Explained with ayahs 37–39
اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ سے کترانے والے بخیل لوگ
ارشاد ہوتا ہے کہ جو لوگ اللہ کی خوشنودی کے موقعہ پر مال خرچ کرنے سے جی چراتے ہیں مثلاً ماں باپ کو دینا قرابت داروں سے اچھا سلوک نہیں کرتے یتیم مسکین پڑوسی رشتہ دار غیر رشتہ دار پڑوسی ساتھی مسافر غلام اور ماتحت کو ان کی محتاجی کے وقت فی سبیل اللہ نہیں دیتے اتنا ہی نہیں بلکہ لوگوں کو بھی بخل اور فی سبیل اللہ خرچ نہ کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔ حدیث شریف میں ہے کونسی بیماری بخل کی بیماری سے بڑھ کر ہے ؟ اور حدیث میں ہے لوگو بخیلی سے بچو اسی نے تم سے اگلوں کو تاخت و تاراج کیا اسی کے باعث ان سے قطع رحمی اور فسق و فجور جیسے برے کام نمایاں ہوئے پھر فرمایا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–40
سورة النِّسَآء 63
اللہ کے فضل کو چھپانا یہ ہے کہ آدمی اس طرح رہے گویا کہ اللہ نے اس پر فضل نہیں کیا ہے۔ مثلاً کسی کو اللہ نے دولت دی ہو اور وہ اپنی حیثیت سے گر کر رہے۔ نہ اپنی ذات اور اپنے اہل و عیال پر خرچ کرے، نہ بندگان خدا کی مدد کرے، نہ نیک کاموں میں حصہ لے۔ لوگ دیکھیں تو سمجھیں کہ بیچارہ بڑا ہی خستہ حال ہے۔ یہ دراصل اللہ تعالیٰ کی سخت ناشکری ہے۔ حدیث میں آیا ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا انّ اللہ اذا انعم نعمة علی عبد احبّ ان یظھر اثرھا علیہ، اللہ جب کسی بندے کو نعمت دیتا ہے تو وہ پسند کرتا ہے کہ اس نعمت کا اثر بندے پر ظاہر ہو۔ یعنی اس کے کھانے پینے، رہنے سہنے، لباس اور مسکن، اور اس کی داد و…
Read the full tafseer →اس کے بعد الذین یبخلون میں بیان ہے کہ جو لوگ متکبرین ہوتے ہیں وہ حقوق واجبہ میں بھی بخل کرتے ہیں اپنی ذمہ داریوں کو نہیں سمجھتے اور دوسروں کو بھی اپنے قول و عمل سے اس بری صفت کو اختیار کرنے کی ترغیب دیتے ہیں۔
آپ میں بخل کا لفظ آیا ہے، جس کا اطلاق عرف عام میں حقوق مالیہ کے اندر کوتاہی کرنے پر ہوتا ہے، لیکن آیت کے شان نزول سے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں بخل کا لفظ عام معنی میں استعمال کیا گیا ہے، جو بخل بالمال اور بخل بالعلم دونوں کو شامل ہے۔
حضرت ابن عباس ؓ کی روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ آیت یہود مدینہ کے حق میں نازل ہوئی تھی، یہ لوگ بہت زیادہ مغرور تھے، انتہاء درجہ کے کنجوس تھے، مال خرچ کرنے میں…
Read the full tafseer →الَّذِيْنَ يَبْخَلُوْنَ وَيَاْمُرُوْنَ النَّاسَ بِالْبُخْلِ وَيَكْتُمُوْنَ مَآ اٰتٰىھُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ ۭ وَاَعْتَدْنَا لِلْكٰفِرِيْنَ عَذَابًا مُّهِيْنًا
اکڑنے اور فخر کرنے والوں کی یہ چند مزید خصوصیات بیان ہوئی ہیں جو ہم بالترتیب واضح کریں گے :
اترانے اور فخر کرنے والوں کی چند مزید خصوصیات : پہلی کہ یہ یہ خود بھی بخیل ہوتے ہیں اور دوسروں کو بھی بخل کا مشورہ دیتے ہیں۔ ’ بخیل ‘ اس شخص کو کہتے ہیں جو دوسروں کے حقوق ادا کرنے میں تنگ دل ہو۔ جو شخص دوسروں کے حقوق فیاضی اور کشادہ دلی کے ساتھ ادا کرتا ہے لیکن خود اپنی ذات کے معاملے میں احتیاط اور تنگی برتتا ہے اس کو بخیل نہیں کہتے۔ بخالت کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–37
36۔ 1 الجار، الجنب، قرابت دار پڑوسی کے مقابلے میں استعمال ہوا ہے۔ جس کے معنی ایسا پڑوسی جس سے قرابت داری نہ ہو۔ مطلب یہ ہے کہ پڑوسی سے بہ حیثیت پڑوسی کے حسن و سلوک کیا جائے رشتہ دار ہو یا غیر رشتہ دار، جس طرح کہ حدیث میں بھی اس کی بڑی تاکید کی گئی ہے۔
36۔ 2 اس سے مراد رفیق سفر، شریک کار، بیوی اور وہ شخص ہے جو فائدے کی امید پر کسی کی قربت و ہم نشینی اختیار کرے بلکہ اسکی تعریف میں وہ لوگ بھی آسکتے ہیں جنہیں تحصیل علم، تعلم صناعت (کوئی کام سیکھنے) کے لئے یا کسی کاروباری سلسلہ میں آپ کے پاس بیٹھنے کا موقع ملے (فتح القدیر)
36۔ 3 اس میں گھر، دکان اور کارخانوں، ملوں کے ملازم اور نوکر چاکر بھی آجاتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–40
29: قرآن و سنت نے پڑوسیوں کے حقوق کی رعایت اور ان کے ساتھ حسن سلوک کی بڑی تاکید فرمائی ہے پھر پڑوسیوں کے تین درجے اس آیت میں بیان فرمائے گئے ہیں۔ پہلے درجے کو ”جار ذی القربی“ (قریب والا پڑوسی) اور دوسرے کو ”الجار الجنب“ کہا گیا ہے جس کا ترجمہ اوپر دور والے پڑوسی سے کیا گیا ہے۔ پہلے سے مراد وہ پڑوسی ہے جس کا گھر اپنے گھر سے بالکل ملا ہوا ہو، اور دوسرے سے مراد وہ پڑوسی ہے جس کا گھر اتنا ملا ہوا نہ ہو۔ بعض حضرات نے اس کی تفسیر یہ کی ہے کہ پہلے سے مراد وہ پڑوسی ہے جو رشتہ دار بھی ہو، اور دوسرے مراد وہ جو صرف پڑوسی ہو۔ نیز بعض مفسرین نے پہلے کا مطلب مسلمان پڑوسی اور دوسرے کا مطلب غیر مسلم پڑوسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–38
(آیت) ” نمبر 36 تا 43۔
یہ پیرا گراف اس حکم سے شروع ہوتا ہے کہ صرف اللہ کی بندگی کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو اور یہ حکم واؤ کے ساتھ شروع ہوتا ہے جو حرف عطف ہے ۔ حرف عطف اس امر اور نہی کو سابقہ احکام کے ساتھ مربوط کردیتا ہے جو ادارہ خاندان کی تنظیم اور شیرازہ بندی سے متعلق ہیں اور جن کا ذکر سابقہ سبق کے آخر تک ہوا ۔ واؤ عطف سے معلوم ہوتا ہے کہ اس دین کا ایک ہی کلیہ اور اصول ہے اور وہی تمام امور کے درمیان رابطہ ہے یعنی پوری زندگی میں بندگی صرف اللہ کی کی جانی چاہئے اور یہ کہ اسلام صرف عقیدے اور چند نظریات کا نام نہیں ہے جو کسی انسان کے ضمیر میں پختہ طور پر بیٹھے ہوں نہ اسلام چند…
Read the full tafseer →3 یعنی اللہ تعالیٰ دوست نہیں رکھتا خود پسند اور تکبر کرنے والوں کو جو کہ بخل کرتے ہیں اور اپنے مال اور علم خدا داد کو لوگوں سے چھپاتے ہیں کسی کو نفع نہیں پہنچاتے اور قولاً اور عملاً دوسروں کو بھی بخل کی ترغیب دلاتے ہیں اور ان کافروں کے لئے ہم نے ذلت کا عذاب تیار کر رکھا ہے۔
فائدہ : یہ آیت یہودیوں کے بارے میں نازل ہوئی جو فی سبیل اللہ خرچ کرنے میں خود بھی بخل کرتے تھے اور مسلمانوں کو بھی روکنا چاہتے تھے اور رسول اللہ ﷺ کے اوصاف جو تورات میں مذکور تھے اور حقانیت اسلام کی آیات جو موجود تھیں ان کو چھپاتے تھے۔ سو مسلمانوں کو اس سے احتراز لازم ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–39
آیت 37 نِ الَّذِیْنَ یَبْخَلُوْنَ وَیَاْمُرُوْنَ النَّاس بالْبُخْلِ ّجن میں یہ شیخی خوری اور اکڑ ہوتی ہے پھر وہ بخیل بھی ہوتے ہیں۔ اس لیے کہ غرور و تکبرعام طور پر دولت کی بنا پر ہوتا ہے۔ انہیں معلوم ہے کہ ہمارے پاس جو دولت ہے اگر یہ خرچ ہوگئی تو ہمارا وہ مقام نہیں رہے گا ‘ لوگوں کی نظروں میں ہماری عزت نہیں رہے گی۔ لہٰذا وہ اپنا مال خرچ کرنے میں کنجوسی سے کام لیتے ہیں۔ اس پر انہیں یہ اندیشہ بھی ہوتا ہے کہ لوگ ہمیں ملامت کریں گے کہ تم بڑے بخیل ہو ‘ چناچہ وہ خود لوگوں کو اس طرح کے مشورے دینے لگتے ہیں کہ بابا اس طرح کھلا خرچ نہ کیا کرو ‘ تم خواہ مخواہ پیسے اڑاتے ہو ‘ عقل کے ناخن لو ‘ کچھ نہ کچھ…
Read the full tafseer →70 ایسے بڑ مارنے والوں کی ایک صفت یہ ہوتی ہے کہ جو کچھ اللہ نے انہیں اپنے فضل سے عطا کر رکھا ہے، اسے چھپاتے ہیں۔ اس عطیہ الہی سے مراد علم بھی ہوسکتا ہے اور دولت بھی۔ یہ آیت اگرچہ یہود کے حق میں نازل ہوئی ہے جو ہر اس آیت کو چھپانے کی کوشش کرتے تھے جو ان کی اپنی وضع کردہ شریعت یا ان کے مذہب کے خلاف ہوتی تھی۔ اور سودخوری اور حرام خوری کی وجہ سے بخل بھی ان کی رگ رگ میں سرایت کرچکا تھا۔ تاہم اس آیت کا حکم عام ہے اور مسلمانوں پر بھی لاگو ہے۔ مسلمانوں میں سے ہر فرقہ ہر اس آیت یا حدیث کو اپنے پیرو کاروں سے چھپانے کی کوشش کرتا ہے جو اس کے مسلک و مذہب کے خلاف جاتی ہو۔ الاماشاء اللہ۔
بخل کی مذمت :۔…
Read the full tafseer →129 ۔ (کہ ان تینوں قسم کے لوگ اللہ کے ہاں ناپسندیدہ مخلوق میں داخل ہیں) ادائے حقوق میں خود بینی اور فخاری کے بعد تیسرا بڑا مانع یہی بخل ہوتا ہے۔ (آیت) ” مااتھم اللہ من فضلہ “۔ سے مراد مال و دولت کا ہونا ظاہر ہے۔ دوسرے معنی علم دین کی دولت کے بھی کئے گئے ہیں اور وعید میں وہ لوگ شامل سمجھے گئے ہیں، جو مسائل دین کے اظہار میں بخل کرتے رہتے ہیں۔
130 ۔ انسان عموما بخل اسی لئے کرتا ہے کہ مال بچا کر اس سے اپنے جاہ میں اضافہ کرے۔ اس جاہ پرستی کی سزا قدرۃ یہ ملے گی کہ عذاب سخت دردناک ہونے کے علاوہ اسے خلق کی نظر میں ذلیل ورسوا کرنے والا بھی ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–40
آیت نمبر 34 تا 42
ترجمہ : مردعورتوں کے حاکم ہیں ان کی تادیب کرتے ہیں اور انکو (ناپسندیدہ باتوں سے) باز رکھتے ہیں، اس سبب سے کہ اللہ نے ان میں سے ایک کو دوسرے پر فضیلت دی ہے یعنی اللہ تعالیٰ نے مردوں کو عورتوں پر اور عقل میں اور ولایت وغیرہ میں فضیلت دے کر اور اس سے مرد عورتوں پر اپنے مال خرچ کرتے ہیں پس نیک فرمانبردار عورتیں اپنے شوہروں کی اطاعت گذار خاوند کی عدم موجودگی میں بحفاظت الہٰی اپنی ناموس وغیرہ کی نگہداشت رکھنے والیاں ہیں اس طریقہ پر کہ شوہروں کو ان کی حفاظت کی تاکید فرمائی۔ اور جن عورتوں کی نافرمانی کا تمہیں خوف ہو اس طریقہ پر کہ اس کی علامات ظاہر ہوں، تو انہیں نصیحت کرو یعنی ان کو…
Read the full tafseer →الذین یبخلون . جو خود بخل کرتے ہیں یعنی حق واجب ادا نہیں کرتے۔
ویامرون الناس بالبخل . اور لوگوں کو بھی کنجوسی کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔ بغوی نے لکھا ہے کہ حضرت ابن عباس ؓ اور ابن زید کے قول پر اس آیت کا نزول مندرجۂ ذیل یہودیوں کے متعلق ہوا۔ کردم بن زید حیی بن اخطب ‘ رفاعہ بن زید بن تابوت ‘ اسامہ بن حبیب ‘ نافع بن ابی نافع ‘ بجری بن عمرو یہ لوگ انصاریوں کے پاس ان سے گھل مل کر کہتے تھے کہ (راہ خیر میں) اپنے مال خرچ نہ کرو۔ ہم کو تمہارے مفلس ہوجانے کا اندیشہ ہے تم کو نہیں معلوم کہ آئندہ کیا ہوگا۔ رواہ ابن اسحاق و ابن جریر بسند صحیح ہے۔
اس روایت پر آیت میں بخل سے مراد ہوگا مالی بخل لیکن سعید بن…
Read the full tafseer →(37) اور جو لوگ رسول اللہ ﷺ کی نعت وصفت کو چھپاتے ہیں جیسا کہ کعب اور اس کے ساتھی اور دوسروں کو بھی اس کے چھپانے کا حکم دیتے ہیں، اس کے باوجود کہ اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کی نعت وصفت ان کی کتاب توریت میں بیان کردی ہے، ایسے یہودیوں کے لیے رسوا کن عذاب ہے۔
شان نزول : (آیت) ”والذین یبخلون“۔ (الخ)
ابن ابی حاتم ؒ نے سعید بن جبیر ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ علماء یہود اپنے علم میں بخل کرتے تھے، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ جو لوگ بخل کرتے ہیں۔ (الخ)۔
اور ابن جریر ؒ نے بواسطہ ابن اسحاق ؒ محمد بن ابی محمد ؒ ، عکرمہ ؒ یا سعید ابن عباس ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ کروم زید کعب بن اشرف کا دوست، اسامتہ…
Read the full tafseer →اس آیت میں بخل کی مذمت کی گئی ہے اور بخیل کے لیے کافر کا لفظ استعمال کیا ہے، کیونکہ کافر کا معنی چھپانے والا ہے اور بخیل بھی اللہ کی نعمت کو چھپانے والا ہوتا ہے۔ بعض سلف نے اس آیت میں بخل کے لفظ کو یہودیوں کے بخل پر محمول کیا ہے، جو رسول اللہ ﷺ کی صفات اور علامات کو لوگوں سے چھپاتے تھے۔ غرض بخل مال کا ہو یا علم کا شدید مذموم ہے۔ (ابن کثیر)
Read the full tafseer →آیت نمبر : 37۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” الذین یبخلون ویامرون الناس بالبخل “ میں دو مسئلے ہیں :
مسئلہ نمبر : (1) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” الذین یبخلون “ ، الذین من کان سے بدل ہونے کی بنا پر محل نصب میں ہے اور یہ صفت نہیں ہے، کیونکہ من اور ما نہ صفت بنتے ہیں نہ ان کی صفت بیان کی جاتی ہے اور یہ بھی جائز ہے کہ فخور میں مضمر سے بدل ہونے کی وجہ سے محل رفع میں ہو اور یہ بھی جائز ہے کہ محل رفع میں ہو اور اس پر عطف کیا گیا ہو اور یہ بھی جائز ہے کہ یہ مبتدا ہو اور خبر محذوف ہو، یعنی (آیت) ” الذین یبخلون لہم کذا، اور یہ بھی جائز ہے کہ خبر یہ ہو (آیت) ” ان اللہ لایظلم مثقال ذرۃ “۔ یہ بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–39
(1) ابن اسحاق وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ کردم بن یزید اتحادی تھا کعب بن اشرف، اسامہ بن حبیب، نافع بن ابی نافع، بحری بن عمر، وحی ابن اخطب، رفاعہ بن زید بن تابوت کا (اور) یہ سب لوگ آئے انصار میں سے کچھ آدمیوں کے پاس (اور) یہ ان کو نصیحت کرتے ہوئے کہنے لگے اپنے مالون کو خرچ نہ کرو ہم اس پینے کے جانے میں تم پر فقر کا ڈر رکھتے ہیں اور خرچ کرنے میں جلدی نہ کرو کیونکہ تم نہیں جانتے کہ آئندہ کیا ہوگا ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا لفظ آیت ” الذین یبخلون ویامرون الناس بالبخل “ سے لے کر ” وکان اللہ بہم علیما “ تک۔
(2) ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا…
Read the full tafseer →[ الَّذِیْنَ : وہ (لوگ ) جو ] [ یَبْخَلُوْنَ : کنجوسی کرتے ہیں ] [ وَیَاْمُرُوْنَ : اور ترغیب دیتے ہیں ] [ النَّاسَ : لوگوں کو ] [ بِالْـبُخْلِ : کنجوسی کی ] [ وَیَکْتُمُوْنَ : اور چھپاتے ہیں ] [ مَآ : اس کو جو ] [ اٰتٰٹہُمُ : دیا ان کو ] [ اللّٰہُ : اللہ نے ] [ مِنْ فَضْلِہٖ : اپنے فضل سے ] [ وَاَعْتَدْنَا : اور ہم نے تیار کیا ] [ لِلْکٰفِرِیْنَ : کافروں کے لیے ] [ عَذَابًا مُّہِیْنًا : ایک رسوا کرنے والا عذاب ]
نوٹ : ان آیات میں اصل ہدایت حقوق العباد کی ہے ‘ لیکن بات کی ابتدا حقوق اللہ سے کی گئی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ برادری یا سوسائٹی کے دبائو اور حکومت کے قوانین سے بچنے کی کوئی راہ انسان…
Read the full tafseer →بخل کی مذمت :
پھر فرمایا (الَّذِیْنَ یَبْخَلُوْنَ وَ یَاْمُرُوْنَ النَّاس بالْبُخْلِ وَ یَکْتُمُوْنَ مَآ اٰتٰھُمُ اللّٰہُ مِنْ فَضْلِہٖ ) (یعنی یہ لوگ ایسے ہیں جو بخل کرتے ہیں اور دوسرے لوگوں کو بھی بخل کا حکم دیتے ہیں اور جو کچھ اللہ نے اپنے فضل سے عطا فرمایا ہے اس کو چھپاتے ہیں) اس میں بھی ان لوگوں کی مذمت بیان فرمائی ہے جن کا اوپر تذکرہ ہوا ہے، یعنی یہ لوگ متکبر ہیں فخر کرنے والے ہیں اور کنجوس بھی ہیں، اور صرف خود ہی کنجوس نہیں بلکہ دوسروں کو بھی کنجوسی کا حکم دیتے ہیں۔ خود تو اعزہ و اقرباء ضعفاء یتامیٰ اور مساکین اور مسافروں پر خرچ ہی نہیں کرتے دوسروں کو بھی خرچ نہیں کرنے دیتے، جن لوگوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–42
حکم شانزدہم بابت معاشرہ زوجین۔
قال تعالی، الرجال قوامون۔۔۔ الی۔۔۔ خبیرا۔
ربط) گزشتہ آیات میں میراث کے باب میں عورتوں پر مردوں کی فضیلت بیان کی اب ان آیات میں مطلقا مردوں کی فضیلت بیان فرماتے ہیں کہ مردوں کو عورتوں پر ہر طرح کی فضیلت حاصل ہے ذاتی اور عرضی دونوں قسم کی فضیلتیں مردوں کو خدا تعالیٰ نے عطا کی ہیں اور مردوں کو عورتوں پر حاکم بنایا ہے اور ان کو اجازت دی ہے کہ بغرض تادیب واصلاح عورتوں کو تنبہ کریں اور اگر ضرورت پیش آئے تو مارنے کی بھی اجازت ہے تاکہ عورتوں کا شبہ بھی دور ہوجائے کہ مردوں کو دھری میراث کیوں ملتی ہے چناچہ فرماتے کہ مردعورتوں پر دو وجہ سے حاکم اور قائم ہیں مردوں کی وجہ سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–39
29 احکام رعیت بیان کرنے کے بعد اصل مسئلہ توحید کا ذکر فرمایا۔ اُعْبُدُوْا اللہَ صرف خدائے واحد کی عبادت بجا لاؤ صرف اسے ہی پکارو قال ابن عباس المعنی وحدوہ (کبیر ج 3 ص 321) وَلَاتُشْرِکُوْا بِہٖ شَیْئاً اور اس کی عبادت اور پکار میں اس کی کسی مخلوق کو اس کا شریک نہ بناؤ نہ پیغمبروں اور ولیوں کو نہ فرشتوں اور جنوں کو۔ اس کے بعد وَبِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَاناً سے لے کر وَ کَانَ اللہُ بِھِمْ عَلِیْماً تک چار چیزیں بیان کی گئی ہیں (والدین) دوسرے روشتہ داروں، یتیموں، غریبوں، پڑوسیوں، مسافروں غلاموں اور دیگر مستحقین پر احسان کرو۔ حسن سلوک سے پیش آؤ اور ان کی مالی امداد کرو۔ وَالْجَارِ ذِیْ الْقُرْبیٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–38
ربط آیات
گزشتہ درس میں اللہ تعالیٰ نے اس بنیاد کا تذکرہ فرمایا تھا جو حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی کے لیے ضروری ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ پر صحیح طور پر ایمان لایا جائے خالص اسی کی عبادت کی جائے اور شرک سے پرہیز کیا جائے ، جب اس بنیاد کے ذریعہ اللہ کے حقوق ادا ہوجائیں گے تو پھر انسان بندوں کے حقوق بھی ادا کرسکے گا۔ اس ضمن میں خداوند کریم نے فرمیا ا سب سے پہلے ماں باپ کے ساتھ احسان کرو۔ پھر قرابتداروں کے ساتھ حسن سلوک کے ساتھ پیش آؤ ۔ یتیموں ، مسکینوں ، پڑوسیوں ، ہم نشینوں ، مسافروں اور غلاموں کے حقوق ادا کرو۔ جس مقام پر کوئی جس قدر ضرورت مند ہے۔ اس کی حاجت براری کرو۔ ظاہر ہے کہ…
Read the full tafseer →الَّذِيْنَ يَبْخَلُوْنَ وَيَاْمُرُوْنَ النَّاسَ بِالْبُخْلِ وَيَكْتُمُوْنَ مَآ اٰتٰىھُمُ اللہُ مِنْ فَضْلِہٖ 0ۭ وَاَعْتَدْنَا لِلْكٰفِرِيْنَ عَذَابًا مُّہِيْنًا 37ۚ
بخل
البُخْلُ : إمساک المقتنیات عمّا لا يحق حبسها عنه، ويقابله الجود، يقال : بَخِلَ فهو بَاخِلٌ ، وأمّا البَخِيل فالذي يكثر منه البخل، کالرحیم من الراحم .
والبُخْلُ ضربان : بخل بقنیات نفسه، وبخل بقنیات غيره، وهو أكثرها ذمّا، دلیلنا علی ذلک قوله تعالی: الَّذِينَ يَبْخَلُونَ وَيَأْمُرُونَ النَّاسَ بِالْبُخْلِ [ النساء/ 37] .
( ب خ ل ) البخل ( دس ) اپنے جمع کردہ ذخائر کو ان جگہوں سے روک لینا جہاں پر خرچ کرنے سے اسے روکنا نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–38
ترکیب : احساناً کے نصب میں چند وجہ ہیں سورة بقرہ میں بیان ہو چکیں۔ الجنب بضمتین اور فتح جیم اور سکون نون دونوں طرح سے پڑھا جاسکتا ہے جس کے معنی اجنبی کے ہیں۔ یہ وصف ہے الجار کا بالجنب کی ب بمعنی فی ہے یہ حال ہے۔ الذین یبخلون مبتداء خبر مبغضون وغیرہ محذوف والذین ینفقون اس پر معطوف ہے۔
تفسیر : جبکہ خدا تعالیٰ مردوں کی فضیلت بیان فرما چکا اور باہم میاں بیوی کے معاملات کا فیصلہ خاوند کی فضیلت ملحوظ رکھ کر فرما دیا تو اس کے بعد تمام بنی آدم کو یہ بات بتلاتا ہے کہ یہ فضیلت دنیاوی ہے اور فضیلت اخروی اور چیز ہے اس میں نوکر آقا سے بڑھ جاتا ہے اور فقیر بےکس بادشاہ سے اور بیوی خاوند سے اس لئے اس جگہ…
Read the full tafseer →الَّذِیْنَ یَبْخَلُوْنَ وَیَاْمُرُوْنَ النَّاسَ بِالْـبُخْلِ وَیَـکْتُمُوْنَ مَـآاٰ تٰھُمُ اللّٰہُ مِنْ فَضْلِہٖ ط وَاَعْتَدْنَا لِلْـکٰفِرِیْنَ عَذَابًا مُّھِیْنًا ج
(جو خود بھی بخل کرتے اور لوگوں کو بھی بخالت کا مشورہ دیتے ہیں اور اللہ نے اپنے فضل میں سے جو کچھ انھیں دے رکھا ہے اس کو چھپاتے ہیں۔ ہم نے ایسے ناشکروں کے لیے رسوا کن عذاب تیار کررکھا ہے) (النسآء : 37)
ایک مومن بخیل نہیں ہوتا
1 اکڑنے والے اور تکبر کرنے والوں میں تکبر کے باعث جو مذموم خصوصیات پیدا ہوتی ہیں ان میں پہلی خصوصیت بخل کرنا ہے اسلامی زندگی میں بخل کی کوئی گنجائش نہیں کیونکہ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے کہ دو عادتیں کسی مومن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–38
فہم القرآن
ربط کلام : اس سے پہلے والدین، عزیز و اقارب، یتامی، مساکین، پڑوسیوں اور مسافروں کے ساتھ مالی تعاون کرنے کا حکم ہے۔ اس لیے یہاں بخل کی مذمت کی گئی ہے۔
اس فرمان میں اللہ تعالیٰ نے مال و اسباب کو اپنا فضل قرار دیتے ہوئے فرمایا ہے کہ جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے سرفراز فرمائے ان کا فرض ہے کہ وہ بخل کرنے کی بجائے سخاوت کا مظاہرہ کریں۔ بخل کا ماحول پیدا کرنے یا مستحق حضرات پر خرچ نہ کرنے کا حکم دینے اور مال کو چھپا کر رکھنے کی بجائے لوگوں کو صدقہ و خیرات کرنے کی تلقین کرنی چاہیے۔ مال چھپا چھپا کر رکھنے کے بجائے اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر خرچ کرنا چاہیے۔ جو لوگ بخل کرنے کے ساتھ…
Read the full tafseer →آیت 37:
الَّذِیْنَ یَبْخَلُوْنَ وَیَاْ مُرُوْنَ النَّاسَ بِالْبُخْلِ (جو لوگ بخل کرتے ہیں اور لوگوں کو بخل کا حکم دیتے ہیں)
نحو و قراءت :
نمبر 1۔ الذین یبخلون، من کان مختالا فخورًا کا بدل ہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔ مَنْ کے معنی کا لحاظ کر کے
جمع لائے یا بطورمذمت جمع لائے۔ نمبر 2۔ ہم مبتداء محذوف اور الذین یبخلون اس کی خبر۔
قراءت : حمزہ اور علی رحمہما اللہ نے البَخَل پڑھا ہے۔ یہ دونوں لغتیں ہیں جیسا کہ الرشد اور الرَشَد۔
مفہوم آیت :
آیت کا معنی یہ ہے وہ جو کچھ اپنے ہاتھ میں ہے اس میں بخل کرتے ہیں اور جو لوگوں کے پاس ہیں اس میں بھی بخل کرتے ہیں کہ ان کو بخل کی تعلیم دیتے ہیں صرف سخاوت کی دشمنی…
Read the full tafseer →(تفسیر) 37۔:
(آیت)” الذین یبخلون “۔ کلام عرب میں بخل کہا جاتا ہے کہ بچی ہوئی چیز بھی سائل کو دینے سے رکنا شریعت میں بخل کہا جاتا ہے حق واجب کی ادائیگی میں رکنا (آیت)” ویامرون الناس بالبخل “ حمزہ اور کسائی (رح) کی روایت میں باء اور خاء کے فتحہ کے ساتھ ہے اور سورة الحدید میں بھی ان کے نزدیک اسی طرح ہے ، دوسرے قراء نے باء کے ضمہ اور خاء کے سکون کے ساتھ پڑھا ہے یہ آیت یہود کے متعلق نازل ہوئی جو آپ ﷺ کی صفات بیان کرنے میں بخل سے کام لیتے تھے اور آپ ﷺ کی صفات کو توریت و انجیل میں جو مذکور تھیں ان کو چھپاتے تھے ، سعید بن جبیر ؓ سے مروی ہے کہ اس سے مراد کتمان علم ہے یعنی علم کو چھپانا ۔
حضرت سیدنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–39
(37 ۔ 39) ۔ ابن جریر میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے اور ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر سے جو شان نزول ان آیت کی بیان کی ہے۔ اس کا حاصل یہ ہے کہ یہود لوگ آنحضرت ﷺ کے اوصاف کو جن کا ذکر تورات میں چھپاتے تھے یہ تو علم کے چھپانے کا بخل ہو علاوہ اس کے وہ لوگ صدقہ اور خیرات میں خود بھی بخیلی کرتے تھے اور انصار کے جن لوگوں سے ان کی جان پہچان تھی اس کو بھی خیرات سے ہاتھ روکنے کی نصیحت کرتے تھے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں 5۔ مسلم میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جس نیک عمل میں دکھاوے کی شرکت ہے وہ عمل ہرگز قبول نہیں ہے 1۔ اور ترمذی میں حضرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–38
آیت 36
اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو حکم دیا ہے کہ وہ اس کی عبادت کریں۔ وہ واحد اور لاشریک ہے۔ یہ درحقیقت اس کی عبودیت کے دائرے میں داخل ہونے، محبت، تذلل اور ظاہری اور باطنی تمام عبادات میں اخلاص کے ساتھ اس کے تمام اوامرونواہی کی تعمیل کا نام ہے۔ اللہ تعالیٰ شرک اصغر اور شرک اکبر ہر قسم کے شرک سے روکتا ہے۔ کسی فرشتہ، کسی نبی، ولی یا دیگر مخلوق کو اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہرانے سے منع کرتا ہے جو خود اپنی ذات کے لئے بھی کسی نفع و نقصان، موت وحیات اور دوبارہ اٹھانے پر قدرت نہیں رکھتے۔ بلکہ اللہ تعالیٰ کی عبادت میں اخلاص واجب ہے۔ جو ہر لحاظ سے کمال مطلق کا مالک ہے۔ وہ کائنات کی پوری تدبیر کر رہا ہے…
Read the full tafseer →بخل کی مذمت
قول باری ہے (الذین یبخلون ویامرون الناس بالبخل ویکتمون مااتاھم اللہ من فضلہ، اور ایسے لوگ بھی اللہ کو پسند نہیں جو کنجوسی کرتے ہیں اور دوسروں کو بھی کنجوسی کی ہدایت کرتے ہیں اور جو کچھ اللہ نے اپنے فضل سے انہیں دیا ہے اور اسے چھپاتے ہیں۔ بخل کے معنی کے بارے میں ایک قول ہے کہ کسی کو کچھ دینے کی مشقت اور بوجھ کا نام بخل ہے ایک قول یہ ہے کہ ایسی چیز کونہ دینے کا نام بخل ہے جس کے نہ دینے سے کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوتا اور دے دینے سے کوئی نقصان نہیں ہوتا، ایک اور قول ہے کہ جس چیز کا دینا واجب ہوا اسے نہ دینا بخل کہلاتا ہے اس کا مترادف لفظ شح اور متضاد وجود ہے۔
شرعیت میں استعمال ہونے والے…
Read the full tafseer →95 بخیل کی ایک خاص خصلت کا بیان : سو یہ بخیل کی ایک خاص خصلت ہے کہ وہ دوسروں کو بھی بخل کی تعلیم دیتا ہے کہ مال خرچ کرکے تم خود محتاج ہوجاؤ گے۔ مستقبل میں کیا کرو گے۔ بچے کیا کھائیں گے وغیرہ وغیرہ۔ اور بخیل شخص ایسا اس لیے کرتا ہے کہ اس طرح اس کے بخل پر پردہ پڑا رہے۔ افسوس کہ یہود بےبہبود کی یہ خصلت آج بہت سے مسلمانوں میں بھی پائی جاتی ہے۔ اور بھرپور طریقے سے پائی جاتی ہے۔ اور ایسے لوگ دوسروں کو طرح طرح سے بخل اور کنجوسی کی تعلیم و تلقین کرتے ہیں اور اس کیلئے وہ طرح طرح کے ہتھکنڈوں سے کام لیتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف بخیل شخص کی یہ ایک عام نفسیات ہے کہ وہ دوسروں کو بھی بخل کی تعلم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–38
بندوں کے حقوق اور شیطان کے ساتھی
تشریح : ان آیات میں بندوں کے حقوق کا ذکر کیا گیا ہے اور ان بخیل، مغرور اور کفار کا ذکر کیا گیا ہے جو شیطان کے دوست ہیں اللہ رب العزت کے ناپسندیدہ لوگ ہیں ان کو انتہائی ذلیل کرنے والا عذاب دیا جائے گا۔ اللہ رب العزت ہمیں اپنی امان میں رکھے۔ آمین۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–38
آیت نمبر 36 تا 38: واعبدوا اللہ ولا تشرکوا بہ شیئا۔۔۔۔ فساء قرینا
جہاں تک ادائے حقوق کا تعلق ہے اس کی اصل یہ ہے کہ سب سے پہلے اور سب سے ضروری اللہ کے حق کی حفاظت ہے کہ اس کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ۔ نہ اس کی ذات میں اور نہ اس کی صفات میں اسلام نے اصلاح احوال کی بنیاد ایمان کو قرار دیا ہے اور جب تک کسی بھی انسان کے دل میں اللہ کی عظمت جاگزین نہ ہو اور وہ اپنے ہر حال پر اللہ کو حاضر موجود نہ سمجھتا ہو نیز جب تک وہ اپنی ساری امیدیں اللہ ہی سے وابستہ نہ کردے تب تک محض حکومت کے قانون اور رعب دبدبہ اس کی اصلاح نہیں کرسکتے نہ برادری کا شرم یا معاشرے کا دباؤ اسے مجبور کرسکتا ہے…
Read the full tafseer →ف 4 اس آیت میں بخل کی مذمت کی گئی ہے اور بخیل کے لیے کافر کا لفظ استعمال کیا گیا ہے کیونکہ وہ بھی اللہ تعالیٰ کی نعمت کو چھپانے والا ہوتا ہے۔ بعض سلف نے اس آیت میں بخل کے لفظ کو یہود یوں کے بخل پر محمول کیا ہے جو آنحضرت ﷺ کی صفات اور علامات کو لوگوں سے چھپاتے تھے۔ (ابن کثیر )
Read the full tafseer →(4:37) یبخلون۔ مضارع جمع مذکر غائب بخل (باب سمع) مصدر وہ بخل کرتے ہیں۔ کنجوسی کرتے ہیں۔
فضلہ۔ میں ہ ضمیر واحد مذکر غائب اللہ تعالیٰ کی طرف راجع ہے۔ فضل کے معنی مال۔ برتری۔ قوت۔ حسن۔ مرتبہ۔ عزت۔ حکومت۔ عقل۔ علم۔ حلم وغیرہ میں زیادتی کے ہیں۔
اعتدنا۔ ہم نے تیار کیا ہے۔ ماضی کا صیغہ جمع متکلم۔ اعتاد مصدر۔ عتد مادہ۔ العتاد ضرورت کی چیزوں کا پہلے سے ذخیرہ کرلینا۔ یہی معنی اعداد کے ہیں۔ اعتدنا بروزن افعلنا۔ اعتاد سے فعل ماضی ہے۔ بعض نے کہا ہے کہ اصل میں اعددنا ہے۔ ایک دال کو ت میں تبدیل کیا گیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–40
آیت نمبر 37 – 40
لغات القرآن : رئاء الناس، لوگوں کو دکھانا۔ قرین، ساتھی، ہم نشین۔ ماذا، کیا ؟ ۔ مثقال ذرۃ، ذرا برابر۔ ان تک، اگر ہے۔ یضعفھا، وہ اس کو دوگنا کرتا ہے۔ یؤت، دیتا ہے۔ من لدنہ، اپنے پاس سے (من ، لدن، ہ)
تشریح : گذشتہ آیات میں اللہ کی راہ میں خرچ کرنے پر زور دیا گیا تھا اور بتایا گیا تھا کہ حقوق اللہ کے ساتھ حقوق العباد بھی درجہ بدرجہ کتنے اہم ہیں۔ آیات 37 تا 40 میں بخل پر بحث کی گئی ہے بخیل کی عام پہچان تو یہ ہے کہ وہ خود بھی خرچ نہیں کرتا اور دوسروں کو بھی روکتا ہے۔ وہ زرپرست ہوتا ہے اور یہ بات اس کی فطرت میں داخل ہوتی ہے ۔ لیکن اس سے بڑھ کر کنجوسی کی ایک قسم وہ ہے کہ اپنا مال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–39
یہود لوگ جو آنحضرت ﷺ کی صفت بیان کرنے میں بخل کرتے اور چھپاتے تھے ا، صدقہ اور خیرات میں خود بھی بخیلی کرتے تھے ۔ اس پر یہ آیتین نازل فرمائین کہ جس نیک عمل میں دکھاوے کی شرکت ہے وہ عمل ہرگز قبول نہیں ۔ بخل اور بدچزاجی یہ دو خصلتیں کسی مسلمان میں نہین ہونی چاہئیں ۔ ہر آدمی کے ساتھ ایک شیطان اور ایک فرشتہ رہا ہے ۔ شیطان ہمیشہ برے کاموں کی رغبت دلاتا ہے اور فرشتہ اچھے کاموں کی ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–40
[29] قوام کے معنی ہیں محافظ، مدبر اور منتظم کے اور یہاں مراد یہ ہے کہ مرد عورتوں کے امور کا انتظام کرنے والے، ان کی کفالت کرنے والے اور ان پر احکام نافذ کرنے والے ہیں۔
[30] یعنی مردوں کو عورتوں پر جیسا کہ بعد کی عبارت سے ظاہر ہے۔
[31] مال سے مراد ہے مہر اور نان نفقہ
[32] یعنی ان کے ساتھ ہم بستری موقوف کردو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–38
(ف 1) ان آیات میں خدا سے لے کر غلام تک کے ساتھ صحیح تعلق رکھنے کی تلقین ہے کہ جہاں اللہ کی عبادت کرو ‘ وہاں اس کا مظاہرہ تمہارے اعمال سے بھی ہو ۔
حل لغات :
وما ملکت ایمانکم : جو تمہارے قبضہ ملک میں ہوں ۔
مختال : مکتبر ۔
فخور : شیخی بگھارنے والا ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–37
ف 3 اور تم سب لوگ اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اس کی بندگی کرو اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہرائو اور اپنے ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آئو اور اچھا برتائو کرو اور اہل قرابت کے ساتھ بھی اچھا برتائو کرو اور یتیموں کے ساتھ بھی اور محتاج و مساکین کے ساتھ بھی اور اس پڑوسی کے ساتھ بھی جو قریب کا پڑوسی ہو اور ساتھ کے بیٹھنے والے یعنی ہم محبت و ہم مجلس کے ساتھ بھی اور مسافر کے ساتھ بھی اور ان لونڈی اور غلاموں کے ساتھ جن کے تمہارے داہنے ہاتھ مالک ہوئے ہیں یعنی اپنے ممالک کے ساتھ بھی یقین جانو ! اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو پسند نہیں فرماتا جو تکبر کرنے والے شیخی مارنے والے ہوں۔ (تیسیر)
خدا کی عبادت…
Read the full tafseer →ف 3۔ اس سے مراد یا تو مال و دولت ہے جبکہ بلامصلحت حفاظت کے محض بخل کی وجہ سے کہ اہل حقوق توقع نہ کریں چھپادے اور یا مراد علم دین ہے کہ یہوداخبار رسالت کو چھپایا کرتے تھے پس بخل بھی عام ہوجائے گا پس اس میں بخلاء ومنکرین رسالت دونوں آگئے۔
Read the full tafseer →بخل سے کام لینے والے عذاب الٰہی کے مستحق ہیں اس لیے بخل کرنا ترک کر دو :
85: تکبر کی وہ حالت جس کو پچھلی آیت میں ” مُخْتَالٌ “ سے تعبیر کیا گیا ہے اس کی ایک پہچان بخل بھی ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں کہ باتیں تو کریں گے بہت اور لوگوں کو مشورے دے دے کر اور سکیمیں بنا بنا کر دکھائیں گے۔ لیکن جب پیسہ خرچ کرنے کا وقت آئے گا تو پھر یہ نظر ہی نہیں آئیں گے کہ کہاں چلے گئے۔ کیوں ؟ اس لیے کہ پیسہ ان کی جان ہے اگر وہ خرچ ہوگیا تو گویا وہ مر گئے اور پھر کون ہے جو موت کے لیے تیار رہے ؟ یہ وہی ہیں کہ کچھ آتا دیکھیں گے تو گویا جان ان میں پڑگئی اور جاتا دیکھیں گے تو پھر وہی حالت۔ ذرا خوشحالی اور مشتخ یا کوئی عہدہ…
Read the full tafseer →Then begins verse 37 with الَّذِينَ يَبْخَلُونَ which describes the nature of the arrogant who are stingy in giving rights which it is obligatory to give, fail to understand their responsibilities and go on to the negative extreme of persuading others to take to this bad habit through their word and deed.
The verse has used the word, 'bukhl' (niggardliness) to describe this trait of character, a word which, in the generally approved sense, is applied for shortcoming in giving financial rights. But, looking at the background of the verse's revelation, it becomes obvious that the word, 'bukhl'…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–40
63. Concealing God's bounty is to live, as if God had not bestowed that bounty. If anyone has considerable wealth and yet lives at a standard strikingly lower than that warranted by his income, if he shuns spending on himself and his family, and also on helping other creatures of God, and avoids providing financial support to any philanthropic cause, then he creates the false impression of being in a state of financial stringency. This is sheer ingratitude to God. The Prophet (peace be on him) is reported, according to a tradition, as saying: 'If God confers a bounty on somebody, He would…
Read the full tafseer →