Explained with ayahs 150–152
کسی ایک بھی نبی کو نہ ماننا کفر ہے !
اس آیت میں بیان ہو رہا ہے کہ جو ایک نبی کو بھی نہ مانے کافر ہے، یہودی سوائے حضرت عیسیٰ اور حضرت محمد صلوات اللہ وسلامہ علیہما کے اور تمام نبیوں کو مانتے تھے، نصرانی افضل الرسل خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے سوا تمام انبیاء پر ایمان رکھتے تھے، سامری یوشع ؑ کے بعد کسی کی نبوت کے قائل نہ تھے، حضرت یوشع حضرت موسیٰ بن عمران ؑ کے خلیفہ تھے، مجوسیوں کی نسبت مشہور ہے کہ وہ اپنا نبی زردشت کو مانتے تھے لیکن جب یہ بھی ان کی شریعت کے منکر ہوگئے تو اللہ تعالیٰ نے وہ شریعت ہی ان سے اٹھا لی۔ واللہ اعلم۔ پس یہ لوگ ہیں جنہوں نے اللہ اور اس کے رسولوں میں تفریق کی یعنی…
Read the full tafseer →سورة النِّسَآء 178
یعنی کافر ہونے میں وہ لوگ جو نہ خدا کو مانتے ہیں نہ اس کے رسولوں کو اور وہ جو خدا کو مانتے ہیں مگر رسولوں کو نہیں مانتے، اور وہ جو کسی رسول کو مانتے ہیں اور کسی کو نہیں، سب یکساں ہیں۔ ان میں سے کسی کے کافر ہونے میں ذرہ برابر شک کی گنجائش نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 150–151
اسلامی مدار نجات ہے کسی مخالف مذہب میں نجات نہیں ہو سکتی
قرآن حکیم کے اس واضح فیصلہ نے ان لوگوں کی بےراہی اور کج روی کو پورا طرح کھول دیا ہے، جو دوسرے اہل مذاہب کے ساتھ روا داری میں مذہب اور مذہبی عقلاء کو بطور نوتہ اور ہبہ کے پیش کرنا چاہتے ہیں، اور قرآن و سنت کے کھلے ہوئے فیصلوں کے خلاف دوسرے مذہب والوں کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ مسلمانوں کے نزدیک نجات صرف اسلام میں منحصر نہیں، یہودی اپنے مذہب پر اور عیسائی اپنے مذہب پر رہتے ہوئے بھی نجات پاسکتا ہے، حالانکہ یہ لوگ سب رسولوں کے یا کم از کم بعض رسولوں کے منکر ہیں، جن کے کافر جہنمی ہونے کا اس آیت نے اعلان کردیا ہے۔
اس میں شبہ نہیں کہ اسلام غیر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 150–152
150۔ 152:۔ اِنَّ الَّذِيْنَ يَكْفُرُوْنَ بِاللّٰهِ وَرُسُلِهٖ وَيُرِيْدُوْنَ اَنْ يُّفَرِّقُوْا بَيْنَ اللّٰهِ وَرُسُلِهٖ وَيَقُوْلُوْنَ نُؤْمِنُ بِبَعْضٍ وَّنَكْفُرُ بِبَعْضٍ ۙ وَّيُرِيْدُوْنَ اَنْ يَّتَّخِذُوْا بَيْنَ ذٰلِكَ سَبِيْلًا۔ اُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْكٰفِرُوْنَ حَقًّا ۚ وَاَعْتَدْنَا لِلْكٰفِرِيْنَ عَذَابًا مُّهِيْنًا۔ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَرُسُلِهٖ وَلَمْ يُفَرِّقُوْا بَيْنَ اَحَدٍ مِّنْهُمْ اُولٰۗىِٕكَ سَوْفَ يُؤْتِيْهِمْ اُجُوْرَهُمْ ۭوَكَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا۔
اہل کتاب کٹر کافر ہیں : ان آیات میں اہل کتاب کی جو فرد قرار داد جرم بیان ہوئی ہے اس کے ہر جزو پر…
Read the full tafseer →151۔ 1 اہل کتاب کے متعلق پہلے گزر چکا ہے کہ وہ بعض نبیوں کو مانتے تھے اور بعض کو نہیں۔ جیسے یہود نے حضرت عیسیٰ ؑ و حضرت محمد رسول اللہ ﷺ اور عیسایؤں نے حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کا انکار کیا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا انبیاء (علیہم السلام) کے درمیان تفریق کرنے والے یہ پکے کافر ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 149–153
76: اشارہ یہ کیا جا رہا ہے کہ اگرچہ مظلوم کو شریعت نے یہ حق دیا ہے کہ وہ ظالم کے ظلم کی حد تک اس کی برائی کرے، لیکن اگر کوئی شخص مظلوم ہونے کے باوجود خطیہ اور علانیہ ہر حالت میں زبان سے ہمیشہ اچھی بات ہی نکالے، اور اپنا حق معاف کردے تو یہ اس کے لیے بڑے ثواب کا کام ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کی صفت بھی یہی ہے کہ وہ سزا پر قدرت رکھنے کے باوجود کثرت سے لوگوں کو معاف کردیتا ہے
Read the full tafseer →Explained with ayahs 150–151
یہودیوں کا دعوی یہ تھا کہ وہ اپنے نبیوں پر ایمان رکھتے ہیں لیکن وہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت محمد ﷺ کی رسالتوں کا انکار کرتے تھے ۔ جبکہ نصاری کا موقف یہ تھا کہ وہ صرف حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی رسالت پر ایمان لاتے تھے اور حضرت محمد ﷺ کی رسالت کے وہ بھی منکر تھے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو الہ بھی سمجھتے تھے ۔
قرآن کریم نے ان دونوں کے موقف پر سخت گرفت کی ۔ اور اللہ اور اس کے انبیاء ورسل پر ایمان لانے کا جامع تصور پیش فرمایا جس کا خلاصہ یہ تھا کہ اللہ اور اس کے رسولوں کے درمیان تفریق کرنا بھی غلط ہے اور خود اللہ کے تمام رسولوں کے درمیان فرق کرکے بعض پر ایمان لانا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 150–151
3 یہاں سے ذکر ہے یہود کا۔ چونکہ یہود میں نفاق کا مضمون بہت تھا اور آپ کے زمانہ میں جو منافق تھے وہ یہود تھے یا یہودیوں سے ربط اور محبت رکھنے والے اور ان کے مشورہ پر چلنے والے تھے اس لئے قرآن شریف میں اکثر ان دونوں فریق کا ذکر اکٹھا فرمایا ہے۔ آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ جو لوگ اللہ سے اور اسکے رسولوں سے منکر ہیں اور اللہ اور اس کے رسولوں میں فرق کرنا چاہتے ہیں یعنی اللہ پر ایمان لاتے ہیں اور رسولوں پر ایمان نہیں لاتے اور بعض رسولوں کو مانتے ہیں اور بعض کو نہیں مانتے اور مطلب یہ ہے کہ اسلام اور کفر کے بیچ میں ایک نیا مذہب اپنے لئے نکالیں ایسے ہی لوگ اصل اور ڈھیٹ کافر ہیں۔ ان کے لئے خواری اور ذلت کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 150–151
آیت 150 اِنَّ الَّذِیْنَ یَکْفُرُوْنَ باللّٰہِ وَرُسُلِہٖ وَیُرِیْدُوْنَ اَنْ یُّفَرِّقُوْا بَیْنَ اللّٰہِ وَرُسُلِہٖ
اکبر کے دین الٰہیکا بنیادی فلسفہ بھی یہی تھا کہ بس دین تو اللہ ہی کا ہے ‘ رسول ﷺ کی نسبت ضروری نہیں ‘ کیونکہ جب دین کی نسبت رسول کے ساتھ ہوجاتی ہے تو پھر دین رسول کے ساتھ منسوب ہوجاتا ہے کہ یہ دین موسیٰ علیہ السلام ہے ‘ یہ دین عیسیٰ علیہ السلام ہے ‘ یہ دین محمد ﷺ ہے۔ اگر رسولوں کا یہ تفرقی عنصر differentiating factor درمیان سے نکال دیا جائے تو مذاہب کے اختلافات کا خاتمہ ہوجائے گا۔ اللہ تو سب کا مشترک common ہے ‘ چناچہ جو دین اسی کے ساتھ منسوب ہوگا وہ دین الٰہی…
Read the full tafseer →200 یعنی یہ تیسرا گروہ بھی ایسے ہی پکا کافر ہے جیسے پہلے دو طرح کے لوگ پکے کافر ہیں ان میں کوئی فرق نہیں اور پکا کافر ہونے میں سب یکساں ہیں۔
Read the full tafseer →384 ۔ کہیں کوئی یہ نہ سمجھ لے کہ ایسے لوگوں کا مرتبہ کافروں سے تو بہرحال بہتر ہوگا، نہیں بلکہ یہ لوگ پکے کافر ہیں، (آیت) ” اولءٓک ھم الکفرون “۔ جملہ کی ترکیب خود ہی زور پیدا کرنے کے لئے ہے۔ (آیت) ” حقا “۔ کا اضافہ تاکید مزید کے لیے ہے۔ ای وھم الکاملون فی الکفر (کشاف) ای لاعبرۃ بایمانھم ھذا (بیضاوی) وھو تاکید لمضمون الجملۃ الخبریۃ (بحر) اولئک ھم الکافرون کفرا کاملا ثابتا حقا یقیناً (کبیر)
385 ۔ ایسے لوگوں کے خیالات ونظریات کی تہ میں اصلی روگ اپنی بڑائی کا ہوتا ہے۔ شعوری یا لاشعوری طور پر، بہرحال یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ ان کی عقل وحی الہی کے مقابلہ میں زیادہ وزن دار ہے۔ اور پیغمبروں سے (نعوذ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 148–151
آیت نمبر 148 تا 152
ترجمہ : اللہ کسی کی یہ بات پسند نہیں کرتا کہ کوئی کسی کی بدگوئی کرے یعنی بدگوئی پر سزا دے گا، البتہ مظلوم کو (بیان ظلم کی) اجازت ہے، یہ کہ اپنے ظالم کے ظلم کو افشا کرے اور اس کے لئے بد دعاء کرے، (تو اللہ اس افشاء ظلم پر مواخذہ نہ کرے گا) ، اور جو کچھ کہا جاتا ہے اللہ اس کو سننے والا ہے اور جو کچھ کیا جاتا ہے اس کو جاننے والا ہے، اور اگر تم اعمال نیک میں سے کوئی عمل اعلانیہ کرو یا اس کو چھپا کر کرو یا ظلم کو معاف کردو (تو بہت خوب ہے اسلئے کہ اللہ کی بھی یہی صفت ہے) کہ وہ (انتقام پر) قدرت رکھنے کے باوجود بڑا معاف کرنے والا ہے جو لوگ اللہ سے اور اس کے رسول سے کفر کرتے ہیں اور…
Read the full tafseer →اولئک ہم الکفرون حقا ایسے لوگ یقیناً کافر ہیں۔ یعنی پورے کافر ہیں کیونکہ ایمان و کفر کے درمیان کوئی وسطی چیز نہیں اور اللہ پر ایمان کی تکمیل اس وقت تک نہیں ہوتی جب تک سب پیغمبروں کو نہ مانا جائے اور جو کچھ انہوں نے (اللہ کی طرف سے) مجمل و مفصل پہنچایا ہے اس کی تصدیق نہ کی جائے۔ تمام انبیاء کے دین میں حقانیت مشترک ہے سب حق ہیں اور حق کے علاوہ سوائے گمراہی کے اور کیا ہوسکتا ہے۔
واعندنا للکفرین عذابا مہینا اور کافروں کے لئے ہم نے ذلیل کن سزا تیار کر رکھی ہے۔ انہی کافروں میں سے یہودی بھی ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 150–151
(150۔ 151) یعنی کعب اور اس کے ساتھی نبوت اور اسلام میں فرق چاہتے ہیں اور بعض کتابوں اور بعض رسولوں پر ایمان لاتے اور بعض کا انکار کرتے ہیں اور یہ چاہتے ہیں کہ کفر و ایمان کے بیچ ایک نیا مفاد پرستانہ راستہ نکال لیں، ہم نے ان یہود وغیرہ کے لیے آخرت میں سخت ترین عذاب تیار کر رکھا ہے۔
Read the full tafseer →اُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْكٰفِرُوْنَ حَقًّا ۚ: یعنی ان لوگوں کے کافر ہونے میں کسی قسم کا شک و شبہ نہیں۔”حَقًّا“ مصدر محذوف کی تاکید ہے۔ (کبیر)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 150–151
آیت نمبر : 150 تا 151۔
اس آیت میں تین مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر : (1) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” ان الذین یکفرون “۔ پہلے مشرکین ومنافقین کا ذکر فرمایا تو اب اہل کتاب میں سے کفار کا ذکر فرمایا، کیونکہ انہوں نے حضرت محمد ﷺ کا انکار کیا تھا، اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا کہ محمد ﷺ کا انکار تمام انبیاء کا انکار ہے، کیو کہ ہر نبی نے اپنی قوم کو حضرت محمد ﷺ اور تمام انبیاء پر ایمان لانے کا حکم فرمایا۔ (آیت) ” یریدون ان یفرقوا بین اللہ ورسلہ “۔ کا معنی یہ ہے اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے اور اس کے رسل پر ایمان لانے میں فرق کرنا، اللہ تعالیٰ نے یہ بیان فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسل پر ایمان لانے میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 150–152
(1) عبد بن حمید و ابن جریر نے قتادہ (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ یہ لوگ یہودی اور نصرانی اللہ کے دشمن ہیں یہودی تورات اور موسیٰ پر ایمان لائے اور انجیل اور عیسیٰ کا انکار کیا (اسی طرح) نصرانی انجیل اور عیسیٰ پر ایمان لائے اور قرآن اور محمد ﷺ کا انکار کیا انہوں نے یہودیت اور نصرانیت کو اپنا لیا جو (دونوں کی اپنی طرف سے) اختراع ہیں (اور) اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہیں ہیں اور لوگوں نے اسلام کو چھوڑا حالانکہ یہی اللہ کا دین ہے جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں کو بھیجا۔
امام ابن جریر (رح) نے سدی اور ابن جریج رحہما اللہ سے اسی طرح روایت کیا۔
Read the full tafseer →[ اُولٰٓئِکَ : وہ لوگ ] [ ہُمُ الْکٰفِرُوْنَ : ہی کافر ہیں ] [ حَقًّا : یقینا ] [ وَاَعْتَدْنَا : اور ہم نے تیار کیا ] [ لِلْکٰفِرِیْنَ : کافروں کے لیے ] [ عَذَابًا مُّہِیْنًا : ایک رسوا کرنے والا عذاب ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 150–152
اللہ تعالیٰ پر اور اس کے تمام رسولوں پر ایمان لانا فرض ہے
صاحب معالم التنزیل صفحہ 494: ج 1 میں لکھتے ہیں کہ آیت (اِنَّ الَّذِیْنَ یَکْفُرُوْنَ باللّٰہِ وَ رُسُلِہٖ ) یہودیوں کے بارے میں نازل ہوئی یہ لوگ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لائے اور توریت پر ایمان لائے اور عزیر (علیہ السلام) پر ایمان لائے اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ پر ایمان نہ لائے ان کے ساتھ کفر کیا اور انجیل اور قرآن کے بھی منکر ہوئے۔ ان لوگوں نے ایسا راستہ نکالا کہ اللہ پر تو ایمان لائیں اور اس کے رسولوں میں سے بعض پر ایمان لائیں اور بعض کا انکار کریں۔
جو شخص صرف اللہ پر ایمان لائے اور کسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 148–152
حکم سنی ام۔ جو از شکایت ظالم برائے مظلوم وفضیلت عفو۔
قال تعالیٰ لایحب اللہ الجھر بالسوء۔۔۔ الی۔۔۔ قدیرا۔
ربط) گزشتہ آیات میں منافقین کے جبلی کج طبعی اور آیات خداوندی میں ان کی طعنہ زنی اور عیب جوئی اور مسلمانوں پر ان کے مظالم بیان کیے گئے اب ان آیات میں یہ نصیحت فرماتے ہیں کہ اللہ بڑا حلیم وکریم اور ستا رالعیوب ہے کسی کا عیب ظاہر کرنا اور کسی کی برائی کرنا اور کسی کا پردہ فاش کرنا پسند نہیں کرتا اسی طرح ہم کو بھی حلم اور پردہ پوشی سے کام لینا چاہیے ہاں مگر جس کسی پر ظلم ہوا ہو سو وہ مظلوم اگر ظالم کی برائی یا زیادتی کا افشا کرے تو کچھ مضائقہ نہیں لیکن اگر معاف کردے تو وہ اور بہتر ہے اس لیے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 150–151
98 یہ اہل کتاب یعنی یہود کے لیے زجر ہے۔ وَیُرِیْدُوْنَ میں واؤ تفسیریہ ہے یعنی وہ چاہتے ہیں کہ اللہ پر تو ایمان لے آئیں لیکن اس کے تمام رسولوں پر ایمان نہ لائیں وَیَقُوْلُوْنَ نُوْمِنُ بِبَعْضٍ وَ نَکْفُرُ بِبَعْضٍ بلکہ وہ کہتے ہیں ہم بعض رسولوں پر تو ایمان لاتے ہیں اور بعض کو نہیں مانتے یہ لوگ ایمان اور کفر کے درمیان ایک راستہ نکالنا چاہتے ہیں لیکن یاد رکھو یہ لوگ پکے کافر ہیں ان کے کفر میں رائی برابر شک و شبہ کی گنجائش نہیں اور وہ بالکل ان کافروں کی طرح پورے اور کامل کافر ہیں جو تمام پیغمبروں کے منکر ہیں والمعنی اولئک ہم الکافرون کفرا کاملا ثابتا حقا یقینا (کبیر ج 3 ص 497) وَ اَعْتَدْنَا سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 148–152
ربط آیات : گزشتہ درس میں اللہ تعالیٰ نے منافقوں کی بعض کارگزاریوں کا تذکرہ فرمایا تھا ، خاص طور پر ان کی کفار کے ساتھ دوستی کی مذمت بیان کی گئی تھی اور ساتھ ساتھ مومنوں کو یہ بات سمجھائی گئی تھی کہ وہ کافروں کو کسی صورت میں بھی اپنا دلی دوست نہ بنائیں۔ اللہ تعالیٰ نے یہ بھی واضح کیا کہ منافقوں کا کفار کے ساتھ دوستانہ حصول عزت کے لئے ہوتا ہے ، مگر انہیں کبھی عزت حاصل نہیں ہوسکتی کیونکہ یہ تو ساری کی ساری اللہ تعالیٰ کے پاس ہے جسے وہ عزت نہ دینا چاہے اسے دنیا میں کہیں عزت نصیب نہیں ہوسکتی۔ فرمایا عزت کا مالک تو اللہ ہے اور پھر دنیا میں سب سے زیادہ عزت والا اللہ کا رسول ہے اور اس کے بعد کامل…
Read the full tafseer →اُولٰۗىِٕكَ ہُمُ الْكٰفِرُوْنَ حَقًّا 0ۚ وَاَعْتَدْنَا لِلْكٰفِرِيْنَ عَذَابًا مُّہِيْنًا 151
كفر
الكُفْرُ في اللّغة : ستر الشیء، ووصف اللیل بِالْكَافِرِ لستره الأشخاص، والزّرّاع لستره البذر في الأرض،
وأعظم الكُفْرِ
: جحود الوحدانيّة أو الشریعة أو النّبوّة، والکُفْرَانُ في جحود النّعمة أكثر استعمالا، والکُفْرُ في الدّين أكثر، والکُفُورُ فيهما جمیعا قال : فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99]
( کر ) الکفر
اصل میں کفر کے معنی کیس چیز کو چھپانے کے ہیں ۔ اور رات کو کافر کہا جاتا ہے کیونکہ وہ تمام چیزوں کو چھپا لیتی ہے ۔ اسی طرح کا شتکار چونکہ زمین کے اندر بیچ کو چھپاتا ہے ۔ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 148–152
ترکیب : بالسوء ‘ الجہر سے متعلق ہے ای لایحب أن یجھر بالسوء من القول بیان ہے السوء کا الامن استثناء منقطع ہے موضع نصب میں بعض کہتے ہیں متصل ہے اے لا یحب ان یجھر بالسوء احد من ظلم فلا باس علیہ ان یخبر عن ظلم ظالمہ ویدعوا علیہ عند الحکام حقا مفعول مطلق ای حق ذلک حقا اور ممکن ہے کہ حال ہو ای اولئک ھم الکافرون غیر شک۔
تفسیر : منافقوں اور گنہگاروں کو توبہ و استفغار کرنے اور خدا کی طرف رجوع کرنے کا اس خوبی اور عمدہ پیرایہ سے بیان ہوا تھا کہ جس سے طبائعِ سلیمہ پر عمدہ اثر پڑتا ہے مگر بعض لوگ ان کے ایمان لانے اور خدا کی طرف رجوع کرنے کے بعد بھی ان کے عیوب گذشتہ بیان کرکے طعن و طنز کیا کرتے تھے اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 150–152
اِنَّ الَّذِیْنَ یَکْفُرُوْنَ بِاللّٰہِ وَ رُسُلِہٖ وَ یُرِیْدُوْنَ اَنْ یُّفَرِّقُوْا بَیْنَ اللّٰہِ وَ رُسُلِہٖ وَ یَقُوْلُوْنَ نُؤْمِنُ بِبَعْضٍ وَّ نَکْفُرُ بِبَعْضٍ لا وَّیُرِیْدُوْنَ اَنْ یَّتَّخِذُوْا بَیْنَ ذٰلِکَ سَبِیْلًا لا اُولٰٓئِکَ ہُمُ الْکٰفِرُوْنَ حَقًّا ج وَاَعْتَدْنَا لِلْکٰفِرِیْنَ عَذَابًامُّہِیْنًا وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰہِ وَ رُسُلِہٖ وَ لَمْ یُفَرِّقُوْا بَیْنَ اَحَدٍ مِّنْہُمْ اُولٰٓئِکَ سَوْفَ یُؤْتِیْہِمْ اُجُوْرَہُمْ ط وَکَانَ اللّٰہُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا ع
” بیشک جو لوگ کفر کرتے ہیں اللہ اور اس کے رسولوں کے ساتھ اور چاہتے ہیں کہ فرق کریں اللہ اور اس کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 150–151
فہم القرآن
ربط کلام : منافقوں کے بعد کفار کی ایک اور قسم اور ان کے کفر کا بیان۔
یہاں کفار کے ایسے کفر کی نشاندہی کی گئی ہے جس سے کچھ لوگ مخلص مسلمانوں کو مغالطہ دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ اگر کوئی شخص نبی آخر الزمان ﷺ یا کسی ایک نبی کا انکار کرتا ہے تو اسے اسلام سے خارج نہیں سمجھنا چاہیے ایسے لوگ بھول جاتے ہیں کہ ایمان کا پہلا اور آخری تقاضا یہ ہے کہ ہر حال میں اللہ تعالیٰ کا حکم تسلیم کیا جائے۔ اللہ تعالیٰ نے جس ایمان کا انسان سے مطالبہ کیا ہے اس کے کئی اجزاء ہیں جسے شرعی اصطلاح میں ایمان مفصّل کہا جاتا ہے جب تک ایمان کے تمام اجزاء کو تسلیم نہیں کیا جاتا کسی آدمی کو ایمان دار کہلوانے کا حق…
Read the full tafseer →آیت 151 : اُولٰٓئِکَ ہُمُ الْکٰفِرُوْنَ (ایسے لوگ یقینا کافر ہیں) یعنی وہ مکمل کافر ہیں کیونکہ ایک کا انکار تمام کا انکار ہے۔ حَقًّا : (پکے)
نحوی نکتہ :
نحو : یہ گزشتہ جملہ کے مضمون کی تاکید ہے۔ جیسے کہتے ہیں : ہذا عبداللہ حقًا یعنی یہ پکی بات ہے قطعاً یا یہ کافرین کے مصدر کی صفت ہے تقدیر یہ ہے : ہم الذین کفروا کفرًا حقا ثابتاً یقینا لا شک فیہ۔ تاکید اس لئے لائے تاکہ ظاہر کردیا جائے کہ وہ کفر میں کمال کو پہنچے ہوئے ہیں۔ تقدیر عبارت کا ترجمہ وہ وہی لوگ ہیں جو کہ پکے کافر ہیں ایسا کفر جو ثابت ہونے والا ایسا یقینی ہے کہ جس میں شک نہیں۔
وَاَعْتَدْنَا لِلْکٰفِرِیْنَ عَذَابًا مُّہِیْنًا (اور ہم نے…
Read the full tafseer →151۔ (آیت)” اولئک ھم الکافرون حقا “۔ ان کا کفر مستحق ہوگیا کہ بعض چیزوں کا انکار کردینا تمام چیزوں کا انکار کردینا ہے۔ (آیت)” واعتدنا للکافرین عذابا مھینا “۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 150–152
(150 ۔ 152) ۔ منافقوں کے ذکر کے بعد ان آیتوں میں یہود کا ذکر ہے۔ قرآن شریف میں اکثر جگہ منافقوں کا اور یہود کا ذکر اس لئے ساتھ آیا ہے کہ منافقوں کی اور یہود کی حالت ملتی جلتی ہے کیونکہ جس طرح منافق لوگ ظاہر میں اپنے آپ کو اسلام کا پابند کہتے ہیں اور حقیقت میں اسلام کے پابند نہیں ہیں۔ بہت سی آیتیں تورات کی انہوں نے بدل ڈالی ہیں۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ بدسلوکی انہوں نے کی وہ بالکل تورات کے برخلاف ہے تورات کے موافق نبی آخر الزماں کا پہلے انہیں اقرار تھا۔ لیکن نبی آخر الزمان کے پیدا ہونے کے بعد ان کی نبوت کے منکر ہوگئے جو ان کا انکار تورات کے برخلاف ہے۔ عبادہ بن صامت ؓ کی صحیحین میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 148–151
آیت 149
اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ وہ اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ کوئی علانیہ بری بات کہے، یعنی اللہ تعالیٰ اس شخص سے سخت ناراض ہوتا ہے اور اس پر سزا دیتا ہے۔ اس میں وہ تمام برے اقوال شامل ہیں جو تکلیف دہ اور صدمہ پہنچانے والے مثلاً گالی گلوچ، قذف اور سب دشتم کرنا۔ اس لئے کہ ایسے تمام اقوال سے منع کیا گیا ہے جنہیں اللہ تعالیٰ ناپسند کرتا ہے۔ اس آیت کریمہ کا مفہوم مخالف یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اچھی بات کو پسند کرتا ہے مثلاً ذکر الٰہی اچھا اور نرم پاکیزہ کلام، وغیرہ (الا من ظلم) ” مگر وہ جو مظلوم ہو۔ “ یعنی جس شخص پر ظلم کیا گیا ہو وہ ظلم کرنے والے کے لئے بد دعا کرسکتا ہے، شکایت کرسکتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 148–160
مظلوم کی آہ سے بچو
قول باری ہے لایحب اللہ الجھربالتوء من القول الامن ظلم، اللہ اس کو پسند نہیں کرتا کہ آدمی بدگوئی پر زبان کھولے، الا یہ کہ کسی پر ظلم کیا گیا ہو۔ حضرت ابن عباس ؓ اور قتادہ کا قول ہے ” الایہ کہ مظلوم اپنے ظالم کے لئے بددعا کرے “۔ مجاہد سے ایک روایت ہے ” الایہ کہ مظلوم ظالم کی طرف سے ڈھائے جانے والے ظلم کی لوگوں کو اطلاع دے “۔ حسن اور سدی کا قول ہے ” الایہ کہ مظلوم ظالم سے اپنا بدلہ لے لے “۔ فرات بن سلیمان نے ذکر کیا ہے کہ عبدالکریم سے اس قول باری کے معنی پوچھے گئے تو انہوں نے کہا ” یہ وہ شخص ہے جو تمہیں برا بھلا کہتا ہے اور جواب میں تم بھی اسے برا بھلا کہہ دیتے ہو لیکن اگر وہ…
Read the full tafseer →390 کسی بھی رسول کا انکار کفر ہے : سو رسولوں کا انکار کرنے والے ایسے لوگ پکے کافر ہیں۔ اور جس ایمان کے یہ دعویدار ہیں وہ معتبر نہیں۔ کیونکہ وہ شرعی ایمان نہیں کہ شرعی ایمان کا تقاضا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے سب ہی رسولوں پر سچا پکا ایمان لایا جائے۔ سو کسی بھی رسول کا انکار کفر ہے۔ اور ایسے لوگ جو اپنے زعم اور گھمنڈ کے مطابق بعض رسولوں پر ایمان رکھتے ہیں اور بعض کا انکار کرتے ہیں وہ اپنے آپ کو جو چاہیں سمجھیں مگر وہ پکے کافر ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
391 کافروں کیلئے رسواء کن عذاب : تاکہ پیغمبروں کے ساتھ کفر کر کے انہوں نے توہینِ حق کے جس سنگین جرم کا ارتکاب کیا تھا اس کا ان کو پورا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 150–151
مکمل کفر اور اس کی سزا
تشریح : ان آیات میں کفار کے کفر کی خوب وضاحت کی گئی ہے کیونکہ وہ کہتے ہیں ہم کچھ رسولوں پر ایمان لاتے ہیں کچھ پر ایمان نہیں لاتے گویا وہ اپنی طرف سے ایک نیا دین بنانا چاہتے ہیں۔ کیونکہ اسلام میں ہرگز اجازت نہیں کہ کچھ رسولوں کو مانو اور کچھ کو نہ مانو۔ تو اللہ رب العزت فرماتے ہیں یہ لوگ پکے کافر ہیں اور ان کے لیے ہم نے ایسی سزا تیار کرکے رکھی ہے جو ان کو ذلیل و خوار کر دے گی۔ کیونکہ اللہ پر ایمان لانا اس کے رسول پر اور ان تمام رسولوں پر جو پہلے گزر چکے نیز ان تمام کتابوں پر ایمان لانا جو ان تمام رسولوں پر نازل کی گئیں اور روز آخرت پر ایمان لانا، جو شخصان میں سے کسی ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 142–152
رکوع نمبر 21 ۔ آیات 142 تا 152 ۔ اسرار و معارف :
منافقین درحقیقت اللہ کو دھوکا دینا چاہ رہے ہیں جب مومنین کو یا رسول اللہ ﷺ کو دھوکا دیا تو گویا خود اللہ کو دھوکا دینے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں کہ اعمالکا اجر تو اللہ کریم کی طرف سے ملے گا ہاں وقتی طور پر اللہ کے بندے دھوکا کھا جائیں گے اور منافق کو مسلمان سمجھ بیٹھیں گے اللہ کریم بھی انہیں اس جرم کی بہت سخت سزا دے گا۔ یہ ایسے بدبخت ہیں کہ نماز کے لیے بھی کھڑے ہوں گے تو نہایت بددلی کے ساتھ ویسے تو کسل سے سستی مراد ہوتی ہے مگر یہاں جسمانی سستی کی نسبت ایمانی سستیپائی جاتی ہے ورنہ بظاہر تو شاید بڑے اہتمام سے کھڑے ہوتے ہوں گے۔ کہ وہ پڑھتے ہی لوگوں…
Read the full tafseer →ف 6 ان لوگوں کے کافر ہونے میں کسی قسم کا شک وشبہ نہیں حقا مصدر محذ وف کی تاکید ہے۔ ( کبیر )
Read the full tafseer →Explained with ayahs 151–152
(4:151) حقا۔ بمعنی یقینا۔ درحقیقت۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 148–152
آیت نمبر 148-152
لغات القرآن : لایحب اللہ، اللہ کو پسند نہیں ہے۔ الجھر بالسوء، برائی کو کھلم کھلا کہنا۔ لم یفرقوا، نہیں تفریق کرتے۔
تشریح : وہ سب پکے کافر ہیں جو (1) نہ اللہ کو مانتے ہیں نہ رسالت کو یا (2) اللہ کو مانتے ہیں۔ رسالت کو نہیں مانتے یا (3) کسی رسول کو مانتے ہیں کسی کو نہیں مانتے۔
اور جو توحید اور شرک کے درمیان کوئی ایسی راہ ڈھونڈ رہے ہیں کہ اللہ بھی مل جائے اور صنم بھی۔ ان سب کے لئے بڑی ذلت کا عذاب بھڑک رہا ہے۔
دنیا کے مذاہب کو دیکھئے بہت سے مذاہب اللہ کو بلکہ کسی معبود کو نہیں مانتے۔ بہت سے مذاہب بہت سے معبودوں کو مانتے ہیں۔ ہندو بتوں کو، بدھ کنفیوشس کو لیکن سکھ رسالت ہی کو نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 150–152
جس کا مطلب یہ ہے کہ کہ تم اس کے بندوں سے درگز کرو وہ تم سے درگزر فرمائے گا ۔ تم زمین والوں پر رحم کرو آسمان والا تم پر رحم کرے گا ۔ شان نزول : یہ آیت یہود اور نصاری کے حق میں نازل ہوئی کہ یہود حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لائے اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور آنحضرت ﷺ کے ساتھ کفر کیا ۔ بعض رسولوں پر ایمان لانا انہیں کفر سے نہیں بچاتا ۔ کیونکہ ایک نبی کا انکار بھی تمام انبیاء کے برابر ہے ۔ پھر فرمایا جو توریت کے موافق نبی آخر الزماں ﷺ اور سب انبیاء (علیہ السلام) کو مانتے ہیں یہ لوگ پورے ایمان دار ہیں ۔ ان کو عقبیٰ میں بڑا اجر ملنے والا ہے ۔ اگر ان کے کچھ گناہ ہوں گے تو ان کی توحید کے سبب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 151–152
[91] جو لوگ نہ اللہ کو مانتے ہیں نہ اس کے رسولوں کو اور وہ جو اللہ کو مانتے ہیں اور رسولوں کو نہیں مانتے اور وہ جو کسی رسول کو مانتے ہیں اور کسی رسول کو نہیں مانتے یہ سب کے سب کافر ہیں کیونکہ جب ایک کا انکار ہوا تو بقیہ رسولوں کی بھی تکذیب ہوگئی جو کہ ضد ہے تصدیق اور ایمان کی۔
Read the full tafseer →(ف 2) ان آیات میں بتایا ہے کہ وہ لوگ جو تفریق وکفر کے حامی ہیں ‘ دراصل اور حقیقتا کفر کا مصداق ہیں کیونکر اسلام نام ہے آئین فطرت کا اور حقائق ومحسوسات کا اور پیغمبر کہتے ہیں ترجمان رحمن کو ، اس لئے اس میں کسی تفریق واصلاح کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی ، جس طرح سے سورج ایک ہے ، آسمان ایک ہے اسی طرح ادیان مختلفہ میں وحدت ویکسانی ہے البتہ حالات وظروف کے اختلاف وتضاد کی وجہ سے ہمیں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا پیغام انتقام مسیح ناصری کے پیغام عفو سے الگ اور جدا معلوم ہوتا ہے ، ورنہ مقصد ومصداق کے لحاظ سے دونوں ایک ہیں دونوں کا مقصد اصلاح نفس و انسانیت ہے ۔
سارے مذاہب اور سارے پیغمبر اس لئے منصہ شہود پر…
Read the full tafseer →ف 2 بلاشبہ جو لوگ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں کے ساتھ کفر کرتے ہیں اور یہ چاہتے ہیں کہ با اعتبار ایمان لانے کے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں کے درمیان فرق کریں چناچہ وہ اپنی اس خواہش کا زبان سے اظہار بھی کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ پیغمبروں میں سے ہم بعض کو تو مانتے ہیں اور ان پر ایمان لاتے ہیں اور بعضوں کو ہم نہیں مانتے اور یہ لوگ یوں چاہتے ہیں کہ کفر اور ایمان کے بین بین کوئی راہ اختیار کرلیں اور کفر و ایمان کے درمیان ایک ایسا راستہ نکال لیں جو نہ خالص کفر ہو اور نہ خالص ایمان ہو یعنی مسلمانوں اور مشرکوں کے درمیان ایک نئی راہ تجویز کرنا چاہتے ہیں تو ایسے لوگ یقینا کافر ہیں اور اصل کافر یہی لوگ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 150–151
ف 4۔ اس قول اور اس عقیدے سے اللہ کے ساتھ بھی انکار لازم آگیا اور سب رسولوں کے ساتھ بھی کیونکہ اللہ نے ہر رسول نے سب رسولوں کو رسول کہا ہے جب بعض کا انکار ہوا تو اللہ کی اور بقیہ رسولوں کی تکذیب ہوگئی جو کہ ضد ہے تصدیق اور ایمان کی۔
Read the full tafseer →یہ لوگ ابنا نام کچھ رکھیں لیکن عند اللہ پکے کافر ہیں :
240 کہیں یہ سمجھ لیا جا ہے کہ ان اہل کتاب کہلانے والوں کا درجہ و مرتبہ کافروں سے تو بہرحال بہتر ہی ہوگا۔ فرمایا ایسا نہ سمجھ لینا اس لئے کہ یہ لوگ تو پکے کافر ہیں ۔ جملہ کی تر کبس خود ہی زور پیدا کرنے کے لئے کا جی ہے ۔ ” حقا “ کا اضا فہ تا کید مز ید کیلئے ہے (تفسیر کبیر ) یہ ” تفر یق بین الر سل “ اور ” اللہ اور اس کے رسو لوں کے در میان تفر قہ “ کے مر تکب کیوں ہے ؟ اس لئے کہ ان کے خیا لات و نظر یات کی تہ میں اصل روگ اپنی بڑائی کا ہوتا ہے شعو ری یا لا شعو ری طور پر ‘ بر حال یہ لوگ سمجھتے یہی ہیں کی ان کی عقل و دانش و حی الہی کے مقا بلہ میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 150–151
Salvation depends on Islam
This clear verdict of the Holy Qur'an has exposed the rudderless and crooked ways of those who, in an effort to appear tolerant in dealings with peoples of other faiths, would like to present their religion and religious beliefs as gifts on a platter. By doing so, they wish to tell - despite and contrary to the clear injunctions of the Qur'an and Sunnah - people of other faiths that Muslims do not think that salvation depends on Islam alone and a Jew could keep to his or her creed and a Christian to his or hers and yet, both could look forward to salvation; though,…
Read the full tafseer →178. Insofar as being an unbeliever is concerned, there is no difference between
(1) those who believe neither in God nor in the Prophets,
(2) those who believe in God but not in the Prophets, and
(3) those whobelieve in some Prophets but reject others.
Read the full tafseer →