An-Nisaa 4:152

An-Nisaa · from ayah 152

4:152

وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَرُسُلِهٖ وَلَمْ یُفَرِّقُوْا بَیْنَ اَحَدٍ مِّنْهُمْ اُولٰٓىِٕكَ سَوْفَ یُؤْتِیْهِمْ اُجُوْرَهُمْ ؕ— وَكَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا ۟۠وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا بِاللّٰهِ وَرُسُلِهٖ وَلَمۡ يُفَرِّقُوۡا بَيۡنَ اَحَدٍ مِّنۡهُمۡ اُولٰٓئِكَ سَوۡفَ يُؤۡتِيۡهِمۡ اُجُوۡرَهُمۡ ‌ؕ وَكَانَ اللّٰهُ غَفُوۡرًا رَّحِيۡمًا

اور جو لوگ خدا اور اس کے پیغمبروں پر ایمان لائے اور ان میں سے کسی میں فرق نہ کیا (یعنی سب کو مانا) ایسے لوگوں کو وہ عنقریب ان (کی نیکیوں) کے صلے عطا فرمائے گا اور خدا بخشنے والا مہربان ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

But they who believe in Allah and His messengers and do not discriminate between any of them - to those He is going to give their rewards. And ever is Allah Forgiving and Merciful.

— Saheeh International

Juz 6 · Ruku 21 of surah · Ruku 1 of juzع

Read the whole surah · Surah An-Nisaa

All translations of 4:152

بخلاف اس کے جو لوگ اللہ اور ا س کے تمام رسولوں کو مانیں، اور اُن کے درمیان تفریق نہ کریں، اُن کو ہم ضرور اُن کے اجر عطا کریں گے، اور اللہ بڑا درگزر فرمانے والا اور رحم کرنے والا ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور جو لوگ خدا اور اس کے پیغمبروں پر ایمان لائے اور ان میں سے کسی میں فرق نہ کیا (یعنی سب کو مانا) ایسے لوگوں کو وہ عنقریب ان (کی نیکیوں) کے صلے عطا فرمائے گا اور خدا بخشنے والا مہربان ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور جو لوگ اللہ پر اور اس کے تمام پیغمبروں پر ایمان ﻻتے ہیں اور ان میں سے کسی میں فرق نہیں کرتے، یہ ہیں جنہیں اللہ ان کو پورا ﺛواب دے گا اور اللہ بڑی مغفرت واﻻ بڑی رحمت واﻻ ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور جو لوگ اللہ پر اور اس کے رسولوں پر ایمان لائیں، اور ان میں سے کسی کے درمیان فرق نہ کریں تو اللہ ایسے لوگوں کو ان کا اجر عطا کرے گا، اور اللہ بہت معاف کرنے والا، بڑا مہربان ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور وہ جو اللہ اور اس کے سب رسولوں پر ایمان لائے اور ان میں سے کسی پر ایمان میں فرق نہ کیا انہیں عنقریب اللہ ان کے ثواب دے گا اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور جو لوگ اﷲ اور اس کے (سب) رسولوں پر ایمان لائے اور ان (پیغمبروں) میں سے کسی کے درمیان (ایمان لانے میں) فرق نہ کیا تو عنقریب وہ انہیں ان کے اجر عطا فرمائے گا، اور اﷲ بڑا بخشنے والا نہایت مہربان ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور وہ لوگ جو اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے اور انھوں نے ان میں سے کسی کے درمیان تفریق نہ کی، یہی لوگ ہیں جنھیں وہ عنقریب ان کے اجر دے گا اور اللہ ہمیشہ سے بےحد بخشنے والا، نہایت مہربان ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور جو لوگ اللہ اور اس کے تمام رسولوں پر ایمان لاتے ہیں اور ان میں کسی میں بھی تفریق نہیں کرتے، ایسے ہی لوگوں کو اللہ ان کے اجر عطا فرمائے گا اور اللہ تعالیٰ بڑا بخشنے والا رحم کرنے والا ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور جو اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے اور ان میں سے کسی کے درمیان کوئی تفریق نہیں کی ان کو ان کا اجر دے گا اور اللہ بخشنے وال اور رحم کرنے والا ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور (اس کے برعکس) جو لوگ ایمان لائے اللہ پر، اور اس کے سب رسولوں پر اور انہوں نے (ایمان کے سلسلہ میں) ان میں سے کسی کی بھی کوئی تفریق نہیں کی تو ایسوں کو عنقریب ہی اللہ عطا فرمائے گا ان کے اجر، اور اللہ بڑی ہی بخشنے والا، نہایت ہی مہربان ہے،

— مولانا اسحاق مدنی

اور جو لوگ اللہ اور اس کے پیغمبروں پر ایمان لائے اور وہ لوگ ان کے درمیان فرق بھی نہیں کرتے۔ تو ایسے لوگوں کو (اللہ) ضرور ان کا اجر دے گا اور اللہ تو ہے ہی بڑا مغفرت والا بڑا رحم والا۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور جو لوگ ایمان رکھتے ہیں اللہ اور اس کے رسولوں پر اور انہوں نے ان میں سے کسی کے مابین کوئی تفریق نہیں کی یہ وہ لوگ ہیں کہ جنہیں اللہ ان کے اجر عطا فرمائے گا اور اللہ تعالیٰ غفور اور رحیم ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

جو لوگ اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے اور ان میں سے کسی میں فرق نہ کیا، اللہ ان کو ان کے ثواب جلد دے گا۔ اور اللہ تعالیٰ بخشنے والا، مہربان ہے

— محترمہ رفعت اعجاز

For those who believe in Allah and His Messengers, and do not differentiate between them, We shall certainly give them their reward. Allah is All-Forgiving, All-Compassionate

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Those who have believed in Allah and His Messengers, and have made no division between any of them, to them He will give their rewards. Allah is Most-Forgiving, Very-Merciful.

— Muhammad Taqi Usmani

Those who have believed in Allah and His Messengers, and have made no division between any of them, to them He will give their rewards. Allah is Most-Forgiving, Very-Merciful.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And those who believe in Allah and His Messengers and make no distinction between any of them (Messengers), We shall give them their rewards; and Allah is Ever Forgiving, Most Merciful.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

But those who believe in Allah and His messengers and make no distinction between any of them, unto them Allah will give their wages; and Allah was ever Forgiving, Merciful.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

But they who believe in Allah and His messengers and do not discriminate between any of them - to those He is going to give their rewards. And ever is Allah Forgiving and Merciful.

— Saheeh International

As for those who believe in God and make no distinction between His Messengers, they will receive His reward. God is All-forgiving and All-merciful.

— Muhammad Sarwar

And those who believe in Allah and His apostles and do not make a distinction between any of them-- Allah will grant them their rewards; and Allah is Forgiving, Merciful.

— Muhammad Habib Shakir

And those who believe in Allah and His apostles and differentiate not between any of them, anon We shall give them their hire; and Allah is ever Forgiving, Merciful.

— Abdul Majid Daryabadi

To those who believe in Allah and His messengers and make no distinction between any of the messengers, we shall soon give their (due) rewards: for Allah is Oft-forgiving, Most Merciful.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 4:152

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 150–152

کسی ایک بھی نبی کو نہ ماننا کفر ہے ! اس آیت میں بیان ہو رہا ہے کہ جو ایک نبی کو بھی نہ مانے کافر ہے، یہودی سوائے حضرت عیسیٰ اور حضرت محمد صلوات اللہ وسلامہ علیہما کے اور تمام نبیوں کو مانتے تھے، نصرانی افضل الرسل خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے سوا تمام انبیاء پر ایمان رکھتے تھے، سامری یوشع ؑ کے بعد کسی کی نبوت کے قائل نہ تھے، حضرت یوشع حضرت موسیٰ بن عمران ؑ کے خلیفہ تھے، مجوسیوں کی نسبت مشہور ہے کہ وہ اپنا نبی زردشت کو مانتے تھے لیکن جب یہ بھی ان کی شریعت کے منکر ہوگئے تو اللہ تعالیٰ نے وہ شریعت ہی ان سے اٹھا لی۔ واللہ اعلم۔ پس یہ لوگ ہیں جنہوں نے اللہ اور اس کے رسولوں میں تفریق کی یعنی…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة النِّسَآء 179 یعنی جو لوگ خدا کو اپنا واحد معبود اور مالک تسلیم کرلیں، اور اس کے بھیجے ہوئے تمام رسولوں کی پیروی قبول کریں، صرف وہی اپنے اعمال پر اجر کے مستحق ہیں، اور وہ جس درجہ کا عمل صالح کریں گے اسی درجہ کا اجر پائیں گے۔ رہے وہ لوگ جنہوں نے خدا کی لاشریک الہٰیّت و ربوبیت ہی تسلیم نہ کی، یا جنہوں نے خدا کے نمائندوں میں سے بعض کو قبول اور بعض کو رد کرنے کا باغیانہ طرز عمل اختیار کیا، تو ان کے لیے کسی عمل پر کسی اجر کا سوال سرے سے پیدا ہی نہیں ہوتا، کیونکہ ایسے لوگوں کا کوئی عمل خدا کی نگاہ میں قانونی عمل نہیں ہے۔ سورة النِّسَآء 180 یعنی جو لوگ اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لائیں گے ان…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

آخری آیت میں پھر ایجابی طور پر بیان فرما دیا گیا ہے کہ نجات آخرت انہی لوگوں کا حصہ ہے جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ اس کے سب رسولوں پر بھی ایمان رکھیں اسی لئے رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے”یعنی قرآن کا ایک حصہ دوسرے حصہ کی تفسیر و تشریح کرتا ہے۔“ خود قرآنی تفسیر کے خلاف کئی تفسیر کرنا کسی کے لئے جائز نہیں۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 150–152

150۔ 152:۔ اِنَّ الَّذِيْنَ يَكْفُرُوْنَ بِاللّٰهِ وَرُسُلِهٖ وَيُرِيْدُوْنَ اَنْ يُّفَرِّقُوْا بَيْنَ اللّٰهِ وَرُسُلِهٖ وَيَقُوْلُوْنَ نُؤْمِنُ بِبَعْضٍ وَّنَكْفُرُ بِبَعْضٍ ۙ وَّيُرِيْدُوْنَ اَنْ يَّتَّخِذُوْا بَيْنَ ذٰلِكَ سَبِيْلًا۔ اُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْكٰفِرُوْنَ حَقًّا ۚ وَاَعْتَدْنَا لِلْكٰفِرِيْنَ عَذَابًا مُّهِيْنًا۔ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَرُسُلِهٖ وَلَمْ يُفَرِّقُوْا بَيْنَ اَحَدٍ مِّنْهُمْ اُولٰۗىِٕكَ سَوْفَ يُؤْتِيْهِمْ اُجُوْرَهُمْ ۭوَكَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا۔ اہل کتاب کٹر کافر ہیں : ان آیات میں اہل کتاب کی جو فرد قرار داد جرم بیان ہوئی ہے اس کے ہر جزو پر…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

152۔ 1 یہ ایمانداروں کا شیوا بتایا گیا ہے کہ سب انبیاء (علیہم السلام) پر ایمان رکھتے ہیں۔ جس طرح مسلمان ہیں وہ کسی بھی نبی کا انکار نہیں کرتے۔ اس آیت سے بھی ایک مذہب کی نفی ہوتی ہے جس کے نزدیک رسالت محمدیہ پر ایمان لانا ضروری نہیں۔ اور وہ ان غیر مسلموں کو بھی نجات یافتہ سمجھتے ہیں جو اپنے تصورات کے مطابق ایمان باللہ رکھتے ہیں۔ لیکن قرآن کی اس آیت نے واضح کردیا کہ ایمان باللہ کے ساتھ رسالت محمدیہ پر ایمان لانا بھی ضروری ہے۔ اگر اس آخری رسالت کا انکار ہوگا تو اس انکار کے ساتھ ایمان باللہ غیر معتبر اور نامقبول ہے (مزید دیکھئے سورة بقرہ کی (آیت نمبر 12 کا حاشیہ)

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 149–153

76: اشارہ یہ کیا جا رہا ہے کہ اگرچہ مظلوم کو شریعت نے یہ حق دیا ہے کہ وہ ظالم کے ظلم کی حد تک اس کی برائی کرے، لیکن اگر کوئی شخص مظلوم ہونے کے باوجود خطیہ اور علانیہ ہر حالت میں زبان سے ہمیشہ اچھی بات ہی نکالے، اور اپنا حق معاف کردے تو یہ اس کے لیے بڑے ثواب کا کام ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کی صفت بھی یہی ہے کہ وہ سزا پر قدرت رکھنے کے باوجود کثرت سے لوگوں کو معاف کردیتا ہے

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

(آیت) ” والذین امنوا باللہ ورسلہ ولم یفرقوا بین احد منھم اولئک سوف یوتیھم اجورھم وکان اللہ غفورا رحیما “۔ (4 : 152) (بخلاف اس کے جو لوگ اللہ اور اس کے تمام رسولوں کو مانیں اور ان کے درمیان تفریق نہ کریں ‘ ان کو ہم ضرور ان کے اجر عطا کریں گے اور اللہ بڑا درگزر فرمانے والا اور رحم کرنے والا ہے۔ ) اسلام نے اللہ اور رسل کے بارے میں عقائد کو ایک اکائی قرار دینے کے بارے میں اس قدر تشدد کیوں کیا ؟ اسی لئے کہ ایک مومن کے تصور الہ میں عقیدہ توحید ایک اساسی حیثیت کا حامل ہے ۔ اور یہ عقیدہ اس کائنات کے اندر ایک مدیر ومنتظم کے تصور کے ساتھ بھی لگا کھاتا ہے جو نہ تعدد کو قبول کرتا ہے اور نہ اس کے مقابلے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

4 یعنی اور جن لوگوں نے کسی نبی کو جدا نہیں کیا بلکہ ایمان لائے اللہ پر اور اس کے سب رسولوں پر اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے ان کو بڑے ثواب عطا فرمائے گا۔ اس سے مراد مسلمان ہیں جو رسول اللہ ﷺ اور سب پر ایمان لائے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 152 وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا باللّٰہِ وَرُسُلِہٖ وَلَمْ یُفَرِّقُوْا بَیْنَ اَحَدٍ مِّنْہُمْ نہ اللہ کو رسول سے جدا کیا اور نہ رسول کو رسول سے جدا کیا۔ اور وہ کہتے ہیں کہ ہم سب کو مانتے ہیں : لَا نُفَرِّقُ بَیْنَ اَحَدٍ مِّنْ رُّسُلِہٖ البقرہ : 285۔ ہم ان رسولوں کو بھی مانتے ہیں جن کے نام قرآن مجید میں آگئے ہیں ‘ اور یہ بھی مانتے ہیں کہ ان کے علاوہ بھی اللہ کی طرف سے بیشمار نبی اور رسول آئے ہیں۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

201 رسولوں کی ایک دوسرے پر فضیلت :۔ اس لیے کہ صحیح ایمان کی شرط ہی یہ ہے کہ اللہ اور اس کے تمام رسولوں اور نبیوں پر ایمان لایا جائے اور ان میں تفریق نہ کی جائے۔ اور تفریق کرنے کے بھی دو مطلب ہوسکتے ہیں۔ ایک یہ کہ کسی پر ایمان لایا جائے، کسی پر نہ لایا جائے۔ اور دوسرا یہ کہ بلحاظ درجہ نبوت سب برابر ہیں۔ اسی لحاظ سے آپ نے فرمایا کہ کوئی شخص یہ نہ کہے کہ میں یونس بن متیٰ سے افضل ہوں۔ (بخاری، کتاب التفسیر، سورة انعام۔ باب و یونس و لوطاً و کلاً فضلنا) رہے نبوت کے علاوہ دوسرے فضائل، تو ایک نبی پر دوسرے نبی کے ایسے فضائل کتاب و سنت میں صراحتاً مذکور ہیں اور اس لحاظ سے آپ افضل الانبیاء ہیں۔ اور ایسا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

386 ۔ یعنی یہ نہیں کرتے کہ کسی پیغمبر کو مانیں اور کسی کو نہ مانیں، قرآن مجید نے وحدت وحی پر بڑا زور دیا ہے، اور سارے انبیاء کو ایک مستقل نظام وسلسلہ کے اندر منسلک قراردیا ہے۔ 387 ۔ (آیت) ” سوف “۔ یہاں قرب زمانی کے لئے نہیں جزم وتیقن کے لئے ہے۔ معناہ ان ایتاء ھا کائن لا محالۃ وان تاخر (کشاف) فالغرض بہ توکیدالود وتحقیقہ لاکونہ متاخرا (کبیر) متکلمین نے آیت سے معتزلہ کا رد بھی نکالا ہے جو مرتکب گناہ کبیرہ کے دوام عذاب کے قائل ہیں۔ حالانکہ آیت میں صاف مضمون موجود ہے کہ ایمان محض پر بھی اجر ملے گا۔ والایۃ تدل علی بطلان قولہ المعتزلۃ فی تخلید المرتکب الکبیرۃ لانہ اخبر ان من امن باللہ ورسلہ ولم یفرق…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

والذین آمنو باللہ ورسولہ ولم یفرقوابین احد منھم (الآیة) اس آیت میں اہل ایمان کا شیوہ بتلایا گیا ہے کہ وہ سب انبیاء کرام پر ایمان رکھتے ہیں جس طرح کہ مسلمان کسی بھی بنی کے منکر نہیں، اس آیت سے وحدت ادیان کے تصور کی نفی ہوتی ہے، جس کے قائلین کے نزدیک رسالت محمدیہ پر ایمان لانا ضروری نہیں اور وہ غیر مسلموں کو بھی نجات یافتہ سمجھتے ہیں جو اپنے تصورات کے مطابق ایمان باللہ رکھتے ہیں، لیکن قرآن کی اس آیت نے واضح کردیا کہ ایمان باللہ کے ساتھ رسالت محمدیہ ﷺ پر ایمان لانا ضروری ہے، اگر اس آخری رسالت کا انکار ہوگیا تو اس انکار کے ساتھ ایمان باللہ بھی غیر معتبر اور نامقبول ہوگا۔ مذکورہ آیت میں اصل اشارہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

والذین امنوا باللہ ورسلہ اور جو لوگ اللہ اور اس کے (تمام) پیغمبروں پر ایمان لائے۔ ولم یفرقو بین احد منہم اور ان میں سے کسی ایک میں بھی فرق نہیں کیا۔ ایک شبہ : لفظ بَیْنَکی اضافت متعدد کی جانب ہوتی ہے اور آیت میں لفظ احد کی طرف اضافت ہے جو ضابطہ کے خلاف ہے۔ ازالہ : لفظ احد میں اس جگہ عموم ہے کیونکہ احد اس جگہ نکرہ ہے اور نفی کے بعد آیا ہے (لفظ احد کی وحدت مراد نہیں عمومی تنکیر مراد ہے) اس لئے اس جگہ اضافت صحیح ہے۔ اولئک سوف یوتیہم اجورہم ان لوگوں کو ضرور اللہ ان کا ثواب عطا فرمائے گا یعنی جس ثواب کا اللہ نے وعدہ کیا ہے وہ ضرور عنایت کرے گا۔ لفظ سوفوعدہ کو پختہ کرنے اور اس امر کو ظاہر کرنے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(152) اور عبداللہ بن سلام اور اس کے ساتھی جو انبیاء کرام اور اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نبوت اور اسلام میں کوئی فرق نہیں کرتے ہم ان کو جنت میں ثواب اور درجہ دیں گے اور جو ان میں سے توبہ کی حالت میں انتقال کرگئے تو اللہ تعالیٰ غفور الرحیم ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا باللّٰهِ وَرُسُلِهٖ۔۔ : مراد امت محمد ﷺ ہے جو تمام پیغمبروں پر ایمان رکھتی ہے، لہٰذا ان کے لیے بشارت ہے۔ (قرطبی)

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 150–152

(1) عبد بن حمید و ابن جریر نے قتادہ (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ یہ لوگ یہودی اور نصرانی اللہ کے دشمن ہیں یہودی تورات اور موسیٰ پر ایمان لائے اور انجیل اور عیسیٰ کا انکار کیا (اسی طرح) نصرانی انجیل اور عیسیٰ پر ایمان لائے اور قرآن اور محمد ﷺ کا انکار کیا انہوں نے یہودیت اور نصرانیت کو اپنا لیا جو (دونوں کی اپنی طرف سے) اختراع ہیں (اور) اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہیں ہیں اور لوگوں نے اسلام کو چھوڑا حالانکہ یہی اللہ کا دین ہے جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں کو بھیجا۔ امام ابن جریر (رح) نے سدی اور ابن جریج رحہما اللہ سے اسی طرح روایت کیا۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ وَالَّذِیْنَ : اور جو لوگ ] [ اٰمَنُوْا : ایمان لائے ] [ بِاللّٰہِ : اللہ پر ] [ وَرُسُلِہٖ : اور اس کے رسولوں پر ] [ وَلَمْ یُـفَرِّقُوْا : اور انہوں نے فرق نہیں کیا ] [ بَیْنَ اَحَدٍ : کسی ایک کے درمیان ] [ مِّنْہُمْ : ان میں سے ] [ اُولٰٓئِکَ : وہ لوگ ہیں ] [ سَوْفَ : عنقریب ] [ یُــؤْتِیْہِمْ : وہ دے گا جن کو ] [ اُجُوْرَہُمْ : ان کے اجر ] [ وَکَانَ اللّٰہُ : اور اللہ ہے ] [ غَفُوْرًا : بےانتہا بخشنے والا ] [ رَّحِیْمًا : ہر حال میں رحم کرنے والا ] نوٹ : آیت 148 میں ہدایت کی گئی ہے کہ اشخاص کے تعین کے ساتھ برائی کا اظہار صرف مظلوم کے لیے جائز ہے ‘ دوسروں کے لیے اللہ اس کو پسند نہیں…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 150–152

اللہ تعالیٰ پر اور اس کے تمام رسولوں پر ایمان لانا فرض ہے صاحب معالم التنزیل صفحہ 494: ج 1 میں لکھتے ہیں کہ آیت (اِنَّ الَّذِیْنَ یَکْفُرُوْنَ باللّٰہِ وَ رُسُلِہٖ ) یہودیوں کے بارے میں نازل ہوئی یہ لوگ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لائے اور توریت پر ایمان لائے اور عزیر (علیہ السلام) پر ایمان لائے اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ پر ایمان نہ لائے ان کے ساتھ کفر کیا اور انجیل اور قرآن کے بھی منکر ہوئے۔ ان لوگوں نے ایسا راستہ نکالا کہ اللہ پر تو ایمان لائیں اور اس کے رسولوں میں سے بعض پر ایمان لائیں اور بعض کا انکار کریں۔ جو شخص صرف اللہ پر ایمان لائے اور کسی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 148–152

حکم سنی ام۔ جو از شکایت ظالم برائے مظلوم وفضیلت عفو۔ قال تعالیٰ لایحب اللہ الجھر بالسوء۔۔۔ الی۔۔۔ قدیرا۔ ربط) گزشتہ آیات میں منافقین کے جبلی کج طبعی اور آیات خداوندی میں ان کی طعنہ زنی اور عیب جوئی اور مسلمانوں پر ان کے مظالم بیان کیے گئے اب ان آیات میں یہ نصیحت فرماتے ہیں کہ اللہ بڑا حلیم وکریم اور ستا رالعیوب ہے کسی کا عیب ظاہر کرنا اور کسی کی برائی کرنا اور کسی کا پردہ فاش کرنا پسند نہیں کرتا اسی طرح ہم کو بھی حلم اور پردہ پوشی سے کام لینا چاہیے ہاں مگر جس کسی پر ظلم ہوا ہو سو وہ مظلوم اگر ظالم کی برائی یا زیادتی کا افشا کرے تو کچھ مضائقہ نہیں لیکن اگر معاف کردے تو وہ اور بہتر ہے اس لیے کہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

99 یہ ان لوگوں کے لیے بشارت اخروی ہے جو اللہ پر اور اس کے تمام رسولوں پر ایمان لاتے ہیں آخرت میں نجات اور اجر وثواب حاصل کرنے کے لیے سب پر ایمان لانا ضروری ہے جیسا کہ سورة بقرہ (رکوع 40) میں فرمایا کُلٌّ اٰمَنَ بِا اللہِ وَ مَلٰئِکَتِہٖ وَ کُتُبِہٖ وَ رُسُلِہٖ

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 148–152

ربط آیات : گزشتہ درس میں اللہ تعالیٰ نے منافقوں کی بعض کارگزاریوں کا تذکرہ فرمایا تھا ، خاص طور پر ان کی کفار کے ساتھ دوستی کی مذمت بیان کی گئی تھی اور ساتھ ساتھ مومنوں کو یہ بات سمجھائی گئی تھی کہ وہ کافروں کو کسی صورت میں بھی اپنا دلی دوست نہ بنائیں۔ اللہ تعالیٰ نے یہ بھی واضح کیا کہ منافقوں کا کفار کے ساتھ دوستانہ حصول عزت کے لئے ہوتا ہے ، مگر انہیں کبھی عزت حاصل نہیں ہوسکتی کیونکہ یہ تو ساری کی ساری اللہ تعالیٰ کے پاس ہے جسے وہ عزت نہ دینا چاہے اسے دنیا میں کہیں عزت نصیب نہیں ہوسکتی۔ فرمایا عزت کا مالک تو اللہ ہے اور پھر دنیا میں سب سے زیادہ عزت والا اللہ کا رسول ہے اور اس کے بعد کامل…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا بِاللہِ وَرُسُلِہٖ وَلَمْ يُفَرِّقُوْا بَيْنَ اَحَدٍ مِّنْہُمْ اُولٰۗىِٕكَ سَوْفَ يُؤْتِيْہِمْ اُجُوْرَہُمْ۝ 0ۭ وَكَانَ اللہُ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا۝ 152ۧ أحد أَحَدٌ يستعمل علی ضربین : أحدهما : في النفي فقط والثاني : في الإثبات . فأمّا المختص بالنفي فلاستغراق جنس الناطقین، ويتناول القلیل والکثير علی طریق الاجتماع والافتراق، نحو : ما في الدار أحد، أي : لا واحد ولا اثنان فصاعدا لا مجتمعین ولا مفترقین، ولهذا المعنی لم يصحّ استعماله في الإثبات، لأنّ نفي المتضادین يصح، ولا يصحّ إثباتهما، فلو قيل : في الدار واحد لکان فيه إثبات واحدٍ منفرد مع إثبات ما فوق الواحد مجتمعین…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 148–152

ترکیب : بالسوء ‘ الجہر سے متعلق ہے ای لایحب أن یجھر بالسوء من القول بیان ہے السوء کا الامن استثناء منقطع ہے موضع نصب میں بعض کہتے ہیں متصل ہے اے لا یحب ان یجھر بالسوء احد من ظلم فلا باس علیہ ان یخبر عن ظلم ظالمہ ویدعوا علیہ عند الحکام حقا مفعول مطلق ای حق ذلک حقا اور ممکن ہے کہ حال ہو ای اولئک ھم الکافرون غیر شک۔ تفسیر : منافقوں اور گنہگاروں کو توبہ و استفغار کرنے اور خدا کی طرف رجوع کرنے کا اس خوبی اور عمدہ پیرایہ سے بیان ہوا تھا کہ جس سے طبائعِ سلیمہ پر عمدہ اثر پڑتا ہے مگر بعض لوگ ان کے ایمان لانے اور خدا کی طرف رجوع کرنے کے بعد بھی ان کے عیوب گذشتہ بیان کرکے طعن و طنز کیا کرتے تھے اس…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 150–152

اِنَّ الَّذِیْنَ یَکْفُرُوْنَ بِاللّٰہِ وَ رُسُلِہٖ وَ یُرِیْدُوْنَ اَنْ یُّفَرِّقُوْا بَیْنَ اللّٰہِ وَ رُسُلِہٖ وَ یَقُوْلُوْنَ نُؤْمِنُ بِبَعْضٍ وَّ نَکْفُرُ بِبَعْضٍ لا وَّیُرِیْدُوْنَ اَنْ یَّتَّخِذُوْا بَیْنَ ذٰلِکَ سَبِیْلًا لا اُولٰٓئِکَ ہُمُ الْکٰفِرُوْنَ حَقًّا ج وَاَعْتَدْنَا لِلْکٰفِرِیْنَ عَذَابًامُّہِیْنًا وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰہِ وَ رُسُلِہٖ وَ لَمْ یُفَرِّقُوْا بَیْنَ اَحَدٍ مِّنْہُمْ اُولٰٓئِکَ سَوْفَ یُؤْتِیْہِمْ اُجُوْرَہُمْ ط وَکَانَ اللّٰہُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا ع ” بیشک جو لوگ کفر کرتے ہیں اللہ اور اس کے رسولوں کے ساتھ اور چاہتے ہیں کہ فرق کریں اللہ اور اس کے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : منافقین اور کفار کا ذکر کرنے کے بعد سچے اور پکے مسلمان کی نشاندہی کی جارہی ہے۔ ایمان کامل کا یہ تقاضا ہے کہ اللہ کے تمام رسولوں پر ایمان لایا جائے کہ وہ اپنے اپنے زمانے میں اللہ کے برگزیدہ رسول تھے اور انہوں نے ٹھیک ٹھیک طریقہ سے اللہ تعالیٰ کے پیغام کو پہنچایا۔ جس بنا پر مقام رسالت کے حوالے سے کسی ایک کے درمیان فرق نہیں کیا جاسکتا۔ پہلے انبیاء پر صحیح ایمان لانے کا تقاضا تبھی پورا ہوسکتا ہے کہ جب جناب رسالت مآب محمد ﷺ کو آخری نبی تسلیم کیا جائے کیونکہ تمام انبیاء اللہ تعالیٰ کے حضور آپ کی نبوت کا اقرار کرچکے ہیں۔ (آل عمران : 81) انہوں نے اپنی اپنی امت کو یہی پیغام دیا…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 152 : وَالَّذِیْنَ ٰامَنُوْا بِاللّٰہِ وَرُسُلِہٖ وَلَمْ یُفَرِّقُوْا بَیْنَ اَحَدٍ مِّنْہُمْ (اور وہ لوگ جو ایمان لائے اللہ اور اس کے رسولوں پر اور انہوں نے کسی ایک میں بھی فرق نہیں کیا) نحو : لفظ احد کی طرف اضافت بَیْنَ کی درست ہے کیونکہ احد کا لفظ واحد ٗ مذکر و مؤنث اور جمع تثنیہ و جمع مذکر و مؤنث میں برابر ہے۔ نکرہ ہے عموم نفی پر دلالت کرتا ہے۔ اُولٰٓئِکَ سَوْفَ یُؤْتِیْہِمْ اُجُوْرَہُمْ وَکَانَ اللّٰہُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا (ان لوگوں کو ضرور اللہ تعالیٰ ان کا ثواب عنایت فرمائے گا۔ اور اللہ تعالیٰ بخشنے والے مہربان ہیں) ۔ قراءت : یؤتیہم کو حفص نے یا سے پڑھا جبکہ حمزہ عاصم ٗ ابن…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

(تفسیر) 152۔: (آیت)” والذین امنوا باللہ ورسلہ “۔ ان سب پر ایمان لائے ۔ (آیت)” ولم یفرقوا بین احدمنھم “۔ اور رسولوں کے درمیان کوئی فرق نہیں کرتے کیونکہ وہ سب اہل ایمان ہی تھے اور وہ کہتے تھے کہ ہم رسولوں کے درمیان کسی قسم کا فرق نہیں کرتے ۔ ” اولئک سوف یوتیھم اجورھم “۔ اللہ پر ایمان لانے کی وجہ سے اور اس کی تمام کتابوں اور رسولوں پر ایمان لانے کی وجہ سے ان کو ضرور ثواب دے گا ، بعض حضرات ” یوتیھم “۔ یاء کے ساتھ پڑھتے ہیں اور دوسرے قراء ” نوتیھم “ پڑھتے ہیں (آیت)” وکان اللہ غفورا رحیما “۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 150–152

(150 ۔ 152) ۔ منافقوں کے ذکر کے بعد ان آیتوں میں یہود کا ذکر ہے۔ قرآن شریف میں اکثر جگہ منافقوں کا اور یہود کا ذکر اس لئے ساتھ آیا ہے کہ منافقوں کی اور یہود کی حالت ملتی جلتی ہے کیونکہ جس طرح منافق لوگ ظاہر میں اپنے آپ کو اسلام کا پابند کہتے ہیں اور حقیقت میں اسلام کے پابند نہیں ہیں۔ بہت سی آیتیں تورات کی انہوں نے بدل ڈالی ہیں۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ بدسلوکی انہوں نے کی وہ بالکل تورات کے برخلاف ہے تورات کے موافق نبی آخر الزماں کا پہلے انہیں اقرار تھا۔ لیکن نبی آخر الزمان کے پیدا ہونے کے بعد ان کی نبوت کے منکر ہوگئے جو ان کا انکار تورات کے برخلاف ہے۔ عبادہ بن صامت ؓ کی صحیحین میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 152–153

آیت 152 یہاں تک لوگوں کی دو اقسام ہیں جن کو ہر ایک کے لئے واضح کردیا گیا ہے۔ (1) اللہ تعالیٰ اس کے رسولوں اور اس کی کتابوں پر ایمان لانے والے لوگ (2) اللہ تعالیٰ اس کے رسولوں اور اس کی کتابوں کا انکار کرنے والے لوگ۔ رہ گئی تیسری قسم، تو یہ وہ لوگ ہیں جو سمجھتے ہیں کہ وہ بعض رسولوں پر تو ایمان لاتے ہیں اور بعض کو نہیں مانتے اور یہی وہ راستہ ہے جو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے نجات دے گا مگر یہ ان کی مجرد آرزوئیں ہیں۔ پس یہ لوگ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں کے درمیان تفریق کرنا چاہتے ہیں، کیونکہ جو کوئی حقیقی طور پر اللہ تعالیٰ کو اپنا ولی اور دوست بناتا ہے وہ تمام انبیاء و رسل کو دوست بناتا ہے کیونکہ…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 148–160

مظلوم کی آہ سے بچو قول باری ہے لایحب اللہ الجھربالتوء من القول الامن ظلم، اللہ اس کو پسند نہیں کرتا کہ آدمی بدگوئی پر زبان کھولے، الا یہ کہ کسی پر ظلم کیا گیا ہو۔ حضرت ابن عباس ؓ اور قتادہ کا قول ہے ” الایہ کہ مظلوم اپنے ظالم کے لئے بددعا کرے “۔ مجاہد سے ایک روایت ہے ” الایہ کہ مظلوم ظالم کی طرف سے ڈھائے جانے والے ظلم کی لوگوں کو اطلاع دے “۔ حسن اور سدی کا قول ہے ” الایہ کہ مظلوم ظالم سے اپنا بدلہ لے لے “۔ فرات بن سلیمان نے ذکر کیا ہے کہ عبدالکریم سے اس قول باری کے معنی پوچھے گئے تو انہوں نے کہا ” یہ وہ شخص ہے جو تمہیں برا بھلا کہتا ہے اور جواب میں تم بھی اسے برا بھلا کہہ دیتے ہو لیکن اگر وہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

392 سچے ایمانداروں کی نشاندہی : پس جن لوگوں نے سب رسولوں پر ایمان لایا اور انہوں نے ایسا نہیں کیا کہ کسی رسول پر ایمان لایا اور کسی پر نہ لایا ہو، بلکہ انہوں نے بلا تفریق و استثناء سب کو مانا اور وہ ان سب پر ایمان لائے، اور یہی شان ہے امت محمدیہ کے ایمانداروں کی، کہ وہ سب ہی انبیائے کرام پر ایمان رکھتے ہیں۔ سو یہی خوش نصیب اصل مصداق ہیں اس آیت کریمہ کے۔ اور یہی مستحق ہیں اس آیت کریمہ میں وارد اس بشارت عظیمہ کے۔ اور یہی ہیں سچے پکے ایماندار اور مخلص مومن جنہوں نے اتباع ھوی کی بجائے اتباع ھدی کی راہ کو اپنایا جو کہ عقل و نقل اور فطرت سلیمہ کے تقاضوں کے عین مطابق حق و ہدایت کی راہ ہے۔ انہی کو…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

ایمان والوں کو خوشخبری تشریح : اس آیت میں سچے مومن کی تعریف کی گئی ہے۔ یعنی مومن وہ ہے جو اللہ پر ایمان لائے اس کے تمام رسولوں کو مانے تو ایسے مومن اللہ رب العزت کی طرف سے بخشش کے مستحق ہیں اور اللہ کا وعدہ سچا اور پکا ہے۔ کیونکہ وہی معاف کرنے والا ہے اور وہی رحم کرنے والا ہے۔ ایسے ہی لوگ دنیا و آخرت میں نجات پائیں گے۔

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 142–152

رکوع نمبر 21 ۔ آیات 142 تا 152 ۔ اسرار و معارف : منافقین درحقیقت اللہ کو دھوکا دینا چاہ رہے ہیں جب مومنین کو یا رسول اللہ ﷺ کو دھوکا دیا تو گویا خود اللہ کو دھوکا دینے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں کہ اعمالکا اجر تو اللہ کریم کی طرف سے ملے گا ہاں وقتی طور پر اللہ کے بندے دھوکا کھا جائیں گے اور منافق کو مسلمان سمجھ بیٹھیں گے اللہ کریم بھی انہیں اس جرم کی بہت سخت سزا دے گا۔ یہ ایسے بدبخت ہیں کہ نماز کے لیے بھی کھڑے ہوں گے تو نہایت بددلی کے ساتھ ویسے تو کسل سے سستی مراد ہوتی ہے مگر یہاں جسمانی سستی کی نسبت ایمانی سستیپائی جاتی ہے ورنہ بظاہر تو شاید بڑے اہتمام سے کھڑے ہوتے ہوں گے۔ کہ وہ پڑھتے ہی لوگوں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 7 مراد امت محمدی ہے ج تمام پیغمبر روں پر ایمان رکھتی ہے لہذا ان کے لیے بشارت ہے (قرطبی)

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 148–152

آیت نمبر 148-152 لغات القرآن : لایحب اللہ، اللہ کو پسند نہیں ہے۔ الجھر بالسوء، برائی کو کھلم کھلا کہنا۔ لم یفرقوا، نہیں تفریق کرتے۔ تشریح : وہ سب پکے کافر ہیں جو (1) نہ اللہ کو مانتے ہیں نہ رسالت کو یا (2) اللہ کو مانتے ہیں۔ رسالت کو نہیں مانتے یا (3) کسی رسول کو مانتے ہیں کسی کو نہیں مانتے۔ اور جو توحید اور شرک کے درمیان کوئی ایسی راہ ڈھونڈ رہے ہیں کہ اللہ بھی مل جائے اور صنم بھی۔ ان سب کے لئے بڑی ذلت کا عذاب بھڑک رہا ہے۔ دنیا کے مذاہب کو دیکھئے بہت سے مذاہب اللہ کو بلکہ کسی معبود کو نہیں مانتے۔ بہت سے مذاہب بہت سے معبودوں کو مانتے ہیں۔ ہندو بتوں کو، بدھ کنفیوشس کو لیکن سکھ رسالت ہی کو نہیں…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 150–152

جس کا مطلب یہ ہے کہ کہ تم اس کے بندوں سے درگز کرو وہ تم سے درگزر فرمائے گا ۔ تم زمین والوں پر رحم کرو آسمان والا تم پر رحم کرے گا ۔ شان نزول : یہ آیت یہود اور نصاری کے حق میں نازل ہوئی کہ یہود حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لائے اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور آنحضرت ﷺ کے ساتھ کفر کیا ۔ بعض رسولوں پر ایمان لانا انہیں کفر سے نہیں بچاتا ۔ کیونکہ ایک نبی کا انکار بھی تمام انبیاء کے برابر ہے ۔ پھر فرمایا جو توریت کے موافق نبی آخر الزماں ﷺ اور سب انبیاء (علیہ السلام) کو مانتے ہیں یہ لوگ پورے ایمان دار ہیں ۔ ان کو عقبیٰ میں بڑا اجر ملنے والا ہے ۔ اگر ان کے کچھ گناہ ہوں گے تو ان کی توحید کے سبب…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 151–152

[91] جو لوگ نہ اللہ کو مانتے ہیں نہ اس کے رسولوں کو اور وہ جو اللہ کو مانتے ہیں اور رسولوں کو نہیں مانتے اور وہ جو کسی رسول کو مانتے ہیں اور کسی رسول کو نہیں مانتے یہ سب کے سب کافر ہیں کیونکہ جب ایک کا انکار ہوا تو بقیہ رسولوں کی بھی تکذیب ہوگئی جو کہ ضد ہے تصدیق اور ایمان کی۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

(ف 1) یہاں ایسے گروہ کا ذکر ہے جو تمام اختلافات سے بالا ہے اور جس کے ہاں تمام پیغمبر (علیہ السلام) تمام صداقتیں اور تمام حقائق یکسان واجب ال ایمان ہیں ، جو سلسلہ نبوت کی پہلی کڑی سے لے کر آخری کڑی تک سب کو مانتے ہیں ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

ف 3 اور جو لوگ اللہ تعالیٰ پر اور اس کے سب رسولوں پر ایمان رکھتے ہیں اور با عتبار ایمان لانے کے ان میں سے کسی کے ساتھ فرق نہیں کرتے کہ کسی پر ایمان لائیں اور کسی پر ایمان نہ لائیں بکلہ سب رسولوں پر ایمان رکھتے ہیں تو ایسے لوگوں کو بہت جلد اللہ تعالیٰ ان کے ثواب سے نوازے گا اور اللہ تعالیٰ بڑا بخشنے والا اور بڑی مہربانی کرنے والا ہے۔ (تیسیر) مطلب یہ ہے جو ہم سورة بقرہ کے آخر میں عرض کرچکے ہیں کہ اللہ تعالیٰ پر اور اس کے رسولوں پر سب پر ایمان لائیں کسی رسول کے ماننے میں جدائی ڈالیں تو لوگ اپنے اجور اور ثواب پانے کے مستحق ہوں گے اور اللہ تعالیٰ ان کو ان کا حصہ عنایت کرے گا اور اگر کوئی کوتاہی ان…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 5۔ بعض مفسرین نے اس آیت کو یہود و نصاری دونوں کی شان میں کہا ہے کیونکہ نصاری رسول اللہ ﷺ کو نہیں مانتے تھے۔ لیکن سیاق وسباق میں یہود کا ذکر مقتضی اس کو ہے کہ آیت کا شان یہود میں ہونا زیادہ مہتم بالشان ہو گوتبعا نصاری بھی عموم لفظ میں داخل ہوجائیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

242: قرآن کر یم کہتا ہے کہ جب سر چشمہ ہد ایت ایک ہے تو یہ ممکن ہو سکتا ہے کہ ایک ہی چشمہ سے سیر اب ہونے والے اپنی اپنی قوم کو الگ الگ ہد ایت دیں اس طرح تسلیم کرنا تو گو یا سر چشمہ ہد ایت کا انکار ہے اور یہی وجہ ہے کہ اللہ اور اس کے رسو لوں پر ایمان لانے والے اس گمر ہی کے مر تکب ہو سکتے۔ وہ اس سچائی کو ما نتے ہیں جو پیغمبر اسلام محمد رسول ﷺ پر بھی ان کا ایمان ہے جو ان سے پہلے نا زل ہوچکی ہیں اور آخرت کی زندگی پر بھی ان کا پختہ یقین ہے کہ یہی تعلیم سا رے انبیاء کر ام کی تھی سو یہی لوگ ہیں جو اپنے پروردگار کی ٹھہرائی ہوئی ہدایت پر ہیں اور یہی لوگ ہیں جو صحیح معنوں میں کامیاب ہیں ۔ ان کا ایمان ہے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

In the concluding verse (15:22), it has been reaffirmed that salvation in the Hereafter is the lot of those who believe in Him and in all of His prophets as well. Therefore, the Holy Prophet ﷺ said: اِنَ القُرٰانَ یُفَسِرُ بعصُہ بَعضاً One part of the Qur'an explains the other. It is not permissible for anyone to explain the Qur'an in any way contrary to the Tafsir of the Qur'an itself.

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

179. This means that only those who acknowledge God to be their sole object of worship and their only sovereign, and who commit themselves to follow all the Prophets, will merit reward for their acts in the Hereafter. What that reward will be depends on the nature and extent of their acts of goodness. Those who do not either acknowledge the exclusive sovereignty of God or who rebelliously reject some Messengers of God and believe only in those whom they choose to, will not be rewarded, for in God's sight their apparently good acts are essentially not valid. 180. God will be lenient and…

Read the full tafseer →