس رکھنے اور مردوں کو اذیت پہنچانے کا حکم دیا گیا۔ البتہ اگر ایسے لوگ توبہ کرکے اپنی اصلاح کرلیں تو فرمایا کہ پھر انہیں ایذا نہ پہنچائو۔ اس مقام پر اللہ تعالیٰ کی صفات بیان ہوئیں کہ وہ توبہ قبول کرنے والا اور مہربان ہے۔ اب یہاں درمیان میں جملہ معترضہ کے طور پر توبہ کی شرائط کا ذکر آگیا ہے اور اس بات کی وضاحت فرمادی گی ہے کہ زنا اور لواطت جیسے کبیرہ گناہ سے بھی توبہ کرلی جائے ، انسان سچے دل سے نادم ہوجائے تو…
Read the full tafseer →اِنَّمَا التَّوْبَۃُ عَلَي اللہِ لِلَّذِيْنَ يَعْمَلُوْنَ السُّوْۗءَ بِجَہَالَۃٍ ثُمَّ يَتُوْبُوْنَ مِنْ قَرِيْبٍ فَاُولٰۗىِٕكَ يَتُوْبُ اللہُ عَلَيْھِمْ 0 ۭ وَكَانَ اللہُ عَلِــيْمًا حَكِـيْمًا 17
توب
التَّوْبُ : ترک الذنب علی أجمل الوجوه وهو أبلغ وجوه الاعتذار،
فإنّ الاعتذار علی ثلاثة أوجه : إمّا أن يقول المعتذر : لم أفعل، أو يقول :
فعلت لأجل کذا، أو فعلت وأسأت وقد أقلعت، ولا رابع لذلک، وهذا الأخير هو التوبة، والتَّوْبَةُ في الشرع :
ترک الذنب لقبحه والندم علی ما فرط منه، والعزیمة علی ترک المعاودة، وتدارک ما أمكنه أن يتدارک من الأعمال بالأعمال بالإعادة، فمتی اجتمعت هذه الأربع فقد کملت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–18
(2) والذان اس سے مراد بھی جمہور کے نزدیک زنا ہے۔ نزول میں تقدیم و تاخیر ہے۔ اول اسلام میں صرف ایذا دینا ہی سزا مقرر تھی کہ ان کو زبان سے برا بھلا کہو ٗ ملامت کرو فاذوھما سے یہی مراد ہے۔ اگر باز آویں اور توبہ کرلیں تو اس کا پیچھا چھوڑ دو چونکہ عرب اس گناہ کے عادی تھے ان کو بتدریج منع فرمایا۔ پھر اس کے بعد والتی آیت مقدمہ نازل ہوئی کہ جس میں قید کا حکم ہوا۔ اس کے بعد سورة نور میں سزامعین کردی۔ بعض کہتے ہیں والتی سے مراد زنا ہے۔ والذان سے مراد لواطت ہے اور فاذوہما سے مراد تعزیر ہے اور یہی قول امام ابوحنیفہ (رح) کا ہے کہ اغلام کے لئے زنا کا حکم نہیں۔ اس کے لئے تعزیر ہے نہ حد۔ امام شافعی (رح) کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
اِنَّمَا التَّوْبَۃُ عَلَی اللّٰہِ لِلَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ السُّوْٓئَ بِجَھَالَۃٍ ثُمَّ یَتُوْبُوْنَ مِنْ قَرِیْبٍ فَاُولٰٓئِکَ یَتُوْبُ اللّٰہُ عَلَیْہِمْ ط وَکَانَ اللّٰہُ عَلِیْمًا حَکِیْمًا وَلَیْسَتِ التَّوْبَۃُ لِلَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ السَّیِّاٰتِج حَتّٰیٓ اِذَا حَضَرَ اَحَدَھُمُ الْمَوْتُ قَالَ اِنِّیْ تُبْتُ الْئٰنَ وَلَا الَّذِیْنَ یَمُوْتُوْنَ وَھُمْ کُفَّارَ ط اُوْلٰٓئِکَ اَعْتَدْنَا لَھُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا
(اللہ پر توبہ قبول کرنے کی ذمہ داری تو انھیں کے لیے ہے جو کرتے ہیں برا کام جہالت سے پھر جلدی ہی توبہ کرلیتے ہیں۔ وہی ہیں جن کی توبہ اللہ قبول فرماتا ہے اور اللہ سب کچھ جاننے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
فہم القرآن
ربط کلام : اخلاقی بےراہروی کی سزا اور اس کی توبہ اور اب ان لوگوں کا ذکر ہوتا ہے جن کی توبہ قبول ہوگی اور جن کی توبہ قبول نہیں کی جائے گی۔
قرآن مجید کے اسلوب بیان میں بیشمار لطافتیں اور حکمتیں ہیں ان میں یہ بھی حکمت ہے کہ یہ محض قانون اور ضابطوں کی کتاب نہیں کہ جس میں پھیکا پن، جرم کی تفصیل اور صرف سزاؤں کا تذکرہ ہو قرآن مجید کی لطافت و بلاغت یہ ہے کہ وہ کسی قانون اور سزا کو محض ضابطے کے طور پر نہیں بلکہ اسے نصیحت اور خیر خواہی کے طور پر بیان اور نافذ کرتا ہے۔ بدکار لوگوں کی سزا کا ذکر کرنے کے فوراً بعد توبہ کا اعلان کرتے ہوئے فرمایا کہ جو لوگ جہالت سے سرزد ہونے والے گناہ کے فوراً…
Read the full tafseer →آیت 17 :
اِنَّمَا التَّوْبَۃُ (بےشک توبہ قبول کرنا) اس سے اس شخص کی توبہ مراد ہے۔ جس پر اللہ تعالیٰ رجوع فرما کر توبہ قبول کرلیں۔ عَلَی اللّٰہِ (اللہ تعالیٰ کے ذمہ) اس سے مراد وجوب نہیں۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کے ذمہ کوئی چیز واجب نہیں۔ بلکہ علیٰ ، وعدے کی تاکید کیلئے لایا گیا ہے۔ مطلب یہ ہوا کہ یہ بہر صورت ہو کر رہے گا۔ جس طرح واجب چھوڑا نہیں جاسکتا۔ لِلَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ السُّوْٓئَ (صرف ان لوگوں کیلئے ہے۔ جو برائی کرلیتے ہیں) گناہ کو سوء کے لفظ سے ذکر اسلئے کیا۔ کیونکہ گناہ کا وبال برا ہے۔ بِجَہَالَۃٍ (نادانی کے ساتھ)
جہالت کی قید کا فائدہ :
نحو : بجہالۃٍ موضع حال میں ہے یعنی یعملون السوء…
Read the full tafseer →(تفسیر) 17۔:
(آیت)” انما التوبۃ علی اللہ “۔ حسن بصری (رح) فرماتے ہیں کہ اس سے مراد وہ توبہ ہے جو قبول ہوتی ہے اس صورت میں علی بمعنی عند کے ہوگا اور بعض نے کہا کہ یہ من اللہ ہے۔
(آیت)” للذین یعملون السوء بجھالۃ “۔ حضرت قتادہ ؓ فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ کے اصحاب کا اس بات پر اجماع ہے کہ اللہ کو جو نافرمانی کی جائے وہ جہالت ہے خواہ جان کر کی جائے یا بھول کر ، ہرنافرمانی کرنے والا جاہل کہلاتا ہے ۔
مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ اس آیت سے مراد جان بوجھ کر گناہ کرنے والا مراد ہے کلبی (رح) فرماتے ہیں کہ گناہ کرنے والا جاہل نہیں ، البتہ اس گناہ کا انجام جہالت ہے، بعض نے کہا کہ اس کا معنی جہالت ہے کیونکہ وہ فانی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
(17 ۔ 18) ۔ اوپر کی آیت میں توبہ کا ذکر تھا۔ اس لئے اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے توبہ کے قبول ہونے اور نہ ہونے کا ذکر فرمایا اوپر گذر چکا ہے کہ توبہ کے قبول ہونے کا وقت وہی ہے کہ آدمی گناہ کر کے اضطرار کی حالت سے پہلے تو بہ کرلے ورنہ موت کے آثار پیدا ہوجانے اور اضطرار کی حالت پیش آجانے کے وقت کی توبہ قبول نہیں ہوتی۔ اضطرار کی حالت کے پیش آجانے کا یہ مطلب یہ ہے کہ جس طرح فرعون نے بالکل ڈوبتے وقت توبہ کی اور قبول نہ ہوئی اسی طرح خراٹا لگ جانے اور دم اکھڑے جانے کے وقت کوئی شخص توبہ کرے گا تو اس کی توبہ قبول نہ ہوگی۔ چناچہ اس بات میں حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ کی حدیث جس کو ترمذی نے حسن کہا ہے 1 اوپر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–20
آیت 17
اللہ تعالیٰ کا بندوں کی طرف رجوع کرنے کی دو قسمیں ہیں۔ (1) اللہ تعالیٰ کا بندے کو توبہ کی توفیق عطا کرنا۔
(2) بندے کے توبہ کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ کا اس کو قبول کرلینا۔
اللہ تعالیٰ نے یہاں آگاہ فرمایا ہے کہ توبہ اللہ تعالیٰ پر استحقاق ہے، قبولیت توبہ ایک ایسا حق ہے جسے خود اللہ تعالیٰ نے اپنے جودو کرم کی بنا پر اپنے آپ پر اس بندے کے لئے لازم فرمایا ہے جو برا کام کر بیٹھتا ہے (بجھالۃ) یعنی وہ اس برائی کے انجام، اللہ تعالیٰ کی ناراضی اور اس کے عذاب سے، جس کی یہ برائی موجب ہوتی ہے۔ لاعلمی کی وجہ سے برائی کا ارتکاب کرتا ہے۔ وہ برائی کرتے وقت اس بات سے بھی جاہل ہوتا ہے کہ اللہ دیکھ رہا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
یہی بات درست ہے اس لیے حدیث کے ابتدائی الفاظ سے ضروری ہوجاتا ہے کہ اسے آیت میں مذکورسبیل کا بیان تسلیم کرلیاجائے۔
اوریہ بات تو معلوم ہی ہے کہ حضور ﷺ کے اس ارشاد اور حبس واذیت کے مابین کسی اور حکم کا واسطہ نہیں ہے اور یہ کہ سورة نور میں کوڑوں کی سزا کے حکم پر مشتمل آیت اس وقت تک نازل نہیں ہوئی تھی۔ اس لیے کہ اگر اس وقت تک اس کا نزول ہوچکا ہوتا ہے تو آیت زیربحث میں مذکورسبیل کے بیان کے سلسلے میں مذکورہ بالاحدیث پرا سے مقدم تسلیم کرلیاجاتا۔
نیز حضور ﷺ کے اس ارشاد (خذواعنی ، قدجعل اللہ لھن سبیلا، کے کوئی معنی نہ ہوتے۔ اس لیے یہ بات ثابت ہوگئی کہ حبس اور اذیت کے حکم کو منسوخ کرنے والی وہ حدیث ہے…
Read the full tafseer →41 جہالت بمعنی نادانی : یعنی " جہالت " کا لفظ یہاں پر عدم علم کے معنی میں نہیں، بلکہ نادانی اور بےوقوفی کے معنی میں ہے۔ کیونکہ جو بھی کوئی گناہ کرتا ہے، وہ دراصل حماقت اور نادانی ہی کی بنا پر کرتا ہے، کہ وہ وقتی خواہشات و جذبات اور دوسرے عوامل و عوارض سے مغلوب و متاثر ہو کر اور گناہ کے عواقب و نتائج سے غافل و لاپرواہ ہو کر ہی اس کا ارتکاب کرتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ حضرات صحابہ کرام اور دوسرے ثقہ اہل علم کا اس پر اتفاق ہے کہ یہاں جہالت کا یہی مفہوم مراد ہے۔ (جامع البیان، وغیرہ) ۔ سو یہاں پر جہالت کا لفظ علم کے مقابلے میں نہیں، حلم کے مقابلے میں ہے جیسا کہ شاعر کہتا ہے ۔ الَا لا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
سچی اور جھوٹی توبہ
تشریح : ان آیات میں اللہ غفورورحیم نے اپنے بندوں کی نجات کے لیے ایک ایسا دروازہ کھول رکھا ہے جو ان کو درد ناک عذاب سے بچا سکتا ہے۔ انسان غلطیوں کا پتلا ہے شیطان ہر وقت اس کو شکار کرنے کے لیے تیار ہوتا ہے، لہٰذا اللہ رب العزت فرماتا ہے کہ وہ ظلم و زیادتی کو پسند نہیں کرتا لہٰذا اگر کسی سے گناہ ہوجائے تو اسے چاہیے فوراً خلوص نیت سے اللہ سے معافی مانگ لے تو اس کی توبہ یقیناً قبول کرلی جائے گی۔ توبہ کرنے کی شرائط تین یا چار ہیں : اول اپنے کئے پر ندامت محسوس کرے۔ دوم جس گناہ پر توبہ کی ہے اس کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے چھوڑ دے۔ سوم دوبارہ وہ کام نہ کرنے کا عہد کرے۔ چہارم اگر اس کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
آیات 17 تا 18: انما التوبۃ۔۔۔ اولئک اعتدنا لھم عذابا الیما۔
توبہ اور اس کی حقیقت :
چونکہ توبہ کا ذکر آگیا تو اللہ کریم نے توبہ کی صورت ارشاد فرما دی کہ اگر کوئی نادانی سے برائی کر بیٹھے اور پھر اس حرکت پر شرمندہ ہو اور فوراً توبہ کرلے تو اللہ کریم ایسے لوگوں کی توبہ قبول فرماتے ہیں۔ یہاں برائی کا تعلق جہالت سے ارشاد ہوا ہے تو مراد یہ نہ ہوگا کہ گناہ سے واقف نہ تھا ورنہ عمداً ایسا نہ کرتا بلکہ مراد یہ ہے کہ وہ فعل جو اللہ کریم اور اس کے رسول ﷺ کے حکم کے خلاف ہو وہ جہالت ہے خواہ کتنے بڑے دانشور سے صادر ہو حضرت قتادہ ؓ کی روایت ہے اجمع اصحاب رسول اللہ ﷺ علی ان کل معصیۃ جھالۃ عمدا کان اولم یکن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–17
ف 2 یہا علی اللہ کے معنی یہ ہیں کہ ایسے لوگوں کی توبہ قبول کرنا اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے اپنے ذمہ لے لیا ہے رونہ اللہ تعالیٰ پر کوئی چیز لازم نہیں ہے۔ (قرطبی) بحھالہ یعنی اگر کبھی نادانی اور جذبات سے مغلوب ہو کر گناہ کا ارتکاب کر بھی لیتے میں تو من قریب یعنی جلد ہی توبہ کرلیتے ہیں۔ بعض علما نے لکھا ہے کہ یہاں بجھالتہ کی قید احتراز کے لیے نہیں ہے۔ بلکہ بیان واقعہ کے لیے ہے یعنی ہر گناہ جہالت اور نادانی کی وجہ سے ہوتا ہے اور من قریب کا مفہوم یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ع موت کے آثار مشاہدہ کرنے سے پہلے پہلے تائب ہوجاتے ہیں۔ ان دو شرطوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ ان کی توبہ قبول فرمالیتا ہے۔ (قرطبی۔…
Read the full tafseer →(4:17) انما التوبۃ علی اللہ للذین۔ تحقیق اللہ تعالیٰ نے توبہ قبول کرنا اپنے ذمہ لے لیا ان لوگوں کے حق میں۔
التوبۃ۔ تاب۔ اس نے توبہ کی۔ وہ پھر آیا۔ گناہ سے وہ باز آیا۔ باب نصر سے اس نے قبول کیا۔ جب اس کا تعدیہ الیٰ کے ساتھ تو اللہ تعالیٰ کی طرف توجہ اور انابت کے معنی ہوتے ہیں۔ جیسے فتوبوا الی بارئکم (2:54) پس چاہیے کہ توبہ کرو تم اپنے خالق کے حضور۔ اور جب علیٰ سے ہوتا ہے تو توبہ قبول کرنے کے معنی میں آتا ہے ۔ فتاب علیکم (2:54) پھر حق تعالیٰ نے تمہاری توبہ قبول کرلی۔
من قریب۔ جلدی ۔ شتاب۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
آیت نمبر 17-18
لغات القرآن : التوبہ، توبہ، (لوٹنا) ۔ السوء، برائی ، گناہ۔ بجھالۃ، جہالت، نادانی۔ یتوبون، وہ توبہ کرتے ہیں۔ یعملون، عمل کرتے ہیں۔ السیات، (سیئۃ) برائی، گناہ۔ تبت، میں نے توبہ کرلی۔ اعتدنا، ہم نے تیار کیا ہے۔
تشریح : گذشتہ آیات میں بدکار مردوں اور بدکار عورتوں کی سزا کے بعد اللہ تعالیٰ نے توبہ کا ذکر فرمایا تھا۔ اب سورة النساء کی آیت 17، 18 میں توبہ قبول ہونے اور نہ ہونے کی صورتوں کا بیان فرمایا ہے۔ توبہ کے لفظی معنی ہیں ” لوٹنا “ واپس آنا ۔ جس جگہ کو چھوڑا تھا وہیں پلٹ کر واپس آنا۔ جب کوئی انسان گناہ کرتا ہے تو گویا وہ اللہ کی راہ سے ہٹ جاتا ہے لیکن جب وہ ندامت کے آنسوؤں کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
توبہ کب تک قبول ہوتی ہے ؟
توبہ کے قبول ہونے کا وقت وہی ہے کہ آدمی گناہ کر کے اضطرار کی حالت سے پہلے توبہ کر لیوے ورنہ موت کے آثار پیدا ہوجانے اور اضطرار کی حالت پیش آجانے کے وقت کی توبہ قبول نہیں ہوئی، اسی طرح غراٹا لگ جانے اور دم اکھڑ جانے کے وقت کوئی شخص توبہ کرے گا تو اس کی توبہ قبول نہ ہوگی۔ توبہ قبول ہونے کے لئے آئندہ گناہ سے باز رہنے اور نیک کام کرنے کا ارادہ کرنا ضروری ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–17
[20] ان دو آیتوں میں زنا کے متعلق ابتدائی احکام ہیں۔ پہلی آیت صرف زانیہ عورت کے بارے میں ہے اور دوسری زانیہ عورت اور زانیہ مرد دونوں کے بارے میں۔ بعد میں سورة نور کی وہ آیت نازل فرمائی جس میں مرد و عورت دونوں کے لئے ایک ہی سزا کا حکم ہے لیکن بعض مفسرین اس طرف گئے ہیں کہ ان آیات میں اور سورة نور میں ایک ہی جرم کی سزا نہیں بیان کی گئی بلکہ دو مختلف جرائم کا ذکر کیا گیا ہے۔ یہاں جس بدچلنی کا ذکر کیا ہے اس سے مقصود وہ بدچلنی ہے جو دو عورتیں اور دو مرد آپس میں کریں جب کہ سورة نور میں زنا کا ذکر ہے پس دونوں احکام اپنی اپنی جگہ باقی ہیں۔
Read the full tafseer →(ف 2) فرمایا ، تائب وہ ہے جو نادانستہ گناہ کر بیٹھے اور پھر فورا ہی جان لینے کے بعد توبہ کرلے ، وہ نہیں جو عمدا توبہ کے بھروسہ پر گناہ کرے ،
حدیث میں آیا ہے ، التائب من الذنب کمن لا ذنب لہ “۔ کے صحیح معنوں میں توبہ کرنے والا بالکل معصوم انسان کی طرح ہوجاتا ہے ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–17
ف 3 اور تم میں سے جو دو شخص بھی اس مذکورہ بےحیائی کا ارتکاب کریں تو ان دونوں کو اذیت پہنچائو پھر اگر وہ اذیت پہنچانے کے بعد دونوں اپنے گناہ سے توبہ کرلیں اور آئندہ کیلئے اپنی اصلاح کرلیں اور آئندہ اس فعل فاحش کا ارتکاب نہ کریں تو ان سے درگزر کرو اور ان کا پیچھا چھوڑ دو ۔ یقین جانو ! کہ اللہ تعالیٰ بڑا توبہ قبول کرنے والا اور بہت مہربانی کرنے والا ہے۔ (تیسیر)
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں اگر دو مرد فعل بد کریں ان کا حکم بھی اس وقت مجمل ایذا دینی فرمائی اور اگر توبہ کریں تو ایذا نہ دو پھر جب حد نازل ہوئی تو اس کی حد جدائی فرمائی اس میں علماء کو اختلاف رہا کہ وہی حد ہے اس کی بھی یا شمشیر سے قتل…
Read the full tafseer →ف 5۔ حماقت کی قید واقعی احترازی اور شرطی نہیں کیونکہ ہمیشہ گناہ حماقت ہی سے ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →توبہ کا جو گُر اس ” جگت گرو “ نے سکھایا وہ کوئی اور نہ سکھا سکا :
44: توبہ کیا ہے ؟ کفارہ ہے انسان کے اس برے عمل کا جس کی برائی اس نے محسوس کرلی اور جو کام اس سے سرزد ہوا تھا اس سے اس نے رجوع کرلیا اور نادم ہوا کہ میرے اللہ ! مجھ سے گناہ ہوگیا۔ میں اپنے گناہ کا تیری ذات کے سامنے اعتراف کرتے ہوئے آئندہ ایسی حرکت سے باز آنے کا اقرار کرتا ہوں۔ اس لیے کہ انسان کے تمام کاروبار میں اصل شے اس کا دل ہے۔ اس سے وہ پاک ہوتا ہے اور اس سے ناپاک بنتا ہے۔ انسان کا دل خلوص کے ساتھ کسی وقت اللہ کی طرف رجوع کرے اور اپنی تقصیروں اور فروگزاشتوں پر اس کی بارگاہ میں نادم و شرمسار ہو کر اپنی پچھلی زندگی سے بیزار ہو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
Repentance was mentioned in the previous verse. Now, given in the present two verses are conditions under which repentance is or is not accepted.
Commentary
Repentance from a deliberate sin
At this point, it should be noted that the Holy Qur'an has used the words "in ignorance" which apparently gives an impression that the repentance may be accepted when a sin is committed unintentionally and unknowingly. But if it is committed deliberately, it will not be acceptable. However, according to the explanation of this verse given by the noble Companions, may Allah be pleased with them all, the…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–17
26. In these two verses (15-16) the first, preliminary directives for the punishment for unlawful sexual intercourse are stated. The first verse deals with women. The punishment laid down was to confine them until further directives were revealed. The second verse (i.e. 16) relates to both sexes. The injunction lays down that they should be punished - that is, they should be beaten and publicly reproached. Later, another injunction was revealed (see Surah al-Nur 24: 2) which laid down that both the male and female should be given a hundred lashes. These injunctions are necessarily of a…
Read the full tafseer →