An-Nisaa 4:16

An-Nisaa · from ayah 16

4:16

وَالَّذٰنِ یَاْتِیٰنِهَا مِنْكُمْ فَاٰذُوْهُمَا ۚ— فَاِنْ تَابَا وَاَصْلَحَا فَاَعْرِضُوْا عَنْهُمَا ؕ— اِنَّ اللّٰهَ كَانَ تَوَّابًا رَّحِیْمًا ۟وَالَّذٰنِ يَاۡتِيٰنِهَا مِنۡكُمۡ فَاٰذُوۡهُمَا‌ ۚ فَاِنۡ تَابَا وَاَصۡلَحَا فَاَعۡرِضُوۡا عَنۡهُمَا‌ ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ تَوَّابًا رَّحِيۡمًا

اور جو دو مرد تم میں سے بدکاری کریں تو ان کو ایذا دو۔ پھر اگر وہ توبہ کرلیں اور نیکوکار ہوجائیں تو ان کا پیچھا چھوڑ دو۔ بےشک خدا توبہ قبول کرنے والا (اور) مہربان ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And the two who commit it among you, dishonor them both. But if they repent and correct themselves, leave them alone. Indeed, Allah is ever Accepting of repentance and Merciful.

— Saheeh International

Juz 4 · Ruku 3 of surah · Ruku 14 of juz

Read the whole surah · Surah An-Nisaa

All translations of 4:16

اور تم میں سے جو اس فعل کا ارتکاب کریں اُن دونوں کو تکلیف دو، پھر اگر وہ توبہ کریں اور اپنی اصلاح کر لیں تو انہیں چھوڑ دو کہ اللہ بہت توبہ قبول کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور جو دو مرد تم میں سے بدکاری کریں تو ان کو ایذا دو۔ پھر اگر وہ توبہ کرلیں اور نیکوکار ہوجائیں تو ان کا پیچھا چھوڑ دو۔ بےشک خدا توبہ قبول کرنے والا (اور) مہربان ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

تم میں سے جو دو افراد ایسا کام کر لیں انہیں ایذا دو اگر وه توبہ اور اصلاح کر لیں تو ان سے منھ پھیر لو، بے شک اللہ تعالیٰ توبہ قبول کرنے واﻻ اور رحم کرنے واﻻ ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور تم میں سے جو دو مرد بدکاری کا ارتکاب کریں، ان کو اذیت دو۔ پھر اگر وہ توبہ کر کے اپنی اصلاح کرلیں تو ان سے درگزر کرو۔ بیشک اللہ بہت توبہ قبول کرنے والا، بڑا مہربان ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور تم میں جو مرد عورت ایسا کریں ان کو ایذا دو پھر اگر وہ توبہ کرلیں اور نیک ہوجائیں تو ان کا پیچھا چھوڑ دو، بیشک اللہ بڑا توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور تم میں سے جو بھی کوئی بدکاری کا ارتکاب کریں تو ان دونوں کو ایذا پہنچاؤ، پھر اگر وہ توبہ کر لیں اور (اپنی) اصلاح کر لیں تو انہیں سزا دینے سے گریز کرو، بیشک اللہ بڑا توبہ قبول فرمانے والا مہربان ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور وہ دونوں جو تم میں سے اس کا ارتکاب کریں سو ان دونوں کو ایذا دو ، پھر اگر دونوں توبہ کرلیں تو ان سے خیال ہٹا لو، بیشک اللہ ہمیشہ سے بےحد توبہ قبول کرنے والا، نہایت مہربان ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور تم میں سے جو مرد اور عورت اس فعل کا ارتکاب کریں انہیں ایذا دو۔ پھر اگر وہ توبہ کرلیں اور اپنی اصلاح کرلیں تو ان کا پیچھا چھوڑ دو۔ یقینا اللہ توبہ قبول کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور جو دونوں تم میں سے اس بدکاری کا ارتکاب کریں تو ان کو ایذا پہنچاؤ، پس اگر وہ توبہ کرلیں اور اصلاح کرلیں تو ان سے درگزر کرو۔ بیشک اللہ توبہ قبول کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور تم میں سے جو بھی کوئی دو شخص ارتکاب کریں اس (بےحیائی) کا تو تم ان کو ایذاء دو ، پھر اگر وہ توبہ کرلیں اور اصلاح کرلیں (اپنے بگاڑ کی) تو تم ان سے صرف نظر کرلو، بلاشبہ اللہ بڑا ہی توبہ قبول کرنے والا، نہایت مہربان ہے

— مولانا اسحاق مدنی

اور تم میں سے کوئی دو جو وہ کام کریں انہیں اذیت پہنچاؤ۔ پھر اگر دونوں توبہ کرلیں اور اپنی اصلاح کرلیں۔ تو ان سے تعرض نہ کرو۔ بیشک اللہ بڑا توبہ قبول کرنے والا ہے بڑا مہربان ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور جو دونوں تم میں سے اس (بدکاری) کا ارتکاب کریں تو ان دونوں کو ایذا پہنچاؤ پھر اگر وہ توبہ کرلیں اور اصلاح کرلیں تو ان کو چھوڑدو یقیناً اللہ تعالیٰ بہت توبہ قبول فرمانے والا اور رحم فرمانے والا ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور وہ دونوں جو تم میں سے اس کا ارتکاب کریں سو ان دونوں کو ایذا دو ، پھر اگر دونوں توبہ کرلیں تو ان سے خیال ہٹا لو، بیشک اللہ ہمیشہ سے بےحد توبہ قبول کرنے والا، نہایت مہربان ہے

— محترمہ رفعت اعجاز

Punish both of those among you who are guilty of this sin, then if they repent and mend their ways, leave them alone. For Allah is always ready to accept repentance. He is All-Compassionate.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Those two of you who commit it, chastise both of them. However, if they repent and make amends, then, overlook them. Surely, Allah is Most-Relenting, Very-Merciful.

— Muhammad Taqi Usmani

Those two of you who commit it, chastise both of them. However, if they repent and make amends, then, overlook them. Surely, Allah is Most-Relenting, Very-Merciful.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And the two persons among you who commit illegal sexual intercourse, punish them both. And if they repent and do righteous good deeds, leave them alone. Surely, Allah is Ever the One Who accepts repentance, (and He is) Most Merciful.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And as for the two of you who are guilty thereof, punish them both. And if they repent and improve, then let them be. Lo! Allah is ever relenting, Merciful.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And the two who commit it among you, dishonor them both. But if they repent and correct themselves, leave them alone. Indeed, Allah is ever Accepting of repentance and Merciful.

— Saheeh International

If any two people commit fornication, punish them. If they repent and reform, let them go. God is All-forgiving and All-merciful.

— Muhammad Sarwar

And as for the two who are guilty of indecency from among you, give them both a punishment; then if they repent and amend, turn aside from them; surely Allah is Oft-returning (to mercy), the Merciful.

— Muhammad Habib Shakir

And as for those twain of you who commit it, hurt them both; then, if they repent and amend, turn away from them; verily Allah is Relenting, Merciful.

— Abdul Majid Daryabadi

If two men among you are guilty of lewdness, punish them both. If they repent and amend, Leave them alone; for Allah is Oft-returning, Most Merciful.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 4:16

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 15–16

سیاہ کار عورت اور اس کی سزا ابتدائے اسلام میں یہ حکم تھا کہ جب عادل گواہوں کی سچی گواہی سے کسی عورت کی سیاہ کاری ثابت ہوجائے تو اسے گھر سے باہر نہ نکلنے دیا جائے گھر میں ہی قید کردیا جائے اور جنم قید یعنی موت سے پہلے اسے چھوڑا نہ جائے، اس فیصلہ کے بعد یہ اور بات ہے کہ اللہ ان کے لئے کوئی اور راستہ پیدا کر دے، پھر جب دوسری صورت کی سزا تجویز ہوئی تو وہ منسوخ ہوگئی اور یہ حکم بھی منسوخ ہوا، حضرت ابن عباس فرماتے ہیں جب تک سورة نور کی آیت نہیں اتری تھی زنا کار عورت کے لئے یہی حکم رہا پھر اس آیت میں شادی شدہ کو رجم کرنے یعنی پتھر مار مار کر مار ڈالنے اور بےشادی شدہ کو کوڑے مارنے کا حکم اترا، حضرت…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 16–17

سورة النِّسَآء 26 ان دونوں آیتوں میں زنا کی سزا بیان کی گئی ہے۔ پہلی آیت صرف زانیہ عورتوں کے متعلق ہے اور ان کی سزا یہ ارشاد ہوئی ہے کہ انہیں تاحکم ثانی قید رکھا جائے۔ دوسری آیت زانی مرد اور زانیہ عورت دونوں کے بارے میں ہے کہ دونوں کو اذیت دی جائے، یعنی مارا پیٹا جائے، سخت سست کہا جائے اور ان کی تذلیل کی جائے۔ زنا کے متعلق یہ ابتدائی حکم تھا۔ بعد میں سورة نور کی وہ آیت نازل ہوئی جس میں مرد اور عورت دونوں کے لیے ایک ہی حکم دیا گیا کہ انہیں سو 100 سو 100 کوڑے لگائے جائیں۔ اہل عرب چونکہ اس وقت تک کسی باقاعدہ حکومت کے ماتحت رہنے اور عدالت و قانون کے نظام کی اطاعت کرنے کے عادی نہ تھے، اس لیے یہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

غیر فطری طریقہ سے قضاء شہوت کا حکم میرے نزدیک ”الذان یاتیانھا“ کا مصداق وہ لوگ ہیں جو غیر فطری طریقہ پر قضاء شہوت کرتے ہیں، یعنی مرد استلذاز بالمثل کے مرتکب ہوتے ہیں۔“ قاضی صاحب کے علاوہ دیگر حضرات نے بھی اسی قول کو لیا ہے، الفاظ قرآن مجید میں چونکہ لفظ الذان یاتیانھا موصول اور صلہ دونوں مذکر کے الفاظ ہیں، اس لئے ان حضرات کا یہ قول بعید نہیں ہے، گو جن حضرات نے زانی اور زانیہ مراد لیا ہے، انہوں نے بطور تغلیب مذکر کا یہ صیغہ زانیہ کے لئے بھی شامل رکھا ہے، تاہم موقع کی مناسبت سے استلذاذ بالمثل کی حرمت و شدت اور اس کی جزاء و تعزیز کا ذکر اس جگہ بےجا نہ ہوگا۔ احادیث و آثار سے اس سلسلہ میں جو کچھ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

صیغہ کا استعمال شریک غالب کے اعتبار سے :۔ وَالَّذٰنِ يَاْتِيٰنِھَا مِنْكُمْ ، یعنی بدکاری کا ارتکاب کرنے والے دونوں فریق، مرد اور عورت، مسلمانوں ہی کے اندر کے ہوں، اس میں مذکر کا صیغہ عربی زبان کے معروف قاعدے کے مطابق شریک غالب کے لحاظ سے استعمال ہوا ہے۔ جیسے کہ ”والدین“ کا لفظ ہے۔ جو ہے تو مذکر لیکن ماں باپ دونوں ہی کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ ایذاء کا مفہوم : فَاٰذُوْھُمَا میں توہین و تذلیل، ڈانٹ ڈپٹ اور نصیحت و ملامت سے لے کر اصلاح کے حد تک مارپیٹ ہر چیز داخل ہے۔ ان آیات میں خطاب ظاہر ہے کہ معاشرہ کے ارباب حل و عقد اور ذمہ داروں سے ہے۔ ان کو خطاب کر کے بدکاری پر تعزیر کے لیے دو مختلف صورتوں…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 16–17

16۔ 1 بعض نے اس میں اغلام بازی مراد لی ہے یعنی عمل لواطت۔ دو مردوں کا ہی آپس میں بدفعلی کرنا اور بعض نے اسے باکرہ مرد و عورت مراد لیئے ہیں اور اس سے قبل کی آیت کو انہوں نے محصنات یعنی شادی کے ساتھ کیا ہے اور بعض نے اس تثنیہ کے صیغے سے مراد لیا ہیں۔ قطع نظر اس سے کہ وہ باکرہ ہوں یا شادی شدہ (ابن جریر طبری) نے دوسرے مفہوم یعنی باکرہ (مرد و عورت) کو ترجیح دی ہے اور پہلی آیت میں بیان کردہ سزا کو نبی ﷺ کی بتلائی ہوئی سزا سزائے رجم سے اور اس آیت میں بیان کردہ سزا کو سورة نور میں بیان کردہ سو کوڑے کی سزا سے منسوخ قرار دی ہے۔ (تفسیر طبری) 16۔ 2 یعنی زبان سے زجر و توبیخ اور ملامت یا ہاتھ سے کچھ زدوکوب…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 16–18

15: یہ مردوں کے خلاف فطرت ہم جنسی کے عمل کی طرف اشارہ ہے اس کی کوئی متعین سزا مقرر کرنے کے بجائے صرف یہ ہدایت دی گئی ہے کہ ایسے مردوں کو اذیت دی جائے جس کے مختلف طریقے فقہائے کرام نے تجویز کئے ہیں مگر ان میں سے کوئی لازمی نہیں، صحیح یہ ہے کہ اس کو حاکم کی صوابدید پر چھوڑدیا گیا ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 15–16

سبق 13 تشریح آیات : آیت نمبر 51 تا 32 : فحاشی کو روکنے کی خاطر اور اس کی پاکیزگی اور تنظیم کی خاطر بھی اسلام نے اپنا مخصوص انداز اختیار کیا ۔ سب سے پہلے اس نے فاحشہ عورتوں کو نظر بند کرنے اور انہیں معاشرہ سے دور رکھنے کے اقدامات کئے بشرطیکہ ان پر یہ جرم ثابت ہوجائے ۔ اس کے بعد اس نے غیر فطری فعل کا ارتکاب کرنے والے مردوں یعنی لوطیوں کے بارے میں حکم دیا کہ انہیں ایذا دی جائے لیکن اس کی کوئی مقدار مقرر نہیں کی ۔ اور اس کے بعد ان لوگوں کے لئے ایک ہی سزا فرمائی یعنی سزائے حد کی سزا جس کا ذکر سورة نور میں ہوا ۔ یعنی سوکوڑے سزا اور اس کے علاوہ وہ سزائے رجم مقرر کی جس کا ذکر احادیث میں آتا ہے ۔ ان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

1 یعنی وہ شخص خواہ وہ ایک مرد اور ایک عورت ہو خواہ دونوں مرد ہوں اگر فعل بد کریں تو ان کی سزا مجملاً ایذا دینا ارشاد فرمایا۔ زبان سے ہاتھ سے بقدر مناسب ان کو تنبیہ و تادیب کرنے کا حکم ہوا۔ اس سے معلوم ہوا کہ اس وقت زنا اور لواطت دونوں کا یہی حکم تھا کہ حاکم اور قاضی کے نزدیک زجر وعبرت کے لئے جتنی سزا اور شتم و ضرب مناسب ہو، اتنی سزا دی جائے اس کے بعد حسب وعدہ حد زنا جب نازل ہوئی تو لواطت کیلئے کوئی جدا حد بیان نہ فرمائی اس میں علماء کا اختلاف رہا کہ لواطت کی بھی وہی حد ہے جو زنا کے لئے بیان ہوئی یا لواطت کی وہی سزا باقی رہی جو پہلے تھی یا اس کی سزا تلوار سے قتل کرنا یا کسی دوسرے طریقہ سے مار…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 16 وَالَّذٰنِ یَاْتِیٰنِہَا مِنْکُمْ فَاٰذُوْہُمَا ج۔ اگر بدکاری کا ارتکاب کرنے والے مرد و عورت دونوں مسلمانوں میں سے ہی ہوں تو دونوں کو اذیت دی جائے۔ یعنی ان کی توہین و تذلیل کی جائے اور مارا پیٹا جائے۔ ّ فَاِنْ تَابَا وَاَصْلَحَا فَاَعْرِضُوْا عَنْہُمَا ط اِنَّ اللّٰہَ کَانَ تَوَّابًا رَّحِیْمًا واضح رہے کہ یہ بالکل ابتدائی احکام ہیں۔ اسی لیے ان کی وضاحت میں تفسیروں میں بہت سے اقوال مل جائیں گے۔ اس لیے کہ جب حدود نافذ ہوگئیں تو یہ عبوری اور عارضی احکام منسوخ قرار پائے۔ جیسے کہ سورة النساء میں قانون وراثت نازل ہونے کے بعد سورة البقرۃ میں وارد شدہ وصیت کا حکم ساقط ہوگیا۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

28 اس آیت میں (والذان) کا لفظ استعمال ہوا ہے یعنی خواہ یہ زنا کرنے والے مرد اور عورت ہوں یا دونوں مرد ہوں اور لواطت کے مرتکب ہوں۔ اس لفظ میں دونوں صورتوں کی گنجائش ہے تو ایسے مردوں یا ایسے مرد اور عورت کی ابتدائی سزا یہ تھی کہ انہیں مار پیٹ کی جائے اور برا بھلا کہا جائے اور ذلیل کیا جائے۔ گویا زانی مرد اور عورت دونوں کے لیے تو یہ سزا تھی اور عورت کے لیے یہ سزا اضافی تھی کہ اسے تازیست گھر میں بند رکھا جائے۔ اور جس دوسری سزا کے تجویز کرنے کے متعلق اللہ تعالیٰ نے اشارہ فرمایا تھا اس سلسلے میں درج ذیل حدیث ملاحظہ فرمائیے : سزائے رجم :۔ سیدنا عبادہ بن صامت ؓ سے روایت ہے کہ ایک روز آپ پر وحی نازل…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

54 ۔ یعنی سزا اس جرم کے سارے مجرموں کے لیے ہے۔ بہت سی قومیں اپنے کو مہذب کہلانے والی آج بھی موجود ہیں جن کے ہاں حرام کاری (جب تک کہ بہ جبر نہ ہو) سرے سے قابل تعزیز ہی نہیں، بہت سی قوموں میں حرام کاری صرف شادی کے بعد ہے۔ بن بیا ہوں اور بن بیاہیوں کے لیے یہ کوئی جرم ہی نہیں۔ آیت اس سارے غلط و گمراہ کن نظریات کی تردید کررہی ہے۔ (آیت) ” والذن یاتینھا “۔ میں ھا کی ضمیر (آیت) ” فاحشۃ “ کی طرف ہے یعنی کوئی بھی جوڑا جو حرام کا مرتکب ہو۔ اس عموم میں ہر طرح کے مرتکب آگئے، بیا ہے اور کنوارے، مرد و عورت سب، بجز فاترالعقلوں کے۔ (آیت) ” فاذوھما “۔ اجراء سزا کا یہ حکم حکام یا اہل حل وعقد کو ہے، الخطاب ھنا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 15–18

آیت نمبر 15 تا 22 ترجمہ : اور تمہاری عورتوں میں سے جو بےحیائی، زنا، کی مرتکب ہوں ان پر اپنوں (مسلمانوں) میں سے چار آدمی گواہ کرلو، سو اگر وہ ان پر بےحیائی کی شہادت دیدیں تو ان کو گھروں میں نظر بند کردو اور ان کو لوگوں سے ملنے جلنے سے روک دو ، یہاں تک کہ موت (ملائکہ) اس کا خاتمہ کر دے یا اللہ ان کے لئے کوئی (اور) راہ نکال دے یعنی اس سے نکلنے کی کوئی صورت نکال دے یہ حکم ابتداء اسلام میں دیا گیا تھا پھر ان کے لئے باکرہ کو سو کوڑے اور ایک سال کی جلاوطنی کی صورت میں اور محصنہ کو رجم کی صورت میں سبیل نکالدی، اور حدیث شریف میں ہے کہ جب اللہ نے حد بیان فرمائی تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ : مجھ سے لے لو مجھ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

والذان یاتینھا منکم فاذوھما تم میں سے جو دونوں فاحشہ۔ یعنی زنا یا لواطت کا ارتکاب کریں تو دونوں کو دکھ پہنچاؤ۔ اکثر علماء کے نزدیک دونوں سے مراد دونوں زناء کرنے والے مرد اور عورت ہیں اور اٰذوھُما کی تشریح میں عطاء اور قتادہ نے کہا ان کو زبانی دکھ پہنچاؤ سخت سست کہو کہ تجھے اللہ سے شرم نہیں آتی تو اللہ سے نہیں ڈرتا۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : زبان سے عار دلاؤ اور ہاتھ سے بھی دکھ پہنچاؤ جو تے مارو۔ اگر آیت میں زانی اور زانیہ مراد ہوں تو اشکال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سابقہ آیت میں تو جس کی سزا تجویز کی تھی اور اس آیت میں ایذاء کا حکم دیا (کونسا حکم قابل عمل ہے اور دونوں میں تطبیق کی کیا شکل ہے) اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(16) اور اگر نوجوان کنوارے مرد اور لڑکیوں کی یہ سزا سو کوڑوں کے حکم نزول سے منسوخ ہوگئی۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 15–16

وَالّٰتِيْ يَاْتِيْنَ الْفَاحِشَةَ۔۔ : اوپر کی آیات میں عورتوں کے ساتھ احسان اور ان کے مہر ادا کرنے اور مردوں کے ساتھ ان کو وراثت میں شریک قرار دے کر ان کے حقوق کی حفاظت کا بیان تھا، اب یہاں سے عورتوں کی تادیب اور ان پر سختی کا بیان ہے، تاکہ عورت اپنے آپ کو بالکل ہی آزاد نہ سمجھے۔ (قرطبی) پہلی آیت میں زنا کار عورتوں کی سزا بیان کی کہ زنا شہادت سے ثابت ہوجائے تو انھیں تاعمر گھر میں محبوس رکھا جائے، یہاں تک کہ وہ مرجائیں، یا اللہ تعالیٰ ان کے بارے میں کوئی دوسری سزا نازل فرما دے۔ اسلام میں زنا کار عورتوں کے لیے یہ پہلی سزا ہے جو بعد میں حد زنا نازل ہونے سے منسوخ ہوگئی۔ سورة نور میں جو سو کوڑوں…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 15–16

آیت نمبر 15۔ اس میں آٹھ مسائل ہیں : مسئلہ نمبر : (1) اللہ تعالیٰ نے اس سورت میں عورتوں سے حسن سلوک کرنے اور انہیں مہر دینے کا ذکر فرمایا تو پھر مردوں کے ساتھ ان کی میراث کا بھی ذکر فرمایا اور وہ اگر غلط کاری کریں تو ان پر سختی کرنے کا ذکر فرمایا تاکہ عورت کو یہ وہم نہ ہو کہ اس کے لیے پاکدامنی کا ترک بھی جائز ہے۔ مسئلہ نمبر : (2) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” والتی “۔ یہ التی کی جمع ہے یہ مؤنث کے لیے مبہم اسم ہے اور یہ معرفہ ہے نکرہ بنانے کے لیے اس سے الف، لام کو دور کرنا جائز نہیں ہے اور یہ صلہ کے ساتھ مکمل ہوتا ہے، اس میں تین لغات ہیں جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے اس کی جمع اللات یعنی یا کے حذف…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

(1) ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے علی کے طریق سے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ” والذن یاتینھا منکم “ سے مراد ہے کہ ایک آدمی جب زنا کرتا تھا تو اس کو شرمندہ کیا جاتا اور جوتے مارے جوتے رو اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی لفظ آیت ” الزانیۃ والزانی فاجلدوا کل واحد منھما ماءۃ جلدۃ “ اگر دونوں شادی شدہ ہوں تو رسول اللہ ﷺ کے طریقے کے مطابق ان کر رجم کردیا جائے۔ (2) عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” والذن یاتینھا منکم “ یعنی دو آدمی برا کام کرنے والے۔ ابتدائے اسلام میں زنا کی سزا (3) آدم اور بیہقی نے اپنی سنن میں مجاہد (رح)…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ وَالَّذٰنِ : اور جو دو مرد ] [ یَاْتِیٰـنِہَا : کرتے ہیں وہی (یعنی بےحیائی) ] [ مِنْکُمْ : تم میں سے ] [ فَاٰذُوْہُمَا : تو اذیت دو ان دونوں کو ] [ فَاِنْ : پھر اگر ] [ تَابَا : دونوں توبہ کریں ] [ وَاَصْلَحَا : اور دونوں اصلاح کریں ] [ فَاَعْرِضُوْا : تو تم درگزر کرو ] [ عَنْہُمَا : دونوں سے ] [ اِنَّ اللّٰہَ : یقینا اللہ ] [ کَانَ تَوَّابًا : توبہ قبول کرنے والا ہے ] [ رَّحِیْمًا : رحم کرنے والا ہے ] نوٹ 1: ان آیات میں ایسے مردوں اور عورتوں کے بارے میں سزا تجویز کی گئی ہے جن سے فاحشہ یعنی زنا کا صدور ہوجائے ۔ اس کے ثبوت کے لیے چار گواہ طلب کیے جائیں گے۔ اگر چار سے کم لوگ گواہی دیں تو ان…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

دوسری آیت (وَ الَّذٰنِ یَاْتِیٰنِھَا مِنْکُمْ فَاٰذُوْھُمَا) میں یہ حکم دیا کو جو دو آدمی (مرد و عورت) بدکاری کریں تو ان کو ایذا دو ۔ ایذا دینے میں زبان سے عار دلانا اور زجر توبیخ کی باتیں کرنا بھی شامل ہے اور اس آیت میں مارپیٹ کی صورت میں کوئی سزا مقرر نہیں کی گئی، اس کو حکام کی صوابدید پر چھوڑ دیا گیا لیکن سورة نور کی آیت میں سزا مقرر کردی گئی تو اب اس پر عمل کرنا لازم ہوگیا، ایذا دینے کا حکم دے کر فرمایا کہ اگر وہ توبہ کرلیں اور اصلاح کرلیں تو ان سے اعراض کرو اللہ توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے۔ غیر فطری طریقے پر قضاء شہوت کرنے والوں کی سزا : (وَ الَّذٰنِ یَاْتِیٰنِھَا) کے بارے میں بعض…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 15–18

قال تعالیٰ والتی۔۔۔ الی۔۔ رحیما۔ آیت۔ ربط) گزشتہ آیات میں حدود اللہ سے تعدی کا قانون بیان فرمایا تھا اب اس قانون عام کے بعد اس کی بعض خاص صورتیں بیان فرماتے ہیں اور ان کی اصلاح کا طریقہ ارشاد فرماتے ہیں چناچہ فرماتے ہیں کہ منجملہ تعدی حدود اللہ ایک زنا ہے اور اس کا حکم یہ ہے کہ تمہاری منکوحہ بیبیوں میں سے جو عورتیں بےحیائی جامرتکب ہوں یعنی زنا کریں تو تم ان سے اس فعل پر اپنی جنس میں کے یعنی عاقل بالغ آزاد مذکر چار آدمی گواہ لاؤ پس اگر وہ چار آدمی ان پر اپنی چشم دید گواہی دے دیں اور اپنا عینی مشاہدہ بیان کردیں و ان عورتوں کو گھروں میں محبوس اور بند رکھو کہ گھر سے باہر نہ نکلنے دو یہاں تک کہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 15–18

17 ساتواں حکم رعیت (عورتوں کو وراثت سے حصہ ضرور دو لیکن اگر ان سے زنا سرزد ہوجائے تو ان پر شرعی حکم نافذ کرو) ۔ احکام وراثت بیان کرنے کے بعد ان عورتوں کا حکم بیان کیا گیا جن سے زنا کا رتکاب ہوجائے۔ یعنی عورتوں کو میراث سے بیشک حصہ دو لیکن اگر کسی عورت سے زنا سرزد ہوجائے تو اگر چار گواہوں کی شہادت سے ان کا جرم ثابت ہوجائے تو ان کو بند رکھو یہاں تک کہ ان کے لیے کوئی دوسرا حکم آجائے اور اگر ان کو بطور سزا کوئی تکلیف دینا چاہو تو زیادہ نہ دو اور حد اعتدال سے آگے نہ بڑھو۔ یہ حکم حد شرعی کے نزول سے پہلے تھا۔ اور اگر وہ سچی توبہ کرلیں تو پھر ان سے تعرض نہ کرو اور انہیں کچھ نہ کہو کیونکہ جو شخص گناہ…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 15–16

ربط آیات سورۃ کی ابتدا میں اللہ تعالیٰ نے عورتوں کے حقوق کا ذکر فرمایا ان کی ساتھ جو زیادتی زمانہ جاہلیت میں روارکھی جاتی تھی اس کے متعلق قانون بتایا یتیم بچیوں پر ظلم کیا جاتا تھا۔ یتیموں کے ساتھ ناانصافی ہوتی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے اس سلسلہ میں بھی احکام صادرفرمائے۔ پھر وراثت کا قانون سکھایا۔ اس میں بھی عوتوں اور چھوٹے بچوں کے ساتھ زیادتی کی جاتی تھی ، اللہ تعالیٰ نے وراثت کا مکمل قانون اور ضابطہ عطا کیا۔ وراثت میں تمام اقربا کے حصے مقرر فرمائے۔ اب آج کے درس میں اللہ تعالیٰ نے عورتوں کی کچھ ذمہ داریاں کا تذکرہ فرمایا ہے۔ ان کو حقوق تو حاصل ہوگئے اب ان کی تاذیب کی جارہی ہے اور خلاف ورزی کی صورت…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَالَّذٰنِ يَاْتِيٰنِھَا مِنْكُمْ فَاٰذُوْھُمَا۝ 0 ۚ فَاِنْ تَابَا وَاَصْلَحَا فَاَعْرِضُوْا عَنْہُمَا۝ 0 ۭ اِنَّ اللہَ كَانَ تَوَّابًا رَّحِـيْمًا۝ 16 أذي الأذى: ما يصل إلى الحیوان من الضرر إمّا في نفسه أو جسمه أو تبعاته دنیویاً کان أو أخرویاً ، قال تعالی: لا تُبْطِلُوا صَدَقاتِكُمْ بِالْمَنِّ وَالْأَذى [ البقرة/ 264] ( ا ذ ی ) الاذیٰ ۔ ہرا س ضرر کو کہتے ہیں جو کسی جاندار کو پہنچتا ہے وہ ضرر جسمانی ہو یا نفسانی یا اس کے متعلقات سے ہو اور پھر وہ ضرر دینوی ہو یا اخروی چناچہ قرآن میں ہے : ۔ { لَا تُبْطِلُوا صَدَقَاتِكُمْ بِالْمَنِّ وَالْأَذَى } ( سورة البقرة 264) اپنے صدقات ( و خیرات ) کو احسان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 16–18

(2) والذان اس سے مراد بھی جمہور کے نزدیک زنا ہے۔ نزول میں تقدیم و تاخیر ہے۔ اول اسلام میں صرف ایذا دینا ہی سزا مقرر تھی کہ ان کو زبان سے برا بھلا کہو ٗ ملامت کرو فاذوھما سے یہی مراد ہے۔ اگر باز آویں اور توبہ کرلیں تو اس کا پیچھا چھوڑ دو چونکہ عرب اس گناہ کے عادی تھے ان کو بتدریج منع فرمایا۔ پھر اس کے بعد والتی آیت مقدمہ نازل ہوئی کہ جس میں قید کا حکم ہوا۔ اس کے بعد سورة نور میں سزامعین کردی۔ بعض کہتے ہیں والتی سے مراد زنا ہے۔ والذان سے مراد لواطت ہے اور فاذوہما سے مراد تعزیر ہے اور یہی قول امام ابوحنیفہ (رح) کا ہے کہ اغلام کے لئے زنا کا حکم نہیں۔ اس کے لئے تعزیر ہے نہ حد۔ امام شافعی (رح) کے…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 15–16

وَالّٰتِیْ یَاْتِیْنَ الْفَاحِشَۃَ مِنْ نِّسَآئِکُمْ فَاسْتَشْھِدُوْا عَلَیْھِنَّ اَرْبَعَۃً مِّنْکُمْ ج فَاِنْ شَھِدُوْا فَاَمْسِکُوْھُنَّ فِی الْـبُیُوْتِ حَتّٰی یَتَوَفّٰھُنَّ الْمَوْتُ اَوْیَجْعَلَ اللّٰہُ لَھُنَّ سَبِیْلاً وَالَّذٰنِ یَاْتِیٰنِھَا مِنْکُمْ فَاٰ ذُوْھُمَا ج فَاِنْ تَابَا وَاَصْلَحَا فَاَعْرِضُوْا عَنْھُمَا ط اِنَّ اللّٰہَ کَانَ تَوَّابًا رَّحِیْمًا (اور جو کوئی بدکاری کریں تمہاری عورتوں میں سے تو گواہ طلب کرو ان پر چار مرد اپنوں میں سے۔ پس اگر وہ گواہی دے دیں تو ان کو گھروں کے اندر محبوس کردویہاں تک کہ موت ان کو اٹھالے یا اللہ ان کے لیے کوئی راہ نکالے اور جو دونوں تم میں…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : معاشرتی اور معاشی استحاصل ختم کرنے کے احکامات کے بعد اخلاقی بےراہ روی کے خاتمہ کا حکم۔ نزول اسلام سے پہلے روم ‘ ایران اور دیگر ممالک کے ساتھ عرب معاشرہ میں ایک طبقہ پرلے درجے کی بےحیائی ‘ فحاشی اور بدکاری میں مبتلا تھا۔ بعض شہروں میں جن میں مدینہ بھی شامل تھا باقاعدہ فحاشی کے اڈے قائم ہوچکے تھے۔ بےحیائی کا ارتکاب کرنے والی عورتیں اپنے گھروں پر جھنڈا نما کپڑا لٹکا یا کرتی تھیں تاکہ بےحیالوگ آسانی کے ساتھ راغب ہو سکیں۔ یہ دھندہ کنواری عورتیں ہی نہیں بلکہ شادی شدہ عورتیں بھی کیا کرتی تھیں۔ اسلام نے اس بےحیائی کو روکنے اور ایسے مقدّمات کی تحقیق کے لیے ایک نظام اور طریق کار…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 16 : وَالَّذٰنِ (اور جونسے دو شخص بھی) مراد زانی اور مزنیہ ہے۔ قراءت : والَّذَانِ نون کی تشدید کے ساتھ مکی نے پڑھا ہے۔ یَاْتِیٰنِہَا مِنْکُمْ (بےحیائی کا کام کریں تم میں سے) اس کا یعنی فاحشہ کا ارتکاب کرنے والے ہوں۔ فَاٰذُوْہُمَا (پس ان کو دکھ پہنچائو) ڈانٹ ڈپٹ کرو اور عار دلائو۔ اور ان کو کہو تمہیں شرم نہیں آتی تم اللہ تعالیٰ سے نہیں ڈرتے۔ فَاِنْ تَابَا (پس اگر وہ توبہ کرلیں) بےحیائی سے۔ وَاَصْلَحَا (اور اصلاح کرلیں) اور حالت کو بدل لیں۔ فَاَعْرِضُوْا عَنْہُمَا (تو تم ان دونوں سے اعراض کرو) اور توبیخ و مذمت کو منقطع کردو۔ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ تَوَّابًا رَّحِیْمًا (بیشک اللہ توبہ قبول کرنے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

(تفسیر) 16۔: (آیت)” والذان یاتیانھا منکم “۔ اس سے مراد ، مرد اور عورت دونوں ہیں ، ھاضمیر راجع ہے فاحشہ کی طرف ابن کثیر نے ” الذان ، واللذین ، وھاتان ، وھذان ، نون تاکید کی تشدید کے ساتھ پڑھا ہے ، اہل بصرہ کے قراء نے بھی ان کی موافقت کی ، دوسرے قراء نے تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے ، ابوعبیدہ ؓ نے کہا ابو عمرو ؓ نے تشدید کے ساتھ پڑھا ہے، اسم میں حروف کی کمی کی بناء پر ” فاذوھما “۔ عطاء اور قتادہ رحمہما اللہ کا قول ہے کہ انکو زبان سے عار دلاؤ یعنی یوں کہو کہ تمہیں گناہ کرتے ہوئے اللہ کا خوف نہیں آیا ، تمہیں اللہ سے حیاء نہیں آئی جب تم زنا کر رہے تھے حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ نے کہا کہ ان دونوں کو…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 15–16

(15 ۔ 16) معتبر سند سے مسند بزار میں حضرت امام المفسرین عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ سورة نور کی آیت الزانیۃ الزانی کے نازل ہونے تک بد کار عورت کو بدکاری سے باز رکھنے کے لئے گھر میں تازیست بند رکھنے کا حکم تھا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے حسب وعدہ سورة نور میں کنوارے مرد و عورت کے لئے سو کوڑے مارنے اور سال بھر کی جلا وطنی کا اور بیا ہے ہوئے مرد و عورت کے لئے سنگ سار کرنے کا حکم نازل فرمایا۔ اسی طرح مسند امام احمد (رح) صحیح مسلم اور سنن میں عبادہ بن صامت ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ سورة نور کی آیت کے نازل ہونے کے بعد آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ ایسی عورتوں کے تازیست گھر میں بند…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

آیت 16 یعنی عورتیں (والتی یاتین الفاحشۃ (جوزنا کا ارتکاب کرتی ہیں “ اللہ تعالیٰ نے زنا کو اس کی قباحت اور برائی کی وجہ سے فاحشہ کے نام سے موسوم کیا ہے۔ (فاستشھدوا علیھن اربعۃ منکم) ” اپنے میں سے چار اہل ایمان عادل مردوں کو گواہ بنا لو “ (فان شھدوا فامسکوھن فی البیوت) ” اگر وہ گواہی دے دیں تو ان کو گھروں میں محبوس کردو “ اور باہر جانے سے روک دو جو شک و شبہ کا موجب ہے۔ نیز گھر میں محبوس کردینا ایک قسم کی سزا بھی ہے (حتی یتوفھن الموت) ” یہاں تک کہ موت ان کا کام تمام کر دے “ یعنی یہ محبوس رکھنے کی انتہا ہے (او یجعل اللہ لھن سبیلاً یعنی اللہ تعالیٰ انہیں گھروں میں محبوس کرنے کے علاوہ کوئی اور…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

قول باری (فاللذان یاتیانھامنکم فاذوھما) کنوارے جوڑے کے متعلق تھا۔ اب مذکورہ بالاآیت کے ذریعے یہ حکم منسوخ کرکے ان کے لیے کوڑوں کی سزامقررکردی گئی۔ تاہم ثیبہ عورتوں کے لیے حبس کا حکم رہاجورجم کے حکم کی بناپر منسوخ ہوگیا۔ بعض دوسرے حضرات کا قول ہے کہ ان دونوں حکموں کی ناسخ حضرت عبادہ بن الصامت کی وہ حدیث ہے جس کی ہمیں جعفربن محمد نے روایت کی ہے، انہیں جعفر بن محمد بن الیمان نے انہیں ابوعبیدنے، انہیں ابوالنصرنے شعبہ سے، انہوں نے قتادہ سے، انہوں نے حسن سے، انہوں نے حطان بن عبداللہ الرقاشی سے انہوں نے حضرت عبادہ بن الصامت ؓ سے کہ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا (خذواعنی قد جعل اللہ لھن سبیلا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 15–16

36 اِرتکاب فاحشہ سے متعلق ایک عارضی حکم : سو یہ ایک عارضی اور وقتی حکم وقتی تھا، جو کہ بعد میں حد زنا کے نزول سے منسوخ ہوگیا ‘ جس پر حضور ﷺ ۔ نے ارشاد فرمایا تھا " خُذُوْا عَنِّّیْ خُذُوْا عَنِّیْ قَدْ جَعَلَ اللّٰہُ لَہُنَّ سَبِیْلاً " (بخاری۔ تفسیر) یعنی " مجھ سے لے لو، مجھ سے لے لو، اللہ تعالیٰ نے ان عورتوں کیلئے راستہ مقرر فرما دیا ہے "۔ سو یہ راستہ حد کا راستہ تھا جس کا حکم بعد میں سورة نور میں نازل فرمایا گیا جس کے مطابق " محصن " یعنی شادی شدہ کیلئے ارتکاب زنا پر " رجم " یعنی سنگساری کی سزا ہے اور غیر محصن یعنی غیر شادی شدہ کیلئے سو کوڑوں کی سزا ہے۔ سو ارتکاب فاحشہ سے متعلق سورة نساء…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 15–16

بدکردار عورتوں اور مردوں کی سزا تشریح : یہ آیات اس وقت نازل ہوئیں جبکہ اہل عرب کسی باقاعدہ حکومت کے ماتحت رہنے کے عادی نہ تھے، اس لیے یہ بات حکمت کے خلاف ہوتی اگر فوراً ہی ان پر وہ اصل قانون، جو بعد میں سورة نور میں نازل کیا گیا، نافذ کردیا جاتا اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو رفتہ رفتہ سخت قوانین کا عادی بنانے کے لیے یہ سزا مقرر کی کہ اگر کوئی عورت بدکاری کرے تو سب سے پہلے چار مسلمان آدمیوں کی گواہی لی جائے (اس میں بھی حکمت ہے) اگر بدکاری کا عمل ثابت ہوجائے تو پھر اس کو گھر میں بند کردیا جائے یہاں تک کہ وہ مرجائے یا اللہ اس کے لیے کوئی راستہ نکال دے غالباً یہ راستہ وہی ہوسکتا ہے جو اللہ رب العزت…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 15–16

رکوع نمبر 3 اسرار و معارف آیت 15 تا 16: زنا کی قباحت : یہاں تک ان امور میں بات چل رہی تھی جو تقسیم وراثت میں جہالت اور ظلم کی وجہ سے رواج پا چکے تھے ان کی اصلاح کے ساتھ ہی جہاں عورت کو ایک مستقل مالک اور حصہ دار کی حیثیت عطا فرمائی وہاں اس کی ذمہ داری کا احساس بھی دلایا جانا مقصود ہے یعنی جن سے حصہ پاتی ہے والدین ہوں یا خاوند یا دوسرے رشتہ داران کی عزت و ناموس بھی بہت حد تک عورت ہی کے تعاون کی محتاج ہوتی ہے اس لیے اس بارے میں عورت کو شدت سے تاکید بھی فرمائی اور یہ اہتمام بھی پیش نظر رکھا کہ شوہر کے خاندان کی عورتیں حسد وغیرہ کی وجہ سے اس پر تہمت نہ لگا سکیں فرمایا اگر تمہاری عورتوں میں سے کسی…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 16–17

ف 2 یہا علی اللہ کے معنی یہ ہیں کہ ایسے لوگوں کی توبہ قبول کرنا اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے اپنے ذمہ لے لیا ہے رونہ اللہ تعالیٰ پر کوئی چیز لازم نہیں ہے۔ (قرطبی) بحھالہ یعنی اگر کبھی نادانی اور جذبات سے مغلوب ہو کر گناہ کا ارتکاب کر بھی لیتے میں تو من قریب یعنی جلد ہی توبہ کرلیتے ہیں۔ بعض علما نے لکھا ہے کہ یہاں بجھالتہ کی قید احتراز کے لیے نہیں ہے۔ بلکہ بیان واقعہ کے لیے ہے یعنی ہر گناہ جہالت اور نادانی کی وجہ سے ہوتا ہے اور من قریب کا مفہوم یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ع موت کے آثار مشاہدہ کرنے سے پہلے پہلے تائب ہوجاتے ہیں۔ ان دو شرطوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ ان کی توبہ قبول فرمالیتا ہے۔ (قرطبی۔…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(4:16) فاذوھما۔ اذوا۔ امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ ایذاء (افعال) ھا ضمیر مفعول تثنیہ (مذکر، مؤنث دونوں کے لئے) غائب۔ ان دونوں کو ایذا دو ۔ ان دونوں کو مارو پیٹو۔ اعرضوا۔ امر جمع مذکر حاضر۔ اعراض سے تم درگزر کرو۔ تم کنارہ کشی کرو۔ تم چھوڑ دو ۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 15–16

آیت نمبر 15 – 16 لغات القرآن : التی، وہ (مونث) ۔ یا تین، لائیں، کریں۔ الفاحشۃ، بےحیائی بدکاری۔ استشھدوا، گواہ مانگو، گواہ طلب کرو۔ امسکوا، تم روک لو۔ البیوت، (بیت) گھر۔ الذان، وہ دو مرد (تشنیہ) ۔ اذوا، تم تکلیف پہنچاؤ۔ تشریح : نبی کریم ﷺ سے پہلے جاہلیت کے دور میں یتیموں اور میراث کے معاملہ میں بڑی کوتاہیاں کی جاتی تھیں جن کی مذمت میں گذشتہ آیات نازل ہوئیں اسی طرح عورتوں کے معاملہ میں سینکڑوں رسمیں رائج تھیں جن کے ذریعہ انہیں طرح طرح سے اذیتیں دی جایا کرتی تھیں۔ آئندہ آیات میں ان ہی کی اصلاح فرمائی گئی ہے۔ ان آیات میں جو حکم نازل ہوا ہے وہ تمام مفسرین کے نزدیک ابتدائے اسلام میں زنا کار عورت کے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 15–16

زنا کاری و توبہ اور مہر کا بیان حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ جس کا حاصل یہ ہے کہ سورة نور کی آیت ” الزانیۃ والزانی “ کے نازل ہونے تک بدکار عورت کو بدکاری سے باز رکھنے کے لئے گھر میں تازیست بند رکھنے کا حکم تھا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے حسب وعدہ سورة نور میں کنواری عورت ومرد کے لئے سو کوڑے مارنے اور سال بھر کی جلا وطنی کا اور بیا ہے ہوئے مردو عورت کے لئے سنگسار کرنے کا حکم دیا۔ مسند امام احمد، صحیح مسلم اور سنن میں عبادہ بن صامت سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ سورة نور کی آیت کے نازل ہونے کے بعد آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ ایسی عورتوں کے تازیست گھر میں بند رکھنے کے بجائے اللہ تعالیٰ نے کنوارے مرد…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 16–17

[20] ان دو آیتوں میں زنا کے متعلق ابتدائی احکام ہیں۔ پہلی آیت صرف زانیہ عورت کے بارے میں ہے اور دوسری زانیہ عورت اور زانیہ مرد دونوں کے بارے میں۔ بعد میں سورة نور کی وہ آیت نازل فرمائی جس میں مرد و عورت دونوں کے لئے ایک ہی سزا کا حکم ہے لیکن بعض مفسرین اس طرف گئے ہیں کہ ان آیات میں اور سورة نور میں ایک ہی جرم کی سزا نہیں بیان کی گئی بلکہ دو مختلف جرائم کا ذکر کیا گیا ہے۔ یہاں جس بدچلنی کا ذکر کیا ہے اس سے مقصود وہ بدچلنی ہے جو دو عورتیں اور دو مرد آپس میں کریں جب کہ سورة نور میں زنا کا ذکر ہے پس دونوں احکام اپنی اپنی جگہ باقی ہیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

نفسیات اخلاق کا باریک نکتہ : (ف 1) (آیت) ” فاعرضوا عنھما “۔ میں اخلاق کے اس دقیق نکتہ کی طرف اشارہ ہے کہ بعض دفعہ حد سے زیادہ سزا اور ملامت ذوق گناہ کو اور بھڑکا دیتی ہے ، مقصد یہ ہے کہ مجرموں کے دل میں شدید احساس پیدا کردیا جائے اور بس جب یہ پیدا ہوجائے تو انہیں زیادہ تنگ نہ کرنا چاہئے ، اس طرح وہ خود بخود رک جاتے ہیں ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

Explained with ayahs 16–17

ف 3 اور تم میں سے جو دو شخص بھی اس مذکورہ بےحیائی کا ارتکاب کریں تو ان دونوں کو اذیت پہنچائو پھر اگر وہ اذیت پہنچانے کے بعد دونوں اپنے گناہ سے توبہ کرلیں اور آئندہ کیلئے اپنی اصلاح کرلیں اور آئندہ اس فعل فاحش کا ارتکاب نہ کریں تو ان سے درگزر کرو اور ان کا پیچھا چھوڑ دو ۔ یقین جانو ! کہ اللہ تعالیٰ بڑا توبہ قبول کرنے والا اور بہت مہربانی کرنے والا ہے۔ (تیسیر) حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں اگر دو مرد فعل بد کریں ان کا حکم بھی اس وقت مجمل ایذا دینی فرمائی اور اگر توبہ کریں تو ایذا نہ دو پھر جب حد نازل ہوئی تو اس کی حد جدائی فرمائی اس میں علماء کو اختلاف رہا کہ وہی حد ہے اس کی بھی یا شمشیر سے قتل…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 4۔ جونسے دو شخص بھی اس میں غیر منکوحہ ومنکوحہ عورت اور نکاح اور بےنکاح والا مرد سب آگئے پس چاروں کا حکم مذکور ہوگیا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

دو شخص بےحیائی اور بدکاری کے مرتکب ہوں تو ان کی سزا کیا ہے ؟ 43: جس طرح قبل ازیں آیت کے تین مطالب بیان کئے گئے تھے بالکل اسی طرح یہاں بھی تین ہی مطالب بیان ہوئے ہیں۔ ” دو شخصوں “ سے کیا مراد ہے ؟ دو مرد یا مرد اور عورت پھر اگر مرد اور عورت مراد ہیں تو ارتکاب فعل دبر میں ہوا ہے یا قبل میں۔ اگر مراد در اور عورت ہیں اور مقام فعل بھی قبل ہی ہے تو پھر آیت کا مطلب کیا ہوگا ؟ کیونہ اس فعل کی سزا تو پہلے ہی سنائی جا چکی اور پھر اس آیت میں پہلی سزا کو بھی ڈھیلا کردیا گیا۔ کیوں ؟ دو شخصوں سے مراد دو مرد بھی کی گئی ہے۔ اس طرح سے یہ ایک دوسرا حکم ہے جس کا پہلے حکم سے کوئی تعلق نہیں پھر ظاہر ہے کہ جب حکم…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Homosexuality The above discussion was based on the assumptions that both verses 15 and 16 relate to the fornication or adultery committed between men and women. However, some commentators of the Holy Qur'an, including Qadi Thanaullah Panipati, are of the view that verse 16 refers to homosexual act committed between two males. Verse 16 is translated as follows: "And those two of you who commit it (the shameful act), torture them both". Here the Arabic word used for 'those two of you is a masculine pronoun which presumes males on both sides. On this basis, these commentators have opined that…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 16–17

26. In these two verses (15-16) the first, preliminary directives for the punishment for unlawful sexual intercourse are stated. The first verse deals with women. The punishment laid down was to confine them until further directives were revealed. The second verse (i.e. 16) relates to both sexes. The injunction lays down that they should be punished - that is, they should be beaten and publicly reproached. Later, another injunction was revealed (see Surah al-Nur 24: 2) which laid down that both the male and female should be given a hundred lashes. These injunctions are necessarily of a…

Read the full tafseer →