An-Nisaa 4:156

An-Nisaa · from ayah 156

4:156

وَّبِكُفْرِهِمْ وَقَوْلِهِمْ عَلٰی مَرْیَمَ بُهْتَانًا عَظِیْمًا ۟ۙوَّبِكُفۡرِهِمۡ وَقَوۡلِهِمۡ عَلٰى مَرۡيَمَ بُهۡتَانًـا عَظِيۡمًا

اور ان کے کفر کے سبب اور مریم پر ایک بہتان عظیم باندھنے کے سبب

— Fateh Muhammad Jalandhari

And [We cursed them] for their disbelief and their saying against Mary a great slander,

— Saheeh International

Juz 6 · Ruku 22 of surah · Ruku 2 of juz

Read the whole surah · Surah An-Nisaa

All translations of 4:156

پھر اپنے کفر میں اتنے بڑھے کہ مریم پر سخت بہتان لگایا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور ان کے کفر کے سبب اور مریم پر ایک بہتان عظیم باندھنے کے سبب

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور ان کے کفر کے باعﺚ اور مریم پر بہت بڑا بہتان باندھنے کے باعﺚ

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور اس لیے کہ انہوں نے کفر کا راستہ اختیار کیا، اور مریم پر بڑے بھاری بہتان کی بات کہی۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور اس لئے کہ انہوں نے کفر کیا اور مریم پر بڑا بہتان اٹھایا،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور (مزید یہ کہ) ان کے (اس) کفر اور قول کے باعث جو انہوں نے مریم (علیہا السلام) پر زبردست بہتان لگایا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور ان کے کفر کی وجہ سے اور مریم پر ان کے بہت بڑا بہتان باندھنے کی وجہ سے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

نیز اس لیے (اللہ نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی) کہ انہوں نے حق بات کا انکار کیا اور مریم پر بہت بڑا بہتان لگا دیا

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور بوجہ ان کے کفر کے اور بوجہ ان کے مریم پر ایک بہتان عظیم لگانے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

نیز (ان پر یہ سزائے لعنت اور عذاب مسلط ہوا) بوجہ ان کے کفر کے، اور بوجہ اس کے کہ انہوں نے مریم (صدیقہ) پر بہت بڑا بہتان باندھا،

— مولانا اسحاق مدنی

نیز بہ سبب ان کے کفر کے اور بہ سبب ان کے مریم ؑ پر بہتان عظیم رکھنے کے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور بسبب ان کے کفر کے اور ان باتوں کے جو انہوں نے مریم کے خلاف کیں ایک بہت بڑے بہتان کے طور پر

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اپنے کفر میں یہ لوگ اتنے بڑھ گئے کہ انہوں نے حضرت مریم پر سخت بہتان لگایا

— محترمہ رفعت اعجاز

and for their going so far in unbelief as uttering against Mary a mighty calumny,

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

- and for their disbelief and for what they said against Maryam as a grim imputation,

— Muhammad Taqi Usmani

- and for their disbelief and for what they said against Maryam as a grim imputation,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And because of their disbelief and uttering against Maryam a grave false charge.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And because of their disbelief and of their speaking against Mary a tremendous calumny;

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And [We cursed them] for their disbelief and their saying against Mary a great slander,

— Saheeh International

Their hearts were also sealed because of their lack of faith, their gravely slanderous accusation against Mary,

— Muhammad Sarwar

And for their unbelief and for their having uttered against Marium a grievous calumny.

— Muhammad Habib Shakir

And for their blasphemy and for their speaking against Maryam a mighty calumny.

— Abdul Majid Daryabadi

That they rejected Faith; that they uttered against Mary a grave false charge;

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 4:156

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

تیسرا قول یہ ہے کہ اہل کتاب میں سے کوئی بھی ایسا نہیں ہوگا جو آنحضرت ﷺ پر اپنی موت سے پہلے ایمان لائے گا۔ عکرمہ یہی فرماتے ہیں۔ امام ابن جریر فرماتے ہیں ان سب اقوال میں زیادہ تر صحیح قول پہلا ہے کہ حضرت عیسیٰ آسمان سے قیامت کے قریب اتریں گے، اس وقت کوئی اہل کتاب آپ پر ایمان لائے بغیر نہ رہے گا۔ فی الواقع امام صاحب کا یہ فیصلہ حق بجانب ہے۔ اس لئے کہ یہاں کی آیتوں سے صاف ظاہر ہے کہ اصل مقصود یہودیوں کے اس دعوے کو غلط ثابت کرنا ہے کہ ہم نے جناب مسیح کو قتل کیا اور سولی دی اور اسی طرح جن جاہل عیسائیوں نے یہ بھی کہا ہے ان کے قول کو بھی باطل کرنا ہے، روح اللہ نہ مقتول ہیں، نہ مصلوب۔ تو اللہ تعالیٰ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة النِّسَآء 189 یہ فقرہ اصل سلسلہ تقریر سے تعلق رکھتا ہے۔ سورة النِّسَآء 190 حضرت عیسیٰ ؑ کی پیدائش کا معاملہ یہودی قوم میں فی الواقع ذرہ برابر بھی مشتبہ نہ تھا بلکہ جس روز وہ پیدا ہوئے تھے اسی روز اللہ تعالیٰ نے پوری قوم کو اس بات پر گواہ بنادیا تھا کہ یہ ایک غیر معمولی شخصیت کا بچہ ہے جس کی ولادت معجزے کا نتیجہ ہے نہ کہ کسی اخلاقی جرم کا۔ جب بنی اسرائیل کے ایک شریف ترین اور مشہور و نامور مذہبی گھرانے کی بن بیاہی لڑکی گود میں بچہ لیے ہوئے آئی، اور قوم کے بڑے اور چھوٹے سیکڑوں ہزاروں کی تعداد میں اس کے گھر پر ہجوم کر کے آگئے، تو اس لڑکی نے ان کے سوالات کا جواب دینے کے بجائے خاموشی کے ساتھ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 155–156

ربط آیات۔ ماقبل کی آیات میں بھی یہود کی شرارتوں کا ذکر تھا اور ان شرارتوں کی وجہ سے ان پر لعن، طعن اور سزا کا بیان ہوا تھا، ان آیات میں بھی یہود کے بعض جرائم کی تفصیل مذکور ہے، اس کے ضمن میں حضرت عیسیٰ کے متعلق ان کے باطل خیال کی تردید کی گئی ہے، اور یہ واضح کردیا گیا ہے کہ حضرت عیسیٰ ؑ کو اللہ تعالیٰ نے ان کے ظلم و ستم سے بچا کر زندہ آسمان پر اٹھا لیا ہے، یہ لوگ جو دعوی ہے جس شخص کو انہوں نے قتل کیا تھا وہ عیسیٰ ؑ نہیں تھے، بلکہ ان کے ہمشکل ایک دوسرا شخص تھا جس کو قتل کر کے یہ لوگ یوں سمجھنے لگے کہ ہم نے عیسیٰ ؑ کو قتل کردیا۔ خلاصہ تفسیر سو ہم نے (ان کی حرکتوں کی وجہ سے) سزائے لعنت و غضب و…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 156–158

تفسیر آیات 156۔ 158: وَّبِكُفْرِهِمْ وَقَوْلِهِمْ عَلٰي مَرْيَمَ بُهْتَانًا عَظِيْمًا۔ وَّقَوْلِهِمْ اِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِيْحَ عِيْسَى ابْنَ مَرْيَمَ رَسُوْلَ اللّٰهِ ۚ وَمَا قَتَلُوْهُ وَمَا صَلَبُوْهُ وَلٰكِنْ شُبِّهَ لَهُمْ ۭ وَاِنَّ الَّذِيْنَ اخْتَلَفُوْا فِيْهِ لَفِيْ شَكٍّ مِّنْهُ ۭ مَا لَهُمْ بِهٖ مِنْ عِلْمٍ اِلَّا اتِّبَاعَ الظَّنِّ ۚ وَمَا قَتَلُوْهُ يَقِيْنًۢا۔ بَلْ رَّفَعَهُ اللّٰهُ اِلَيْهِ ۭوَكَانَ اللّٰهُ عَزِيْزًا حَكِـيْمًا۔ " وبکفرہم " کا عطف : وبکفرہم کا عطف اوپر کے سلسلہ کلام پر ہے۔ بیچ میں جملہ معترضہ آگیا تھا اس کے ختم ہونے کے بعد پھر فہرست جرائم شروع ہوگئی : حضرت…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

156۔ 1 اس سے مراد یوسف نجار کے ساتھ حضرت مریم ؑ پر بدکاری کی تہمت ہے۔ آج بھی بعض نام نہاد محققین اس بہتان عظیم کو ایک ' حقیقت ثابتہ ' باور کرانے پر تلے ہوئے ہیں اور کہتے ہیں کہ یوسف نجار (نعوذ باللہ) حضرت عیسیٰ ؑ کا باپ تھا یوں حضرت عیسیٰ ؑ کی بن باپ کے معجزانہ ولادت کا بھی انکار کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

90: حضرت عیسیٰ ؑ چونکہ حضرت مریم (علیہا السلام) کے بطن سے بغیر باپ کے پیدا ہوئے تھے، اس لیے یہودیوں نے اللہ تعالیٰ کی قدرت کے اس معجزے کو تسلیم کرنے کے بجائے حضرت مریم (علیہا السلام) جیسی پاک نفس اور عفت مآب خاتون پر گھناؤنا الزام لگایا تھا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

(آیت) ” وبکفرھم وقولھم علی مریم بھتانا عظیما (156) وقولھم انا قتلنا المسیح عیسیٰ ابن مریم رسول اللہ “۔ (157) (4 : 156۔ 157) (پھر اپنے کفر میں یہ اتنے بڑھے کہ مریم پر سخت بہتان لگایا ‘ اور خود کہا کہ ہم نے مسیح ‘ عیسیٰ (علیہ السلام) ابن مریم ‘ رسول اللہ کو قتل کردیا ہے) ۔۔۔۔ جب بھی ان کے برے افعال میں سے کسی بات کا ذکر کیا جاتا ہے قرآن کریم ان کی صفت کفر کو ضرور ساتھ لاتا ہے ۔ قتل انبیاء ذکر کے وقت بھی یہ صفت دہرائی گئی کہ انہوں نے انبیاء کو ناحق قتل کیا ‘ انبیاء کا قتل جب بھی ہوا ناحق ہی ہوا ۔ ناحق کا لفظ بطور حقیقت واقعہ لایا گیا ہے ۔ اسی طرح جہاں اس بات کا ذکر ہوا کہ انہوں نے حضرت مریم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 156–157

7 یعنی اور نیز اس وجہ سے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے منکر ہو کر دوسرا کفر کمایا اور حضرت مریم پر طوفان عظیم باندھا اور ان کے اس قول پر کہ فخر سے کہتے تھے ہم نے مار ڈالا عیسیٰ مریم کے بیٹے کو جو رسول اللہ تھا ان تمام وجوہ سے یہود پر عذاب اور مصیبتیں نازل ہوئیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 156 وَّبِکُفْرِہِمْ وَقَوْلِہِمْ عَلٰی مَرْیَمَ بُہْتَانًا عَظِیْمًا حضرت مریم سلامٌ علیہا پر یہودیوں نے بہتان لگایا کہ انہوں نے معاذ اللہ زنا کیا ہے اور مسیح علیہ السلام دراصل یوسف نجار کا بیٹا ہے۔ ان کی روایات کے مطابق یوسف نجار کے ساتھ حضرت مریم کی نسبت ہوچکی تھی ‘ لیکن ابھی رخصتی نہیں ہوئی تھی کہ ان کے مابین تعلق قائم ہوگیا ‘ جس کے نتیجے میں یہ بیٹا پیدا ہوگیا۔ اس طرح انہوں نے حضرت مسیح علیہ السلام کو ولد الزّ نا قرار دیا۔ یہ ہے وہ اتنی بڑی بات جو یہودی کہتے ہیں اور آج بھی اس گمراہ کن نظریے پر مبنی Son of Man جیسی فلمیں بنا کر امریکہ میں چلاتے ہیں ‘ جن میں عیسائیوں کو بتایا جاتا ہے کہ…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 155–156

205 قوم موسیٰ ٰکی نافرمانیاں :۔ ان آیات میں یہ بتایا جا رہا ہے کہ موسیٰ پر تورات کی تختیاں جو نازل ہوئی تھیں تو ان پر تمہارا ایمان کس قسم کا تھا۔ جواب اس نبی سے ایسی ہی آسمان سے نازل شدہ تحریر کا مطالبہ کر رہے ہو۔ ہم نے ان الواح تورات پر عمل کرنے کا عہدا گر لیا تو تم پر پہاڑ کو اوندھا کرلیا ورنہ تم اتنے سرکش لوگ ہو کہ ان احکام کی پابندی کے لیے ہرگز تیار نہ تھے۔ اس کے بعد بھی تم نے ہر ہر حکم کی خلاف ورزی کی۔ تمہیں حکم تھا کہ شہر اریحا کی فتح کے بعد شہر کے دروازہ سے سجدہ ریز ہو کر اور عاجزی کرتے ہوئے داخل ہونا لیکن تم سرینوں کے بل اکڑتے ہوئے اور مادہ پرستانہ ذہن کے ساتھ گندم گندم پکارتے ہوئے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

395 ۔ (کہ نعوذ باللہ وہ بد وضع تھیں (آیت) ” بھتانا عظیما “۔ یہود کی کتابوں میں ایسی ایسی گندہ روایتیں اس پاک سرشت خاتون کی بابت لکھی ہوئی ہیں، کہ ان صفحات پر بہ غرض رد بھی نقل ہونے کے قابل نہیں، قرآن مجید نے اس سارے طومارخرافات کی طرف بہ کمال بلاغت، بہتان عظیم لاکر اشارہ کردیا۔ (آیت) ’ مریم “۔ پر حاشیہ پ 3 میں گزر چکے۔ یہ عمران کی صاحبزادی اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ ماجدہ تھیں۔ نکاح حسب روایات تاریخی یوسف سے ہوا تھا۔ جو نجاری کا کارخانہ قائم کیے ہوئے تھے، دونوں بڑے عابد و خدار رسیدہ تھے ، (آیت) ’ بکفرھم “۔ ذکر یہود کی سزا کا چل رہا ہے کہ ان پر جو یہ عذاب مسلط ہے، فلاں فلاں اسباب سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 155–156

ربط و آیات : فبما بقضھم میثاقَھم (الآیة) ماقبل کی آیات میں بھی یہود کی شرارتوں کا ذکر تھا اور ساتھ ہی ان کی سزا کا بھی ذکر تھا، ان آیات میں بھی یہود کے بعض جرائم کی تفصیل ہے، اس کے ضمن میں حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰة والسلام کے متعلق ان کے باطل خیال کی تردید کی گئی ہے۔ یہود کی عہد شکنی : جب یہود نے عہد کو توڑدیا جو حق تعالیٰ سے کیا تھا تو حق تعالیٰ نے ان کی اس عہد شکنی پر اور آیات الہٰی کے انکار پر اور انبیاء علیہ الصلوٰة والسلام کے قتل ناحق پر اور ان کے اس کہنے پر کہ ہمارے قلوب غلاف میں ہیں سخت سے سخت عذاب مسلط فرمادئے، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ان کے قلوب پر غلاف وغیرہ کچھ نہیں ہے بلکہ حقیقت یہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وبکفرہم اور (عیسیٰ ( علیہ السلام) کا) انکار کرنے کی وجہ سے۔ اس فقرہ کا عطف سابق کفرہم پر ہے سابق کفر عام تھا اور یہ کفر خاص ہے خاص کا عطف عام پر ہوجاتا ہے دونوں کفر متحد نہیں ہیں کہ ایک کا عطف دوسرے پر ناجائز ہو۔ یا یوں کہا جائے کہ وکفرہم پر تنہا بکفرہمکا عطف نہیں ہے بلکہ : بکفرہم وقولہم علی مریم بہتاناً عظیمًا وقولہم انا قتلنا۔۔ کے مجموعہ کا ہے (تو گویا معطوف علیہ معطوف کا جزء ہوگا اور یہ درست ہے جیسے کہتے ہیں امام نے اور سب لوگوں نے یہ بات کہی (امام بھی لوگوں کے لفظ میں داخل ہے وہ بھی ایک آدمی ہے) یا یوں کہا جائے کہ بکفرہمکا عطف فبما نقضہم پر ہے بار بار کفر کے صادر ہونے پر تنبیہ کرنے کے لئے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 156–158

(156۔ 157۔ 158) اور حضرت عیسیٰ ؑ اور انجیل کے انکار اور ان پر چھوٹے الزام کی وجہ سے ہم نے ان کو سور بنادیا اور حضرت عیسیٰ ؑ کے قتل کے دعوے پر ان کے ساتھی قطیانوس کو ہلاک کردیا، قطیانوس کے سامنے حضرت عیسیٰ ؑ کے مشابہ ایک شخص ہوگیا، اس نے اس کو قتل کردیا، ان کے پاس تو ان کے قتل کا شبہ بھی نہیں یقیناً انھوں نے حضرت عیسیٰ ؑ کو قتل نہیں کیا، اللہ تعالیٰ اپنے دشمنوں سے انتقام لینے میں بڑے زبردست ہیں اور ساتھ ہی حکیم بھی ہیں کس طرح اپنی نبی کو حفاظت کیساتھ آسمان پر اٹھا لیا اور ان کے دشمن کو ہلاک کردیا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَّبِكُفْرِهِمْ وَقَوْلِهِمْ عَلٰي مَرْيَمَ۔۔ : کے معنی یہ ہیں کہ انھوں نے عیسیٰ ؑ کے معجزات دیکھنے کے باوجود ان کی نبوت کا انکار کر کے صریح کفر کا ارتکاب کیا اور پھر مریم [ کی طرف زنا کی نسبت کر کے مزید بہتان باندھا۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 155–156

آیت نمبر : 155 تا 156۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” فبما نقضھم میثاقھم نقضھم “۔ کو جر با کی وجہ سے ہے اور (ما) زائدہ موکدہ ہے جیسے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” فبما رحمۃ من اللہ “۔ (آل عمران : 159) یہ پہلے گزر چکا ہے، بامحذوف کے متعلق ہے تقدیر عبارت اس طرح ہے : فبنقضھم میثاقھم لعناھم، یہ قتادہ وغیرہ سے مروی ہے، سامع کے علم کی وجہ سے فعل کو حذف کیا گیا، ابو الحسن علی بن حمزہ کسائی نے کہا : یہ ماقبل کے متعلق ہے معنی یہ ہے انہیں بجلی کی کڑک نے پکڑ لیا ان کے ظلم کی وجہ سے اور ان کے عہد توڑنے کی وجہ سے، فرمایا : انکے ظلم کی تفسیر بیان فرمائی جس کی وجہ سے بجلی کی کڑک نے انہیں پکڑ لیا اور اس…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 153–156

(1) ابن جریر نے محمد بن کعب قرظی ؓ سے روایت کیا کہ یہودیوں میں سے کچھ لوگ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ موسیٰ (علیہ السلام) ہمارے پاس اللہ کی طرف سے تختیاں لے کر آئے تھے آپ بھی اللہ کی طرف سے تختیاں لے آئیں تب ہم آپ کی تصدیق کریں گے تو اللہ تعالیٰ نے (یہ آیت) نازل فرمائی لفظ آیت ” یسئلک اہل الکتب ان تنزل علیہم کتبا من السماء “ سے لے کر ” وقولہم علی مریم بھتانا عظیما “ تک (2) ابن جریر و ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ یہود و نصاری نے محمد ﷺ سے کہا تو ہم کو بلاتا ہے یہاں تک کہ تو ہمارے پاس اللہ کی طرف سے کتاب لائے (اور اس میں یہ لکھا ہو) اللہ تعالیٰ کی…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ وَّبِکُفْرِہِمْ : اور ان کے کفر کے سبب سے ] [ وَقَوْلِہِمْ : اور ان کے کہنے سے ] [ عَلٰی مَرْیَمَ : بی بی مریم پر ] [ بُہْتَانًا عَظِیْمًا : ایک عظیم بہتان ] ترکیب :” قَتَلْنَا “ کا مفعول ” اَلْمَسِیْحُ “ ہے اور اس کا بدل ” عِیْسَی ابْنُ مَرْیَمَ “ ہے۔ پھر ” عِیْسَی ابْن 3 مَرْیَمَ “ کا بدل ” رَسُوْلُ اللّٰہِ “ ہے۔ ” بِہٖ “ اور ” مَوْتِہٖ “ کی ضمیریں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے لیے ہیں۔ اسی طرح ” یَـکُوْنُ “ کا اسم اس میں شامل ” ھُوَ “ کی ضمیر ہے جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے لیے ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

اس کے بعد ان کے مزید کفر کا تذکرہ فرمایا اور وہ سیدنا حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ کفر کرنا ہے۔ انہوں نے نہ صرف یہ کہ ان کے ساتھ کفر کیا بلکہ ان کی ماں پر بھی بری بات کی تہمت باندھی باوجودیکہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے ماں کی گود میں ہی اپنی ماں کی برأت ظاہر کردی، جب حضرت مریم کی گود میں بچہ دیکھ کر بنی اسرائیل نے بری بات کی تہمت لگا دی تو حضرت مریم نے بچے کی طرف اشارہ کردیا بچے نے کہا (اِنِّیْ عَبْدُ اللّٰہِ اٰتٰنِیَ الْکِتَابَ وَجَعَلَنِیْ نَبِیًّا) (الآیۃ) اور قرآن نے بھی حضرت مریم (علیہ السلام) کی پاک دامنی بیان فرما دی۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 153–156

بیان دیگر ذمائم اہل کتاب۔ قال تعالی، یسئلک اھل الکتاب۔۔۔ الی۔۔۔۔ حکیما۔ آیت۔ ربط) گذشتہ آیت میں اہل کتاب کی عظیم شناعت یعنی تفریق فی الایمان کو بیان کیا اب یہاں سے اہل کتاب کی دوسری قباحتوں اور شناعتوں کو اور ان پر جو عقوبتیں اور مصیبتیں نازل ہوئیں ان کو قدرے تفصیل کے ساتھ بیان فرماتے ہیں اے نبی اہل کتاب یعنی یہود آپ سے یہ درخواست کرتے ہیں کہ آپ ان پر ایک کتاب آسمان سے اتار لادیں جس کو آسمان سے اترتے ہوئے ہم بھی اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں جیسا کہ کعب بن اشرف اور فنحاص بن عازوراء وغیرہ یہود علماء نے نبی ﷺ سے کہا تھا کہ اگر آپ واقعی نبی ہیں تو ایک ہی دفعہ ایک لکھی ہوئی کتاب پوری آسمان سے ہم پر…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 155–156

102 باء سببیہ اور مَا زائدہ ہے یہاں سے یہود کی ان شرارتوں کا بیان ہے جو ان کی سزا کا سبب ہوئیں جس کا ذکر آگے حَرَّمْنَا عَلَیْھِمْ طَیِّبَاتٍ میں آرہا ہے چناچہ وَ قَوْلِھِمْ ۔ وَ بِکُفْرِھِْ وَ قَوْلِھِمْ ۔ وَبِصَدِّھِمْ وَ اَخْذِھِمُ الرِّبوٰا اور وَ اَکْلِھِمْ اَمْوَالَ النَّاسِ یہ سب فَبِمَا نَقْضھِمْ پر معطوف ہیں اور سب حَرَّمْنَا سے متعلق ہیں یعنی ان کی یہ تمام شرارتیں ہی اس بات کا سبب بنیں کہ ہم نے بطور سزا بعض حلال چیزیں ان پر حرام کردیں۔ ٖ 103 غُلْفٌ۔ غِلَافٌ کی جمع ہے جس کے معنی ظرف کے ہیں۔ یہودی کہتے تھے ہم خود اہل کتاب ہیں اور ہمارے دل علوم و معارف سے پر ہیں اور ہم کافی لکھے پڑھے…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 156–159

گزشتہ آیات میں اہل کتاب کے عناد کا ذکر تھا ، اللہ نے ان کے اعتراض کو بیان فرمایا ، خصوصا یہودی کہتے تھے کہ اگر آپ اللہ کے سچے نبی ہیں اور قرآن پاک اللہ کی کتاب ہے تو پھر یہ بیک وقت لکھی لکھائی آسمان سے کیوں نازل نہیں ہوتی۔ جس طرح کہ تورات موسیٰ (علیہ السلام) پر تختیوں کی صورت میں نازل ہوئی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس اعتراض کا جواب دینے سے پہلے ان کی بعض قباحتوں کا تذکرہ فرمایا تھا اور حضور ﷺ کو بایں الفاظ تسلی دی تھی کہ یہ عنادی لوگ ہیں ، انہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) سے اس سے بھی بڑے بڑے سوال کئے ، لہذا آپ دل برداشتہ نہ ہوں بلکہ صبر کریں۔ آج کے درس کی آیات میں بھی اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب کی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَّبِكُفْرِہِمْ وَقَوْلِـہِمْ عَلٰي مَرْيَمَ بُہْتَانًا عَظِيْمًا۝ 156ۙ مریم مریم : اسم أعجميّ ، اسم أمّ عيسى عليه السلام» . بهت قال اللہ عزّ وجل : فَبُهِتَ الَّذِي كَفَرَ [ البقرة/ 258] ، أي : دهش وتحيّر، وقد بَهَتَهُ. قال عزّ وجل : هذا بُهْتانٌ عَظِيمٌ [ النور/ 16] أي : كذب يبهت سامعه لفظاعته . قال تعالی: وَلا يَأْتِينَ بِبُهْتانٍ يَفْتَرِينَهُ بَيْنَ أَيْدِيهِنَّ وَأَرْجُلِهِنَّ [ الممتحنة/ 12] ، كناية عن الزنا «2» ، وقیل : بل ذلک لکل فعل مستبشع يتعاطینه بالید والرّجل من تناول ما لا يجوز والمشي إلى ما يقبح، ويقال : جاء بالبَهِيتَةِ ، أي : بالکذب . ( ب ھ ت ) بھت ( س ) حیران وششدرہ جانا نا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

(5) وبکفرھم وقولہم علی مریم بہتانا۔ یہ نالائق فعل ان سے حضرت مسیح (علیہ السلام) کی ولادت کے وقت صادر ہوا تھا۔ وہ یہ کہ حضرت مسیح (علیہ السلام) چونکہ بغیر باپ کے صرف اس کی قدرت کاملہ سے پیدا ہوئے تھے۔ وہ اس کے منکر ہوگئے۔ وبکفرھم سے اسی طرف اشارہ ہے۔ سو انہوں نے اس قدرت کاملہ کا انکار کیا اور حضرت مریم پاکدامن پر زنا کی تہمت لگائی کہ اس نے یہ حرامی بچہ جنا ہے اور اخیر تک اسی لئے یہود حضرت مسیح (علیہ السلام) کو بنظر حقارت دیکھتے رہے۔ بعض یہود کا یہ بھی گمان تھا کہ حضرت مسیح (علیہ السلام) یوسف نجار کے نطفہ سے پیدا ہوئے جن کی تقلید سے آج کل نیچری بھی یہی کہتے ہیں اور قرآن مجید کی بےجا تاویلیں…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 156–159

وَّ بِکُفْرِہِمْ وَ قَوْلِہِمْ عَلٰی مَرْیَمَ بُہْتَانًا عَظِیْمًا لا وَّقَوْلِہِمْ اِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِیْحَ عِیْسَی ابْنَ مَرْیَمَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ج وَمَاقَتَلُوْہُ وَمَا صَلَبُوْہُ وَلٰـکِنْ شُبِّہَ لَہُمْ ط وَاِنَّ الَّذِیْنَ اخْتَلَفُوْا فِیْہِ لَفِیْ شَکٍّ مِّنْہُ ط مَالَہُمْ بِہٖ مِنْ عِلْمٍ اِلَّا اتِّبَاعَ الظَّنِّ ج وَمَا قَتَلُوْہُ یَقِیْنًا م لا بَلْ رَّفَعَہُ اللّٰہُ اِلَیْہِ ط َوکَانَ اللّٰہُ عَزِیْزًا حَکِیْمًا ” اور بوجہ ان کے کفر کے اور بوجہ ان کے مریم پر ایک بہتانِ عظیم لگانے کے اور ان کے اس دعویٰ کے سبب سے کہ ہم نے مسیح ابن مریم اللہ کے رسول کو قتل کیا۔ حالانکہ نہ تو…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : یہودیوں کے جرائم کی فہرست جاری ہے۔ یہود حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں اس قدر تعصب کا شکار ہوئے کہ انہوں نے نہ صرف عیسیٰ (علیہ السلام) کو قتل کرنے کی سازش کی بلکہ انکی عابدہ اور عفیفہ ماں حضرت مریم [ پر بد کاری کا الزام عائد کیا حالانکہ حضرت مریم [ کی حیات طیبہ اور ان کے خاندان کا تقدس ضرب المثل اور شہرہ آفاق تھا۔ اس کیساتھ عیسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی والدہ ماجدہ کی برأت کی شہادت اور اپنی نبوت کی اس وقت گواہی دی جب آپ چند دنوں کے نومولود تھے۔ اس معجزانہ اور معصومانہ گواہی کے چرچے سارے عالم میں اس طرح مشہور اور گہرے اثرات کے حامل ہوئے جس سے لوگ حضرت مریم [ کی تقدیس…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

بار بار کفر کا ارتکاب : آیت 156 : وَبِکُفْرِہِمْ (اور ان کے کفر کے باعث) نحو : اسکا عطف فبما نقضہم پر ہے یا اسکے قریب بکفرہم پر اس لئے کہ انہوں نے بار بار کفر کیا۔ انہوں نے موسیٰ ( علیہ السلام) کا انکار کیا پھر عیسیٰ ( علیہ السلام) اور پھر محمد ﷺ کا انکار کردیا۔ اسی لئے ان کے ایک کفر کو دوسرے پر عطف کیا۔ وَقَوْلِہِمْ عَلٰی مَرْیَمَ بُہْتَانًا عَظِیْمًا (اور ان کے اس قول کی وجہ سے جو انہوں نے مریم پر ایک عظیم بہتان کے طور پر لگایا) وہ بہتان عظیم ان پر زناء کا الزام تھا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

(تفسیر) 156: (آیت)” (وبکفرھم وقولھم علی مریم بھتانا عظیما) بہتان سے مراد زنا کی تہمت لگانا ہے ۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 155–159

(155 ۔ 159) ۔ اوپر ذکر تھا کہ کوہ طور جب اٹھایا جاکر یہود کے سروں پر لایا گیا اور اس کو اس پہاڑ کے ان پر ڈال دئے جانے کا خوف دلایا گیا تو اس وقت انہوں نے تورات کے احکام کے موافق عمل کرنے کا عہد کیا تھا ان آیتوں میں ذکر ہے کہ ان لوگوں کے اس عہد پر قائم نہ رہنے سے اور موسیٰ (علیہ السلام) کے زمانے میں طرح طرح کے معجزا دیکھ کر ان کو بھلا دینے سے اور بلا وجہ زکریا ( علیہ السلام) اور یحییٰ وغیرہ انبیاء کو قتل کرنے سے اور ان لوگوں کے اس بات کے کہنے سے کہ ہمارے دل پر غلاف ہیں کسی کی نصیحت ہمارے دل پر اثر نہیں کرتی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو ملعون اور پانی رحمت سے دور کردیا ہے۔ اس لئے جس طرح مقفل اور قفل…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 154–161

آیت 154 اہل کتاب نے رسول اللہ ﷺ سے یہ سوال مطالبہ اور عناد کی بنا پر کیا تھا اور اسی پر انہوں نے اپنی تصدیق و تکذیب کو موقوف قرار دیا تھا اور ان کا سوال یہ تھا کہ ان پر تمام قرآن ایک ہی بار نازل ہوجائے جیسے تورات اور انجیل ایک ہی بار نازل ہوئی تھیں۔ یہ ان کی طرف سے اتنہائی ظالمانہ مطالبہ تھا کیونکہ رسول ﷺ تو ایک بشر اور بندے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی تدبیر کے تحت ہیں، رسول اللہ ﷺ کے اتھ میں تو کوئی اختیار نہیں۔ تمام اختیار اللہ تعالیٰ کے قبضہ قدرت میں ہے۔ وہی ہے جو اپنے بندوں پر جو چاہتا ہے نازل کرتا ہے۔ جس سرح اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کی طرف سے اس وقت فرمایا جب مشرکین نے اسی قسم کے…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 148–160

مظلوم کی آہ سے بچو قول باری ہے لایحب اللہ الجھربالتوء من القول الامن ظلم، اللہ اس کو پسند نہیں کرتا کہ آدمی بدگوئی پر زبان کھولے، الا یہ کہ کسی پر ظلم کیا گیا ہو۔ حضرت ابن عباس ؓ اور قتادہ کا قول ہے ” الایہ کہ مظلوم اپنے ظالم کے لئے بددعا کرے “۔ مجاہد سے ایک روایت ہے ” الایہ کہ مظلوم ظالم کی طرف سے ڈھائے جانے والے ظلم کی لوگوں کو اطلاع دے “۔ حسن اور سدی کا قول ہے ” الایہ کہ مظلوم ظالم سے اپنا بدلہ لے لے “۔ فرات بن سلیمان نے ذکر کیا ہے کہ عبدالکریم سے اس قول باری کے معنی پوچھے گئے تو انہوں نے کہا ” یہ وہ شخص ہے جو تمہیں برا بھلا کہتا ہے اور جواب میں تم بھی اسے برا بھلا کہہ دیتے ہو لیکن اگر وہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 155–156

404 قتل انبیاء سراسر ظلم اور ناحق فعل : یعنی سراسر ظلم کے ساتھ، اور ناحق طور پر۔ عام طور پر مترجمین حضرات یہاں ترجمہ " ناحق " یا اسی قبیل کے دوسرے الفاظ سے کرتے ہیں۔ حالانکہ " ناحق " ترجمہ ہے " بِغَیْرِ الْحََقِّ " کا نہ کہ " بِغَیْرِ حََقّ " کا۔ اور عربیت کا ذوق رکھنے والے جانتے ہیں کہ ان دونوں میں بڑا فرق ہے۔ اور جو زور " بِغَیْرِ حََقٍّ " میں ہے وہ " بِغَیْرِ الْحََقِّ " میں نہیں ہے۔ ہم نے اپنے ترجمہ میں اسی زور کو واضح کرنے کی کوشش کی ہے ۔ وَالْحَمْدُ للّٰہِ رَبِّ الْعَلٰمِیْنَ ۔ بہرکیف حضرات انبیائے کرام کو قتل کرنا سراسر ظلم اور بڑا ہی ناروا و ناحق فعل ہے۔ اس لیے کہ یہ پاکیزہ ہستیاں…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 154–156

یہود کی بداعمالیاں تشریح : یہود کی بدنیتی اور کفر کی بیشمار باتیں ہیں جو سورة بقرۃ میں آیات 65-59-58 اور 88 میں بڑی تفصیل سے بیان کی جا چکی ہیں۔ یہاں دوبارہ مختصراً بتایا جارہا ہے صرف نبی کریم ﷺ کو تسلی دینے کے لیے کہ آپ ان سے بالکل پریشان نہ ہوں۔ کیونکہ ایک دفعہ یہ کفر میں اتنے بڑھ گئے کہ ہم نے کوہ طوران پر پھینکنا چاہا تب انہوں نے اطاعت کا وعدہ کیا، پھر شہر ایلیا میں ہم نے کہا جھک کر جانا، پھر ان پر ہفتے کے روز مچھلی کے شکار پر پابندی لگائی۔ مگر انہوں نے ہمارے تمام احکام سے روگردانی کی اس پر ہم نے ان کو دنیا میں بھی ذلیل کیا اور آخرت میں بھی سزا دیں گے۔ یہ ایسے بہتان تراش ہیں کہ سیدہ مریم…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 153–162

رکوع نمبر 22 ۔ آیات 153 تا 162 ۔ بے عملی کے بہانے : کج بحثی کرنا یہود کی پرانی عادت ہے اور اس بدبخت قوم کی تاریخ ہی یہ ہے کہ اللہ کے بندوں کو اللہ کے دین اور اللہ کے رسولوں کو انہوں نے بہت ایذاء پہنچائی اور ہمیشہ الٹ بات سوچتے اور کہتے بھی ہیں کرتے بھی الٹ ہیں۔ اب آپ ﷺ سے سوال کرتے ہیں آپ آسمان سے لکھی لکھائی کتاب لے کر آئیں پھر ہم ایمان لائیں گے مگر خود موسیٰ (علیہ السلام) سے جو طور پر سے لکھی لکھائی کتاب لے کر آگئے تھے انہوں نے اس سے بھی بہت بڑا سوال کردیا تھا اور وہ تھا کہ ہم کو کھلم کھلا اللہ کی زیارت کرا دیں جب مانیں گے اس زیادتی پر ان پر برق گری اور تباہ ہوگئے مگر موسیٰ (علیہ السلام) کی…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

بکفرھم کے معنی یہ ہیں کہ انہوں نے حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کے بغیر باپ کے پیدا ہونے کو محال سمجھا جس سے اللہ تعالیٰ کی قدرت کا انکار کر کے صریح کفر کا ارتکاب کیا اور پھر حضرت مریم ( علیہ السلام) کی طرف زنا کی نسبت کر کے مزید بہتان باند ھا (رازی )

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(4:156) وبکفرھم کا عطف بھی فبما نقضہم میثاقھم آیۃ ما قبل پر ہے اسی طرح وقلہم ۔۔ رسول اللہ کا عطف فیما نقضھم پر ہے۔ یعنی وہ بدیں سبب بھی مورد لعنت ہوئے کہ انہوں نے پیہم کفر کا ارتکاب کیا۔ (یعنی پہلے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا اور پھر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا اور ازاں بعد حضرت محمد ﷺ کا) اور حضرت مریم پر بہتان عظیم باندھا۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 153–159

آیت نمبر 153-159 لغات القرآن : سالوا، انہوں نے سوال کیا۔ ارنا، ہمیں دکھا دے۔ لاتعدوا، تم حد سے نہ بڑھو۔ نقض، توڑنا۔ طبع اللہ، اللہ نے مہر لگا دی۔ ماصلبوہ، انہوں نے اس کو پھانسی نہیں دی۔ لیؤمنن، البتہ وہ ضرور ایمان لائیں گے۔ تشریح : ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو تسکین دینے کے لئے قوم یہود کی نفسیات اور بعض نازیبا حرکتوں کو پیش کیا ہے۔ یہود کے چند سردار حضور ﷺ کے پاس آئے اور کہا اگر آپ بھی ایک مکمل لکھی ہوئی کتاب آسمان سے نازل شدہ ہمیں دکھا دیں جس طرح ایک مکمل لکھی ہوئی کتاب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر نازل ہوچکی ہے تو ہم آپ پر ایمان لے آئیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کو تسلی دی کہ یہ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 155–159

ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ جو انہیں حکم دیا گیا ہے وہ کریں اور جس کی ممانعت کی گئی ہے اس سے باز رہیں ۔ پھر ان لوگوں کے اس عہد پر قائم نہ رہنے سے اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے زمانہ میں طرح طرح کے معجزات دیکھ کر ان کو بھلادینے اور بلاوجہ انبیاء کو قتل کرنے سے اور اس بات کے کہنے سے کہ ہمارے دل پر غلاف ہیں کسی کی نصیحت ہمارے دل پر اثر نہیں کرتی ۔ اللہ تعالیٰ نے ان ملعونوں کو اپنی رحمت سے دور کردیا ہے ، اس لئے جس طرح مقفل اور مہر لگے ہوئے مکان کے اندر کوئی چیز نہیں جاسکتی ۔ ان کے دل میں بھی کسی نصیحت کا اثر نہیں سماسکتا اوپر ہی رہتا ہے کیونکہ کثرت گناہ سے ان کے دلوں پر زنگ چھا گیا ہے ۔ آنحضرت ﷺ…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 156–157

بہتان عظیم : (ف 2) ان آیات میں یہودیوں کے موٹے موٹے جرائم بیان کئے ہیں کہ کیونکر وہ خدا کے غضب وغصہ کے مستحق بنے فرمایا نقض میثاق کی وجہ سے یعنی اس لئے انہوں نے ہمیشہ شریعت کی مخالفت کی اور کفر کی وجہ سے دائما اللہ کی نشانیوں کو جھٹلایا اور اس لئے بھی کہ انبیاء (علیہم السلام) سے مخاصمت ومقاتلہ جاری رکھا ، یہ سب اس لئے کہ وہ کہتے تھے (آیت) ” قلوبنا غلف “۔ یعنی ہمیں تیری باتیں نہیں بھاتیں ، دلوں میں پردے حائل ہیں ، فرمایا ۔ درست کہتے ہیں ان کے دل حق ویقین کی صلاحیت سے قطعا محروم ہوچکے ہیں اور خدا نے مسمرہ قانون کے ماتحت ان کے دلوں پر بالآخر مہر کردی ہے ۔ سب سے بڑا گناہ ان کا یہ خبث نفس ہے کہ…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

Explained with ayahs 154–157

ف 2 اور ہم نے ان لوگوں سے عہد و پیمان اور قول قرار لینے کے لئے طور پہاڑ کو اٹھا کر ان کے سروں پر معلق کردیا تھا اور ہم نے ان کو یہ حکم دیا تھا کہ بیت المقدس کے باب میں عاجزی کے ساتھ کمر کو جھکائے ہوئے داخل ہونا اور ہم نے ا ن کو یہ بھی حکم دیا تھ ا کہ دیکھو تم کو جو ہفتہ کے دن شکار کی ممانعت کی گئی ہے اس میں حد شرع سے تجاوز اور زیادتی نہ کرنا اور ہم نے ان سے بہت ہی پختہ اور مضبوط قول وقرار اور عہد و پیمان لیا تھا۔ (تیسیر) یہ وہی واقعات ہیں جو کم و بیش پہلے بارے میں گذر چکے ہیں یہاں دوسری مناسبت سے ان کی طرف مختصراً اشارہ فرمایا ہے جب ان کو توریت ملی تو انہوں نے اس کے قبول کرنے سے انکار کیا اس…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 155–156

ف 1۔ نقص میثاق میں سب مابعد کا مضمون داخل ہے لیکن زیادت شنیع کے لیے سب معاملات کو الگ الگ بھی بیان فرمادیا کہ اللہ کے ساتھ ان کا یہ معاملہ ہے کہ ان کے حکام کے منکر ہیں انبیاء (علیہم السلام) کے ساتھ یہ برتاو ہے کہ ان کی تکذیب سے گزر کر ان کو قتل کرتے تھے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ یہ معاملہ ہے کہ آپ کے سامنے اپنے حق پر ہونے کے مدعیہ ہیں اور یہ سب اقسام کفر کے ہیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

یہود کی شقاوت کا بیان کہ انہوں نے سیدہ مریم پر بہتان باندھنے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی : 245: سیدہ مریم ؓ کا تذکرہ سورة آل عمران کی آیت 53 تا 46 میں کیا گیا ہے جس میں آپ کی طہارت و پاکیزگی و بزرگی کا بیان ہے لیکن یہود کی کتابوں میں ایسی گندی روایتیں اس پاک سرشت خاتون کی بابت لکھی ہوئی ہیں کہ ان صفحات کو بہ غرض رد بھی نقل کرنا پسند نہیں کیا جا رہا اور خصوصاً اس لئے کہ جب قرآن کریم نے بھی صرف ان کی طہارت و پاگیزگی کا بیان کرنا ہی پسند کیا ہے ان لغو بیانات کا کا ذکر صحیح نہیں سمجھا تو اس بات کو قابل ذکر نہ سمجھنا کوئی غلط نہیں بلکہ ان سے صرف نظر ہی بہتر خیال کیا جاتا ہے۔ قرآن کریم نے اس سارتے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 155–156

Like the earlier verses, the censure of Jews continues through the present ones. As a thematically coherent subject, their false ideas have also been refuted which have been discussed in detail in the following commentary.

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

189. This marks the resumption of the main theme of the discourse. 190. The Jews had ho grounds for suspicion regarding the miraculous birth of Jesus. The day he was born God made the entire Jewish people witness that it was the birth of an extraordinary person, and that his birth had taken place miraculously rather than as the result of an act of moral corruption. When this unmarried girl, of a highly esteemed and pious Israelite family, produced a new-born infant, thousands of people of all age groups thronged to her house out of curiosity. Instead of replying to their queries verbally,…

Read the full tafseer →