صبح ہی ایک شخص شہر کے ایک دروازے سے چلے گا، ابھی دوسرے دروازے تک نہیں پہنچا تو شام ہوجائے گی۔ لوگوں نے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ پھر ان چھوٹے دنوں میں ہم نماز کیسے پڑھیں گے ؟ آپ نے فرمایا اندازہ کرلیا کرو جیسے ان لمبے دنوں میں اندازہ سے پڑھا کرتے تھے۔ حضور ﷺ فرماتے ہیں پس عیسیٰ بن مریم میری امت میں حاکم ہوں گے، عادل ہوں گے، امام ہوں گے، با انصاف ہوں گے، صلیب کو توڑیں گے، خنزیر کو قتل کریں گے، جزیہ کو ہٹا دیں گے صدقہ چھوڑ دیا جائے گا پس بکری اور اونٹ پر کوشش نہ کی جائے گی، حسد اور بغض بالکل جاتا رہے گا، ہر زہریلے جانور کا زہر ہٹا دیا جائے گا، بچے اپنی انگلی سانپ کے منہ میں ڈالیں گے لیکن وہ…
Read the full tafseer →سورة النِّسَآء 195
یہ اس معاملہ کی اصل حقیقت ہے جو اللہ تعالیٰ نے بتائی ہے۔ اس میں جزم اور صراحت کے ساتھ جو چیز بتائی گئی ہے وہ صرف یہ ہے کہ حضرت مسیح کو قتل کرنے میں یہودی کامیاب نہیں ہوئے، اور یہ کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی طرف اٹھا لیا۔ اب رہا یہ سوال کہ اٹھا لینے کی کیفیت کیا تھی، تو اس کے متعلق کوئی تفصیل قرآن میں نہیں بتائی گئی۔ قرآن نہ اس کی تصریح کرتا ہے کہ اللہ ان کو جسم و روح کے ساتھ کرہ زمین سے اٹھا کر آسمانوں پر کہیں لے گیا، اور نہ یہی صاف کہتا ہے کہ انہوں نے زمین پر طبعی موت پائی اور صرف ان کی روح اٹھائی گئی۔ اس لیے قرآن کی بنیاد پر نہ تو ان میں سے کسی ایک پہلو کی قطعی نفی کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 157–158
معارف و مسائل
سورة آل عمران کی آیت یعیسی انی متوفیک ورافع الی الآیہ (3: 55) میں حق تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ ؑ کے دشمن یہود کے عزائم کو ناکام بنانے اور عیسیٰ ؑ کو ان کی دستبرد سے بچانے کے سلسلہ میں پانچ وعدے فرمائے تھے جن کی تفصیل اور مکمل تشریح و تفسیر سورة آل عمران کی تفسیر میں بیان ہوچکی ہے ان وعدوں میں ایک وعدہ یہ بھی تھا کہ یہود کو آپ کے قتل پر قدرت نہیں دی جائے گی، بلکہ آپ کو اللہ تعالیٰ اپنی طرف اٹھا لیں گے، اس آیت میں یہود کی شرارتوں اور جھوٹے دعوؤں کے بیان میں اس وعدہ الٓہیہ کی تکمیل اور یہود کے مغالطہ کا مفصل بیان اور یہود کے اس قول کی مکمل تردید ہے کہ انہوں نے عیسیٰ ؑ کو قتل کردیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 156–158
تفسیر آیات 156۔ 158: وَّبِكُفْرِهِمْ وَقَوْلِهِمْ عَلٰي مَرْيَمَ بُهْتَانًا عَظِيْمًا۔ وَّقَوْلِهِمْ اِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِيْحَ عِيْسَى ابْنَ مَرْيَمَ رَسُوْلَ اللّٰهِ ۚ وَمَا قَتَلُوْهُ وَمَا صَلَبُوْهُ وَلٰكِنْ شُبِّهَ لَهُمْ ۭ وَاِنَّ الَّذِيْنَ اخْتَلَفُوْا فِيْهِ لَفِيْ شَكٍّ مِّنْهُ ۭ مَا لَهُمْ بِهٖ مِنْ عِلْمٍ اِلَّا اتِّبَاعَ الظَّنِّ ۚ وَمَا قَتَلُوْهُ يَقِيْنًۢا۔ بَلْ رَّفَعَهُ اللّٰهُ اِلَيْهِ ۭوَكَانَ اللّٰهُ عَزِيْزًا حَكِـيْمًا۔
" وبکفرہم " کا عطف : وبکفرہم کا عطف اوپر کے سلسلہ کلام پر ہے۔ بیچ میں جملہ معترضہ آگیا تھا اس کے ختم ہونے کے بعد پھر فہرست جرائم شروع ہوگئی :
حضرت…
Read the full tafseer →158۔ 1 یہ نص صریح ہے اس بات پر کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کاملہ سے حضرت عیسیٰ ؑ کو زندہ آسمان پر اٹھا لیا اور متواتر صحیح احادیث سے بھی یہ بات ثابت ہے۔ یہ حدیث کی تمام کتابوں کے علاوہ صحیح بخاری و صحیح مسلم میں بھی وارد ہیں۔ ان احادیث میں آسمان پر اٹھائے جانے کے علاوہ قیامت کے قریب ان کے نزول کا اور دیگر بہت سی باتوں کا تذکرہ ہے۔ امام ابن کثیر یہ تمام روایات کا ذکر کر کے آخر میں تحریر فرماتے ہیں پس یہ احادیث رسول اللہ ﷺ سے متواتر ہیں۔ ان کے راویوں میں حضرت ابوہریرہ، حضرت عبد اللہ بن مسعود، عثمان بن ابی العاص، ابو امامہ، نواس بن سمعان، عبد اللہ بن عمرو بن العاص، مجمع بن جاریہ، ابی سریحہ اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 157–158
91: قرآن کریم نے یہ حقیقت بڑے پرزور الفاظ میں بیان فرمائی ہے کہ حضرت عیسیٰ ؑ کو نہ کوئی قتل کرسکا اور نہ انہیں سولی پر چڑھا دیا، اور حضرت عیسیٰ ؑ کو اللہ تعالیٰ نے اوپر اٹھا لیا۔ قرآن کریم نے اس حقیقت کو واضح کرنے پر اکتفا فرمایا ہے اور اس واقعے کی تفصیل بیان نہیں فرمائی، بعض روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ جب آپ کا محاصرہ کیا گیا تو آپ کے مقدس ساتھیوں میں سے ایک نے یہ قربانی دی کہ خود باہر نکلے اور اللہ تعالیٰ نے ان کی صورت حضرت عیسیٰ ؑ جیسی بنادی۔ دشمنوں نے ان کو حضرت عیسیٰ ؑ سمجھ کر سولی پر لٹکا دیا، اور اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ ؑ کو اوپر اٹھا لیا۔ ایک دوسری روایت کے مطابق جو شخص حضرت عیسیٰ ؑ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 157–158
(آیت) ” وقولھم انا قتلنا المسیح عیسیٰ ابن مریم رسول اللہ وما قتلوہ وما صلبوہ ولکن شبہ لھم ، وان الذین اختلفوا فیہ لفی شک منہ ، مالھم بہ من علم الا اتباع الظن ، وما قتلوہ یقینا “۔ (157) بل رفعہ اللہ الیہ ، وکان اللہ عزیزا حکیما (158) (4 : 157۔ 158) (حالانکہ فی الواقع انہوں نے نہ اس کو قتل کیا نہ صلیب پرچڑھایا بلکہ معاملہ ان کیلئے مشتبہ کردیا گیا اور جن لوگوں نے اس بارے میں اختلاف کیا ہے وہ بھی دراصل شک میں مبتلا ہیں ۔ ان کے پاس اس معاملے میں کوئی علم نہیں ہے ۔ محض گمان ہی کی پیروی ہے ۔ انہوں نے مسیح کو یقینا قتل نہیں کیا بلکہ اللہ نے اس کو اپنی طرف اٹھالیا ‘ اللہ زبردست طاقت رکھنے والا اور…
Read the full tafseer →1 اللہ تعالیٰ ان کے قول کی تکذیب فرماتا ہے کہ یہودیوں نے نہ عیسیٰ (علیہ السلام) کو قتل کیا نہ سولی چڑھایا۔ یہود جو مختلف باتیں اس بارے میں کہتے ہیں اپنی اپنی اٹکل سے کہتے ہیں اللہ نے ان کو شبہ میں ڈال دیا۔ خبر کسی کو بھی نہیں واقعی بات یہ ہے اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو آسمان پر اٹھا لیا اور اللہ تعالیٰ سب چیزوں پر قادر ہے اور اس کے ہر کام میں حکمت ہے۔ قصہ یہ ہوا کہ جب یہودیوں نے حضرت مسیح کے قتل کا عزم کیا تو پہلے ایک آدمی ان کے گھر میں داخل ہوا حق تعالیٰ نے ان کو تو آسمان پر اٹھا لیا اور اس شخص کی صورت حضرت مسیح (علیہ السلام) کی صورت کے مشابہ کردی جب باقی لوگ گھر میں گھسے تو…
Read the full tafseer →آیت 158 بَلْ رَّفَعَہُ اللّٰہُ اِلَیْہِط وَکَان اللّٰہُ عَزِیْزًا حَکِیْمًا
اس واقعہ کی تفصیل انجیل برنباس میں موجود ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 157–158
207 یہود کی الزام تراشیاں :۔ یہود کے دلوں پر اللہ نے جو بدبختی کی مہر لگائی تھی تو اس کی وجوہ صرف وہی نہیں جو اوپر مذکور ہو چکیں۔ بلکہ ان کے جرائم کی فہرست آگے بھی چلتی ہے۔ جن میں سے ان کا ایک جرم یہ تھا کہ سیدہ مریم پر تہمت لگا دی اور سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کو ولد الحرام کہتے تھے اور سیدنا زکریا سے منسوب کرتے تھے اور دوسرا جرم یہ تھا کہ وہ کہتے تھے کہ ہم نے سیدنا عیسیٰ کو سولی پر چڑھا کر مار ڈالا ہے۔ یعنی سیدنا عیسیٰ کی پیدائش اور وفات جو دونوں معجزانہ طور پر واقع ہوئی تھیں ان کا صرف انکار ہی نہیں بلکہ ماں بیٹا دونوں پر الزامات بھی لگاتے رہے۔ ان الزامات اور ان کے جوابات کے لیے دیکھیے سورة…
Read the full tafseer →403 ۔ (آیت) ” الیہ “۔ اپنی طرف یا اپنے آسمان کی طرف، قرآن مجید میں اس طرح کے حذف مضاف کی مثالیں بہ کثرت ملتی ہیں۔ اور جس طرح ” اللہ نے اپنی طرف بلالیا ہے مراد “۔ آخرت کی طرف بلالینا سمجھی جاتی ہے، اسی طرح عربی اور اردو دونوں محاروہ میں اللہ کی طرف اٹھالینے سے مراد آسمان کی طرف اٹھالینے سے ہے۔ یحتمل رفعہ الی السماء (راغب) ای الی السماء واللہ تعالیٰ متعال عن مکان (قرطبی) الی السماء (مدارک) الی سمائی (بحر) (آیت) ” رفعہ “۔ رفع کے اصلی معنی رفع جسمانی یا رفع مادی ہی کے ہیں۔ الرفع یقال فی الاجسام الموضوعۃ اذا اعلی تھا عن مقرھا (راغب) مجازی معنی، یعنی رفع مراتب کے بھی جائز ہیں۔ ای رفعہ من حیث…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 157–159
قتل عیسیٰ علیہ الصلوٰة والسلام کے بارے میں یہود کا اشتباہ : وَمَاقَتَلوہ وَمَا صَلَبوہ، ان آیات میں واضح کیا گیا ہے کہ نہ تو ان لوگوں نے حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰة والسلام کو قتل کیا اور نہ سولی دی بلکہ صورت یہ ہوئی کہ معاملہ ان کے لئے مشتبہ ہوگیا، ولکن شُبّہَ لھم کی تفسیر میں ضحاک (رح) تعالیٰ نے فرمایا کہ قصہ یوں پیش آیا کہ جب یہود نے حضرت مسیح علیہ الصلوٰة والسلام کے قتل کا ارادہ کیا تو آپ کے حواری ایک جگہ جمع ہوگئے، حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰة والسلام بھی ان کے پاس تشریف لے آئے، ابلیس نے ان یہود کو جو حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰة والسلام کے قتل کے درپے تھے آپ کے چھپنے کے مقام کی نشاندی کردی جس کی وجہ…
Read the full tafseer →بل رفعہ اللہ الیہ بلکہ اللہ نے ان کو اپنی طرف اٹھا لیا اس جملہ میں عیسیٰ کے قتل کی تردید اور آپ کے اٹھائے جانے کا اثبات ہے۔
وکان اللہ عزیزا اور اللہ ہے زبردست۔ یہودیوں کو سزا دینے پر قادر۔ اس کو اس کے ارادہ سے کوئی نہیں روک سکتا۔
حکیما حکمت والا کہ یہودیوں پر لعنت و غضب نازل فرمایا اور صطیونس بن استسیانوس کو ان پر مسلط کیا جس نے ان کی قوم کا عظیم الشان قتل کیا یا حکیم ہونے سے یہ مراد ہے کہ اللہ نے حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کے معاملہ میں جو تدبیر کی وہ پُر حکمت تھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 156–158
(156۔ 157۔ 158) اور حضرت عیسیٰ ؑ اور انجیل کے انکار اور ان پر چھوٹے الزام کی وجہ سے ہم نے ان کو سور بنادیا اور حضرت عیسیٰ ؑ کے قتل کے دعوے پر ان کے ساتھی قطیانوس کو ہلاک کردیا، قطیانوس کے سامنے حضرت عیسیٰ ؑ کے مشابہ ایک شخص ہوگیا، اس نے اس کو قتل کردیا، ان کے پاس تو ان کے قتل کا شبہ بھی نہیں یقیناً انھوں نے حضرت عیسیٰ ؑ کو قتل نہیں کیا، اللہ تعالیٰ اپنے دشمنوں سے انتقام لینے میں بڑے زبردست ہیں اور ساتھ ہی حکیم بھی ہیں کس طرح اپنی نبی کو حفاظت کیساتھ آسمان پر اٹھا لیا اور ان کے دشمن کو ہلاک کردیا۔
Read the full tafseer →بَلْ رَّفَعَهُ اللّٰهُ اِلَيْهِ ۭوَكَان اللّٰهُ عَزِيْزًا حَكِـيْمًا : یہ صاف و صریح دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کاملہ سے عیسیٰ ؑ کو آسمان پر زندہ اٹھا لیا۔ صحیح احادیث سے بھی یہ بات ثابت ہے۔ یہ احادیث بخاری و مسلم سمیت حدیث کی اکثر کتابوں میں موجود ہیں۔ [ دیکھیے بخاری، أحادیث الأنبیاء، باب نزول عیسیٰ ابن مریم علیھما السلام : 3448۔ مسلم : 155 ] ان احادیث میں آسمان پر اٹھائے جانے کے علاوہ قیامت کے قریب ان کے نزول اور دوسری بہت سی باتوں کا ذکر ہے۔ ابن کثیر ؓ یہ تمام روایات ذکر کر کے آخر میں تحریر فرماتے ہیں کہ یہ احادیث رسول اللہ ﷺ سے متواتر ہیں، ان کے راویوں میں ابوہریرہ، عبداللہ بن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 157–158
آیت نمبر : 157 تا 158۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” انا قتلنا المسیح عیسیٰ ابن مریم ‘۔ ان کو کسرہ دیا گیا ہے کیونکہ قول کے بعد اس سے ابتدا کی گئی ہے اور لغتہ اس سے کلام شروع ہو رہی ہے۔ سورة آل عمران میں لفظ (آیت) ” المسیح “ کا اشتقاق گزر چکا ہے، (آیت) ” رسول اللہ “۔ بدل ہے اگر تو چاہے تو اس سے پہلے اعنی کا اعتبار کرلے، (آیت) ” وما قتلوہ وما صلبوہ “۔ یہ ان کے قول کا رد ہے۔ (آیت) ” ولکن شبہ لھم “۔ یعنی ان کی شبیہ کسی دوسرے پر ڈالی گئی جیسا کہ سورة آل عمران میں گزر چکا ہے، بعض لوگوں نے کہا : وہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی شخصیت کو نہیں جانتے تھے انہوں نے اسے قتل کردیا جسے قتل کیا جب کہ انہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 157–158
(1) عبد بن حمید و نسائی وابن ابی حاتم وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جب اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ (علیہ السلام) کو آسمان کی طرف اٹھانے کا ارادہ فرمایا تو اپنے ساتھیوں کی طرف نکلے اور گھر میں حواریوں میں سے بارہ آدمی تھے آپ ان کے پاس دوسرے گھر سے آئے اور آپ کے سر سے پانی ٹپک رہا تھا انہوں نے فرمایا تم میں سے کون شخص ہے ؟ جو بارہ مرتبہ کفارہ ادا کرے مجھ پر ایمان لانے کے بعد پھر فرمایا تم میں سے کون ہے جس پر میری شبیہ ڈال دی جائے (یعنی میرے جیسا بنا دیا جائے) اور وہ قتل کردیا جائے میرے بدلے میں اور میرے ساتھ ہو میرے درجے میں ان میں سے سب سے کم عمر نوجوان اٹھا عیسیٰ (علیہ السلام) نے اس سے…
Read the full tafseer →[ بَلْ : بلکہ ] [ رَّفَعَہُ : اٹھایا ان (علیہ السلام) کو ] [ اللّٰہُ : اللہ نے ] [ اِلَـیْہِ : اپنی طرف ] [ وَکَانَ اللّٰہُ : اور اللہ ہے ] [ عَزِیْزًا : بالادست ] [ حَکِیْمًا : حکمت والا ]
Read the full tafseer →پھر فرمایا (وَکَان اللّٰہُ عَزِیْزًا حَکِیْمًا) (اور اللہ تعالیٰ غلبہ والا حکمت والا ہے) وہ کسی صورت دوسرے کی طرح بنا دے اس پر پوری طرح قادر ہے اس کے فیصلوں سے کوئی اسے روکنے والا نہیں وہ جسے چاہے زمین پر رکھے جسے چاہے آسمان پر بلا لے۔ سب کچھ اسے اختیار ہے اور اس کا ہر فعل حکمت کے مطابق ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 157–158
عقیدہ قتل وصلب کا ابطال۔
قال تعالیٰ وماقتلوہ وماصلبوہ۔ آیت۔ نصاری کا یہ عقیدہ ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) مقتول ومصلوب ہوئے اور تین دن قبر میں مردہ رہ کر زندہ ہوگئے اور اٹھ کر آسمان پر چڑھ گئے نصاری کا یہ مسئلہ سراسر خلاف عقل ہے اس لیے کہ قتل اور صلب اور موت سب مخلوق کے لیے ہے نہ کہ خالق کے لیے اور اہل اسلام کا عقیدہ یہ ہے کہ حضرت مسیح بن مریم نہ مقتول ہوئے اور نہ مصلوب بلکہ صحیح وسالم اسی جسم عنصری کے ساتھ آسمان پر اٹھائے گئے اور یہود بےیہود کی جو جماعت ان کے قتل کے ارادہ سے ان کے مکان میں داخل ہوئی تھی انہی میں کا ایک شخص بحکم خداوندی حضرت مسیح کی ہم شکل بنادیا گیا دشمنوں نے اسی کو مسیح…
Read the full tafseer →105 وَمَا قَتَلُوْہُ کا اعادہ تاکید کے لیے ہے یعنی کسی قسم کا قتل واقع نہیں ہوا نہ سولی سے نہ بغیر سولی۔ کیونکہ نفی مطلق قتل کی ہے اور یقیناً نفی قتل کی تاکید ہے اور مطلب یہ ہے کہ انہوں نے مسیح (علیہ السلام) کو ہرگز قطعاً قتل نہیں کیا اور عدم قتل نہایت ہی پختہ اور ثابت شدہ حقیقت ہے حضرت حسن بصری فرماتے ہیں۔ وَ مَا قَتَلُوْہٗ حَقًّا اس پر علامہ ابو حیان لکھتے ہیں فانتصابہ علی انہ مؤکد لمضمون الجمۃ المنفیۃ کقولک و ما قتلوہ حقا ای حق انتفاء قتلہ حقا (بحر ج 3 ص 391) اسی طرح امام نفسی لکھتے ہیں و ما قتلوہ حقا فیجعل یقینا تاکیدا لقولہ و ما قتلوہ ای حق انتفاء قتلہ حقا (مدارک ج 1 ص 204) بَلْ رَفَعَہٗ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 156–159
گزشتہ آیات میں اہل کتاب کے عناد کا ذکر تھا ، اللہ نے ان کے اعتراض کو بیان فرمایا ، خصوصا یہودی کہتے تھے کہ اگر آپ اللہ کے سچے نبی ہیں اور قرآن پاک اللہ کی کتاب ہے تو پھر یہ بیک وقت لکھی لکھائی آسمان سے کیوں نازل نہیں ہوتی۔ جس طرح کہ تورات موسیٰ (علیہ السلام) پر تختیوں کی صورت میں نازل ہوئی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس اعتراض کا جواب دینے سے پہلے ان کی بعض قباحتوں کا تذکرہ فرمایا تھا اور حضور ﷺ کو بایں الفاظ تسلی دی تھی کہ یہ عنادی لوگ ہیں ، انہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) سے اس سے بھی بڑے بڑے سوال کئے ، لہذا آپ دل برداشتہ نہ ہوں بلکہ صبر کریں۔ آج کے درس کی آیات میں بھی اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب کی…
Read the full tafseer →بَلْ رَّفَعَہُ اللہُ اِلَيْہِ 0ۭ وَكَانَ اللہُ عَزِيْزًا حَكِـيْمًا 158
عزیز
، وَالعَزيزُ : الذي يقهر ولا يقهر . قال تعالی: إِنَّهُ هُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ [ العنکبوت/ 26] ، يا أَيُّهَا الْعَزِيزُ مَسَّنا [يوسف/ 88]
( ع ز ز ) العزیز
العزیز وہ ہے جو غالب ہو اور مغلوب نہ ہو قرآن ، میں ہے : ۔ إِنَّهُ هُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ [ العنکبوت/ 26] بیشک وہ غالب حکمت والا ہے ۔ يا أَيُّهَا الْعَزِيزُ مَسَّنا [يوسف/ 88] اے عزیز میں اور ہمارے اہل و عیال کو بڑی تکلیف ہورہی ہے ۔ اعزہ ( افعال ) کے معنی کسی کو عزت بخشے کے ہیں ۔ )
حكيم
فإذا قيل في اللہ تعالی: هو حَكِيم فمعناه بخلاف معناه إذا وصف به غيره،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 157–158
(6) وقولہم انا قتلنا المسیح عیسیٰ بن مریم رسول اللّٰہ یہود حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو رسول اللہ نہ جانتے تھے مگر پھر رسول اللہ کہنا یا بطور تمسخر کے تھا جیسا کہ مکہ کے کفار آنحضرت (علیہ السلام) کو تمسخر سے کہتے تھے یایہا الذی نزل علیہ الذکر انک لمجنون اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ حضرت مسیح (علیہ السلام) کو اور ان کی والدہ ماجدہ کو برے الفاظ سے تعبیر کیا کرتے تھے۔ ساحر بن الساحرۃ فاعل بن الفاعلۃ کہتے تھے اس کے مقابلہ میں خدا نے رسول اللہ کا وصف ذکر کیا۔ یہ بھی ان کا سخت گناہ اور ان کی نسل در نسل بردبادی اور خرابی کا باعث تھا۔ وہ بڑے تفاخر سے کہا کرتے تھے کہ ہم نے عیسیٰ مسیح کو قتل کر ڈالا جن کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 156–159
وَّ بِکُفْرِہِمْ وَ قَوْلِہِمْ عَلٰی مَرْیَمَ بُہْتَانًا عَظِیْمًا لا وَّقَوْلِہِمْ اِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِیْحَ عِیْسَی ابْنَ مَرْیَمَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ج وَمَاقَتَلُوْہُ وَمَا صَلَبُوْہُ وَلٰـکِنْ شُبِّہَ لَہُمْ ط وَاِنَّ الَّذِیْنَ اخْتَلَفُوْا فِیْہِ لَفِیْ شَکٍّ مِّنْہُ ط مَالَہُمْ بِہٖ مِنْ عِلْمٍ اِلَّا اتِّبَاعَ الظَّنِّ ج وَمَا قَتَلُوْہُ یَقِیْنًا م لا بَلْ رَّفَعَہُ اللّٰہُ اِلَیْہِ ط َوکَانَ اللّٰہُ عَزِیْزًا حَکِیْمًا
” اور بوجہ ان کے کفر کے اور بوجہ ان کے مریم پر ایک بہتانِ عظیم لگانے کے اور ان کے اس دعویٰ کے سبب سے کہ ہم نے مسیح ابن مریم اللہ کے رسول کو قتل کیا۔ حالانکہ نہ تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 158–160
لوگوں کے تعجب کو دور کرنے اور نام نہاد دانشوروں کی دانش کو لگام دینے کے لییعزِیْزاً حَکِیْماً کے الفاظ کے ذریعے وضاحت فرمائی کہ اللہ تعالیٰ انہیں آسمان کی طرف اٹھانے اور ان کے دشمنوں سے بچانے پر قادر ہے اللہ تعالیٰ انھیں آسمان پر اٹھانے اور قیامت کے قریب زمین پر بھیجنے کا راز جانتا ہے لہٰذا عیسیٰ (علیہ السلام) کے رفع آسمانی کے بارے میں اختلاف کرنے والے صرف اٹکل پچو سے کام لے رہے ہیں۔ یہاں یہودیوں کے دعویٰ کی تردید کرتے ہوئے وضاحت فرمائی کہ یقیناً عیسیٰ (علیہ السلام) سولی نہیں چڑھائے گئے۔ مزید ارشاد فرمایا کہ اہل کتاب اپنی موت سے پہلے اس بات پر ایمان لائیں گے یہاں اہل کتاب سے مراد وہ لوگ ہیں…
Read the full tafseer →آیت 158 : بَلْ رَّفَعَہُ اللّٰہُ اِلَیْہِ (بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی طرف اٹھا لیا) نمبر 1۔ اس طرح کہ اس میں اللہ تعالیٰ کی ذات کے علاوہ کسی کے حکم کا دخل نہ ہوگا۔ نمبر 2۔ اس کو آسمان کی طرف اٹھا لیا۔
وَکَانَ اللّٰہُ عَزِیْزًا (اور اللہ تعالیٰ زبردست ہے) یہود سے انتقام لینے میں حَکِیْمًا (وہ حکمت والا ہے) اس تدبیر میں جو اس نے اپنی طرف اٹھانے کے لئے فرمائی۔
Read the full tafseer →158۔ (آیت)” بل رفعہ اللہ الیہ “۔ بعض نے کہا کہ یقینا وہ بعد میں واپس لوٹیں گے ۔ (آیت)” وما قتلوہ “ تقدیری کلام یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ نے یقینی طور پر ان کو اٹھالیا اور وہ قتل نہیں کیے گئے ، فراء کا قول ہے کہ اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ جس کو انہوں نے قتل کیا اس کے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ہونے کا ان کو یقین نہیں ، حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ سے اس آیت کے متعلق مروی ہے کہ ان کے گمان کے مطابق یقینا قتل نہیں کیا ۔ (آیت)” وکان اللہ عزیزا “۔ یہودیوں کو سزا دینے پر قادر ہے ۔ ” حکیما “ حکمت والا کہ یہودیوں پر لعنت وغضب نازل فرما اور ان پر صطیونس بن استسیانوس کو ان پر مسلط کیا جس نے ان کی قوم کا عظیم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 155–159
(155 ۔ 159) ۔ اوپر ذکر تھا کہ کوہ طور جب اٹھایا جاکر یہود کے سروں پر لایا گیا اور اس کو اس پہاڑ کے ان پر ڈال دئے جانے کا خوف دلایا گیا تو اس وقت انہوں نے تورات کے احکام کے موافق عمل کرنے کا عہد کیا تھا ان آیتوں میں ذکر ہے کہ ان لوگوں کے اس عہد پر قائم نہ رہنے سے اور موسیٰ (علیہ السلام) کے زمانے میں طرح طرح کے معجزا دیکھ کر ان کو بھلا دینے سے اور بلا وجہ زکریا ( علیہ السلام) اور یحییٰ وغیرہ انبیاء کو قتل کرنے سے اور ان لوگوں کے اس بات کے کہنے سے کہ ہمارے دل پر غلاف ہیں کسی کی نصیحت ہمارے دل پر اثر نہیں کرتی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو ملعون اور پانی رحمت سے دور کردیا ہے۔ اس لئے جس طرح مقفل اور قفل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 154–161
آیت 154
اہل کتاب نے رسول اللہ ﷺ سے یہ سوال مطالبہ اور عناد کی بنا پر کیا تھا اور اسی پر انہوں نے اپنی تصدیق و تکذیب کو موقوف قرار دیا تھا اور ان کا سوال یہ تھا کہ ان پر تمام قرآن ایک ہی بار نازل ہوجائے جیسے تورات اور انجیل ایک ہی بار نازل ہوئی تھیں۔ یہ ان کی طرف سے اتنہائی ظالمانہ مطالبہ تھا کیونکہ رسول ﷺ تو ایک بشر اور بندے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی تدبیر کے تحت ہیں، رسول اللہ ﷺ کے اتھ میں تو کوئی اختیار نہیں۔ تمام اختیار اللہ تعالیٰ کے قبضہ قدرت میں ہے۔ وہی ہے جو اپنے بندوں پر جو چاہتا ہے نازل کرتا ہے۔ جس سرح اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کی طرف سے اس وقت فرمایا جب مشرکین نے اسی قسم کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 148–160
مظلوم کی آہ سے بچو
قول باری ہے لایحب اللہ الجھربالتوء من القول الامن ظلم، اللہ اس کو پسند نہیں کرتا کہ آدمی بدگوئی پر زبان کھولے، الا یہ کہ کسی پر ظلم کیا گیا ہو۔ حضرت ابن عباس ؓ اور قتادہ کا قول ہے ” الایہ کہ مظلوم اپنے ظالم کے لئے بددعا کرے “۔ مجاہد سے ایک روایت ہے ” الایہ کہ مظلوم ظالم کی طرف سے ڈھائے جانے والے ظلم کی لوگوں کو اطلاع دے “۔ حسن اور سدی کا قول ہے ” الایہ کہ مظلوم ظالم سے اپنا بدلہ لے لے “۔ فرات بن سلیمان نے ذکر کیا ہے کہ عبدالکریم سے اس قول باری کے معنی پوچھے گئے تو انہوں نے کہا ” یہ وہ شخص ہے جو تمہیں برا بھلا کہتا ہے اور جواب میں تم بھی اسے برا بھلا کہہ دیتے ہو لیکن اگر وہ…
Read the full tafseer →410 رفع عیسیٰ کا بیان : سو ان کو اللہ نے اپنی طرف اٹھا لیا یعنی روح اور جسم دونوں کیساتھ، نہ کہ صرف روحانی طور پر، جس طرح کہ بعض لوگوں کا کہنا ہے۔ کیونکہ { رفعہ } کی ضمیر منصوب کا مرجع حضرت عیسیٰ کی ذات اقدس ہے جو کہ نام ہے روح اور جسم دونوں کے مجموعے کا۔ نہ کہ صرف روح کا۔ سو آنجناب کا رفع صرف روحانی نہیں تھا بلکہ روح اور جسم دونوں کے ساتھ تھا۔ یعنی آپ کو زندہ سلامت جسمانی طور پر اوپر اٹھا لیا گیا جہاں آپ اب تک زندہ سلامت موجود ہیں اور قیامت سے پہلے جب اللہ تعالیٰ کو منظور ہوگا آپ دوبارہ دنیا میں نزول اجلال فرمائیں گے اور شریعت محمدیہ کے مطابق نظام چلائیں گے اور دنیا سے کفر و شرک کے اندھیروں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 157–159
سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کے قتل کا منصوبہ اور ان کا زندہ اٹھایا جانا
تشریح : ان آیات کا مضمون بالکل واضح ہے۔ تفصیلات اس کی سورة آل عمران میں بیان کی جا چکی ہیں یہ جو بار بار یہود کا ذکر کیا جارہا ہے تو صرف اس وجہ سے کہ ایک تو نبی کریم ﷺ کو تسلی ہو اور دوسرے مسلمانوں کو بتانے کیلیے کہ ان لوگوں سے عبرت حاصل کریں ان کے راستوں پر نہ چلیں کیونکہ برے کاموں کا برا ہی انجام ہوتا ہے جیسا کہ یہودیوں کو سزاملی۔ بارہا معاف کرنے پر بھی جب وہ برائیوں سے باز نہ آئے تو پھر ان کو سخت سزا دی گئی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 153–162
رکوع نمبر 22 ۔ آیات 153 تا 162 ۔
بے عملی کے بہانے :
کج بحثی کرنا یہود کی پرانی عادت ہے اور اس بدبخت قوم کی تاریخ ہی یہ ہے کہ اللہ کے بندوں کو اللہ کے دین اور اللہ کے رسولوں کو انہوں نے بہت ایذاء پہنچائی اور ہمیشہ الٹ بات سوچتے اور کہتے بھی ہیں کرتے بھی الٹ ہیں۔ اب آپ ﷺ سے سوال کرتے ہیں آپ آسمان سے لکھی لکھائی کتاب لے کر آئیں پھر ہم ایمان لائیں گے مگر خود موسیٰ (علیہ السلام) سے جو طور پر سے لکھی لکھائی کتاب لے کر آگئے تھے انہوں نے اس سے بھی بہت بڑا سوال کردیا تھا اور وہ تھا کہ ہم کو کھلم کھلا اللہ کی زیارت کرا دیں جب مانیں گے اس زیادتی پر ان پر برق گری اور تباہ ہوگئے مگر موسیٰ (علیہ السلام) کی…
Read the full tafseer →ف 11 یعنی جسم اور روح دونوں کے ساتھ اللہ تعال نے حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کو اپنی طرف آسمان پر اٹھلالیا جہا وہ زندہ موجود ہیں۔ قیامت سے پہلے دوبارہ دنیا میں آئیں گے کئی سال یہاں زندگی گزریں گر اور دجال کو قتل کرنے کے بعد اپنی طبعی موت مریں گے حضرت مسیح ( علیہ السلام) کا اپنے ناسوتی بدن کے ساتھ آسمان کی طرف رفع اور ان کی حیات ! یہ امت مسلمہ کا متفقہ عقیدہ ہے جس کی بنیاد قرآنی تصریحات اور ان تفصیلات پر ہے جو احادیث میں وارد ہیں۔ حافظ ابن حجر فرماتے ہیں : اتفق اصحاب الا خبار والتفسیر علی ٰ ان عیسیٰ رفع ببدنبہ حیا (تلخیص الجیر 319) کہ تمام اصحاب تفسیر ائمہ حدیث اس پر متفق ہیں کہ حضرت عیسیٰ (…
Read the full tafseer →(4:158) رفعہ کی مزید تشریح کے لئے رفعنا 4:154 کے تحت ملاحظہ ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 153–159
آیت نمبر 153-159
لغات القرآن : سالوا، انہوں نے سوال کیا۔ ارنا، ہمیں دکھا دے۔ لاتعدوا، تم حد سے نہ بڑھو۔ نقض، توڑنا۔ طبع اللہ، اللہ نے مہر لگا دی۔ ماصلبوہ، انہوں نے اس کو پھانسی نہیں دی۔ لیؤمنن، البتہ وہ ضرور ایمان لائیں گے۔
تشریح : ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو تسکین دینے کے لئے قوم یہود کی نفسیات اور بعض نازیبا حرکتوں کو پیش کیا ہے۔ یہود کے چند سردار حضور ﷺ کے پاس آئے اور کہا اگر آپ بھی ایک مکمل لکھی ہوئی کتاب آسمان سے نازل شدہ ہمیں دکھا دیں جس طرح ایک مکمل لکھی ہوئی کتاب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر نازل ہوچکی ہے تو ہم آپ پر ایمان لے آئیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کو تسلی دی کہ یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 155–159
ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ جو انہیں حکم دیا گیا ہے وہ کریں اور جس کی ممانعت کی گئی ہے اس سے باز رہیں ۔ پھر ان لوگوں کے اس عہد پر قائم نہ رہنے سے اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے زمانہ میں طرح طرح کے معجزات دیکھ کر ان کو بھلادینے اور بلاوجہ انبیاء کو قتل کرنے سے اور اس بات کے کہنے سے کہ ہمارے دل پر غلاف ہیں کسی کی نصیحت ہمارے دل پر اثر نہیں کرتی ۔ اللہ تعالیٰ نے ان ملعونوں کو اپنی رحمت سے دور کردیا ہے ، اس لئے جس طرح مقفل اور مہر لگے ہوئے مکان کے اندر کوئی چیز نہیں جاسکتی ۔ ان کے دل میں بھی کسی نصیحت کا اثر نہیں سماسکتا اوپر ہی رہتا ہے کیونکہ کثرت گناہ سے ان کے دلوں پر زنگ چھا گیا ہے ۔ آنحضرت ﷺ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 157–158
[99] یعنی عیسیٰ (علیہ السلام) کے دھوکے میں کسی اور کو سولی چڑھا گئے اور خیال کرتے رہے کہ یہ عیسیٰ (علیہ السلام) ہیں۔ صدر اول سے آج تک جمہور مسلمانوں کا یہی عقیدہ رہا ہے اور قدیم ترین نصاریٰ کا بھی یہی عقیدہ تھا کہ عیسیٰ (علیہ السلام) مصلوب نہیں ہوئے۔ یہ تو پولوس (متوفی 65 ء) تھا جس نے کفارہ کا عقیدہ ایجاد کیا جس کی رو سے عیسیٰ (علیہ السلام) نے صلیب پر جان دی اور سب کی طرف سے مخلوق کے گناہوں کا کفارہ ادا کردیا۔
[100] یعنی عیسائیوں نے۔ ان میں مسیح کے مصلوب ہونے پر کوئی ایک متفق علیہ قول نہیں ہے بلکہ بیسیوں اقوال ہیں۔
Read the full tafseer →مسیح (علیہ السلام) غیر مصلوب ہیں :
(ف 1) قرآن حکیم مکمل صحیفہ آسمانی ہے اس میں جس طرح عقائد وعمل کی گتھیوں کو سلجھایا گیا ہے اسی طرح صدیوں کے شبہات وظنون کو فیصلہ کن صورت میں پیش کیا گیا ہے ، یہ وہ مصحف روشن ہے جس کی برق افگن تجلیاں باطن ومغر تک نفوذ کر جاتی ہیں اور کوئی چیز ظلمت و تاریکی میں نہیں رہتی ۔
سات سو سال سے یہ متفقہ عقیدہ چلا آرہا تھا کہ حضرت مسیح (علیہ السلام) مصلوب ہوگئے ہیں ، یہودی بھی فخر و غرور سے کہتے تھے (آیت) ” انا قتلنا المسیح “۔ اور عیسائی بھی معترف تھے کہ وہ دار پر کھینچے گئے ہیں ۔
قرآن اعظم نازل ہوا تو اس نے کہا ، یہ افسانہ ہی غلط ہے ، بات یہ ہے کہ یہودی سپاہی جب مسیح…
Read the full tafseer →ف 1 آخر کار جب یہ لوگ اپنی نافرمانیوں سے بعض نہ آئے تو ہم نے ان کی عہد شکنی اور احکام الٰہی کے ساتھ ان کے کفر وا نکار کرنے اور انبیاء (علیہم السلام) کو قتل کرنے کے باعث جو کہ ان کے نزدیک بھی ناحق اور ناروا تھا مختلف سزائوں میں ان کو مبتلا کیا اور نیز ان کے اس کہنے کی وجہ سے کہ ہمارے دل ایسے محفوظ ہیں کہ ان میں اسلام کی کوئی بات اثر و نفوذ ہی نہیں کرسکتی۔
نہیں یہ بات نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان کی کافرانہ روش کے باعث ان کے دلوں پر مہر کردی ہے اور بند لگا دیا ہے لہٰذا وہ ایمان نہ لائیں گے مگر بہت کم اور ہم نے ان کو مختلف سزائوں میں ان کے کفر کی وجہ سے اور اس وجہ سے بھی کہ انہوں نے حضرت مریم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 157–158
ف 2۔ عیسیٰ (علیہ السلام) کے نام کے ساتھ جو رسول اللہ آیا ہے یہ یہود کا قول نہیں ہے بلکہ اللہ نے برھادیا ہے کہ دیکھو ایسے کی نسبت ایسا کہتے ہیں۔
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ (علیہ السلام) کو یہود کی مکاریوں کا نشانہ بنانے سے بچالیا :
249: سیدنا مسیح (علیہ السلام) کے بارے میں پھیلے ہوئے تما م نظریات کا اعلان کر کے اب قرآن کریم خود بتاتا ہے کہ وہ کہاں گئے۔ فرمایا انہیں اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف اٹھالیا۔ اب قدرۃً یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کہاں اٹھالیا ‘ کہیں وہ خود بیٹھا تو ہے نہیں کہ وہاں بلالیا ہو تو اس کا صاف جواب تو یہی ہے کہ یہودیوں کی مکاریوں سے صاف صاف بچا لینے کو ان الفاظ میں بیا فرمادیا۔ اس لئے اصل مقصود اس بیان کا ان کی مکاریوں اور سازشوں سے بچانا ہی تھا خواہ وہاں سے ہجرت کرا کے بچایاہو ‘ خواہ فلسطینی حکومت نے مداخلت کرکے ان کی مذہبی عدالت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 157–158
Commentary
In the verse يَا عِيسَىٰ إِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَرَافِعُكَ (Isa, I am to take you in full and lift you towards Me... 3:55) appearing in Surah 'Al-` Imran, Almighty Allah had made five promises in connection with foiling the Jewish plans against Sayyidna ` Isa (علیہ السلام) and protecting him from their hostile intentions. A detailed explanation of these has been given earlier on that occasion in Surah 'Al-` Imran. One of the promises made there was that the Jews will not be allowed to have their way with their intention to kill Sayyidna ` Isa (علیہ السلام) . Instead of that, Allah…
Read the full tafseer →195. This is the truth revealed by God. What is categorically asserted here is merely that the Jews did not succeed in killing the Messiah, but that God raised him unto Himself. The Qur'an furnishes no detailed information about the actual form of this 'raising'. It neither states categorically that God raised him from the earthly sphere to some place in heaven in both body and soul, nor that his body died on earth and his soul alone was raised to heaven. Hence neither of the two alternatives can be definitely affirmed nor denied on the basis of the Qur'an. If one reflects on the Qur'anic…
Read the full tafseer →