Explained with ayahs 163–165
نزول انبیاء، تعداد انبیاء، صحائف اور ان کے مرکزی مضامین
حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ سکین اور عدی بن زید نے کہا " اے محمد ﷺ ہم نہیں مانتے کہ حضرت موسیٰ کے بعد اللہ نے کسی انسان پر کچھ اتارا ہو۔ " اس پر یہ آیتیں اتریں، محمد بن کعب قرظی فرماتے ہیں جب آیت (يَسْــَٔــلُكَ اَهْلُ الْكِتٰبِ اَنْ تُنَزِّلَ عَلَيْهِمْ كِتٰبًا مِّنَ السَّمَاۗءِ فَقَدْ سَاَلُوْا مُوْسٰٓى اَكْبَرَ مِنْ ذٰلِكَ فَقَالُوْٓا اَرِنَا اللّٰهَ جَهْرَةً فَاَخَذَتْهُمُ الصّٰعِقَةُ بِظُلْمِهِمْ ۚ ثُمَّ اتَّخَذُوا الْعِجْلَ مِنْۢ بَعْدِ مَا جَاۗءَتْهُمُ الْبَيِّنٰتُ فَعَفَوْنَا عَنْ ذٰلِكَ ۚ وَاٰتَيْنَا مُوْسٰى سُلْطٰنًا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 165–169
سورة النِّسَآء 207
یعنی ان سب کا ایک ہی کام تھا اور وہ یہ کہ جو لوگ خدا کی بھیجی ہوئی تعلیم پر ایمان لائیں اور اپنے رویہ کو اس کے مطابق درست کرلیں انہیں فلاح وسعادت کی خوشخبری سنا دیں، اور جو فکر و عمل کی غلط راہوں پر چلتے رہیں ان کو اس غلط روی کے برے انجام سے آگاہ کردیں۔
سورة النِّسَآء 208
یعنی ان تمام پیغمبروں کے بھیجنے کی ایک ہی غرض تھی اور وہ یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ نوع انسانی پر اتمام حجت کرنا چاہتا تھا، تاکہ آخری عدالت کے موقع پر کوئی گمراہ مجرم اس کے سامنے یہ عذر پیش نہ کرسکے کہ ہم ناواقف تھے اور آپ نے ہمیں حقیقت حال سے آگاہ کرنے کا کوئی انتظام نہیں کیا تھا۔ اسی غرض کے لیے خدا نے دنیا کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 165–169
رسلاً مبشرین ومنذرین، اللہ تعالیٰ نے پیغمبروں کو برابر بھیجا کہ مؤ منوں کو خوش خبری سنائیں اور کافروں کو ڈرائیں تاکہ لوگوں کو قیامت کے دن اس عذر کی جگہ نہ رہے کہ ہم کو تیری مرضی اور غیر کی مرضی معلوم نہ تھی، معلوم ہوتی تو ضرور اس پر چلتے، سو جب اللہ تعالیٰ نے پیغمبروں کو معجزے دے کر بھیجا اور پیغمبروں نے رائے حق بتلائی، تو اب دین حق کے قبول نہ کرنے میں کسی کا کوئی عذر نہیں سنا جاسکتا، وحی الہی ایسی قطعی حجت ہے کہ اس کے روبرو کوئی حجت نہیں چل سکتی، بلکہ سب حجتیں قطع ہوجاتی ہیں اور یہ اللہ کی حکمت اور تدبر ہے۔
حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ یہودیوں کی ایک جماعت آپ کے پاس آگئی، آپ نے ان سے…
Read the full tafseer →رُسُلًا مُّبَشِّرِيْنَ وَمُنْذِرِيْنَ لِئَلَّا يَكُوْنَ لِلنَّاسِ عَلَي اللّٰهِ حُجَّــةٌۢ بَعْدَ الرُّسُلِ ۭوَكَانَ اللّٰهُ عَزِيْزًا حَكِيْمًا۔
رُسُلًا، فعل محذوف سے منصوب بھی ہوسکتا ہے اور بدل بھی ہوسکتا ہے۔ دونوں ہی شکلوں میں معنی کے لحاظ سے کوئی خاص فرق نہیں ہوگا۔
انبیاء کا مشترک مشن : اس آیت میں رسولوں کا مشترک مشن بھی بتا دیا اور وہ ضرورت بھی جو ان کے بھیجنے کی داعی ہوئی۔ ان کا مشترک مشن لوگوں کو بشارت دینا اور خطرے سے آگاہ کرنا ہے۔ بشارت اس بات کی کہ جو لوگ ایمان و عمل صالح کی زندگی اختیار کریں گے ان کے لیے ابدی زندگی کی خوشیاں اور کامرانیاں ہیں۔ آگاہی اس بات کی کہ جو لوگ کفر اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 165–167
165۔ 1 ایمان والوں کو جنت اور اس کی نعمتوں کی خوشخبری دینا اور کافروں کو اللہ کے عذاب اور بھڑکتی ہوئی جہنم سے ڈرانا۔
165۔ 2 یعنی نبوت کا یہ سلسلہ ہم نے اس لئے قائم فرمایا کہ کسی کے پاس یہ عذر باقی نہ رہے کہ ہمیں تو تیرا پیغام پہنچا ہی نہیں۔ جس طرح دوسرے مقام پر فرمایا۔ اگر ہم ان کو پیغمبر (کے بھیجنے سے) پہلے ہی ہلاک کردیتے تو وہ کہتے اے ہمارے پروردگار تو نے ہماری طرف کوئی رسول کیوں نہیں بھیجا کہ ہم ذلیل و رسوا ہونے سے پیشتر تیری آیات کی پیروی کرلیتے
Read the full tafseer →Explained with ayahs 160–170
94: اس کی تفصیل انشاء اللہ سورة انعام (146:6) میں آئے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 163–165
(آیت) ” نمبر 163 تا 165۔
غرض یہ ایک قافلہ ہے جو شاہراہ تاریخ پر چلتا ہوا نظر آتا ہے اور اس سلسلے کی کڑیاں ایک دوسرے کے ساتھ پیوست ہیں ۔ یہ ایک ہی رسالت ہے اور اس کا ایک ہی نصب العین ہے کہ انسان کو قبل از وقت خبردار کردیا جائے اور اچھے لوگوں کو قبل از وقت ہی اچھے انجام کی خوشخبری دیدی جائے ، اس قافلے میں آگے پیچھے مختار ان درگاہ الہی اور انسانوں میں سے چیدہ لوگ آگے پیچھے چلے آرہے ہیں ۔ یہ رہے حضرت نوح (علیہ السلام) یہ رہے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) یہ آئی سواری حضرت اسماعیل کی ۔ انکے بعد یہ چلے آرہے ہیں حضرت اسحاق (علیہ السلام) ان کے بعد متصلا حضرت یعقوب آرہے ہیں ۔ اب کچھ مختلف گروہ نمودار…
Read the full tafseer →2 اللہ تعالیٰ نے پیغمبروں کو برابر بھیجا کہ مومنوں کو خوشخبری سنائیں اور کافروں کو ڈرائیں تاکہ لوگوں کو قیامت کے دن اس عذر کی جگہ نہ رہے کہ ہم کو تیری مرضی اور غیر مرضی معلوم نہ تھی معلوم ہوتی تو ضرور اس پر چلتے۔ سو جب اللہ تعالیٰ نے پیغمبروں کو معجزے دے کر بھیجا اور پیغمبروں نے راہ حق بتلائی تو اب دین حق کے قبول نہ کرنے میں کسی کا کوئی عذر نہیں سنا جاسکتا۔ وحی الہٰی ایسی قطعی حجت ہے کہ اس کے رو برو کوئی حجت نہیں چل سکتی بلکہ سب حجتیں قطع ہوجاتی ہیں اور یہ اللہ کی حکمت اور تدبیر ہے اور اگر زبردستی کرے تو کون روک سکتا ہے مگر اس کو پسند نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 165–166
آیت 165 رُسُلاً مُّبَشِّرِیْنَ وَمُنْذِرِیْنَ لِءَلاَّ یَکُوْنَ للنَّاسِ عَلَی اللّٰہِ حُجَّۃٌم بَعْدَ الرُّسُلِ ط
یہاں پر ایک طرف للِنَّاسِ کا ’ ل ‘ نوٹ کیجئے اور دوسری طرف عَلَی اللّٰہِ کا عَلٰی۔ یہ دونوں حروف متضاد معانی پیدا کر رہے ہیں۔ لِلنَّاسِ کے معنی ہیں لوگوں کے حق میں حجت ‘ جبکہ عَلَی اللّٰہِ کے معنی ہیں اللہ کے خلاف حجت۔
وَکَان اللّٰہُ عَزِیْزًا حَکِیْمًا۔
اب آپ آخرت کے احتساب کے فلسفے کو سمجھئے۔ قیامت کے دن ہر کسی کا امتحان ہوگا اور امتحان سے پھر نتائج نکلیں گے ‘ کوئی پاس ہوگا اور کوئی فیل۔ لیکن امتحان سے پہلے کچھ پڑھایا جانا بھی ضروری ہے ‘ کسی کو جانچنے سے پہلے اسے کچھ دیا بھی…
Read the full tafseer →219 کائنات میں انسان کی حیثیت اور اللہ کی طرف سے اتمام حجت :۔ اللہ تعالیٰ نے فطرتاً انسان کو اتنی عقل عطا کی ہے کہ وہ اللہ اور اس کی صفات کی معرفت حاصل کرسکے انسان اتنا تو جانتا ہی ہے کہ کوئی چیز اس کے خالق کے بغیر وجود میں نہیں آسکتی۔ وہ یہ بھی جانتا ہے کہ اگر کوئی چیز مدتہائے دراز سے ایک مربوط نظام کے تحت حرکت کر رہی ہے تو لازماً وہ اس نتیجہ پر پہنچے گا کہ اس چیز کی نگہداشت کرنے والی بھی کوئی ہستی ضروری موجود ہے کیونکہ کوئی چیز خواہ کتنی ہی مضبوط ہو، کچھ مدت کے بعد بگڑنا شروع ہوجاتی ہے۔ اور اگر اس بگاڑ کو بر وقت درست نہ کردیا جائے تو با لآخر تباہ ہوجاتی ہے۔ لہذا اگر یہ کائنات محض اتفاقات کا…
Read the full tafseer →417 ۔ یعنی پیغمبروں کے آجانے کے بعد اب کسی کو قیامت میں یہ عذر پیش کرنے کا موقع باقی نہیں رہا، کہ ہماری عقل مسائل وحقائق کے سمجھنے سے قاصر رہی، متکلمین نے یہیں سے یہ اخذ کیا ہے کہ بندوں پر حجت الہی ارسال رسل کے بعد ہی قائم ہوئی ہے نہ کہ مجرد عقل کی بنا پر۔ یدل علی ان قبل البعثۃ یکون للناس حجۃ فی ترک الطاعات والعبادات کبیر) احتج اصحابنا بھذہ الایۃ علی وجوب معرفۃ اللہ تعالیٰ لایثبت الا بالسمع (کبیر) فی ھذا کلہ دلیل واضح انہ لایجب شیء من ناحیۃ العقل (قرطبی) فیہ تنبیہ علی ان بعثۃ الانبیاء الی الناس ضرورۃ بقصور الکل عن ادراک جزئیات المصالح والا کثر عن ادراک کل یا تھا (بیضاوی)
418 ۔ صفت عزیز لاکر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 163–169
آیت نمبر 163 تا 171
ترجمہ : اے (محمد) ہم نے تمہاری طرف اسی طرح وحی بھیجی ہے جس طرح نوح علیہ الصلوٰة والسلام اور اس کے بعد کے نبیوں کی طرف بھیجی تھی اور جس طرح ہم نے ابراہیم علیہ الصلوٰة والسلام کی طرف بھیجی ان کے دونوں بیٹوں اسماعیل علیہ الصلوٰة والسلام اور اسحٰق علیہ الصلوٰة والسلام کی طرف (بھی) وحی بھیجی اور یعقوب علیہ الصلوٰة والسلام بن اسحاق اور اولاد یعقوب علیہ الصلوٰة والسلام اور عیسیٰ علیہ الصلوٰة والسلام اور ایوب علیہ الصلوٰة والسلام اور یونس علیہ الصلوٰة والسلام اور سلیمان علیہ الصلوٰة والسلام کی طرف وحی بھیجی اور سلیمان علیہ الصلوٰة والسلام کے دالد داؤد علیہ الصلوٰة والسلام کو زبور…
Read the full tafseer →رسلا مبشرین ومنذرین اللہ نے بھیجے پیغمبر خوشخبری دینے والے اور ڈرانے والے۔
لئلا یکون للناس علی اللہ حجۃ بعد الرسل تاکہ پیغمبروں کے بھیجنے کے بعد اللہ کے خلاف لوگوں کو کوئی عذر باقی نہ رہے یعنی قیامت کے دن لوگ یہ نہ کہہ سکیں کہ اے ہمارے رب تو نے ہمارے پاس کوئی پیغمبر کیوں نہیں بھیجا کہ ہم اس کے کہنے پر چلتے۔ حضرت مغیرہ ؓ کی روایت ہے کہ سعد بن عبادہ ؓ نے کہا اگر میں کسی کو اپنی بیوی کے پاس دیکھ لوں تو تلوار کی دھار سے اس کو ضرور قتل کر دوں۔ اس قول کی اطلاع رسول اللہ ﷺ : کو پہنچی تو فرمایا کیا تم کو سعد کی غیرت سے تعجب ہوتا ہے۔ خدا کی قسم میں اس سے زیادہ غیرت مند ہوں اور اللہ مجھ سے زیادہ غیرت…
Read the full tafseer →(165) رسولوں کو لوگوں کی طرف اس لیے بھیجا ہے تاکہ وہ قیامت کے دن یہ عذر پیش نہ کریں کہ رسولوں کو ہمارے پاس کیوں نہیں بھیجا جو انبیاء کرام کی تبلیغ پر لبیک نہ کہے، حالانکہ اللہ نے لوگوں کو انبیاء کی دعوت کو قبول کرنے کا حکم دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس انکار رسل پر نافرمانوں سے انتقام لینے میں بہت زبردست اور حکیم ہیں۔
Read the full tafseer →رُسُلًا مُّبَشِّرِيْنَ وَمُنْذِرِيْنَ۔۔ : یعنی انبیاء کی بعثت کا مقصد تو صرف یہ ہے کہ جو لوگ ایمان لے آئیں اور اپنی اصلاح کرلیں انھیں جنت کی خوش خبری دیں اور جو کفر اور نادانی پر جمے رہیں انھیں ان کے غلط رویے کے انجام بد سے ڈرائیں، تاکہ اس طرح ان پر اتمام حجت ہوجائے اور وہ اللہ کے ہاں کوئی عذر پیش نہ کرسکیں کہ ہمارے پاس تو تیری طرف سے کوئی خوش خبری دینے والا یا ڈرانے والا آیا ہی نہیں اور یہ مقصد کتاب و شریعت کے نازل کرنے سے حاصل ہوجاتا ہے (اللہ تعالیٰ کی طرف سے حجت بس یہ دونوں چیزیں ہیں، اللہ تعالیٰ نے کسی امام یا مجتہد کو دین میں حجت نہیں بنایا) عام اس سے کہ وہ کتاب یک بارگی دے دی جائے یا…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 165۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” رسلا مبشرین ومنذرین رسلا قد قصصنھم سے بدل کی بنا پر منصوب ہے اور فعل کے اضمار پر منصوب ہونا جائز ہے اور حال کی بنا پر نصب بھی جائز ہے یعنی (آیت) ” کما اوحینا الی نوح والنبین من بعدہ رسلا “۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” لئلا یکون للناس علی اللہ حجۃ بعد الرسل “۔ تاکہ وہ یہ نہ کہیں کہ تو نے ہماری طرف کوئی رسول نہیں بھیجا اور نہ تو نے ہم پر کوئی کتاب نازل کی اور قرآن حکیم میں ہے (آیت) ” وماکنا معذبین حتی نبعث رسولا۔ (بنی اسرائیل) اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” ولو انا اھلکنھم بعذاب من قبلہ لقالوا ربنا لولا ارسلت الینا رسولا فنتبع ایتک (طہ :…
Read the full tafseer →(1) احمد و بخاری و ترمذی و نسائی وابن المنذر وابن مردویہ نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ سے بڑھ کو کوئی زیادہ غیرت مند نہیں ہے اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ظاہری اور چھپی ہوئی برائیوں کو حرام فرمایا اور اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر کوئی ایسا نہیں ہے جس کو تعریف محبوب ہو اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کی خود ہی تعریف فرمائی اور اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر کسی کے ہاں عذر محبوب نہیں اس وجہ سے نبیوں کو خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھجا۔
(2) احمد و بخاری ومسلم والحکیم الترمذی نے مغیرہ بن شعبہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کوئی شخص اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر ایسا…
Read the full tafseer →[ رُسُلاً : (وہ تھے) کچھ رسول ] [ مُّبَشِّرِیْنَ : خوشخبری دینے والے ] [ وَمُنْذِرِیْنَ : اور خبردار کرنے والے ] [ لِئَلاَّ یَکُوْنَ : تاکہ (باقی) نہ رہے ] [ لِلنَّاسِ : لوگوں کے لیے ] [ عَلَی اللّٰہِ : اللہ پر ] [ حُجَّۃٌم : کوئی حجت ] [ بَعْدَ الرُّسُلِ : رسولوں کے بعد ] [ وَکَانَ اللّٰہُ : اور اللہ ہے ] [ عَزِیْزًا : بالادست ] [ حَکِیْمًا : حکمت والا ]
Read the full tafseer →پھر فرمایا (رُسُلًا مُّبَشِّرِیْنَ وَ مُنْذِرِیْنَ لِءَلَّا یَکُوْنَ للنَّاسِ عَلَی اللّٰہِ حُجَّۃٌ بَعْدَ الرُّسُلِ ) (ہم نے رسول بھیجے خوشخبری دینے والے ڈرانے والے تاکہ رسولوں کے بعد لوگوں کے لیے اللہ پر حجت باقی نہ رہے) مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے رسولوں کو بھیجا ان کے واسطہ سے اپنے بندوں کو توحید کا اور عبادت کا حکم دیا۔ رسولوں نے اہل ایمان کو اور اعمال صالحہ اختیار کرنے والوں کو اجر وثواب اور آخرت کی نعمتوں کی بشارت دی۔ اور منکرین کو دوزخ کے عذاب سے ڈرایا اور بتایا کہ ایمان قبول نہ کرو گے تو دوزخ میں جاؤ گے۔ اس سے بندوں پر حجت قائم ہوگی کہ وہ یوں نہ کہیں (لَوْ لَآ اَرْسَلْتَ اِلَیْنَا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 163–169
جواب از شبہ اہل کتاب۔
قال تعالی، انا اوحینا الیک۔۔۔۔ الی۔۔۔۔ یسیرا۔
ربط) گزشتہ رکوع میں اہل کتاب کی شناعتوں اور قباحتوں کو بیان کیا تاکہ معلوم ہاجائے کہ اہل کتاب کا وہ سوال جو یسالک اھل الکتاب میں منقول ہوا وہ سراسر جہل اور عناد پر مبنی ہے جس کا اجمالی اور الزامی جواب تو فقد سالوا موسیٰ اکبر من ذالک کے ذریعہ دے دیا گیا اب اصل سوال کا تحقیقی اور تفصیلی جواب ارشاد فرماتے ہیں جس کا حاصل یہ ہے کہ اہل کتاب کا یہ کہنا اگر آپ سچے نبی ہیں تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی طرح آپ پر بھی دفعۃ کوئی کتاب آسمان سے نازل کی جائے یہود کا یہ سوال سراسر جاہلانہ اور معاندانہ ہے اس لیے کہ اثبات نبوت کے لیے یہ سوال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 163–165
ٖ 109 یہ یَسْئَلُکَ اَھْلُ الْکِتٰبِ یہود کو زجروں اور تخویفوں کے بعد اب یہاں اس سوال کا جواب دیا گیا ہے جو اس سے پہلے رکوع میں گذر چکا ہے یعنی آہستہ آہستہ وحی بھیجنا کوئی آپ کے ساتھ ہی خاص نہیں بلکہ آپ سے پہلے جتنے بھی پیغمبر گذرے ہیں حضرت نوح (علیہ السلام) تک سب کی طرف اسی طرح آہستہ آہستہ وحی بھیجی جاتی تھی۔ ھذا متصل بقولہ یَسْئَلُکَ اَھْلُ الْکِتٰبِ اَنْ تُنَزّلَ عَلَیْھِمْ کِتَاباً مِّنَ السَّمَاءِ ؟ علم تعالیٰ الیہ امر محمد ﷺ کامر من تقدمہ من الانبیاء (قرطبی ج 6 ص 15) فاللہ تعالیٰ اجاب عن ھذہ الشبھۃ بان ھؤلاء الانبیاء الاثنی عشر کلھم کانوا انبیاء و رسلا مع ان اواحدا منھم ما اتی بکتاب مثل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 163–165
ربط آیات
اہلِ کتاب سے مراد مدینے کے اطراف میں رہنے والے یہودی ہیں اللہ تعالیٰ نے ان کے اعتراض کا ذکر فرمایا ” یسلک اہل الکتب ان تنزل علیہم کتباً من السمائ “ انہوں نے نبی کریم ﷺ سے سوال کیا تھا کہ اگر آپ نبوت کے دعویدار ہیں ، تو پھر قرآن پاک تھوڑا تھوڑا کرکے کیوں نازل ہوتا ہے آپ پوری کتاب ایک دفعہ کیوں نہیں آسمان سے لے آتے جیسا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو پوری تورات تختیوں پر لکھی سکھائی یکبارگی مل گئی تھی ، یہودیوں میں یعض ایسے بدبخت بھی تھے جو کہتے تھے ما انزل اللہ علی بشرمن شیئٍ “ یعنی اللہ تعالیٰ نے انسان پر کوئی چیز نازل نہیں کی۔ اور آپ کا دعویٰ باطل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو اس سوال کے…
Read the full tafseer →رُسُلًا مُّبَشِّرِيْنَ وَمُنْذِرِيْنَ لِئَلَّا يَكُوْنَ لِلنَّاسِ عَلَي اللہِ حُجَّــۃٌۢ بَعْدَ الرُّسُلِ 0ۭ وَكَانَ اللہُ عَزِيْزًا حَكِــيْمًا 165
بشر
واستبشر :
إذا وجد ما يبشّره من الفرح، قال تعالی: وَيَسْتَبْشِرُونَ بِالَّذِينَ لَمْ يَلْحَقُوا بِهِمْ مِنْ خَلْفِهِمْ [ آل عمران/ 170] ، يَسْتَبْشِرُونَ بِنِعْمَةٍ مِنَ اللَّهِ وَفَضْلٍ [ آل عمران/ 171] ، وقال تعالی: وَجاءَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ يَسْتَبْشِرُونَ [ الحجر/ 67] . ويقال للخبر السارّ : البِشارة والبُشْرَى، قال تعالی: هُمُ الْبُشْرى فِي الْحَياةِ الدُّنْيا وَفِي الْآخِرَةِ [يونس/ 64] ، وقال تعالی: لا بُشْرى يَوْمَئِذٍ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 163–165
ترکیب : کما اوحینا لغت ہے مصدر محذوف کی مامصدریہ اور ممکن ہے کہ مابمعنی الذی ہو کر مفعول بہ ہو تقدیرہ او حینا الیک مثل الذین او حینا الی نوح۔ من بعدہ متعلق او حینا کے اور ممکن ہے کہ النبین سے متعلق ہو۔ رسلا منصوب فعل محذوف سے جس پر قصصنا دال ہے رسلا بدل ہے اول رسلا سے حجۃ اسم یکون للناس خبر علی اللّٰہ حال ہے حجۃ سے ممکن ہے کہ خبر علی اللہ ہو بعد الرسل ظرف ہو حجۃ کا اور ممکن ہے کہ اس کی صفت ہو۔
تفسیر : اہل کتاب خصوصاً یہود جو آنحضرت ﷺ کی نبوت سے انکار کرتے تھے اصل منشاء تو اس کا یہ تھا کہ غیر قوم کے شخص کو تسلیم کرنے سے ناانصاف لوگوں کی طبائع گریز کیا کرتے ہیں اور اپنے مذہب کا ترک کرنا خواہ…
Read the full tafseer →رُسُلًا مُّبَشِّرِیْنَ وَ مُنْذِرِیْنَ لِئَلَّا یَکُوْنَ لِلنَّاسِ عَلَی اللّٰہِ حُجَّۃٌ م بَعْدَ الرُّسُلِ ط وَکَانَ اللّٰہُ عَزِیْزًا حَکِیْمًا
” اللہ نے بھیجا ہے رسولوں کو خوشخبری دینے والے اور ہوشیار کرنے والے بنا کر ‘ تاکہ نہ رہے لوگوں کے لیے اللہ کے مقابلہ میں کوئی حجت۔ اللہ غالب اور حکیم ہے۔ “ (النسآء : 165)
رسولوں کے بھیجنے کا مقصد
اس آیت کریمہ میں دو باتیں واضح فرمائی گئی ہیں۔ ایک تو یہ بات کہ رسولوں کے بھیجنے کا مقصد کیا تھا ؟ اور دوسری یہ بات کہ ان کو بھیجنے کی ضرورت کیا تھی ؟ رسولوں کے بھیجنے کا مقصد اور رسولوں کا مشن یہ تھا کہ وہ انسانوں کو یہ بتانے کے لیے بھیجے جاتے تھے کہ تمہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 165–166
فہم القرآن
ربط کلام : نبی اکرم ﷺ کسی انوکھی نبوت کے ساتھ نہیں آئے ان سے پہلے بیشمار انبیاء آئے لہٰذا بڑے بڑے انبیاء کا نام بنام ذکر کرنے کے بعد ان کی بعثت کا مقصد بیان کیا گیا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوقات بنا کر زمین میں اپنا خلیفہ نامزد فرمایا اور اسے عقل و فکر کی دولت سے مالا مال کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کو کم ازکم اتنی عقل و فکر ضرور عطا فرمائی ہے کہ وہ اچھے و برے اور نفع و نقصان میں تمیز کرسکے۔ اس کے ساتھ ہی اپنی پہچان کے لیے دنیا میں بیشمار شواہد و قرائن پیدا فرمائے پھر جزوی تشریحات کو چھوڑ کر دین کے بنیادی ارکان کو ہمیشہ سے ایک رکھا۔ تاکہ جس دین کے بغیر گزارہ نہیں…
Read the full tafseer →بعثت کا مقصد :
آیت 165 : رُسُلاً مُّبَشِّرِیْنَ وَ مُنْذِرِیْنَ لِئَلَّا یَکُوْنَ لِلنَّاسِ عَلَی اللّٰہِ حُجَّۃٌم بَعْدَ الرُّسُلِ (اور اللہ تعالیٰ نے پیغمبر بھیجے خوشخبری سنانے والے اور ڈرانے والے تاکہ پیغمبروں کے بھیجنے کے بعد اللہ تعالیٰ کے متعلق لوگوں کو کوئی عذر باقی نہ رہے)
نمبر 1۔ رسلا ًیہ فعل مدح کی وجہ سے منصوب ہے۔ ای اعنی رسلاً ۔
نمبر 2۔ اور پہلے رُسُلًاسے بدل بھی ہوسکتا ہے۔ نمبر 3۔ مفعول ہو فعل محذوف ارسلنا کا اور لئلا کی لام مبشرین اور منذرین کے متعلق ہے۔
مطلب یہ ہوا کہ انبیاء ورسل ( علیہ السلام) کا بھیجنا یہ اس سبب کی وضاحت اور لوگوں پر حجت کو تمام کرنے کے لئے ہے۔ تاکہ قیامت کو…
Read the full tafseer →165۔ (آیت)” رسلا مبشرین ومنذرین لئلا یکون للناس علی اللہ حجۃ بعد الرسل “۔ کہ وہ یہ کہیں گے کہ ہماری طرف کوئی رسول نہیں بھیجا اور نہ ہی کوئی کتاب بھیجی ۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے کسی پر اس وقت تک عذاب نہیں بھیجتے جب تک ان میں کسی رسول کو نہ بھیج دیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان (آیت)” وما کنا معذبین حتی نبعث رسولا “۔۔۔۔۔۔ ” وکان اللہ عزیزا حکیما “۔
حضرت سعد بن عبادۃ ؓ نے فرمایا کہ اگر میں کسی کو اپنی بیوی کے پاس دیکھ لوں تو تلوار کی دھار سے اس کو ضرور قتل کر دوں ، اس قول کی اطلاع حضور اقدس ﷺ کو پہنچی تو فرمایا کہ کیا تم کو سعد کی غیرت سے تعجب ہے ۔ خدا کی قسم میں اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 163–165
(163 ۔ 165) ۔ تفسیر ابن جریر وغیرہ میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ وغیرہ کی روایتوں میں ان آیتوں کی شان نزول یہ بیان کی گئ ہے کہ جب یہود نے انجیل اور قرآن کے کلام الٰہی ہونے کا انکار کیا اور کہا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنا کوئی کلام کسی بشر پر نازل نہیں فرمایا اور ان میں سے بعضوں نے یہ بھی کہا ہے کہ قرآن اگر کلام الٰہی ہوتا تو تورات کی طرح ایک ہی دفعہ نازل ہوتا تھوڑ تھوڑا کر کے نازل نہ ہوتا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں 1۔ اور فرمایا کہ نوح (علیہ السلام) اور ان کے بعد کے انبیاء جن کی نبوت کو یہ لوگ مانتے ہیں۔ ان سب پر ہم نے اپنا کلام اسی طرح نازل فرمایا ہے جس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 163–165
آیت 163
اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے اپنے بندے اور رسول محمد مصطفیٰ ﷺ پر اسی طرح عظیم شریعت اور سچی خبریں وحی کی ہیں جس طرح اس نے ان انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام پر وحی کی تھیں۔ اس میں متعدد فوائد ہیں :
(1) نبی اکرم ﷺ کوئی نئے اور انوکھے رسول نہیں ہیں بلکہ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ سے پہلے بھی بیشمار رسول بھیجے ہیں اس لئے آپ ﷺ کی رسالت کو انوکھا اور نادر سمجھنا جہالت اور عناد کے سوا کچھ نہیں۔
(2) اللہ تعالیٰ نے محمد مصطفیٰ ﷺ کی طرف اصول اور عدل کے ضابطے وحی کئے ہیں جس طرح انبیائے سابقین کی طرف وحی فرمائے تھے جن پر عمل کر کے وہ تقویٰ اختیار کرتے تھے۔ وہ ایک دوسرے کی تصدی اور ایک دوسرے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 162–170
قول باری ہے لکن الراسخون فی العلم منھم۔ مگر ان میں سے جو لوگ پختہ علم رکھنے والے ہیں) قتادہ سے مروی ہے کہ لفظ ” شکن “ یہاں استثناء کے معنی دے رہا ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ لفظ الا اور لفظ لکن کبھی نفی کے بعد ایجاب یا ایجاب کے نفی میں ایک جیسے ہوتے ہیں ۔ الا کا اطلاق کر کے اس سے لکن مراد لیا جاتا ا ہے جس طرح یہ قول باری ہے وماکان لمومن ان یقتل مومنا الاخطا۔ اس کے معنی ہیں لیکن اگر وہ اسے خطاء قتل کر دے تو ایک غلام آزاد کرنا ہوگا۔ اس جگہ الا کو لکن کی جگہ لایا گیا تاہم لکن حرف الا سے اس چیز میں جدا ہے کہ الا کے ذریعے کل میں سے بعض کو خارج کردیا جاتا ہے اور لکن ایک کے بعد بھی ہوسکتا ہے مثلا آپ یہ…
Read the full tafseer →431 پیغمبروں کا کام انذار وتبشیر : یعنی ان کا کام اور منصب ماننے والوں کے لئے دارین کی سعادت و سرخروئی اور جنت کی سدا بہار نعمتوں کی خوشخبری سنانا اور نہ ماننے والوں کو ان کے برے انجام سے خبردار کرنا تھا اور بس۔ اس سے بڑھ کر پیغام حق کو منوا لینا نہ تو ان حضرات کے بس میں تھا اور نہ ہی نہ ماننے والوں کو سزا دینا ان کے اختیار میں تھا اور نہ ہی اس ضمن میں ان لوگوں کے فرمائشی معجزوں کو پورا کرنا ان کے ذمے تھا۔ سو جن خوش نصیبوں نے پیغمبروں کے اس انذاز وتبشیر پر کان دھرے اور ان کی دعوت کو قبول کیا وہ راہ حق و صواب سے سرفراز ہو کر دارین کی سعادتوں سے بہر ور ہوگئے اور جن بدبختوں نے اس سے اعراض و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 165–169
اللہ کی گواہی اور کفار کے لیے جہنم
تشریح : ان آیات میں بڑے واضح طریقہ سے بتا دیا گیا ہے کہ مختلف وقتوں میں مختلف قوموں کے لیے ہدایت کی راہ دکھانے کے لیے اللہ کی طرف سے ہمیشہ پیغمبر بھیجے جاتے رہے ہیں، تاکہ حساب کتاب کے دن جو کہ آکر رہے گا کوئی شخص یہ نہ کہے کہ اللہ مجھے تو کسی نے نیکی و بدی کا فرق ہی نہیں بتایا اللہ رب العزت بڑا دانا اور حکمت والا ہے۔ اسی لیے اس نے بندوں کو برے کاموں کے انجام، یعنی جہنم سے ڈرانے کے لیے اور اچھے کاموں کے بدلہ میں جنت کی خوشخبری دینے والے رسول بھیجے اس بات پر صرف اللہ کی گواہی ہی کافی ہے مگر اللہ نے اس بات پر فرشتوں کو بھی گواہ بنا رکھا ہے۔ اب کچھ لوگوں کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 163–171
رکوع نمبر 23 ۔ آیات 163 تا 171 ۔
اسرار و معارف :
آپ ﷺ سے پہلے نبوت و رسالت کا سلسلہ چلا آ رہا ہے اور ہمیشہ انبیاء و رسل پر اللہ کی طرف سے وحی بھیجی جاتی ہے جیسے نوح (علیہم السلام) پر وحی کی گئی اور ان کے بعد آنے والے نبیوں اور رسولوں پر جیسے ابراہیم ، اسمعیل ، اسحاق اور یعقوب (علیہم السلام) یا ان حضرات کی اولاد میں سے انبیاء مبعوث ہوتے رہے۔ اور عیسیٰ و ایوب ، یونس و ہارون و سلیمان (علیہما السلام) اور ان میں حضرت داود (علیہم السلام) کو تو ہم نے کتاب بھی دی تھی جس کا نام زبور تھا۔ آپ ﷺ کا نبوت کا دعوے کرنا نئی بات نہیں ہے اور نہ وحی الہی کا آپ پر نازل ہونا عجیب بات ہے۔ بلکہ ایسے رسول بھی ہیں جن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 164–165
ف 9 یعنی انبیا ( علیہ السلام) کی بعثت کا مقصد تو صرف یہ ہے کہ جو لوگ ایمان لیے آئیں اور اس کے مطابق اپنے آپ کو درست کرلیں انہیں جنت کی خوش خبری دیں اور جو کفر و نافرمانی پر جمے رہیں انہیں اس طرح ان پر اتمام حجت ہوجائے اور وہ اللہ کے ہاں کوئی عذار پیش نہ کرسکیں کہ ہمارے پاس تو تیری طر سے کوئی خوشخبری دینے یا تنبیہ کرنے ولا نہیں آیا اور یہ مقصد کتاب و شریعت کے نازل کرنے سے حاصل ہوجاتا ہے عام اس سے کہ وہ کتاب یک بارگی دی جائے یا تدریجا نازل ہو، بعثت کے اس مقصد اصلی پر اس سے کوئی اثر نہیں پڑتا بلکہ وہ کتاب کے حسب ضرورت تدریجا نازل کرنے سے تو یہ مقصد علی وجہ الا تم حاصل ہوتا ہے پھر ان کا یہ کہنا…
Read the full tafseer →(4:165) حجۃ۔ عذر۔ حجت۔ جمع حجج۔ منذرین۔ اسم فاعل جمع مذکر منصوب ڈرانے والے۔
بعد الرسل۔ یعنی نبیوں اور رسولوں کے بھیجنے کے بعد ان کی بعثت اور کتب سماویہ کے ان پر نازل کرنے کے بعد۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 163–169
آیت نمبر 163-169
لغات القرآن : اوحینا، ہم نے وحی کی۔ قصصنا، ہم نے قصے بیان کئے۔ کلم اللہ، اللہ نے کلام کیا۔ لئلا یکون، تاکہ نہ ہو۔ حجۃ، دلیل، طریق، راستہ۔
تشریح : آیت 153 میں جو ذکر ہے کہ یہودیوں نے رسول اللہ ﷺ سے مطالبہ کیا تھا کہ آسمان سے نازل کی ہوئی ایک مکمل لکھی ہوئی کتاب ہمیں دکھاؤ تو ہم ایمان لے آئیں گے ان آیات میں اس کا جواب یوں دیا گیا ہے کہ جن نبیوں کو تم مانتے ہو، جن پر ایمان لانے کا دعویٰ تم کرتے ہو۔ کیا ان میں سے اکثر و بیشتر کو لکھی ہوئی مکمل کتاب نہیں دی گئی تھی ؟ ۔ ہاں زبور حضرت داؤد کو ملی تھی اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے خود اللہ نے براہ راست کلام کیا تھا اور توریت کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 165–170
رسول کے منکروں کا ذکر شان نزول : ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ کچھ یہود لوگ آنحضرت ﷺ کے پاس آئے تھے ۔ ان سے آپ نے فرمایا کہ یہ تو تمہارا دل جانتا ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں اور قرآن شریف کلام الہی ہے ، پھر تم اس کی تصدیق عام لوگوں کے روبرو کیوں نہیں کرتے ۔ یہ سن کر یہود نے آپ کے رسول ہونے اور قرآن کے کلام الہی ہونے کی گواہی دینے سے انکار کردیا ۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ " اے للہ کے رسول ! اگرچہ ان لوگوں نے تمہارے خلاف گواہی دے کر عام لوگوں کو بہکایا ہے ، لیکن اللہ اس بات کا گواہ ہے کہ تم اللہ کے رسول ہو اور قرآن اللہ کا کلام ہے اور اس قرآن میں اللہ تعالیٰ نے اپنا خاص علم اتارا ہے ، جس کے سبب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 165–170
[104] یعنی پیغمبروں کے آجانے کے بعد اب کسی کو قیامت میں یہ عذر پیش کرنے کا موقع نہ رہا کہ ہمیں راہ حق کی طرف کسی نے دعوت نہ دی تھی۔
Read the full tafseer →(ف 3) اس آیت میں بتایا ہے کہ تمام نبی بشارت وڈرانے کا انداز لے کر آئے ہیں ، تاکہ ہر زمانہ میں لوگ براہ راست ان سے استفادہ کرسکیں اور یہ نہ کہہ سکیں کہ ہمارے پاس خدا کا کوئی پیغام ہدایت موجود نہیں ۔
حل لغات :
اوحینا : وحی کے معنی اشارہ خفیہ کے ہیں ۔ اصطلاح قرآن میں چپکے سے کوئی بات دل میں ڈال دینا مراد ہے ۔
زبور : مطلقا کتاب کو کہتے ہیں ۔
حجۃ : دلیل ۔ عذر ۔ الزام ۔
Read the full tafseer →ف 1 ان سب کو خوش خبری دینے والے اور ڈرانے والے پیغمبر اس لئے بنا کر بھیجا یعنی ایمان لانے والوں کو نجات کی بشارت دیتے ہیں اور منکروں کو عذاب سے ڈراتے ہیں تاکہ ان رسولوں کی تشریف آوری کے بعد لوگوں کی طرف سے اللہ تعالیٰ پر کوئی الزام قائم کرنے کا موقعہ باقی نہ رہے اور لوگوں کے پاس اللہ تعالیٰ کی حضور میں کوئی عذر پیش کرنے کا موقعہ نہ رہے اور اللہ تعالیٰ کمال قوت اور کمال حکمت کا مالک ہے۔ (تیسیر)
انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام چونکہ مومنین کو نجات کی بشارت دیتے ہیں اور منکرین حق کو عذاب سے ڈراتے ہیں اس لئے ان کو مبشر اور منذر فرمایا۔ بہرحال ! انبیاء (علیہم السلام) کی بعثت کا یہ سبب ہے کہ اگر انبیاء…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 165–168
ف 2۔ اللہ تعالیٰ پورے زور اور اختیار والے ہیں کہ بلا ارسال رسل بھی سزادیتے تو بوجہ اس کے کہ مالک حقیقی ہونے میں منفرد ہیں ظلم نہ ہوتا اور حقیقت میں عز کا حق کسی کو نہ تھا لیکن چونکہ بڑی حکمت والے بھی ہیں اس لیے حکمت اسی ارسال کو مقتضی ہوئی تاکہ ظاہری عذر بھی نہ رہے۔
Read the full tafseer →انبیاء کرام کا ہر امت میں آنا اس لئے ضروری تھا کہ لوگوں کا کوئی عذر باقی نہ رہے
256: جیسا کہ پیچھے آپ پڑھ چکے کہ دنیا کی ہر قوم میں اللہ تعالیٰ نے کوئی نہ کوئی نبی و رسول بھیجا ‘ کیوں ؟ فرمایا اس لئے کہ کسی کو یہ عذر باقی نہ رہے کہ ہمارے پاس کوئی ڈرانے والا نہیں آیا اس لئے ضرروی تھا کہ ان کے پاس کوئی نہ کوئی ڈرانے والا ضرور آتا رہے۔ ان گنت قومیں اور ان گنت نبی و رسول اور یہ سلسلہ ابوالبشر آدم (علیہ السلام) سے چلا جو اس وقت پوری انسانیت کے لئے ہادی و راہنما بنائے گئے تھے اور پھر انسانوں کا سلسلسہ جوں جوں پھیلتا چلا گیا وہ مختلف علاقوں اور قوموں میں تقسیم ہوتے گئے اور ہر قوم کے لئے ایک رسول…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 165–169
Then comes verse رُّسُلًا مُّبَشِّرِينَ وَمُنذِرِينَ (-- Messengers giving good tidings and warning...) which succinctly tells that Almighty Allah consistently sent messengers to convey good tidings to all believers and to warn all disbelievers so that there remains no room for the excuse that they did not know the will of God and His Messengers --had they known about it, they would have certainly followed it! Now, that Almighty Allah has sent messengers with miracles and His messengers have shown the straight path of truth, the option of not accepting the true faith cannot be accepted…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 165–169
207. It is emphasized that the essential function of all the Prophets was the same: to announce good tidings of salvation and felicity to those who believe in the teachings revealed by God and mend their conduct accordingly, and to warn those who persist in false beliefs and evil ways that they will have to face dire consequences.
208. God's purpose in sending the Prophets was to establish His plea against mankind. God did not want criminals to have any basis on which to plead that their actions were done in ignorance. Prophets were therefore sent to all parts of the world, and many…
Read the full tafseer →