Explained with ayahs 166–170
ہمارے ایمان اور کفر سے اللہ تعالیٰ بےنیاز ہے
چونکہ سابقہ آیتوں میں حضور ﷺ کی نبوت کا ثبوت تھا اور آپ کی نبوت کے منکروں کی تردید تھی، اس لئے یہاں فرماتا ہے کہ گو کچھ لوگ تجھے جھٹلائیں، تیری مخالفت خلاف کریں لیکن اللہ خود تیری رسالت کا شاہد ہے۔ وہ فرماتا ہے کہ اس نے اپنی پاک کتاب قرآن مجید و فرقان حمید تجھ پر نازل فرمایا ہے جس کے پاس باطل پھٹک ہی نہیں سکتا، اس کتاب میں ان چیزوں کا علم ہے جن پر اس نے اپنے بندوں کو مطلع فرمانا چاہا یعنی دلیلیں، ہدایت اور فرقان، اللہ کی رضامندی اور ناراضگی کے احکام اور ماضی کی اور مستقبل کی خبریں ہیں اور اللہ تبارک و تعالیٰ کی وہ مقدس صفتیں ہیں جنہیں نہ تو کوئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 165–169
سورة النِّسَآء 207
یعنی ان سب کا ایک ہی کام تھا اور وہ یہ کہ جو لوگ خدا کی بھیجی ہوئی تعلیم پر ایمان لائیں اور اپنے رویہ کو اس کے مطابق درست کرلیں انہیں فلاح وسعادت کی خوشخبری سنا دیں، اور جو فکر و عمل کی غلط راہوں پر چلتے رہیں ان کو اس غلط روی کے برے انجام سے آگاہ کردیں۔
سورة النِّسَآء 208
یعنی ان تمام پیغمبروں کے بھیجنے کی ایک ہی غرض تھی اور وہ یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ نوع انسانی پر اتمام حجت کرنا چاہتا تھا، تاکہ آخری عدالت کے موقع پر کوئی گمراہ مجرم اس کے سامنے یہ عذر پیش نہ کرسکے کہ ہم ناواقف تھے اور آپ نے ہمیں حقیقت حال سے آگاہ کرنے کا کوئی انتظام نہیں کیا تھا۔ اسی غرض کے لیے خدا نے دنیا کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 165–169
رسلاً مبشرین ومنذرین، اللہ تعالیٰ نے پیغمبروں کو برابر بھیجا کہ مؤ منوں کو خوش خبری سنائیں اور کافروں کو ڈرائیں تاکہ لوگوں کو قیامت کے دن اس عذر کی جگہ نہ رہے کہ ہم کو تیری مرضی اور غیر کی مرضی معلوم نہ تھی، معلوم ہوتی تو ضرور اس پر چلتے، سو جب اللہ تعالیٰ نے پیغمبروں کو معجزے دے کر بھیجا اور پیغمبروں نے رائے حق بتلائی، تو اب دین حق کے قبول نہ کرنے میں کسی کا کوئی عذر نہیں سنا جاسکتا، وحی الہی ایسی قطعی حجت ہے کہ اس کے روبرو کوئی حجت نہیں چل سکتی، بلکہ سب حجتیں قطع ہوجاتی ہیں اور یہ اللہ کی حکمت اور تدبر ہے۔
حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ یہودیوں کی ایک جماعت آپ کے پاس آگئی، آپ نے ان سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 166–169
166۔ 169:۔ لٰكِنِ اللّٰهُ يَشْهَدُ بِمَآ اَنْزَلَ اِلَيْكَ اَنْزَلَهٗ بِعِلْمِهٖ ۚ وَالْمَلٰۗىِٕكَةُ يَشْهَدُوْنَ ۭوَكَفٰي بِاللّٰهِ شَهِيْدًا۔ اِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَصَدُّوْا عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ قَدْ ضَلُّوْا ضَلٰلًۢا بَعِيْدًا۔ اِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَظَلَمُوْا لَمْ يَكُنِ اللّٰهُ لِيَغْفِرَ لَهُمْ وَلَا لِيَهْدِيَهُمْ طَرِيْقًا۔ اِلَّا طَرِيْقَ جَهَنَّمَ خٰلِدِيْنَ فِيْهَآ اَبَدًا ۭوَكَانَ ذٰلِكَ عَلَي اللّٰهِ يَسِيْرًا۔
استدراک کا پہلو : حرف " لکن " استدراک کے لیے آتا ہے۔ یہ استدراک اس بات پر ہے جو اوپر والے ٹکڑے سے نکلتی ہے۔ اوپر انبیا کے سلسلے اور ان کی طرف وحی بھیجے جانے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 165–167
165۔ 1 ایمان والوں کو جنت اور اس کی نعمتوں کی خوشخبری دینا اور کافروں کو اللہ کے عذاب اور بھڑکتی ہوئی جہنم سے ڈرانا۔
165۔ 2 یعنی نبوت کا یہ سلسلہ ہم نے اس لئے قائم فرمایا کہ کسی کے پاس یہ عذر باقی نہ رہے کہ ہمیں تو تیرا پیغام پہنچا ہی نہیں۔ جس طرح دوسرے مقام پر فرمایا۔ اگر ہم ان کو پیغمبر (کے بھیجنے سے) پہلے ہی ہلاک کردیتے تو وہ کہتے اے ہمارے پروردگار تو نے ہماری طرف کوئی رسول کیوں نہیں بھیجا کہ ہم ذلیل و رسوا ہونے سے پیشتر تیری آیات کی پیروی کرلیتے
Read the full tafseer →Explained with ayahs 160–170
94: اس کی تفصیل انشاء اللہ سورة انعام (146:6) میں آئے گی۔
Read the full tafseer →(آیت) ” نمبر 166۔
اہل کتاب اس آخری رسالت کا انکار کرتے ہیں ‘ حالانکہ یہ رسالت اللہ کی سنت کے عین مطابق ہے کہ اللہ تعالیٰ خوشخبری دینے والے اور ڈرانے والے رسولوں کو بھیجتے رہتے ہیں تاکہ وہ لوگوں کو ہدایت دیں اور تاکہ لوگوں کے پاس قیامت کے دن کوئی حجت نہ رہے اور یہ کہ اہل کتاب حضرت محمد ﷺ سے قبل کے تمام رسل کو مانتے ہیں اور یہودی بھی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے قبل کے تمام رسولوں کو مانتے ہیں اور عیسائی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور آپ سے پہلے کے تمام رسولوں کو مانتے ہیں ۔ اگر باوجود ان حقائق کے یہ لوگ مان کر نہیں دیتے تو نہ سہی (مگر اللہ گواہی دیتا ہے کہ اے نبی جو کچھ اس نے تم پر نازل کیا ہے…
Read the full tafseer →3 یعنی وحی ہر پیغمبر کو آتی رہی یہ کچھ نئی بات نہیں سب کو معلوم ہے لیکن اس قرآن میں اللہ نے اپنا خاص علم اتارا اور اللہ اس حق کو ظاہر کر دے گا۔ چناچہ جاننے والے جانتے ہیں کہ جو علوم اور حقائق قرآن مجید میں سے حاصل ہوئے اور برابر حاصل ہوتے رہیں گے وہ کسی کتاب سے نہیں ہوئے اور جس قدر ہدایت لوگوں کو حضرت محمد ﷺ سے ہوئی اور کسی سے نہیں ہوئی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 165–166
آیت 165 رُسُلاً مُّبَشِّرِیْنَ وَمُنْذِرِیْنَ لِءَلاَّ یَکُوْنَ للنَّاسِ عَلَی اللّٰہِ حُجَّۃٌم بَعْدَ الرُّسُلِ ط
یہاں پر ایک طرف للِنَّاسِ کا ’ ل ‘ نوٹ کیجئے اور دوسری طرف عَلَی اللّٰہِ کا عَلٰی۔ یہ دونوں حروف متضاد معانی پیدا کر رہے ہیں۔ لِلنَّاسِ کے معنی ہیں لوگوں کے حق میں حجت ‘ جبکہ عَلَی اللّٰہِ کے معنی ہیں اللہ کے خلاف حجت۔
وَکَان اللّٰہُ عَزِیْزًا حَکِیْمًا۔
اب آپ آخرت کے احتساب کے فلسفے کو سمجھئے۔ قیامت کے دن ہر کسی کا امتحان ہوگا اور امتحان سے پھر نتائج نکلیں گے ‘ کوئی پاس ہوگا اور کوئی فیل۔ لیکن امتحان سے پہلے کچھ پڑھایا جانا بھی ضروری ہے ‘ کسی کو جانچنے سے پہلے اسے کچھ دیا بھی…
Read the full tafseer →220 قرآن علم الہی کا خزانہ ہے :۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ یہ قرآن علم الہیٰ کا مخزن ہے۔ وحی کے ذریعہ انسان کو ایسی باتوں کا علم ہوا جنہیں معلوم کرنے کا اس کے پاس کوئی ذریعہ نہ تھا مثلاً دشمنوں کی سازشوں کی بروقت اطلاع، مسلمانوں کی بروقت امداد، ہنگامی پس منظر میں احکام الہی کا فوری نزول، مستقبل کے متعلق بہت سی پیشین گوئیاں جو قرآن کریم میں مذکور ہیں۔ مثلاً روم کا ایران پر غلبہ، دین اسلام کی تمام ادیان پر سر بلندی، قیامت سے پہلے اور مابعد کے حالات نشر و حشر اور جنت دوزخ سے متعلق معلومات وغیرہ۔ اور اسی وحی الہیٰ کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ ایک مبتدی اور ایک منتہی دونوں ہی قرآن سے اپنی اپنی استطاعت کے…
Read the full tafseer →419 ۔ (آیت) ” لکن “۔ کلمہ استدراک ہے، اور استدراک قول ماسبق پر ہوتا ہے، یہاں مراد ہے کہ اگر یہ لوگ خصوصا یہود اب بھی اور اس کے باوجود بھی نبوت محمد ﷺ کو نہ مانیں تو روایتوں میں آتا بھی ہے کہ یہود نے پچھلی آیات (آیت) ” انا اوحینا الیک، الخ “۔ کو سن کر کہا تھا کہ ہم تو ان کی رسالت کو گواہی نہیں دیتے۔ مما قال انا اوحینا الیک قال القوم لا نشھد لک بذلک فتزل لکن اللہ یشھد (کبیر) فی الکلام حذف دل علیہ الکلام کان الکفار قالوا ما تشھد لک یا محمد فی ما تقول فمن یشھدلک (قرطبی)
420 ۔ (اور اسی کمال علمی ہی نے تو قرآن کو معجزہ بنادیا ہے) (آیت) ” اللہ یشھد بما انزل الیک “۔ یعنی اللہ کی شہادت اسی قرآن کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 163–169
آیت نمبر 163 تا 171
ترجمہ : اے (محمد) ہم نے تمہاری طرف اسی طرح وحی بھیجی ہے جس طرح نوح علیہ الصلوٰة والسلام اور اس کے بعد کے نبیوں کی طرف بھیجی تھی اور جس طرح ہم نے ابراہیم علیہ الصلوٰة والسلام کی طرف بھیجی ان کے دونوں بیٹوں اسماعیل علیہ الصلوٰة والسلام اور اسحٰق علیہ الصلوٰة والسلام کی طرف (بھی) وحی بھیجی اور یعقوب علیہ الصلوٰة والسلام بن اسحاق اور اولاد یعقوب علیہ الصلوٰة والسلام اور عیسیٰ علیہ الصلوٰة والسلام اور ایوب علیہ الصلوٰة والسلام اور یونس علیہ الصلوٰة والسلام اور سلیمان علیہ الصلوٰة والسلام کی طرف وحی بھیجی اور سلیمان علیہ الصلوٰة والسلام کے دالد داؤد علیہ الصلوٰة والسلام کو زبور…
Read the full tafseer →لکن اللہ یشہد بما انزل الیک لیکن اللہ تو اس کتاب کے ذریعہ سے جو آپ پر نازل کی ہے (آپ کی نبوت کی) شہادت دے رہا ہے۔ یعنی قرآن جو اپنی عبارت اور معنی کے لحاظ سے مکمل معجزہ ہے وہ آپ ﷺ کی نبوت کو ثابت کر رہا ہے۔
انزلہ بعلمہ اللہ نے یہ کتاب اپنے خاص علم کے ساتھ اتاری ہے (یعنی یہ کتاب اللہ کے علم خاص کی حامل ہے) علم خاص سے مراد ہے گزشتہ اور آئندہ کے غائب امور کا علم۔ قرآن کی عبارت کا علم جس کی مختصر ترین سورت کی طرح بھی کوئی عبارت نہیں پیش کی جاسکتی۔ اس امر کو جاننا کہ نبوت کا اہل کون ہے اور کس پر کتاب نازل کی جائے۔ اور اس بات کو جاننا کہ لوگوں کو اپنی معاش و معاد کی درستگی کے لئے کس چیز کی ضرورت…
Read the full tafseer →(166) اہل مکہ نے کہا کہ ہم نے اہل کتاب سے آپ ﷺ کے متعلق دریافت کیا تھا تو کسی نے بھی آپ کے نبی مرسل ہونے کی شہادت نہیں دی، اللہ تعالیٰ ان یہودونصاری کی تردید میں فرماتے ہیں کہ اگرچہ جبریل امین کے ذریعے سے نزول قرآن کی کوئی گواہی یہ کیوں نہ دے مگر اللہ تعالیٰ کی حضور ﷺ کے رسول برحق ہونے کی گواہی اس سے بھی بڑھ کر اور کافی ہے۔
شان نزول : (آیت) ”لکن اللہ یشہد“۔ (الخ)
ابن اسحاق ؒ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ یہودیوں کی ایک جماعت رسول اکرم ﷺ کی خدمت میں گئی، آپ نے ان سے فرمایا اللہ کی قسم تم یہ اچھی طرح جانتے ہو کہ میں اللہ تعالیٰ کا رسول ہوں وہ بولے ہم نہیں جانتے، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت…
Read the full tafseer →لٰكِنِ اللّٰهُ يَشْهَدُ بِمَآ اَنْزَلَ اِلَيْكَ۔۔ : یعنی وحی ہر پیغمبر پر آتی رہی ہے، کچھ نیا کام نہیں، پر اس کلام (قرآن مجید) میں اللہ تعالیٰ نے اپنا خاص علم اتارا اور اللہ تعالیٰ اس حق کو ظاہر کر دے گا، چناچہ ظاہر ہوا کہ جس قدر ہدایت اس نبی سے ہوئی اور کسی سے نہ ہوئی۔ (موضح) یہ آیت بھی یہود کے مذکورہ سوال کے جواب میں ہے کہ اگر یہود قرآن کے کتاب الٰہی ہونے کا انکار کرتے ہیں تو اس سے قرآن کا سچا ہونا مجروح نہیں ہوتا، کیونکہ اللہ تعالیٰ یہ گواہی دیتا ہے کہ اس نے قرآن اپنے علم اور حکمت بالغہ کے ساتھ نازل کیا ہے، جو اس کے انتہائی کامل ہونے کی دلیل ہے، کیونکہ اس کا علم ماضی، حال اور مستقبل سب کو…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 166۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” لکن اللہ یشھد “ ابتدا کی وجہ سے رفع دیا گیا ہے اگر تو چاہے تو نون کو شددے اور اسم جلالت کو نصب دے کلام میں حذف ہے جس پر موجود کلام دلالت کر رہا ہے گویا کفار نے کہا : اے محمد ! ہم تیرے لیے گواہی نہیں دیتے اس کے بارے میں جو تو کہتا ہے تو پھر تیرے لیے کون گواہی دے گا ؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : لیکن اللہ گواہی دیتا ہے۔ (آیت) ” انزلہ بعلمہ “ کا معنی ہے اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ تو اس کے اہل ہے کہ تجھ پر قرآن نازل ہو۔ یہ آیت دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے علم کے ساتھ جانتا ہے۔ (آیت) ” والملئکۃ یشھدون “۔ ملائکہ کی شہادت کا ذکر فرمایا تاکہ اس کے ساتھ کفار کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 166–170
(1) ابن اسحاق وابن جریر وابن المنذر اور بیہقی نے دلائل میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ایک جماعت یہودیوں میں سے رسول اللہ ﷺ کے پاس آئی آپ نے ان سے فرمایا اللہ کی قسم ! میں نہیں جانتا ہوں اور بلاشبہ تم بھی جانتے ہو کہ میں اللہ کا رسول ہوں انہوں نے کہا ہم اس کو نہیں جانتے اس پر اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا لفظ آیت ” لکن اللہ یشھد “ پوری آیت۔
(2) ابن جریر وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے ” لکن اللہ یشھد “ پوری آیت کے بارے میں روایت کیا کہ اللہ کی قسم گواہوں پر کوئی تہمت نہیں۔
Read the full tafseer →[ لٰـکِنِ : لیکن ] [ اللّٰہُ : اللہ ] [ یَشْہَدُ : گواہی دیتا ہے ] [ بِمَآ : اس کی جو ] [ اَنْزَلَ : اس نے اتارا ] [ اِلَـیْکَ : آپ ﷺ کی طرف ] [ اَنْزَلَہٗ : کہ اس نے اتارا اس کو ] [ بِعِلْمِہٖ : اپنے علم سے ] [ وَالْمَلٰٓئِکَۃُ : اور فرشتے ] [ یَشْہَدُوْنَ : (بھی) گواہی دیتے ہیں ] [ وَکَفٰی : اور کافی ہے ] [ بِاللّٰہِ : اللہ ] [ شَہِیْدًا : بطور گواہ کے ]
Read the full tafseer →آخر میں فرمایا (لٰکِنِ اللّٰہُ یَشْھَدُ بِمَآ اَنْزَلَ اِلَیْکَ اَنْزَلَہٗ بِعِلْمِہٖ وَ الْمَلآءِکَۃُ یَشْھَدُوْنَ وَ کَفٰی باللّٰہِ شَھِیْدًا) (لیکن اللہ تعالیٰ اس چیز کی گواہی دیتا ہے جو اس نے آپ کی طرف اپنے علمی کمال کے ساتھ اتاری اور فرشتے گواہی دیتے ہیں اور اللہ کی شہادت کافی ہے) ۔
معالم التنزیل صفحہ 105: ج 1 میں حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ روساء مکہ آنحضرت سرور عالم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے کہا کہ اے محمد ﷺ ! ہم نے آپ کے بارے میں یہودیوں سے دریافت کیا کہ تمہاری کتابوں میں محمد ﷺ کی صفات بیان کی گئی ہیں یا نہیں ؟ تو انہوں نے کہا کہ ہم تو ان کو نہیں جانتے، تھوڑی دیر میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 163–169
جواب از شبہ اہل کتاب۔
قال تعالی، انا اوحینا الیک۔۔۔۔ الی۔۔۔۔ یسیرا۔
ربط) گزشتہ رکوع میں اہل کتاب کی شناعتوں اور قباحتوں کو بیان کیا تاکہ معلوم ہاجائے کہ اہل کتاب کا وہ سوال جو یسالک اھل الکتاب میں منقول ہوا وہ سراسر جہل اور عناد پر مبنی ہے جس کا اجمالی اور الزامی جواب تو فقد سالوا موسیٰ اکبر من ذالک کے ذریعہ دے دیا گیا اب اصل سوال کا تحقیقی اور تفصیلی جواب ارشاد فرماتے ہیں جس کا حاصل یہ ہے کہ اہل کتاب کا یہ کہنا اگر آپ سچے نبی ہیں تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی طرح آپ پر بھی دفعۃ کوئی کتاب آسمان سے نازل کی جائے یہود کا یہ سوال سراسر جاہلانہ اور معاندانہ ہے اس لیے کہ اثبات نبوت کے لیے یہ سوال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 166–170
110 یہ اگر قرآن کو نہیں مانتے اور اس پر اعتراضات کرتے ہیں تو اس سے اس کی صداقت میں کوئی فرق نہیں آسکتا اس بات کی گواہی تو خود اللہ تعالیٰ دیتا ہے کہ اس کو اسی نے ہی نازل کیا ہے کیونکہ ایسی جامع بلند مضامین والی اور معجز کتاب غیر اللہ کی طرف سے نہیں ہوسکتی اس طرح قرآن خود ہی مشہود بہ اور خود ہی مشہود علیہ ہے پھر اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَصَدُّوْا سے تخویف اخروی ہے یعنی اے یہود اب بھی وقت ہے کفر و انکار اور ضد وعناد سے باز آجاؤ اور ایمان لے آؤ ورنہ یاد رکھو اللہ کے قبضہ سے نہیں بچ سکتے ہو کیونکہ ساری کائنات اس کے تصرف وا قتدار کے تحت ہے وہ تمہیں اس کی سخت سزا دے گا۔ یَا ایُّھَاالنَّاسُ قَدْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 166–170
ربط آیات
گزشتہ دروس میں گزر چکا ہے کہ ” یسئلک اھل الکتب “…الخ یعنی یہودی آپ پر سوال کرتے ہیں کہ آپ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مکمل کتاب کیوں نہیں لاتے ، جیسا کہ موسیٰ (علیہ السلام) لائے۔ اس اعتراض کے اللہ تعالیٰ نے دو طریقوں سے جواب دیتے ہیں۔ پہلا جواب الزامی تھا اور حضور ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا تھا ، کہ یہ لوگ ضدی اور عنادی ہیں ، ان کا مقصود ہر حالت میں یہ ہے کہ پیغمبر آخر الزماں اور قرآن پاک پر ایمان نہ لایا جائے یہ ان کی قومی عاد ت ہے انہوں نے تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے بھی سوال کیا تھا کہ ہم ایمان نہیں لائیں گے جب تک اللہ تعالیٰ کو خود اپنی آنکھوں سے نہ دیکھ لیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان…
Read the full tafseer →لٰكِنِ اللہُ يَشْہَدُ بِمَآ اَنْزَلَ اِلَيْكَ اَنْزَلَہٗ بِعِلْمِہٖ 0ۚ وَالْمَلٰۗىِٕكَۃُ يَشْہَدُوْنَ 0ۭ وَكَفٰي بِاللہِ شَہِيْدًا 166ۭ
الله
الله : قيل : أصله إله فحذفت همزته، وأدخل عليها الألف واللام، فخصّ بالباري تعالی، ولتخصصه به قال تعالی: هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا [ مریم/ 65] .
( ا ل ہ ) اللہ
(1) بعض کا قول ہے کہ اللہ کا لفظ اصل میں الہ ہے ہمزہ ( تخفیفا) حذف کردیا گیا ہے اور اس پر الف لام ( تعریف) لاکر باری تعالیٰ کے لئے مخصوص کردیا گیا ہے اسی تخصیص کی بناء پر فرمایا :۔ { هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا } ( سورة مریم 65) کیا تمہیں اس کے کسی ہمنام کا علم ہے ۔
نزل
النُّزُولُ في الأصل هو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 166–170
ترکیب : اللّٰہ مبتدا یشہد خبر بما اس سے متعلق والملئکتہ یشہدون جملہ کا عطف اول جملہ پر ہے کفی باللّٰہ فعل با فاعل ب زائد بعلمہ حال ہے فاعل یشہد سے اے متلبسا بعلمہ الا طریق استثناء متصل ہے خلدین حال مقدرہ ہے خیر الکم مفعول ہے فعل محذوف کا اے اقصد و اخیراً
تفسیر : جبکہ یہ فرمایا تھا انا او حینا الیک تو اس پر بھی منکرین شبہ کرتے تھے۔ اس کے جواب میں فرماتا ہے کہ اگر یہ یہود تمہاری نبوت کی شہادت نہیں دیتے تو نہ دیں یہ چند نفسانیت کے بھرے ہوئے جاہل پشتینی سرکش کیا چیز ہیں ؟ خود خدا اس چیز کی کہ جو تم پر نازل کی گئی ہے اور اس کے فرشتے گواہی دے رہے ہیں اور اسی کی گواہی بس ہے انزلہ بعلمہ جبکہ خدا نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 166–169
لٰکِنِ اللّٰہُ یَشْہَدُ بِمَآ اَنْزَلَ اِلَیْکَ اَنْزَلَہٗ بِعِلْمِہٖ ج وَالْمَلٰٓئِکَۃُ یَشْہَدُوْنَ ط وَکَفٰی بِاللّٰہِ شَہِیْدًا ط اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَصَدَّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ قَدْ ضَلُّوْا ضَلٰلاً م بَعِیْدًا اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَ ظَلَمُوْا لَمْ یَکُنِ اللّٰہُ لِیَغْفِرَ لَہُمْ وَلَا لِیَہْدِیَہُمْ طَرِیْقًا لا اِلَّاطَرِیْقَ جَہَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْہَآ اَبَدًا ط وَکَانَ ذٰلِکَ عَلَی اللّٰہِ یَسِیْرًا
” لیکن اللہ گواہی دیتا ہے اس چیز کی جو اس نے تم پر اتاری ہے کہ اس نے اس کو اپنے علم سے نازل کیا ہے۔ اور فرشتے بھی گواہی دیتے ہیں۔ اور گواہی کو تو اللہ ہی کافی ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 165–166
فہم القرآن
ربط کلام : نبی اکرم ﷺ کسی انوکھی نبوت کے ساتھ نہیں آئے ان سے پہلے بیشمار انبیاء آئے لہٰذا بڑے بڑے انبیاء کا نام بنام ذکر کرنے کے بعد ان کی بعثت کا مقصد بیان کیا گیا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوقات بنا کر زمین میں اپنا خلیفہ نامزد فرمایا اور اسے عقل و فکر کی دولت سے مالا مال کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کو کم ازکم اتنی عقل و فکر ضرور عطا فرمائی ہے کہ وہ اچھے و برے اور نفع و نقصان میں تمیز کرسکے۔ اس کے ساتھ ہی اپنی پہچان کے لیے دنیا میں بیشمار شواہد و قرائن پیدا فرمائے پھر جزوی تشریحات کو چھوڑ کر دین کے بنیادی ارکان کو ہمیشہ سے ایک رکھا۔ تاکہ جس دین کے بغیر گزارہ نہیں…
Read the full tafseer →کتاب کی صحت کا ثبوت اظہار معجزات سے :
آیت 166 : جب آیت : اِنَّآ اَوْحَیْنَآ اِلَیْکَ نازل ہوئی تو صحابہ کرام ؓ نے کہا : نشہد لک بہذا۔ ہم آپ کے متعلق اس بات کے گواہ ہیں۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری : لٰکِنِ اللّٰہُ یَشْہَدُ بِمَآ اَ نْزَلَ اِلَــیْکَ لیکن اللہ تعالیٰ گواہ ہے۔ اس کا جو آپ پر اتاری۔
شَہَادَۃَ اللّٰہِ بِمَا اُنْزِلَ اِلَیْہِ کا مطلب یہ ہے اس کتاب کی صحت کا ثابت کرنا معجزات کے اظہار کے ذریعہ ہے۔ جیسا کہ دعاوی کا ثبوت دلائل سے ہوتا ہے۔ اس لئے کہ حکیم جھوٹے کی تائید و مدد معجزات سے نہیں کرتا۔
قرآن آپ کے لائق ہونے کے سبب اتارا :
اَنْزَلَہٗ بِعِلْمِہٖ (اس نے اپنے علم سے اس کو…
Read the full tafseer →(تفسیر) 166۔ :
(آیت)” لکن اللہ یشھد بما انزل الیک “۔ حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ کا قول ہے کہ مکہ کے بڑے بڑے سردار آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا محمد ﷺ ہم نے یہودیوں سے تمہارے اور تمہارے اوصاف کے متعلق دریافت کیا کہ ان کی کتاب میں اس کا ذکر ہے یا نہیں ؟ یہودیوں نے جواب دیا کہ ہم اس امر سے واقف نہیں اس پر مندرجہ ذلیل آیت کا نزول ہوا ۔ (آیت)” لکن اللہ یشھد بما انزل الیک “۔ انہوں نے اس کا انکار کیا اور ان کو جھٹلایا (آیت)” انزلہ بعلمہ والملائکۃ یشھدون وکفی باللہ شھیدا “۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 166–170
(166 ۔ 170) ۔ تفسیر ابن جریر، تفسیر خازن وغیرہ میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کی روایت سے ان آیتوں کی شان نزول جو بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ کچھ یہود لوگ آنحضرت ﷺ کے پاس آئے ان سے آپ نے فرمایا کہ یہ تو تمہارا جانتا ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں اور قرآن کلام الٰہی ہے پھر تم اس کی صدیق عام لوگوں کے روبرو کیوں نہیں کرتے۔ یہود نے یہ بات سن کر آپ کے رسول ہونے اور قرآن کے اللہ کے کلام ہونے کی گواہی دینے سے انکار کیا اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں 3 اور فرمایا اے رسول اللہ کے اگرچہ ان لوگوں نے تمہارے خلاف گواہی دے کر عام لوگوں کو بہکایا ہے لیکن اللہ اس بات کا گواہ ہے کہ تم اللہ کے…
Read the full tafseer →آیت 166
اللہ تعالیٰ نے جہاں یہ ذکر فرمایا کہ اس نے محمد مصطفیٰ ﷺ کی طرف اسی طرح وحی کی ہے جس طرح دیگر انبیاء کی طرف، وہاں یہ خبر بھی دی ہے کہ اس نے آپ ﷺ کی رسالت کی اور جو تعلیمات لے کر آپ مبعوث ہوئے، ان کی صحت کی گواہی دی ہے۔ فرمایا : (انزلہ بعلمہ) ” ا نے اپنے علم سے اسے نازل کیا ہے۔ “ اس میں اس معنی کا احتمال ہے کہ اس نے قرآن کو اس طرح نازل فرمایا کہ وہ اس (اللہ) کے علم پر مشتمل ہے، یعنی اس کے اندر تمام علوم الہیہ، احکام شرعیہ اور اخبار غیبیہ موجود ہیں۔ یہ تمام اللہ تعالیٰ کا وہ علم ہے جو اس نے اپنے بدوں کو سکھایا۔ اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد ہو کہ اس نے اس قرآن کو اپنے علم کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 162–170
قول باری ہے لکن الراسخون فی العلم منھم۔ مگر ان میں سے جو لوگ پختہ علم رکھنے والے ہیں) قتادہ سے مروی ہے کہ لفظ ” شکن “ یہاں استثناء کے معنی دے رہا ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ لفظ الا اور لفظ لکن کبھی نفی کے بعد ایجاب یا ایجاب کے نفی میں ایک جیسے ہوتے ہیں ۔ الا کا اطلاق کر کے اس سے لکن مراد لیا جاتا ا ہے جس طرح یہ قول باری ہے وماکان لمومن ان یقتل مومنا الاخطا۔ اس کے معنی ہیں لیکن اگر وہ اسے خطاء قتل کر دے تو ایک غلام آزاد کرنا ہوگا۔ اس جگہ الا کو لکن کی جگہ لایا گیا تاہم لکن حرف الا سے اس چیز میں جدا ہے کہ الا کے ذریعے کل میں سے بعض کو خارج کردیا جاتا ہے اور لکن ایک کے بعد بھی ہوسکتا ہے مثلا آپ یہ…
Read the full tafseer →433 اللہ کی گواہی وحی کی حقانیت و صداقت پر : سو اللہ اپنی وحی اور اپنے رسولوں کی صداقت و حقانیت کی گواہی دیتا ہے، اپنے قول و کلام سے کہ وہ اس میں جگہ جگہ اور طرح طرح سے اس حقیقت کو واضح اور آشکار کرتا ہے کہ یہ کلام کلام الہٰی ہے۔ اس میں نہ کسی وسوسہئِ انسانی کا کوئی عمل دخل ہوسکتا ہے، نہ کسی دغدغہئِ شیطانی کا۔ بلکہ یہ خالص تنزیل ربانی ہے۔ اس طرح یہ قرآن خود شاہد بھی قرار پاتا ہے اور مشہود علیہ بھی (الجواھر، وغیرہ) ۔ سو اس کو پیش کرنے والے رسول بہرحال سچے ہیں۔
434 وحی خداوندی کا نزول علم خداوندی کے ساتھ : اور جب اس وحدہ لاشریک کا علم کامل و شامل، اور محیط و بےمثال ہے تو اس کا یہ کلام معجز نظام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 165–169
اللہ کی گواہی اور کفار کے لیے جہنم
تشریح : ان آیات میں بڑے واضح طریقہ سے بتا دیا گیا ہے کہ مختلف وقتوں میں مختلف قوموں کے لیے ہدایت کی راہ دکھانے کے لیے اللہ کی طرف سے ہمیشہ پیغمبر بھیجے جاتے رہے ہیں، تاکہ حساب کتاب کے دن جو کہ آکر رہے گا کوئی شخص یہ نہ کہے کہ اللہ مجھے تو کسی نے نیکی و بدی کا فرق ہی نہیں بتایا اللہ رب العزت بڑا دانا اور حکمت والا ہے۔ اسی لیے اس نے بندوں کو برے کاموں کے انجام، یعنی جہنم سے ڈرانے کے لیے اور اچھے کاموں کے بدلہ میں جنت کی خوشخبری دینے والے رسول بھیجے اس بات پر صرف اللہ کی گواہی ہی کافی ہے مگر اللہ نے اس بات پر فرشتوں کو بھی گواہ بنا رکھا ہے۔ اب کچھ لوگوں کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 163–171
رکوع نمبر 23 ۔ آیات 163 تا 171 ۔
اسرار و معارف :
آپ ﷺ سے پہلے نبوت و رسالت کا سلسلہ چلا آ رہا ہے اور ہمیشہ انبیاء و رسل پر اللہ کی طرف سے وحی بھیجی جاتی ہے جیسے نوح (علیہم السلام) پر وحی کی گئی اور ان کے بعد آنے والے نبیوں اور رسولوں پر جیسے ابراہیم ، اسمعیل ، اسحاق اور یعقوب (علیہم السلام) یا ان حضرات کی اولاد میں سے انبیاء مبعوث ہوتے رہے۔ اور عیسیٰ و ایوب ، یونس و ہارون و سلیمان (علیہما السلام) اور ان میں حضرت داود (علیہم السلام) کو تو ہم نے کتاب بھی دی تھی جس کا نام زبور تھا۔ آپ ﷺ کا نبوت کا دعوے کرنا نئی بات نہیں ہے اور نہ وحی الہی کا آپ پر نازل ہونا عجیب بات ہے۔ بلکہ ایسے رسول بھی ہیں جن…
Read the full tafseer →ف 1 یعنی وحی ہر پیغمبر آتی رہے پھر نیاکام نہیں۔ پر اس کلام میں اللہ تعالیٰ نے اپنا خاص علم اتارہ اور اللہ تعالیٰ اس حق کو ظاہر کردے چناچہ ظاہر ہوا کہ جس قدرت ہدایت اس نبی سے ہوئی اور کسی سے نہیں ہوئ (موضح) یہ آیت بھی یہود کے مذکورہ سوال کے جواب میں ہے کہ اگر یہود قرآن کے کتاب الیٰ ہونے کا انکار کرتے ہیں تو اس سے قرآن کی صداقت مجروح نہیں ہوتی کیونکہ اللہ تعالیٰ یہ گواہی دیتا ہے جی قرآن اللہ تعالیٰ نے اپنے علم اور حکمت بالغہ کے ساتھ نازل کیا ہے۔ جو اس کے انتہائی کامل ہونے کی دلیل ہے یہاں بعلمہ کا لفظ بطور محارہ استعمال ہوا ہے۔ جیسے کہا جاتا ہے ہے فلاں نے یہ کتاب اپنے کامل علم وفضل کے ساتھ تصنیف…
Read the full tafseer →(4:166) لکن اللہ یشھد۔ آیات ماقبل کے مفہوم سے معلوم ہوتا ہے کہ لکن اللہ سے پہلے عبارت انھم لایشھدون (یہ لوگ آپ کی رسالت کی اور کتاب اللہ کے نازل ہونے کی شہادت نہیں دیتے تو نہ دیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ گواہی دیتا ہے۔
شھد ب کسی کے متعلق شہادت دینا۔ شھد عند الحاکم بفلان او علیٰ فلان۔ اس نے حاکم کے سامنے فلاں کے متعلق یا فلاں کے خلاف شہادت دی۔ اللہ یشھد بما انزل الیک اللہ تعالیٰ گواہی دیتا ہے۔ اس کتاب کی بابت (اس کے حق میں) جو اس نے نازل کی تمہاری طرف۔
انزل بعلمہ۔ کہ اس نے اتارا اسے اپنے علم سے۔ یعنی یہ کلام جو نازل کیا ہے اللہ تعالیٰ کے علم کا جلوہ گاہ ہے۔ (اس میں ان چیزوں کا علم ہے جس پر اس نے اپنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 163–169
آیت نمبر 163-169
لغات القرآن : اوحینا، ہم نے وحی کی۔ قصصنا، ہم نے قصے بیان کئے۔ کلم اللہ، اللہ نے کلام کیا۔ لئلا یکون، تاکہ نہ ہو۔ حجۃ، دلیل، طریق، راستہ۔
تشریح : آیت 153 میں جو ذکر ہے کہ یہودیوں نے رسول اللہ ﷺ سے مطالبہ کیا تھا کہ آسمان سے نازل کی ہوئی ایک مکمل لکھی ہوئی کتاب ہمیں دکھاؤ تو ہم ایمان لے آئیں گے ان آیات میں اس کا جواب یوں دیا گیا ہے کہ جن نبیوں کو تم مانتے ہو، جن پر ایمان لانے کا دعویٰ تم کرتے ہو۔ کیا ان میں سے اکثر و بیشتر کو لکھی ہوئی مکمل کتاب نہیں دی گئی تھی ؟ ۔ ہاں زبور حضرت داؤد کو ملی تھی اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے خود اللہ نے براہ راست کلام کیا تھا اور توریت کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 165–170
رسول کے منکروں کا ذکر شان نزول : ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ کچھ یہود لوگ آنحضرت ﷺ کے پاس آئے تھے ۔ ان سے آپ نے فرمایا کہ یہ تو تمہارا دل جانتا ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں اور قرآن شریف کلام الہی ہے ، پھر تم اس کی تصدیق عام لوگوں کے روبرو کیوں نہیں کرتے ۔ یہ سن کر یہود نے آپ کے رسول ہونے اور قرآن کے کلام الہی ہونے کی گواہی دینے سے انکار کردیا ۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ " اے للہ کے رسول ! اگرچہ ان لوگوں نے تمہارے خلاف گواہی دے کر عام لوگوں کو بہکایا ہے ، لیکن اللہ اس بات کا گواہ ہے کہ تم اللہ کے رسول ہو اور قرآن اللہ کا کلام ہے اور اس قرآن میں اللہ تعالیٰ نے اپنا خاص علم اتارا ہے ، جس کے سبب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 165–170
[104] یعنی پیغمبروں کے آجانے کے بعد اب کسی کو قیامت میں یہ عذر پیش کرنے کا موقع نہ رہا کہ ہمیں راہ حق کی طرف کسی نے دعوت نہ دی تھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 166–169
خدا اور فرشتوں کی گواہی :
(ف 1) ان دو آیتوں میں قرآن حکیم کی عظمت واہمیت کی طرف توجہ دلائی ہے ، کہا ہے کہ خدا نے قرآن کے الہامی ہونے پر اعلی شہادتیں مرتب کی ہیں اور فرشتے بھی اس سچائی اور صداقت پر گواہ ہیں ، یعنی خدا نے جان بوجھ کر علی وجہ البصیرت قرآن حکیم کو نازل کای ہے اور تم اس میں بیشمار علمی خوارق دیکھ سکتے ، فرشتے بھی شاہد ہیں اور بیشمار علمی خوارق دیکھ سکتے ، فرشتے بھی شاہد ہیں اور یہی وجہ ہے ، فرشتوں نے ہمیشہ قرآن کی تائید کی ہے اور عین جنگ میں ان لوگوں کی حمایت کی ہے جو حامل قرآن ہیں پس وہ لوگ کہ جو اس صداقت مشہود کا انکار کرتے ہیں کھلی گمراہی میں مبتلا ہیں ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 166–168
ف 2 اے پیغمبر ! یہ لوگ آپ کی نبوت کا اعتراف کریں یا نہ کریں لیکن اللہ تعالیٰ اس کتاب کے ذریعہ جس کو آپ کے پاس بھیجا ہے اور بھیجا بھی اپنے علم خاص اور اپنے کمال علمی کے ساتھ ہے آپ کی نبوت رسالت پر شہادت دے رہا ہے اور فرشتے بھی آپ کی نبوت پر گواہی دے رہے ہیں اور آپ کی تصدیق کر رہے ہیں اور گواہی کے لئے تو اللہ تعالیٰ ہی کی ذات کافی ہے۔ (تیسیر)
حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یعنی وحی ہر پیغمبر کو اتٓی رہی کچھ نیا کام نہیں پر اس کلام میں اللہ تعالیٰ نے اپنا خاص علم اتارا اور اللہ اس حق کو ظاہر کر دے گا چناچہ ظاہر ہوا کہ جس قدر ہدایت اس نبی سے ہوئی اور کسی سے نہ ہوئی۔ (موضح القرآن)
حضرت عبداللہ بن عباس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 165–168
ف 2۔ اللہ تعالیٰ پورے زور اور اختیار والے ہیں کہ بلا ارسال رسل بھی سزادیتے تو بوجہ اس کے کہ مالک حقیقی ہونے میں منفرد ہیں ظلم نہ ہوتا اور حقیقت میں عز کا حق کسی کو نہ تھا لیکن چونکہ بڑی حکمت والے بھی ہیں اس لیے حکمت اسی ارسال کو مقتضی ہوئی تاکہ ظاہری عذر بھی نہ رہے۔
Read the full tafseer →اگر یہ لوگ سچائی کے منکر ہیں تو اس سچائی کے گواہ اللہ اور اس کے فرشتے ہوں گے۔
257: اگر یہ لوگ آپ ﷺ کی سچائی سے منکر ہیں تو ہوا کریں۔ عنقریب یہ اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے کہ اس قرآن کی دعوت تمام گردو پیش کے ممالک پر چھا گئی ہے اور یہ خود اس کے آگے سرنگوں ہوں گے اس وقت انہیں پتہ چل جائے گا کہ جو کچھ آج ان سے کہا جا رہا ہے اور یہ ماننے کے لئے تیار نہیں ہیں وہ سر اسر حق تھا بعض لوگوں نے اس مفہوم پر یہ اعتراض کیا ہے کہ محض کسی دعوت کسی دعوت کا غالب آجانا اور بڑے بڑے علاقے فتح کرلینا تو اس کے حق ہونے کی دلیل نہیں ہے باطل دعوتیں بھی چھا جاتی ہے اور ان کے پیرو بھی ملک پر ملک فتح کرتے چلے ہیں یہ ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 165–169
Then comes verse رُّسُلًا مُّبَشِّرِينَ وَمُنذِرِينَ (-- Messengers giving good tidings and warning...) which succinctly tells that Almighty Allah consistently sent messengers to convey good tidings to all believers and to warn all disbelievers so that there remains no room for the excuse that they did not know the will of God and His Messengers --had they known about it, they would have certainly followed it! Now, that Almighty Allah has sent messengers with miracles and His messengers have shown the straight path of truth, the option of not accepting the true faith cannot be accepted…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 165–169
207. It is emphasized that the essential function of all the Prophets was the same: to announce good tidings of salvation and felicity to those who believe in the teachings revealed by God and mend their conduct accordingly, and to warn those who persist in false beliefs and evil ways that they will have to face dire consequences.
208. God's purpose in sending the Prophets was to establish His plea against mankind. God did not want criminals to have any basis on which to plead that their actions were done in ignorance. Prophets were therefore sent to all parts of the world, and many…
Read the full tafseer →