Explained with ayahs 160–162
یہودیوں کے خود ساختہ حلال و حرام
اس آیت کے دو مطلب ہوسکتے ہیں ایک تو یہ کہ حرام کام ان کا مقدر تھا یعنی اللہ کی طرف سے لکھا جا چکا تھا کہ یہ لوگ اپنی کتاب کو بدل دیں، اس میں تحریف کرلیں اور حلال چیزوں کو اپنے اوپر حرام ٹھہرا لیں، صرف اپنے تشدد اور اپنی سخت گیری کی وجہ سے، دوسرا یہ کہ یہ حرمت شرعی ہے یعنی نزول تورات سے پہلے جو بعض چیزیں ان پر حلال تھیں، توراۃ کے اترنے کے وقت ان کی بعض بدکاریوں کی وجہ سے وہ حرام قرار دے دی گئیں جیسے فرمان ہے آیت (كُلُّ الطَّعَامِ كَانَ حِلًّا لِّبَنِىْٓ اِ سْرَاۗءِيْلَ اِلَّا مَا حَرَّمَ اِسْرَاۗءِيْلُ عَلٰي نَفْسِھٖ مِنْ قَبْلِ اَنْ تُنَزَّلَ التَّوْرٰىةُ ۭ…
Read the full tafseer →سورة النِّسَآء 200
توراۃ میں بالفاظ صریح یہ حکم موجود ہے کہ
”اگر تو میرے لوگوں میں سے کسی محتاج کو جو تیرے پاس رہتا ہو، قرض دے تو اس سے قرض خواہ کی طرح سلوک نہ کرنا اور نہ اس سے سود لینا۔ اگر تو کسی وقت اپنے ہمسایہ کے کپڑے گرو رکھ بھی لے تو سورج کے ڈوبنے تک اس کو واپس کردینا کیونکہ فقط وہی ایک اس کا اوڑھنا ہے، اس کے جسم کا وہی لباس ہے، پھر وہ کیا اوڑھ کر سوئے گا۔ پس جب وہ فریاد کرے گا تو میں اس کی سنوں گا کیونکہ میں مہربان ہوں“۔ (خروج باب 22 27-25)
اس کے علاوہ اور بھی کئی مقامات پر توراۃ میں سود کی حرمت وارد ہوئی ہے۔ لیکن اس کے باوجود اسی تورات کے ماننے والے یہودی آج دنیا کے سب سے بڑے سود…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 160–161
ربط آیات
گزشتہ آیات میں یہود کی شرارتوں کا اور ان شرارتوں کی وجہ سے ان کی سزا کا ذکر تھا، ان آیات میں بھی ان کی کچھ اور قباحتوں کا بیان ہے اور سزا کی ایک اور نعمت کا بھی ذکر ہے، وہ یہ کہ قیامت میں تو انہیں عذاب ہوگا ہی، اس دنیا میں بھی ان کی گمراہی کا یہ نتیجہ ہوا کہ بہت سی پاکیزہ چیزیں جو پہلے سے حلال تھیں بطور سزا کے ان پر حرام کردی گئی ہیں۔
خلاصہ تفسیر
سو یہود کے انہی بڑے بڑے جرائم کے سبب (جن میں سے بہت سے امور سورة بقرہ میں ذکر کئے) ہم نے بہت سی پاکیزہ (یعنی حلال و نافع اور لذیذ) چیزیں جو (پہلے سے) ان کے لئے (بھی) حلال تھیں (جیسا آیت کل الطعام کان حلا لبنی اسرآئیل (3: 39) میں ہے) ان پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 160–161
160۔ 161:۔ فَبِظُلْمٍ مِّنَ الَّذِيْنَ هَادُوْا حَرَّمْنَا عَلَيْهِمْ طَيِّبٰتٍ اُحِلَّتْ لَهُمْ وَبِصَدِّهِمْ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ كَثِيْرًا۔ وَّاَخْذِهِمُ الرِّبٰوا وَقَدْ نُھُوْا عَنْهُ وَاَ كْلِهِمْ اَمْوَالَ النَّاسِ بِالْبَاطِلِ ۭوَاَعْتَدْنَا لِلْكٰفِرِيْنَ مِنْهُمْ عَذَابًا اَلِـــيْمًا۔
یہود پر جائز چیزوں کے حرام ہونے کی نوعیت : فَبِظُلْمٍ مِّنَ الَّذِيْنَ هَادُوْا حَرَّمْنَا عَلَيْهِمْ ، میں لفظ ظلم کی تقدم سے یہ مفہوم پیدا ہوتا ہے کہ وہ یہود پر حلال چیزیں جو حرام ہوئیں تو یہ بھی خود انہی کے اپنے نفس پر ظلم کرنے کے سبب سے حرام ہوئیں، اللہ نے ان پر کوئی ظلم نہیں کیا۔ جائز چیزوں کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 160–161
160۔ 1 یعنی ان کے ان جرائم و معاصی کی وجہ سے بطور سزا بہت سی حلال چیزیں ہم نے ان پر حرام کردی تھیں (جن کی تفصیل سورة الآنعام۔ 146 میں ہے)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 160–170
94: اس کی تفصیل انشاء اللہ سورة انعام (146:6) میں آئے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 160–161
(آیت) ” فبظلم من الذین ھادوا حرمنا علیھم طیبت احلت لھم وبصدھم عن سبیل اللہ کثیرا ‘(160) واخذھم الربوا وقد نھو عنہ واکلھم اموال الناس بالباطل واعتدنا للکفرین منھم عذابا الیما (161) (4 : 160۔ 161)
(۔ غرض ان یہودیوں کے اسی ظالمانہ رویے کی بناء پر اور اس بناء پر کہ یہ بکثرت اللہ کے راستے سے روکتے ہیں ‘ اور سود لیتے ہیں جس سے انہیں منع کیا گیا تھا اور لوگوں کے مال ناجائز طریقوں سے کھاتے ہیں ‘ ہم نے بہت سی وہ پاک چیزیں ان پر حرام کردیں جو پہلے ان کیلئے حلال تھیں ‘ اور وہ لوگ جو ان میں سے کافر ہیں ان کیلئے ہم نے دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے ۔ )
چناچہ اس آیت کے ذریعے ان کے سابقہ منکرات میں کچھ مزید…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 160–161
3 یہود کی اگلی پچھلی سخت شرارتیں ذکر فرما کر جس سے ان کی سرکشی اور ان کا گناہوں پر دلیر ہونا ظاہر ہوگیا اب فرماتے ہیں کہ اسی واسطے ہم نے ان پر شریعت بھی سخت رکھی کہ ان کی سرکشی ٹوٹے تو اب یہ شبہ نہ رہا کہ تحریم طیبات تو ان پر تورات میں کی گئی تھی اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے مخالفت کرنا اور حضرت مریم پر تہمت لگانا نزول تورات کے بہت بعد میں ہوا تو سزا جرم سے مقدم کیسے ہوگئی اس تمام رکوع کا خلاصہ یہ ہوا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے زمانہ سے اہل کتاب برابر ایک سے ایک زائد شرارت اور نافرمانی اور عہد شکنی اور حضرات انبیاء کو ایذاء رسانی کرتے چلے آئے ہیں اب اگر اے محمد رسول اللہ ﷺ تم سے عنادا…
Read the full tafseer →آیت 161 وَّاَخْذِہِمُ الرِّبٰوا وَقَدْ نُہُوْا عَنْہُ
شریعت موسوی میں سود حرام تھا ‘ آج بھی حرام ہے ‘ لیکن انہوں نے اس حکم کا اپنا ایک من پسند مفہوم نکال لیا ‘ جس کے مطابق یہودیوں کا آپس میں سود کا لین دین تو حرام ہے ‘ کوئی یہودی دوسرے یہودی سے سودی لین دین نہیں کرسکتا ‘ لیکن غیر یہودی سے سود لینا جائز ہے ‘ کیونکہ وہ ان کے نزدیک Gentiles اور Goyems ہیں ‘ انسان نما حیوان ہیں ‘ جن سے فائدہ اٹھانا اور ان کا استحاصل کرنا ان کا حق ہے۔ ہم سورة آل عمران آیت 75 میں یہود کا یہ قول پڑھ چکے ہیں : لَیسَ عَلَیْنَا فِیْ الْاُمِّیّٖنَ سَبِیْلٌ کہ ان امیینّ کے بارے میں ہم پر کوئی گرفت ہے ہی نہیں ‘ کوئی ذمہ…
Read the full tafseer →211 یہود کی سود خوری اور حرام خوری کے سلسلہ میں دیکھئے سورة آل عمران کی آیت نمبر 75 کا حاشیہ نمبر 66، اور 67۔
212 ذلت اور مسکنت :۔ آج بھی دنیا میں سب سے بڑی سود خور اور حرام خور اور مالدار قوم یہود ہی ہے لیکن اپنی اس مالداری کے باوجود یہود ہمیشہ پٹتے ہی رہے ہیں اور کہیں بھی امن کی زندگی بسر نہیں کرسکے۔ موجودہ دور میں جو یہود کی حکومت اسرائیل قائم ہوئی ہے وہ بھی دوسری حکومتوں سے قائم ہے اور انہی کے زیر سایہ چل رہی ہے اور ان کی اس غاصبانہ حکومت کو آج تک بیشتر ممالک نے تسلیم ہی نہیں کیا۔ یہ عذاب تو دنیا میں ملا۔ اور آخرت میں تو بہرحال انہیں ان کی سب نافرمانیوں اور بدعہدیوں کی سزا مل کے ہی رہے گی۔
Read the full tafseer →409 ۔ (ان کے پیغمبروں کے ذریعہ سے انہی کی کتابوں میں) توریت میں ممانعت سود کے اس طرح کے احکام آج تک لکھے چلے آرہے ہیں۔ ” اگر تو میرے لوگوں میں سے جس کسی کو جو تیرے آگے محتاج ہے کچھ قرض دیوے تو اس سے بیاجیوں کی طرح سلوک مت کر، اور سود مت لے “۔ (خروج۔ 22:25) ” تو اس سے سود اور نفع مت لے۔ اپنے خدا سے ڈرتا کہ تیرا بھائی تیرے ساتھ زندگانی بسر کرے، تو اسے سود پر روپیہ قرض مت دے، نہ اسے نفع کے لیے کھانا کھلا۔ “ (احبار۔ 35:36 ۔ 37) یہ اور بات ہے کہ آج دنیا میں سب سے زیادہ سود خور رقوم یہی یہود ہو۔ اور ان کے شایلاک دنیا کے ادبیات میں ضرب المثل بن گئے ہوں۔
410 ۔ یعنی ان کی شریعت میں سود، رشوت، خیانت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 160–162
فبظلم من الذین ھادو احرمنا، جملہ معترضہ ختم ہونے کے بعد یہاں سے پھر وہی سلسلہ کلام شروع ہوتا ہے جو اوپر سے چلا آرہا تھا، یعنی صرف اسی پر اکتفاء نہیں کرتے کہ خود اللہ کے راستہ سے منحرف ہیں بلکہ اس قدر بےباک مجرم بن گئے ہیں کہ دنیا میں خدا کے بندوں کو گمراہ کرنے کے لئے جو تحریک بھی اٹھتی ہے اکثر اس کے پیچھے یہودی دماغ اور یہودی سرمایہ ہی کار فرما ہوتا ہے، اور راہ حق کی دعوت کیلئے جو تحریک بھی شروع ہوتی ہے اس راہ کے سنگ گراں یہودی ہی ہوتے ہیں۔
مفید بحث : یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ ان دنوں شام و فلسطین کی غالب آبادی یہودیوں کی تھی اور حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰة والسلام بھی اسی کے ایک فرد تھے، گو کہ…
Read the full tafseer →واخذہم الربوا اور سود لینے کی وجہ سے۔
وقد نہوا عنہ حالانکہ (تورات میں) ان کو سود لینے سے منع کردیا گیا تھا ( نہی سے مراد ہے حرام کردینا) اس آیت میں دلیل ہے کہ نہی (ممانعت) موجب تحریم ہے (خواہ لفظ حرام نہ استعمال کیا گیا ہو)
واکلہم اموال الناس بالباطل اور لوگوں کا مال ناجائز طریقوں سے کھانے کی وجہ سے۔ ہم نے پاکیزہ حلال چیزیں ان کے لئے حرام کردیں۔ ناجائز طریقوں سے مراد ہے رشوت ‘ دھوکہ دہی ‘ چوری ڈاکہ وغیرہ۔
بِصَدِّہِمْاور اَخْذِہِمْاور اکلہمسب کا عطف بِظُلْمٍپر ہے یعنی تحریم طیبات کے یہ سب اسباب ہیں۔
واعتدنا للکفرین منہم عذابا الیما اور ہم نے ان میں سے کافروں کے لئے (دوزخ کے اندر) دردناک عذاب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 160–161
(160۔ 161) اور ان یہودیوں کے ظلم کرنے اور دین خداوندی سے روکنے اور سود کو حلال سمجھنے کی وجہ سے اللہ ان پر ناراض ہے حالانکہ توریت میں ان تمام امور کی صراحتا ممانعت کردی گئی تھی اور پھر مزید یہ کہ ظلم اور رشوت کے زریعے لوگوں کا مال کھانے کی وجہ سے وہ پاکیزہ چیزیں جو تمہارے لیے حلال تھیں اللہ کی طرف سے حرام کردی گئیں جیسا کہ چربیاں، اونٹ کا گوشت اور اس کا دودھ وغیرہ۔
اور ان یہودیوں کے لیے ایسا عذاب ہے کہ اس کی شدت ان کے دلوں تک سرایت کر جائے گی۔
Read the full tafseer →وَّاَخْذِهِمُ الرِّبٰوا وَقَدْ نُھُوْا عَنْهُ۔۔۔۔۔ اس وقت جو تورات موجود ہے اس میں بھی متعدد مقامات پر سود کو حرام قرار دیا گیا ہے۔ (دیکھیے کتاب خروج، باب 22، فقرہ 25 تا 27)۔
وَاَ كْلِهِمْ اَمْوَال النَّاس بالْبَاطِلِ : یعنی رشوت، جوئے، دھوکے اور دوسرے ناجائز ذرائع سے لوگوں کے اموال کھانا۔ گناہوں کی دو قسمیں ہیں، مخلوق پر ظلم اور حق سے اعراض۔ اوپر کی آیت : (وَبِصَدِّهِمْ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ) (ان کے اللہ کے راستے سے بہت زیادہ روکنے کی وجہ سے) سے مخلوق پر ظلم کی طرف اشارہ ہے، باقی کا تعلق ”اعراض عن الحق“ سے ہے۔ (کبیر)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 160–161
آیت نمبر : 160 تا 161۔
اس آیت میں دو مسئلے ہیں :
مسئلہ نمبر : (1) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” فبظلم من الذین ھادوا “۔ زجاج نے کہا : یہ (آیت) ” فبما نقضھم “۔ سے بدل ہے، اور (آیت) ” طیبت “۔ سے مراد وہ چیزیں ہیں جن کا ذکر اس آیت میں ہے۔ (آیت) ” وعلی الذین ھادوا حرمنا کل ذی ظفر “۔ (الانعام : 146) اور ظلم کو تحریم پر مقدم فرمایا، کیونکہ ظلم کے متعلق خبر دینے کا مقصود یہی بیان کرنا ہے کہ یہ تحریم کا سبب ہے۔ (آیت) ” وبصدھم عن سبیل اللہ “۔ یعنی وہ اپنے آپ کو اور دوسروں کو حضرت محمد ﷺ کی اتباع سے روکتے ہیں، (آیت) ” واخذھم الربوا وقد نھوا عنہ واکلھم اموال الناس بالباطل “۔ یہ سب اس ظلم کی تفسیر ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 160–161
(1) سعید بن منصور وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” طیبت کانت احلت لہم “ پڑھا، (یعنی احلت لہم سے پہلے کانت پڑھا) ۔
(2) عبدبن حمید وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا لفظ آیت ” فبظلم من الذین ھادوا حرمنا علیہم طیبت احلت لہم “ سے مراد ہے کہ قوم یہود کو سزا دی جائے گی اس ظلم کے بدلے میں جو انہوں نے ظلم کیا اور اس بغاوت کے بدلے میں جو انہوں نے بغاوت کی ان پر کچھ اشیاء حرام کردی گئیں ان کی سرکشی اور ان کے ظلم کی وجہ سے۔
(3) عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” وبصدہم عن سبیل اللہ کثیرا “ یعنی اپنے آپ کو اور دوسروں کو…
Read the full tafseer →[ وَّاَخْذِہِمُ : اور ان کے پکڑنے کے سبب سے ] [ الرِّبٰوا : سود کو ] [ وَ : حالانکہ ] [ قَدْ نُھُوْا : وہ لوگ روکے گئے ہیں ] [ عَنْہُ : اس سے ] [ وَاَکْلِہِمْ : اور ان کے کھانے کے سبب سے ] [ اَمْوَالَ النَّاسِ : لوگوں کے مال کو ] [ بِالْبَاطِلِ : باطل سے ] [ وَاَعْتَدْنَا : اور ہم نے تیار کیا ] [ لِلْکٰفِرِیْنَ : کافروں کے لیے ] [ مِنْہُمْ : ان میں سے ] [ عَذَابًا اَلِیْمًا : ایک درد ناک عذاب ]
Read the full tafseer →آخر میں فرمایا (وَ اَعْتَدْنَا لِلْکَافِرِیْنَ مِنْھُمْ عَذَابًا اَلِیْماً ) دنیا کی سزا تحریم طیبات بیان فرمانے کے بعد ان کی آخرت کی سزا بیان فرمائی اور وہ یہ کہ ان میں سے جو لوگ کفر پر برقرار رہیں گے اور اسی حالت میں مرجائیں گے تو درد ناک عذاب میں مبتلا ہوں گے جو ان کے لیے تیار فرمایا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 160–162
تتمہ ذمائم یہود۔
قال اللہ تعالی، فبظلم من الذین۔۔۔ الی۔۔۔ عظیما۔
گزشتہ آیات میں یہود کی نافرمانیوں اور سرکشیوں کو بیان فرمایا اور اب ان آیات میں بھی ان کی چند نافرمانیوں اور سرکشیوں کا ذکر کرتے ہیں مثلا سود کھانا اور رشوت لینا اور خدا کی راہ سے روکنا اور لوگوں کا مال ناحق اپنے تصرف میں لانا اور ان شرارتوں کے علاوہ ان بعض عقوبتوں اور سزاؤں کا بھی ذکر کرتے ہیں کہ جو دنیا میں ان پر نازل ہوئیں من جملہ ان سزاؤں میں سے ایک سزایہ تھی کہ بہت سی حلال چیزیں ان کی نافرمانیوں کی وجہ سے ان پر حرام کردی گئیں جیسا کہ سورة انعام کی آیت میں اس کی تفصیل ہے، وعلی الذین ھادوا۔۔۔ الی۔۔۔ لصادقون۔ آیت۔ یعنی ان پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 160–161
ٖ 107 پہلے فَبِمَا نَقْضِہِم وَ قَوْلَہِمْ ، وَ کُفْرِہِمْ وَ قَتْلِہِمْ سے یہود کی خباثتیں بیان کیں اور ان کی جزا بیان نہیں کی تھی اس لیے بعد عہد کی وجہ فَبِظُلْمٍ کی جامع تعبیر سے ان کی خباثتوں کے ذکر کا اعادہ کیا اور پھر حَرَّمْنَا عَلَیْھِمْ سے ان کی سزا بیان کی یعنی یہ حرمت طیبات کا حکم ان مزکورہ بالا اسباب کی بنا پر نافذ کیا گیا اور ان شرارتوں کی ان کو یہ سزا دی گئی کہ بعض حلال اور پاکیزہ چیزیں ان پر حرام کردی گئیں۔ لیکن حضرت شیخ فرماتے ہیں کہ یہاں طَیِّبَات سے وہ چیزیں مراد نہیں ہیں جو سورة انعام کی اس آیت میں مذکور ہیں۔ وَعَلَی الَّذِیْنَ ھَادُوْا حَرَّمْنَا کُلَّ ذِیْ ظُفُرٍ الایۃ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 160–162
ربط آیات
گزشتہ کئی دروس سے اہل کتاب کی خرابیوں کا تذکرہو رہا ہے اور یہدرس بھی اسی سلسلہ کی کڑی ہے۔ اہل کتاب نے عناد کی وجہ سے کہا کہ اگر آپ اللہ کے نبی ہیں تو کتاب یکبارگی کیوں نہیں لے آتے ، جیسا کہ پہلے نبی لائے۔ اس اعتراض کا حقیقی جواب تو اگلے رکوع میں آئے گا ، تاہم گزشتہ درس میں ہے اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کو تسلی دی کہ آپ اہت کتاب کے فضول اعتراضات سے دل برداشتہ نہ ہوں ، اس ضدی قوم نے آپ سے پہلے انبیاء پر اس سے بھی بڑے بڑے سوال کیے۔ انہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) سے رویت الٰہی کا مطالبہ کیا ، اللہ تعالیٰ نے انہیں فوراً سزا دی اور ایک بجلی آئی جس نے انہیں جلا کر ہلاک کردیا ، پھر حضرت موسیٰ (علیہ…
Read the full tafseer →وَّاَخْذِہِمُ الرِّبٰوا وَقَدْ نُھُوْا عَنْہُ وَاَكْلِہِمْ اَمْوَالَ النَّاسِ بِالْبَاطِلِ 0ۭ وَاَعْتَدْنَا لِلْكٰفِرِيْنَ مِنْہُمْ عَذَابًا اَلِـــيْمًا 161
رِّبَا :
الزیادة علی رأس المال، لکن خصّ في الشرع بالزیادة علی وجه دون وجه، وباعتبار الزیادة قال تعالی: وَما آتَيْتُمْ مِنْ رِباً لِيَرْبُوَا فِي أَمْوالِ النَّاسِ فَلا يَرْبُوا عِنْدَ اللَّهِ [ الروم/ 39] ، ونبّه بقوله : يَمْحَقُ اللَّهُ الرِّبا وَيُرْبِي الصَّدَقاتِ [ البقرة/ 276] ، أنّ الزیادة المعقولة المعبّر عنها بالبرکة مرتفعة عن الرّبا، ولذلک قال في مقابلته : وَما آتَيْتُمْ مِنْ زَكاةٍ تُرِيدُونَ وَجْهَ اللَّهِ فَأُولئِكَ هُمُ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 160–162
ترکیب : فبظلم ب حرمنا سے متعلق ہے وبصدھم متعلق ہے حرمنا سے واخذھم اس پر معطوف اور اسی طرح اکلہم اور یہ سب مصادر فاعل کی طرف مضاف ہیں۔ الراسخون مبتداء فی العلم اس سے متعلق منہم راسخون سے حال والمؤمنون معطوف ہے الراسخون پر اور خبر اس کی یؤمنون ہے وقیل سنؤتیھم والمقیمین منصوب علی المدح ہے ای اعنی المقیمین وقیل انہ معطوف علی مافیہ وما فیہ والمؤمنون معطوف علیہ المؤمنون معطوف پھر یہ الراسخون پر معطوف ہیں۔
تفسیر : یہود کے اوصاف ذمیمہ کے بعد جو کچھ ان پر سزائیں نازل ہوئیں ان کا ذکر کیا جاتا ہے۔ منجملہ اور سزائوں کے ایک یہ بھی تھی کہ ان پر شریعت کا سخت گراں بوجھ ڈالا گیا۔ بہت سی حلال چیزیں حرام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 160–161
فَبِظُلْمٍ مِّنَ الَّذِیْنَ ھَادُوْا حَرَّمْنَا عَلَیْہِمْ طَیِّبٰتٍ اُحِلَّتْ لَہُمْ وَ بِصَدِّہِمْ عَنْ سَبِیلِ اللّٰہِ کَثِیْرًا لا وَّاَخْذِہِمُ الرِّبٰوا وَ قَدْ نُہُوْا عَنْہُ وَاَکْلِہِمْ اَمْوَالَ النَّاسِ بِالْبَاطِلِ ط وَاَعْتَدْنَا لِلْکٰفِرِیْنَ مِنْہُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا
” پس بسبب ان یہودی بن جانے والوں کے ظلم کے ہم نے بعض پاکیزہ چیزیں ان پر حرام کردیں جو ان کے لیے حلال کی گئی تھیں اور بسبب اس کے کہ وہ اللہ کے راستے سے بہت روکتے تھے اور بوجہ ان کے سود لینے کے حالانکہ انھیں اس سے روکا گیا تھا اور بوجہ اس کے کہ وہ لوگوں کا مال ناجائز طریقوں سے کھاتے تھے اور ہم نے ان جیسے کافروں کے…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : گزشتہ سے پیوستہ : یہودیوں کے جرائم کی فہرست جاری ہے۔
یہودیوں کی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر زیادتیوں اور پے درپے حیلہ سازیوں، گستاخیوں اور تہمتوں کی وجہ سے جن میں انبیاء کو قتل کرنا، شرک کا ارتکاب کرنا، سود کو جائز قرار دینا حالانکہ ان پر حرام کیا گیا تھا، دوسروں کا ناجائز طریقے سے مال کھانے اور لوگوں کو اللہ کی راہ سے روکنے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان کی سرکشی اور تمرد میں کمی لانے اور انکی ہوس زر کی آگ کو ٹھنڈا کرنے کے لیے چند حلال چیزوں کو ان پر حرام قراردے دیا۔ جس طرح مریض کو بیماری سے بچانے کے لیے حکیم حاذق اس پر کچھ پابندیاں اور احتیاطیں لازم قراردیتا ہے اگر مریض…
Read the full tafseer →حرمت سود بنی اسرائیل میں بھی تھی :
آیت 161 : وَاَخْذِہِمُ الرِّبٰوا وَقَدْ نُہُوْا عَنْہُ (اور ان کے سود لینے کی وجہ سے حالانکہ ان کو سود سے منع کیا گیا تھا) بنی اسرائیل پر بھی سود اسی طرح حرام تھا جیسا ہم پر حرام ہے۔ مگر وہ آپس میں لیتے دیتے تھے۔
وَاَکْلِہِمْ اَمْوَالَ النَّاسِ بِالْبَاطِلِ (اور لوگوں کے مال ناجائز ذرائع سے کھانے کی وجہ سے) یعنی تمام حرام ذرائع اور رشوت وغیرہ۔ وَاَعْتَدْنَا لِلْکٰفِرِیْنَ مِنْہُمْ (اور ہم نے تیار کر رکھا ہے ان میں سے کفار کے لئے) نہ کہ ایمان والوں کے لئے۔ عَذَابًا اَلِیْمًا (درد ناک عذاب آخرت میں)
Read the full tafseer →(تفسیر) 161:
(آیت)” واخذھم الربوا وقد نھوا عنہ “۔ اس سے مراد توریت ہے (آیت)” واکلھم اموال الناس بالباطل “۔ اس سے مراد رشوت خوری ہے اور کھانے کی چیزیں جن کو وہ استعمال کرتے تھے ، اللہ نے ان کے لیے حلال چیزیں حرام کردیں ، جب بھی وہ کسی حرام کام کا ارتکاب کرتے تو ان سے پاک حلال چیزوں میں سے کوئی حرام قرار دی جاتی ۔ (آیت)” اذلک جزیناھم ببغیھم وانا لصادقون۔۔۔۔۔۔۔۔ ” واعتدنا للکافرین منھم عذابا الیما “۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 160–162
(160 ۔ 162) ۔ یہود کی طرح طرح کی سرکشی کے سبب سے حلال چیریں حرام ہوگئیں ان کی تفصیل سورة انعام میں آئے گی۔ کہ گائے بکری کی چربی وغیرہ یہود پر ان کی سرکشی کے سبب سے یہ چیزیں حرام ہوئی تھیں لیکن مشہور تفسیروں میں یہ تذکرہ کہیں نہیں ہے کہ کب اور کس نبی کے عہد میں یہ چیزیں یہود پر حرام ہوئیں۔ اس واسطے بعض مفسروں نے یہ کہا کہ خاص کسی نبی کے وقت میں یہ چیزیں حرام نہیں ہوئیں بلکہ جیسے جیسے یہود کی شرارت بڑھتی گئی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد مختلف زمانوں میں یہ چیزیں ان پر حرام ہوتی گئیں۔ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کے قول کے مطابق علم پر ثابت قدم اور ایمان والے وہ لوگ ہیں جو یہود میں سے شریعت محمدی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 154–161
آیت 154
اہل کتاب نے رسول اللہ ﷺ سے یہ سوال مطالبہ اور عناد کی بنا پر کیا تھا اور اسی پر انہوں نے اپنی تصدیق و تکذیب کو موقوف قرار دیا تھا اور ان کا سوال یہ تھا کہ ان پر تمام قرآن ایک ہی بار نازل ہوجائے جیسے تورات اور انجیل ایک ہی بار نازل ہوئی تھیں۔ یہ ان کی طرف سے اتنہائی ظالمانہ مطالبہ تھا کیونکہ رسول ﷺ تو ایک بشر اور بندے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی تدبیر کے تحت ہیں، رسول اللہ ﷺ کے اتھ میں تو کوئی اختیار نہیں۔ تمام اختیار اللہ تعالیٰ کے قبضہ قدرت میں ہے۔ وہی ہے جو اپنے بندوں پر جو چاہتا ہے نازل کرتا ہے۔ جس سرح اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کی طرف سے اس وقت فرمایا جب مشرکین نے اسی قسم کے…
Read the full tafseer →قول باری اخذھم الربواوقدنھواعنہ واکلھم اموال الناس بالباطلی، ان کی سود خوری کی بنا پر جبکہ انہیں اس سے منع کیا گیا تھا اور لوگوں کے مال ناجائز طریقے سے کھانے کی بنا پر) ۔ اس پر دلالت کرتا ہے کہ کفار بھی شرائع کے مخاطب بنائے گئے ہیں اور ان شرائع کے وہ مکلف ہیں نیز ان کے ترک پر وہ عقاب کے مستحق ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے سود خوری پر ان کی مذمت کی ہے اور یہ بتایا کہ اس پر انہیں سزا بھی دی گئی ہے۔
Read the full tafseer →417 یہود کی سود خوری کا بیان : سو یہ لوگ سود کھاتے ہیں حالانکہ اس سے ان کو منع کیا گیا تھا ان کے انبیاء کے ذریعے۔ اور ان کی تورات میں، جسے اب انہوں نے اپنی خواہشات کے مطابق بدل کر کچھ کا کچھ کردیا۔ اور یہ لوگ نور حق و صداقت سے محروم ہو کر ہویٰ و ہوس کے بندے بن کر رہ گئے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ یہاں تک کہ انہوں نے اپنی کتاب کی تحریف کرکے اس میں یہ تک درج کردیا کہ یہودی کیلئے غیر یہودی سے سود لینا کوئی جرم ہی نہیں۔ ہاں اگر کوئی یہودی دوسرے یہودی سے سود لے گا تو یہ جرم ہوگا جیسا کہ کتب تفسیر میں اس کی تفصیلات موجود و مذکور ہیں۔ (المراغی، المحاسن وغیرہ) ۔ کیونکہ ان کے نزدیک امیوں یعنی غیر اہل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 160–161
یہود پر پابندی
تشریح : جیسا کہ پہلے بھی بتایا گیا ہے کہ یہ بڑی ہی خراب قوم تھی نہ صرف یہ کہ خود ہی برائی کرتے بلکہ دوسروں کو بھی برائی کی ترغیب دیتے، نیک کاموں میں رکاوٹ ڈالتے، سود کھاتے، ناجائز مال بھی کھاتے، اسی لیے ان کی شریعت کے قانون سخت کردیئے گئے اور سزا کے طور پر سخت پابندیاں عائد کی گئیں، یعنی کئی حلال چیزیں ان پر حرام کردی گئیں اور نیک لوگوں کو چھوڑ کر باقی سب کے لیے آخرت میں درد ناک عذاب تیار کیا گیا ہے۔ مسلمان یا جو بھی شخص اپنی زندگی ان کی طرح گزارے گا۔ عذاب سے بچ نہ سکے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 153–162
رکوع نمبر 22 ۔ آیات 153 تا 162 ۔
بے عملی کے بہانے :
کج بحثی کرنا یہود کی پرانی عادت ہے اور اس بدبخت قوم کی تاریخ ہی یہ ہے کہ اللہ کے بندوں کو اللہ کے دین اور اللہ کے رسولوں کو انہوں نے بہت ایذاء پہنچائی اور ہمیشہ الٹ بات سوچتے اور کہتے بھی ہیں کرتے بھی الٹ ہیں۔ اب آپ ﷺ سے سوال کرتے ہیں آپ آسمان سے لکھی لکھائی کتاب لے کر آئیں پھر ہم ایمان لائیں گے مگر خود موسیٰ (علیہ السلام) سے جو طور پر سے لکھی لکھائی کتاب لے کر آگئے تھے انہوں نے اس سے بھی بہت بڑا سوال کردیا تھا اور وہ تھا کہ ہم کو کھلم کھلا اللہ کی زیارت کرا دیں جب مانیں گے اس زیادتی پر ان پر برق گری اور تباہ ہوگئے مگر موسیٰ (علیہ السلام) کی…
Read the full tafseer →ف 3 اس وقت جو توراۃ موجود ہے اس میں بھی متعدد مقامات پر سو دکوحرام قرار دیا گیا ہے۔ (دیکھئے کتاب خروج باب 22 ۔ 25 ۔ 27)4 یعنی رشوت جوا دھوکا اور دوسرے ناجائز ذرائع سے تمام گناہ دو قسم پر ہیں ظلم علی الخلق واعابض عن الحق آیت میں وبصدھم سے ظلم علی الخلق سے ہے (کبیر )
Read the full tafseer →(4:161) نھوا۔ نھی سے ماضی مجہول جمع مذکر غائب۔ ان کو منع کیا گیا۔ ان کو روکا گیا۔ نہی ینہی (فتح) ونہی ینہی نھوا۔ اصل میں نہیوا تھا۔ ماقبل مکسور کی وجہ سے یاء پر ضمہ دشوار تھا۔ اس لئے یہ ضمہ ماقبل کو دیا۔ اب ی اور و ساکنین ہونے کی وجہ سے ی گرگئی۔
جو چیزیں باوجود پہلے حلال ہونے کے اب اہل یہود پر حرام کردی گئی تھیں ان کی وجوہات یہ چار جرائم تھے۔ ان کا ظلم کرنا۔ لوگوں کو راہ حق سے روکنا۔ سود کھانا۔ اور لوگوں کا مال ناحق ہڑپ کرنا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 160–161
آیت نمبر 160-161
لغات القرآن : حرمنا، ہم نے حرام کردیا۔ احلت، حلال کی گئی (حلال کی گئیں) ۔ نھوا، وہ منع کیے گئے۔
تشریح : بنی اسرائیل کی ذلیل حرکات کا بیان قرآن کریم میں جا بجا آیا ہے مثلاً سورة بقرہ سورة بنی اسرائیل وغیرہ میں۔ ان آیات میں اور پچھلی آیات میں بھی چند واقعات بیان کئے گئے ہیں۔ اور کہا گیا ہے کہ کافروں کیلئے دردناک عذاب تیار کرلیا گیا ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ اگر کسی قوم نے اللہ کے راستے سے سب سے زیادہ لوگوں کو بھڑکایا ہے، ان کا راستہ روکا ہے اور مسلمانوں پر ظلم و زیادتی کی ہے۔ اگر کوئی قوم دین اسلام کی مخالفت میں سب سے آگے آگے رہی ہے تو وہ یہودی ہیں۔ آج بھی مسلمانوں اور خود دین اسلام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 160–162
یہود کی سرکشی کا انجام ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ یہود کی طرح طرح کی سرکشی کے سبب سے حلال چیزیں ان پر حرام کردی گئیں (جن کی تفصیل سورة انعام میں آوے گی) اس کے علاوہ انہوں نے بہیتروں کو راہ حق سے روکا کہ توریت کے احکام اور جناب پیغمبر آخر الزماں ﷺ کے اوصاف پلٹ دئے ، اور وہ سود لینے لگے حالانکہ اس سے روک دی گئے تھے ۔ اور لوگوں کا مال ناحق کھانے لگے ، اور بنی اسرائیل میں جو بدنصیب منکر ہیں وہ حق بات پر غور نہیں کرتے ، ہاں ان میں جو ذی علم اور بالیاقت (اہلیت والے) لوگ ہیں وہ حق بات کو سن سمجھ کر تسلیم کرتے ہیں ۔ اسی طرح اہل ایمان یعنی مہاجرین اور انصار جو کہ اللہ تعالیٰ کی اتاری ہوئی کتاب یعنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 159–162
[101] مطلب یہ ہے کہ تمام اہل کتاب پر مرنے سے عین قبل رسالت مسیح کی حقیقت منکشف ہوجاتی ہے اور وہ مسیح پر ایمان لاتے ہیں مگر یہ وہ وقت ہوتا ہے جب ایمان لانا مفید نہیں ہوسکتا۔
[102] یعنی عیسیٰ (علیہ السلام) یہ بتلائیں گے کہ فلاں فلاں نے میری تصدیق کی تھی اور فلاں فلاں نے میری تکذیب۔
Read the full tafseer →(ف 1) مقصد یہ ہے کہ یہودی تمام جائز نعمتوں سے اس لئے محروم ہوگئے کہ انہوں نے خود اس لئے لئے کوشش کی اور زہد وورع کے نام سے کئی چیزیں جو حلال تھیں کھانا چھوڑیں ، پھر جرائم اس قسم کے کئے کہ سزا کے مستحق ٹھہرے ۔
Read the full tafseer →ف 3 بالآخر یہود کے انہی بڑے بڑے گناہوں کے باعث ہم نے بہت سی وہ پاکیزہ چیزیں جو پہلے سے ان کے لئے حلال تھیں ان پر حرام کردیں یعنی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی شریعت میں ان کی حرمت کا حکم نازل کردیا اور نیز اسی سبب سے وہ چیزیں ان پر حرام ہی رہیں کہ وہ اپنی ناشائستہ حرکات سے باز نہ آتے اور وہ بہت لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی راہ سے روکتے تھے یعنی دین میں تحریف کر کے اور کتمان حق کر کے اللہ تعالیٰ کی راہ سے مانع ہوتے تھے اور نیز اس وجہ سے کہ یہ لوگ سود لیا کرتے تھے حالانکہ ان کو اس سود لینے سے توریت میں ممانعت کردی گئی تھی اور نیز اس وجہ سے کہ یہ لوگوں کے مال ناجائز اور غیر مشروع طریقہ پر کھا جاتے تھے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 160–161
ف 4۔ جرائم سے جو تحریم ہوئی وہ تحریم عام تھی گوجرائم سے بعض صلحاء محفوظ بھی تھے کیونکہ بہت سی حکمتوں کے اقتضاء سے عادة اللہ یونہی جاری ہے جیسا قرآن میں اس کی طرف اشارہ بھی ہے۔ حدیث میں بھی آیا ہے کہ بڑا مجرم وہ ہے جس کے بےضرورت سوال کرنے سے کوئی شے سب کے لیے حرام ہوجائے یعنی زمانہ وحی میں۔ اور شریعت محمدیہ میں جو چیزیں حرام ہیں وہ کسی مضرت جسمانی یاروحانی کی وجہ سے حرام ہیں کہ اس حثییت سے غیر طیب ہیں۔ پس تحریم طیبات نافعہ عقوبت وسیاست ہے اور تحریم طیبات ضارہ رحمت و حفاظت ہے۔
Read the full tafseer →یہودیوں کو سود منع کیا گیا تھا لیکن وہی دنیا کی پہلی قوم ہے جس نے سود کے طریقے ایجاد کئے :
252: توراۃ ہونے کے باوجود آج تک سود کی حرمت اس میں موجود ہے چناچہ تحریر ہے کہ ” اور اگر تیرا کوئی بھائی مفلس ہوجائے اور وہ تیرے سامنے تنگ دست ہو تو اسے سنبھالنا۔۔ تو اس سے سود یا نفع مت لینا بلکہ اپنے خدا کا خوف رکھنا تاکہ تیرا بھائی تیرے ساتھ زندگی بسر کرسکے تو اپناروپیہ اسے سود پر مت دینا اور اپنا کھانا بھی اسے نفع کے خیال سے نہ دینا۔ (احبار 25:35 ‘ 37) ” تو اپنے بھائی کو سود پر قرض نہ دینا خواہ وہ روپے کا سود ہو یا اناج کا سود یا کسی ایسی چیز کا سود ہو جو بیاج پر دی جایا کرتی ہے۔ “ ( استثناء 23:19 ‘…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 160–161
Mentioned earlier through several verses were the wrongdoings of Jews and the punishment they would get for doing so. The present verses talk about some other vices of theirs and mention yet another kind of punishment as well. This punishment will, obviously, visit them on the Day of Judgment. But, right here in this present world, the outcome will be that they will find many things already lawful for
them made unlawful as a measure of punishment.
Commentary
In the Shari` ah brought by the Holy Prophet Muhammad al Mustafa ﷺ there are some things too, known as Haram or unlawful, but these…
Read the full tafseer →201. The Torah categorically lays down the injunction: 'And if you lend money to any of my people with you who is poor, you shall not be to him as a creditor, and you shall not exact interest from him. If ever you take your neighbour's garment in pledge, you shall restore it to him before the sun goes down; for that is his only covering, it is his mantle for his body; in what else shall he sleep? And if he cries to me, I will hear, for I am compassionate' (Exodus 22: 25-7). This is one of several passages of the Torah which embody the prohibition of interest. The followers of the Torah,…
Read the full tafseer →