Explained with ayahs 160–162
یہودیوں کے خود ساختہ حلال و حرام
اس آیت کے دو مطلب ہوسکتے ہیں ایک تو یہ کہ حرام کام ان کا مقدر تھا یعنی اللہ کی طرف سے لکھا جا چکا تھا کہ یہ لوگ اپنی کتاب کو بدل دیں، اس میں تحریف کرلیں اور حلال چیزوں کو اپنے اوپر حرام ٹھہرا لیں، صرف اپنے تشدد اور اپنی سخت گیری کی وجہ سے، دوسرا یہ کہ یہ حرمت شرعی ہے یعنی نزول تورات سے پہلے جو بعض چیزیں ان پر حلال تھیں، توراۃ کے اترنے کے وقت ان کی بعض بدکاریوں کی وجہ سے وہ حرام قرار دے دی گئیں جیسے فرمان ہے آیت (كُلُّ الطَّعَامِ كَانَ حِلًّا لِّبَنِىْٓ اِ سْرَاۗءِيْلَ اِلَّا مَا حَرَّمَ اِسْرَاۗءِيْلُ عَلٰي نَفْسِھٖ مِنْ قَبْلِ اَنْ تُنَزَّلَ التَّوْرٰىةُ ۭ…
Read the full tafseer →سورة النِّسَآء 198
جملہ معترضہ ختم ہونے کے بعد یہاں سے پھر وہی سلسلہ تقریر شروع ہوتا ہے جو اوپر سے چلا آرہا تھا۔
سورة النِّسَآء 199
یعنی صرف اسی پر اکتفا نہیں کرتے کہ خود اللہ کے راستے سے منحرف ہیں، بلکہ اس قدر بےباک مجرم بن چکے ہیں کہ دنیا میں خدا کے بندوں کو گمراہ کرنے کے لیے جو تحریک بھی اٹھتی ہے، اکثر اس کے پیچھے یہودی دماغ اور یہودی سرمایہ ہی کام کرتا نظر آتا ہے، اور راہ حق کی طرف بلانے کے لیے جو تحریک بھی شروع ہوتی ہے اکثر اس کے مقابلہ میں یہودی ہی سب سے بڑھ کر مزاحم بنتے ہیں، درآں حالے کہ یہ کم بخت کتاب اللہ کے حامل اور انبیاء کے وارث ہیں۔ ان کا تازہ ترین جرم یہ اشتراکی تحریک ہے جسے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 160–161
ربط آیات
گزشتہ آیات میں یہود کی شرارتوں کا اور ان شرارتوں کی وجہ سے ان کی سزا کا ذکر تھا، ان آیات میں بھی ان کی کچھ اور قباحتوں کا بیان ہے اور سزا کی ایک اور نعمت کا بھی ذکر ہے، وہ یہ کہ قیامت میں تو انہیں عذاب ہوگا ہی، اس دنیا میں بھی ان کی گمراہی کا یہ نتیجہ ہوا کہ بہت سی پاکیزہ چیزیں جو پہلے سے حلال تھیں بطور سزا کے ان پر حرام کردی گئی ہیں۔
خلاصہ تفسیر
سو یہود کے انہی بڑے بڑے جرائم کے سبب (جن میں سے بہت سے امور سورة بقرہ میں ذکر کئے) ہم نے بہت سی پاکیزہ (یعنی حلال و نافع اور لذیذ) چیزیں جو (پہلے سے) ان کے لئے (بھی) حلال تھیں (جیسا آیت کل الطعام کان حلا لبنی اسرآئیل (3: 39) میں ہے) ان پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 160–161
160۔ 161:۔ فَبِظُلْمٍ مِّنَ الَّذِيْنَ هَادُوْا حَرَّمْنَا عَلَيْهِمْ طَيِّبٰتٍ اُحِلَّتْ لَهُمْ وَبِصَدِّهِمْ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ كَثِيْرًا۔ وَّاَخْذِهِمُ الرِّبٰوا وَقَدْ نُھُوْا عَنْهُ وَاَ كْلِهِمْ اَمْوَالَ النَّاسِ بِالْبَاطِلِ ۭوَاَعْتَدْنَا لِلْكٰفِرِيْنَ مِنْهُمْ عَذَابًا اَلِـــيْمًا۔
یہود پر جائز چیزوں کے حرام ہونے کی نوعیت : فَبِظُلْمٍ مِّنَ الَّذِيْنَ هَادُوْا حَرَّمْنَا عَلَيْهِمْ ، میں لفظ ظلم کی تقدم سے یہ مفہوم پیدا ہوتا ہے کہ وہ یہود پر حلال چیزیں جو حرام ہوئیں تو یہ بھی خود انہی کے اپنے نفس پر ظلم کرنے کے سبب سے حرام ہوئیں، اللہ نے ان پر کوئی ظلم نہیں کیا۔ جائز چیزوں کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 160–161
160۔ 1 یعنی ان کے ان جرائم و معاصی کی وجہ سے بطور سزا بہت سی حلال چیزیں ہم نے ان پر حرام کردی تھیں (جن کی تفصیل سورة الآنعام۔ 146 میں ہے)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 160–170
94: اس کی تفصیل انشاء اللہ سورة انعام (146:6) میں آئے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 160–161
(آیت) ” فبظلم من الذین ھادوا حرمنا علیھم طیبت احلت لھم وبصدھم عن سبیل اللہ کثیرا ‘(160) واخذھم الربوا وقد نھو عنہ واکلھم اموال الناس بالباطل واعتدنا للکفرین منھم عذابا الیما (161) (4 : 160۔ 161)
(۔ غرض ان یہودیوں کے اسی ظالمانہ رویے کی بناء پر اور اس بناء پر کہ یہ بکثرت اللہ کے راستے سے روکتے ہیں ‘ اور سود لیتے ہیں جس سے انہیں منع کیا گیا تھا اور لوگوں کے مال ناجائز طریقوں سے کھاتے ہیں ‘ ہم نے بہت سی وہ پاک چیزیں ان پر حرام کردیں جو پہلے ان کیلئے حلال تھیں ‘ اور وہ لوگ جو ان میں سے کافر ہیں ان کیلئے ہم نے دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے ۔ )
چناچہ اس آیت کے ذریعے ان کے سابقہ منکرات میں کچھ مزید…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 160–161
3 یہود کی اگلی پچھلی سخت شرارتیں ذکر فرما کر جس سے ان کی سرکشی اور ان کا گناہوں پر دلیر ہونا ظاہر ہوگیا اب فرماتے ہیں کہ اسی واسطے ہم نے ان پر شریعت بھی سخت رکھی کہ ان کی سرکشی ٹوٹے تو اب یہ شبہ نہ رہا کہ تحریم طیبات تو ان پر تورات میں کی گئی تھی اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے مخالفت کرنا اور حضرت مریم پر تہمت لگانا نزول تورات کے بہت بعد میں ہوا تو سزا جرم سے مقدم کیسے ہوگئی اس تمام رکوع کا خلاصہ یہ ہوا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے زمانہ سے اہل کتاب برابر ایک سے ایک زائد شرارت اور نافرمانی اور عہد شکنی اور حضرات انبیاء کو ایذاء رسانی کرتے چلے آئے ہیں اب اگر اے محمد رسول اللہ ﷺ تم سے عنادا…
Read the full tafseer →آیت 160 فَبِظُلْمٍ مِّنَ الَّذِیْنَ ہَادُوْا حَرَّمْنَا عَلَیْہِمْ طَیِّبٰتٍ اُحِلَّتْ لَہُمْ
اللہ تعالیٰ کی ایک سنت یہ بھی ہے کہ کوئی قوم اگر کسی معاملے میں حد سے گزرتی ہے تو سزا کے طور پر اسے حلال چیزوں سے بھی محروم کردیا جاتا ہے۔ یہاں پر یہی اصول بیان ہو رہا ہے۔ مثلاً اگر حضرت یعقوب علیہ السلام نے اونٹ کا گوشت کھانا چھوڑ دیا تھا تو اللہ تعالیٰ نے تورات میں اس کی صراحت نہیں کی کہ یہ حرام نہیں ہے ‘ یہ تو محض تمہارے نبی علیہ السلام کا بالکل ذاتی قسم کا فیصلہ ہے ‘ بلکہ اللہ نے کہا کہ ٹھیک ہے ‘ ان کی یہی سزا ہے کہ ان پر تنگی رہے اور اس طرح ان کے کرتوتوں کی سزا کے طور پر حلال چیزیں بھی ان پر…
Read the full tafseer →209 گمراہ کن نظاموں کے موجد یہودی ہیں :۔ یہود کی بدکرداریوں کا سلسلہ ابھی مزید چل رہا ہے۔ اس آیت میں جو جرم بیان ہوا ہے وہ یہ ہے کہ وہ نہ تو خود ایمان لاتے ہیں اور نہ دوسروں کو ایمان لانے دیتے ہیں بلکہ جو شخص ایمان لانے پر آمادہ ہو ان کے ذہن میں کئی طرح کے شکوک و شبہات پیدا کر کے اسے اللہ کی راہ سے باز رکھتے ہیں۔ اور یہ سلسلہ صرف دور نبوی سے ہی متعلق نہیں بلکہ غالباً یہ بدبختی بھی تاقیامت انہی یہود کا مقدر ہوچکی ہے۔ موجودہ دور میں فلسفہ اشتراکیت کا موجد ایک یہودی تھا جسے یہودی دماغوں نے ہی ایک نظام کی شکل دی۔ اور اس نظریہ کی بنیاد ہی اللہ تعالیٰ کے صریح انکار پر قائم ہوتی ہے۔ آج کا دوسرا…
Read the full tafseer →407 ۔ جس طرح افراد کے نفس سرکش کی اصلاح کی ایک صورت یہ ہے کہ بعض مباحات سے بھی اسے روک دیا جائے، اسی طرح جب قوم کا مزاج اعتدال سے منحرف ہوجاتا ہے تو اس کے لیے بھی مناسب صورت یہی ہوتی ہے کہ جن جائز چیزوں کی وہ عادی تھی، ان سے اسے محروم کردیا جائے ” بظلم “ میں با سببیہ ہے۔ اس سے یہ صاف نکل آیا کہ امت اسرائیلی پر بعد کو جو کچھ بھی سختیاں ہوئیں، خود انہی کی زیادتیوں کی بدولت ہوئیں، بلاوجہ نہیں ہوئیں، مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ معاصی کے سبب سالک سے واردات کا قبض اسی کے مشابہ ہے۔
408 ۔ یہود کی قومی فرد جرم کی یہ دوسری دفعہ ہے۔ یعنی خود اپنی جانوں پر تو وہ ظلم کر ہی رہے تھے، ان کی گمراہی متعدی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 160–162
فبظلم من الذین ھادو احرمنا، جملہ معترضہ ختم ہونے کے بعد یہاں سے پھر وہی سلسلہ کلام شروع ہوتا ہے جو اوپر سے چلا آرہا تھا، یعنی صرف اسی پر اکتفاء نہیں کرتے کہ خود اللہ کے راستہ سے منحرف ہیں بلکہ اس قدر بےباک مجرم بن گئے ہیں کہ دنیا میں خدا کے بندوں کو گمراہ کرنے کے لئے جو تحریک بھی اٹھتی ہے اکثر اس کے پیچھے یہودی دماغ اور یہودی سرمایہ ہی کار فرما ہوتا ہے، اور راہ حق کی دعوت کیلئے جو تحریک بھی شروع ہوتی ہے اس راہ کے سنگ گراں یہودی ہی ہوتے ہیں۔
مفید بحث : یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ ان دنوں شام و فلسطین کی غالب آبادی یہودیوں کی تھی اور حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰة والسلام بھی اسی کے ایک فرد تھے، گو کہ…
Read the full tafseer →فبظلم من الذین ہادوا پھر یہودیوں کی بےجا حرکتوں کی وجہ سے ہی ظلم سے مراد وہی بےجا حرکات ہیں جن کا ذکر اوپر کردیا گیا ہے یعنی وعدہ شکنی آیات خداوندی کا انکار۔ قتل انبیاء۔ مریم ( علیہ السلام) پر تہمت تراشی اور فخر کے ساتھ قتل مسیح کا دعویٰ کرنا۔
حرمنا علیہم طیبت احلت لہم وہ پاکیزہ چیزیں ہم نے ان کے لئے حرام کردیں۔ جو پہلے حلال کردیں گئی تھیں۔ ان طیبت محرمہکا ذکر سورة الانعام کی ان آیات میں کیا گیا ہے وَعَلَیَ الَّذِیْنَ ہَادُوْا حَرَّمْنَا کُلَّ ذِیْ ظُفُرٍسے وَاِنَّا لَصَادِقُوْنَتک۔
یہ بھی احتمال ہے کہ طیّبَات سے مراد جنت کی پاکیزہ نعمتیں ہوں یہ مطلب آیت : وَاَعْتَدْنَا لِلْکَافِرِیْنَکے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 160–161
(160۔ 161) اور ان یہودیوں کے ظلم کرنے اور دین خداوندی سے روکنے اور سود کو حلال سمجھنے کی وجہ سے اللہ ان پر ناراض ہے حالانکہ توریت میں ان تمام امور کی صراحتا ممانعت کردی گئی تھی اور پھر مزید یہ کہ ظلم اور رشوت کے زریعے لوگوں کا مال کھانے کی وجہ سے وہ پاکیزہ چیزیں جو تمہارے لیے حلال تھیں اللہ کی طرف سے حرام کردی گئیں جیسا کہ چربیاں، اونٹ کا گوشت اور اس کا دودھ وغیرہ۔
اور ان یہودیوں کے لیے ایسا عذاب ہے کہ اس کی شدت ان کے دلوں تک سرایت کر جائے گی۔
Read the full tafseer →فَبِظُلْمٍ مِّنَ الَّذِيْنَ هَادُوْا ”فَبِظُلْمٍ“ میں تنوین تعظیم کے لیے ہے اور جار مجرور پہلے آنے کی وجہ سے تخصیص پیدا ہوگئی، اس لیے ترجمہ ”ان کے بڑے ظلم ہی کی وجہ سے“ کیا گیا ہے۔
یہود کی سرکشی اور شرارتیں ذکر کرنے کے بعد اب ان پر سختی کا ذکر ہے۔ (کبیر)
حَرَّمْنَا عَلَيْهِمْ طَيِّبٰتٍ اُحِلَّتْ لَهُمْ۔۔ : پاکیزہ چیزوں کی یہ حرمت کچھ تو ان کی سرکشی کی بنا پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے تھی، کیونکہ وہ گناہ پر بہت دلیر تھے، تاکہ ان کی سرکشی کچھ ٹوٹے، یہ شرعی حرمت تھی، جیسا کہ سورة انعام (146) میں ہے اور کچھ چیزیں انھوں نے اپنے احبارو رہبان کو حلال و حرام کا اختیار دے کر ان کے حرام قرار دینے کی وجہ سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 160–161
آیت نمبر : 160 تا 161۔
اس آیت میں دو مسئلے ہیں :
مسئلہ نمبر : (1) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” فبظلم من الذین ھادوا “۔ زجاج نے کہا : یہ (آیت) ” فبما نقضھم “۔ سے بدل ہے، اور (آیت) ” طیبت “۔ سے مراد وہ چیزیں ہیں جن کا ذکر اس آیت میں ہے۔ (آیت) ” وعلی الذین ھادوا حرمنا کل ذی ظفر “۔ (الانعام : 146) اور ظلم کو تحریم پر مقدم فرمایا، کیونکہ ظلم کے متعلق خبر دینے کا مقصود یہی بیان کرنا ہے کہ یہ تحریم کا سبب ہے۔ (آیت) ” وبصدھم عن سبیل اللہ “۔ یعنی وہ اپنے آپ کو اور دوسروں کو حضرت محمد ﷺ کی اتباع سے روکتے ہیں، (آیت) ” واخذھم الربوا وقد نھوا عنہ واکلھم اموال الناس بالباطل “۔ یہ سب اس ظلم کی تفسیر ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 160–161
(1) سعید بن منصور وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” طیبت کانت احلت لہم “ پڑھا، (یعنی احلت لہم سے پہلے کانت پڑھا) ۔
(2) عبدبن حمید وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا لفظ آیت ” فبظلم من الذین ھادوا حرمنا علیہم طیبت احلت لہم “ سے مراد ہے کہ قوم یہود کو سزا دی جائے گی اس ظلم کے بدلے میں جو انہوں نے ظلم کیا اور اس بغاوت کے بدلے میں جو انہوں نے بغاوت کی ان پر کچھ اشیاء حرام کردی گئیں ان کی سرکشی اور ان کے ظلم کی وجہ سے۔
(3) عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” وبصدہم عن سبیل اللہ کثیرا “ یعنی اپنے آپ کو اور دوسروں کو…
Read the full tafseer →[ فَبِظُلْمٍ : پس ظلم کے سبب سے ] [ مِّنَ الَّذِیْنَ : ان میں سے جو ] [ ہَادُوْا : یہودی ہوئے ] [ حَرَّمْنَا : ہم نے حرام کیں ] [ عَلَیْہِمْ : ان پر ] [ طَیِّبٰتٍ : کچھ ایسی پاکیزہ چیزیں جو ] [ اُحِلَّتْ : حلال کی گئی تھیں ] [ لَہُمْ : ان کے لیے ] [ وَبِصَدِّہِمْ : اور ان کے روکنے کے سبب سے ] [ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ : اللہ کے راستے سے ] [ کَثِیْرًا : بہتوں کو ]
ترکیب :” طیبت “ نکرہ موصوفہ ہے اور ” احلت “ اس کی صفت ہے۔ ” بصدھم “ کے ” با “ سببیہ پر عطف ہونے کی وجہ سے ” اخذھم “ اور ” اکلھم “ مجرور ہوئے ہیں۔ ” والمقیمین “ اسم الفاعل ہے اور حال ہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔
Read the full tafseer →حرام خوری اور سود لینے کی وجہ سے یہودی پاکیزہ چیزوں سے محرم کر دئیے گئے
ان آیات میں یہ ارشاد فرمایا ہے کہ یہودیوں پر وہ حلال اور طیب چیزیں حرام کردی گئیں جو ان کے لیے حلال تھیں۔ اور یہ اس وجہ سے حرام کی گئیں کہ انہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا بڑے بڑے گناہوں کا ارتکاب کیا جس میں نقض عہد اور حضرات انبیاء ( علیہ السلام) کا قتل بھی شامل ہے، نیز وہ کثرت کے ساتھ یہ کام بھی کرتے رہے کہ اللہ کے راستے سے لوگوں کو روکا۔ اللہ کے نبیوں کو جھٹلایا اور اپنے نفسوں کو اور دوسروں کو ان کے اتباع سے روکا، اور اس وجہ سے بھی پاکیزہ چیزیں ان پر حرام کی گئیں کہ وہ سود لیتے رہے حالانکہ توریت شریف میں ان کو اس کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 160–162
تتمہ ذمائم یہود۔
قال اللہ تعالی، فبظلم من الذین۔۔۔ الی۔۔۔ عظیما۔
گزشتہ آیات میں یہود کی نافرمانیوں اور سرکشیوں کو بیان فرمایا اور اب ان آیات میں بھی ان کی چند نافرمانیوں اور سرکشیوں کا ذکر کرتے ہیں مثلا سود کھانا اور رشوت لینا اور خدا کی راہ سے روکنا اور لوگوں کا مال ناحق اپنے تصرف میں لانا اور ان شرارتوں کے علاوہ ان بعض عقوبتوں اور سزاؤں کا بھی ذکر کرتے ہیں کہ جو دنیا میں ان پر نازل ہوئیں من جملہ ان سزاؤں میں سے ایک سزایہ تھی کہ بہت سی حلال چیزیں ان کی نافرمانیوں کی وجہ سے ان پر حرام کردی گئیں جیسا کہ سورة انعام کی آیت میں اس کی تفصیل ہے، وعلی الذین ھادوا۔۔۔ الی۔۔۔ لصادقون۔ آیت۔ یعنی ان پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 160–161
ٖ 107 پہلے فَبِمَا نَقْضِہِم وَ قَوْلَہِمْ ، وَ کُفْرِہِمْ وَ قَتْلِہِمْ سے یہود کی خباثتیں بیان کیں اور ان کی جزا بیان نہیں کی تھی اس لیے بعد عہد کی وجہ فَبِظُلْمٍ کی جامع تعبیر سے ان کی خباثتوں کے ذکر کا اعادہ کیا اور پھر حَرَّمْنَا عَلَیْھِمْ سے ان کی سزا بیان کی یعنی یہ حرمت طیبات کا حکم ان مزکورہ بالا اسباب کی بنا پر نافذ کیا گیا اور ان شرارتوں کی ان کو یہ سزا دی گئی کہ بعض حلال اور پاکیزہ چیزیں ان پر حرام کردی گئیں۔ لیکن حضرت شیخ فرماتے ہیں کہ یہاں طَیِّبَات سے وہ چیزیں مراد نہیں ہیں جو سورة انعام کی اس آیت میں مذکور ہیں۔ وَعَلَی الَّذِیْنَ ھَادُوْا حَرَّمْنَا کُلَّ ذِیْ ظُفُرٍ الایۃ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 160–162
ربط آیات
گزشتہ کئی دروس سے اہل کتاب کی خرابیوں کا تذکرہو رہا ہے اور یہدرس بھی اسی سلسلہ کی کڑی ہے۔ اہل کتاب نے عناد کی وجہ سے کہا کہ اگر آپ اللہ کے نبی ہیں تو کتاب یکبارگی کیوں نہیں لے آتے ، جیسا کہ پہلے نبی لائے۔ اس اعتراض کا حقیقی جواب تو اگلے رکوع میں آئے گا ، تاہم گزشتہ درس میں ہے اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کو تسلی دی کہ آپ اہت کتاب کے فضول اعتراضات سے دل برداشتہ نہ ہوں ، اس ضدی قوم نے آپ سے پہلے انبیاء پر اس سے بھی بڑے بڑے سوال کیے۔ انہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) سے رویت الٰہی کا مطالبہ کیا ، اللہ تعالیٰ نے انہیں فوراً سزا دی اور ایک بجلی آئی جس نے انہیں جلا کر ہلاک کردیا ، پھر حضرت موسیٰ (علیہ…
Read the full tafseer →فَبِظُلْمٍ مِّنَ الَّذِيْنَ ہَادُوْا حَرَّمْنَا عَلَيْہِمْ طَيِّبٰتٍ اُحِلَّتْ لَہُمْ وَبِصَدِّہِمْ عَنْ سَبِيْلِ اللہِ كَثِيْرًا 160ۙ
ظلم
وَالظُّلْمُ عند أهل اللّغة وكثير من العلماء : وضع الشیء في غير موضعه المختصّ به، إمّا بنقصان أو بزیادة، وإمّا بعدول عن وقته أو مکانه،
قال بعض الحکماء : الظُّلْمُ ثلاثةٌ:
الأوّل : ظُلْمٌ بين الإنسان وبین اللہ تعالی،
وأعظمه : الکفر والشّرک والنّفاق، ولذلک قال :إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ [ لقمان/ 13]
والثاني : ظُلْمٌ بينه وبین الناس،
وإيّاه قصد بقوله : وَجَزاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ إلى قوله : إِنَّهُ لا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ وبقوله : إِنَّمَا السَّبِيلُ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 160–162
ترکیب : فبظلم ب حرمنا سے متعلق ہے وبصدھم متعلق ہے حرمنا سے واخذھم اس پر معطوف اور اسی طرح اکلہم اور یہ سب مصادر فاعل کی طرف مضاف ہیں۔ الراسخون مبتداء فی العلم اس سے متعلق منہم راسخون سے حال والمؤمنون معطوف ہے الراسخون پر اور خبر اس کی یؤمنون ہے وقیل سنؤتیھم والمقیمین منصوب علی المدح ہے ای اعنی المقیمین وقیل انہ معطوف علی مافیہ وما فیہ والمؤمنون معطوف علیہ المؤمنون معطوف پھر یہ الراسخون پر معطوف ہیں۔
تفسیر : یہود کے اوصاف ذمیمہ کے بعد جو کچھ ان پر سزائیں نازل ہوئیں ان کا ذکر کیا جاتا ہے۔ منجملہ اور سزائوں کے ایک یہ بھی تھی کہ ان پر شریعت کا سخت گراں بوجھ ڈالا گیا۔ بہت سی حلال چیزیں حرام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 160–161
فَبِظُلْمٍ مِّنَ الَّذِیْنَ ھَادُوْا حَرَّمْنَا عَلَیْہِمْ طَیِّبٰتٍ اُحِلَّتْ لَہُمْ وَ بِصَدِّہِمْ عَنْ سَبِیلِ اللّٰہِ کَثِیْرًا لا وَّاَخْذِہِمُ الرِّبٰوا وَ قَدْ نُہُوْا عَنْہُ وَاَکْلِہِمْ اَمْوَالَ النَّاسِ بِالْبَاطِلِ ط وَاَعْتَدْنَا لِلْکٰفِرِیْنَ مِنْہُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا
” پس بسبب ان یہودی بن جانے والوں کے ظلم کے ہم نے بعض پاکیزہ چیزیں ان پر حرام کردیں جو ان کے لیے حلال کی گئی تھیں اور بسبب اس کے کہ وہ اللہ کے راستے سے بہت روکتے تھے اور بوجہ ان کے سود لینے کے حالانکہ انھیں اس سے روکا گیا تھا اور بوجہ اس کے کہ وہ لوگوں کا مال ناجائز طریقوں سے کھاتے تھے اور ہم نے ان جیسے کافروں کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 158–160
لوگوں کے تعجب کو دور کرنے اور نام نہاد دانشوروں کی دانش کو لگام دینے کے لییعزِیْزاً حَکِیْماً کے الفاظ کے ذریعے وضاحت فرمائی کہ اللہ تعالیٰ انہیں آسمان کی طرف اٹھانے اور ان کے دشمنوں سے بچانے پر قادر ہے اللہ تعالیٰ انھیں آسمان پر اٹھانے اور قیامت کے قریب زمین پر بھیجنے کا راز جانتا ہے لہٰذا عیسیٰ (علیہ السلام) کے رفع آسمانی کے بارے میں اختلاف کرنے والے صرف اٹکل پچو سے کام لے رہے ہیں۔ یہاں یہودیوں کے دعویٰ کی تردید کرتے ہوئے وضاحت فرمائی کہ یقیناً عیسیٰ (علیہ السلام) سولی نہیں چڑھائے گئے۔ مزید ارشاد فرمایا کہ اہل کتاب اپنی موت سے پہلے اس بات پر ایمان لائیں گے یہاں اہل کتاب سے مراد وہ لوگ ہیں…
Read the full tafseer →آیت 160 : فَبِظُلْمٍ مِّنَ الَّذِیْنَ ہَادُوْا حَرَّمْنَا عَلَیْہِمْ طَیِّبٰتٍ اُحِلَّتْ لَہُمْ (یہودیوں کی بےجا حرکتوں کی وجہ سے ہم نے ان پر پاکیزہ چیزیں حرام کردیں جو ان پر حلال کی گئیں تھیں) اور اس کا تذکرہ سورة انعام کی اس آیت : وعلی الذین ہادوا حرمنا کل ذی ظفر (الانعام۔ 146) میں ہے
آیت کا مطلب :
اب آیت کا مطلب یہ ہوا ہم نے ان پر طیبات حرام نہیں کیں مگر اس عظیم ظلم کی وجہ سے جس کا انہوں نے ارتکاب کیا اور وہ وہی ہے جو ابھی شمار کیا گیا ہے : وَبِصَدِّہِمْ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ (اور اللہ تعالیٰ کے راستہ سے روکنے کے سبب سے) یعنی دوسروں کو ایمان سے روکنے کی وجہ سے۔ کَثِیْرًا (بہت زیادہ) یعنی…
Read the full tafseer →160۔ (آیت)” فبظلم من الذین ھادوا “۔ جو انہوں نے عہد توڑا تھا اور اللہ کی آیات کا انکار کیا اور حضرت مریم (علیہا السلام) پر جھوٹا بہتان باندھا اور ان کا قول کہ حضرت مسیح (علیہ السلام) کو قتل کردیا ۔ (آیت)” حرمنا علیھم طیبات احلت لھم “۔ جیسا کہ ماقبل سورة انعام میں گزر چکا۔ (آیت)” وعلی الذین ھادوا حرمنا کل ذی ظفر “۔ آیت کا نظم اس طرح ہے (آیت)” فبظلم من الذین ھادوا “۔ ” وبصدھم “ اپنے نفسوں پر انہوں نے زیادتی کی ۔ ” عن سبیل اللہ کثیرا “۔ یعنی اللہ کے دین سے بہت ساروں کو روکنے کی وجہ سے ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 160–162
(160 ۔ 162) ۔ یہود کی طرح طرح کی سرکشی کے سبب سے حلال چیریں حرام ہوگئیں ان کی تفصیل سورة انعام میں آئے گی۔ کہ گائے بکری کی چربی وغیرہ یہود پر ان کی سرکشی کے سبب سے یہ چیزیں حرام ہوئی تھیں لیکن مشہور تفسیروں میں یہ تذکرہ کہیں نہیں ہے کہ کب اور کس نبی کے عہد میں یہ چیزیں یہود پر حرام ہوئیں۔ اس واسطے بعض مفسروں نے یہ کہا کہ خاص کسی نبی کے وقت میں یہ چیزیں حرام نہیں ہوئیں بلکہ جیسے جیسے یہود کی شرارت بڑھتی گئی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد مختلف زمانوں میں یہ چیزیں ان پر حرام ہوتی گئیں۔ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کے قول کے مطابق علم پر ثابت قدم اور ایمان والے وہ لوگ ہیں جو یہود میں سے شریعت محمدی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 154–161
آیت 154
اہل کتاب نے رسول اللہ ﷺ سے یہ سوال مطالبہ اور عناد کی بنا پر کیا تھا اور اسی پر انہوں نے اپنی تصدیق و تکذیب کو موقوف قرار دیا تھا اور ان کا سوال یہ تھا کہ ان پر تمام قرآن ایک ہی بار نازل ہوجائے جیسے تورات اور انجیل ایک ہی بار نازل ہوئی تھیں۔ یہ ان کی طرف سے اتنہائی ظالمانہ مطالبہ تھا کیونکہ رسول ﷺ تو ایک بشر اور بندے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی تدبیر کے تحت ہیں، رسول اللہ ﷺ کے اتھ میں تو کوئی اختیار نہیں۔ تمام اختیار اللہ تعالیٰ کے قبضہ قدرت میں ہے۔ وہی ہے جو اپنے بندوں پر جو چاہتا ہے نازل کرتا ہے۔ جس سرح اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کی طرف سے اس وقت فرمایا جب مشرکین نے اسی قسم کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 148–160
مظلوم کی آہ سے بچو
قول باری ہے لایحب اللہ الجھربالتوء من القول الامن ظلم، اللہ اس کو پسند نہیں کرتا کہ آدمی بدگوئی پر زبان کھولے، الا یہ کہ کسی پر ظلم کیا گیا ہو۔ حضرت ابن عباس ؓ اور قتادہ کا قول ہے ” الایہ کہ مظلوم اپنے ظالم کے لئے بددعا کرے “۔ مجاہد سے ایک روایت ہے ” الایہ کہ مظلوم ظالم کی طرف سے ڈھائے جانے والے ظلم کی لوگوں کو اطلاع دے “۔ حسن اور سدی کا قول ہے ” الایہ کہ مظلوم ظالم سے اپنا بدلہ لے لے “۔ فرات بن سلیمان نے ذکر کیا ہے کہ عبدالکریم سے اس قول باری کے معنی پوچھے گئے تو انہوں نے کہا ” یہ وہ شخص ہے جو تمہیں برا بھلا کہتا ہے اور جواب میں تم بھی اسے برا بھلا کہہ دیتے ہو لیکن اگر وہ…
Read the full tafseer →414 یہودیوں کے ظلم عظیم کا بیان : یعنی ظلمٍ کی تنوین تعظیم و تفخیم کے لئے ہے (محاسن التاویل، وغیرہ) ۔ اور ظاہر ہے کہ اللہ پاک کے دین سے خود محروم ہونے، دوسروں کو بھی محروم کرنے، اللہ کے حکموں کو توڑنے، اور ان میں تحریف و تبدیل کرنے، اور اس کے دین حق کے حاملین کی توہین و تحقیر کا ارتکاب کرنے، اور حق اور اہل حق سے عداوت و دشمنی رکھنے، اور نور حق و ہدایت سے خود محروم ہونے کے ساتھ ساتھ دوسروں کو بھی اس سے محروم کرنے کے لئے طرح طرح کے حیلوں حوالوں، اور منصوبوں سے کام لینے، جیسے امور سے بڑھ کر ظلم اور کیا ہوسکتا ہے ؟ ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو یہودیوں کے ایسے مظالم کی اس تذکیر و یاد دہانی سے جہاں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 160–161
یہود پر پابندی
تشریح : جیسا کہ پہلے بھی بتایا گیا ہے کہ یہ بڑی ہی خراب قوم تھی نہ صرف یہ کہ خود ہی برائی کرتے بلکہ دوسروں کو بھی برائی کی ترغیب دیتے، نیک کاموں میں رکاوٹ ڈالتے، سود کھاتے، ناجائز مال بھی کھاتے، اسی لیے ان کی شریعت کے قانون سخت کردیئے گئے اور سزا کے طور پر سخت پابندیاں عائد کی گئیں، یعنی کئی حلال چیزیں ان پر حرام کردی گئیں اور نیک لوگوں کو چھوڑ کر باقی سب کے لیے آخرت میں درد ناک عذاب تیار کیا گیا ہے۔ مسلمان یا جو بھی شخص اپنی زندگی ان کی طرح گزارے گا۔ عذاب سے بچ نہ سکے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 153–162
رکوع نمبر 22 ۔ آیات 153 تا 162 ۔
بے عملی کے بہانے :
کج بحثی کرنا یہود کی پرانی عادت ہے اور اس بدبخت قوم کی تاریخ ہی یہ ہے کہ اللہ کے بندوں کو اللہ کے دین اور اللہ کے رسولوں کو انہوں نے بہت ایذاء پہنچائی اور ہمیشہ الٹ بات سوچتے اور کہتے بھی ہیں کرتے بھی الٹ ہیں۔ اب آپ ﷺ سے سوال کرتے ہیں آپ آسمان سے لکھی لکھائی کتاب لے کر آئیں پھر ہم ایمان لائیں گے مگر خود موسیٰ (علیہ السلام) سے جو طور پر سے لکھی لکھائی کتاب لے کر آگئے تھے انہوں نے اس سے بھی بہت بڑا سوال کردیا تھا اور وہ تھا کہ ہم کو کھلم کھلا اللہ کی زیارت کرا دیں جب مانیں گے اس زیادتی پر ان پر برق گری اور تباہ ہوگئے مگر موسیٰ (علیہ السلام) کی…
Read the full tafseer →ان کو شرارتوں کے ذکر کے بعد ان پر تشد کا ذکر ہے (کبیر) یہاں طیبات سے مراد ان انعامات کا موقوف کردینا ہے جو باشاہی نبوت ونصرت وغیرہ شکل میں ان کو حاصل تھے۔ وایں مشابہ ایں آیت است وضربت علیہم الزلتہ (فتح الرحمن)2 یعنی اوپر سب شرارتیں جو ان کی ذکر کیں بعض پہلے بیان ہوئیں اور بعض پیچھے لیکن یہ کہ گناہ پر دلیر تھے اس واسطے ان کی شریعت سخت رکھی کہ سرکشی ٹوٹے۔ (موضح)
Read the full tafseer →(4:160) فبظلم میں باء سببیہ ہے۔
یصدھم۔ صد۔ روکنا ۔ رکنا ۔ صد یصد (نصر) کا مصدر ۔ ان کے (لوگوں کو اللہ کے راستے سے) روکنے کی وجہ سے۔
کثیرا۔ ناسا کثیرا۔ (بہت لوگوں کو) بھی ہوسکتا ہے۔ اور صدا کثیرا (کثرت سے روکنا) بھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 160–161
آیت نمبر 160-161
لغات القرآن : حرمنا، ہم نے حرام کردیا۔ احلت، حلال کی گئی (حلال کی گئیں) ۔ نھوا، وہ منع کیے گئے۔
تشریح : بنی اسرائیل کی ذلیل حرکات کا بیان قرآن کریم میں جا بجا آیا ہے مثلاً سورة بقرہ سورة بنی اسرائیل وغیرہ میں۔ ان آیات میں اور پچھلی آیات میں بھی چند واقعات بیان کئے گئے ہیں۔ اور کہا گیا ہے کہ کافروں کیلئے دردناک عذاب تیار کرلیا گیا ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ اگر کسی قوم نے اللہ کے راستے سے سب سے زیادہ لوگوں کو بھڑکایا ہے، ان کا راستہ روکا ہے اور مسلمانوں پر ظلم و زیادتی کی ہے۔ اگر کوئی قوم دین اسلام کی مخالفت میں سب سے آگے آگے رہی ہے تو وہ یہودی ہیں۔ آج بھی مسلمانوں اور خود دین اسلام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 160–162
یہود کی سرکشی کا انجام ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ یہود کی طرح طرح کی سرکشی کے سبب سے حلال چیزیں ان پر حرام کردی گئیں (جن کی تفصیل سورة انعام میں آوے گی) اس کے علاوہ انہوں نے بہیتروں کو راہ حق سے روکا کہ توریت کے احکام اور جناب پیغمبر آخر الزماں ﷺ کے اوصاف پلٹ دئے ، اور وہ سود لینے لگے حالانکہ اس سے روک دی گئے تھے ۔ اور لوگوں کا مال ناحق کھانے لگے ، اور بنی اسرائیل میں جو بدنصیب منکر ہیں وہ حق بات پر غور نہیں کرتے ، ہاں ان میں جو ذی علم اور بالیاقت (اہلیت والے) لوگ ہیں وہ حق بات کو سن سمجھ کر تسلیم کرتے ہیں ۔ اسی طرح اہل ایمان یعنی مہاجرین اور انصار جو کہ اللہ تعالیٰ کی اتاری ہوئی کتاب یعنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 159–162
[101] مطلب یہ ہے کہ تمام اہل کتاب پر مرنے سے عین قبل رسالت مسیح کی حقیقت منکشف ہوجاتی ہے اور وہ مسیح پر ایمان لاتے ہیں مگر یہ وہ وقت ہوتا ہے جب ایمان لانا مفید نہیں ہوسکتا۔
[102] یعنی عیسیٰ (علیہ السلام) یہ بتلائیں گے کہ فلاں فلاں نے میری تصدیق کی تھی اور فلاں فلاں نے میری تکذیب۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 159–160
(ف 2) یہ آیت حیات مسیح (علیہ السلام) پر زبر دست دلیل ہے (آیت) ” قبل موتہ “ کا مرجع اہل کتاب نہیں مسیح (علیہ السلام) ہے اور (آیت) ” لیؤمنن سے مراد زمانہ مستقبل ہے ، یعنی ایک وقت آئے گا جب یہودیوں کو قرآن کی بتائی ہوئی صداقتوں پر ایمان لانا پڑے گا ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 159–160
ف 2 اور اہل کتاب میں سے کوئی شخص بھی ایسا نہ رہے گا جو عیسیٰ کی طبعی موت سے پہلے حضرت عیسیٰ کی صدیق نہ کرلے اور ان پر ایمان نہ لائے اور قیامت کے دن حضرت عیسیٰ ان اہل کتاب کے خلاف اور ان منکرین کے انکار پر گواہی دیں گے (تیسیر)
حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں حضرت عیسیٰ ابھی زندہ ہیں جب یہود میں دجال پیدا ہوگا تب اس جہان میں آ کر اس کو ماریں گے اور یہود و نصاریٰ سب ان پر ایمان لاویں گے کہ یہ مرے نہ تھے (موضح القرآن)
مطلب آیت کا یہ ہے کہ جب عیسیٰ (علیہ السلام) قیامت کے قریب آسمان سے اتریں گے تو اس وقت اہل کتاب میں سے کوئی شخص ایسا باقی نہ رہے گا جو ان پر ایمان نہ لائے یہود اس امر کی تصدیق کریں گے کہ ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 160–161
ف 4۔ جرائم سے جو تحریم ہوئی وہ تحریم عام تھی گوجرائم سے بعض صلحاء محفوظ بھی تھے کیونکہ بہت سی حکمتوں کے اقتضاء سے عادة اللہ یونہی جاری ہے جیسا قرآن میں اس کی طرف اشارہ بھی ہے۔ حدیث میں بھی آیا ہے کہ بڑا مجرم وہ ہے جس کے بےضرورت سوال کرنے سے کوئی شے سب کے لیے حرام ہوجائے یعنی زمانہ وحی میں۔ اور شریعت محمدیہ میں جو چیزیں حرام ہیں وہ کسی مضرت جسمانی یاروحانی کی وجہ سے حرام ہیں کہ اس حثییت سے غیر طیب ہیں۔ پس تحریم طیبات نافعہ عقوبت وسیاست ہے اور تحریم طیبات ضارہ رحمت و حفاظت ہے۔
Read the full tafseer →یہود کی اس گمراہی کا ذکر جس کے نتیجہ میں ان پر حلال چیزوں کو حرام کردیا گیا :
251: یہ مضمون قرآن کریم میں تین مقامات پر بیان ہوا ہے سورة ال عمران میں جہاں فرمایا ” کھانے کی یہ ساری چیزیں جو شریعت محمدی و احمدی میں حلال ہیں نبی اسرائیل کے لئے بھی حلال تھیں۔ البتہ بعض چیزیں تھیں جنہیں توراۃ کے نازل کئے جانے سے پہلے اسرائیل نے خود اپنے اوپر حرام کرلیا تھا۔ ” ان سے کہو کہ لائو توراۃ اور پیش کرو اس کی کوئی عبارت اگر تم اپنے اعتراض میں سچے ہو۔ “ (ال عمران 3:93) اس زیر نظر آیت میں فرمایا ” یہود کے اس ظلم کی وجہ سے ہم نیکتنی اچھی چیزیں ان پر حرام کردیں جو پہلے حلال تھیں اور اس وجہ سے بھی کہ وہ لوگوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 160–161
Mentioned earlier through several verses were the wrongdoings of Jews and the punishment they would get for doing so. The present verses talk about some other vices of theirs and mention yet another kind of punishment as well. This punishment will, obviously, visit them on the Day of Judgment. But, right here in this present world, the outcome will be that they will find many things already lawful for
them made unlawful as a measure of punishment.
Commentary
In the Shari` ah brought by the Holy Prophet Muhammad al Mustafa ﷺ there are some things too, known as Haram or unlawful, but these…
Read the full tafseer →198. After this parenthetical statement, the main discourse is once again resumed.
199. This may refer to the regulation mentioned in (Surah al-An'am 6: 146), that all beasts with claws, and the fat of both oxen and sheep, were prohibited to the Jews. It might also refer, however, to the highly elaborate set of prohibitions found in Judaic Law. To restrict the choice of alternatives in their life is indeed a kind of punishment for a people. (For a fuller discussion see (Surah al-An'am 6, n. 122)below.
200. The Jews, on the whole, are not satisfied with their own deviation from the path of…
Read the full tafseer →