اہل کتاب، قاتلان انبیاء، عیسیٰ ؑ کی روداد اور مراحل قیامت
اہل کتاب کے ان گناہوں کا بیان ہو رہا ہے جن کی وجہ سے وہ اللہ کی رحمتوں سے دور ڈال دیئے گئے اور ملعون و جلا وطن کردیئے گئے اولاً ان کی عہد شکنییہ تھی کہ جو وعدے انہوں نے اللہ سے کئے ان پر قائم نہ رہے، دوسرے اللہ کی آیتوں یعنی حجت و دلیل اور نبیوں کے معجزوں سے انکار اور کفر، تیر سے بلا وجہ، ناحق انبیاء کرام کا قتل۔ ان کے رسولوں کی ایک بڑی جماعت ان کے ہاتھوں قتل ہوئی۔ چوتھی ان کا یہ خیال اور قول کہ ہمارے دل غلافوں میں ہیں یعنی پردے میں ہیں، جیسے مشرکین نے کہا تھا آیت (وَقَالُوْا قُلُوْبُنَا فِيْٓ اَكِنَّةٍ مِّمَّا تَدْعُوْنَآ اِلَيْهِ…
Read the full tafseer →سورة النِّسَآء 187
یہودیوں کے اس قول کی طرف سورة بقرہ آیت 88 میں بھی اشارہ کیا گیا ہے۔ درحقیقت یہ لوگ تمام باطل پرست جہلا کی طرح اس بات پر فخر کرتے تھے کہ جو خیالات اور تعصبات اور رسم و رواج ہم نے اپنے باپ دادا سے پائے ہیں ان پر ہمارا عقیدہ اتنا پختہ ہے کہ کسی طرح ہم ان سے نہیں ہٹائے جاسکتے۔ جب کبھی خدا کی طرف سے پیغمبروں نے آکر ان کو سمجھانے کی کوشش کی، انہوں نے ان کو یہی جواب دیا کہ تم خواہ کوئی دلیل اور کوئی آیت لے آؤ ہم تمہاری کسی بات کا اثر نہ لیں گے، جو کچھ مانتے اور کرتے چلے آئے ہیں وہی مانتے رہیں گے اور وہی کیے چلے جائیں گے۔ (ملاحضہ ہو سورة بقرہ، 94)۔
سورة النِّسَآء 188
یہ جملہ معترضہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 155–156
ربط آیات۔
ماقبل کی آیات میں بھی یہود کی شرارتوں کا ذکر تھا اور ان شرارتوں کی وجہ سے ان پر لعن، طعن اور سزا کا بیان ہوا تھا، ان آیات میں بھی یہود کے بعض جرائم کی تفصیل مذکور ہے، اس کے ضمن میں حضرت عیسیٰ کے متعلق ان کے باطل خیال کی تردید کی گئی ہے، اور یہ واضح کردیا گیا ہے کہ حضرت عیسیٰ ؑ کو اللہ تعالیٰ نے ان کے ظلم و ستم سے بچا کر زندہ آسمان پر اٹھا لیا ہے، یہ لوگ جو دعوی ہے جس شخص کو انہوں نے قتل کیا تھا وہ عیسیٰ ؑ نہیں تھے، بلکہ ان کے ہمشکل ایک دوسرا شخص تھا جس کو قتل کر کے یہ لوگ یوں سمجھنے لگے کہ ہم نے عیسیٰ ؑ کو قتل کردیا۔
خلاصہ تفسیر
سو ہم نے (ان کی حرکتوں کی وجہ سے) سزائے لعنت و غضب و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 153–155
آگے کا مضمون۔ آیات 153۔ 162:۔ آگے اہل کتاب۔ یہود اور نصاری۔ کو تنبیہ ہے اور یہ تنبیہ اتنی سخت و شدید ہے کہ لفظ لفظ سے جوش غضب ابلا بڑ رہا ہے۔ پوری تقریر از ابتدا تا انتہا صرف فرد قرار داد جرائم پر مشتمل ہے اور کلام کے جوش اور روانی کا یہ عالم ہے کہ بات شروع ہونے کے بعد یہ متعین کرنا مشکل ہوتا ہے کہ ختم کہاں ہوئی۔ اس قسم کے پرجوش اور پر غضب کلام میں عموماً خیر حذف ہوجاتی ہے، گویا متکلم کا جوش ہی خبر کا قائم مقام بن جاتا ہے اور مبتدا ہی سے اندازہ ہوجاتا ہے کہ متکلم کیا کہنا چاہتا ہے۔ آیات کی تلاوت فرمائیے۔
تفسیر آیات 153 تا 155: يَسْــَٔــلُكَ اَهْلُ الْكِتٰبِ اَنْ تُنَزِّلَ عَلَيْهِمْ كِتٰبًا…
Read the full tafseer →1۔ 155 تقدیری عبارت یوں ہوگی فبنقضھم میثاقھم لعناھم۔ یعنی ہم نے ان کے نقض میثاق، کفربآیات اللہ اور قتل انبیاء وغیرہ کی وجہ سے ان پر لعنت کی یا سزا دی۔
Read the full tafseer →88: ان کا مطلب یہ تھا کہ ہمارے دل بالکل محفوظ ہیں کہ ان میں اپنے مذہب کے سوا کسی اور مذہب کی بات داخل نہیں ہوسکتی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے جواب میں جملہ معترضہ کے طور پر ارشاد فرمایا کہ دل محفوظ نہیں ہیں، بلکہ ان کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی ہے جس کی وجہ سے کوئی صحیح بات ان کے دلوں میں نہیں اترتی۔
89: تھوڑی باتوں مراد یہ ہے کہ مثلاً حضرت موسیٰ ؑ کی نبوت پر تو ایمان لاتے ہیں، لیکن آنحضرت ﷺ پر ایمان نہیں لاتے۔
Read the full tafseer →(آیت) ” فبمانقضھم میثاقھم وکفرھم بایت اللہ وقتلھم الانبیآء بغیر حق وقولھم قلوبنا غلف “۔ (4 : 155) (آخر کار ان کی عہد شکنی کی وجہ سے اور اس وجہ سے کہ انہوں نے اللہ کی آیات کو جھٹلایا اور متعدد پیغمبروں کو ناحق قتل کیا ‘ اور یہاں تک کہا کہ ہمارے دل غلافوں میں محفوظ ہیں) ۔۔۔۔۔۔ ان کی اس بات پر کہ ہمارے دل غلافوں میں محفوظ ہیں ۔ (قلوبنا غلف (4 : 155) ان پر تنقید ختم ہوتی ہے اور اگلی آیت میں ان کی اس بات کا جواب دیا جاتا ہے ۔ وہ یہ بات اس وقت کہتے تھے جب حضور ﷺ ان پر دعوت اسلامی پیش کرتے ۔ یہ لوگ یہ جواب یا تو اس لئے دیتے تھے کہ حضور ﷺ ان سے مایوس ہوجائیں اور آئندہ ان پر دعوت پیش نہ کریں اور یا وہ…
Read the full tafseer →6 یعنی یہود نے اس عہد کو توڑ دیا تو حق تعالیٰ نے ان کی اس عہد شکنی پر اور آیات الہٰی سے منکر ہونے پر اور انبیاء (علیہم السلام) کے ناحق قتل کرنے پر اور ان کے اس کہنے پر کہ ہمارے دل تو غلاف میں ہیں، ان پر سخت عذاب مسلط فرمائے۔ جب رسول اللہ ﷺ نے یہودیوں کو ہدایت کی تو کہنے لگے ہمارے دل پردہ میں ہیں تمہاری بات وہاں تک پہنچ نہیں سکتی۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ بات نہیں بلکہ کفر کے سبب ان کے دلوں پر اللہ تعالیٰ نے مہر لگا دی ہے جس کے باعث ان کو ایمان نصیب نہیں ہوسکتا مگر تھوڑے لوگ اس سے مستشنٰی ہیں جیسے حضرت عبد اللہ بن سلام اور ان کے ساتھی۔
Read the full tafseer →آیت 155 فَبِمَا نَقْضِہِمْ مِّیْثَاقَہُمْ
اب ان کے جرائم کی فہرست آرہی ہے ‘ اور یوں سمجھئے کہ مبتدأ ہی کی تکرار ہو رہی ہے اور اس میں جو اصل خبر ہے وہ گویا محذوف ہے۔ گویا بات یوں بنے گی : فَبِمَا نَقْضِہِمْ مِّیْثَاقَہُمْ لَعَنّٰھُمْکہ انہوں نے جو اپنے میثاق کو توڑا اور توڑتے رہے ‘ ہمارے ساتھ انہوں نے جو بھی وعدے کیے تھے ‘ جب ان کا پاس انہوں نے نہ کیا تو ہم نے ان پر لعنت کردی۔ لیکن یہ لَعَنّٰھُمْاتنی واضح بات تھی کہ اس کو کہنے کی ضروت محسوس نہیں کی گئی ‘ بلکہ ان کے جرائم کی فہرست بیان کردی گئی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 155–156
205 قوم موسیٰ ٰکی نافرمانیاں :۔ ان آیات میں یہ بتایا جا رہا ہے کہ موسیٰ پر تورات کی تختیاں جو نازل ہوئی تھیں تو ان پر تمہارا ایمان کس قسم کا تھا۔ جواب اس نبی سے ایسی ہی آسمان سے نازل شدہ تحریر کا مطالبہ کر رہے ہو۔ ہم نے ان الواح تورات پر عمل کرنے کا عہدا گر لیا تو تم پر پہاڑ کو اوندھا کرلیا ورنہ تم اتنے سرکش لوگ ہو کہ ان احکام کی پابندی کے لیے ہرگز تیار نہ تھے۔ اس کے بعد بھی تم نے ہر ہر حکم کی خلاف ورزی کی۔ تمہیں حکم تھا کہ شہر اریحا کی فتح کے بعد شہر کے دروازہ سے سجدہ ریز ہو کر اور عاجزی کرتے ہوئے داخل ہونا لیکن تم سرینوں کے بل اکڑتے ہوئے اور مادہ پرستانہ ذہن کے ساتھ گندم گندم پکارتے ہوئے…
Read the full tafseer →392 ۔ یہود کے نقض میثاق اور کفر بایات الہی اور انبیاء کے قتل ناحق پر، اور ان کے قول (آیت) ” قلوبنا غلف “۔ ان سب پر حاشیے پارۂ اول میں گزر چکے (آیت) ” فبما نقضھم “۔ کی اصل تقدیر کلام یوں ہے۔ فبنقضھم میثاقھم لعناھم۔ التقدیر فبنقضھم میثاقھم لعناھم عن قتادۃ وغیرہ (قرطبی) عربی اسلوب بیان میں ایسے محذوفات عام ہیں۔ مخاطبین کے علم کی بنا پر محذوف کردیئے جاتے ہیں۔ حذف ھذا العلم السامع (قرطبی) قال ابن عطیۃ وحذف جواب ھذالکلام بلیغ متروک علی ذھن السامع (بحر) بما میں ما زائدہ تاکید کلام کے لیے ہے ما زائدۃ مؤکدۃ (قرطبی)
393 ۔ یہ مہر ابتداء کبھی نہیں لگتی، جزاء ہی لگتی ہے۔ اور یہاں تو اس کی تصریح ہی موجود…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 155–156
ربط و آیات : فبما بقضھم میثاقَھم (الآیة) ماقبل کی آیات میں بھی یہود کی شرارتوں کا ذکر تھا اور ساتھ ہی ان کی سزا کا بھی ذکر تھا، ان آیات میں بھی یہود کے بعض جرائم کی تفصیل ہے، اس کے ضمن میں حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰة والسلام کے متعلق ان کے باطل خیال کی تردید کی گئی ہے۔
یہود کی عہد شکنی : جب یہود نے عہد کو توڑدیا جو حق تعالیٰ سے کیا تھا تو حق تعالیٰ نے ان کی اس عہد شکنی پر اور آیات الہٰی کے انکار پر اور انبیاء علیہ الصلوٰة والسلام کے قتل ناحق پر اور ان کے اس کہنے پر کہ ہمارے قلوب غلاف میں ہیں سخت سے سخت عذاب مسلط فرمادئے، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ان کے قلوب پر غلاف وغیرہ کچھ نہیں ہے بلکہ حقیقت یہ…
Read the full tafseer →فیما نقضہم میثاقہم وکفرہم بایت اللہ (یعنی انہوں نے توریت کے حکم کے خلاف کیا اور اپنے وعدہ کو توڑدیا اس کی سزا میں ہم نے بھی ان سے جو سلوک کرنا تھا کیا اور ان پر لعنت کی) ان کی عہد شکنی اور آیات خدا کے انکار کرنے کی وجہ سے۔ اس صورت میں لفظ مازائد ہوگا جو مضمون کلام کو پختہ کرنے کے لئے لایا گیا ہے اور بما کا تعلق فعل محذوف سے ہوگا۔
یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس کا تعلق حَرَّمْنَا عَلَیْہِمْ طَیِّبَاتٍ ۔۔۔ٍسے ہو۔ اَیٰتِ اللّٰہِسے مراد ہیں توریت کی وہ آیات جن میں رسول اللہ ﷺ کے اوصاف کا بیان ہے اور قرآن و انجیل بھی مراد ہیں۔ (یہ بھی آیات اللہ ہیں)
وقتلہم الانبیآء بغیر حق اور انبیاء کو ناحق قتل کرنے کی…
Read the full tafseer →(155) چناچہ معاہدہ کی عہدشکنی کی بنا پر جو ہم نے سزا دینی تھی وہ ان کو سزا دی اور رسول اکرم ﷺ اور قرآن کریم کے انکار کی وجہ سے ان پر جزیہ مسلط کردیا اور کیوں کہ انہوں نے انبیاء کرام کو ناحق قتل کیا، اس وجہ سے ہم نے ان کا خاتمہ کردیا۔
اور وہ جو یہ کہتے ہیں کہ ”ہمارے دل ہر ایک علم کے محفوظ برتن ہیں“۔ (یہ انکی خود فریبی ہے) وہ آپ کے علم اور آپ کے کلام کو محفوظ نہیں کرسکتے، اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے رسول اکرم ﷺ اور قرآن کریم کی تکذیب کی وجہ سے ان کے دلوں پر مہر لگا دی اس لیے عبداللہ بن سلام اور ان کے ساتھیوں کے علاوہ اور کوئی ان میں سے اسلام قبول نہیں کرے گا۔
Read the full tafseer →فَبِمَا نَقْضِهِمْ مِّيْثَاقَهُمْ : اس میں ”ما“ تاکید کے لیے بڑھایا گیا ہے، یعنی ان کے اپنے پختہ عہد کو توڑنے ہی کی وجہ سے۔ یہاں کچھ الفاظ محذوف ہیں جو آیت پڑھنے والے کی سمجھ پر چھوڑ دیے گئے ہیں، چناچہ اکثر مفسرین نے تو لکھا ہے کہ وہ الفاظ ہیں : ”لَعَنَّاہُمْ“ یعنی ہم نے ان پر لعنت کی، اس کی دلیل یہ ہے کہ دوسری جگہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (فَبِمَا نَقْضِهِمْ مِّيْثَاقَهُمْ لَعَنّٰهُمْ) [ المائدۃ : 13 ] ”ان کے اپنے پختہ عہد کو توڑنے کی وجہ سے ہم نے ان پر لعنت کی“ اور بعض نے کہا کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے بات کو عام رکھا ہے اسے عام رکھنا ہی بہتر ہے یعنی ان کے عہد کو توڑنے ہی کی وجہ سے ”فَعَلْنَا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 155–156
آیت نمبر : 155 تا 156۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” فبما نقضھم میثاقھم نقضھم “۔ کو جر با کی وجہ سے ہے اور (ما) زائدہ موکدہ ہے جیسے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” فبما رحمۃ من اللہ “۔ (آل عمران : 159) یہ پہلے گزر چکا ہے، بامحذوف کے متعلق ہے تقدیر عبارت اس طرح ہے : فبنقضھم میثاقھم لعناھم، یہ قتادہ وغیرہ سے مروی ہے، سامع کے علم کی وجہ سے فعل کو حذف کیا گیا، ابو الحسن علی بن حمزہ کسائی نے کہا : یہ ماقبل کے متعلق ہے معنی یہ ہے انہیں بجلی کی کڑک نے پکڑ لیا ان کے ظلم کی وجہ سے اور ان کے عہد توڑنے کی وجہ سے، فرمایا : انکے ظلم کی تفسیر بیان فرمائی جس کی وجہ سے بجلی کی کڑک نے انہیں پکڑ لیا اور اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 153–156
(1) ابن جریر نے محمد بن کعب قرظی ؓ سے روایت کیا کہ یہودیوں میں سے کچھ لوگ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ موسیٰ (علیہ السلام) ہمارے پاس اللہ کی طرف سے تختیاں لے کر آئے تھے آپ بھی اللہ کی طرف سے تختیاں لے آئیں تب ہم آپ کی تصدیق کریں گے تو اللہ تعالیٰ نے (یہ آیت) نازل فرمائی لفظ آیت ” یسئلک اہل الکتب ان تنزل علیہم کتبا من السماء “ سے لے کر ” وقولہم علی مریم بھتانا عظیما “ تک
(2) ابن جریر و ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ یہود و نصاری نے محمد ﷺ سے کہا تو ہم کو بلاتا ہے یہاں تک کہ تو ہمارے پاس اللہ کی طرف سے کتاب لائے (اور اس میں یہ لکھا ہو) اللہ تعالیٰ کی…
Read the full tafseer →[ فَبِمَا : پس جو (ان کی سزا ہے) وہ ہے ] [ نَقْضِہِمْ : ان کے توڑنے کے سبب سے ] [ مِّیْثَاقَہُمْ : اپنے عہد کو ] [ وَکُفْرِہِمْ : اور ان کے انکار کرنے کے سبب سے ] [ بِاٰیٰتِ اللّٰہِ : اللہ کی نشانیوں کا ] [ وَقَتْلِہِمُ : اور ان کے قتل کرنے کے سبب سے ] [ الْاَنْبِیَـآئَ : نبیوں کو ] [ بِغَیْرِ حَقٍّ : کسی حق کے بغیر ] [ وَّقَوْلِہِمْ : اور ان کے کہنے کے سبب سے ] [ قُلُوْبُنَا : ہمارے دل ] [ غُلْفٌ : غلافوں میں بند ہیں ] [ بَلْ : (ہرگز نہیں) بلکہ ] [ طَبَعَ : چھاپ لگا دی ] [ اللّٰہُ : اللہ نے ] [ عَلَیْہَا : ان پر (یعنی دلوں پر) ] [ بِکُفْرِہِمْ : ان کے کفر کے سبب سے ] [ فَلاَ یُؤْمِنُوْنَ :…
Read the full tafseer →یہودیوں کے کفر اور شرارتوں کا مزید تذکرہ
ان آیات میں بہت سے مضامین مذکورہ ہیں۔ یہودیوں کا عہد توڑنا اور اللہ کی آیات کا منکر ہونا اور حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) کو ناحق قتل کرنا اور ان کا یہ کہنا کہ ہمارے دلوں پر غلاف چڑھے ہوئے ہیں (جس کا مطلب یہ تھا کہ ہم اپنے دین پر بہت مضبوط ہیں ہم پر کسی کی بات اثر انداز نہیں ہوسکتی) اور حضرت مریم پر بہتان لگانا، ان کی یہ باتیں یہاں مذکور ہیں ان میں سے بعض چیزوں کا تذکرہ سورة بقرہ میں بھی گزر چکا ہے (فَبِمَا نَقْضِھِمْ ) اپنے معطوفات کے ساتھ مل کر فعل محذوف سے متعلق ہے۔ صاحب روح المعانی لکھتے ہیں کہ تقدیر عبارت یوں ہے کہ ففعلنا بھم مافعلنا بنقضھم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 153–156
بیان دیگر ذمائم اہل کتاب۔
قال تعالی، یسئلک اھل الکتاب۔۔۔ الی۔۔۔۔ حکیما۔ آیت۔
ربط) گذشتہ آیت میں اہل کتاب کی عظیم شناعت یعنی تفریق فی الایمان کو بیان کیا اب یہاں سے اہل کتاب کی دوسری قباحتوں اور شناعتوں کو اور ان پر جو عقوبتیں اور مصیبتیں نازل ہوئیں ان کو قدرے تفصیل کے ساتھ بیان فرماتے ہیں اے نبی اہل کتاب یعنی یہود آپ سے یہ درخواست کرتے ہیں کہ آپ ان پر ایک کتاب آسمان سے اتار لادیں جس کو آسمان سے اترتے ہوئے ہم بھی اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں جیسا کہ کعب بن اشرف اور فنحاص بن عازوراء وغیرہ یہود علماء نے نبی ﷺ سے کہا تھا کہ اگر آپ واقعی نبی ہیں تو ایک ہی دفعہ ایک لکھی ہوئی کتاب پوری آسمان سے ہم پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 155–156
102 باء سببیہ اور مَا زائدہ ہے یہاں سے یہود کی ان شرارتوں کا بیان ہے جو ان کی سزا کا سبب ہوئیں جس کا ذکر آگے حَرَّمْنَا عَلَیْھِمْ طَیِّبَاتٍ میں آرہا ہے چناچہ وَ قَوْلِھِمْ ۔ وَ بِکُفْرِھِْ وَ قَوْلِھِمْ ۔ وَبِصَدِّھِمْ وَ اَخْذِھِمُ الرِّبوٰا اور وَ اَکْلِھِمْ اَمْوَالَ النَّاسِ یہ سب فَبِمَا نَقْضھِمْ پر معطوف ہیں اور سب حَرَّمْنَا سے متعلق ہیں یعنی ان کی یہ تمام شرارتیں ہی اس بات کا سبب بنیں کہ ہم نے بطور سزا بعض حلال چیزیں ان پر حرام کردیں۔
ٖ 103 غُلْفٌ۔ غِلَافٌ کی جمع ہے جس کے معنی ظرف کے ہیں۔ یہودی کہتے تھے ہم خود اہل کتاب ہیں اور ہمارے دل علوم و معارف سے پر ہیں اور ہم کافی لکھے پڑھے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 153–155
ربط آیات : گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے اس کے نبیوں اور رسولوں کے درمیان تفریق کرنے والوں کو مذمت بیان فرمائی اور واضح کیا کہ اللہ کے بعض نبیوں پر ایمان لانا اور بعض پر نہ لانا خالص کفر ہے کیونکہ کسی ایک نبی کا انکار بھی پورے گروہ انبیاء کے انکار کے مترادف ہے۔ مشرکین تو انبیاء کو ویسے ہی نہیں مانتے ، وہ تو مطلقا انکار کی وجہ سے کافر ہیں ، انہوں نے توحید کا بھی انکار کیا اور خود خاتم النبین ﷺ کا بھی انکار کرگئے ، البتہ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے اعتقادی منافقوں کا ذکر کیا ہے جو بظاہر زبان سے تو توحید و رسالت کا اقرار کرتے ہیں مگر ان کے دل اسی طرح کفر سے بھرے ہوئے ہیں ، بہرحال اللہ تعالیٰ نے…
Read the full tafseer →فَبِمَا نَقْضِہِمْ مِّيْثَاقَہُمْ وَكُفْرِہِمْ بِاٰيٰتِ اللہِ وَقَتْلِہِمُ الْاَنْۢبِيَاۗءَ بِغَيْرِ حَقٍّ وَّقَوْلِـہِمْ قُلُوْبُنَا غُلْفٌ 0ۭ بَلْ طَبَعَ اللہُ عَلَيْہَا بِكُفْرِہِمْ فَلَا يُؤْمِنُوْنَ اِلَّا قَلِيْلًا 155۠
نقض
النَّقْضُ : انْتِثَارُ العَقْدِ مِنَ البِنَاءِ والحَبْلِ ، والعِقْدِ ، وهو ضِدُّ الإِبْرَامِ ، يقال : نَقَضْتُ البِنَاءَ والحَبْلَ والعِقْدَ ، وقد انْتَقَضَ انْتِقَاضاً ، والنِّقْضُ المَنْقُوضُ ، وذلک في الشِّعْر أكثرُ ، والنَّقْضُ كَذَلِكَ ، وذلک في البِنَاء أكثرُ «2» ، ومنه قيل للبعیر المهزول : نِقْضٌ ، ومُنْتَقِض الأَرْضِ من الكَمْأَةِ نِقْضٌ ، ومن نَقْضِ…
Read the full tafseer →(3) وقتلہم الاانبیاء بغیر حق بنی اسرائیل میں جب بت پرستی اور بدکاری نے راج پایا اور سینکڑوں برس یہی حالت رہی کہ کبھی کسی نبی اور نیک بادشاہ کی نصیحت اور کوشش سے درستی پر آگئے پھر چند روز بعد انبیاء کو ناحق قتل کرکے پھر ویسے ہی سرکش ہوگئے۔ سلیمان (علیہ السلام) کے بعد جب سلطنت بنی اسرائیل کے دو ٹکڑے ہوگئے اور ان میں سے ایک سلطنت جس کو اسرائیل کی سلطنت کہا جاتا تھا اس کے اکثر بادشاہ سخت بےایمان اور بت پرست بدکار گذرے ہیں۔ انہیں ایام میں بہت انبیاء ان کے ہاتھ سے ناحق قتل ہوئے ہیں اور اخیر میں حضرت زکریا اور یحییٰ (علیہ السلام) کو ناحق قتل کیا اور حضرت مسیح (علیہ السلام) کو بھی اپنے زعم میں دار پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 153–155
یَسْئَلُکَ اَہْلُ الْکِتٰبِ اَنْ تُنَزِّلَ عَلَیْہِمْ کِتٰبًا مِّنَ السَّمَآئِ فَقَدْ سَاَلُوْا مُوْسٰیٓ اَکْبَرَ مِنْ ذٰلِکَ فَقَالُوْٓا اَرِنَا اللّٰہَ جَھْرَۃً فَاَخَذتْہُمُ الصّٰعِقَۃُ بِظُلْمِہِمْ ج ثُمَّ اتَّخَذُوا الْعِجْلَ مِنْ م بَعْدِ مَا جَآئَ تْہُمُ الْبَیِّنٰتُ فَعَفَوْنَا عَنْ ذٰلِکَ ج وَاٰتَیْنَا مُوْسٰی سُلْطٰنًا مُّبِیْنًا وَرَفَعْنَا فَوْقَہُمُ الطُّوْرَ بِمِیْثَاقِہِمْ وَقُلْنَا لَہُمُ ادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا وَّقُلْنَا لَہُمْ لَا تَعْدُوْا فِی السَّبْتِ وَاَخَذْنَا مِنْہُمْ مِّیْثَاقًا عَلِیْظًا فَبِمَا نَقْضِہِمْ مِّیْثَاقَہُمْ وَکُفْرِہِمْ بِاٰیٰتِ اللّٰہِ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 154–155
فہم القرآن
ربط کلام : یہودی نبی ﷺ کی نبوت پر ہی اعتراض اور سوال نہیں کرتے بلکہ انھوں نے ہر نبی کی ذات پر الزامات لگائے اور اس کی نبوت پر اعتراض کیے۔ ایسا کرنا ان کی پرانی عادت ہے۔
اللہ تعالیٰ کو براہ راست دیکھنے کا مطالبہ اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی چند دنوں کی غیر حاضری پر بچھڑے کو معبود بنانا اور بعدازاں اللہ تعالیٰ نے ان کے سروں پر کوہ طور منڈلاکر اس بات کا عہد لیا کہ آئندہ تورات کے احکامات پر سختی کیساتھ عمل کرتے رہوگے۔
یہاں اہل کتاب سے مراد صرف یہودی ہیں جو کوہ طور پر اللہ تعالیٰ سے پختہ اقرار کرنے کے باوجود اپنے عہد سے منحرف ہوگئے فتح ایلیاء یعنی بیت المقدس کی کامیابی کے وقت انہیں…
Read the full tafseer →آیت 155 :
فَبِمَا نَقْضِہِمْ (پس ان کے توڑ دینے کے سبب سے)
نحو : ما تاکید کے لئے لایا گیا۔ با، حرمنا علیہم سے متعلق ہے۔ تقدیر عبارت ہے۔ حرمنا علیہم طیبات بنقضہم ہم نے ان پر پاکیزہ چیزیں حرام کیں ان کے عہد توڑ دینے کی وجہ سے۔ مِّیْثَاقَہُمْ (اپنا پختہ وعدہ)-
نحوی تحقیق :
نحو : فبظلم من الذین ہادوا۔ یہ فبمانقضہم سے بدل ہے۔ اور تاکید کا مقصد یہ ثابت کرنا ہے کہ طیبات کی حرمت
نقض عہد اور اس کے معطوفات کفر ٗ قتل انبیاء وغیرہ کی وجہ سے تھی۔
وَکُفْرِہِمْ بِٰایٰتِ اللّٰہِ (اور ان کے اللہ تعالیٰ کی آیات کا انکار کرنے کے باعث) آیات سے مراد معجزات موسیٰ ( علیہ السلام) ہیں۔ وَقَتْلِہِمُ الْاَنْبِیَآئَ…
Read the full tafseer →155۔ (آیت)” فبما نقضھم میثاقھم “۔ ان کے عہد کو توڑ کر ۔ ” فبما “ میں ماموصولہ ہے جیسا کہ (آیت)” فبما رحمۃ من اللہ “۔ اور اس جیسی ان پر مہر لگا دی ۔
(آیت)” فلا یؤمنون الا قلیلا “۔ جنہوں نے اللہ کے رسولوں کی تکذیب کی ، وہ لوگ مراد نہیں جن کے دلوں پر اللہ نے مہر لگا دی ہے کیونکہ جن کے دل پر اللہ نے مہر لگا دی ہے وہ کبھی ایمان نہیں لائیں گے ، اس سے مراد بہت تھوڑے ایمان لانے والے ہوں گے ، اس سے مراد عبداللہ بن سلام اور ان کے ساتھی ہیں ۔ ان کا معنی یہ ہے کہ وہ تھوڑے ایمان نہیں لائیں گے اور نہ زیادہ لوگ ایمان لائیں گے ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 155–159
(155 ۔ 159) ۔ اوپر ذکر تھا کہ کوہ طور جب اٹھایا جاکر یہود کے سروں پر لایا گیا اور اس کو اس پہاڑ کے ان پر ڈال دئے جانے کا خوف دلایا گیا تو اس وقت انہوں نے تورات کے احکام کے موافق عمل کرنے کا عہد کیا تھا ان آیتوں میں ذکر ہے کہ ان لوگوں کے اس عہد پر قائم نہ رہنے سے اور موسیٰ (علیہ السلام) کے زمانے میں طرح طرح کے معجزا دیکھ کر ان کو بھلا دینے سے اور بلا وجہ زکریا ( علیہ السلام) اور یحییٰ وغیرہ انبیاء کو قتل کرنے سے اور ان لوگوں کے اس بات کے کہنے سے کہ ہمارے دل پر غلاف ہیں کسی کی نصیحت ہمارے دل پر اثر نہیں کرتی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو ملعون اور پانی رحمت سے دور کردیا ہے۔ اس لئے جس طرح مقفل اور قفل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 154–161
آیت 154
اہل کتاب نے رسول اللہ ﷺ سے یہ سوال مطالبہ اور عناد کی بنا پر کیا تھا اور اسی پر انہوں نے اپنی تصدیق و تکذیب کو موقوف قرار دیا تھا اور ان کا سوال یہ تھا کہ ان پر تمام قرآن ایک ہی بار نازل ہوجائے جیسے تورات اور انجیل ایک ہی بار نازل ہوئی تھیں۔ یہ ان کی طرف سے اتنہائی ظالمانہ مطالبہ تھا کیونکہ رسول ﷺ تو ایک بشر اور بندے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی تدبیر کے تحت ہیں، رسول اللہ ﷺ کے اتھ میں تو کوئی اختیار نہیں۔ تمام اختیار اللہ تعالیٰ کے قبضہ قدرت میں ہے۔ وہی ہے جو اپنے بندوں پر جو چاہتا ہے نازل کرتا ہے۔ جس سرح اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کی طرف سے اس وقت فرمایا جب مشرکین نے اسی قسم کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 148–160
مظلوم کی آہ سے بچو
قول باری ہے لایحب اللہ الجھربالتوء من القول الامن ظلم، اللہ اس کو پسند نہیں کرتا کہ آدمی بدگوئی پر زبان کھولے، الا یہ کہ کسی پر ظلم کیا گیا ہو۔ حضرت ابن عباس ؓ اور قتادہ کا قول ہے ” الایہ کہ مظلوم اپنے ظالم کے لئے بددعا کرے “۔ مجاہد سے ایک روایت ہے ” الایہ کہ مظلوم ظالم کی طرف سے ڈھائے جانے والے ظلم کی لوگوں کو اطلاع دے “۔ حسن اور سدی کا قول ہے ” الایہ کہ مظلوم ظالم سے اپنا بدلہ لے لے “۔ فرات بن سلیمان نے ذکر کیا ہے کہ عبدالکریم سے اس قول باری کے معنی پوچھے گئے تو انہوں نے کہا ” یہ وہ شخص ہے جو تمہیں برا بھلا کہتا ہے اور جواب میں تم بھی اسے برا بھلا کہہ دیتے ہو لیکن اگر وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 155–156
404 قتل انبیاء سراسر ظلم اور ناحق فعل : یعنی سراسر ظلم کے ساتھ، اور ناحق طور پر۔ عام طور پر مترجمین حضرات یہاں ترجمہ " ناحق " یا اسی قبیل کے دوسرے الفاظ سے کرتے ہیں۔ حالانکہ " ناحق " ترجمہ ہے " بِغَیْرِ الْحََقِّ " کا نہ کہ " بِغَیْرِ حََقّ " کا۔ اور عربیت کا ذوق رکھنے والے جانتے ہیں کہ ان دونوں میں بڑا فرق ہے۔ اور جو زور " بِغَیْرِ حََقٍّ " میں ہے وہ " بِغَیْرِ الْحََقِّ " میں نہیں ہے۔ ہم نے اپنے ترجمہ میں اسی زور کو واضح کرنے کی کوشش کی ہے ۔ وَالْحَمْدُ للّٰہِ رَبِّ الْعَلٰمِیْنَ ۔ بہرکیف حضرات انبیائے کرام کو قتل کرنا سراسر ظلم اور بڑا ہی ناروا و ناحق فعل ہے۔ اس لیے کہ یہ پاکیزہ ہستیاں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 154–156
یہود کی بداعمالیاں
تشریح : یہود کی بدنیتی اور کفر کی بیشمار باتیں ہیں جو سورة بقرۃ میں آیات 65-59-58 اور 88 میں بڑی تفصیل سے بیان کی جا چکی ہیں۔ یہاں دوبارہ مختصراً بتایا جارہا ہے صرف نبی کریم ﷺ کو تسلی دینے کے لیے کہ آپ ان سے بالکل پریشان نہ ہوں۔ کیونکہ ایک دفعہ یہ کفر میں اتنے بڑھ گئے کہ ہم نے کوہ طوران پر پھینکنا چاہا تب انہوں نے اطاعت کا وعدہ کیا، پھر شہر ایلیا میں ہم نے کہا جھک کر جانا، پھر ان پر ہفتے کے روز مچھلی کے شکار پر پابندی لگائی۔ مگر انہوں نے ہمارے تمام احکام سے روگردانی کی اس پر ہم نے ان کو دنیا میں بھی ذلیل کیا اور آخرت میں بھی سزا دیں گے۔ یہ ایسے بہتان تراش ہیں کہ سیدہ مریم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 153–162
رکوع نمبر 22 ۔ آیات 153 تا 162 ۔
بے عملی کے بہانے :
کج بحثی کرنا یہود کی پرانی عادت ہے اور اس بدبخت قوم کی تاریخ ہی یہ ہے کہ اللہ کے بندوں کو اللہ کے دین اور اللہ کے رسولوں کو انہوں نے بہت ایذاء پہنچائی اور ہمیشہ الٹ بات سوچتے اور کہتے بھی ہیں کرتے بھی الٹ ہیں۔ اب آپ ﷺ سے سوال کرتے ہیں آپ آسمان سے لکھی لکھائی کتاب لے کر آئیں پھر ہم ایمان لائیں گے مگر خود موسیٰ (علیہ السلام) سے جو طور پر سے لکھی لکھائی کتاب لے کر آگئے تھے انہوں نے اس سے بھی بہت بڑا سوال کردیا تھا اور وہ تھا کہ ہم کو کھلم کھلا اللہ کی زیارت کرا دیں جب مانیں گے اس زیادتی پر ان پر برق گری اور تباہ ہوگئے مگر موسیٰ (علیہ السلام) کی…
Read the full tafseer →ف 4 فبما نقضھم اس میں ما زائدہ توکید کے لیے ہے اور بامتعلق بمخذوف ہے ای لعنا ھم۔ (قرطبی۔ رازی) یعنی تورات پر عمل کا عہد اور دوسرے عہود توڑنے کی و جہ سے الخ ہم نے ان لعنت مسلط کردی۔ بقیہ حواشی کے لیے دیکھئے سورت بقرہ آیت 61 ۔5 یہ غلاف کی جمع ہے ( کبیر) تو کسی کی بات ہم کیسے سن سکتے ہیں یا یہ کہ ہمارے دل علم کے خزانے ہیں ہمیں مزید علم کی ضرورت نہیں یہ کہہ کر وہ انبیا کی تکذیب کیا کرتے تھے۔ (رازی)6 جیسے عبد اللہ بن سلام اور ان کے چند ساتھی دوسرامطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ قلیلا مصدر مخذوف کی صفت ہو یعنی وہ ایمان نہ لا ئینگے مگر تھوڑا۔ یعنی حضرت موسیٰ ٰ ( علیہ السلام) اور تورات پر یہ ان کے زعم کے…
Read the full tafseer →(4:155) فیما۔ میں ب سببت کے معنی پر دلالت کرتا ہے اور ما زائدہ ہے اور تاکید کا فائدہ دیتا ہے۔
فبما نقضھم۔ نقض۔ مصدر نقص سے بمعنی توڑ دینا۔ نقص مضاف ھم ضمیر جمع مذکر غائب مضاف الیہ ۔ ان کو توڑ دینے کی وجہ سے۔ فبما نقضھم میثاقھم میں تقدیر عبارت یوں ہے فبما نقضہم میثاقھم لعنھم ان کی عہد شکنی کی وجہ سے ہم نے ان پر اپنی لعنت مسلط کردی اور کفرہم بایت اللہ اور قتلہم الانبیاء بغیر حق۔ اور قولہم قلوبنا خلف کا عطف فبما نقضہم میثاقہم پر ہے۔ یعنی وہ ہماری لعنت کے نیچے اس واسطے بھی آگئے کہ انہوں نے اللہ کی آیات سے انکار کیا۔ انبیاء کو ناحق قتل کیا اور (گستاخانہ) یہ بات کہی کہ ہمارے دلوں پر غلاف پڑھے ہوئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 153–159
آیت نمبر 153-159
لغات القرآن : سالوا، انہوں نے سوال کیا۔ ارنا، ہمیں دکھا دے۔ لاتعدوا، تم حد سے نہ بڑھو۔ نقض، توڑنا۔ طبع اللہ، اللہ نے مہر لگا دی۔ ماصلبوہ، انہوں نے اس کو پھانسی نہیں دی۔ لیؤمنن، البتہ وہ ضرور ایمان لائیں گے۔
تشریح : ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو تسکین دینے کے لئے قوم یہود کی نفسیات اور بعض نازیبا حرکتوں کو پیش کیا ہے۔ یہود کے چند سردار حضور ﷺ کے پاس آئے اور کہا اگر آپ بھی ایک مکمل لکھی ہوئی کتاب آسمان سے نازل شدہ ہمیں دکھا دیں جس طرح ایک مکمل لکھی ہوئی کتاب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر نازل ہوچکی ہے تو ہم آپ پر ایمان لے آئیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کو تسلی دی کہ یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 155–159
ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ جو انہیں حکم دیا گیا ہے وہ کریں اور جس کی ممانعت کی گئی ہے اس سے باز رہیں ۔ پھر ان لوگوں کے اس عہد پر قائم نہ رہنے سے اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے زمانہ میں طرح طرح کے معجزات دیکھ کر ان کو بھلادینے اور بلاوجہ انبیاء کو قتل کرنے سے اور اس بات کے کہنے سے کہ ہمارے دل پر غلاف ہیں کسی کی نصیحت ہمارے دل پر اثر نہیں کرتی ۔ اللہ تعالیٰ نے ان ملعونوں کو اپنی رحمت سے دور کردیا ہے ، اس لئے جس طرح مقفل اور مہر لگے ہوئے مکان کے اندر کوئی چیز نہیں جاسکتی ۔ ان کے دل میں بھی کسی نصیحت کا اثر نہیں سماسکتا اوپر ہی رہتا ہے کیونکہ کثرت گناہ سے ان کے دلوں پر زنگ چھا گیا ہے ۔ آنحضرت ﷺ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 155–156
[98] سورة بقرہ آیت 88 صفحہ 30 میں اس کا ذکر گزر چکا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 154–155
(ف 1) رفع طور کا مقصد یہ بتانا تھا کہ اگر میثاق وعہد کو ملحوظ رکھو گے تو طور کی بلندی و استقلال تمہیں عطا کیا جائے گا اور اگر انکار کرو گے تو یاد رکھو کہ باجود مادی قوت و شوکت کے ہلاک کئے جاؤ گے (تفصیل کے لئے دیکھو حواشی سورة بقر)
سجدہ اور اعتدافی السبت کی کیفیت مفصل گزر چکی ہے ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 154–157
ف 2 اور ہم نے ان لوگوں سے عہد و پیمان اور قول قرار لینے کے لئے طور پہاڑ کو اٹھا کر ان کے سروں پر معلق کردیا تھا اور ہم نے ان کو یہ حکم دیا تھا کہ بیت المقدس کے باب میں عاجزی کے ساتھ کمر کو جھکائے ہوئے داخل ہونا اور ہم نے ا ن کو یہ بھی حکم دیا تھ ا کہ دیکھو تم کو جو ہفتہ کے دن شکار کی ممانعت کی گئی ہے اس میں حد شرع سے تجاوز اور زیادتی نہ کرنا اور ہم نے ان سے بہت ہی پختہ اور مضبوط قول وقرار اور عہد و پیمان لیا تھا۔ (تیسیر)
یہ وہی واقعات ہیں جو کم و بیش پہلے بارے میں گذر چکے ہیں یہاں دوسری مناسبت سے ان کی طرف مختصراً اشارہ فرمایا ہے جب ان کو توریت ملی تو انہوں نے اس کے قبول کرنے سے انکار کیا اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 155–156
ف 1۔ نقص میثاق میں سب مابعد کا مضمون داخل ہے لیکن زیادت شنیع کے لیے سب معاملات کو الگ الگ بھی بیان فرمادیا کہ اللہ کے ساتھ ان کا یہ معاملہ ہے کہ ان کے حکام کے منکر ہیں انبیاء (علیہم السلام) کے ساتھ یہ برتاو ہے کہ ان کی تکذیب سے گزر کر ان کو قتل کرتے تھے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ یہ معاملہ ہے کہ آپ کے سامنے اپنے حق پر ہونے کے مدعیہ ہیں اور یہ سب اقسام کفر کے ہیں۔
Read the full tafseer →اس جگہ چو ن کہ ان کے مسیح (علیہ السلام) کے انکار اور سید ہ مر یم پر تہمت رکھنے کا بیان کر مقصود تھا اس لئے ان کی پچھلی شرارتوں کا حوالہ بھی دے دیا گیا جو ان کے باپ دادا کرچکے تھے اور اس طرح گویا قرآن کریم نے یہ تعلیم بھی دے دی کہ قومی نظریات ہمیشہ پیچھے سے چلے آرہے ہوتے ہیں اس لئے یہ سب سے بڑی دلیل ان کے پاس ہوتی ہے کہ یہ جو کچھ ہم کہہ رہے ہیں یہ صرف آج ہم ہی نہیں کہہ رہے بلکہ ہم نے تو اپنے باپ دادوں سے ایسا ہی سنا ہے اور اس سے بڑی دلیل اور کیا ہو سکتی ہے ؟ کیا پچھلے سارے غلط تھے اور آج تم اکیلے صحیح ہوگئے ہو ؟ یہ کیسے ممکن ہو سکتا ہے ؟ یہ گویا ساری دلیلوں اور سارے نشانات سے بڑی دلیل اور بڑی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 155–156
Like the earlier verses, the censure of Jews continues through the present ones. As a thematically coherent subject, their false ideas have also been refuted which have been discussed in detail in the following commentary.
Read the full tafseer →187. This statement of the Jews has already been mentioned in (Surah al-Baqarah 2: 88). In fact, like all ignorant worshippers of falsehood, these people also boasted that their faith in the ideas and prejudices, customs and usages of their forefathers was so firm that they could never be made to forsake them. Whenever the Messengers of God tried to admonish them, they have been told point-blank that no matter what argument or evidence the latter might adduce in support of their message, they would never be prepared to alter their viewpoint. (See Towards Understanding the Qur'an, vol. I,…
Read the full tafseer →