صحیح مسلم میں ہے کہ ایک شخص حضرت عبداللہ بن عمرو کے پاس آیا اور کہا کہ یہ کیا بات ہے جو مجھے پہنچی ہے کہ آپ فرماتے ہیں قیامت یہاں یہاں تک آجائے گی آپ نے سبحان اللہ یا لا الہ الا اللہ کہہ کر فرمایا میرا تو اب جی چاہتا ہے کہ تمہیں اب کوئی حدیث ہی نہ سناؤں، میں نے تو یہ کہا تھا کہ کچھ زمانے کے بعد تم بڑے بڑے امر دیکھو گے، بیت اللہ جلا دیا جائے گا اور یہ ہوگا وہ ہوگا وغیرہ۔ پھر فرمایا رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے کہ دجال نکلے گا اور میری امت میں چالیس تک ٹھہرے گا، مجھے نہیں معلوم کہ چالیس دن یا چالیس مہینے یا چالیس سال۔ پھر اللہ تعالیٰ عیسیٰ بن مریم کو بھیجے گا، آپ کی صورت مثل حضرت عروہ بن مسعود کے…
Read the full tafseer →سورة النِّسَآء 196
اس فقرے کے دو معنی بیان کیے گئے ہیں اور الفاظ میں دونوں کا یکساں احتمال ہے۔ ایک معنی وہ جو ہم نے ترجمہ میں اختیار کیا ہے۔ دوسرے یہ کہ ”اہل کتاب میں سے کوئی ایسا نہیں جو اپنی موت سے پہلے مسیح پر ایمان نہ لے آئے“۔ اہل کتاب سے مراد یہودی ہیں اور ہوسکتا ہے کہ عیسائی بھی ہوں۔ پہلے معنی کے لحاظ سے مطلب یہ ہوگا کہ مسیح کی طبعی موت جب واقع ہوگی اس وقت جتنے اہل کتاب موجود ہوں گے وہ سب ان پر (یعنی ان کی رسالت پر) ایمان لاچکے ہوں گے۔ دوسرے معنی کے لحاظ سے مطلب یہ ہوگا کہ تمام اہل کتاب پر مرنے سے عین قبل رسالت مسیح کی حقیقت منکشف ہوجاتی ہے اور وہ مسیح پر ایمان لے آتے ہیں، مگر یہ اس وقت…
Read the full tafseer →آخر میں اسی مضمون کے تتمہ کے لئے فرمایا کہ وان من اھل الکتب الا لیومنن بہ قبل موتہ یہ لوگ اس وقت اگرچہ بغض و حسد کی وجہ سے حقیقت کی آنکھوں سے دیکھنے کی کوشش نہیں کرتے اور حضرت عیسیٰ ؑ کے متعلق باطل خیالات رکھتے ہیں، نیز حضرت محمد مصطفے ﷺ کی نبوت کا بھی انکار کر رہے ہیں، لیکن ایک وقت ایسا آنے والا ہے جبکہ ان کی آنکھیں کھل جائیں گی اور اس وقت انہیں یقین ہوجائے گا کہ حضرت عیسیٰ ؑ اور محمد ﷺ کے متعلق جو کچھ ہمارا خیال تھا وہ سب باطل تھا۔
اس آیت کی ایک تفسیر تو وہ ہے جو خلاصہ تفسیر میں گذری ہے کہ موتہ کی ضمیر اہل کتاب کی طرف راجع کی جائے اور آیت کا مطلب اس صورت میں یہ ہے کہ یہ یہود اپنی موت سے چند…
Read the full tafseer →وَاِنْ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ اِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهٖ قَبْلَ مَوْتِهٖ ۚ وَيَوْمَ الْقِيٰمَةِ يَكُوْنُ عَلَيْهِمْ شَهِيْدًا۔
وَاِنْ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ سے مراد یہود و نصاری دونوں ہیں :۔ وَاِنْ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ کا اسلوب بیان تعمیم کو ظاہر کررہا ہے، یعنی یہ یہود و نصاری دونوں گروہوں پر مشتمل ہے۔ اگرچہ اوپر سے ذکر یہود ہی کا چلا آرہا تھا لیکن چونکہ جملہ معترضہ میں، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، نصاری کی حماقت کا بھی ذکر آگیا تھا اس وجہ سے ان کے حوالے کے لیے بھی تقریب پیدا ہوگئی اور یہاں جو بات بیان ہوئی ہے وہ دونوں گروہوں سے بحیثیت گروہ کے متعلق ہے، بحیثیت افراد کے نہیں۔
" ایمان " کا لفظ…
Read the full tafseer →159۔ 1 قبل موتہ میں ہ ضمیر کا مرجع بعض مفسرین کے نزدیک اہل کتاب (نصاریٰ) ہیں اور مطلب یہ کہ ہر عیسائی موت کے وقت حضرت عیسیٰ ؑ پر ایمان لے آتا ہے۔ گو موت کے وقت ایمان نافع نہیں۔ لیکن سالف اور اکثر مفسرین کے نزدیک اس کا مرجع حضرت عیسیٰ ؑ ہیں اور مطلب یہ ہے کہ جب ان کا دوبارہ دنیا میں نزول ہوگا اور وہ دجال کو قتل کر کے اسلام کا بول بالا کریں گے تو اس وقت جتنے یہودی اور عیسائی ہونگے ان کو بھی قتل کر ڈالیں گے اور روئے زمین پر مسلمان کے سوا کوئی اور باقی نہ بچے گا اس طرح دنیا میں جتنے بھی اہل کتاب حضرت عیسیٰ ؑ پر ایمان لانے والے ہیں وہ حضرت عیسیٰ ؑ کی موت سے پہلے پہلے ان پر ایمان لا کر اس دنیا سے…
Read the full tafseer →93: یہودی تو حضرت عیسیٰ ؑ کو پیغمبر ہی نہیں مانتے، اور عیسائی خدا کا بیٹا ماننے کے باوجود یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ ان کو سولی پر چڑھا کر قتل کردیا گیا تھا۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ یہ سارے اہل کتاب، چاہے یہودی ہوں، یا عیسائی، اپنے مرنے سے ذرا پہلے جب عالم برزخ کے مناظر دیکھیں گے تو اس وقت حضرت عیسیٰ ؑ کے بارے میں ان کے تمام غلط خیالات خود بخود ختم ہوجائیں گے، اور وہ ان کی اصل حقیقت پر ایمان لے آئیں گے۔ یہ اس آیت کی ایک تفسیر ہے جسے بہت سے مستند مفسرین نے ترجیح دی ہے، اور حضرت حکیم الامۃ مولانا تھانوی نے بیان القرآن میں اسی کو اختیار کیا ہے۔ البتہ حضرت ابوہریرہ ؓ سے اس آیت کی جو تفسیر منقول ہے…
Read the full tafseer →(آیت) ” وان من اھل الکتب الا لیومنن بہ قبل موتہ ، ویوم القیمۃ یکون علیھم شیھدا ، (4 : 159) (اور اہل کتاب میں سے کوئی ایسا نہ ہوگا جو اس کی موت سے پہلے اس پر ایمان نہ لے آئے گا اور قیامت کے روز وہ ان پر گواہی دے گا ۔۔۔۔۔ ) اس آیت کے مفہوم میں سلف صالحین کے اندر اختلاف رائے رہا ہے ۔ اس اختلاف کے پیدا ہونے کی وجہ یہ رہی ہے کہ ” موتہ “ میں جو ضمیر ہے اس کے مرجع میں اختلاف ہوا ہے اگر اس کا مرجع حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ہوں تو مفہوم یہ ہوگا کہ اہل کتاب میں سے کوئی ایسا نہ ہوگا جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی موت سے قبل حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ایمان نہ لائے گا ۔ اس صورت میں یہ حضرات اس بات کے قائل…
Read the full tafseer →2 حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) زندہ موجود ہیں آسمان پر جب دجال پیدا ہوگا تب اس جہان میں تشریف لا کر اسے قتل کریں گے اور یہود اور نصاریٰ ان پر ایمان لائیں گے کہ بیشک عیسیٰ زندہ ہیں مرے نہ تھے اور قیامت کے دن حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ان کے حالات اور اعمال کو ظاہر کریں گے کہ یہود نے میری تکذیب اور مخالفت کی اور نصاریٰ نے مجھ کو خدا کا بیٹا کہا۔
Read the full tafseer →آیت 159 وَاِنْ مِّنْ اَہْلِ الْکِتٰبِ الاَّ لَیُؤْمِنَنَّ بِہٖ قَبْلَ مَوْتِہٖ ج
یعنی حضرت مسیح علیہ السلام فوت نہیں ہوئے ‘ زندہ ہیں ‘ انہیں آسمان پر اٹھا لیا گیا تھا اور وہ دوبارہ زمین پر آئیں گے ‘ اور جب آئیں گے تو اہل کتاب میں سے کوئی شخص نہیں رہے گا کہ جو ان پر ایمان نہ لے آئے۔
وَیَوْمَ الْقِیٰمَۃِ یَکُوْنُ عَلَیْہِمْ شَہِیْدًا
یہ گواہی والامعاملہ وہی ہے جس کی تفصیل ہم آیت 41 میں پڑھ آئے ہیں : فَکَیْفَ اِذَا جِءْنَا مِنْ کُلِّ اُمَّۃٍم بِشَہِیْدٍ وَّجِءْنَا بِکَ عَلٰی ہٰٓؤُلَآءِ شَہِیْدًا 4 کہ ہر نبی کو اپنی امت کے خلاف گواہی دینی ہے۔ لہٰذا حضرت مسیح علیہ السلام اپنی امت کے خلاف گواہی دیں…
Read the full tafseer →208 یعنی جب قیامت کے نزدیک عیسیٰ (علیہ السلام) آسمان سے اس دنیا پر نزول فرمائیں گے تو سارے اہل کتاب (یہود بھی عیسائی بھی) سیدنا عیسیٰ کی طبعی موت سے پیشتر ان پر ضرور ایمان لائیں گے۔ اس ضمن میں درج ذیل احادیث خاصی روشنی ڈالتی ہیں :
1۔ سیدنا ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ آپ نے فرمایا اس ذات کی قسم ! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔ عنقریب تم میں ابن مریم عادل حکمران کی حیثیت سے نازل ہوں گے۔ وہ صلیب توڑ ڈالیں گے، جزیہ اٹھا دیں گے۔ اس زمانے میں مال کی اتنی کثرت ہوگی کہ اسے کوئی قبول نہ کرے گا اور ایک سجدہ ان کے نزدیک دنیا ومافیہا سے بہتر ہوگا۔ اگر چاہو تو پڑھ لو وان من اھل الکتٰب الا لیومنن بہ قبل موتہ)…
Read the full tafseer →405 ۔ (جب عالم برزخ کا مشاہدہ شروع ہوجاتا ہے، اور اس لیے وہ ایمان نافع نہیں ہوتا) (آیت) ” قبل موتہ “۔ میں ضمیر کتابی کی طرف ہے اور مراد ہے موت کے وقت۔ یومن بعیسی اذا عاین الملک ولکنہ ایمان لا ینفع لانہ ایمان عند الیاس وحین التلبس بحالۃ الموت (قرطبی) لا یموت یھودی حتی یؤمن بعیسی (ابن جریر۔ عن ابن عباس ؓ کل صاحب کتاب یؤمن بعیسی قبل موتہ (ابن جریر، عن مجاہد) ھذا قول اکثر المفسرین واھل العلم (معالم) یعنی اذا عاین قبل انتزھق روحہ حین لاینفعہ ایماننہ لا نقطاع وقت التکلیف (کشاف) حیث یعاین ملئکۃ الموت فلاینفعہ ایماننہ (جلالین) (آیت) ” قبل “۔ کا اطلاق عربی میں جس طرح تقدم منفصل پر ہوتا ہے، تقدم متصل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 157–159
قتل عیسیٰ علیہ الصلوٰة والسلام کے بارے میں یہود کا اشتباہ : وَمَاقَتَلوہ وَمَا صَلَبوہ، ان آیات میں واضح کیا گیا ہے کہ نہ تو ان لوگوں نے حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰة والسلام کو قتل کیا اور نہ سولی دی بلکہ صورت یہ ہوئی کہ معاملہ ان کے لئے مشتبہ ہوگیا، ولکن شُبّہَ لھم کی تفسیر میں ضحاک (رح) تعالیٰ نے فرمایا کہ قصہ یوں پیش آیا کہ جب یہود نے حضرت مسیح علیہ الصلوٰة والسلام کے قتل کا ارادہ کیا تو آپ کے حواری ایک جگہ جمع ہوگئے، حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰة والسلام بھی ان کے پاس تشریف لے آئے، ابلیس نے ان یہود کو جو حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰة والسلام کے قتل کے درپے تھے آپ کے چھپنے کے مقام کی نشاندی کردی جس کی وجہ…
Read the full tafseer →وان من اہل الکتب الا لیومنن بہ قبل موتہ اور کوئی بھی اہل کتاب میں سے ایسا شخص نہیں کہ اپنے مرنے سے پہلے (عذاب کے فرشتوں کو دیکھ کر) عیسیٰ پر ایمان نہ لے آئے یا محمد ﷺ پر ایمان نہ لے آئے یا اللہ کو نہ مان لے۔ نتیجہ مطلب ایک ہی ہے کیونکہ تمام پیغمبروں پر ایمان لائے بغیر اللہ کو ماننا قابل اعتبار نہیں اور رسول اللہ ﷺ پر ایمان لانے کے لئے عیسیٰ ( علیہ السلام) کو ماننا اور عیسیٰ ( علیہ السلام) پر ایمان رکھنے کے لئے رسول اللہ ﷺ کو ماننا لازم ہے۔ اوّل تفسیری قول اکثر اہل تفسیر اور جمہور علماء کا ہے دوسرا قول عکرمہ کا مروی ہے۔
قبل موتہ کی ضمیر اہل کتاب کی طرف راجع ہے۔ علی ؓ بن ابی طلحہ کی روایت میں…
Read the full tafseer →(159) نیز جب حضرت عیسیٰ ؑ دوبارہ اتریں گے، اس وقت بھی جو یہودی موجود ہوں گے وہ اس بات کی تصدیق کریں گے اور حضرت عیسیٰ ؑ قیامت کے دن ان پر گواہی دیں گے۔
Read the full tafseer →وَاِنْ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ اِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهٖ قَبْلَ مَوْتِهٖ ۚ: اس آیت کے دو مطلب ہیں اور دونوں درست ہیں، پہلا تو یہ ہے کہ یہود و نصاریٰ کا ہر شخص اپنے مرنے سے پہلے عیسیٰ ؑ کی نبوت اور ان کے زندہ اٹھائے جانے پر ایمان لے آئے گا، مگر یہ اس وقت کی بات ہے جب موت سامنے آجاتی ہے، جیسا کہ فرعون مرتے وقت ایمان لے آیا تھا، مگر اس وقت ایمان لانے کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ جب عیسیٰ ؑ قیامت کے قریب عادل حاکم کی صورت میں اتریں گے اور دجال اور دوسرے تمام کفار سے جہاد کریں گے، تو ان کی موت سے پہلے پہلے تمام دنیا میں اسلام غالب ہوجائے گا۔ یہود و نصاریٰ یا تو مقابلے میں قتل…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 159۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” وان من اھل الکتب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ “۔ حضرت ابن عباس ؓ حسن، مجاہد اور عکرمہ رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین نے کہا : اس کا معنی ہے ہر کتابی اپنی موت سے پہلے مسیح (علیہ السلام) پر ایمان لے آئے گا (2) (تفسیر الحسن البصری، جلد 2 صفحہ 378)
پہلی ضمیر کا مرجع حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ہیں اور دوسری ضمیر کا مرجع کتابی ہے، ہر یہودی اور نصرانی جب موت کے فرشتے کو دیکھتا ہے تو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لے آتا ہے، لیکن ایسا ایمان نفع بخش نہیں ہوتا، کیونکہ یہ مایوسی کے وقت کا ایمان ہے اور موت کی حالت سے متصل ایمان ہے۔ ہر یہودی اس وقت اقرار کرتا ہے…
Read the full tafseer →(1) الفریابی وعبد بن حمید اور حاکم (نے اس کو صحیح کہا) اور ابن عباس ؓ سے لفظ آیت ” وان من اھل الکتب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ “ کے بارے میں روایت کیا کہ عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) موت سے پہلے دنیا میں تشریف لائیں گے۔
(2) ابن جریر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے لفظ آیت ” وان من اھل الکتب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ “ کے بارے میں روایت کیا کہ عیسیٰ کی موت سے پہلے (اہل کتاب ان پر ضرور ایمان لائیں گے) ۔
(3) ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا عنقریب کچھ لوگ اہل کتاب میں سے (عیسیٰ کو) پائیں گے جب عیسیٰ (علیہ السلام) (دوبارہ دنیا میں) بھیجے جائیں گے اور عنقریب وہ ان پر ایمان لائیں…
Read the full tafseer →[ وَاِنْ : اور نہیں ہے ] [ مِّنْ اَہْلِ الْکِتٰبِ : اہل کتاب میں کوئی ] [ اِلاَّ : مگر یہ کہ ] [ لَیُؤْمِنَنَّ : وہ لازماً ایمان لائے گا ] [ بِہٖ : ان (علیہ السلام) پر ] [ قَبْلَ مَوْتِہٖ : ان کی موت سے پہلے ] [ وَیَوْمَ الْقِیٰمَۃِ : اور قیامت کے دن ] [ یَکُوْنُ : وہ ہوں گے ] [ عَلَیْہِمْ : ان پر ] [ شَہِیْدًا : گواہ ]
نوٹ : حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے رفع آسمانی کی وضاحت آل عمران :55 کے نوٹ 1 میں کی جا چکی ہے۔ آیات زیر مطالعہ میں اس عقیدے کی بہت واضح الفاظ میں تردید کی گئی ہے کہ حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کو نعوذ باللہ قتل کیا گیا یا سولی چڑھایا گیا۔ حقیقت یہ ہے کہ ہ معاملہ ان لوگوں کے لیے…
Read the full tafseer →آخر میں فرمایا (وَاِنْ مِّنْ اَھْلِ الْکِتَابِ اِلَّا لَیُؤْمِنَنَّ بِہٖ قَبْلَ مَوْتِہٖ ) (اور اہل کتاب میں سے کوئی شخص بھی ایسا نہیں جو ان پر اپنے مرنے سے پہلے ایمان نہ لائے) ۔ یہ ترجمہ اس صورت میں ہے جبکہ موتہ کی ضمیر اہل کتاب کی طرف راجع ہو۔ مفسرین نے یہ احتمال بھی بتایا ہے کہ موتہ کی ضمیر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی طرف راجع کی جائے۔
پہلی صورت اختیار کی جائے تو مطلب یہ ہے کہ یہودی تو عیسیٰ (علیہ السلام) کی رسالت اور نبوت کے منکر ہی ہیں اور نصرانی اپنے خیال میں ان کو مانتے تو ہیں لیکن ان کے بارے میں غلط عقیدہ رکھتے ہیں ان کو اللہ کا بیٹا مانتے ہیں۔ اور یہ ماننا بھی کفر ہے یہودی بھی کافر…
Read the full tafseer →نزول عیسیٰ (علیہ السلام) ، یعنی ان کے نزول جسمانی اور آمدثانی کی خبر بہجت اثر۔
قال تعالی، وان من اھل الکتاب الالیومنن۔۔۔۔ الی۔۔۔۔ شھیدا۔
یہاں تک اللہ تعالیٰ نے یہود کے قبائح اور فضائح کو بیان کیا اور یہ بتلایا کہ یہود حضرت مسیح کے ساتھ جس ذلت و خواری کا ارادہ رکھتے تھے اس میں وہ سراسر ناکام رہے بجائے ذلت و خواری کے اللہ نے ان کو بےمثال عزت و رفعت عطا فرمائی کہ ان کو صحیح سالم زندہ آسمان پر اٹھا لیا اب آئندہ آیات میں حضرت عیسیٰ کی ایک اور بڑی عزت کی خبر دیتے ہیں جو ان کو قیامت کے قریب حاصل ہوگی یعنی ان کے نزول جسمانی اور آمد ثانی کی خبردیتے ہیں وہ یہ کہ حضرت عیسیٰ اخیر زمانہ میں قیامت کے قریب…
Read the full tafseer →106 اس آیت کے دو معنی ہیں۔ اول یہ کہ بِہٖ کی ضمیر حقیۃ ما قال محمد ﷺ (یعنی آنحضرت ﷺ کے پیغام کی صداقت) کی طرف راجع ہے اور مَوْتِہٖ کی ضمیر مجرور کا مرجع اھل الکتب ہے اور یکون علیھم شھیدا میں یَکُوْنُ کا اسم آنحضرت ﷺ ہیں مطلب یہ کہ ہر اہل کتاب اپنی موت سے پہلے آنحضرت ﷺ کی صداقت پر ایمان لے آئیگا جیسا کہ ایک اور آیت سے اس کی تائید ہوتی ہے۔ سَنُرِیْھِمْ اٰیٰتِنَا فِیْ الْاٰفَاقِ وَ فِیْ اَنْفُسِھِمْ حَتّیٰ یَتَبَیَّنَ لَھُمْ اَنَّہٗ الْحَقُّ (حم السجدۃ رکوع 6) اور نبی کریم ﷺ قیامت کے دن شہادت دیں گے کہ اے اللہ میں نے انہیں پیغام حق پہنچا دیا تھا لیکن انہوں نے نہیں مانا۔ حضرت شیخ (رح) کے نزدیک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 156–159
گزشتہ آیات میں اہل کتاب کے عناد کا ذکر تھا ، اللہ نے ان کے اعتراض کو بیان فرمایا ، خصوصا یہودی کہتے تھے کہ اگر آپ اللہ کے سچے نبی ہیں اور قرآن پاک اللہ کی کتاب ہے تو پھر یہ بیک وقت لکھی لکھائی آسمان سے کیوں نازل نہیں ہوتی۔ جس طرح کہ تورات موسیٰ (علیہ السلام) پر تختیوں کی صورت میں نازل ہوئی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس اعتراض کا جواب دینے سے پہلے ان کی بعض قباحتوں کا تذکرہ فرمایا تھا اور حضور ﷺ کو بایں الفاظ تسلی دی تھی کہ یہ عنادی لوگ ہیں ، انہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) سے اس سے بھی بڑے بڑے سوال کئے ، لہذا آپ دل برداشتہ نہ ہوں بلکہ صبر کریں۔ آج کے درس کی آیات میں بھی اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب کی…
Read the full tafseer →وَاِنْ مِّنْ اَہْلِ الْكِتٰبِ اِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِہٖ قَبْلَ مَوْتِہٖ 0ۚ وَيَوْمَ الْقِيٰمَۃِ يَكُوْنُ عَلَيْہِمْ شَہِيْدًا 159ۚ
موت
أنواع الموت بحسب أنواع الحیاة :
فالأوّل : ما هو بإزاء القوَّة النامية الموجودة في الإنسان والحیوانات والنّبات
. نحو قوله تعالی: يُحْيِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِها[ الروم/ 19] ،
الثاني : زوال القوّة الحاسَّة . قال : يا لَيْتَنِي مِتُّ قَبْلَ هذا
[ مریم/ 23] ، أَإِذا ما مِتُّ لَسَوْفَ أُخْرَجُ حَيًّا [ مریم/ 66] .
الثالث : زوال القوَّة العاقلة، وهي الجهالة .
نحو : أَوَمَنْ كانَ مَيْتاً فَأَحْيَيْناهُ [ الأنعام/ 122] ،
الرابع : الحزن المکدِّر للحیاة،
وإيّاه قصد…
Read the full tafseer →ترکیب : ان بمعنی مامن اھل الکتاب خبر ہے مبتداء محذوف کی جو احد ہے تقدیرہ مامن اہل الکتاب احد الالیومنن استثناء متصل ہے۔
تفسیر : پہلی آیتوں میں یہود کے فضائح اور قبائح ذکر ہوئے تھے اور اس کی بھی تشریح تھی کہ انہوں نے مسیح (علیہ السلام) کے ساتھ جو کچھ ذلت و خواری دینے کا ارادہ کیا تھا وہ اس میں ناکام رہے۔ خدا تعالیٰ نے ان کو اس کے بالعوض عزت دی۔ ان کو آسمان پر بلایا اب اس کے بعد حضرت مسیح (علیہ السلام) کی ایک اور بڑی عزت و شوکت کی خبر دی جاتی ہے۔ ہر اہل کتاب ان کی موت سے پہلے ضرور ان پر ایمان لائے گا جبکہ ان کی شوکت اور جلال دیکھیں گے اور پھر قیامت کو وہ ان پر گواہی دیں گے۔ قبل موتہ کی ضمیر میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 156–159
وَّ بِکُفْرِہِمْ وَ قَوْلِہِمْ عَلٰی مَرْیَمَ بُہْتَانًا عَظِیْمًا لا وَّقَوْلِہِمْ اِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِیْحَ عِیْسَی ابْنَ مَرْیَمَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ج وَمَاقَتَلُوْہُ وَمَا صَلَبُوْہُ وَلٰـکِنْ شُبِّہَ لَہُمْ ط وَاِنَّ الَّذِیْنَ اخْتَلَفُوْا فِیْہِ لَفِیْ شَکٍّ مِّنْہُ ط مَالَہُمْ بِہٖ مِنْ عِلْمٍ اِلَّا اتِّبَاعَ الظَّنِّ ج وَمَا قَتَلُوْہُ یَقِیْنًا م لا بَلْ رَّفَعَہُ اللّٰہُ اِلَیْہِ ط َوکَانَ اللّٰہُ عَزِیْزًا حَکِیْمًا
” اور بوجہ ان کے کفر کے اور بوجہ ان کے مریم پر ایک بہتانِ عظیم لگانے کے اور ان کے اس دعویٰ کے سبب سے کہ ہم نے مسیح ابن مریم اللہ کے رسول کو قتل کیا۔ حالانکہ نہ تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 158–160
لوگوں کے تعجب کو دور کرنے اور نام نہاد دانشوروں کی دانش کو لگام دینے کے لییعزِیْزاً حَکِیْماً کے الفاظ کے ذریعے وضاحت فرمائی کہ اللہ تعالیٰ انہیں آسمان کی طرف اٹھانے اور ان کے دشمنوں سے بچانے پر قادر ہے اللہ تعالیٰ انھیں آسمان پر اٹھانے اور قیامت کے قریب زمین پر بھیجنے کا راز جانتا ہے لہٰذا عیسیٰ (علیہ السلام) کے رفع آسمانی کے بارے میں اختلاف کرنے والے صرف اٹکل پچو سے کام لے رہے ہیں۔ یہاں یہودیوں کے دعویٰ کی تردید کرتے ہوئے وضاحت فرمائی کہ یقیناً عیسیٰ (علیہ السلام) سولی نہیں چڑھائے گئے۔ مزید ارشاد فرمایا کہ اہل کتاب اپنی موت سے پہلے اس بات پر ایمان لائیں گے یہاں اہل کتاب سے مراد وہ لوگ ہیں…
Read the full tafseer →آیت 159 : وَاِنْ مِّنْ اَہْلِ الْکِتٰبِ اِلاَّ لَیُؤْمِنَنَّ بِہٖ قَبْلَ مَوْتِہٖ (اور کوئی بھی اہل کتاب میں سے ایسا شخص نہیں مگر مرنے سے پہلے ضرور اس پر ایمان لائے گا)
جملہ قسمیہ :
نحو : لیؤمننَّ بہٖ یہ جملہ قسمیہ ہے۔ موصوف محذوف کی صفت ہے۔ تقدیر عبارت یہ ہے : وان من اہل الکتاب احدٌ
الا لیؤمنن بہٖکہ اہل کتاب میں سے کوئی ایسا نہیں مگر وہ ضرور اس پر ایمان لائے گا۔ اور اس کی مثل دوسری آیت میں ہے : وما منّا الا لہ مقام معلوم۔ الصافات۔ 164۔ ہم میں کوئی ایسا نہیں جس کا مقام معلوم نہ ہو یعنی ہر ایک کا مقام معلوم ہے۔
آیت کا مطلب ‘ چار تفاسیر :
اب مطلب آیت کا یہ ہے۔ یہود و نصاریٰ میں سے کوئی ایک…
Read the full tafseer →(تفسیر) 159۔:
(آیت)” وان من اھل الکتاب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ “۔ کوئی بھی اہل کتاب میں سے ایسا شخص نہیں کہ اپنے مرنے سے پہلے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان نہ لے آئے (آیت)” قبل موتہ “ اس کنایہ میں اختلاف ہے، مجاہد (رح) ، عکرمہ (رح) ، ضحاکرحمۃ اللہ علیہ ، اور سدی (رح) کا قول ہے یہ کتابی سے کنایہ ہے اس کا معنی یہ ہے کہ اہل کتاب میں سے کوئی بھی ایک شخص باقی نہیں بچے گا کہ وہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر ضرور ایمان لے آئیں گے ، ابی طلحہ ؓ کا قول ہے کہ حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ نے فرمایا کہ ہر کتابی اپنے مرنے سے پہلے ایمان لے آئے گا ، راوی کا بیان ہے کہ حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ سے دریافت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 155–159
(155 ۔ 159) ۔ اوپر ذکر تھا کہ کوہ طور جب اٹھایا جاکر یہود کے سروں پر لایا گیا اور اس کو اس پہاڑ کے ان پر ڈال دئے جانے کا خوف دلایا گیا تو اس وقت انہوں نے تورات کے احکام کے موافق عمل کرنے کا عہد کیا تھا ان آیتوں میں ذکر ہے کہ ان لوگوں کے اس عہد پر قائم نہ رہنے سے اور موسیٰ (علیہ السلام) کے زمانے میں طرح طرح کے معجزا دیکھ کر ان کو بھلا دینے سے اور بلا وجہ زکریا ( علیہ السلام) اور یحییٰ وغیرہ انبیاء کو قتل کرنے سے اور ان لوگوں کے اس بات کے کہنے سے کہ ہمارے دل پر غلاف ہیں کسی کی نصیحت ہمارے دل پر اثر نہیں کرتی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو ملعون اور پانی رحمت سے دور کردیا ہے۔ اس لئے جس طرح مقفل اور قفل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 154–161
آیت 154
اہل کتاب نے رسول اللہ ﷺ سے یہ سوال مطالبہ اور عناد کی بنا پر کیا تھا اور اسی پر انہوں نے اپنی تصدیق و تکذیب کو موقوف قرار دیا تھا اور ان کا سوال یہ تھا کہ ان پر تمام قرآن ایک ہی بار نازل ہوجائے جیسے تورات اور انجیل ایک ہی بار نازل ہوئی تھیں۔ یہ ان کی طرف سے اتنہائی ظالمانہ مطالبہ تھا کیونکہ رسول ﷺ تو ایک بشر اور بندے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی تدبیر کے تحت ہیں، رسول اللہ ﷺ کے اتھ میں تو کوئی اختیار نہیں۔ تمام اختیار اللہ تعالیٰ کے قبضہ قدرت میں ہے۔ وہی ہے جو اپنے بندوں پر جو چاہتا ہے نازل کرتا ہے۔ جس سرح اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کی طرف سے اس وقت فرمایا جب مشرکین نے اسی قسم کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 148–160
مظلوم کی آہ سے بچو
قول باری ہے لایحب اللہ الجھربالتوء من القول الامن ظلم، اللہ اس کو پسند نہیں کرتا کہ آدمی بدگوئی پر زبان کھولے، الا یہ کہ کسی پر ظلم کیا گیا ہو۔ حضرت ابن عباس ؓ اور قتادہ کا قول ہے ” الایہ کہ مظلوم اپنے ظالم کے لئے بددعا کرے “۔ مجاہد سے ایک روایت ہے ” الایہ کہ مظلوم ظالم کی طرف سے ڈھائے جانے والے ظلم کی لوگوں کو اطلاع دے “۔ حسن اور سدی کا قول ہے ” الایہ کہ مظلوم ظالم سے اپنا بدلہ لے لے “۔ فرات بن سلیمان نے ذکر کیا ہے کہ عبدالکریم سے اس قول باری کے معنی پوچھے گئے تو انہوں نے کہا ” یہ وہ شخص ہے جو تمہیں برا بھلا کہتا ہے اور جواب میں تم بھی اسے برا بھلا کہہ دیتے ہو لیکن اگر وہ…
Read the full tafseer →412 اہل کتاب کے ہر شخص کے حضرت عیسیٰ پر ایمان لانے کا ذکر وبیان : یعنی حضرت عیسیٰ کی موت سے پہلے، جب کہ وہ قرب قیامت کے موقع پر دوبارہ تشریف لائیں گے اور سب دینوں کو ختم کرکے ایک ہی دین یعنی اسلام پر دنیا کو جمع کردیں گے۔ صلیب کو توڑ ڈالیں گے، خنزیر کو قتل کردیں گے وغیرہ۔ جیسا کہ روایات میں مفصلاً مذکور ہے۔ اور خود قرآن پاک میں دوسری جگہ فرمایا گیا { وَاِنَّہ، لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَۃِ فَلًا تَمْتَرُنَّ بِہَا } الآیۃ (الزخرف : 61) سو اس صورت میں اہل کتاب سے مراد وہ اہل کتاب ہوں گے جو اس وقت موجود ہوں گے۔ امام ابن جریرطبری جیسے محققین نے اسی احتمال کو اختیار کیا ہے اور دوسرا احتمال یہ بھی ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 157–159
سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کے قتل کا منصوبہ اور ان کا زندہ اٹھایا جانا
تشریح : ان آیات کا مضمون بالکل واضح ہے۔ تفصیلات اس کی سورة آل عمران میں بیان کی جا چکی ہیں یہ جو بار بار یہود کا ذکر کیا جارہا ہے تو صرف اس وجہ سے کہ ایک تو نبی کریم ﷺ کو تسلی ہو اور دوسرے مسلمانوں کو بتانے کیلیے کہ ان لوگوں سے عبرت حاصل کریں ان کے راستوں پر نہ چلیں کیونکہ برے کاموں کا برا ہی انجام ہوتا ہے جیسا کہ یہودیوں کو سزاملی۔ بارہا معاف کرنے پر بھی جب وہ برائیوں سے باز نہ آئے تو پھر ان کو سخت سزا دی گئی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 153–162
رکوع نمبر 22 ۔ آیات 153 تا 162 ۔
بے عملی کے بہانے :
کج بحثی کرنا یہود کی پرانی عادت ہے اور اس بدبخت قوم کی تاریخ ہی یہ ہے کہ اللہ کے بندوں کو اللہ کے دین اور اللہ کے رسولوں کو انہوں نے بہت ایذاء پہنچائی اور ہمیشہ الٹ بات سوچتے اور کہتے بھی ہیں کرتے بھی الٹ ہیں۔ اب آپ ﷺ سے سوال کرتے ہیں آپ آسمان سے لکھی لکھائی کتاب لے کر آئیں پھر ہم ایمان لائیں گے مگر خود موسیٰ (علیہ السلام) سے جو طور پر سے لکھی لکھائی کتاب لے کر آگئے تھے انہوں نے اس سے بھی بہت بڑا سوال کردیا تھا اور وہ تھا کہ ہم کو کھلم کھلا اللہ کی زیارت کرا دیں جب مانیں گے اس زیادتی پر ان پر برق گری اور تباہ ہوگئے مگر موسیٰ (علیہ السلام) کی…
Read the full tafseer →ف 12 یعنی یہودی کہ حاضر شوندنزول عیسیٰ ( علیہ السلام) را البتہ ایمان آرند واللہ اعلم (فتح الرحمن اور یہودی و نصاریٰ سب اب پر ایمان لاوینگے کہ یہ مرے نہ تھے۔ (مو ضح) یعنی جب حضرت مسیح ( علیہ السلام) قیامت سے کچھ پہلے نازل ہو نگے تو ان کی طبعی وفات سے قبل جو اہل کتاب اس وقت موجود ہو نگے سب ان کے رسول اللہ ہونے اور آسمان پر زندہ اٹھائے جانے پر ایمان لاچکے ہونگے فاقو وان شئتم : وان من اھل الکتٰب الا یمئو منن بہ قبلموتہ یعنی اگر تم بطور استثنا چاہو تو یہ آیت پڑھو مطلب یہ یہ کہ احادیث کے علاوہ اگر اس پیش گوئی کو قرآن کی روشنی میں دیکھنا چاہو تو یہ آیت پڑھ لو۔ (ابن کثیر شوکانی) محققین کے نزدیک حضرت…
Read the full tafseer →(4:159) ان نافیہ ہے۔ بہ قبل موتہ میں ضمیر ہ حضرت عیسیٰ کی طرف راجع ہے۔
یعنی جب حضرت عیسیٰ زمین پر نزول فرمائیں گے تو ان کی طبعی موت سے قبل تمام اہل کتاب (یہودی اور عیسائی) جو اس وقت موجود ہوں گے۔ سب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت پر ایمان لاکر اسلام میں داخل ہوں گے۔ بعض نے نزدیک اس کا مرجع اہل کتاب میں سے کا ہر فرد ہے لیکن اکثر مفسرین پہلے ہی قول کو ترجیح دیتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 153–159
آیت نمبر 153-159
لغات القرآن : سالوا، انہوں نے سوال کیا۔ ارنا، ہمیں دکھا دے۔ لاتعدوا، تم حد سے نہ بڑھو۔ نقض، توڑنا۔ طبع اللہ، اللہ نے مہر لگا دی۔ ماصلبوہ، انہوں نے اس کو پھانسی نہیں دی۔ لیؤمنن، البتہ وہ ضرور ایمان لائیں گے۔
تشریح : ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو تسکین دینے کے لئے قوم یہود کی نفسیات اور بعض نازیبا حرکتوں کو پیش کیا ہے۔ یہود کے چند سردار حضور ﷺ کے پاس آئے اور کہا اگر آپ بھی ایک مکمل لکھی ہوئی کتاب آسمان سے نازل شدہ ہمیں دکھا دیں جس طرح ایک مکمل لکھی ہوئی کتاب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر نازل ہوچکی ہے تو ہم آپ پر ایمان لے آئیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کو تسلی دی کہ یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 155–159
ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ جو انہیں حکم دیا گیا ہے وہ کریں اور جس کی ممانعت کی گئی ہے اس سے باز رہیں ۔ پھر ان لوگوں کے اس عہد پر قائم نہ رہنے سے اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے زمانہ میں طرح طرح کے معجزات دیکھ کر ان کو بھلادینے اور بلاوجہ انبیاء کو قتل کرنے سے اور اس بات کے کہنے سے کہ ہمارے دل پر غلاف ہیں کسی کی نصیحت ہمارے دل پر اثر نہیں کرتی ۔ اللہ تعالیٰ نے ان ملعونوں کو اپنی رحمت سے دور کردیا ہے ، اس لئے جس طرح مقفل اور مہر لگے ہوئے مکان کے اندر کوئی چیز نہیں جاسکتی ۔ ان کے دل میں بھی کسی نصیحت کا اثر نہیں سماسکتا اوپر ہی رہتا ہے کیونکہ کثرت گناہ سے ان کے دلوں پر زنگ چھا گیا ہے ۔ آنحضرت ﷺ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 159–162
[101] مطلب یہ ہے کہ تمام اہل کتاب پر مرنے سے عین قبل رسالت مسیح کی حقیقت منکشف ہوجاتی ہے اور وہ مسیح پر ایمان لاتے ہیں مگر یہ وہ وقت ہوتا ہے جب ایمان لانا مفید نہیں ہوسکتا۔
[102] یعنی عیسیٰ (علیہ السلام) یہ بتلائیں گے کہ فلاں فلاں نے میری تصدیق کی تھی اور فلاں فلاں نے میری تکذیب۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 159–160
(ف 2) یہ آیت حیات مسیح (علیہ السلام) پر زبر دست دلیل ہے (آیت) ” قبل موتہ “ کا مرجع اہل کتاب نہیں مسیح (علیہ السلام) ہے اور (آیت) ” لیؤمنن سے مراد زمانہ مستقبل ہے ، یعنی ایک وقت آئے گا جب یہودیوں کو قرآن کی بتائی ہوئی صداقتوں پر ایمان لانا پڑے گا ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 159–160
ف 2 اور اہل کتاب میں سے کوئی شخص بھی ایسا نہ رہے گا جو عیسیٰ کی طبعی موت سے پہلے حضرت عیسیٰ کی صدیق نہ کرلے اور ان پر ایمان نہ لائے اور قیامت کے دن حضرت عیسیٰ ان اہل کتاب کے خلاف اور ان منکرین کے انکار پر گواہی دیں گے (تیسیر)
حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں حضرت عیسیٰ ابھی زندہ ہیں جب یہود میں دجال پیدا ہوگا تب اس جہان میں آ کر اس کو ماریں گے اور یہود و نصاریٰ سب ان پر ایمان لاویں گے کہ یہ مرے نہ تھے (موضح القرآن)
مطلب آیت کا یہ ہے کہ جب عیسیٰ (علیہ السلام) قیامت کے قریب آسمان سے اتریں گے تو اس وقت اہل کتاب میں سے کوئی شخص ایسا باقی نہ رہے گا جو ان پر ایمان نہ لائے یہود اس امر کی تصدیق کریں گے کہ ان…
Read the full tafseer →ف 3۔ اوپر یہود کی بعض شرارتیں اور کچھ سزائیں لعن وغیرہ جو کہ ازقسم امور تکوینیہ اور واقع فی الدنیا ہیں بیان فرمائی ہیں آگے بھی ان کی بعض شرارتوں کا مع ذکر بعض عقوبات واقعہ فی الدنیا از قبیل امور تشریعیہ کہ تحریم طیبات ہے اور مع ذکر عقوبت اخرویہ کہ عذاب الیم ہے۔ بیان ہے اور چونکہ اصل سزایہی ہے اس لیے ذکر یہود کے شروع پر بھی عذاب مہین کے عنوان سے اس کو فرمایا تھا پس طرفین میں ہونے سے زیادہ تاکید ہوگئی۔
Read the full tafseer →اہل کتاب میں سے کوئی ایسا نہیں جو اپنی موت سے پہلے اس پر یقین نہ لے آئے :
250: اس آیت کے معنی ایک سے زیادہ سے کئے گئے ہیں اور جس طریقہ پر سمجھ لئے جائیں صحیح اور درست ہیں اگرچہ بعض میں ابہام زیادہ ہے۔
1 ۔ اہل کتاب میں سے کوئی ایسا نہیں ہوگا جو اس کی موت سے پہلے اس پر ایمان نہ لے آئے اور قیامت کے روز وہ ان پر گواہی دے گا۔
2 ۔ اہل کتاب میں سے کوئی ایسا نہیں جو اپنی موت سے پہلے مسیح (علیہ السلام) پر ایمان نہ لے آئے اور قیامت کے روز وہ ان پر گواہی دے گا۔
3 ۔ ہر اہل کتاب اپنی موت سے پہلے نبی اعظم و آخر ﷺ کی صداقت پر ایمان لے آئے گا اور نبی کریم ﷺ قیامت کے دن شہادت دیں گے کہ اے اللہ ! میں نے انہیں…
Read the full tafseer →Then comes the finale of the subject in verse 159 beginning with the words: وَإِن مِّنْ أَهْلِ الْكِتَابِ إِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ (And there is not one among the People of the Book but shall certainly believe in him { Jesus} before he { Jesus} dies, and on the Day of Doom, he shall be a witness against them). It means: Though, at this time, so blinded by malice and envy are these people that they are unable to see reality as it is, hold false ideas about Sayyidna ` Isa (علیہ السلام) and, in addition to that, they are denying the prophethood of Sayyidna Muhammad al-Mustafa ﷺ…
Read the full tafseer →196. The death mentioned here could refer either to the death of Jesus or to the death of each and every person among 'the People of the Book'. The text lends itself to both meanings. We have adopted the first in our translation. If we accept the alternative meaning, the verse would mean: "There is no one among the People of the Book who, before his death, will not believe in Jesus.' The expression, 'People of the Book' here refers to the Jews and possibly even to the Christians. In the light of this latter meaning, the purpose of the verse would be to affirm that at the time when the…
Read the full tafseer →