صحیح بخاری میں ہے اس وقت کیا ہوگا، جب تم میں مسیح بن مریم اتریں گے اور تمہارا امام تمہیں میں سے ہوگا۔ ابو داؤد، مسند احمد وغیرہ میں ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا " انبیاء کرام (علیہم السلام) سب ایک باپ کے بیٹے بھائی کی طرح ہیں، مائیں جدا جدا اور دین ایک۔ عیسیٰ بن مریم سے زیادہ تر نزدیک میں ہوں اس لئے کہ میرے اور ان کے درمیان کوئی اور نبی نہیں، یقیناً وہ اترنے والے ہیں پس تم انہیں پہچان رکھو۔ درمیان قد ہے، سرخ سفید رنگ ہے۔ وہ دو گیروے رنگ میں رنگے ہوئے کپڑے اوڑھے اور باندھے ہوں گے، بال خشک ہونے کے باوجود ان کے سر سے قطرے ٹپک رہے ہوں گے، خنزیر کو قتل کریں گے، جزیہ قبول نہ کریں گے، لوگوں کو اسلام کی…
Read the full tafseer →سورة النِّسَآء 191
یعنی جرأت مجرمانہ اتنی بڑھی ہوئی تھی کہ رسول کو رسول جانتے تھے اور پھر اس کے قتل کا اقدام کیا اور فخریہ کہا کہ ہم نے اللہ کے رسول کو قتل کیا ہے۔ اوپر ہم نے گہوارے کے واقعہ کا جو حوالہ دیا ہے اس پر غور کرنے سے یہ بات صاف ہوجاتی ہے کہ یہودیوں کے لیے مسیح ؑ کی نبوت میں شک کرنے کی کوئی گنجائش باقی نہ تھی۔ پھر جو روشن نشانیاں انہوں نے حضرت موصوف سے مشاہدہ کیں (جن کا ذکر سورة آل عمران رکوع 5 میں گزر چکا ہے) ان کے بعد تو یہ معاملہ بالکل ہی غیر مشتبہ ہوچکا تھا کہ آنجناب اللہ کے پیغمبر ہیں۔ اس لیے واقعہ یہ ہے کہ انہوں نے جو کچھ آپ کے ساتھ کیا وہ کسی غلط فہمی کی بنا پر نہ تھا بلکہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 157–158
معارف و مسائل
سورة آل عمران کی آیت یعیسی انی متوفیک ورافع الی الآیہ (3: 55) میں حق تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ ؑ کے دشمن یہود کے عزائم کو ناکام بنانے اور عیسیٰ ؑ کو ان کی دستبرد سے بچانے کے سلسلہ میں پانچ وعدے فرمائے تھے جن کی تفصیل اور مکمل تشریح و تفسیر سورة آل عمران کی تفسیر میں بیان ہوچکی ہے ان وعدوں میں ایک وعدہ یہ بھی تھا کہ یہود کو آپ کے قتل پر قدرت نہیں دی جائے گی، بلکہ آپ کو اللہ تعالیٰ اپنی طرف اٹھا لیں گے، اس آیت میں یہود کی شرارتوں اور جھوٹے دعوؤں کے بیان میں اس وعدہ الٓہیہ کی تکمیل اور یہود کے مغالطہ کا مفصل بیان اور یہود کے اس قول کی مکمل تردید ہے کہ انہوں نے عیسیٰ ؑ کو قتل کردیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 156–158
تفسیر آیات 156۔ 158: وَّبِكُفْرِهِمْ وَقَوْلِهِمْ عَلٰي مَرْيَمَ بُهْتَانًا عَظِيْمًا۔ وَّقَوْلِهِمْ اِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِيْحَ عِيْسَى ابْنَ مَرْيَمَ رَسُوْلَ اللّٰهِ ۚ وَمَا قَتَلُوْهُ وَمَا صَلَبُوْهُ وَلٰكِنْ شُبِّهَ لَهُمْ ۭ وَاِنَّ الَّذِيْنَ اخْتَلَفُوْا فِيْهِ لَفِيْ شَكٍّ مِّنْهُ ۭ مَا لَهُمْ بِهٖ مِنْ عِلْمٍ اِلَّا اتِّبَاعَ الظَّنِّ ۚ وَمَا قَتَلُوْهُ يَقِيْنًۢا۔ بَلْ رَّفَعَهُ اللّٰهُ اِلَيْهِ ۭوَكَانَ اللّٰهُ عَزِيْزًا حَكِـيْمًا۔
" وبکفرہم " کا عطف : وبکفرہم کا عطف اوپر کے سلسلہ کلام پر ہے۔ بیچ میں جملہ معترضہ آگیا تھا اس کے ختم ہونے کے بعد پھر فہرست جرائم شروع ہوگئی :
حضرت…
Read the full tafseer →157۔ 1 اس سے واضح ہوگیا کہ حضرت عیسیٰ ؑ کو یہودی قتل کرنے میں کامیاب ہو سکے نہ سولی چڑھانے میں۔ جیسا کہ ان کا منصوبہ تھا۔ جیسا کہ) سورة آل عمران کی آیت نمبر 55 کے حاشیہ)
مختصر تفصیل گزر چکی ہے۔
157۔ 2 اس کا مطلب یہ ہے کہ جب حضرت عیسیٰ ؑ کو یہودیوں کی سازش کا پتہ چلا تو انہوں نے اپنے حواریوں کو جن کی تعداد 12 یا 17 تھی جمع کیا اور فرمایا کہ تم میں سے کوئی شخص میری جگہ قتل ہونے کے لئے تیار ہے ؟ تاکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کی شکل و صورت میری جیسی بنادی جائے
۔ ایک نوجوان اس کے لئے تیار ہوگیا۔ چناچہ حضرت عیسیٰ ؑ کو وہاں سے آسمان پر اٹھا لیا گیا۔ بعد میں یہودی آئے اور انہوں نے اس نوجوان کو لے جا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 157–158
91: قرآن کریم نے یہ حقیقت بڑے پرزور الفاظ میں بیان فرمائی ہے کہ حضرت عیسیٰ ؑ کو نہ کوئی قتل کرسکا اور نہ انہیں سولی پر چڑھا دیا، اور حضرت عیسیٰ ؑ کو اللہ تعالیٰ نے اوپر اٹھا لیا۔ قرآن کریم نے اس حقیقت کو واضح کرنے پر اکتفا فرمایا ہے اور اس واقعے کی تفصیل بیان نہیں فرمائی، بعض روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ جب آپ کا محاصرہ کیا گیا تو آپ کے مقدس ساتھیوں میں سے ایک نے یہ قربانی دی کہ خود باہر نکلے اور اللہ تعالیٰ نے ان کی صورت حضرت عیسیٰ ؑ جیسی بنادی۔ دشمنوں نے ان کو حضرت عیسیٰ ؑ سمجھ کر سولی پر لٹکا دیا، اور اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ ؑ کو اوپر اٹھا لیا۔ ایک دوسری روایت کے مطابق جو شخص حضرت عیسیٰ ؑ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 157–158
(آیت) ” وقولھم انا قتلنا المسیح عیسیٰ ابن مریم رسول اللہ وما قتلوہ وما صلبوہ ولکن شبہ لھم ، وان الذین اختلفوا فیہ لفی شک منہ ، مالھم بہ من علم الا اتباع الظن ، وما قتلوہ یقینا “۔ (157) بل رفعہ اللہ الیہ ، وکان اللہ عزیزا حکیما (158) (4 : 157۔ 158) (حالانکہ فی الواقع انہوں نے نہ اس کو قتل کیا نہ صلیب پرچڑھایا بلکہ معاملہ ان کیلئے مشتبہ کردیا گیا اور جن لوگوں نے اس بارے میں اختلاف کیا ہے وہ بھی دراصل شک میں مبتلا ہیں ۔ ان کے پاس اس معاملے میں کوئی علم نہیں ہے ۔ محض گمان ہی کی پیروی ہے ۔ انہوں نے مسیح کو یقینا قتل نہیں کیا بلکہ اللہ نے اس کو اپنی طرف اٹھالیا ‘ اللہ زبردست طاقت رکھنے والا اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 156–157
7 یعنی اور نیز اس وجہ سے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے منکر ہو کر دوسرا کفر کمایا اور حضرت مریم پر طوفان عظیم باندھا اور ان کے اس قول پر کہ فخر سے کہتے تھے ہم نے مار ڈالا عیسیٰ مریم کے بیٹے کو جو رسول اللہ تھا ان تمام وجوہ سے یہود پر عذاب اور مصیبتیں نازل ہوئیں۔
Read the full tafseer →آیت 157 وَّقَوْلِہِمْ اِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِیْحَ عِیْسَی ابْنَ مَرْیَمَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ج
یعنی اللہ کے رسول کو قتل کردیا ! یہاں یہ رَسُوْلَ اللّٰہِکے الفاظ ان کے نہیں ہیں ‘ بلکہ یہ اللہ کی طرف سے ہیں استعجابیہ نشان sign of exclamation کے ساتھ ‘ کہ اچھا ان کا دعویٰ یہ ہے کہ انہوں نے اللہ کے رسول کو قتل کیا ہے ! جبکہ رسول تو قتل ہو ہی نہیں سکتا۔ اللہ کا تو فیصلہ ہے ‘ ایک طے شدہ امر ہے ‘ اللہ کی طرف سے لکھا ہوا ہے کہ میں اور میرے رسول غالب آکر رہیں گے کَتَبَ اللّٰہُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِیْ ط المجادلۃ : 21 تو ان کی یہ جرأت کہ وہ سمجھتے ہیں کہ انہوں نے اللہ کے رسول کو قتل کیا ہے !
وَمَا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 157–158
207 یہود کی الزام تراشیاں :۔ یہود کے دلوں پر اللہ نے جو بدبختی کی مہر لگائی تھی تو اس کی وجوہ صرف وہی نہیں جو اوپر مذکور ہو چکیں۔ بلکہ ان کے جرائم کی فہرست آگے بھی چلتی ہے۔ جن میں سے ان کا ایک جرم یہ تھا کہ سیدہ مریم پر تہمت لگا دی اور سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کو ولد الحرام کہتے تھے اور سیدنا زکریا سے منسوب کرتے تھے اور دوسرا جرم یہ تھا کہ وہ کہتے تھے کہ ہم نے سیدنا عیسیٰ کو سولی پر چڑھا کر مار ڈالا ہے۔ یعنی سیدنا عیسیٰ کی پیدائش اور وفات جو دونوں معجزانہ طور پر واقع ہوئی تھیں ان کا صرف انکار ہی نہیں بلکہ ماں بیٹا دونوں پر الزامات بھی لگاتے رہے۔ ان الزامات اور ان کے جوابات کے لیے دیکھیے سورة…
Read the full tafseer →396 ۔ یہ قول کس کا تھا ؟ ظاہر ہے کہ یہود ہی کا تھا، جو اس پر خوش بھی ہوئے تھے، اور اس کا دعوی بھی فخر کے ساتھ کررہے تھے۔ (آیت) ” المسیح۔ رسول اللہ “۔ یہ دونوں الفاظ یہود کے نہیں، وہ انہی دونوں منصبوں یا مسیحیت اور رسالت ہی کے تو منکر تھے، قرآن حمید نے نفس واقعہ کے لحاظ سے ان کا صحیح منصب بیان کردیا۔ قرآن مجید کا یہ اسلوب بیان عام ہے ھو اخبار من اللہ تعالیٰ بصفۃ عیسیٰ (بحر، عن ابن عطیہ) یجوز ان یضع اللہ الذکر الحسن مکان ذکر ھم القبیح فی الحکایۃ عنھم (کبیر، کشاف) یحتمل ان یکون الستنافامن اللہ تعالیٰ بمدحہ (بیضاوی) یحتمل ان اللہ وصفہ بالرسول وان لم یقولوا ذلک (مدارک) (آیت) ” انا قتلنا “۔ قتل کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 157–159
قتل عیسیٰ علیہ الصلوٰة والسلام کے بارے میں یہود کا اشتباہ : وَمَاقَتَلوہ وَمَا صَلَبوہ، ان آیات میں واضح کیا گیا ہے کہ نہ تو ان لوگوں نے حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰة والسلام کو قتل کیا اور نہ سولی دی بلکہ صورت یہ ہوئی کہ معاملہ ان کے لئے مشتبہ ہوگیا، ولکن شُبّہَ لھم کی تفسیر میں ضحاک (رح) تعالیٰ نے فرمایا کہ قصہ یوں پیش آیا کہ جب یہود نے حضرت مسیح علیہ الصلوٰة والسلام کے قتل کا ارادہ کیا تو آپ کے حواری ایک جگہ جمع ہوگئے، حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰة والسلام بھی ان کے پاس تشریف لے آئے، ابلیس نے ان یہود کو جو حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰة والسلام کے قتل کے درپے تھے آپ کے چھپنے کے مقام کی نشاندی کردی جس کی وجہ…
Read the full tafseer →وقولہم انا قتلنا المسیح عیسیٰ ابن مریم رسول اللہ اور ان کے اس کہنے کی وجہ سے کہ ہم نے مسیح عیسیٰ بن مریم ( علیہ السلام) کو (جو بزعم خود) رسول اللہ تھا قتل کردیا یا یہودیوں نے حضرت عیسیٰ ﷺ کو رسول اللہ بطور استہزاء کہا ہو (کیونکہ حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کی رسالت کا اعتقاد ان کا نہ تھا) یہ بھی ممکن ہے کہ انہوں نے رسول اللہ کی جگہ برا لفظ کہا ہو ‘ لیکن اللہ نے ان کے لفظ کی جگہ اپنی طرف سے لفظ رسول اللہ بطور مدح فرما دیا تاکہ یہ معلوم ہوجائے کہ رسول اللہ کو برے الفاظ سے ذکر کرنے والے مستحق ملامت ہیں۔
وما قتلوہ وما صلبوہ ولکن شبہ لہم اور انہوں نے عیسیٰ ( علیہ السلام) کو نہ قتل کیا نہ صلیب دی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 156–158
(156۔ 157۔ 158) اور حضرت عیسیٰ ؑ اور انجیل کے انکار اور ان پر چھوٹے الزام کی وجہ سے ہم نے ان کو سور بنادیا اور حضرت عیسیٰ ؑ کے قتل کے دعوے پر ان کے ساتھی قطیانوس کو ہلاک کردیا، قطیانوس کے سامنے حضرت عیسیٰ ؑ کے مشابہ ایک شخص ہوگیا، اس نے اس کو قتل کردیا، ان کے پاس تو ان کے قتل کا شبہ بھی نہیں یقیناً انھوں نے حضرت عیسیٰ ؑ کو قتل نہیں کیا، اللہ تعالیٰ اپنے دشمنوں سے انتقام لینے میں بڑے زبردست ہیں اور ساتھ ہی حکیم بھی ہیں کس طرح اپنی نبی کو حفاظت کیساتھ آسمان پر اٹھا لیا اور ان کے دشمن کو ہلاک کردیا۔
Read the full tafseer →وَّقَوْلِهِمْ اِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِيْحَ عِيْسَى ابْنَ مَرْيَمَ رَسُوْلَ اللّٰهِ ۚ: یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہود خود مسیح ؑ کی رسالت کا اقرار کر کے اپنے گمان میں انھیں قتل کرنے کا دعویٰ اور اس پر فخر کر رہے ہیں، یہ کیسے ہوسکتا ہے ؟ مفسرین نے اس کے چند جواب دیے ہیں، پہلا یہ کہ وہ جو اپنے آپ کو ”رسول اللہ“ سمجھتا تھا، ہم نے اسے قتل کردیا۔ دوسرا یہ کہ وہ بطور طنز انھیں ”رسول اللہ“ کہہ رہے تھے۔ تیسرا یہ کہ یہودیوں کا عیسیٰ ؑ کے قتل کو بطور فخر ذکر کرنے پر اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ ؑ کے اکرام اور شرف کے اظہار کے لیے اپنے پاس سے لفظ ”رسول اللہ“ کا اضافہ کردیا کہ ان ظالموں نے کتنی بڑی ہستی کو قتل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 157–158
آیت نمبر : 157 تا 158۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” انا قتلنا المسیح عیسیٰ ابن مریم ‘۔ ان کو کسرہ دیا گیا ہے کیونکہ قول کے بعد اس سے ابتدا کی گئی ہے اور لغتہ اس سے کلام شروع ہو رہی ہے۔ سورة آل عمران میں لفظ (آیت) ” المسیح “ کا اشتقاق گزر چکا ہے، (آیت) ” رسول اللہ “۔ بدل ہے اگر تو چاہے تو اس سے پہلے اعنی کا اعتبار کرلے، (آیت) ” وما قتلوہ وما صلبوہ “۔ یہ ان کے قول کا رد ہے۔ (آیت) ” ولکن شبہ لھم “۔ یعنی ان کی شبیہ کسی دوسرے پر ڈالی گئی جیسا کہ سورة آل عمران میں گزر چکا ہے، بعض لوگوں نے کہا : وہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی شخصیت کو نہیں جانتے تھے انہوں نے اسے قتل کردیا جسے قتل کیا جب کہ انہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 157–158
(1) عبد بن حمید و نسائی وابن ابی حاتم وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جب اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ (علیہ السلام) کو آسمان کی طرف اٹھانے کا ارادہ فرمایا تو اپنے ساتھیوں کی طرف نکلے اور گھر میں حواریوں میں سے بارہ آدمی تھے آپ ان کے پاس دوسرے گھر سے آئے اور آپ کے سر سے پانی ٹپک رہا تھا انہوں نے فرمایا تم میں سے کون شخص ہے ؟ جو بارہ مرتبہ کفارہ ادا کرے مجھ پر ایمان لانے کے بعد پھر فرمایا تم میں سے کون ہے جس پر میری شبیہ ڈال دی جائے (یعنی میرے جیسا بنا دیا جائے) اور وہ قتل کردیا جائے میرے بدلے میں اور میرے ساتھ ہو میرے درجے میں ان میں سے سب سے کم عمر نوجوان اٹھا عیسیٰ (علیہ السلام) نے اس سے…
Read the full tafseer →[ وَّقَوْلِہِمْ : اور ان کے کہنے سے ] [ اِنَّا : کہ ہم نے ] [ قَـتَلْنَا : قتل کیا ] [ الْمَسِیْحَ : مسیح (علیہ السلام) کو ] [ عِیْسَی ابْنَ مَرْیَمَ : جو عیسیٰ بن مریم ہیں ] [ رَسُوْلَ اللّٰہِ : جو اللہ کے رسول ہیں ] [ وَمَا قَتَلُوْہُ : اور انہوں نے قتل نہیں کیا ان کو ] [ وَمَا صَلَبُوْہُ : اور نہ ہی انہوں نے سولی چڑھایا ان (علیہ السلام) کو ] [ وَلٰــکِنْ : اور لیکن ] [ شُبِّہَ : مشتبہ کیا گیا (معاملہ) ] [ لَہُمْ : ان کے لیے ] [ وَاِنَّ : اور بیشک ] [ الَّذِیْنَ : جن لوگوں نے ] [ اخْتَلَفُوْا : اختلاف کیا ] [ فِیْہِ : اس میں ] [ لَفِیْ شَکٍّ : یقینا (وہ) شک میں ہیں ] [ مِّنْہُ : اس (کی طرف)…
Read the full tafseer →نیز سورة تحریم میں فرمایا (وَمَرْیَمَ ابْنَتَ عِمْرَانَ الَّتِیْ اَحْصَنَتَْ فَرْجَھَا) (الآیۃ) لیکن یہودی اسی پر اڑے رہے کہ حضرت مریم سے برائی کا صدور ہوا۔ پھر جب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نبوت سے سرفراز ہوئے تو یہودیوں نے ان کی دشمنی میں اور زیادہ اضافہ کردیا۔ حتیٰ کہ اپنے خیال میں ان کو قتل ہی کردیا۔ اسی کو (وَقَوْلِھِمْ اِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِیْحَ عِیْسَی بْنَ مَرْیَمَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ) میں بیان فرمایا۔ صاحب روح المعانی فرماتے ہیں کہ وہ ان کو رسول مانتے نہ تھے۔ پھر بھی ان کو رسول اللہ کہا ان کا یہ کہنا مذاق بنانے کے تھا۔ اور یہ ممکن ہے کہ انہوں نے اس کی جگہ کوئی اور لفظ کہا ہو اللہ جل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 157–158
عقیدہ قتل وصلب کا ابطال۔
قال تعالیٰ وماقتلوہ وماصلبوہ۔ آیت۔ نصاری کا یہ عقیدہ ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) مقتول ومصلوب ہوئے اور تین دن قبر میں مردہ رہ کر زندہ ہوگئے اور اٹھ کر آسمان پر چڑھ گئے نصاری کا یہ مسئلہ سراسر خلاف عقل ہے اس لیے کہ قتل اور صلب اور موت سب مخلوق کے لیے ہے نہ کہ خالق کے لیے اور اہل اسلام کا عقیدہ یہ ہے کہ حضرت مسیح بن مریم نہ مقتول ہوئے اور نہ مصلوب بلکہ صحیح وسالم اسی جسم عنصری کے ساتھ آسمان پر اٹھائے گئے اور یہود بےیہود کی جو جماعت ان کے قتل کے ارادہ سے ان کے مکان میں داخل ہوئی تھی انہی میں کا ایک شخص بحکم خداوندی حضرت مسیح کی ہم شکل بنادیا گیا دشمنوں نے اسی کو مسیح…
Read the full tafseer →104 یہ بھی یہود کا ایک جھوٹا دعویٰ تھا کہ ہم نے عیسیٰ ابن مریم کو قتل کردیا ہے وَمَا قَتَلُوْہٗ وَ مَا صَلَبُوْ ہٗ یہاں ان کے غلط دعوے کی تردیدکردی کہ نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ نے اس کو ان کے خبیث ہاتھوں سے بچالیا۔ وَلٰکِنْ شُبِّہَ لَھُم۔ اس کے دو معنی ہیں اول یہ کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی شکل ایک دوسرے شخص پر ڈال دی گئی اور اسے ان کا شبیہ اور ہمشکل بنا دیا گیا جسے یہودیوں نے مسیح سمجھ کر سولی دے دی جیسا کہ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ جب یہود حضرت مسیح (علیہ السلام) کو سولی دینے کے لیے گرفتار کرنے گئے تو ایک شخص طیطانوس نامی کو اس مکان میں داخل کیا جس میں حضرت مسیح (علیہ السلام) تھے جب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 156–159
گزشتہ آیات میں اہل کتاب کے عناد کا ذکر تھا ، اللہ نے ان کے اعتراض کو بیان فرمایا ، خصوصا یہودی کہتے تھے کہ اگر آپ اللہ کے سچے نبی ہیں اور قرآن پاک اللہ کی کتاب ہے تو پھر یہ بیک وقت لکھی لکھائی آسمان سے کیوں نازل نہیں ہوتی۔ جس طرح کہ تورات موسیٰ (علیہ السلام) پر تختیوں کی صورت میں نازل ہوئی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس اعتراض کا جواب دینے سے پہلے ان کی بعض قباحتوں کا تذکرہ فرمایا تھا اور حضور ﷺ کو بایں الفاظ تسلی دی تھی کہ یہ عنادی لوگ ہیں ، انہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) سے اس سے بھی بڑے بڑے سوال کئے ، لہذا آپ دل برداشتہ نہ ہوں بلکہ صبر کریں۔ آج کے درس کی آیات میں بھی اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب کی…
Read the full tafseer →وَّقَوْلِـہِمْ اِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِيْحَ عِيْسَى ابْنَ مَرْيَمَ رَسُوْلَ اللہِ 0ۚ وَمَا قَتَلُوْہُ وَمَا صَلَبُوْہُ وَلٰكِنْ شُـبِّہَ لَہُمْ 0ۭ وَاِنَّ الَّذِيْنَ اخْتَلَفُوْا فِيْہِ لَفِيْ شَكٍّ مِّنْہُ 0ۭ مَا لَہُمْ بِہٖ مِنْ عِلْمٍ اِلَّا اتِّبَاعَ الظَّنِّ 0ۚ وَمَا قَتَلُوْہُ يَقِيْنًۢا 157ۙ
قتل
أصل القَتْلِ : إزالة الروح عن الجسد کالموت، لکن إذا اعتبر بفعل المتولّي لذلک يقال : قَتْلٌ ، وإذا اعتبر بفوت الحیاة يقال : موت . قال تعالی: أَفَإِنْ ماتَ أَوْ قُتِلَ [ آل عمران/ 144]
( ق ت ل ) القتل
( ن ) الموت کی طرح اس کے معنی بھی جسم سے روح کو زائل کرنے کے ہیں لیکن موت اور قتل میں فرق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 157–158
(6) وقولہم انا قتلنا المسیح عیسیٰ بن مریم رسول اللّٰہ یہود حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو رسول اللہ نہ جانتے تھے مگر پھر رسول اللہ کہنا یا بطور تمسخر کے تھا جیسا کہ مکہ کے کفار آنحضرت (علیہ السلام) کو تمسخر سے کہتے تھے یایہا الذی نزل علیہ الذکر انک لمجنون اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ حضرت مسیح (علیہ السلام) کو اور ان کی والدہ ماجدہ کو برے الفاظ سے تعبیر کیا کرتے تھے۔ ساحر بن الساحرۃ فاعل بن الفاعلۃ کہتے تھے اس کے مقابلہ میں خدا نے رسول اللہ کا وصف ذکر کیا۔ یہ بھی ان کا سخت گناہ اور ان کی نسل در نسل بردبادی اور خرابی کا باعث تھا۔ وہ بڑے تفاخر سے کہا کرتے تھے کہ ہم نے عیسیٰ مسیح کو قتل کر ڈالا جن کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 156–159
وَّ بِکُفْرِہِمْ وَ قَوْلِہِمْ عَلٰی مَرْیَمَ بُہْتَانًا عَظِیْمًا لا وَّقَوْلِہِمْ اِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِیْحَ عِیْسَی ابْنَ مَرْیَمَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ج وَمَاقَتَلُوْہُ وَمَا صَلَبُوْہُ وَلٰـکِنْ شُبِّہَ لَہُمْ ط وَاِنَّ الَّذِیْنَ اخْتَلَفُوْا فِیْہِ لَفِیْ شَکٍّ مِّنْہُ ط مَالَہُمْ بِہٖ مِنْ عِلْمٍ اِلَّا اتِّبَاعَ الظَّنِّ ج وَمَا قَتَلُوْہُ یَقِیْنًا م لا بَلْ رَّفَعَہُ اللّٰہُ اِلَیْہِ ط َوکَانَ اللّٰہُ عَزِیْزًا حَکِیْمًا
” اور بوجہ ان کے کفر کے اور بوجہ ان کے مریم پر ایک بہتانِ عظیم لگانے کے اور ان کے اس دعویٰ کے سبب سے کہ ہم نے مسیح ابن مریم اللہ کے رسول کو قتل کیا۔ حالانکہ نہ تو…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : گزشتہ سے پیوستہ۔
اللہ تعالیٰ نے جس طرح نبی آخر الزماں ﷺ کو ارشاد فرمایا کہ میرے رسول بےدھڑک اپنا کام کرتے جائیے ہم آپ کو لوگوں کی سازشوں اور شرارتوں سے محفوظ رکھیں گے۔ اسی طرح ہی اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے وعدہ فرمایا تھا کہ تیرے دشمن جتنی چاہیں سازشیں اور شرارتیں کرلیں وہ تیرا کچھ نہیں بگاڑ سکتے کیونکہ میں تجھے تیرے دشمنوں سے بچاؤں گا چناچہ یہودیوں نے جب عیسیٰ (علیہ السلام) کو تختہ دار پر لٹکانے کی کوشش کی تو جہاں عیسیٰ (علیہ السلام) محصور کیے گئے تھے انہیں لینے کے لیے یہودا نامی شخص اندر گیا جس کے بارے میں قرآن مجید نے اشارہ کیا ہے کہ یہ غدّارجب باہر…
Read the full tafseer →مسیح کہنے کی وجوہ :
آیت 157 : وَّقَوْلِہِمْ اِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِیْحَ (اور ان کے اس قول کی وجہ سے کہ بیشک ہم نے قتل کیا مسیح کو)
مسیح کو مسیح کہنے کی وجہ یہ ہے نمبر 1۔ کہ جبرئیل ( علیہ السلام) نے ان کو برکت سے چھوا۔ پس وہ ممسوح ہوئے گویا مسیح بمعنی ممسوح ہے۔
نمبر 2۔ وہ مریض اور مادرزاد نابینا اور کوڑھی کو ہاتھ لگاتے تو وہ درست ہوجاتا۔ تو مسیح بمعنی ماسح ہوا۔
رسول اللہ کہنے کی وجہ :
عِیْسَی ابْنَ مَرْیَمَ رَسُوْلَ اللّٰہِ (عیٰھ بن مریم جو اللہ کے رسول ہیں) نمبر 1۔ یہود کو آپ کی رسالت کا اعتقاد نہ تھا۔ یہ جملہ انہوں نے بطور استہزاء کہا۔ جیسا کہ کفار مکہ نے رسول اللہ ﷺ کو کہا : یایہا الذی نزل…
Read the full tafseer →(حضرت مریم (علیہا السلام) پر جب گناہ کی تہمت لگائی)
157۔ (آیت)” وقولھم انا قتلنا المسیح عیسیٰ ابن مریم رسول اللہ وما قتلوہ وما صلبوہ ولکن شبہ لھم “۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی شبیہ اس شخص پر ڈالدی تھی جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو قتل کرنے کے لیے ان کے گھر میں داخل ہوا اور بعض نے کہا کہ انہوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو ایک گھر میں بند کر کے رکھا ہوا تھا ، عیسائیوں نے اپنا رقیب اندر بھیجا تاکہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو قتل کردے ، اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی شبیہ اس شخص پر ڈال دی تو لوگوں نے اس شخص کو قتل کردیا اور بعض نے کہا کہ اس کے علاوہ کوئی اور واقعہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 155–159
(155 ۔ 159) ۔ اوپر ذکر تھا کہ کوہ طور جب اٹھایا جاکر یہود کے سروں پر لایا گیا اور اس کو اس پہاڑ کے ان پر ڈال دئے جانے کا خوف دلایا گیا تو اس وقت انہوں نے تورات کے احکام کے موافق عمل کرنے کا عہد کیا تھا ان آیتوں میں ذکر ہے کہ ان لوگوں کے اس عہد پر قائم نہ رہنے سے اور موسیٰ (علیہ السلام) کے زمانے میں طرح طرح کے معجزا دیکھ کر ان کو بھلا دینے سے اور بلا وجہ زکریا ( علیہ السلام) اور یحییٰ وغیرہ انبیاء کو قتل کرنے سے اور ان لوگوں کے اس بات کے کہنے سے کہ ہمارے دل پر غلاف ہیں کسی کی نصیحت ہمارے دل پر اثر نہیں کرتی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو ملعون اور پانی رحمت سے دور کردیا ہے۔ اس لئے جس طرح مقفل اور قفل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 154–161
آیت 154
اہل کتاب نے رسول اللہ ﷺ سے یہ سوال مطالبہ اور عناد کی بنا پر کیا تھا اور اسی پر انہوں نے اپنی تصدیق و تکذیب کو موقوف قرار دیا تھا اور ان کا سوال یہ تھا کہ ان پر تمام قرآن ایک ہی بار نازل ہوجائے جیسے تورات اور انجیل ایک ہی بار نازل ہوئی تھیں۔ یہ ان کی طرف سے اتنہائی ظالمانہ مطالبہ تھا کیونکہ رسول ﷺ تو ایک بشر اور بندے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی تدبیر کے تحت ہیں، رسول اللہ ﷺ کے اتھ میں تو کوئی اختیار نہیں۔ تمام اختیار اللہ تعالیٰ کے قبضہ قدرت میں ہے۔ وہی ہے جو اپنے بندوں پر جو چاہتا ہے نازل کرتا ہے۔ جس سرح اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کی طرف سے اس وقت فرمایا جب مشرکین نے اسی قسم کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 148–160
مظلوم کی آہ سے بچو
قول باری ہے لایحب اللہ الجھربالتوء من القول الامن ظلم، اللہ اس کو پسند نہیں کرتا کہ آدمی بدگوئی پر زبان کھولے، الا یہ کہ کسی پر ظلم کیا گیا ہو۔ حضرت ابن عباس ؓ اور قتادہ کا قول ہے ” الایہ کہ مظلوم اپنے ظالم کے لئے بددعا کرے “۔ مجاہد سے ایک روایت ہے ” الایہ کہ مظلوم ظالم کی طرف سے ڈھائے جانے والے ظلم کی لوگوں کو اطلاع دے “۔ حسن اور سدی کا قول ہے ” الایہ کہ مظلوم ظالم سے اپنا بدلہ لے لے “۔ فرات بن سلیمان نے ذکر کیا ہے کہ عبدالکریم سے اس قول باری کے معنی پوچھے گئے تو انہوں نے کہا ” یہ وہ شخص ہے جو تمہیں برا بھلا کہتا ہے اور جواب میں تم بھی اسے برا بھلا کہہ دیتے ہو لیکن اگر وہ…
Read the full tafseer →407 حضرت مریم پر بہتان بازی کا جرم عظیم : کہ ان بدبختوں نے ان پر بدکاری کا الزام لگایا ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور ظاہر ہے کہ حضرت مریم صدیقہ پر تہمت لگانے سے بڑھ کر جرم عظیم اور کیا ہوسکتا ہے ؟ اسی لیے یہاں پر یہود بےبہبود کے اس جرم کو علیحدہ کرکے مستقل جرم کے طور پر ذکر فرمایا گیا ہے، حالانکہ کفر کے ضمن میں اس کا بیان بھی ضمنی طور پر ہوگیا تھا۔ سو اس سے اس جرم عظیم کی شدت اور زیادہ ہوجاتی ہے اور نبی اکرم ۔ ﷺ ۔ نے پاکدامن ایماندار خواتین کو بدکاری کی تہمت " سبع موبقات " میں سے قرار دیا۔ یعنی ان سات بڑے گناہوں میں سے جو ہلاکت اور تباہی میں ڈالنے والے ہیں اور جب عام مومن عورت پر تہمت اتنا بڑاجرم ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 157–159
سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کے قتل کا منصوبہ اور ان کا زندہ اٹھایا جانا
تشریح : ان آیات کا مضمون بالکل واضح ہے۔ تفصیلات اس کی سورة آل عمران میں بیان کی جا چکی ہیں یہ جو بار بار یہود کا ذکر کیا جارہا ہے تو صرف اس وجہ سے کہ ایک تو نبی کریم ﷺ کو تسلی ہو اور دوسرے مسلمانوں کو بتانے کیلیے کہ ان لوگوں سے عبرت حاصل کریں ان کے راستوں پر نہ چلیں کیونکہ برے کاموں کا برا ہی انجام ہوتا ہے جیسا کہ یہودیوں کو سزاملی۔ بارہا معاف کرنے پر بھی جب وہ برائیوں سے باز نہ آئے تو پھر ان کو سخت سزا دی گئی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 153–162
رکوع نمبر 22 ۔ آیات 153 تا 162 ۔
بے عملی کے بہانے :
کج بحثی کرنا یہود کی پرانی عادت ہے اور اس بدبخت قوم کی تاریخ ہی یہ ہے کہ اللہ کے بندوں کو اللہ کے دین اور اللہ کے رسولوں کو انہوں نے بہت ایذاء پہنچائی اور ہمیشہ الٹ بات سوچتے اور کہتے بھی ہیں کرتے بھی الٹ ہیں۔ اب آپ ﷺ سے سوال کرتے ہیں آپ آسمان سے لکھی لکھائی کتاب لے کر آئیں پھر ہم ایمان لائیں گے مگر خود موسیٰ (علیہ السلام) سے جو طور پر سے لکھی لکھائی کتاب لے کر آگئے تھے انہوں نے اس سے بھی بہت بڑا سوال کردیا تھا اور وہ تھا کہ ہم کو کھلم کھلا اللہ کی زیارت کرا دیں جب مانیں گے اس زیادتی پر ان پر برق گری اور تباہ ہوگئے مگر موسیٰ (علیہ السلام) کی…
Read the full tafseer →ف 8 یا یہودی انہیں محض طنزار سول اللہ ( علیہ السلام) کہا کرتے تھے اور پھر بزم خود قتل کرنے پر اس طرح کا فخر یہ ان کا انتہائی سنگین جرم تھا۔ ) رازی۔ قرطبی) اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ عیسیٰ ٰ ( علیہ السلام) کے قتل کا دعویٰ کرتے ہوں اور اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ ٰ ( علیہ السلام) کو رفعت شانکے پیش نظر یہ القاب ذکر فرادیئے ہوں (رازی)9 یعنی اللہ تعال نے ان کی ایک صورت بنادی اس صورت کو سولی چڑھا یا۔ (مو ضح) حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ جب یہودی حضرت مسیح ( علیہ السلام) کو پکڑ نے کے لیے گئے تو آپ ( علیہ السلام) نے اپنے حواریوں سے فرمایا تم میں سے کون شخص اس بات پر راضی ہے کہ اسے میرا شبیہ بنادیا جائے…
Read the full tafseer →(4:157) وقولہم انا قتلنا المسیح عیسیٰ ابن مریم کا عطف حسب بالا فبما نقضہم میثاقھم پر ہے۔
ما قتلوہ سے لے کر آیۃ 159 تک جملہ معترضہ ہے۔
ما صلبوہ۔ ما نافیہ ہے۔ صلبوا صلب سے (باب ضرب) ماضی کا صیغہ جمع مذکر غائب ہے ۔ ہ ضمیر واحد مذکر غائب ۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی طرف راجع ہے انہوں نے اس کو سولی نہیں چڑھایا تھا۔ الصلب ھو تعلیق الانسان للقتل۔ کسی انسان کو لٹکا دینا تاکہ وہ مرجائے یہ صلب ہے۔
شبہ۔ وہی صورت بنادی گئی۔ مانند کردیا گیا۔ تشبیہ سے جس کے معنی کسی چیز کو کسی چیز کے مانند کردینے کے ہیں۔ ماضی مجہول کا صیغہ واحد مذکر غائب ہے۔ ولکن شبہ لہم۔ بلکہ سولی چڑھانے کا معاملہ ان پر مشتبہ کردیا گیا۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 153–159
آیت نمبر 153-159
لغات القرآن : سالوا، انہوں نے سوال کیا۔ ارنا، ہمیں دکھا دے۔ لاتعدوا، تم حد سے نہ بڑھو۔ نقض، توڑنا۔ طبع اللہ، اللہ نے مہر لگا دی۔ ماصلبوہ، انہوں نے اس کو پھانسی نہیں دی۔ لیؤمنن، البتہ وہ ضرور ایمان لائیں گے۔
تشریح : ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو تسکین دینے کے لئے قوم یہود کی نفسیات اور بعض نازیبا حرکتوں کو پیش کیا ہے۔ یہود کے چند سردار حضور ﷺ کے پاس آئے اور کہا اگر آپ بھی ایک مکمل لکھی ہوئی کتاب آسمان سے نازل شدہ ہمیں دکھا دیں جس طرح ایک مکمل لکھی ہوئی کتاب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر نازل ہوچکی ہے تو ہم آپ پر ایمان لے آئیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کو تسلی دی کہ یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 155–159
ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ جو انہیں حکم دیا گیا ہے وہ کریں اور جس کی ممانعت کی گئی ہے اس سے باز رہیں ۔ پھر ان لوگوں کے اس عہد پر قائم نہ رہنے سے اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے زمانہ میں طرح طرح کے معجزات دیکھ کر ان کو بھلادینے اور بلاوجہ انبیاء کو قتل کرنے سے اور اس بات کے کہنے سے کہ ہمارے دل پر غلاف ہیں کسی کی نصیحت ہمارے دل پر اثر نہیں کرتی ۔ اللہ تعالیٰ نے ان ملعونوں کو اپنی رحمت سے دور کردیا ہے ، اس لئے جس طرح مقفل اور مہر لگے ہوئے مکان کے اندر کوئی چیز نہیں جاسکتی ۔ ان کے دل میں بھی کسی نصیحت کا اثر نہیں سماسکتا اوپر ہی رہتا ہے کیونکہ کثرت گناہ سے ان کے دلوں پر زنگ چھا گیا ہے ۔ آنحضرت ﷺ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 157–158
[99] یعنی عیسیٰ (علیہ السلام) کے دھوکے میں کسی اور کو سولی چڑھا گئے اور خیال کرتے رہے کہ یہ عیسیٰ (علیہ السلام) ہیں۔ صدر اول سے آج تک جمہور مسلمانوں کا یہی عقیدہ رہا ہے اور قدیم ترین نصاریٰ کا بھی یہی عقیدہ تھا کہ عیسیٰ (علیہ السلام) مصلوب نہیں ہوئے۔ یہ تو پولوس (متوفی 65 ء) تھا جس نے کفارہ کا عقیدہ ایجاد کیا جس کی رو سے عیسیٰ (علیہ السلام) نے صلیب پر جان دی اور سب کی طرف سے مخلوق کے گناہوں کا کفارہ ادا کردیا۔
[100] یعنی عیسائیوں نے۔ ان میں مسیح کے مصلوب ہونے پر کوئی ایک متفق علیہ قول نہیں ہے بلکہ بیسیوں اقوال ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 156–157
بہتان عظیم :
(ف 2) ان آیات میں یہودیوں کے موٹے موٹے جرائم بیان کئے ہیں کہ کیونکر وہ خدا کے غضب وغصہ کے مستحق بنے فرمایا نقض میثاق کی وجہ سے یعنی اس لئے انہوں نے ہمیشہ شریعت کی مخالفت کی اور کفر کی وجہ سے دائما اللہ کی نشانیوں کو جھٹلایا اور اس لئے بھی کہ انبیاء (علیہم السلام) سے مخاصمت ومقاتلہ جاری رکھا ، یہ سب اس لئے کہ وہ کہتے تھے (آیت) ” قلوبنا غلف “۔ یعنی ہمیں تیری باتیں نہیں بھاتیں ، دلوں میں پردے حائل ہیں ، فرمایا ۔ درست کہتے ہیں ان کے دل حق ویقین کی صلاحیت سے قطعا محروم ہوچکے ہیں اور خدا نے مسمرہ قانون کے ماتحت ان کے دلوں پر بالآخر مہر کردی ہے ۔
سب سے بڑا گناہ ان کا یہ خبث نفس ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 154–157
ف 2 اور ہم نے ان لوگوں سے عہد و پیمان اور قول قرار لینے کے لئے طور پہاڑ کو اٹھا کر ان کے سروں پر معلق کردیا تھا اور ہم نے ان کو یہ حکم دیا تھا کہ بیت المقدس کے باب میں عاجزی کے ساتھ کمر کو جھکائے ہوئے داخل ہونا اور ہم نے ا ن کو یہ بھی حکم دیا تھ ا کہ دیکھو تم کو جو ہفتہ کے دن شکار کی ممانعت کی گئی ہے اس میں حد شرع سے تجاوز اور زیادتی نہ کرنا اور ہم نے ان سے بہت ہی پختہ اور مضبوط قول وقرار اور عہد و پیمان لیا تھا۔ (تیسیر)
یہ وہی واقعات ہیں جو کم و بیش پہلے بارے میں گذر چکے ہیں یہاں دوسری مناسبت سے ان کی طرف مختصراً اشارہ فرمایا ہے جب ان کو توریت ملی تو انہوں نے اس کے قبول کرنے سے انکار کیا اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 157–158
ف 2۔ عیسیٰ (علیہ السلام) کے نام کے ساتھ جو رسول اللہ آیا ہے یہ یہود کا قول نہیں ہے بلکہ اللہ نے برھادیا ہے کہ دیکھو ایسے کی نسبت ایسا کہتے ہیں۔
Read the full tafseer →یہودنامسعود کا یہ کہنا کہ ہم نے عیسیٰ ابن مریم کو قتل کردیا ہے سراسر جھوٹ ہے :
246: یہود کا دوسرا جرم جو اس جگہ پہلی دفعہ مذکور ہوا یہ ہے کہ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ہم نے اللہ کے رسول مسیح (علیہ السلام) کو قتل کردیا ہے اور قتل بھی سولی پر لٹکا کر کیا ہے۔ رہی یہ بات کہ وہ سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ کا رسول مانتے تھے یا نہیں ؟ اگر مانتے تھے تو پھر انہوں نے قتل کیوں کیا ؟ اور یہ بھی کہ اگر وہ اللہ کا رسول نہیں مانتے تھے تو پھر انہوں نے آپ کے رسول ہونے کا ذکر کیوں کیا ؟ جہاں تک پہلے سوال کا تعلق ہے وہ عیسیٰ (علیہ السلام) کو رسول مانتے تھے یا نہیں ؟ قرآن کریم کا اسلوب بیان اور یہود کی تاریخ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 157–158
Commentary
In the verse يَا عِيسَىٰ إِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَرَافِعُكَ (Isa, I am to take you in full and lift you towards Me... 3:55) appearing in Surah 'Al-` Imran, Almighty Allah had made five promises in connection with foiling the Jewish plans against Sayyidna ` Isa (علیہ السلام) and protecting him from their hostile intentions. A detailed explanation of these has been given earlier on that occasion in Surah 'Al-` Imran. One of the promises made there was that the Jews will not be allowed to have their way with their intention to kill Sayyidna ` Isa (علیہ السلام) . Instead of that, Allah…
Read the full tafseer →191. Their criminal boldness had reached such proportions that they attempted to put an end to the life of the one they themselves knew to be a Prophet, and subsequently went around boasting of this achievement. The least reflection on the incident of Jesus talking in his cradle (see the preceding note) makes it clear that there was no strong reason to doubt his prophethood. Moreover, the miracles of Jesus which they themselves witnessed (see Surah Al 'Imran 3: 49) had firmly established his claim to prophethood. Thus, whatever treatment they meted out to him was not based on any…
Read the full tafseer →