Explained with ayahs 160–162
یہودیوں کے خود ساختہ حلال و حرام
اس آیت کے دو مطلب ہوسکتے ہیں ایک تو یہ کہ حرام کام ان کا مقدر تھا یعنی اللہ کی طرف سے لکھا جا چکا تھا کہ یہ لوگ اپنی کتاب کو بدل دیں، اس میں تحریف کرلیں اور حلال چیزوں کو اپنے اوپر حرام ٹھہرا لیں، صرف اپنے تشدد اور اپنی سخت گیری کی وجہ سے، دوسرا یہ کہ یہ حرمت شرعی ہے یعنی نزول تورات سے پہلے جو بعض چیزیں ان پر حلال تھیں، توراۃ کے اترنے کے وقت ان کی بعض بدکاریوں کی وجہ سے وہ حرام قرار دے دی گئیں جیسے فرمان ہے آیت (كُلُّ الطَّعَامِ كَانَ حِلًّا لِّبَنِىْٓ اِ سْرَاۗءِيْلَ اِلَّا مَا حَرَّمَ اِسْرَاۗءِيْلُ عَلٰي نَفْسِھٖ مِنْ قَبْلِ اَنْ تُنَزَّلَ التَّوْرٰىةُ ۭ…
Read the full tafseer →سورة النِّسَآء 203
یعنی ان میں سے جو لوگ کتب آسمانی کی حقیقی تعلیم سے واقف ہیں اور ہر قسم کے تعصب، جاہلانہ ضد، آبائی تقلید اور نفس کی بندگی سے آزاد ہو کر اس امر حق کو سچے دل سے مانتے ہیں جس کا ثبوت آسمانی کتابوں سے ملتا ہے، ان کی روش کافر و ظالم یہودیوں کی عام روش سے بالکل مختلف ہے۔ ان کو بیک نظر محسوس ہوجاتا ہے کہ جس دین کی تعلیم پچھلے انبیاء نے دی تھی اسی کی تعلیم قرآن دے رہا ہے، اس لیے وہ بےلاگ حق پرستی کے ساتھ دونوں پر ایمان لے آتے ہیں۔
Read the full tafseer →ربط آیات
اوپر کی آیات میں ان یہود کا ذکر تھا جو اپنے کفر پر قائم تھے اور مذکورہ بالا منکرات میں مبتلا تھے، آگے ان حضرات کا بیان ہے جو اہل کتاب تھے اور جب آنحضرت ﷺ کی بعثت ہوئی اور وہ صفات جو ان کی کتابوں میں خاتم النبین ﷺ کے متعلق موجود تھیں آپ میں پوری پوری دیکھیں تو ایمان لے آئے، جیسے حضرت عبداللہ بن سلام و اسید و ثعلبہ ؓ ، ان آیات میں انہی حضرات کی تعریف و توصیف مذکور ہے۔
خلاصہ تفسیر
لیکن ان (یہود) میں جو لوگ علم (دین) میں پختہ (یعنی اس کے موافق عمل کرنے پر مضبوط) ہیں (اور اسی آمادگی نے ان پر حق کو واضح اور قبول حق کو سہل کردیا جو اگٓے اصلاً و فرعاً مذکور ہے) اور جو (ان میں) ایمان لے آنے…
Read the full tafseer →لٰكِنِ الرّٰسِخُوْنَ فِي الْعِلْمِ مِنْهُمْ وَالْمُؤْمِنُوْنَ يُؤْمِنُوْنَ بِمَآ اُنْزِلَ اِلَيْكَ وَمَآ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ وَالْمُقِيْمِيْنَ الصَّلٰوةَ وَالْمُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَالْمُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ ۭ اُولٰۗىِٕكَ سَنُؤْتِيْهِمْ اَجْرًا عَظِيْمًا۔
راسخون فی العلم سے مراد اہل کتاب کے علمائے حقانی ہیں :۔ لٰكِنِ الرّٰسِخُوْنَ فِي الْعِلْمِ مِنْهُمْ وَالْمُؤْمِنُوْنَ ، راسخون فی العلم سے مراد وہ علما ہیں جن کے قدم علم شریعت میں خوب جمے ہوئے، جو عقیدہ اور عمل ہر چیز میں راسخ اور کردار و اخلاق ہر پہلو سے جادہ مستقیم پر استوار تھے۔ یہود میں علما کم نہیں تھے، بیشمار…
Read the full tafseer →162۔ 1 ان سے مراد عبد اللہ بن سلام وغیرہ ہیں جو یہودیوں میں سے مسلمان ہوگئے۔
162۔ 2 ان سے مراد بھی وہ اہل ایمان ہیں جو اہل کتاب میں سے مسلمان ہوئے یا پھر مہاجرین و انصار مراد ہیں۔ یعنی شریعت کا پختہ علم رکھنے والے اور کمال ایمان سے متصف لوگ ان معاصی کے ارتکاب سے بچتے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ ناپسند فرماتا ہے۔
162۔ 3 اس سے مراد زکوٰۃ اموال ہے یا زکوٰۃ نفوس یعنی اپنے اخلاق و کردار کی تطہر اور ان کا تزکیہ کرنا یا دونوں ہی مراد ہیں۔
162۔ 4 یعنی اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ نیز بعث بعد الموت اور عملوں پر جزا اور سزا پر یقین رکھتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 160–170
94: اس کی تفصیل انشاء اللہ سورة انعام (146:6) میں آئے گی۔
Read the full tafseer →(آیت) ” نمبر 162۔
غرض پختہ علم اور اس پر روشن ایمان انسان کو اس طرح ہدایت دیتے ہیں کہ انسان پورے دین پر ایمان لانے والا بن جاتا ہے ۔ انسان اپنے علم کی پختگی اور صاف ایمان کی وجہ سے اس نتیجے تک پہنچ جاتا ہے کہ یہ دین اللہ وحدہ کی طرف سے آیا ہے اور یہ کہ اپنے مزاج کے اعتبار سے دین ایک ہی ہے ۔
قرآن کریم کی جانب سے یہ اشارہ دینا کہ علم کی گہرائی کے نتیجے میں صحیح معرفت حاصل ہوتی ہے اور دل کے دروازے نور ایمان کے لئے کھل جاتے ہیں ‘ نزول قرآن کے دور میں نہایت ہی معنی خیز ہے یہ قرآن کریم کے اشارات میں سے ایک اہم اشارہ ہے اور اس سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ قرآن کریم کے نزول کے زمانے میں صورت حال کیا…
Read the full tafseer →4 یعنی بنی اسرائیل میں جن کا علم مضبوط ہے جیسے عبد اللہ بن سلام اور ان کے ساتھی اور جو لوگ کہ صاحب ایمان ہیں وہ مانتے ہیں قرآن اور تورات و انجیل سب کو اور نماز کو قائم رکھنے والوں کا تو کیا کہنا ہے اور دینے والے زکوٰۃ کے اور ایمان رکھنے والے اللہ پر اور قیامت پر ایسے لوگوں کو ہم دیں گے بڑا ثواب بخلاف اول فریق کے کہ ان کے لئے عذاب سخت موجود ہے۔
Read the full tafseer →آیت 162 لٰکِنِ الرّٰسِخُوْنَ فِی الْْعِلْمِ مِنْہُمْ وَالْمُؤْمِنُوْنَ
یعنی یہود میں سے اہل علم لوگ جیسے عبداللہ بن سلام علیہ السلام اور ایسے ہی راست باز لوگ جنہوں نے تورات کے علم کی بنا پر نبی آخر الزمان ﷺ کی تصدیق کی اور آپ ﷺ پر ایمان لائے۔
یُؤْمِنُوْنَ بِمَآ اُنْزِلَ اِلَیْکَ وَمَآ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِکَ وَالْمُقِیْمِیْنَ الصَّلٰوۃَ وَالْمُؤْتُوْنَ الزَّکٰوۃَ وَالْمُؤْمِنُوْنَ باللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ ط اُولٰٓءِکَ سَنُؤْتِیْہِمْ اَجْرًا عَظِیْمًا ۔
ان آیات میں ابھی بھی تھوڑی سی گنجائش رکھی جا رہی ہے کہ اہل کتاب میں سے کوئی ایسا عنصر اگر اب بھی موجود ہو جو حق کی طرف مائل ہو ‘ اب بھی…
Read the full tafseer →213 علم میں پختہ وہ لوگ ہیں جو منزل من اللہ وحی کے متلاشی ہوں اور وہیں سے دلیل اور رہنمائی حاصل کریں۔ لکیر کے فقیر نہ ہوں۔ نہ تقلید آباء کے پابند ہوں اور نہ ایسے رسم و رواج کے جو دین میں راہ پا کر اس کا حصہ بن گئے ہوں جیسے بدعات وغیرہ۔ جیسے عبداللہ ؓ بن سلام اور ان کے ساتھی تھے۔
214 دوہرا اجر پانے والے :۔ آپ نے فرمایا اہل کتاب میں سے جو شخص (خواہ وہ یہودی ہو یا نصرانی) اسلام لائے اس کو دوہرا اجر ملے گا۔ ایک اجر اپنے پیغمبر پر ایمان لانے کا اور دوسرا محمد ﷺ پر ایمان لانے کا۔ (بخاری، کتاب الجہاد، باب فضل من اسلم من اہل الکتابین)
215 اس آیت پر آ کر یہود کے اس مطالبہ کے جواب ختم ہو رہے ہیں جو…
Read the full tafseer →412 ۔ (آخرت میں) آیت میں ایمان کے بھی اہم ترین اجزاء (اللہ پر ایمان، آخرت پر ایمان، آسمانی کتابوں پر ایمان) آگئے اور عبادات کے بھی اہم ترین عنوانات، یعنی اقامت صلوۃ وادائے زکوٰۃ۔ (آیت) ”’ الرسخون فی العلم “۔ علم سے مراد علم دین ہے۔ (آیت) ” ال مومن ون “۔ یعنی جو ایمان لے آنے والے۔ (آیت) ” سنؤتیھم “۔ س یہاں تیقن کے لیے ہے۔ والسین لتوکید الوعد (روح)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 160–162
فبظلم من الذین ھادو احرمنا، جملہ معترضہ ختم ہونے کے بعد یہاں سے پھر وہی سلسلہ کلام شروع ہوتا ہے جو اوپر سے چلا آرہا تھا، یعنی صرف اسی پر اکتفاء نہیں کرتے کہ خود اللہ کے راستہ سے منحرف ہیں بلکہ اس قدر بےباک مجرم بن گئے ہیں کہ دنیا میں خدا کے بندوں کو گمراہ کرنے کے لئے جو تحریک بھی اٹھتی ہے اکثر اس کے پیچھے یہودی دماغ اور یہودی سرمایہ ہی کار فرما ہوتا ہے، اور راہ حق کی دعوت کیلئے جو تحریک بھی شروع ہوتی ہے اس راہ کے سنگ گراں یہودی ہی ہوتے ہیں۔
مفید بحث : یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ ان دنوں شام و فلسطین کی غالب آبادی یہودیوں کی تھی اور حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰة والسلام بھی اسی کے ایک فرد تھے، گو کہ…
Read the full tafseer →لکن الراسخون فی العلم منہم لیکن ان میں سے جو لوگ علم (دین) میں پختہ ہیں جیسے عبداللہ ؓ بن سلام اور ان کے وہ کتابی ساتھی جو ایمان لے آئے تھے اور تقاضائے علم و دین پر ثابت قدم تھے۔ (1) [ بیہقی نے دلائل میں اور ابن اسحاق نے نقل کیا ہے کہ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا اس آیت کا نزول حضرت عبداللہ بن سلام اور اسید ؓ بن شعبہ اور ثعلبہ بن شعبہ کے بارے میں ہوا تھا یہ لوگ یہودیت کو چھوڑ کر مسلمان ہوگئے تھے۔]
والمؤمنون اور ایمان رکھنے والے یعنی رسول اللہ ﷺ کے صحابی مہاجر اور انصار یا المؤمنون سے مراد بھی الراسخون فی العلمہی ہیں۔
یومنون بما انزل الیک جو اس (کتاب) پر ایمان لاتے ہیں جو آپ پر اتاری گئی۔
وما…
Read the full tafseer →(162) لیکن جو اہل علم توریت کا صحیح علم رکھتے ہیں جیسا کہ عبداللہ بن سلام اور ان کے ساتھی وہ قرآن کریم اور تمام کتب سماویہ پر ایمان لاتے ہیں اور ان کا اقرار کرتے ہیں، اگرچہ دوسرے یہودی اس کا اقرار نہ کریں ،
اور تمام مومن قرآن کریم اور تمام آسمانی کتب کا اقرار کرتے ہیں اور پانچوں نمازوں کو ادا کرتے اور اپنے مالوں کی زکوٰۃ دیتے ہیں، نیز تمام آسمانی کتب کا اقرار کرتے ہیں اور پانچوں نمازوں کو ادا کرتے اور اپنے مالوں کی زکوٰۃ دیتے ہیں، نیز تمام آسمانی کتب اور قرآن کریم پر ایمان کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ اور بعث بعد الموت پر بھی ایمان رکھتے ہیں اگرچہ یہود اس کا اقرار نہ کریں اور ہم ایسے اہل ایمان کو…
Read the full tafseer →لٰكِنِ الرّٰسِخُوْنَ فِي الْعِلْمِ : علم میں پختہ وہ لوگ ہیں جو اللہ کی طرف سے آنے والی وحی کے متلاشی ہوں اور اسی سے دلیل اور رہنمائی حاصل کریں، نہ لکیر کے فقیر ہوں نہ تقلید آباء کے اور ”المومنون“ سے مراد تورات پر صحیح ایمان رکھنے والے ہیں، یعنی یہ مومن اس پر ایمان لاتے ہیں جو آپ کی طرف نازل کیا گیا اور جو آپ سے پہلے نازل کیا گیا۔“ یہ اہل کتاب کے مومنوں کو بشارت ہے جو موسیٰ ؑ کے بعد رسول اللہ ﷺ پر بھی ایمان لے آئے، مثلاً عبداللہ بن سلام ؓ وغیرہ۔
وَالْمُقِيْمِيْنَ الصَّلٰوةَ : اس سے پہلے اور بعد والی تمام صفات مرفوع ہیں اور یہ منصوب ہے، اسے ”منصوب علی المدح“ یا ”علی الاختصاص“ کہا جاتا ہے۔ گویا…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 162۔
اس آیت میں دو مسئلے ہیں :
مسئلہ نمبر : (1) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” لکن الراسخون فی العلم منہم “۔ اہل کتاب کے مومنوں کی استثناء فرمائی، یہود انکار کرتے تھے اور کہتے تھے : یہ اشیاء اصل میں حرام تھیں اور آپ انہیں حلال کرتے ہیں اور یہ ہمارے ظلم کی وجہ سے حرام نہیں ہوئی ہیں تو یہ ارشاد نازل ہوا (آیت) ” لکن الراسخون فی العلم “۔ الرسخون فی العلم، سے مراد کتاب کا علم رکھنے والا ہے۔ الرسوخ سے مراد ثبوت ہے، یہ آل عمران میں گزر چکا ہے، اس سے مراد حضرت عبداللہ بن سلام، کعب الاحبار اور ان جیسے دوسرے علماء ہیں، والمومنون سے مراد مہاجرین وانصار ہیں جو حضرت محمد ﷺ کے اصحاب تھے۔
(آیت)…
Read the full tafseer →(1) عبد بن حمید وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے لفظ آیت ” الرسخون فی العلم منہم “ کے بارے میں روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے ان میں سے کچھ لوگوں کو مستثنیٰ کیا ان میں سے وہ شخص ہے جو اللہ تعالیٰ پر ایمان لاتا ہے اور جو کچھ ان پر اتارا گیا (ان پر بھی ایمان لاتا ہے) اور جو کچھ اللہ کے نبی پر اتارا گیا۔ وہ اس پر ایمان لاتے ہیں اور اس کی تصدیق کرتے ہیں اور وہ جانتے ہیں کہ یہ حق ہے ان کے رب کی طرف سے۔
(2) ابن اسحاق اور بیہقی نے دلائل میں ابن عباس ؓ سے لفظ آیت ” لکن الرسخون فی العلم منہم “ کے بارے میں روایت کیا کہ یہ عبد اللہ بن سلام اور اسید بن سعید اور ثعلبہ بن سعید کے بارے میں نازل ہوئی جب یہودیوں سے…
Read the full tafseer →[ لٰـکِنِ : لیکن ] [ الرّٰسِخُوْنَ : جم جانے والے ] [ فِی الْْعِلْمِ : علم میں ] [ مِنْہُمْ : ان میں سے ] [ وَالْمُؤْمِنُوْنَ : اور ایمان لانے والے ] [ یُؤْمِنُوْنَ : جو ایمان لاتے ہیں ] [ بِمَآ : اس پر جو ] [ اُنْزِلَ : اتارا گیا ] [ اِلَـیْکَ : آپ ﷺ کی طرف ] [ وَمَــآ : اور جو ] [ اُنْزِلَ : اتارا گیا ] [ مِنْ قَبْلِکَ : آپ ﷺ سے پہلے ] [ وَالْمُقِیْمِیْنَ : اور قائم رکھنے والے ہوتے ہوئے ] [ الصَّلٰوۃَ : نماز کے ] [ وَالْمُؤْتُوْنَ : اور پہنچانے و الے ] [ الزَّکٰوۃَ : زکوٰۃ کو ] [ وَالْمُؤْمِنُوْنَ : اور ایمان لانے والے ] [ بِاللّٰہِ : اللہ پر ] [ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ : اور آخری دن پر ]…
Read the full tafseer →اہل کتاب میں جو راسخ فی العلم ہیں وہ ایمان لے آئے ہیں
اس آیت میں یہ بتایا کہ سارے اہل کتاب ان صفات سے متصف نہیں ہیں جن کا ذکر اوپر ہوا۔ ان میں وہ لوگ بھی ہیں جو علم میں پختہ ہیں اصحاب بصیرت ہیں وہ سابقہ کتب الٰہیہ اور موجودہ کتاب الٰہی یعنی قرآن مجید پر ایمان لاتے ہیں نمازیں قائم کرتے ہیں۔ اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان لاتے ہیں۔ ان لوگوں کو ہم اجر عظیم عطا کریں گے جو ایمان اور اعمال صالحہ والوں کے لیے مقرر اور موعود ہے گو ایسے لوگ یہودیوں میں کم ہیں چند ہی افراد ایمان لائے مثلاً حضرت عبداللہ بن سلام اور ان کے ساتھی ؓ ۔ جس طرح کفر پر جمے رہنے والوں کے لیے عذاب الیم تیار فرمایا ہے اسی طرح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 160–162
تتمہ ذمائم یہود۔
قال اللہ تعالی، فبظلم من الذین۔۔۔ الی۔۔۔ عظیما۔
گزشتہ آیات میں یہود کی نافرمانیوں اور سرکشیوں کو بیان فرمایا اور اب ان آیات میں بھی ان کی چند نافرمانیوں اور سرکشیوں کا ذکر کرتے ہیں مثلا سود کھانا اور رشوت لینا اور خدا کی راہ سے روکنا اور لوگوں کا مال ناحق اپنے تصرف میں لانا اور ان شرارتوں کے علاوہ ان بعض عقوبتوں اور سزاؤں کا بھی ذکر کرتے ہیں کہ جو دنیا میں ان پر نازل ہوئیں من جملہ ان سزاؤں میں سے ایک سزایہ تھی کہ بہت سی حلال چیزیں ان کی نافرمانیوں کی وجہ سے ان پر حرام کردی گئیں جیسا کہ سورة انعام کی آیت میں اس کی تفصیل ہے، وعلی الذین ھادوا۔۔۔ الی۔۔۔ لصادقون۔ آیت۔ یعنی ان پر…
Read the full tafseer →108 یہ ان علماء اہل کتاب کیلئے بشارت ہے جو آخری پیغمبر اور آخری کتاب پر ایمان لے آئے تھے یہ پہلی زجروں سے متعلق ہے یعنی یہ یہود تو ایسی خباثتیں کرتے چلے آئے ہیں اور کرتے رہیں گے آنحضرت ﷺ کی رسالت پر ایمان نہیں لاتے اور قرآن کو نہیں مانتے مگر ان میں جو راسخ فی العلم علماء ہیں وہ تو سب کچھ مان چکے ہیں وہ جس طرح حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور تورات پر ایمان لاتے ہیں اسی طرح محمد ﷺ اور قرآن پر بھی ایمان لا چکے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 160–162
ربط آیات
گزشتہ کئی دروس سے اہل کتاب کی خرابیوں کا تذکرہو رہا ہے اور یہدرس بھی اسی سلسلہ کی کڑی ہے۔ اہل کتاب نے عناد کی وجہ سے کہا کہ اگر آپ اللہ کے نبی ہیں تو کتاب یکبارگی کیوں نہیں لے آتے ، جیسا کہ پہلے نبی لائے۔ اس اعتراض کا حقیقی جواب تو اگلے رکوع میں آئے گا ، تاہم گزشتہ درس میں ہے اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کو تسلی دی کہ آپ اہت کتاب کے فضول اعتراضات سے دل برداشتہ نہ ہوں ، اس ضدی قوم نے آپ سے پہلے انبیاء پر اس سے بھی بڑے بڑے سوال کیے۔ انہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) سے رویت الٰہی کا مطالبہ کیا ، اللہ تعالیٰ نے انہیں فوراً سزا دی اور ایک بجلی آئی جس نے انہیں جلا کر ہلاک کردیا ، پھر حضرت موسیٰ (علیہ…
Read the full tafseer →لٰكِنِ الرّٰسِخُوْنَ فِي الْعِلْمِ مِنْہُمْ وَالْمُؤْمِنُوْنَ يُؤْمِنُوْنَ بِمَآ اُنْزِلَ اِلَيْكَ وَمَآ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ وَالْمُقِيْمِيْنَ الصَّلٰوۃَ وَالْمُؤْتُوْنَ الزَّكٰوۃَ وَالْمُؤْمِنُوْنَ بِاللہِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ 0ۭ اُولٰۗىِٕكَ سَنُؤْتِيْہِمْ اَجْرًا عَظِيْمًا 162ۧ
رسخ
رُسُوخُ الشیء : ثباته ثباتا متمکّنا، ورَسَخَ الغدیر : نضب ماؤه، ورَسَخَ تحت الأرض، والرَّاسِخُ في العلم : المتحقّق به الذي لا يعرضه شبهة . فَالرَّاسِخُونَ في العلم هم الموصوفون بقوله تعالی: الَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ ثُمَّ لَمْ يَرْتابُوا [ الحجرات/ 15] ، وکذا قوله تعالی:
لكِنِ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 160–162
ترکیب : فبظلم ب حرمنا سے متعلق ہے وبصدھم متعلق ہے حرمنا سے واخذھم اس پر معطوف اور اسی طرح اکلہم اور یہ سب مصادر فاعل کی طرف مضاف ہیں۔ الراسخون مبتداء فی العلم اس سے متعلق منہم راسخون سے حال والمؤمنون معطوف ہے الراسخون پر اور خبر اس کی یؤمنون ہے وقیل سنؤتیھم والمقیمین منصوب علی المدح ہے ای اعنی المقیمین وقیل انہ معطوف علی مافیہ وما فیہ والمؤمنون معطوف علیہ المؤمنون معطوف پھر یہ الراسخون پر معطوف ہیں۔
تفسیر : یہود کے اوصاف ذمیمہ کے بعد جو کچھ ان پر سزائیں نازل ہوئیں ان کا ذکر کیا جاتا ہے۔ منجملہ اور سزائوں کے ایک یہ بھی تھی کہ ان پر شریعت کا سخت گراں بوجھ ڈالا گیا۔ بہت سی حلال چیزیں حرام…
Read the full tafseer →لٰکِنِ الرّٰسِخُوْنَ فِی الْعِلْمِ مِنْہُمْ وَالْمُؤْمِنُوْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِمَآ اُنْزِلَ اِلَیْکَ وَمَآ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِکَ وَ الْمُقِیْمِیْنَ الصَّلٰوۃَ وَالْمُؤْتُوْنَ الزَّکٰوۃَ وَالْمُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰہِ وَالْیُوْمِ الْاٰخِرِ ط اُولٰٓئِکَ سَنُؤْتِیْہِمْ اَجْرًا عَظِیْمًا ع
” البتہ ان میں جو علم میں راسخ اور صاحب ایمان ہیں وہ ایمان لاتے ہیں اس چیز پر جو تم پر اتاری گئی اور جو تم سے پہلے اتاری گئی۔ اور خاص کر نماز قائم کرنے والے اور زکوۃ دینے والے اور اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھنے والے ‘ یہ لوگ ہیں جن کو ہم اجر عظیم عطا کریں گے۔ “ (النسآء : 162)
قرآن کریم کی تنقید میں عدل
قرآن کریم…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : یہودیوں سے اچھے لوگوں کا استثنیٰ اور ان کی خوبیوں کا ذکر۔
قران مجید کے اسلوب بیان اور انصاف پسندی پر قربان جائیں جو نہی یہود و نصاریٰ کے جرائم کی فہرست اور انکے مذہبی اور سیاسی راہنماؤں کے گھناؤنے کردار کا ذکر کرتا ہے۔ معاً ان کے نیک علماء اور زعما کے اچھے کردار کی تحسین کرتا ہے کہ بیشک انکی اکثریت برے لوگوں پر مشتمل ہے لیکن یہ تمام کے تمام ایسے نہیں ان میں ایسے لوگ بھی ہیں اور ہوں گے کہ جب بھی ان کے سامنے حقائق منکشف ہوتے ہیں تو وہ مذہبی تعصب اور گروہ بندی کی دیواریں توڑ کر حلقہ اسلام میں داخل ہوجاتے ہیں اور تمام اعمال بجا لاتے ہیں جن کا اسلام انہیں کرنے کا حکم دیتا ہے۔…
Read the full tafseer →صفات کاملین :
آیت 162 : لٰکِنِ الرّٰسِخُوْنَ فِی الْعِلْمِ (مگر جو علم میں پختہ ہیں) یعنی دین میں جمے رہنے والے۔ متقین جیسے عبداللہ بن سلام ؓ اور ان جیسے دیگر : مِنْہُمْ (ان میں سے) ہم سے مراد اہل کتاب ہیں۔ وَالْمُؤْمِنُوْنَ (اور مؤمن) یعنی ان میں سے ایمان والے اور مہاجرین وانصار کے مومن یُؤْمِنُوْنَ (وہ ایمان لانے والے ہیں)
نحوی تحقیق :
الراسخون مبتداء اور یؤمنون اس کی خبر ہے۔ بِمَآ اُنْزِلَ اِلَیْکَ (جو آپ پر اتارا گیا) یعنی قرآن : وَمَآ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِکَ (اور وہ جو اتارا گیا آپ سے پہلے) یعنی تمام کتب منزلہ۔ وَالْمُقِیْمِیْنَ الصَّلٰوۃَ (اور وہ جو نماز ادا کرنے والے ہیں)
نحو : یہ…
Read the full tafseer →162۔ (آیت)” لکن الراسخون فی العلم منھم “۔ اہل کتاب میں سے کوئی بھی اسی صفت کا نہیں تھا لیکن راسخین جو علم کے اعلی درجہ تک پہنچنے والے ہیں ، اور بصیرت رکھنے والے ہیں اس سے مراد علماء یہود میں سے جو اسلام لائے ، مثلا عبداللہ بن سلام اور ان کے ساتھی ۔ (آیت)” والمؤمنون “ اس سے مراد مہاجر و انصاری ہیں ۔ (آیت)” یؤمنون بما انزل الیک “۔ اس سے مراد قرآن ہے (آیت)” وما انزل من قبلک “۔ نازل شدہ تمام کتابیں (آیت)” والمقیمین الصلوۃ “۔ اس طرح لکھنے کی وجہ میں آئمہ مفسرین رحمہم اللہ کے چند اقوال ہیں ۔
حضرت عائشہ صدیقہ ؓ اور ابان بن عثمان ؓ تعالیٰ عنہ کا قول منقول ہے کہ یہاں کاتب سے غلطی واقعی ہوئی ، اس کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 160–162
(160 ۔ 162) ۔ یہود کی طرح طرح کی سرکشی کے سبب سے حلال چیریں حرام ہوگئیں ان کی تفصیل سورة انعام میں آئے گی۔ کہ گائے بکری کی چربی وغیرہ یہود پر ان کی سرکشی کے سبب سے یہ چیزیں حرام ہوئی تھیں لیکن مشہور تفسیروں میں یہ تذکرہ کہیں نہیں ہے کہ کب اور کس نبی کے عہد میں یہ چیزیں یہود پر حرام ہوئیں۔ اس واسطے بعض مفسروں نے یہ کہا کہ خاص کسی نبی کے وقت میں یہ چیزیں حرام نہیں ہوئیں بلکہ جیسے جیسے یہود کی شرارت بڑھتی گئی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد مختلف زمانوں میں یہ چیزیں ان پر حرام ہوتی گئیں۔ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کے قول کے مطابق علم پر ثابت قدم اور ایمان والے وہ لوگ ہیں جو یہود میں سے شریعت محمدی…
Read the full tafseer →آیت 162
جب اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب کے معایب بیان کئے، تو ان لوگوں کا ذکر کر رہا ہے جو ان میں سے قابل تعریف ہیں۔ (لکن الرسخون فی العلم منھم والمومنون) ” مگر جو لوگ ان میں سے علم میں پکے ہیں اور مومن ہیں “ یعنی وہ لوگ جن کے دلوں میں علم مضبوط اور ایقان راسخ ہے اور اس کے ثمرہ میں انہیں ایمان کامل حاصل ہوتا ہے۔ (بما انزل الیک وما انزل من قبلک) ” وہ اس کتاب پر ایمان لاتے ہیں جو آپ ﷺ پر اتاری گئی اور ان کتابوں پر جو آپ سے پہلے اتاری گئیں۔ “ یہ ایمان انہیں اعمال صالحہ کا پھل عطا کرتا ہے، مثلاً نماز قائم کرنا اور زکوۃ ادا کرنا، یہ دونوں سب سے افضل اعمال ہیں، کیونکہ یہ دونوں معبود کے لئے اخلاص اور اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 162–170
قول باری ہے لکن الراسخون فی العلم منھم۔ مگر ان میں سے جو لوگ پختہ علم رکھنے والے ہیں) قتادہ سے مروی ہے کہ لفظ ” شکن “ یہاں استثناء کے معنی دے رہا ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ لفظ الا اور لفظ لکن کبھی نفی کے بعد ایجاب یا ایجاب کے نفی میں ایک جیسے ہوتے ہیں ۔ الا کا اطلاق کر کے اس سے لکن مراد لیا جاتا ا ہے جس طرح یہ قول باری ہے وماکان لمومن ان یقتل مومنا الاخطا۔ اس کے معنی ہیں لیکن اگر وہ اسے خطاء قتل کر دے تو ایک غلام آزاد کرنا ہوگا۔ اس جگہ الا کو لکن کی جگہ لایا گیا تاہم لکن حرف الا سے اس چیز میں جدا ہے کہ الا کے ذریعے کل میں سے بعض کو خارج کردیا جاتا ہے اور لکن ایک کے بعد بھی ہوسکتا ہے مثلا آپ یہ…
Read the full tafseer →420 نور علم کی عظمت شان : سو نور علم دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفرازی کیلئے شہ کلید ہے اور نور علم سے ان کے سینے معمور ومنور ہیں۔ پس نہ تو وہ ظن وتخمین کے پیچھے چلتے ہیں، اور نہ حق کے مقابلے میں مال و منال اور دنیاوی مناصب و جاہ کا کوئی ثمن قلیل (گھٹیا مول) قبول کرتے ہیں، بلکہ وہ نور علم و عرفان کی روشنی میں راہ حق و صواب پر مستقیم و جادہ پیما رہتے ہیں۔ سو ایسے خوش نصیب لوگ اس طرح کے ہولناک انجام سے محفوظ اور رب تعالیٰ کی نعمتوں اور عنایتوں سے سرفراز اور مالا مال ہوں گے۔ سو حق اور حقیقت کے علم سے سرفرازی و بہرہ مندی اور اس میں پختگی دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفرازی کیلئے شہ کلید ہے۔ پس…
Read the full tafseer →صالحین کے لیے انعام
تشریح : اس آیت میں جیسا کہ اوپر آیت میں بیان کیا گیا ہے کہ ان میں سے جو لوگ نیک ہیں تمام نیکی کے کام کرتے ہیں ان کو یقیناً آخرت میں اجر عظیم دیا جائے گا۔ سیدنا عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے جنگ کروں یہاں تک کہ وہ اس بات کی گواہی دیں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں، نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں، پس اگر وہ ایسا کرلیں تو وہ اپنا جان و مال مجھ سے محفوظ کرلیں گے سوائے حق اسلام کے اور ان کا حساب اللہ تعالیٰ کے سپرد ہے۔ (صحیح مسلم)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 153–162
رکوع نمبر 22 ۔ آیات 153 تا 162 ۔
بے عملی کے بہانے :
کج بحثی کرنا یہود کی پرانی عادت ہے اور اس بدبخت قوم کی تاریخ ہی یہ ہے کہ اللہ کے بندوں کو اللہ کے دین اور اللہ کے رسولوں کو انہوں نے بہت ایذاء پہنچائی اور ہمیشہ الٹ بات سوچتے اور کہتے بھی ہیں کرتے بھی الٹ ہیں۔ اب آپ ﷺ سے سوال کرتے ہیں آپ آسمان سے لکھی لکھائی کتاب لے کر آئیں پھر ہم ایمان لائیں گے مگر خود موسیٰ (علیہ السلام) سے جو طور پر سے لکھی لکھائی کتاب لے کر آگئے تھے انہوں نے اس سے بھی بہت بڑا سوال کردیا تھا اور وہ تھا کہ ہم کو کھلم کھلا اللہ کی زیارت کرا دیں جب مانیں گے اس زیادتی پر ان پر برق گری اور تباہ ہوگئے مگر موسیٰ (علیہ السلام) کی…
Read the full tafseer →ف 5 یعنی اندھی تقلید نہیں کرتے۔ (وحیدی) یہ مومنین اہل کتاب کو بشارت ہے جو حضرت موسیٰ ٰ ( علیہ السلام) کے بعد آنحضرت ﷺ پر بھی ایمان لے آئے (کبیر اس آیت میں والمتعیمین الصلوٰۃ منصوب علی ٰ المدح ہے (کبیر )
Read the full tafseer →(4ـ:162) لکن الراسخون فی العلم منہم۔ میں ہم ضمیر جمع مذکر غائب آیہ 160 میں الذین ھادوا کی طرف راجع ہے۔
یؤمنون کا فاعل راسخون فی العلم اور المؤمنون ہیں۔
المقیمین الصلوۃ۔ نماز کو عزم و اہتمام کے ساتھ پڑھنے والے۔ مقیمین اسم فاعل جمع مذکر منصوب۔
المقیمین کا عطف المؤمنون پر ہے۔ نحوی قاعدہ کے مطابق المقیمون ہونا چاہیے تھا اسے اپنے معطوف علیہ کے خلاف اعراب کیوں دیا گیا۔ اس کے متعلق علماء نے متعدد جواب دئیے ہیں۔ لیکن سب سے بہتر وہ توجیہ ہے جو سیبویہ نے کی ہے کہ مقیمین پر نصب تعظیم کی وجہ سے ہے۔ اور اس نے اس کی کئی مثالیں بھی دی ہیں وھذا اصح ما قیل فیہ (قرطبی) ۔
اولئک سنؤتیہم اجرا عظیما۔ (یہی لوگ…
Read the full tafseer →آیت نمبر 162
لغات القرآن : الراسخون، پختہ ، پکے۔ المقیمین، قائم کرنے والے۔ الموتون، دیتے ہیں۔ سنئوتیھم، جلد ہی ہم ان کو دیں گے۔
تشریح : گذشتہ آیات میں یہودیوں کے سواداعظم کا ذکر تھا اور جو عذاب الیم کا وعدہ تھا وہ ان ہی کے لئے تھا۔ لیکن اس قوم میں گنے چنے افراد ایسے بھی نکل آئے (مثلاً عبد اللہ بن سلام ؓ جو دنیا کے علم میں نہیں بلکہ دین کے علم میں پختہ تھے۔ جو اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان لاکر مومن بن گئے۔ جنہوں نے نماز قائم کی اور زکوٰۃ ادا کرتے رہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان سے بڑے انعام کا وعدہ کر رکھا ہے۔ اور اللہ اپنے نیک بندوں کو اسی طرح اجر عظیم عطا فرماتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 160–162
یہود کی سرکشی کا انجام ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ یہود کی طرح طرح کی سرکشی کے سبب سے حلال چیزیں ان پر حرام کردی گئیں (جن کی تفصیل سورة انعام میں آوے گی) اس کے علاوہ انہوں نے بہیتروں کو راہ حق سے روکا کہ توریت کے احکام اور جناب پیغمبر آخر الزماں ﷺ کے اوصاف پلٹ دئے ، اور وہ سود لینے لگے حالانکہ اس سے روک دی گئے تھے ۔ اور لوگوں کا مال ناحق کھانے لگے ، اور بنی اسرائیل میں جو بدنصیب منکر ہیں وہ حق بات پر غور نہیں کرتے ، ہاں ان میں جو ذی علم اور بالیاقت (اہلیت والے) لوگ ہیں وہ حق بات کو سن سمجھ کر تسلیم کرتے ہیں ۔ اسی طرح اہل ایمان یعنی مہاجرین اور انصار جو کہ اللہ تعالیٰ کی اتاری ہوئی کتاب یعنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 159–162
[101] مطلب یہ ہے کہ تمام اہل کتاب پر مرنے سے عین قبل رسالت مسیح کی حقیقت منکشف ہوجاتی ہے اور وہ مسیح پر ایمان لاتے ہیں مگر یہ وہ وقت ہوتا ہے جب ایمان لانا مفید نہیں ہوسکتا۔
[102] یعنی عیسیٰ (علیہ السلام) یہ بتلائیں گے کہ فلاں فلاں نے میری تصدیق کی تھی اور فلاں فلاں نے میری تکذیب۔
Read the full tafseer →(ف 2) اس آیت میں ان علمائے حق کا ذکر ہے جو گو یہود میں پیدا ہوئے مگر ان کا علم وتقوی انہیں حق کے تسلیم کرنے پر مجبور کرتا ہے اور وہ برابر اسلامی وظائف وعمل کو ادا کرتے ہیں ، ان کا ایمان ہے کہ قرآن جو محمد ﷺ پر نازل ہوا ہے خدا کی سچی کتاب ہے ۔
حل لغات :
صد : روکنا ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 162–163
ف 1 لیکن ان یہود میں سے وہ لوگ جو علم دین میں پختہ اور مضبوط ہیں اور جو ان میں ایمان لانے والے ہیں کہ یہ سب اس کتاب پر ایمان لائے ہیں جو آپ کی جانب بھیجی گئی ہے اور ان کتابوں پر بھی ایمان رکھتے ہیں جو آپ سے پہلے نازل ہوچکی ہیں یعنی دوسرے انبیاء پر جو نازل ہوئی ہیں جیسے توریت انجیل وغیرہ اور جو ان میں نماز کی پابندی کرنے والے ہیں اور جو ان میں زکوۃ کے ادا کرنے والے ہیں اور جو ان میں اللہ تعالیٰ پر اور آخرت کے دن یعنی قیامت پر اعتقاد رکھنے والے ہیں تو ایسے لوگوں کو ہم ضرور بہت بڑا اجر عطا فرمائیں گے۔ (تیسیر)
جو لوگ یہود میں سے مسلمان ہوگئے تھے جیسے عبداللہ بن سلام اور ثعلبہ بن سعید اور زید بن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 162–164
ف 1۔ مراد ان سے یہ حضرات اور ان کے امثال ہیں جیسے عبداللہ بن سلام واسید وثعلبہ ؓ اور آیت کا یہی شان نزول ہے اور آیت میں اجرکامل کی تعلیق ان امور مذکورہ پر مقصود ہے اور نفس اجرومطلق نجات صرف عقائد ضروریہ کی تصیح سے وابستہ ہے۔
Read the full tafseer →لیکن اے پیغمبر اسلام ! ان میں سے جو لوگ ‘ علم میں پکے ہیں :
253: اے ایمان لانے والو ! ” ان اہل کتاب کے “ اکثر علماء اور درویشوں کا حال یہ ہے کہ وہ لوگوں کے مال باطل طریقوں سے کھاتے اور انہیں اللہ کی راہ سے روکتے ہیں ان کے لئے درد ناک عذاب کی بشارت ہے۔ “ ( التوبہ 9:34) یعنی ظالم صرف یہی ستم نہیں کرتے کہ فتوے بیچتے ہیں ا۔ رشوتیں کھاتے ہیں وہ بھی دین و مذہ بےنام پر ‘ نذرانے لوٹتے ہیں ایسے ایسے مذہبی ضابطے اور مراسم ایجاد کرتے ہیں جس لوگ اپنی نجات ان سے خریدیں اور ان کا مرنا اور جینا اور شادی و غم کچھ بھی ان کے کھلائے بغیر نہ ہو سکے اور وہ اپنی قسمتیں بنانے اور بگاڑنے کا ٹھیکہ دار ان کو سمجھ لیں…
Read the full tafseer →The previous verses referred to Jews who adhered to their disbelief and obstinately continued practising what was blame-worthy. The present verse now cites those who were, no doubt, from among the People of the Book, but, when the Holy Prophet ﷺ came with his mission and they found in him, fully and unmistakably, all qualities the Last among Prophets was supposed to have according to the prophesies of their Scriptures, they believed in him - like Sayyidna ` Abdullah ibn Salam, Usayd and Tha'labah, may Allah be pleased with them all. The words of praise in this verse are for these blessed…
Read the full tafseer →203. Those well acquainted with the true teachings of the Scriptures, and whose minds are free from prejudice, obduracy, blind imitation of their forefathers and bondage to animal desires, will be disposed to follow those teachings. Their attitude is bound to be altogether different from the general attitude of those Jews apparently immersed in unbelief and transgression. Such people realize, even at first glance, that the Qur'anic teaching is essentially the same as that of the previous Prophets, and hence feel no difficulty in affirming it.
Read the full tafseer →