Explained with ayahs 166–170
ہمارے ایمان اور کفر سے اللہ تعالیٰ بےنیاز ہے
چونکہ سابقہ آیتوں میں حضور ﷺ کی نبوت کا ثبوت تھا اور آپ کی نبوت کے منکروں کی تردید تھی، اس لئے یہاں فرماتا ہے کہ گو کچھ لوگ تجھے جھٹلائیں، تیری مخالفت خلاف کریں لیکن اللہ خود تیری رسالت کا شاہد ہے۔ وہ فرماتا ہے کہ اس نے اپنی پاک کتاب قرآن مجید و فرقان حمید تجھ پر نازل فرمایا ہے جس کے پاس باطل پھٹک ہی نہیں سکتا، اس کتاب میں ان چیزوں کا علم ہے جن پر اس نے اپنے بندوں کو مطلع فرمانا چاہا یعنی دلیلیں، ہدایت اور فرقان، اللہ کی رضامندی اور ناراضگی کے احکام اور ماضی کی اور مستقبل کی خبریں ہیں اور اللہ تبارک و تعالیٰ کی وہ مقدس صفتیں ہیں جنہیں نہ تو کوئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 165–169
سورة النِّسَآء 207
یعنی ان سب کا ایک ہی کام تھا اور وہ یہ کہ جو لوگ خدا کی بھیجی ہوئی تعلیم پر ایمان لائیں اور اپنے رویہ کو اس کے مطابق درست کرلیں انہیں فلاح وسعادت کی خوشخبری سنا دیں، اور جو فکر و عمل کی غلط راہوں پر چلتے رہیں ان کو اس غلط روی کے برے انجام سے آگاہ کردیں۔
سورة النِّسَآء 208
یعنی ان تمام پیغمبروں کے بھیجنے کی ایک ہی غرض تھی اور وہ یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ نوع انسانی پر اتمام حجت کرنا چاہتا تھا، تاکہ آخری عدالت کے موقع پر کوئی گمراہ مجرم اس کے سامنے یہ عذر پیش نہ کرسکے کہ ہم ناواقف تھے اور آپ نے ہمیں حقیقت حال سے آگاہ کرنے کا کوئی انتظام نہیں کیا تھا۔ اسی غرض کے لیے خدا نے دنیا کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 165–169
رسلاً مبشرین ومنذرین، اللہ تعالیٰ نے پیغمبروں کو برابر بھیجا کہ مؤ منوں کو خوش خبری سنائیں اور کافروں کو ڈرائیں تاکہ لوگوں کو قیامت کے دن اس عذر کی جگہ نہ رہے کہ ہم کو تیری مرضی اور غیر کی مرضی معلوم نہ تھی، معلوم ہوتی تو ضرور اس پر چلتے، سو جب اللہ تعالیٰ نے پیغمبروں کو معجزے دے کر بھیجا اور پیغمبروں نے رائے حق بتلائی، تو اب دین حق کے قبول نہ کرنے میں کسی کا کوئی عذر نہیں سنا جاسکتا، وحی الہی ایسی قطعی حجت ہے کہ اس کے روبرو کوئی حجت نہیں چل سکتی، بلکہ سب حجتیں قطع ہوجاتی ہیں اور یہ اللہ کی حکمت اور تدبر ہے۔
حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ یہودیوں کی ایک جماعت آپ کے پاس آگئی، آپ نے ان سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 166–169
166۔ 169:۔ لٰكِنِ اللّٰهُ يَشْهَدُ بِمَآ اَنْزَلَ اِلَيْكَ اَنْزَلَهٗ بِعِلْمِهٖ ۚ وَالْمَلٰۗىِٕكَةُ يَشْهَدُوْنَ ۭوَكَفٰي بِاللّٰهِ شَهِيْدًا۔ اِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَصَدُّوْا عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ قَدْ ضَلُّوْا ضَلٰلًۢا بَعِيْدًا۔ اِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَظَلَمُوْا لَمْ يَكُنِ اللّٰهُ لِيَغْفِرَ لَهُمْ وَلَا لِيَهْدِيَهُمْ طَرِيْقًا۔ اِلَّا طَرِيْقَ جَهَنَّمَ خٰلِدِيْنَ فِيْهَآ اَبَدًا ۭوَكَانَ ذٰلِكَ عَلَي اللّٰهِ يَسِيْرًا۔
استدراک کا پہلو : حرف " لکن " استدراک کے لیے آتا ہے۔ یہ استدراک اس بات پر ہے جو اوپر والے ٹکڑے سے نکلتی ہے۔ اوپر انبیا کے سلسلے اور ان کی طرف وحی بھیجے جانے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 165–167
165۔ 1 ایمان والوں کو جنت اور اس کی نعمتوں کی خوشخبری دینا اور کافروں کو اللہ کے عذاب اور بھڑکتی ہوئی جہنم سے ڈرانا۔
165۔ 2 یعنی نبوت کا یہ سلسلہ ہم نے اس لئے قائم فرمایا کہ کسی کے پاس یہ عذر باقی نہ رہے کہ ہمیں تو تیرا پیغام پہنچا ہی نہیں۔ جس طرح دوسرے مقام پر فرمایا۔ اگر ہم ان کو پیغمبر (کے بھیجنے سے) پہلے ہی ہلاک کردیتے تو وہ کہتے اے ہمارے پروردگار تو نے ہماری طرف کوئی رسول کیوں نہیں بھیجا کہ ہم ذلیل و رسوا ہونے سے پیشتر تیری آیات کی پیروی کرلیتے
Read the full tafseer →Explained with ayahs 160–170
94: اس کی تفصیل انشاء اللہ سورة انعام (146:6) میں آئے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 167–169
(آیت) ” نمبر 167 تا 169۔
یہ اوصاف اور یہ فیصلے ‘ باوجود اس کے کہ یہ عام ہیں ان کا اطلاق سب سے پہلے یہودیوں پر ہوتا ہے اور دین اسلام اور اس کے پیروکار ان کے ساتھ یہ موقف ان کا رہا ہے ۔ بلکہ یہودیوں نے ہر سچے دین کے ساتھ یہی رویہ اختیار کیا ۔ یہ یہودی وہ ہوں جو آغاز اسلام کے وقت مدینہ میں موجود تھے یا وہ ہوں جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے وقت موجود تھے یا ان کے بعد آج تک وہ کبھی موجود رہے ہوں یا وہ جو آج ہمارے دور میں موجود ہیں ‘ ان میں سے شاذونادر ہی ایسے لوگ گزرے ہیں جنہوں نے اپنے دل اسلام کیلئے کھول دیئین تھے اور ہدایت سے سرفراز ہوئے ۔
یہ یہودی ہوں یا وہ لوگ ہوں ‘ جن پر بھی صفت کفر اور دین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 167–169
4 قرآن مجید اور حضرت محمد ﷺ کی تصدیق اور توثیق کے بعد فرماتے ہیں کہ اب جو لوگ آپ سے منکر ہوئے اور تورات میں جو آپ ﷺ کے اوصاف اور حالات موجود تھے ان کو چھپالیا اور لوگوں پر کچھ کا کچھ ظاہر کر کے ان کو بھی دین حق سے باز رکھا۔ سو ایسوں کو نہ مغفرت نصیب ہوئی نہ ہدایت جس سے خوب واضح ہوگیا کہ ہدایت آپ کی متابعت میں منحصر ہے اور گمراہی آپ کی مخالفت کا نام ہے جس سے یہود کو پوری سرزنش ہوگئی اور ان کے خیالات کی تغلیط واضح ہوگئی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 167–168
آیت 167 اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَصَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ قَدْ ضَلُّوْا ضَلٰلاً م بَعِیْدًا ۔
اب آخری رسول ﷺ کے آنے کے بعد بھی جو لوگ کفر پر اڑے رہے ‘ اللہ کے راستے سے رکے رہے اور دوسروں کو بھی روکتے رہے ‘ وہ راہ حق سے بہک گئے ‘ بھٹک گئے ‘ اور اپنے بھٹکنے میں ‘ بہکنے میں ‘ گمراہی میں بہت دور نکل گئے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 167–169
222 یعنی جس نے اللہ کی آیات کا انکار کیا اس نے اللہ کے علم کا بھی انکار کردیا اور اس کی گواہی کا بھی۔ پھر صرف خود ہی انکار نہ کیا بلکہ اس کی راہ میں روڑے بھی اٹکاتا رہا اور جو لوگ ایمان والے تھے ان کے دلوں میں شکوک و شبہات پیدا کر کے ان کو راہ راست سے روکتا رہا یقینا وہ بہت بڑی گمراہی میں پڑگیا ایسے لوگوں کے جرائم ناقابل معافی ہیں اور گمراہی اور جہنم کے علاوہ انہیں کوئی اور راہ سوجھتی ہی نہیں۔
خ یہود کا تحریف شدہ تورات پر اور اپنے اہل علم ہونے کا ناز :۔ یہود کی علمی ساکھ چونکہ اہل عرب کے ہاں مسلم تھی (اور وہ غیر یہود کو امی یا ان پڑھ یا جاہل کہا کرتے تھے۔ ) اس لیے ان کی ہر جائز اور ناجائز بات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 167–168
422 ۔ اس ظلم سے مراد دونوں قسم کے ظلم ہوسکتے ہیں، ایک ظلم تو خود اپنے نفس اور جان پر، کفر و انکار کر کرکے۔ دوسرا ظلم یہ ہے کہ دوسروں کو اسلام و ایمان کے راستہ سے ظلم یا مکر سے روکا جائے،
Read the full tafseer →Explained with ayahs 163–169
آیت نمبر 163 تا 171
ترجمہ : اے (محمد) ہم نے تمہاری طرف اسی طرح وحی بھیجی ہے جس طرح نوح علیہ الصلوٰة والسلام اور اس کے بعد کے نبیوں کی طرف بھیجی تھی اور جس طرح ہم نے ابراہیم علیہ الصلوٰة والسلام کی طرف بھیجی ان کے دونوں بیٹوں اسماعیل علیہ الصلوٰة والسلام اور اسحٰق علیہ الصلوٰة والسلام کی طرف (بھی) وحی بھیجی اور یعقوب علیہ الصلوٰة والسلام بن اسحاق اور اولاد یعقوب علیہ الصلوٰة والسلام اور عیسیٰ علیہ الصلوٰة والسلام اور ایوب علیہ الصلوٰة والسلام اور یونس علیہ الصلوٰة والسلام اور سلیمان علیہ الصلوٰة والسلام کی طرف وحی بھیجی اور سلیمان علیہ الصلوٰة والسلام کے دالد داؤد علیہ الصلوٰة والسلام کو زبور…
Read the full tafseer →ان الذین کفروا وصدوا عن سبیل اللہ بلاشبہ جن لوگوں نے خود کفر کیا اور دوسروں کو اللہ کی راہ سے روکا یعنی جن یہودیوں نے خود کافر رہنے کے بعد رسول اللہ ﷺ کے ان اوصاف کو چھپایا جن کا ذکر توریت میں آیا ہے اور دوسروں کو رسول اللہ ﷺ پر ایمان لالنے اور آپ ﷺ : کا اتباع کرنے سے روکا۔
قد ضلوا ضللا بعیدا وہ (حق کے راستہ سے) دُور بھٹک گئے کیونکہ خود بھی گمراہ ہوئے اور دوسروں کو بھی گمراہ کیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 167–169
(167۔ 168۔ 169) جو لوگ اس کے بعد بھی رسول اکرم ﷺ اور قرآن حکیم کا انکار کرتے ہیں اور لوگوں کو دین الہی اور اطاعت خداوندی سے روکتے ہیں تو وہ ہدایت سے بہت دور ہیں اور جو لوگ کفر اور شرک میں مبتلا ہیں تو جب تک وہ اپنی ان باتوں پر قائم رہیں گے تو اللہ نہ ان کی مغفرت فرمائے گا اور نہ ہدایت کے راستہ کی جانب ان کی رہنمائی فرمائے گا وہ ہمیشہ جہنم میں رہیں گے نہ تو وہاں ان کو موت آئے گی اور نہ وہ اس جہنم سے نکالے جائیں گے اور یہ عذاب دینا اللہ تعالیٰ پر بہت آسان ہے۔
Read the full tafseer →اِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَصَدُّوْا عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ۔۔ : ان لوگوں سے مراد یہودی ہیں جو نبی ﷺ پر خود بھی ایمان نہ لاتے اور لوگوں کو بھی یہ کہہ کر روکا کرتے تھے کہ اس شخص کی کوئی صفت ہماری کتاب میں مذکور نہیں، یا یہ کہ نبوت کا دائرہ تو ہارون اور داؤد ؑ کی اولاد تک محدود ہے، یا یہ کہ موسیٰ ؑ کی لائی ہوئی شریعت منسوخ نہیں ہوسکتی، ان کی اسی قسم کی کوششوں کو قرآن نے دور کی گمراہی قرار دیا ہے۔
Read the full tafseer →آیت نمبر : 167۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” ان الذین کفروا “۔ یعنی یہود، (آیت) ” وصدوا عن سبیل اللہ “ یعنی جنہوں نے حضرت محمد ﷺ کی اتباع سے لوگوں کو اپنے اس قول سے روکا کہ ہم اپنی کتاب میں حضرت محمد ﷺ کی صفت کو نہیں پاتے، نبوت، حضرت داؤد (علیہ السلام) اور حضرت ہارون (علیہ السلام) کی اولاد میں ہے اور تورات میں ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی شریعت منسوخ نہ ہوگی۔ (آیت) ” قد ضلوا ضللا بعید “۔ کیونکہ انہوں نے کفر کیا اس کے ساتھ لوگوں کو انہوں نے اسلام سے منع کیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 166–170
(1) ابن اسحاق وابن جریر وابن المنذر اور بیہقی نے دلائل میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ایک جماعت یہودیوں میں سے رسول اللہ ﷺ کے پاس آئی آپ نے ان سے فرمایا اللہ کی قسم ! میں نہیں جانتا ہوں اور بلاشبہ تم بھی جانتے ہو کہ میں اللہ کا رسول ہوں انہوں نے کہا ہم اس کو نہیں جانتے اس پر اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا لفظ آیت ” لکن اللہ یشھد “ پوری آیت۔
(2) ابن جریر وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے ” لکن اللہ یشھد “ پوری آیت کے بارے میں روایت کیا کہ اللہ کی قسم گواہوں پر کوئی تہمت نہیں۔
Read the full tafseer →[ اِنَّ : بیشک ] [ الَّذِیْنَ : جن لوگوں نے ] [ کَفَرُوْا : کفر کیا ] [ وَصَدُّوْا : اور رکے رہے ] [ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ : اللہ کے راستے سے ] [ قَدْ ضَلُّوْا : اور گمراہ ہوئے ہیں ] [ ضَلٰلاً م بَعِیْدًا : دور کا گمراہ ہونا ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 167–168
کافروں اور راہ حق سے روکنے والوں کے لیے صرف دوزخ کا راستہ ہے
ان آیتوں میں ان لوگوں کے لیے وعید شدید ہے جنہوں نے خود بھی کفر اختیار کیا اور دوسروں کو بھی اللہ کی راہ سے روکا۔ یہ لوگ نہ خود اسلام قبول کرتے ہیں اور نہ دوسروں کو قبول کرنے دیتے ہیں اس کی وجہ سے بڑی دور کی گمراہی میں جا پڑے، چونکہ جو شخص خود بھی گمراہ ہو اور دوسروں کو بھی گمراہ کرنے پر کمر باندھ لے اس سے واپس آنے کی امید نہیں رہی۔ کفر اختیار کرنے والوں کو ظالم بھی بتایا کہ انہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا۔ اور دوسرے انسانوں پر بھی ظلم کیا کیونکہ انہیں حق قبول کرنے سے روکا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ان کی مغفرت نہیں ہوگی اور جب قیامت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 163–169
جواب از شبہ اہل کتاب۔
قال تعالی، انا اوحینا الیک۔۔۔۔ الی۔۔۔۔ یسیرا۔
ربط) گزشتہ رکوع میں اہل کتاب کی شناعتوں اور قباحتوں کو بیان کیا تاکہ معلوم ہاجائے کہ اہل کتاب کا وہ سوال جو یسالک اھل الکتاب میں منقول ہوا وہ سراسر جہل اور عناد پر مبنی ہے جس کا اجمالی اور الزامی جواب تو فقد سالوا موسیٰ اکبر من ذالک کے ذریعہ دے دیا گیا اب اصل سوال کا تحقیقی اور تفصیلی جواب ارشاد فرماتے ہیں جس کا حاصل یہ ہے کہ اہل کتاب کا یہ کہنا اگر آپ سچے نبی ہیں تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی طرح آپ پر بھی دفعۃ کوئی کتاب آسمان سے نازل کی جائے یہود کا یہ سوال سراسر جاہلانہ اور معاندانہ ہے اس لیے کہ اثبات نبوت کے لیے یہ سوال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 166–170
110 یہ اگر قرآن کو نہیں مانتے اور اس پر اعتراضات کرتے ہیں تو اس سے اس کی صداقت میں کوئی فرق نہیں آسکتا اس بات کی گواہی تو خود اللہ تعالیٰ دیتا ہے کہ اس کو اسی نے ہی نازل کیا ہے کیونکہ ایسی جامع بلند مضامین والی اور معجز کتاب غیر اللہ کی طرف سے نہیں ہوسکتی اس طرح قرآن خود ہی مشہود بہ اور خود ہی مشہود علیہ ہے پھر اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَصَدُّوْا سے تخویف اخروی ہے یعنی اے یہود اب بھی وقت ہے کفر و انکار اور ضد وعناد سے باز آجاؤ اور ایمان لے آؤ ورنہ یاد رکھو اللہ کے قبضہ سے نہیں بچ سکتے ہو کیونکہ ساری کائنات اس کے تصرف وا قتدار کے تحت ہے وہ تمہیں اس کی سخت سزا دے گا۔ یَا ایُّھَاالنَّاسُ قَدْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 166–170
ربط آیات
گزشتہ دروس میں گزر چکا ہے کہ ” یسئلک اھل الکتب “…الخ یعنی یہودی آپ پر سوال کرتے ہیں کہ آپ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مکمل کتاب کیوں نہیں لاتے ، جیسا کہ موسیٰ (علیہ السلام) لائے۔ اس اعتراض کے اللہ تعالیٰ نے دو طریقوں سے جواب دیتے ہیں۔ پہلا جواب الزامی تھا اور حضور ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا تھا ، کہ یہ لوگ ضدی اور عنادی ہیں ، ان کا مقصود ہر حالت میں یہ ہے کہ پیغمبر آخر الزماں اور قرآن پاک پر ایمان نہ لایا جائے یہ ان کی قومی عاد ت ہے انہوں نے تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے بھی سوال کیا تھا کہ ہم ایمان نہیں لائیں گے جب تک اللہ تعالیٰ کو خود اپنی آنکھوں سے نہ دیکھ لیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان…
Read the full tafseer →اِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَصَدُّوْا عَنْ سَبِيْلِ اللہِ قَدْ ضَلُّوْا ضَلٰلًۢا بَعِيْدًا 167
كفر
الكُفْرُ في اللّغة : ستر الشیء، ووصف اللیل بِالْكَافِرِ لستره الأشخاص، والزّرّاع لستره البذر في الأرض،
وأعظم الكُفْرِ
: جحود الوحدانيّة أو الشریعة أو النّبوّة، والکُفْرَانُ في جحود النّعمة أكثر استعمالا، والکُفْرُ في الدّين أكثر، والکُفُورُ فيهما جمیعا قال : فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99]
( کر ) الکفر
اصل میں کفر کے معنی کیس چیز کو چھپانے کے ہیں ۔ اور رات کو کافر کہا جاتا ہے کیونکہ وہ تمام چیزوں کو چھپا لیتی ہے ۔ اسی طرح کا شتکار چونکہ زمین کے اندر بیچ کو چھپاتا ہے ۔ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 166–170
ترکیب : اللّٰہ مبتدا یشہد خبر بما اس سے متعلق والملئکتہ یشہدون جملہ کا عطف اول جملہ پر ہے کفی باللّٰہ فعل با فاعل ب زائد بعلمہ حال ہے فاعل یشہد سے اے متلبسا بعلمہ الا طریق استثناء متصل ہے خلدین حال مقدرہ ہے خیر الکم مفعول ہے فعل محذوف کا اے اقصد و اخیراً
تفسیر : جبکہ یہ فرمایا تھا انا او حینا الیک تو اس پر بھی منکرین شبہ کرتے تھے۔ اس کے جواب میں فرماتا ہے کہ اگر یہ یہود تمہاری نبوت کی شہادت نہیں دیتے تو نہ دیں یہ چند نفسانیت کے بھرے ہوئے جاہل پشتینی سرکش کیا چیز ہیں ؟ خود خدا اس چیز کی کہ جو تم پر نازل کی گئی ہے اور اس کے فرشتے گواہی دے رہے ہیں اور اسی کی گواہی بس ہے انزلہ بعلمہ جبکہ خدا نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 166–169
لٰکِنِ اللّٰہُ یَشْہَدُ بِمَآ اَنْزَلَ اِلَیْکَ اَنْزَلَہٗ بِعِلْمِہٖ ج وَالْمَلٰٓئِکَۃُ یَشْہَدُوْنَ ط وَکَفٰی بِاللّٰہِ شَہِیْدًا ط اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَصَدَّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ قَدْ ضَلُّوْا ضَلٰلاً م بَعِیْدًا اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَ ظَلَمُوْا لَمْ یَکُنِ اللّٰہُ لِیَغْفِرَ لَہُمْ وَلَا لِیَہْدِیَہُمْ طَرِیْقًا لا اِلَّاطَرِیْقَ جَہَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْہَآ اَبَدًا ط وَکَانَ ذٰلِکَ عَلَی اللّٰہِ یَسِیْرًا
” لیکن اللہ گواہی دیتا ہے اس چیز کی جو اس نے تم پر اتاری ہے کہ اس نے اس کو اپنے علم سے نازل کیا ہے۔ اور فرشتے بھی گواہی دیتے ہیں۔ اور گواہی کو تو اللہ ہی کافی ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 167–168
فہم القرآن
ربط کلام : انبیاء ( علیہ السلام) کے مشن کی مخالفت کرنے والوں کی سزا۔
کفر کا معنٰی ہے حقیقت پر پردہ ڈالنا، شرعی اصطلاح میں اللہ اور اس کے رسول اور قیامت کا انکار کرنے والا کافر ہوتا ہے۔ جو لوگ کفر کا ارتکاب کرتے ہیں وہی لوگ اللہ کے راستے میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی راہ سے مراد صراط مستقیم اور دین کا راستہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کی آیات کا انکار اور اس کی راہ میں رکاوٹ بننے کی درج ذیل صورتوں میں سے کوئی ایک صورت ہوسکتی ہے۔
1۔ خود کفر اختیار کرنا، اپنے کردار اور طریقۂ کار سے لوگوں کو دین سے روکنا۔
2۔ اسلام کا اقرار کرنے کے باوجود جان بوجھ کر کفار جیسا عقیدہ اور کردار رکھنا جس سے لوگوں…
Read the full tafseer →آیت 167 : اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا (بیشک وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا) محمد ﷺ کی تکذیب کر کے۔ اور مراد اس سے یہود ہیں۔ وَصَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ (اور اللہ تعالیٰ کی راہ سے دوسروں کو روکا) اور لوگوں کو حق کے راستہ سے منع کیا اس قسم کی باتیں کر کے : انا لا نجد فی کتابنا۔ ہم اپنی کتاب میں ان کا تذکرہ نہیں پاتے۔
قَدْضَلُّوْا ضَلٰـلًام بَعِیْدًا (یہ گمراہ ہوئے بہت دور کا گمراہ ہونا) بعید سے مراد رشد و ہدایت سے دور ہونا۔
Read the full tafseer →(تفسیر) 167۔: (آیت)” ان الذین کفروا وصدوا عن سبیل اللہ “۔ آپ ﷺ کے اوصاف کو چھپا کر (آیت)” قد ضلوا ضلالا بعیدا “۔ خود بھی گمراہ ہوئے اور دوسروں کو بھی گمراہ کیا ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 166–170
(166 ۔ 170) ۔ تفسیر ابن جریر، تفسیر خازن وغیرہ میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کی روایت سے ان آیتوں کی شان نزول جو بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ کچھ یہود لوگ آنحضرت ﷺ کے پاس آئے ان سے آپ نے فرمایا کہ یہ تو تمہارا جانتا ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں اور قرآن کلام الٰہی ہے پھر تم اس کی صدیق عام لوگوں کے روبرو کیوں نہیں کرتے۔ یہود نے یہ بات سن کر آپ کے رسول ہونے اور قرآن کے اللہ کے کلام ہونے کی گواہی دینے سے انکار کیا اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں 3 اور فرمایا اے رسول اللہ کے اگرچہ ان لوگوں نے تمہارے خلاف گواہی دے کر عام لوگوں کو بہکایا ہے لیکن اللہ اس بات کا گواہ ہے کہ تم اللہ کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 167–169
آیت 167
اللہ تبارک و تعالیٰ نے انبیاء و رسل صلوات اللہ وسلامہ علیہم کی رسالت اور خاتم الانبیاء محمد مصطفیٰ ﷺ کی رسالت کے بارے میں خبر دی ہے۔ اس رسالت پر خود بھی گواہی دی اور اس کے فرشتوں نے بھی گواہی دی اور اس سے مشہور بہ اور امر متحقق کا ثابت ہونا لازم آتا ہے۔ پس اس طرح انبیاء کی تصدیق، ان پر ایمان لانا اور ان کی اتباع کرنا واجب ہے، پھر جن لوگوں نے انبیائے کرام کا انکار کیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کو وعید سناتے ہوئے فرمایا : (آیت) ” جن لوگوں نے کفر کیا اور (لوگوں کو) اللہ کے راستے سے روکا۔ “ یعنی انہوں نے خود اپنے کفر کرنے کو اور لوگوں کو اللہ کے راستے سے روکنے کو جمع کردیا۔ یہ لوگ ائمہ کفر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 162–170
قول باری ہے لکن الراسخون فی العلم منھم۔ مگر ان میں سے جو لوگ پختہ علم رکھنے والے ہیں) قتادہ سے مروی ہے کہ لفظ ” شکن “ یہاں استثناء کے معنی دے رہا ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ لفظ الا اور لفظ لکن کبھی نفی کے بعد ایجاب یا ایجاب کے نفی میں ایک جیسے ہوتے ہیں ۔ الا کا اطلاق کر کے اس سے لکن مراد لیا جاتا ا ہے جس طرح یہ قول باری ہے وماکان لمومن ان یقتل مومنا الاخطا۔ اس کے معنی ہیں لیکن اگر وہ اسے خطاء قتل کر دے تو ایک غلام آزاد کرنا ہوگا۔ اس جگہ الا کو لکن کی جگہ لایا گیا تاہم لکن حرف الا سے اس چیز میں جدا ہے کہ الا کے ذریعے کل میں سے بعض کو خارج کردیا جاتا ہے اور لکن ایک کے بعد بھی ہوسکتا ہے مثلا آپ یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 167–168
436 ضلال واضلال کے مرتکب دور کی گمراہی میں ہیں : کہ انہوں نے ضلال اور اضلال یعنی گمراہ ہونے اور گمراہ کرنے کے ڈبل جرم کا ارتکاب کیا ہے اور وہ نور حق و ہدایت سے خود بھی محروم ہوئے اور دوسروں کو بھی محروم کیا۔ اور پھر اپنے کئے پر نہ وہ نادم ہوئے اور نہ انکو توبہ اور رجوع الی الحق کی توفیق وسعادت نصیب ہوئی۔ سو ایسے لوگ شیطان کی راہ پر چل کر ایسے سیاہ باطن اور راہ حق و ہدایت سے اتنے دور ہوگئے کہ راہ ِحق کی طرف رجوع کی توفیق ہی ان سے سلب ہوگئی اور قدرت کا دستور اور قانون یہی ہے کہ جو گمراہ اپنے آپ کو گمراہ سمجھنے کی بجائے حق پر سمجھے وہ گمراہی کی دلدل سے کبھی نہیں نکل سکتا۔ (المراغی وغیرہ) ۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 165–169
اللہ کی گواہی اور کفار کے لیے جہنم
تشریح : ان آیات میں بڑے واضح طریقہ سے بتا دیا گیا ہے کہ مختلف وقتوں میں مختلف قوموں کے لیے ہدایت کی راہ دکھانے کے لیے اللہ کی طرف سے ہمیشہ پیغمبر بھیجے جاتے رہے ہیں، تاکہ حساب کتاب کے دن جو کہ آکر رہے گا کوئی شخص یہ نہ کہے کہ اللہ مجھے تو کسی نے نیکی و بدی کا فرق ہی نہیں بتایا اللہ رب العزت بڑا دانا اور حکمت والا ہے۔ اسی لیے اس نے بندوں کو برے کاموں کے انجام، یعنی جہنم سے ڈرانے کے لیے اور اچھے کاموں کے بدلہ میں جنت کی خوشخبری دینے والے رسول بھیجے اس بات پر صرف اللہ کی گواہی ہی کافی ہے مگر اللہ نے اس بات پر فرشتوں کو بھی گواہ بنا رکھا ہے۔ اب کچھ لوگوں کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 163–171
رکوع نمبر 23 ۔ آیات 163 تا 171 ۔
اسرار و معارف :
آپ ﷺ سے پہلے نبوت و رسالت کا سلسلہ چلا آ رہا ہے اور ہمیشہ انبیاء و رسل پر اللہ کی طرف سے وحی بھیجی جاتی ہے جیسے نوح (علیہم السلام) پر وحی کی گئی اور ان کے بعد آنے والے نبیوں اور رسولوں پر جیسے ابراہیم ، اسمعیل ، اسحاق اور یعقوب (علیہم السلام) یا ان حضرات کی اولاد میں سے انبیاء مبعوث ہوتے رہے۔ اور عیسیٰ و ایوب ، یونس و ہارون و سلیمان (علیہما السلام) اور ان میں حضرت داود (علیہم السلام) کو تو ہم نے کتاب بھی دی تھی جس کا نام زبور تھا۔ آپ ﷺ کا نبوت کا دعوے کرنا نئی بات نہیں ہے اور نہ وحی الہی کا آپ پر نازل ہونا عجیب بات ہے۔ بلکہ ایسے رسول بھی ہیں جن…
Read the full tafseer →ف 3 ان لوگوں سے مراد یہودی ہیں جو نبی ﷺ پر خود بھی ایمان نہ لاتے تھے او لوگوں کو بھی یہ کہہ کر روکا کرتے تھے کہ اس شخص کی کوئی صفت ہماری کتاب میں مذکور نہیں یا یہ کہ نبوت کا دائرہ تو حضرت ہارون ( علیہ السلام) اور داود ( علیہ السلام) کی اولاد تک محدودد ہے یا یہ کہ حضرت موسیٰ ٰ ( علیہ السلام) کا لائی ہوئی شریعت منسوخ نہیں ہوسکتی انکی اس قسم کی کوششوں ہی کو قرآن نے دور کی گمراہ فرمایا ہے .
Read the full tafseer →Explained with ayahs 167–168
(4:167) صدوا۔ صد سے انہوں نے روکا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 163–169
آیت نمبر 163-169
لغات القرآن : اوحینا، ہم نے وحی کی۔ قصصنا، ہم نے قصے بیان کئے۔ کلم اللہ، اللہ نے کلام کیا۔ لئلا یکون، تاکہ نہ ہو۔ حجۃ، دلیل، طریق، راستہ۔
تشریح : آیت 153 میں جو ذکر ہے کہ یہودیوں نے رسول اللہ ﷺ سے مطالبہ کیا تھا کہ آسمان سے نازل کی ہوئی ایک مکمل لکھی ہوئی کتاب ہمیں دکھاؤ تو ہم ایمان لے آئیں گے ان آیات میں اس کا جواب یوں دیا گیا ہے کہ جن نبیوں کو تم مانتے ہو، جن پر ایمان لانے کا دعویٰ تم کرتے ہو۔ کیا ان میں سے اکثر و بیشتر کو لکھی ہوئی مکمل کتاب نہیں دی گئی تھی ؟ ۔ ہاں زبور حضرت داؤد کو ملی تھی اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے خود اللہ نے براہ راست کلام کیا تھا اور توریت کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 165–170
رسول کے منکروں کا ذکر شان نزول : ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ کچھ یہود لوگ آنحضرت ﷺ کے پاس آئے تھے ۔ ان سے آپ نے فرمایا کہ یہ تو تمہارا دل جانتا ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں اور قرآن شریف کلام الہی ہے ، پھر تم اس کی تصدیق عام لوگوں کے روبرو کیوں نہیں کرتے ۔ یہ سن کر یہود نے آپ کے رسول ہونے اور قرآن کے کلام الہی ہونے کی گواہی دینے سے انکار کردیا ۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ " اے للہ کے رسول ! اگرچہ ان لوگوں نے تمہارے خلاف گواہی دے کر عام لوگوں کو بہکایا ہے ، لیکن اللہ اس بات کا گواہ ہے کہ تم اللہ کے رسول ہو اور قرآن اللہ کا کلام ہے اور اس قرآن میں اللہ تعالیٰ نے اپنا خاص علم اتارا ہے ، جس کے سبب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 165–170
[104] یعنی پیغمبروں کے آجانے کے بعد اب کسی کو قیامت میں یہ عذر پیش کرنے کا موقع نہ رہا کہ ہمیں راہ حق کی طرف کسی نے دعوت نہ دی تھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 166–169
خدا اور فرشتوں کی گواہی :
(ف 1) ان دو آیتوں میں قرآن حکیم کی عظمت واہمیت کی طرف توجہ دلائی ہے ، کہا ہے کہ خدا نے قرآن کے الہامی ہونے پر اعلی شہادتیں مرتب کی ہیں اور فرشتے بھی اس سچائی اور صداقت پر گواہ ہیں ، یعنی خدا نے جان بوجھ کر علی وجہ البصیرت قرآن حکیم کو نازل کای ہے اور تم اس میں بیشمار علمی خوارق دیکھ سکتے ، فرشتے بھی شاہد ہیں اور بیشمار علمی خوارق دیکھ سکتے ، فرشتے بھی شاہد ہیں اور یہی وجہ ہے ، فرشتوں نے ہمیشہ قرآن کی تائید کی ہے اور عین جنگ میں ان لوگوں کی حمایت کی ہے جو حامل قرآن ہیں پس وہ لوگ کہ جو اس صداقت مشہود کا انکار کرتے ہیں کھلی گمراہی میں مبتلا ہیں ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 166–168
ف 2 اے پیغمبر ! یہ لوگ آپ کی نبوت کا اعتراف کریں یا نہ کریں لیکن اللہ تعالیٰ اس کتاب کے ذریعہ جس کو آپ کے پاس بھیجا ہے اور بھیجا بھی اپنے علم خاص اور اپنے کمال علمی کے ساتھ ہے آپ کی نبوت رسالت پر شہادت دے رہا ہے اور فرشتے بھی آپ کی نبوت پر گواہی دے رہے ہیں اور آپ کی تصدیق کر رہے ہیں اور گواہی کے لئے تو اللہ تعالیٰ ہی کی ذات کافی ہے۔ (تیسیر)
حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یعنی وحی ہر پیغمبر کو اتٓی رہی کچھ نیا کام نہیں پر اس کلام میں اللہ تعالیٰ نے اپنا خاص علم اتارا اور اللہ اس حق کو ظاہر کر دے گا چناچہ ظاہر ہوا کہ جس قدر ہدایت اس نبی سے ہوئی اور کسی سے نہ ہوئی۔ (موضح القرآن)
حضرت عبداللہ بن عباس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 165–168
ف 2۔ اللہ تعالیٰ پورے زور اور اختیار والے ہیں کہ بلا ارسال رسل بھی سزادیتے تو بوجہ اس کے کہ مالک حقیقی ہونے میں منفرد ہیں ظلم نہ ہوتا اور حقیقت میں عز کا حق کسی کو نہ تھا لیکن چونکہ بڑی حکمت والے بھی ہیں اس لیے حکمت اسی ارسال کو مقتضی ہوئی تاکہ ظاہری عذر بھی نہ رہے۔
Read the full tafseer →دین حق کے انکاری لوگ اللہ کی راہ میں رکاوٹ کا باعث ہونے کی ناکام کوشش کرتے ہیں
258: فرمایا منکرین کو کان کھول کر سن لینا چاہئے کہ وہ جو تدبیریں بھی اللہ اور اس کے رسول کے دین کے راستہ روکنے کے لئے کر رہے ہیں وہ سب کی سب ناکام و نامراد ہوجائیں گی اور جن کو موں کو انہوں نے اپنے نزدیک نیک سمجھ رکھا ہے اللہ ان سب کو ضائع کردے گا اور آخرت میں ان کا کوئی اجر بھی وہ نہ پا سکیں گے۔ کیوں ؟ اس لئے کہ نیکی ان کی خوشیوں کا نام نہیں ہے وہ اللہ کی متعین کردہ راہ کا نام ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں کہ نبی اعظم و آخر ﷺ کے اوصاف و کمالات جو تورات میں موجود تھے ان کا انکار کر کے انہوں نے دوسرے لوگوں کو بھی اسلام قبول…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 165–169
Then comes verse رُّسُلًا مُّبَشِّرِينَ وَمُنذِرِينَ (-- Messengers giving good tidings and warning...) which succinctly tells that Almighty Allah consistently sent messengers to convey good tidings to all believers and to warn all disbelievers so that there remains no room for the excuse that they did not know the will of God and His Messengers --had they known about it, they would have certainly followed it! Now, that Almighty Allah has sent messengers with miracles and His messengers have shown the straight path of truth, the option of not accepting the true faith cannot be accepted…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 165–169
207. It is emphasized that the essential function of all the Prophets was the same: to announce good tidings of salvation and felicity to those who believe in the teachings revealed by God and mend their conduct accordingly, and to warn those who persist in false beliefs and evil ways that they will have to face dire consequences.
208. God's purpose in sending the Prophets was to establish His plea against mankind. God did not want criminals to have any basis on which to plead that their actions were done in ignorance. Prophets were therefore sent to all parts of the world, and many…
Read the full tafseer →