Explained with ayahs 153–154
محسوس معجزہ کی مانگ اور بنی سرائیل کی حجت بازیاں
یہودیوں نے جناب رسالت مآب ﷺ سے کہا کہ جس طرح حضرت موسیٰ ؑ اللہ کی طرف سے توراۃ ایک ساتھ لکھی ہوئی ہمارے پاس لائے، آپ بھی کوئی آسمانی کتاب پوری لکھی لکھائی لے آیئے۔ یہ بھی مروی ہے کہ انہوں نے کہا تھا کہ ہمارے نام اللہ تعالیٰ خط بھیجے کہ ہم آپ کی نبوت کو مان لیں۔ یہ سوال بھی ان کا بدنیتی سے بطور مذاق اور کفر تھا۔ جیسا کہ اہل مکہ نے بھی اسی طرح کا ایک سوال کیا تھا، جس طرح سورة سبحان میں مذکور ہے کہ " جب تک عرب کی سر زمین میں دریاؤں کی ریل پیل اور ترو تازگی کا دور دورہ نہ ہوجائے ہم آپ پر ایمان نہیں لائیں گے۔ " پس بطور تسلی کے آنحضرت ﷺ سے اللہ…
Read the full tafseer →سورة النِّسَآء 184
صریح فرمان سے مراد وہ احکام ہیں جو حضرت موسیٰ ؑ کو تختیوں پر لکھ کردیے گئے تھے۔ سورة اعراف، رکوع 17 میں اس کا ذکر زیادہ تفصیل کے ساتھ آئے گا۔ اور عہد سے مراد وہ میثاق ہے جو کوہ طور کے دامن میں بنی اسرائیل کے نمائندوں سے لیا گیا تھا۔ سورة بقرہ آیت 63 میں اس کا ذکر گزر چکا ہے اور اعراف آیت 171 میں پھر اس کی طرف اشارہ آئے گا۔
سورة النِّسَآء 185
سورة بقرہ آیت 59-58 و 75۔
سورة النِّسَآء 186
سورة بقرہ آیت 65۔ و 82 و 83۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 153–154
ربط آیات۔ مقابل کی آیات میں یہود کی بد اعتقادیوں کا ذکر کر کے ان کی مذمت مذکور تھی، ان آیات میں بھی ان کی کچھ دوسری خراب حرکتوں کی ایک طویل فہرست اور ان قباحتوں کی بناء پر ان کے عذاب و سزا کا ذکر ہے اور یہ سلسلہ دور تک چلا گیا ہے۔
خلاصہ تفسیر
(اے محمد ﷺ آپ سے اہل کتاب (یہود) یہ درخواست کرتے ہیں کہ آپ ان کے پاس ایک خاص نوشتہ آسمان سے منگوا دیں سو (آپ ﷺ ان لوگوں سے اس کو عجیب نہ سمجھئے کیونکہ یہ فرقہ ایسا معاند ہے کہ) انہوں نے (یعنی اس فرقہ کے جو لوگ موسیٰ ؑ کے وقت موجود تھے انہوں نے) موسیٰ ؑ سے اس سے بھی بڑی بات کی درخواست کی تھی اور یوں کہا تھا کہ ہم کو اللہ تعالیٰ کو کھلم کھلا (بلا حجاب)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 153–155
آگے کا مضمون۔ آیات 153۔ 162:۔ آگے اہل کتاب۔ یہود اور نصاری۔ کو تنبیہ ہے اور یہ تنبیہ اتنی سخت و شدید ہے کہ لفظ لفظ سے جوش غضب ابلا بڑ رہا ہے۔ پوری تقریر از ابتدا تا انتہا صرف فرد قرار داد جرائم پر مشتمل ہے اور کلام کے جوش اور روانی کا یہ عالم ہے کہ بات شروع ہونے کے بعد یہ متعین کرنا مشکل ہوتا ہے کہ ختم کہاں ہوئی۔ اس قسم کے پرجوش اور پر غضب کلام میں عموماً خیر حذف ہوجاتی ہے، گویا متکلم کا جوش ہی خبر کا قائم مقام بن جاتا ہے اور مبتدا ہی سے اندازہ ہوجاتا ہے کہ متکلم کیا کہنا چاہتا ہے۔ آیات کی تلاوت فرمائیے۔
تفسیر آیات 153 تا 155: يَسْــَٔــلُكَ اَهْلُ الْكِتٰبِ اَنْ تُنَزِّلَ عَلَيْهِمْ كِتٰبًا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 153–154
153۔ 1 یعنی جس طرح موسیٰ ؑ کوہ طور پر گئے اور تختیوں پر لکھی ہوئی تورات لے کر آئے، اسی طرح آپ بھی آسمان پر جا کر لکھا ہوا قرآن مجید لے کر آئیں۔ یہ مطالبہ محض عناد، حجود اور تعنت کی بنا پر تھا۔
Read the full tafseer →87: ان واقعات کی تفصیل سورة بقرہ کی آیات 51 تا 66 اور ان کے حواشی میں گذر چکی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 153–154
جزیرۃ العرب میں یہودیوں نے اسلام اور پیغمبر اسلام کے مقابلے میں کھلا معاندانہ دشمنی کا موقف اختیار کیا ۔ وہ آپ کے خلاف مسلسل خفیہ اور نہایت ہی معاندانہ سازشیں تیار کرتے رہے جن کی تفصیلات کو قرآن مجید نے بیان کیا ہے ۔ اور جن کے کچھ رنگ ہم سورة بقرہ ‘ سورة آل عمران اور خود اسی سورة کے پارہ پنجم میں دکھا چکے ہیں ۔ ان آیات میں جو باتیں کہی جا رہی ہیں وہ بھی ان کے اس مسلسل موقف کا ایک رنگ ہے ۔
ان کی پہلی ہٹ دھرمی یہ ہے کہ وہ حضور ﷺ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آپ آسمانوں سے ایک کتاب نازل فرما دیں ‘ یہ لکھی ہوئی ہو ‘ وہ مجسم طور پر آسمانوں سے انکے سامنے آرہی ہو اور وہ اسے اپنے ہاتھوں کے ساتھ…
Read the full tafseer →3 یعنی جب یہود نے کہا تھا کہ تورات کے حکم سخت ہیں ہم نہیں مانتے تو اس وقت کوہ طور کو زمین سے اٹھا کر ان کے سروں پر معلق کردیا تھا کہ ان حکموں کو قبول کرو اور مضبوطی سے پکڑو ورنہ پہاڑ ڈالا جاتا ہے۔
4 یہود کو حکم ہوا تھا کہ شہر میں داخل ہوں سجدہ کر کے اور سر جھکائے ہوئے انہوں نے سجدہ کے بدلے سرین پر سرکنا اور پھسلنا شروع کیا۔ جب شہر میں پہنچے تو ان پر طاعون پڑا، دوپہر میں قریب ستر ہزار کے مرگئے۔
5 یہودیوں کو حکم تھا کہ ہفتہ کے دن مچھلی کا شکار نہ کریں اور سب دنوں سے زیادہ ہفتہ ہی کے دن مچھلیاں دریا میں بکثرت نظر آتیں۔ یہودیوں نے یہ حیلہ کیا کہ دریا کے پاس حوض بنائے۔ ہفتہ کے دن جب مچھلیاں دریا…
Read the full tafseer →آیت 154 وَرَفَعْنَا فَوْقَہُمُ الطُّوْرَ بِمِیْثَاقِہِمْ وَقُلْنَا لَہُمُ ادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا
یعنی جب اریحا Jericho شہر تمہارے ہاتھوں فتح ہوجائے اور اس میں داخل ہونے کا مرحلہ آئے تو اپنے سروں کو جھکا کر عاجزی کے ساتھ داخل ہونا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 153–154
202 یہود کا ایمان لانے کے لئے نوشتہ کا مطالبہ :۔ مثل مشہور ہے خوئے بدرابہانہ بسیار اسی مثل کے مصداق یہود مدینہ نے آپ سے یہ مطالبہ کیا کہ اگر آسمان سے کوئی لکھی ہوئی کتاب آپ پر آسمان سے نازل ہو تو ہم اس پر ایمان لے آئیں گے جیسا کہ موسیٰ پر تورات کی تختیاں نازل ہوئی تھیں۔ ان کے اس مطالبہ کے اللہ نے مختلف مقامات پر کئی طرح سے جواب دیئے ہیں۔ الزامی بھی اور تحقیقی بھی۔ الزامی جواب یہ ہے کہ سوال کرنا اور سوال کرتے جانا یہود کی عادت ثانیہ بن چکی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ جب ان پر آسمان سے تورات لکھی لکھائی نازل ہوئی تھی تو کیا یہ اس پر ایمان لے آئے تھے ؟
خ مطالبہ دیدار الہٰی :۔ انہوں نے تو اس سے بھی بڑا…
Read the full tafseer →391 ۔ (ان احکام نیز دوسرے احکام کی تعمیل کے لیے) (آیت) ” رفعنا فوقھم الطور۔ ادخلو الباب سجدا۔ لا تعدوا فی السبت ‘۔ ان سب واقعات پر حاشیے پارۂ اول میں گزر چکے۔ (آیت) ” بمیثاقھم “۔ میں ب اظہار غرض وغایت کے لیے ہے۔ ای بسبب میثاقھم لیقبلوہ (بیضاوی) والباء للسبب (بحر) (آیت) ” سجدا “۔ یہاں سجدۂ شرعی مراد نہیں۔ بلکہ سجدہ اپنے لفظی معنی میں ہے، یعنی تواضع کے ساتھ۔ ای متطامنین خاضعین۔ (روح)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 153–154
آیت نمبر 153 تا 162
ترجمہ : اے محمد یہ اہل کتاب یعنی یہود عناداً آپ سے مطالبہ کررہے ہیں کہ آپ ان پر اسمان سے کوئی نوشتہ یکبارگی نازل کرا دو جیسا کہ موسیٰ علیہ الصلوٰة والسلام پر نازل کیا گیا تھا، آپ اس مطالبہ کو بڑا سجھ رہے ہیں تو یہ لوگ یعنی ان کے آباء و اجداد موسیٰ علیہ الصلوٰة والسلام سے اس سے بھی بڑا مطالبہ کرچکے ہیں، انہوں نے (موسیٰ علیہ الصلوٰة والسلام) سے مطالبہ کیا تھا کہ ہمیں خدا کا علانیہ دیدار کرادو، تو ان کی اسی سرکشی کی وجہ سے ان کو سزا دینے کے لئے یکایک ان پر موت کی آسمانی بجلی ٹوٹ پڑی، اس لئے کہ انہوں نے مطالبہ میں سرکشی اختار کی تھی پھر انہوں نے بچھڑے کو معبود بنالیا حالانکہ…
Read the full tafseer →ورفعنا فوقہم الطور بمیثاقہم یعنی چونکہ انہوں نے قبول کرنے کا پختہ وعدہ کیا تھا اس لئے طور کو ہم نے ان کے اوپر اٹھا لیا۔
وقلنا لہم اور ہم نے ان سے کہا یعنی جب طور ان کے سروں پر سایہ افگن تھا اس وقت موسیٰ ( علیہ السلام) کی زبان سے ہم نے کہلوایا۔
ادخلوا الباب سجدا کہ (ایلیا کے) دروازہ میں سر جھکائے داخل ہو۔
وقلنا لہم اور ہم نے ان سے کہا یعنی حضرت داؤد کی زبانی کہلوایا۔ یہ بھی احتمال ہے کہ آئندہ کلام بھی حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کی زبانی اس وقت کہلوایا جب پہاڑ بنی اسرائیل کے سروں پر جھکا ہوا تھا کیونکہ سنیچر (کے روز کی عبادت) کی مشروعیت اسی دور میں ہوچکی تھی البتہ اس حکم کی خلاف ورزی اور عذاب…
Read the full tafseer →(154) ان لوگوں سے پختہ میثاق لینے کے لیے کوہ طور کو اکھاڑ کر ہم نے ان کے سروں پر اٹھالیا تھا اور انہیں یہ بھی حکم دیا تھا کہ باب ادیحاء سے جھک کر عاجزی کے ساتھ داخل ہونا اور دیکھنا ہفتہ کے روز مچھلیاں مت پکڑنا اور رسول اکرم ﷺ پر ایمان لانے کے لیے بھی ان سے پختہ وعدہ لیا تھا۔
Read the full tafseer →وَرَفَعْنَا فَوْقَھُمُ الطُّوْرَ کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورة بقرہ (63) اور ”ادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا“ کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورة بقرہ (58، 59)۔
وَّقُلْنَا لَهُمْ لَا تَعْدُوْا فِي السَّبْتِ ”اصحاب سبت“ جنھیں ہفتے کے دن مچھلی کے شکار سے منع کیا گیا تھا، ان کے قصے کے لیے دیکھیے سورة بقرہ (65) اور سورة اعراف (163)۔
Read the full tafseer →آیت نمبر : 154۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” ورفعنا فوقھم الطور بمیثاقھم “۔ یعنی ان کے میثاق توڑنے کے سبب ہم نے ان پر طور کو بلند کیا اور وہ میثاق تورات پر عمل کرنا تھا، پہاڑ کے بلند کرنے اور ان کے دروازہ سے داخل ہونا کا ذکر سورة بقرہ میں گزر چکا ہے،
(آیت) ” سجدا “ حال کی بنا پر منصوب ہے ورش نے (آیت) ” وقلنا لھم لاتعدوا فی السبت “۔ میں عین کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے عدا یعدو عدوا وعدوانا وعدوا وعداء سے مشتق کرکے پڑھا ہے، یعنی مچھلیاں پکڑنے کے ساتھ حد سے نہ بڑھا جیسا کہ سورة میں گزرچکا ہے۔ اصل میں تعتدوا تھا، تاکو دال میں ادغام کیا گیا، نحاس نے کہا : عین کا ساکن کرنا جائز نہیں، اس میں دو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 153–156
(1) ابن جریر نے محمد بن کعب قرظی ؓ سے روایت کیا کہ یہودیوں میں سے کچھ لوگ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ موسیٰ (علیہ السلام) ہمارے پاس اللہ کی طرف سے تختیاں لے کر آئے تھے آپ بھی اللہ کی طرف سے تختیاں لے آئیں تب ہم آپ کی تصدیق کریں گے تو اللہ تعالیٰ نے (یہ آیت) نازل فرمائی لفظ آیت ” یسئلک اہل الکتب ان تنزل علیہم کتبا من السماء “ سے لے کر ” وقولہم علی مریم بھتانا عظیما “ تک
(2) ابن جریر و ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ یہود و نصاری نے محمد ﷺ سے کہا تو ہم کو بلاتا ہے یہاں تک کہ تو ہمارے پاس اللہ کی طرف سے کتاب لائے (اور اس میں یہ لکھا ہو) اللہ تعالیٰ کی…
Read the full tafseer →[ وَرَفَعْنَا : اور ہم نے بلند کیا ] [ فَوْقَہُمُ : ان لوگوں کے اوپر ] [ الطُّوْرَ : کوہِ طور کو ] [ بِمِیْثَاقِہِمْ : ان کے پختہ عہد کے لیے ] [ وَقُلْنَا : اور ہم نے کہا ] [ لَہُمُ : ان سے ] [ ادْخُلُوا : تم داخل ہو ] [ الْبَابَ : دروازے میں ] [ سُجَّدًا : سجدہ کرنے والوں کی حالت میں ] [ وَّقُلْنَا : اور ہم نے کہا ] [ لَہُمْ : ان سے ] [ لاَ تَعْدُوْا : تم حد سے مت بڑھو ] [ فِی السَّبْتِ : ہفتے کے دن میں ] [ وَاَخَذْنَا : اور ہم نے لیا ] [ مِنْہُمْ : ان سے ] [ مِّیْثَاقًا غَلِیْظًا : ایک مضبوط عہد ]
Read the full tafseer →پھر فرمایا (وَرَفَعْنَا فَوْقَھُمُ الطُّوْرَ ) اس کا ذکر بھی سورة بقرہ میں گزر چکا ہے۔ اور سورة اعراف میں بھی ہے۔ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے بنی اسرائیل پر توریت شریف پیش کی اور فرمایا کہ اس کو قبول کرو اور اس کے احکام پر عمل کرو تو یہ لوگ انکاری ہوگئے تب اللہ تعالیٰ نے پہاڑ کو اپنی جگہ سے اکھاڑ دیا جو ان کے سروں پر آکر ٹھہر گیا اور ان سے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جو کچھ ہم نے دیا ہے اس کو قبول کرو اور جو کچھ اس میں ہے اسے یاد کرو۔ اسی وقت کہنے لگے کہ ہم مانتے ہیں عہد کرلیا کہ ہم اس پر عمل کریں گے لیکن پھر اپنے عہد سے پھرگئے جیسا کہ سورة بقرۃ میں فرمایا (ثّمَّ تَوَلَّیْتُمْ مِّنْ م بَعْدِ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 153–156
بیان دیگر ذمائم اہل کتاب۔
قال تعالی، یسئلک اھل الکتاب۔۔۔ الی۔۔۔۔ حکیما۔ آیت۔
ربط) گذشتہ آیت میں اہل کتاب کی عظیم شناعت یعنی تفریق فی الایمان کو بیان کیا اب یہاں سے اہل کتاب کی دوسری قباحتوں اور شناعتوں کو اور ان پر جو عقوبتیں اور مصیبتیں نازل ہوئیں ان کو قدرے تفصیل کے ساتھ بیان فرماتے ہیں اے نبی اہل کتاب یعنی یہود آپ سے یہ درخواست کرتے ہیں کہ آپ ان پر ایک کتاب آسمان سے اتار لادیں جس کو آسمان سے اترتے ہوئے ہم بھی اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں جیسا کہ کعب بن اشرف اور فنحاص بن عازوراء وغیرہ یہود علماء نے نبی ﷺ سے کہا تھا کہ اگر آپ واقعی نبی ہیں تو ایک ہی دفعہ ایک لکھی ہوئی کتاب پوری آسمان سے ہم پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 153–154
100 یہ بھی یہود کے لیے زجر ہے۔ یہود ضد وعناد کی وجہ سے آنحضرت ﷺ سے سوال کرتے تھے کہ آپ ان کے لیے اللہ کی طرف سے دفعۃً ایک کتاب لے آئیں جیسا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) تورات لائے تھے تو پھر وہ آپ پر ایمان لے آئیں گے آیت کے اس حصے میں اسی سوال کا ذکر ہے اس کے بعد پورے رکوع میں یہود کے لیے زجریں اور ان کی بد باطنی اور شرارت نفس کا ذکر ہے کہ ان کا یہ سوال کوئی نئی بات نہیں بلکہ ان کی پوری تاریخ ہی اس قسم کی شرارتوں سے بھری پڑی ہے پھر اِنَّا اَوْحَیْنَا اِلَیْکَ (رکوع 23) سے اصل سوال کا جواب دیا گیا ہے۔
101 یہ یہود کی ایک شرارت کا ذکر ہے یعنی آپ سے تو انہوں نے یہی سوال کیا ہے کہ دفعۃ کتاب لائیں۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 153–155
ربط آیات : گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے اس کے نبیوں اور رسولوں کے درمیان تفریق کرنے والوں کو مذمت بیان فرمائی اور واضح کیا کہ اللہ کے بعض نبیوں پر ایمان لانا اور بعض پر نہ لانا خالص کفر ہے کیونکہ کسی ایک نبی کا انکار بھی پورے گروہ انبیاء کے انکار کے مترادف ہے۔ مشرکین تو انبیاء کو ویسے ہی نہیں مانتے ، وہ تو مطلقا انکار کی وجہ سے کافر ہیں ، انہوں نے توحید کا بھی انکار کیا اور خود خاتم النبین ﷺ کا بھی انکار کرگئے ، البتہ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے اعتقادی منافقوں کا ذکر کیا ہے جو بظاہر زبان سے تو توحید و رسالت کا اقرار کرتے ہیں مگر ان کے دل اسی طرح کفر سے بھرے ہوئے ہیں ، بہرحال اللہ تعالیٰ نے…
Read the full tafseer →وَرَفَعْنَا فَوْقَھُمُ الطُّوْرَ بِمِيْثَاقِہِمْ وَقُلْنَا لَہُمُ ادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا وَّقُلْنَا لَہُمْ لَا تَعْدُوْا فِي السَّبْتِ وَاَخَذْنَا مِنْہُمْ مِّيْثَاقًا غَلِيْظًا 154
رفع
الرَّفْعُ في الأجسام الموضوعة إذا أعلیتها عن مقرّها، نحو : وَرَفَعْنا فَوْقَكُمُ الطُّورَ [ البقرة/ 93] ، قال تعالی: اللَّهُ الَّذِي رَفَعَ السَّماواتِ بِغَيْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَها[ الرعد/ 2]
( رع ) الرفع
کے معنی اٹھانے اور بلند کرنے کے ہیں یہ مادی چیز جو اپنی جگہ پر پڑی ہوئی ہو اسے اس کی جگہ سے اٹھا کر بلند کرنے پر بولا جاتا ہے ۔ جیسے فرمایا : وَرَفَعْنا فَوْقَكُمُ الطُّورَ [ البقرة/ 93] اور ہم نے طو ر…
Read the full tafseer →ترکیب : ورفعنا معطوف ہے آتینا پر۔ الطور مفعول رفعنا کا فوقہم ظرف ‘ بمیثاقہم متعلق ہے رفعنا سے اے بسبب اخذ المیثاق علیہم فبما نقضہم ما زائدہ ہے اور ب سببیہ متعلق ہے محذوف سے ای لعنا ھم بسبب نقضھم اور ممکن ہے کہ حرمنا سے متعلق ہو جو تین آیات کے بعد واقع ہے اور فبظلم بدل ہے اس نقضھم سے۔ میثاقہم مفعول ہے نقضہم کا وکفرھم وقتلہم وقولہم معطوف ہیں نقضہم پر وبکفرھم بھی مگر یہاں اعادہ جار کردیا گیا وقولہم اور وقولہم انا بھی اسی پر معطوف ہیں۔ بہتاناً حال ہے قولہم سے وقیل مصدر الا اتباع الظن استثناء متصل ہے یقیناً صفت ہے محذوف کی اے قتلاً یقینا وقیل مصدر من غیر لفظ الفعل۔
تفسیر : یہ بھی آیات سابقہ کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 153–155
یَسْئَلُکَ اَہْلُ الْکِتٰبِ اَنْ تُنَزِّلَ عَلَیْہِمْ کِتٰبًا مِّنَ السَّمَآئِ فَقَدْ سَاَلُوْا مُوْسٰیٓ اَکْبَرَ مِنْ ذٰلِکَ فَقَالُوْٓا اَرِنَا اللّٰہَ جَھْرَۃً فَاَخَذتْہُمُ الصّٰعِقَۃُ بِظُلْمِہِمْ ج ثُمَّ اتَّخَذُوا الْعِجْلَ مِنْ م بَعْدِ مَا جَآئَ تْہُمُ الْبَیِّنٰتُ فَعَفَوْنَا عَنْ ذٰلِکَ ج وَاٰتَیْنَا مُوْسٰی سُلْطٰنًا مُّبِیْنًا وَرَفَعْنَا فَوْقَہُمُ الطُّوْرَ بِمِیْثَاقِہِمْ وَقُلْنَا لَہُمُ ادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا وَّقُلْنَا لَہُمْ لَا تَعْدُوْا فِی السَّبْتِ وَاَخَذْنَا مِنْہُمْ مِّیْثَاقًا عَلِیْظًا فَبِمَا نَقْضِہِمْ مِّیْثَاقَہُمْ وَکُفْرِہِمْ بِاٰیٰتِ اللّٰہِ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 154–155
فہم القرآن
ربط کلام : یہودی نبی ﷺ کی نبوت پر ہی اعتراض اور سوال نہیں کرتے بلکہ انھوں نے ہر نبی کی ذات پر الزامات لگائے اور اس کی نبوت پر اعتراض کیے۔ ایسا کرنا ان کی پرانی عادت ہے۔
اللہ تعالیٰ کو براہ راست دیکھنے کا مطالبہ اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی چند دنوں کی غیر حاضری پر بچھڑے کو معبود بنانا اور بعدازاں اللہ تعالیٰ نے ان کے سروں پر کوہ طور منڈلاکر اس بات کا عہد لیا کہ آئندہ تورات کے احکامات پر سختی کیساتھ عمل کرتے رہوگے۔
یہاں اہل کتاب سے مراد صرف یہودی ہیں جو کوہ طور پر اللہ تعالیٰ سے پختہ اقرار کرنے کے باوجود اپنے عہد سے منحرف ہوگئے فتح ایلیاء یعنی بیت المقدس کی کامیابی کے وقت انہیں…
Read the full tafseer →آیت 154 : وَرَفَعْنَا فَوْقَہُمُ الطُّوْرَ بِمِیْثَاقِہِمْ (ہم نے ان کے میثاق کے سبب طور کو ان پر بلند کیا) تاکہ وہ ڈریں اور وعدے کو نہ توڑیں۔ وَ قُلْنَالَہُمُ (اور ہم نے انہیں کہا) جبکہ طور ان پر لٹکنے والا تھا۔ ادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا (تم دروازے میں سرجھکائے ہوئے داخل ہو) یعنی دروازہ بیت المقدس (ایلیا) میں داخل ہوتے وقت اپنے سروں کو جھکائے داخل ہو۔ وَقُلْنَالَہُمْ لَا تَعْدُوْا (اور ہم نے انہیں کہا حد سے تجاوز نہ کرو)
قراءت : ورش نے تَعَدّوا پڑھا۔ تَعْدّوا۔ سکون عین اور تشدید دال کے ساتھ ورش کے علاوہ مدنی قراء نے پڑھا یہ دونوں ادغام کے ساتھ ہیں۔ البتہ قراءت ابی ؓ میں تعتدوا ہے۔ تا کو…
Read the full tafseer →154۔ (آیت)” ورفعنا فوقھم الطور بمیثاقھم وقلنا لھم ادخلوا الباب سجدا وقلنا لھم لا تعدوا فی السبت “۔ اہل مدینہ کا قول ہے کہ (آیت)” لا تعدوا “۔ تشدید دال کے ساتھ ہے اور ورش کی روایت کے مطابق اور دوسرے قراء نے ان کو جزم دیا ۔ اس آیت کا معنی یہ ہوگا کہ تم تجاوز نہ کرو اور نہ ہفتہ کے دن میں مچھلی کا شکار کر کے ظلم کرو ۔ (آیت)” اخذنا منھم میثاقا غلیظا “۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 153–154
(153 ۔ 154) ۔ تفسیر سدی، ابن جریر وغیرہ میں سلف کی ایک جماعت سے جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ یہود نے آنحضرت ﷺ سے ایک روز یہ کہا کہ جس طرح موسیٰ (علیہ السلام) کو تختیوں پر لکھی ہوئی ساری تورات ایک ہی دفعہ اللہ کی طرف سے مل گئی تھی۔ اسی طرح یا تو سارا قرآن ایک دفعہ ہی آسمان سے لکھا ہوا تمہارے پاس آجائے۔ اگر یہ نہ ہو تو ہم لوگوں کے نام ایک تحریر اللہ کی طرف سے آجائے کہ قرآن اللہ کا کلام ہے اور محمد رسول اللہ ﷺ نبی آخر الزمان ہیں۔ اس شرط کے پورا ہوجانے کے بعد ہم تم کو اللہ کا رسول مانیں گے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں 2۔ اور فرمایا کہ ان لوگوں کا یہ نادانی کا سوال کچھ تعجب کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 154–161
آیت 154
اہل کتاب نے رسول اللہ ﷺ سے یہ سوال مطالبہ اور عناد کی بنا پر کیا تھا اور اسی پر انہوں نے اپنی تصدیق و تکذیب کو موقوف قرار دیا تھا اور ان کا سوال یہ تھا کہ ان پر تمام قرآن ایک ہی بار نازل ہوجائے جیسے تورات اور انجیل ایک ہی بار نازل ہوئی تھیں۔ یہ ان کی طرف سے اتنہائی ظالمانہ مطالبہ تھا کیونکہ رسول ﷺ تو ایک بشر اور بندے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی تدبیر کے تحت ہیں، رسول اللہ ﷺ کے اتھ میں تو کوئی اختیار نہیں۔ تمام اختیار اللہ تعالیٰ کے قبضہ قدرت میں ہے۔ وہی ہے جو اپنے بندوں پر جو چاہتا ہے نازل کرتا ہے۔ جس سرح اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کی طرف سے اس وقت فرمایا جب مشرکین نے اسی قسم کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 148–160
مظلوم کی آہ سے بچو
قول باری ہے لایحب اللہ الجھربالتوء من القول الامن ظلم، اللہ اس کو پسند نہیں کرتا کہ آدمی بدگوئی پر زبان کھولے، الا یہ کہ کسی پر ظلم کیا گیا ہو۔ حضرت ابن عباس ؓ اور قتادہ کا قول ہے ” الایہ کہ مظلوم اپنے ظالم کے لئے بددعا کرے “۔ مجاہد سے ایک روایت ہے ” الایہ کہ مظلوم ظالم کی طرف سے ڈھائے جانے والے ظلم کی لوگوں کو اطلاع دے “۔ حسن اور سدی کا قول ہے ” الایہ کہ مظلوم ظالم سے اپنا بدلہ لے لے “۔ فرات بن سلیمان نے ذکر کیا ہے کہ عبدالکریم سے اس قول باری کے معنی پوچھے گئے تو انہوں نے کہا ” یہ وہ شخص ہے جو تمہیں برا بھلا کہتا ہے اور جواب میں تم بھی اسے برا بھلا کہہ دیتے ہو لیکن اگر وہ…
Read the full tafseer →400 بنی اسرائیل پر رفع طور کا ذکر : جب انہوں نے احکام تورات پر عمل کرنے سے انکار کردیا، تو کوہ طور کو ان کے سروں پر اٹھا کر ان سے اس طرح عہد لیا گیا (معارف وغیرہ) ۔ سو یہ دین میں داخل ہونے کیلئے جبر نہیں تھا بلکہ یہ دین کے احکام پر عمل پیرا ہونے کیلئے تھا۔ اور آپ کے ساتھ آپکے رب کی رحمت و عنایت اور تائید وتقویت شامل حال ہے۔
401 بنی اسرائیل سے عہد اور اس کی نوعیت : یعنی یہ عہد لینے کیلئے کہ تم نے جو تورات پر اپنے ارادہ و اختیار سے ایمان لایا تھا، اس کے مطابق اس کے احکام پر عمل کرو جو کہ تمہارے دین کا تقاضا ہے۔ پس کوہ طور کا ان پر اٹھایا جانا دین میں داخل کرنے کے لئے جبر نہ تھا کہ { لا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 154–156
یہود کی بداعمالیاں
تشریح : یہود کی بدنیتی اور کفر کی بیشمار باتیں ہیں جو سورة بقرۃ میں آیات 65-59-58 اور 88 میں بڑی تفصیل سے بیان کی جا چکی ہیں۔ یہاں دوبارہ مختصراً بتایا جارہا ہے صرف نبی کریم ﷺ کو تسلی دینے کے لیے کہ آپ ان سے بالکل پریشان نہ ہوں۔ کیونکہ ایک دفعہ یہ کفر میں اتنے بڑھ گئے کہ ہم نے کوہ طوران پر پھینکنا چاہا تب انہوں نے اطاعت کا وعدہ کیا، پھر شہر ایلیا میں ہم نے کہا جھک کر جانا، پھر ان پر ہفتے کے روز مچھلی کے شکار پر پابندی لگائی۔ مگر انہوں نے ہمارے تمام احکام سے روگردانی کی اس پر ہم نے ان کو دنیا میں بھی ذلیل کیا اور آخرت میں بھی سزا دیں گے۔ یہ ایسے بہتان تراش ہیں کہ سیدہ مریم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 153–162
رکوع نمبر 22 ۔ آیات 153 تا 162 ۔
بے عملی کے بہانے :
کج بحثی کرنا یہود کی پرانی عادت ہے اور اس بدبخت قوم کی تاریخ ہی یہ ہے کہ اللہ کے بندوں کو اللہ کے دین اور اللہ کے رسولوں کو انہوں نے بہت ایذاء پہنچائی اور ہمیشہ الٹ بات سوچتے اور کہتے بھی ہیں کرتے بھی الٹ ہیں۔ اب آپ ﷺ سے سوال کرتے ہیں آپ آسمان سے لکھی لکھائی کتاب لے کر آئیں پھر ہم ایمان لائیں گے مگر خود موسیٰ (علیہ السلام) سے جو طور پر سے لکھی لکھائی کتاب لے کر آگئے تھے انہوں نے اس سے بھی بہت بڑا سوال کردیا تھا اور وہ تھا کہ ہم کو کھلم کھلا اللہ کی زیارت کرا دیں جب مانیں گے اس زیادتی پر ان پر برق گری اور تباہ ہوگئے مگر موسیٰ (علیہ السلام) کی…
Read the full tafseer →ف 2 یہاں سجدہ اپنے لغوی معنی میں ہے یعنی تواضع اور انکساری (مفردات) نیز دیکھئے بقرہ آیت 58)3 اصحابہ سبت کے قصہ کی طرف اشارہ ہے جن کو ہفتہ کے دن مچھلی کے شکار سے منع کیا گیا تھا۔ (دیکھئے بقرہ آیت 65 نیز سورت اعراف آیت 163)
Read the full tafseer →(4:154) رفعنا۔ باب فتح۔ رفع سے ماضی جمع متکلم ۔ ہم نے بلند کیا۔ ہم نے اٹھایا۔
ورفعنا فوقھم الطور۔ ہم نے بلند کیا ان کے اوپر کوہ طور کو۔ ان کے سروں پر کوہ طور کو معلق کردیا۔ (ابن کثیر)
اللہ تعالیٰ نے کوہ طور کو ان کے اوپر کھڑا کردیا۔ کہ ان پر سایہ فگن ہوگیا تاکہ وہ ڈر جائیں اور نقض عہد سے باز رہیں (الخازن) پہاڑ کے دامن میں میثاق لیتے وقت ایسی خوفناک صورت حال پیدا کردی گئی تھیں کہ ان کو ایسا معلوم ہوتا تھا کہ گویا پہاڑ ان کے اوپر آپڑے گا۔
عہد سے مراد وہ میثاق ہے جو کوہ طور کے دامن میں بنی اسرائیل کے نمائندوں سے لیا گیا تھا۔ (تفہیم القرآن مودودی)
اور ہم نے کوہ طور کی بلندیوں کے دامن میں ان سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 153–159
آیت نمبر 153-159
لغات القرآن : سالوا، انہوں نے سوال کیا۔ ارنا، ہمیں دکھا دے۔ لاتعدوا، تم حد سے نہ بڑھو۔ نقض، توڑنا۔ طبع اللہ، اللہ نے مہر لگا دی۔ ماصلبوہ، انہوں نے اس کو پھانسی نہیں دی۔ لیؤمنن، البتہ وہ ضرور ایمان لائیں گے۔
تشریح : ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو تسکین دینے کے لئے قوم یہود کی نفسیات اور بعض نازیبا حرکتوں کو پیش کیا ہے۔ یہود کے چند سردار حضور ﷺ کے پاس آئے اور کہا اگر آپ بھی ایک مکمل لکھی ہوئی کتاب آسمان سے نازل شدہ ہمیں دکھا دیں جس طرح ایک مکمل لکھی ہوئی کتاب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر نازل ہوچکی ہے تو ہم آپ پر ایمان لے آئیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کو تسلی دی کہ یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 153–154
آنحضرت ﷺ و موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ گستاخی کا ذکر ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ یہود نے آنحضرت ﷺ سے ایک روز یہ کہا کہ جس طرح موسیٰ (علیہ السلام) کو ساری توریت ایک ہی دفعہ اللہ کی طرف سے مل گئی تھی اسی طرح یا تو سارا قرآن شریف ایک دفعہ ہی آسمان سے لکھا ہوا تمہارے پاس آجاوے ، اگر یہ نہ ہو ہم لوگوں کے نام ایک تحریر اللہ کی طرف سے آجاوے کہ قرآن اللہ کا کلام ہے اور محمد ﷺ نبی آخر الزماں ﷺ ہیں ۔ اس شرط کے پورا ہوجانے کے بعد ہم تم کو اللہ کے رسول جانیں گے ۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں اور فرمایا کہ ان لوگوں کا یہ نادانی کا سوال کچھ تعجب کی بات نہیں ہے ، کیونکہ آخر یہ ان ہی کی اولاد ہیں…
Read the full tafseer →[95] سورة بقرہ آیت 63 صفحہ 22 میں اس کا ذکر گزر چکا ہے۔
[69] سورة بقرہ آیات 59-58 صفحہ 20 میں اس واقعہ کا ذکر ہوچکا ہے۔
[97] سورة بقرہ آیت 65 صفحہ 42 میں اس کا ذکر گزر چکا ہے۔ ان واقعات کے یاد دلانے سے یہ بتانا مقصود ہے کہ یہود کی ساری تاریخ ہی ضد وعناد سے بھری پڑی ہے اور جو فرمائشیں وہ کرتے رہے ہیں ان سے ان کا مقصود محض کٹ حجتی ہے تحقیق حق نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 154–155
(ف 1) رفع طور کا مقصد یہ بتانا تھا کہ اگر میثاق وعہد کو ملحوظ رکھو گے تو طور کی بلندی و استقلال تمہیں عطا کیا جائے گا اور اگر انکار کرو گے تو یاد رکھو کہ باجود مادی قوت و شوکت کے ہلاک کئے جاؤ گے (تفصیل کے لئے دیکھو حواشی سورة بقر)
سجدہ اور اعتدافی السبت کی کیفیت مفصل گزر چکی ہے ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 154–157
ف 2 اور ہم نے ان لوگوں سے عہد و پیمان اور قول قرار لینے کے لئے طور پہاڑ کو اٹھا کر ان کے سروں پر معلق کردیا تھا اور ہم نے ان کو یہ حکم دیا تھا کہ بیت المقدس کے باب میں عاجزی کے ساتھ کمر کو جھکائے ہوئے داخل ہونا اور ہم نے ا ن کو یہ بھی حکم دیا تھ ا کہ دیکھو تم کو جو ہفتہ کے دن شکار کی ممانعت کی گئی ہے اس میں حد شرع سے تجاوز اور زیادتی نہ کرنا اور ہم نے ان سے بہت ہی پختہ اور مضبوط قول وقرار اور عہد و پیمان لیا تھا۔ (تیسیر)
یہ وہی واقعات ہیں جو کم و بیش پہلے بارے میں گذر چکے ہیں یہاں دوسری مناسبت سے ان کی طرف مختصراً اشارہ فرمایا ہے جب ان کو توریت ملی تو انہوں نے اس کے قبول کرنے سے انکار کیا اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 153–154
ف 6۔ یہود نے نبی ﷺ سے براہ عناد یہ درخواست کی کہ ہم آپ سے جب بعیت کریں کہ ہمارے پاس اللہ کی طرف سے ایک نوشتہ اس مضمون کا آئے کہ از جانب اللہ بنام فلاں یہودی آنکہ محمد ﷺ رسول ہیں۔ اس طرح ہر ہر یہودی کے نام یہ خطوط ہوں اللہ نے حضور ﷺ کی تسلی فرمائی کہ یہ لوگ ہمیشہ سے ایسی جہالتیں کرتے آئے ہیں آپ دل شکستہ نہ ہوں۔
Read the full tafseer →244: یہ وہی لوگ ہیں کہ بچڑے کی محبت ان کے دلوں میں کوٹ کوٹ کر بھری گئی ہے ان سے ہم نے طور پہا ڑ کے نیچے کھڑا کر کے عہدلیا تھا لیکن ان کو تو ڑتے ذرا دیر نہ لگی ۔ ان کو ایک شہر کے دروازے سے گز رنے کا حکم دیا تھا کہ تم فر ما پبر داری کا اظہار کرتے ہوئے اس میں داخل ہوجا ئو لیکن انہوں نے ایک نئی شرارت نکال لی کہ ہمارے کلام ہی کو با لکل بدل کرر کھ دیا اور فر ما نبر دا ری کے سا تھ انہوں نے ’ نا “ کا سا بقہ لگا یا ان کو ہفتہ کے روز شکار سے منع کیا گیا تھا انہوں نے اس میں بھی ایک نئی حجت نکال ڈالی ۔ انہوں نے بر ملا کہا کہ ” ہمارے دل بند ہیں “ آپ کی تعلیم ہم پر اثر نہیں کرسکتی ۔ حقیقت یہ ہے کہ لاتوں کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 153–154
Some previous verses censured Jews for their mistrustfulness in matters of faith. In the present verses too, there appears a long list of some of their other evil doings and, because of these ugly problems with them, mention has been made of their punishment. This strain continues in many more verses coming later.
Commentary
Some Jewish chiefs came to the Holy Prophet ﷺ and demanded that he bring down a book from the heaven similar to that which came to Musa (علیہ السلام) ، all written from there: If so, they would believe him. They had made this demand not because they wished to believe…
Read the full tafseer →184. This 'manifest commandment' refers to the commandments hichhad been handed over to Moses on tablets. (For a more detailed account of this incident see (Surah al-A'raf 7, verses 143 ff.).The covenant referred to here is that which had been entered into by the representatives of Israel in the valley of Mount Sinai. For this see (Surah al-Baqarah 2: 63)and (Surah al-A'raf 7:171.)
185. See Towards Understanding the Qur'an. vol. I, (Surah 2: 58-9 and n. 75).
186. See ibid., (Surah 2: 65 and nn. 82-3).
Read the full tafseer →