Explained with ayahs 163–165
نزول انبیاء، تعداد انبیاء، صحائف اور ان کے مرکزی مضامین
حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ سکین اور عدی بن زید نے کہا " اے محمد ﷺ ہم نہیں مانتے کہ حضرت موسیٰ کے بعد اللہ نے کسی انسان پر کچھ اتارا ہو۔ " اس پر یہ آیتیں اتریں، محمد بن کعب قرظی فرماتے ہیں جب آیت (يَسْــَٔــلُكَ اَهْلُ الْكِتٰبِ اَنْ تُنَزِّلَ عَلَيْهِمْ كِتٰبًا مِّنَ السَّمَاۗءِ فَقَدْ سَاَلُوْا مُوْسٰٓى اَكْبَرَ مِنْ ذٰلِكَ فَقَالُوْٓا اَرِنَا اللّٰهَ جَهْرَةً فَاَخَذَتْهُمُ الصّٰعِقَةُ بِظُلْمِهِمْ ۚ ثُمَّ اتَّخَذُوا الْعِجْلَ مِنْۢ بَعْدِ مَا جَاۗءَتْهُمُ الْبَيِّنٰتُ فَعَفَوْنَا عَنْ ذٰلِكَ ۚ وَاٰتَيْنَا مُوْسٰى سُلْطٰنًا…
Read the full tafseer →سورة النِّسَآء 206
دوسرے انبیاء (علیہم السلام) پر تو وحی اس طرح آتی تھی کہ ایک آواز آرہی ہے یا فرشتہ پیغام سنا رہا ہے اور وہ سن رہے ہیں۔ لیکن موسیٰ ؑ کے ساتھ یہ خاص معاملہ برتا گیا کہ اللہ تعالیٰ نے خود ان سے گفتگو کی۔ بندے اور خدا کے درمیان اس طرح باتیں ہوتی تھیں جیسے دو شخص آپس میں بات کرتے ہیں۔ مثال کے لیے اس گفتگو کا حوالہ کافی ہے جو سورة طٰہ میں نقل کی گئی ہے۔ بائیبل میں بھی حضرت موسیٰ کی اس خصوصیت کا ذکر اسی طرح کیا گیا ہے۔ چناچہ لکھا ہے کہ ”جیسے کوئی شخص اپنے دوست سے بات کرتا ہے ویسے ہی خداوند رو برو ہو کر موسیٰ سے باتیں کرتا تھا“۔ (خروج 33 11)
Read the full tafseer →ورسلاً قد قصصنھم علیک
حضرت نوح ؑ کے بعد جو انبیاء ہوئے ہیں انہیں بالا جمال ذکر کر کے ان میں سے جو اولوالعزم اور جلیل القدر انبیاء ہیں ان کا بطور خاص بھی ذکر کردیا گیا، جس سے یہ بتلانا مقصود ہے کہ یہ سب انبیاء ہیں انبیاء کے پاس مختلف طریقوں سے وحی آتی ہے، کبھی فرشتہ پیغام لے کر آتا ہے کبھی لکھی ہوئی کتاب مل جاتی ہے، کبھی اللہ تعالیٰ براہ راست اپنے رسولوں سے بات کرتے ہیں، غرض جس طریقہ سے بھی وحی آجائے اس پر عمل کرنا واجب ہوتا ہے، لہٰذا یہود کا یہ کہنا کہ توراة کی طرح لکھی ہوئی کتاب نازل ہو تب مانیں گے ورنہ نہیں خالص حماقت اور کفر ہے۔
حضرت ابوذر غفاری ؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا، اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 163–164
آگے کا مضمون۔ آیات 163۔ 175:۔ آگے، نبی ﷺ کو خطاب کر کے پہلے تسلی دی ہے کہ تم ان مخالفوں کی کوئی پروا نہ کرو جو آج تم پر نازل شدہ وحی کو نہیں مانتے بلکہ آسمان سے اتری ہوئی کھلی کتاب کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ نہ وحی دنیا میں ایسی انجانی چیز ہے جس کا تجربہ دنیا میں تمہی کو ہوا ہو اور نہ نبوت و رسالت ایسی اجنبی چیز ہے جس کا اظہار تمہی نے کیا ہو۔ وحی بھی دنیا میں تم سے پہلے آچکی ہے اور رسول بھی بیشمار آچکے ہیں، اگر ایک ایسی جانی پہچانی ہوئی چیز سے لوگ بھڑکتے ہیں اور جس کے جانچنے اور پرکھنے کے لیے اتنے معیارات اور اتنی کسوٹیاں موجود ہیں لوگ اس کو پہچاننے سے انکار کر رہے ہیں تو قصور تمہارا نہیں بلکہ خود…
Read the full tafseer →164۔ 1 جن نبیوں اور رسولوں کے اسمائے گرامی اور ان کے واقعات قرآن کریم میں بیان کیے گئے ہیں ان کی تعداد 24 یا 25 ہے (1) آدم (2) ادریس (3) نوح (4) ہود (5) صالح (6) ابراہیم (7) لوط (8) اسماعیل (9) اسحاق (10) یعقوب (11) یوسف (12) ایوب (13) شعیب (14) موسیٰ (15) ہارون (16) یونس (17) داؤد (18) سلیمان (19) الیاس (20) الیسع (21) زکریا (22) یحییٰ (23) عیسیٰ (24) ذوالکفل۔ (اکثر مفسرین کے نزدیک (25) حضرت محمد صلوٰت اللہ وسلامہ وعلیہم اجمعین۔
164۔ 2 جن انبیاء رسل کے نام اور واقعات قرآن میں بیان نہیں کئے گئے، ان کی تعداد کتنی ہے ؟ اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے۔ ایک حدیث میں جو بہت مشہور ہے ایک لاکھ 24 ہزار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 160–170
94: اس کی تفصیل انشاء اللہ سورة انعام (146:6) میں آئے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 163–165
(آیت) ” نمبر 163 تا 165۔
غرض یہ ایک قافلہ ہے جو شاہراہ تاریخ پر چلتا ہوا نظر آتا ہے اور اس سلسلے کی کڑیاں ایک دوسرے کے ساتھ پیوست ہیں ۔ یہ ایک ہی رسالت ہے اور اس کا ایک ہی نصب العین ہے کہ انسان کو قبل از وقت خبردار کردیا جائے اور اچھے لوگوں کو قبل از وقت ہی اچھے انجام کی خوشخبری دیدی جائے ، اس قافلے میں آگے پیچھے مختار ان درگاہ الہی اور انسانوں میں سے چیدہ لوگ آگے پیچھے چلے آرہے ہیں ۔ یہ رہے حضرت نوح (علیہ السلام) یہ رہے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) یہ آئی سواری حضرت اسماعیل کی ۔ انکے بعد یہ چلے آرہے ہیں حضرت اسحاق (علیہ السلام) ان کے بعد متصلا حضرت یعقوب آرہے ہیں ۔ اب کچھ مختلف گروہ نمودار…
Read the full tafseer →1 حضرت نوح (علیہ السلام) کے بعد جو انبیاء ہوئے ان سب کو بالاجمال ذکر فرما کر جو ان میں اولوالعزم ہیں اور جو مشہور اور جلیل القدر ہیں ان کو تخصیص اور تفصیل کے ساتھ ذکر فرما دیا جس سے خوب معلوم ہوگیا کہ آپ کے اوپر جو وحی نازل ہوئی اس کا حق ہونا اور اس کا ماننا ایسا ہی ضروری ہے جیسا تمام اولوالعزم اور مشاہیر انبیاء کی وحی کو اور یہ بھی معلوم ہوگیا کہ انبیاء پر جو وحی آتی ہے کبھی فرشتہ پیغام لے کر آتا ہے کبھی کتاب لکھی ہوئی مل جاتی ہے کبھی بغیر پیغام اور بدون واسطہ کے خود اللہ تعالیٰ اپنے رسول سے بات کرتا ہے مگر ان سب صورتوں میں چونکہ وہ اللہ کا ہی حکم ہے کسی دوسرے کا حکم نہیں تو بندوں پر اس کی…
Read the full tafseer →آیت 164 وَرُسُلاً قَدْ قَصَصْنٰہُمْ عَلَیْکَ مِنْ قَبْلُ وَرُسُلاً لَّمْ نَقْصُصْہُمْ عَلَیْکَ ط
پوری دنیا کی تاریخ بیان کرنا تو قرآن مجید کا مقصد نہیں ہے کہ تمام انبیاء و رسل علیہ السلام کی مکمل فہرست دے دی جاتی۔ یہ تو کتاب ہدایت ہے ‘ تاریخ کی کتاب نہیں ہے۔
وَکَلَّمَ اللّٰہُ مُوْسٰی تَکْلِیْمًا
یہ خاص حضرت موسیٰ علیہ السلام کی امتیازی شان بیان ہوئی ہے۔ لیکن یہ مکالمہ مِنْ وَرَآ ءِ حِجَابٍ تھا ‘ یعنی پردے کے پیچھے سے ‘ البتہ تھا دُوُ بدو کلام۔ اب اس کے بعد وہ آیت آرہی ہے جس میں نبوت کا اساسی مقصد بیان ہوا ہے کہ یہ تمام رسول علیہ السلام کس لیے بھیجے گئے تھے۔
Read the full tafseer →218 وحی کو رسول تک پہنچانے کے دو طریقے تو اوپر حدیث نمبر 2 میں بیان ہوچکے۔ تیسرا طریق یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ پردے کے پیچھے سے کسی رسول سے کلام کرے اور یہ فضیلت بالخصوص سیدنا موسیٰ کو عطا ہوئی۔ اس لیے سیدنا موسیٰ کا خاص طور پر ذکر کیا گیا۔ البتہ معراج کے موقعہ پر رسول اللہ ﷺ کو بھی عطا ہوئی تھی۔ اور ان تینوں صورتوں کا ذکر قرآن کریم میں سورة شوریٰ کی آیت نمبر 51 میں بھی مذکور ہے۔
سیدنا موسیٰ کی نبوت و رسالت کا آغاز ہی ایسی وحی سے ہوا جس میں اللہ تعالیٰ سیدنا موسیٰ سے ہم کلام ہوئے تھے اور یہ آواز ایک درخت کے پیچھے سے آرہی تھی (تفصیل آگے سورة ق میں آئے گی) پھر اس کے بعد بھی کوہ طور پہ ہم کلامی نصیب…
Read the full tafseer →415 ۔ (اب تک) پھر بعض پیغمبر ایسے ہیں جن کا ذکر اس آیت کے نزول کے بعد قرآن مجید میں آگیا۔ اور بہت سے ایسے ہیں جن کا ذکر قرآن مجید میں سرے سے آیا ہی نہیں۔ والاکثرون غیر مذکورین علی سبیل التفصیل (کبیر) متکلمین نے یہیں سے یہ مسئلہ نکالا ہے کہ ہر ہر نبی پر تفصیل کے ساتھ ایمان لانا ضروری نہیں۔ البتہ سب نبیوں کی اجمالا تصدیق ضروری ہے۔ والایۃ تدل علی ان معرفۃ الرسل باعیانھم لیست بشرط لصحۃ الایمان بل من شرطہ ان یومن بھم جمیعا اذلوکان معرفۃ کل واحد منھم شرط لقص علینا کل ذلک (مدارک) (آیت) ” من قبل “۔ یعنی اس آیت کے نزول سے پیشتر۔
416 ۔ (آیت) ” تکلیما “ فعل کے بعد اسی مصدر کو اور پھر تنوین کے ساتھ لانے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 163–169
آیت نمبر 163 تا 171
ترجمہ : اے (محمد) ہم نے تمہاری طرف اسی طرح وحی بھیجی ہے جس طرح نوح علیہ الصلوٰة والسلام اور اس کے بعد کے نبیوں کی طرف بھیجی تھی اور جس طرح ہم نے ابراہیم علیہ الصلوٰة والسلام کی طرف بھیجی ان کے دونوں بیٹوں اسماعیل علیہ الصلوٰة والسلام اور اسحٰق علیہ الصلوٰة والسلام کی طرف (بھی) وحی بھیجی اور یعقوب علیہ الصلوٰة والسلام بن اسحاق اور اولاد یعقوب علیہ الصلوٰة والسلام اور عیسیٰ علیہ الصلوٰة والسلام اور ایوب علیہ الصلوٰة والسلام اور یونس علیہ الصلوٰة والسلام اور سلیمان علیہ الصلوٰة والسلام کی طرف وحی بھیجی اور سلیمان علیہ الصلوٰة والسلام کے دالد داؤد علیہ الصلوٰة والسلام کو زبور…
Read the full tafseer →ورسلا قد قصصنہم علیک من قبل اور ہم نے کچھ پیغمبر بھیجے جن کا ذکر ہم نے پہلے تم سے کردیا جیسے آدم ( علیہ السلام) ‘ شیث ( علیہ السلام) ‘ ادریس ( علیہ السلام) ‘ زکریا ( علیہ السلام) ‘ یحییٰ ( علیہ السلام) ‘ ذوالکفل ( علیہ السلام) وغیرہ۔
ورسلا لم نقصصہم علیک اور کچھ پیغمبر اور بھی بھیجے جن کا ذکر تم سے ہم نے نہیں کیا۔
حضرت ابوذر ؓ نے فرمایا ہے۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ سب سے پہلے کون پیغمبر تھا۔ فرمایا آدم ( علیہ السلام) ۔ میں نے عرض کیا وہ نبی تھے۔ فرمایا ہاں نبی تھے جن سے کلام کیا گیا تھا۔
میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ رسول کتنے ہوئے فرمایا تین سو اور کچھ اوپر دس ایک بڑی جماعت۔
حضرت ابو…
Read the full tafseer →(164) اور ان انبیاء کرام (علیہم السلام) کے پاس بھی جن کا اس سورت سے پہلے ہم آپ کو نام بتا چکے ہیں اور ان تمام رسولوں کو ہم نے اس لیے بھیجا ہے تاکہ مومنوں کو جنت کی خوشخبری سنادیں اور کافروں کو دوزخ کے عذاب سے ڈرا دیں۔
Read the full tafseer →وَرُسُلًا قَدْ قَصَصْنٰهُمْ عَلَيْكَ مِنْ قَبْلُ : جن رسولوں کے اسمائے گرامی اور واقعات قرآن کریم میں بیان کیے گئے ہیں ان کی تعداد چوبیس (24) یا پچیس (25) ہے۔ آدم، ادریس، نوح، ہود، صالح، ابراہیم، لوط، اسماعیل، اسحاق، یعقوب، یوسف، ایوب، شعیب، موسیٰ ، ہارون، یونس، داؤد، سلیمان، الیاس، یسع، زکریا، یحییٰ ، عیسیٰ ، ذوالکفل (اکثر مفسرین کے نزدیک) اور محمد صلوات اللہ وسلامہ علیہم اجمعین۔
وَرُسُلًا قَدْ قَصَصْنٰهُمْ عَلَيْكَ : جن انبیاء و رسل کے نام قرآن میں ذکر نہیں ہوئے ان کی تعداد کتنی ہے، اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے۔ ایک حدیث میں ہے، جو بہت مشہور ہے کہ ایک لاکھ چوبیس ہزار اور ایک حدیث میں آٹھ…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 164۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” ورسلا قد قصصنھم علیک من قبل “۔ یعنی مکہ میں اور رسلا کی نصب فعل مضمر کی وجہ سے ہے یعنی وارسلنا رسلا، کیونکہ ” اوحینا الی نوح “ کا معنی ہے وارسلنا نوح “۔ بعض علماء نے فرمایا : فعل کی وجہ سے منصوب ہے جس پر قصصنھم “ دلالت کر رہا ہے یعنی قصصنا رسلا “۔ اس کی مثل سیبویہ نے اس شعر سے دی ہے۔
اصحبت لا احمل السلاح ولا املک راس البعیر ان نفرا :
والذئب اخشاہ ان مررت بہ وحدی واخشی الریاح والمطرا :
یعنی اخشی الذئب، اور حضرت ابی کی قرات میں ورسل “ رفع کے ساتھ ہے اس کی تقدیر یہ ہے منہم رسل “ پھر فرمایا گیا : اللہ تعالیٰ نے جب اپنی کتاب میں بعض انبیاء کے اسماء…
Read the full tafseer →(1) عبد بن حمید والحکیم الترمذی نے نوادر الاصول میں وابن حبان نے اپنی صحیح میں والحاکم وابن عساکر ابوذر ؓ نے فرمایا یا رسول اللہ انبیاء کتنے ہیں ؟ فرمایا ایک لاکھ چوبیس ہزار، پھر میں نے پوچھا یا رسول اللہ ان میں کتنے رسول تھے ؟ آپ نے فرمایا تین سو تیرہ جو ایک بڑی جماعت ہے۔ پھر آپ نے فرمایا اے ابو ذر ! چار سریانی تھے آدم، شیث، نوح اور خنوخ اور وہ ادریس (علیہ السلام) ہیں اور وہ پہلے آدمی تھے جنہوں نے قلم سے لکھا۔ اور چار عرب میں تھے۔ ھود، صالح، شعیب (علیہم السلام) اور تمہارے نبی ﷺ بنی اسرائیل میں انبیاء میں سے سب سے پہلے موسیٰ (علیہ السلام) تھے اور ان کے آخری عیسیٰ (علیہ السلام) تھے نبیوں میں…
Read the full tafseer →[ وَرُسُلاً : اور (تھے) کچھ رسول ] [ قَدْ قَصَصْنٰـہُمْ : ہم نے بیان کیا ہے جن کا ] [ عَلَیْکَ : آپ ﷺ پر ] [ ؐمِنْ قَـبْلُ : اس سے پہلے ] [ وَرُسُلاً : اور (تھے) کچھ رسول ] [ لَّمْ نَقْصُصْہُمْ : ہم نے نہیں بیان کیا جن کا ] [ عَلَیْکَ : آپ ﷺ پر ] [ وَکَلَّمَ : اور کلام کیا ] [ اللّٰہُ مُوْسٰی : اللہ نے موسیٰ (علیہ السلام) سے ] [ تَـکْلِیْمًا : جیسے کلام کرتے ہیں ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 163–164
ارسال رسل کی حکمت اور متعدد انبیاء کرام (علیہ السلام) کا تذکرہ
ان آیات میں اول تو سید المرسلین ﷺ کو خطاب کر کے یہ فرمایا کہ ہم نے آپ کی طرف وحی بھیجی جیسا کہ نوح (علیہ السلام) اور ان کے بعد دیگر انبیاء کرام (علیہ السلام) کو وحی بھیجی تھی۔ اس سے ان لوگوں کا استعجاب دور فرمایا جو آپ کی نبوت کو نئی چیز سمجھتے تھے، یعنی یہ سمجھتے تھے کہ یہ دعویٰ نبوت کر کے نئی بات فرما رہے ہیں۔ اور ان لوگوں کی بھی تردید ہوئی جو لوگ کہتے تھے کہ انسان نبی بن کر کیوں آیا۔ جو لوگ سلسلہ نبوت سے واقف تھے وہ جانتے تھے کہ پہلے جو انبیاء کرام (علیہ السلام) تشریف لائے ہیں وہ بھی انسان ہی تھے۔ لہذا تکذیب کے لیے یہ شوشہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 163–169
جواب از شبہ اہل کتاب۔
قال تعالی، انا اوحینا الیک۔۔۔۔ الی۔۔۔۔ یسیرا۔
ربط) گزشتہ رکوع میں اہل کتاب کی شناعتوں اور قباحتوں کو بیان کیا تاکہ معلوم ہاجائے کہ اہل کتاب کا وہ سوال جو یسالک اھل الکتاب میں منقول ہوا وہ سراسر جہل اور عناد پر مبنی ہے جس کا اجمالی اور الزامی جواب تو فقد سالوا موسیٰ اکبر من ذالک کے ذریعہ دے دیا گیا اب اصل سوال کا تحقیقی اور تفصیلی جواب ارشاد فرماتے ہیں جس کا حاصل یہ ہے کہ اہل کتاب کا یہ کہنا اگر آپ سچے نبی ہیں تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی طرح آپ پر بھی دفعۃ کوئی کتاب آسمان سے نازل کی جائے یہود کا یہ سوال سراسر جاہلانہ اور معاندانہ ہے اس لیے کہ اثبات نبوت کے لیے یہ سوال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 163–165
ٖ 109 یہ یَسْئَلُکَ اَھْلُ الْکِتٰبِ یہود کو زجروں اور تخویفوں کے بعد اب یہاں اس سوال کا جواب دیا گیا ہے جو اس سے پہلے رکوع میں گذر چکا ہے یعنی آہستہ آہستہ وحی بھیجنا کوئی آپ کے ساتھ ہی خاص نہیں بلکہ آپ سے پہلے جتنے بھی پیغمبر گذرے ہیں حضرت نوح (علیہ السلام) تک سب کی طرف اسی طرح آہستہ آہستہ وحی بھیجی جاتی تھی۔ ھذا متصل بقولہ یَسْئَلُکَ اَھْلُ الْکِتٰبِ اَنْ تُنَزّلَ عَلَیْھِمْ کِتَاباً مِّنَ السَّمَاءِ ؟ علم تعالیٰ الیہ امر محمد ﷺ کامر من تقدمہ من الانبیاء (قرطبی ج 6 ص 15) فاللہ تعالیٰ اجاب عن ھذہ الشبھۃ بان ھؤلاء الانبیاء الاثنی عشر کلھم کانوا انبیاء و رسلا مع ان اواحدا منھم ما اتی بکتاب مثل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 163–165
ربط آیات
اہلِ کتاب سے مراد مدینے کے اطراف میں رہنے والے یہودی ہیں اللہ تعالیٰ نے ان کے اعتراض کا ذکر فرمایا ” یسلک اہل الکتب ان تنزل علیہم کتباً من السمائ “ انہوں نے نبی کریم ﷺ سے سوال کیا تھا کہ اگر آپ نبوت کے دعویدار ہیں ، تو پھر قرآن پاک تھوڑا تھوڑا کرکے کیوں نازل ہوتا ہے آپ پوری کتاب ایک دفعہ کیوں نہیں آسمان سے لے آتے جیسا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو پوری تورات تختیوں پر لکھی سکھائی یکبارگی مل گئی تھی ، یہودیوں میں یعض ایسے بدبخت بھی تھے جو کہتے تھے ما انزل اللہ علی بشرمن شیئٍ “ یعنی اللہ تعالیٰ نے انسان پر کوئی چیز نازل نہیں کی۔ اور آپ کا دعویٰ باطل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو اس سوال کے…
Read the full tafseer →وَرُسُلًا قَدْ قَصَصْنٰہُمْ عَلَيْكَ مِنْ قَبْلُ وَرُسُلًا لَّمْ نَقْصُصْہُمْ عَلَيْكَ 0ۭ وَكَلَّمَ اللہُ مُوْسٰى تَكْلِــيْمًا 164ۚ
رسل
أصل الرِّسْلِ : الانبعاث علی التّؤدة وجمع الرّسول رُسُلٌ. ورُسُلُ اللہ تارة يراد بها الملائكة، وتارة يراد بها الأنبیاء، فمن الملائكة قوله تعالی: إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ [ التکوير/ 19] ، وقوله : إِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَنْ يَصِلُوا إِلَيْكَ [هود/ 81] ومن الأنبیاء قوله : وَما مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ [ آل عمران/ 144]
( ر س ل ) الرسل
الرسل ۔ اصل میں اس کے معنی آہستہ اور نرمی کے ساتھ چل پڑنے کے ہیں۔ اور رسول کی جمع رسل آتہ ہے اور قرآن پاک میں رسول اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 163–165
ترکیب : کما اوحینا لغت ہے مصدر محذوف کی مامصدریہ اور ممکن ہے کہ مابمعنی الذی ہو کر مفعول بہ ہو تقدیرہ او حینا الیک مثل الذین او حینا الی نوح۔ من بعدہ متعلق او حینا کے اور ممکن ہے کہ النبین سے متعلق ہو۔ رسلا منصوب فعل محذوف سے جس پر قصصنا دال ہے رسلا بدل ہے اول رسلا سے حجۃ اسم یکون للناس خبر علی اللّٰہ حال ہے حجۃ سے ممکن ہے کہ خبر علی اللہ ہو بعد الرسل ظرف ہو حجۃ کا اور ممکن ہے کہ اس کی صفت ہو۔
تفسیر : اہل کتاب خصوصاً یہود جو آنحضرت ﷺ کی نبوت سے انکار کرتے تھے اصل منشاء تو اس کا یہ تھا کہ غیر قوم کے شخص کو تسلیم کرنے سے ناانصاف لوگوں کی طبائع گریز کیا کرتے ہیں اور اپنے مذہب کا ترک کرنا خواہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 163–164
اِنَّـآ اَوْحَیْنَـآ اِلَیْکَ کَمَآ اَوْحَیْنَآ اِلٰی نُوْحٍ وَّالنَّبِیّٖنَ مِنْم بَعْدِہٖ ج وَاَوْحَیْنَآ اِلٰٓی اِبْرَاہِیْمَ وَاِسْمٰعِیْلَ وَاِسْحٰقَ وَیَعْقُوْبَ وَالْاَسْبَاطِ وَعِیْسٰی وَاَیُّوْبَ وَیُوْنُسَ وَھٰرُوْنَ وَسُلَیْمٰنَ ج وَاٰتَیْنَا دَاوٗدَ زَبُوْرًا ج وَرُسُلًا قَدْ قَصَصْنٰـہُمْ عَلَیْکَ مِنْ قَبْلُ وَ رُسُلًا لَّمْ نَقْصُصْہُمْ عَلَیْکَطوَکَلَّمَ اللّٰہُ مُوْسٰی تَـکْلِیْمًا ج
”(اے پیغمبر۔ ) ہم نے تمہاری طرف اسی طرح وحی بھیجی ہے جس طرح نوح (علیہ السلام) اور اس کے بعد کے پیغمبروں کی طرف وحی کی تھی۔ اور ہم نے وحی کی ابراہیم اور اسماعیل اور اسحاق اور یعقوب اور اولادِ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 163–164
فہم القرآن
ربط کلام : دین کے جن بنیادی ارکان کا پہلے ذکر ہوا ہے۔ اسی کی تبلیغ یہ عظیم المرتبت شخصیات کرتی رہی ہیں۔
یہودیوں کے سوال کا جواب دیتے ہوئے بتلایا گیا ہے کہ دین کے بنیادی احکامات ہمیشہ سے ایک تھے اور ہیں۔ وہ لوگوں پر براہ راست نازل ہونے کی بجائے وحی کے ذریعے انبیاء ( علیہ السلام) پر نازل ہوتے رہے۔ جو مختلف انداز اور الفاظ میں اتارے گئے۔ قرآن مجید تحریری مسودہ کے بجائے لوگوں کی سہولت اور اصلاح احوال کی خاطر خطاب در خطاب کی صورت میں نازل ہوا ہے یہی وجہ ہے کہ ہر خطاب میں نصیحت کے جامع پہلو کو ملحوظ رکھا جاتا ہے۔ اسی اسلوب کے پیش نظریہودیوں کے اس مطالبہ پر کہ ان پر براہ راست کتاب کیوں…
Read the full tafseer →آیت 164 : وَرُسُلاً ۔ : اَوْ حَیْنَا کے ہم معنی فعل ارسلنا ونبأنا وغیرہ سے منصوب ہے۔ قَدْ قَصَصْنٰہُمْ عَلَیْکَ مِنْ قَبْلُ (اور وہ رسول جن کے واقعات ہم نے آپ کو بیان کردیئے) من قبل سے مراد اس سورت سے پہلے۔ وَرُسُلًا لَّمْ نَقْصُصْہُمْ عَلَیْکَ (اور وہ رسول جن کے واقعات ہم نے آپ پر بیان نہیں کیے)
تعدادِ رُسل والی روایت :
حضرت ابوذر ؓ نے سوال کیا یا رسول اللہ انبیاء کی تعداد کتنی ہے تو فرمایا : مائۃ الف واربعۃ وعشرون الفًا۔ (ایک لاکھ چوبیس ہزار) پھر سوال کیا ان میں سے رسول کتنے ہیں۔ تو فرمایا تین سو تیرہ۔ سب سے پہلے رسول آدم ( علیہ السلام) اور سب سے آخری تمہارے نبی محمد ﷺ اور روایت میں یہ بھی…
Read the full tafseer →(تفسیر) 164۔:
(آیت)” ورسلا قد قصصنھم علیک من قبل “۔ اس سے پہلے جیسے حضرت نوح (علیہ السلام) اور دوسرے انبیاء کرام (علیہم السلام) کی طرف ۔ ” رسلا “۔ منصوب بنزع الخافض ہے اور بعض نے کہا کہ اس کا معنی یہ ہے کہ ہم پر کسی رسول کا قصہ بیان کیجئے اور ابی بن کعب ؓ کی روایت میں ” ورسل قد قصصناھم علیک من قبل “۔ ہے ”۔ ورسلا لم نقصصھم علیک وکلم اللہ موسیٰ تکلیما “۔ کلام عرب میں جو کلام انسان تک پہنچے خواہ وہ کسی طریقے سے ہو لیکن اس کا تحقق مصدر سے نہیں ہوسکتا ہاں اگر مصدرد کا تاکیدا ذکر کرتے ہیں تو اس وقت حقیقی فعل مقصود ہوتا ہے مجازی معنی مراد نہیں ہوتے ، جیسا کہ کہا جاتا ہے ’ اراد فلان ارادۃ “۔ اس سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 163–165
(163 ۔ 165) ۔ تفسیر ابن جریر وغیرہ میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ وغیرہ کی روایتوں میں ان آیتوں کی شان نزول یہ بیان کی گئ ہے کہ جب یہود نے انجیل اور قرآن کے کلام الٰہی ہونے کا انکار کیا اور کہا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنا کوئی کلام کسی بشر پر نازل نہیں فرمایا اور ان میں سے بعضوں نے یہ بھی کہا ہے کہ قرآن اگر کلام الٰہی ہوتا تو تورات کی طرح ایک ہی دفعہ نازل ہوتا تھوڑ تھوڑا کر کے نازل نہ ہوتا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں 1۔ اور فرمایا کہ نوح (علیہ السلام) اور ان کے بعد کے انبیاء جن کی نبوت کو یہ لوگ مانتے ہیں۔ ان سب پر ہم نے اپنا کلام اسی طرح نازل فرمایا ہے جس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 163–165
آیت 163
اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے اپنے بندے اور رسول محمد مصطفیٰ ﷺ پر اسی طرح عظیم شریعت اور سچی خبریں وحی کی ہیں جس طرح اس نے ان انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام پر وحی کی تھیں۔ اس میں متعدد فوائد ہیں :
(1) نبی اکرم ﷺ کوئی نئے اور انوکھے رسول نہیں ہیں بلکہ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ سے پہلے بھی بیشمار رسول بھیجے ہیں اس لئے آپ ﷺ کی رسالت کو انوکھا اور نادر سمجھنا جہالت اور عناد کے سوا کچھ نہیں۔
(2) اللہ تعالیٰ نے محمد مصطفیٰ ﷺ کی طرف اصول اور عدل کے ضابطے وحی کئے ہیں جس طرح انبیائے سابقین کی طرف وحی فرمائے تھے جن پر عمل کر کے وہ تقویٰ اختیار کرتے تھے۔ وہ ایک دوسرے کی تصدی اور ایک دوسرے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 162–170
قول باری ہے لکن الراسخون فی العلم منھم۔ مگر ان میں سے جو لوگ پختہ علم رکھنے والے ہیں) قتادہ سے مروی ہے کہ لفظ ” شکن “ یہاں استثناء کے معنی دے رہا ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ لفظ الا اور لفظ لکن کبھی نفی کے بعد ایجاب یا ایجاب کے نفی میں ایک جیسے ہوتے ہیں ۔ الا کا اطلاق کر کے اس سے لکن مراد لیا جاتا ا ہے جس طرح یہ قول باری ہے وماکان لمومن ان یقتل مومنا الاخطا۔ اس کے معنی ہیں لیکن اگر وہ اسے خطاء قتل کر دے تو ایک غلام آزاد کرنا ہوگا۔ اس جگہ الا کو لکن کی جگہ لایا گیا تاہم لکن حرف الا سے اس چیز میں جدا ہے کہ الا کے ذریعے کل میں سے بعض کو خارج کردیا جاتا ہے اور لکن ایک کے بعد بھی ہوسکتا ہے مثلا آپ یہ…
Read the full tafseer →429 جلیل القدر حضرات انبیاء کا ذکر : مکی سورتوں میں (جامع، محاسن، وغیرہ) جیسا کہ سورة الانعام کی آیت نمبر 85 تا 87 میں کئی جلیل القدر حضرات انبیائے کرام کا ذکر فرمایا گیا ہے، جہاں ان حضرات کے اسماء گرامی کا ذکر فرمایا گیا ہے اور سورة ھود اور شعراء وغیرہ میں ان کے تفصیلی ناموں کو ذکر اور بیان فرمایا گیا ہے۔ اور ان سب حضرات کا ذکر اس لیے نہیں فرمایا گیا کہ عبرت و تذکیر وغیرہ کے جن اہم مقاصد کیلئے ان قصوں کا ذکر فرمایا گیا ہے وہ انہی حضرات کے ذکر سے پورے ہوجاتے ہیں۔ (المراغی وغیرہ) ۔ اس لیے سب انبیاء و رسل کے تذکرے کی ضرورت نہ تھی کیونکہ مقصود محض قصہ گوئی یا تاریخ کا بیان کرنا نہیں بلکہ درس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 163–164
اللہ کی وحی
تشریح : ان آیات میں حضرت محمد ﷺ پر وحی کی کیفیت، سابقہ انبیاء و رسل اور آسمانی کتابوں کا ذکر بڑے پیارے انداز میں کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ آنحضرت ﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ آپ کا رسول بن کر آنا اور اللہ کا پیغام لوگوں تک پہنچانا نہ تو کوئی عجیب بات ہے اور نہ ہی فطرت کے خلاف۔ کیونکہ جب ہم نے پوری کائنات کو بنایا تو اس میں نباتات، جمادات، حیوانات اور انسان سب کچھ ہی پیدا کیا مگر انسان کو اپنا نائب بنا کر بھیجا اس کو عقل، علم اور اختیار کی طاقتیں عطا کردیں، جبکہ باقی ہر چیز میں اللہ کی راہنمائی نظر آتی ہے مثلاً : ذروں کے اندر ان کے اجزاء، کائنات میں سیارے، نباتات کا عمل، شہد کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 163–171
رکوع نمبر 23 ۔ آیات 163 تا 171 ۔
اسرار و معارف :
آپ ﷺ سے پہلے نبوت و رسالت کا سلسلہ چلا آ رہا ہے اور ہمیشہ انبیاء و رسل پر اللہ کی طرف سے وحی بھیجی جاتی ہے جیسے نوح (علیہم السلام) پر وحی کی گئی اور ان کے بعد آنے والے نبیوں اور رسولوں پر جیسے ابراہیم ، اسمعیل ، اسحاق اور یعقوب (علیہم السلام) یا ان حضرات کی اولاد میں سے انبیاء مبعوث ہوتے رہے۔ اور عیسیٰ و ایوب ، یونس و ہارون و سلیمان (علیہما السلام) اور ان میں حضرت داود (علیہم السلام) کو تو ہم نے کتاب بھی دی تھی جس کا نام زبور تھا۔ آپ ﷺ کا نبوت کا دعوے کرنا نئی بات نہیں ہے اور نہ وحی الہی کا آپ پر نازل ہونا عجیب بات ہے۔ بلکہ ایسے رسول بھی ہیں جن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 164–165
ف 9 یعنی انبیا ( علیہ السلام) کی بعثت کا مقصد تو صرف یہ ہے کہ جو لوگ ایمان لیے آئیں اور اس کے مطابق اپنے آپ کو درست کرلیں انہیں جنت کی خوش خبری دیں اور جو کفر و نافرمانی پر جمے رہیں انہیں اس طرح ان پر اتمام حجت ہوجائے اور وہ اللہ کے ہاں کوئی عذار پیش نہ کرسکیں کہ ہمارے پاس تو تیری طر سے کوئی خوشخبری دینے یا تنبیہ کرنے ولا نہیں آیا اور یہ مقصد کتاب و شریعت کے نازل کرنے سے حاصل ہوجاتا ہے عام اس سے کہ وہ کتاب یک بارگی دی جائے یا تدریجا نازل ہو، بعثت کے اس مقصد اصلی پر اس سے کوئی اثر نہیں پڑتا بلکہ وہ کتاب کے حسب ضرورت تدریجا نازل کرنے سے تو یہ مقصد علی وجہ الا تم حاصل ہوتا ہے پھر ان کا یہ کہنا…
Read the full tafseer →(4:164) رسلا کا عطف بھی اوحینا الیک (آیۃ ماقبل) پر ہے۔ اور (جیسے وحی بھیجی ہم نے) دوسرے رسولوں پر ۔ یہی صورت رسلا لم نقصصہم کی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 163–169
آیت نمبر 163-169
لغات القرآن : اوحینا، ہم نے وحی کی۔ قصصنا، ہم نے قصے بیان کئے۔ کلم اللہ، اللہ نے کلام کیا۔ لئلا یکون، تاکہ نہ ہو۔ حجۃ، دلیل، طریق، راستہ۔
تشریح : آیت 153 میں جو ذکر ہے کہ یہودیوں نے رسول اللہ ﷺ سے مطالبہ کیا تھا کہ آسمان سے نازل کی ہوئی ایک مکمل لکھی ہوئی کتاب ہمیں دکھاؤ تو ہم ایمان لے آئیں گے ان آیات میں اس کا جواب یوں دیا گیا ہے کہ جن نبیوں کو تم مانتے ہو، جن پر ایمان لانے کا دعویٰ تم کرتے ہو۔ کیا ان میں سے اکثر و بیشتر کو لکھی ہوئی مکمل کتاب نہیں دی گئی تھی ؟ ۔ ہاں زبور حضرت داؤد کو ملی تھی اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے خود اللہ نے براہ راست کلام کیا تھا اور توریت کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 163–164
شان نزول : یہود و نصاری نے آنحضرت ﷺ سے جو یہ سوال کیا تھا کہ ان کے لئے آسمان سے پوری کتاب نازل کی جائے تو وہ آپ کی نبوت پر ایمان لائیں ۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور فرمایا کہ حضرت نوح (علیہ السلام) اور ان کے بعد کے انبیاء جن کی نبوت کو یہ لوگ مانتے ہیں ، ان سب پر ہم نے اپنا کلام اسی طرح نازل فرمایا جس طرح قرآن تھوڑا تھوڑا کرکے نازل ہورہا ہے ۔ پھر ان انبیاء کرام کی نبوت کو تسلیم کرنا اور نبی آخر الزماں کی نبوت اور قرآن کے کلام الہی ہونے میں ایسے شبہات کا کرنا بڑی ھٹ دھرمی ہے ۔ اب آگے رسول کی خدمت کا ذکر فرمایا کہ اللہ اور اللہ کے رسول کے فرمانبرداروں کو عقبیٰ کے اجر کی خوشخبری کا سنانا اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 163–164
[103] وحی کے لغوی معنی ہیں '' اشارہ صریح '' اور '' اشارہ مخفی '' یعنی ایسا اشارہ جو سرعت کے ساتھ اس طرح کہا جائے کہ بس اشارہ کرنے والا جانے یا وہ شخص جسے اشارہ کیا گیا ہے۔ باقی کسی اور شخص کو اس کا پتہ نہ چلنے پائے۔ اس لفظ کو اصلاحاً خاص اس ہدایت کے لیے استعمال کیا گیا ہے جو بجلی کی کوند کی طرح اللہ تعالیٰ کی طرف سے
اس کے کسی بندے کے دل میں ڈالی جائے۔
Read the full tafseer →(ف 2) مختلف انبیاء (علیہم السلام) کا ذکر کرکے اب یہ فرمایا ہے کہ تمام دنیا میں خدا کے پیغمبر (علیہ السلام) آئے ہیں اور ہر گوشہ ارض ان کے قدوم برکت لزوم سے مفتحز ہوا ہے اور یہ کوئی ضروری نہیں کہ قرآن حکیم میں سب انبیاء (علیہم السلام) کا نام بنام ذکر ہو پس یہ جان لیجئے کہ تمہیں انہیں پیغمبروں کے نام اور حالات بتائے گئے ہیں جن سے تمہارے کان آشنا ہیں ۔
Read the full tafseer →ف 2 اے پیغمبر ! ﷺ ہم نے آپ کے پاس ایسی ہی وحی بھیجی ہے جیسے ہم نے حضرت نوح (علیہ السلام) کے پاس بھیجی تھی اور ان نبیوں کے پاس بھیجی تھی جو نوح (علیہ السلام) کے بعد ہوئے ہیں اور جیسا کہ ہم نے ابراہیم اور اسمعیل اور اسحاق اور یعقوب اور یعقوب کی اولاد میں جو نبی ہوئے ہیں اور عیسیٰ (علیہ السلام) اور ایوب (علیہ السلام) اور یونس (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) اور سلیمان (علیہ السلام) کے پاس وحی بھیجی تھی اور اسی طرح ہم نے دائود (علیہ السلام) کو زبور عنایت کی تھی اور اسی طرح ان کے علاوہ بعض اور پیغمبروں کو بھی جن کا ذکر ہم آپ سے کرچکے ہیں صاحب وحی بنا کر بھیجا یعنی سورة انعام میں اور دوسری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 162–164
ف 1۔ مراد ان سے یہ حضرات اور ان کے امثال ہیں جیسے عبداللہ بن سلام واسید وثعلبہ ؓ اور آیت کا یہی شان نزول ہے اور آیت میں اجرکامل کی تعلیق ان امور مذکورہ پر مقصود ہے اور نفس اجرومطلق نجات صرف عقائد ضروریہ کی تصیح سے وابستہ ہے۔
Read the full tafseer →قرآن کریم میں بعض انبیاء کرام کا ذکر نام بنام آیا ہے اور بعض کا نہیں آیا :
255: وحدت دین کی اصل عظیم کا اعلان کرکے یہ بات واضح کی تھی کہ نوع انسانی کے لئے خدا کی سچائی ایک ہی ہے اور تمام راہنمایان اسلام نے اس کی تعلیم دی تھی ۔ یہ پیروان مذاہب کی گمراہی ہے کہ انہوں نے گروہ بندیاں تشکیل دی ہیں اور اس طرح الگ الگ دین بنا لئے ہیں اور ایک دوسرے کی جھٹلانے لگے ہیں اب بتایا کہ قرآن کریم نے بعض کا ذکر کیا ہے اور بعض ک ذکر نہیں کیا لیکن وہ سب کی تصدیق کرتا ہے اور سب پر ایمان لانے کا حکم دیتا ہے جن کے نام احادیث و روایات میں آتے ہیں جیسے یوشع بن نون (علیہ السلام) اور حزیل (علیہ السلام) اور شموئیل عیہم…
Read the full tafseer →In verse 164 which opens with the words: وَرُسُلًا قَدْ قَصَصْنَاهُمْ عَلَيْكَ And, (We have sent down) some Messengers We have already told you about ...', after a brief mention of prophets who appeared after Sayyidna Nuh (علیہ السلام) ، a special citation has been made of the greatest prophets from among them. The purpose is to tell us that they are all prophets and Wahy comes to prophets via different modes. It could be an angel with a message. It could also be a written Book. Sometimes Almighty Allah talks directly to His Messenger. In short, when Wahy comes, no matter in what mode or…
Read the full tafseer →206. Revelation in the case of other Prophets meant either that they heard a voice or received a message from an angel. The privileged treatment accorded to Moses was that God communicated with him directly. This communication was similar to one that takes place between two persons, as is fully illustrated by the conversation reported in (Surah Ta Ha 20: 11 ff). This unique privilege of Moses is mentioned in the Bible as well, and in much the same manner. It mentions that the Lord used to speak to Moses 'face to face, as a man speaks to his friend' (Exodus 33: 11).
Read the full tafseer →