An-Nisaa 4:150

An-Nisaa · from ayah 150

4:150

اِنَّ الَّذِیْنَ یَكْفُرُوْنَ بِاللّٰهِ وَرُسُلِهٖ وَیُرِیْدُوْنَ اَنْ یُّفَرِّقُوْا بَیْنَ اللّٰهِ وَرُسُلِهٖ وَیَقُوْلُوْنَ نُؤْمِنُ بِبَعْضٍ وَّنَكْفُرُ بِبَعْضٍ ۙ— وَّیُرِیْدُوْنَ اَنْ یَّتَّخِذُوْا بَیْنَ ذٰلِكَ سَبِیْلًا ۙ۟اِنَّ الَّذِيۡنَ يَكۡفُرُوۡنَ بِاللّٰهِ وَرُسُلِهٖ وَيُرِيۡدُوۡنَ اَنۡ يُّفَرِّقُوۡا بَيۡنَ اللّٰهِ وَرُسُلِهٖ وَيَقُوۡلُوۡنَ نُؤۡمِنُ بِبَعۡضٍ وَّنَكۡفُرُ بِبَعۡضٍۙ وَّيُرِيۡدُوۡنَ اَنۡ يَّتَّخِذُوۡا بَيۡنَ ذٰ لِكَ سَبِيۡلًا

جو لوگ خدا سے اور اس کے پیغمبروں سے کفر کرتے ہیں اور خدا اور اس کے پیغمبروں میں فرق کرنا چاہتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم بعض کو مانتے ہیں اور بعض کو نہیں مانتے اور ایمان اور کفر کے بیچ میں ایک راہ نکالنی چاہتے ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

Indeed, those who disbelieve in Allah and His messengers and wish to discriminate between Allah and His messengers and say, "We believe in some and disbelieve in others," and wish to adopt a way in between -

— Saheeh International

Juz 6 · Ruku 21 of surah · Ruku 1 of juz

Read the whole surah · Surah An-Nisaa

All translations of 4:150

جو لوگ اللہ اور اس کے رسولوں سے کفر کرتے ہیں، اور چاہتے ہیں کہ اللہ اور اس کے رسولوں کے درمیان تفریق کریں، اور کہتے ہیں کہ ہم کسی کو مانیں گے اور کسی کو نہ مانیں گے، اور کفر و ایمان کے بیچ میں ایک راہ نکالنے کا ارادہ رکھتے ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

جو لوگ خدا سے اور اس کے پیغمبروں سے کفر کرتے ہیں اور خدا اور اس کے پیغمبروں میں فرق کرنا چاہتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم بعض کو مانتے ہیں اور بعض کو نہیں مانتے اور ایمان اور کفر کے بیچ میں ایک راہ نکالنی چاہتے ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

جو لوگ اللہ کے ساتھ اور اس کے پیغمبروں کے ساتھ کفر کرتے ہیں اور جو لوگ یہ چاہتے ہیں کہ اللہ اور اس کے رسولوں کے درمیان فرق رکھیں اور جو لوگ کہتے ہیں کہ بعض نبیوں پر تو ہمارا ایمان ہے اور بعض پر نہیں اور چاہتے ہیں کہ اس کے اور اس کے بین بین کوئی راه نکالیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

جو لوگ اللہ اور اس کے رسولوں کا انکار کرتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسولوں کے درمیان فرق کرنا چاہتے اور کہتے ہیں کہ کچھ (رسولوں) پر تو ہم ایمان لاتے ہیں اور کچھ کا انکار کرتے ہیں، اور (اس طرح) وہ چاہتے ہیں کہ) کفر اور ایمان کے درمیان) ایک بیچ کی راہ نکال لیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

وہ جو اللہ اور اس کے رسولوں کو نہیں مانتے اور چاہتے ہیں کہ اللہ سے اس کے رسولوں کو جدا کردیں اور کہتے ہیں ہم کسی پر ایمان لائے اور کسی کے منکر ہوئے اور چاہتے ہیں کہ ایمان و کفر کے بیچ میں کوئی راہ نکال لیں

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

بلا شبہ جو لوگ اﷲ اور اس کے رسولوں کے ساتھ کفر کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ اﷲ اور اس کے رسولوں کے درمیان تفریق کریں اور کہتے ہیں کہ ہم بعض کو مانتے ہیں اور بعض کو نہیں مانتے اور چاہتے ہیں کہ اس (ایمان و کفر) کے درمیان کوئی راہ نکال لیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

بیشک وہ لوگ جو اللہ اور اس کے رسولوں کے ساتھ کفر کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ اللہ اور اس کے رسولوں کے درمیان تفریق کریں اور کہتے ہیں ہم بعض کو مانتے ہیں اور بعض کو نہیں مانتے اور چاہتے ہیں کہ اس کے درمیان کوئی راستہ اختیار کریں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

جو لوگ اللہ اور اس کے رسولوں کا انکار کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ اللہ اور اس کے رسولوں کے درمیان تفریق کریں اور کہتے ہیں کہ ہم فلاں فلاں رسول پر تو ایمان لاتے ہیں اور فلاں کا انکار کرتے ہیں اور یہ چاہتے ہیں کہ کفر اور ایمان کے درمیان (ایک تیسری) راہ اختیار کریں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

جو لوگ اور اس کے رسولوں کا کفر کر رہے ہیں اور چاہتے ہی کہ اللہ اور اس کے رسولوں کے درمیان تفریق کریں اور کہتے ہیں کہ ہم بعض پر ایمان لاتے ہیں اور بعض کا انکار کرتے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ ان کے درمیان کوئی راہ نکالیں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

بیشک جو لوگ کفر کرتے ہیں اللہ، اور اس کے رسولوں کے ساتھ، اور وہ چاہتے ہیں کہ (ایمان کے بارے میں) تفریق کریں، اللہ اور اس کے رسولوں کے درمیان، اور وہ کہتے ہیں ہم کسی کو مانیں گے، اور کسی کو نہیں مانیں گے، اور (اس طرح) وہ چاہتے ہیں کہ (کفر و اسلام کے) بیچ ایک راستہ اپنالیں،

— مولانا اسحاق مدنی

بیشک جو لوگ اللہ اور اس کے پیغمبروں سے کفر کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ اللہ اور اس کے پیغمبروں کے درمیان فرق رکھیں اور یہ کہتے ہیں کہ ہم کسی پر تو ایمان لائے ہیں اور کسی کے ہم منکر ہیں۔ اور یہ چاہتے ہیں کہ ایک راہ درمیانی نکالیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

یقیناً وہ لوگ جو کفر کرتے ہیں اللہ اور اس کے رسولوں کا اور وہ چاہتے ہیں کہ تفریق کردیں اللہ اور اس کے رسولوں کے مابین اور وہ کہتے ہیں کہ ہم کچھ کو مانیں گے اور کچھ کو نہیں مانیں گے اور وہ چاہتے ہیں کہ اس کے بین بین ایک راستہ نکال لیں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

جو لوگ اللہ اور اس کے رسولوں کے ساتھ کفر کرتے ہیں، وہ چاہتے ہیں کہ اللہ اور اس کے رسولوں کے درمیان تفریق کریں اور کہتے ہیں کہ ہم کسی کو مانیں گے اور کسی کو نہ مانیں گے اور کفر و ایمان کے بیچ میں ایک راہ نکالنے کا ارادہ رکھتے ہیں

— محترمہ رفعت اعجاز

There are those who disbelieve in Allah and His Messengers and seek to differentiate between Allah and His Messengers, and say: 'We believe in some and deny others, and seek to strike a way between the two.'

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Surely those who disbelieve in Allah and His Messengers, and wish to make division between Allah and His Messengers, and say, :We believe in some (messengers) and disbelieve in some others and wish to take a way in between that,__

— Muhammad Taqi Usmani

Surely those who disbelieve in Allah and His Messengers, and wish to make division between Allah and His Messengers, and say, :We believe in some (messengers) and disbelieve in some others and wish to take a way in between that,__

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Verily, those who disbelieve in Allah and His Messengers and wish to make distinction between Allah and His Messengers saying, "We believe in some but reject others," and wish to adopt a way in between.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Lo! those who disbelieve in Allah and His messengers, and seek to make distinction between Allah and His messengers, and say: We believe in some and disbelieve in others, and seek to choose a way in between;

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Indeed, those who disbelieve in Allah and His messengers and wish to discriminate between Allah and His messengers and say, "We believe in some and disbelieve in others," and wish to adopt a way in between -

— Saheeh International

Those who disbelieve in God and His Messengers try to create differences between God and His Messengers (by rejecting their message). They say, "We believe in some but not in others." Thus, they try to find a middle way

— Muhammad Sarwar

Surely those who disbelieve in Allah and His apostles and (those who) desire to make a distinction between Allah and His apostles and say: We believe in some and disbelieve in others, and desire to take a course between (this and) that.

— Muhammad Habib Shakir

Verily those who disbelieve in Allah and His apostles, and would differentiate between Allah, and His apostles, and say: some we believe in and others we deny; and they would take a way in between this and that.

— Abdul Majid Daryabadi

Those who deny Allah and His messengers, and (those who) wish to separate Allah from His messengers, saying: "We believe in some but reject others": And (those who) wish to take a course midway,-

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 4:150

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 150–152

کسی ایک بھی نبی کو نہ ماننا کفر ہے ! اس آیت میں بیان ہو رہا ہے کہ جو ایک نبی کو بھی نہ مانے کافر ہے، یہودی سوائے حضرت عیسیٰ اور حضرت محمد صلوات اللہ وسلامہ علیہما کے اور تمام نبیوں کو مانتے تھے، نصرانی افضل الرسل خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے سوا تمام انبیاء پر ایمان رکھتے تھے، سامری یوشع ؑ کے بعد کسی کی نبوت کے قائل نہ تھے، حضرت یوشع حضرت موسیٰ بن عمران ؑ کے خلیفہ تھے، مجوسیوں کی نسبت مشہور ہے کہ وہ اپنا نبی زردشت کو مانتے تھے لیکن جب یہ بھی ان کی شریعت کے منکر ہوگئے تو اللہ تعالیٰ نے وہ شریعت ہی ان سے اٹھا لی۔ واللہ اعلم۔ پس یہ لوگ ہیں جنہوں نے اللہ اور اس کے رسولوں میں تفریق کی یعنی…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 149–150

سورة النِّسَآء 177 اس آیت میں مسلمانوں کو ایک نہایت بلند درجہ کی اخلاقی تعلیم دی گئی ہے۔ منافق اور یہودی اور بت پرست سب کے سب اس وقت ہر ممکن طریقہ سے اسلام کی راہ میں روڑے اٹکانے اور اس کی پیروی قبول کرنے والوں کو ستانے اور پریشان کرنے پر تلے ہوئے تھے۔ کوئی بدتر سے بدتر تدبیر ایسی نہ تھی جو وہ اس نئی تحریک کے خلاف استعمال نہ کر رہے ہوں۔ اس پر مسلمانوں کے اندر نفرت اور غصہ کے جذبات کا پیدا ہونا ایک فطری امر تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں اس قسم کے جذبات کا طوفان اٹھتے دیکھ کر فرمایا کہ بدگوئی پر زبان کھولنا تمہارے خدا کے نزدیک کوئی پسندیدہ کام نہیں ہے۔ اس میں شک نہیں کہ تم مظلوم ہو اور اگر…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 150–151

اسلامی مدار نجات ہے کسی مخالف مذہب میں نجات نہیں ہو سکتی قرآن حکیم کے اس واضح فیصلہ نے ان لوگوں کی بےراہی اور کج روی کو پورا طرح کھول دیا ہے، جو دوسرے اہل مذاہب کے ساتھ روا داری میں مذہب اور مذہبی عقلاء کو بطور نوتہ اور ہبہ کے پیش کرنا چاہتے ہیں، اور قرآن و سنت کے کھلے ہوئے فیصلوں کے خلاف دوسرے مذہب والوں کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ مسلمانوں کے نزدیک نجات صرف اسلام میں منحصر نہیں، یہودی اپنے مذہب پر اور عیسائی اپنے مذہب پر رہتے ہوئے بھی نجات پاسکتا ہے، حالانکہ یہ لوگ سب رسولوں کے یا کم از کم بعض رسولوں کے منکر ہیں، جن کے کافر جہنمی ہونے کا اس آیت نے اعلان کردیا ہے۔ اس میں شبہ نہیں کہ اسلام غیر…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 150–152

150۔ 152:۔ اِنَّ الَّذِيْنَ يَكْفُرُوْنَ بِاللّٰهِ وَرُسُلِهٖ وَيُرِيْدُوْنَ اَنْ يُّفَرِّقُوْا بَيْنَ اللّٰهِ وَرُسُلِهٖ وَيَقُوْلُوْنَ نُؤْمِنُ بِبَعْضٍ وَّنَكْفُرُ بِبَعْضٍ ۙ وَّيُرِيْدُوْنَ اَنْ يَّتَّخِذُوْا بَيْنَ ذٰلِكَ سَبِيْلًا۔ اُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْكٰفِرُوْنَ حَقًّا ۚ وَاَعْتَدْنَا لِلْكٰفِرِيْنَ عَذَابًا مُّهِيْنًا۔ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَرُسُلِهٖ وَلَمْ يُفَرِّقُوْا بَيْنَ اَحَدٍ مِّنْهُمْ اُولٰۗىِٕكَ سَوْفَ يُؤْتِيْهِمْ اُجُوْرَهُمْ ۭوَكَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا۔ اہل کتاب کٹر کافر ہیں : ان آیات میں اہل کتاب کی جو فرد قرار داد جرم بیان ہوئی ہے اس کے ہر جزو پر…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 149–150

149۔ 1 کوئی شخص کسی کے ساتھ ظلم یا برائی کا ارتکاب کرے تو شریعت نے اس حد تک بدلہ لینے کی اجازت دی ہے۔ جس حد تک اس پر ظلم ہوا ہے۔ آپس میں گالی گلوچ کرنے والے دو شخص جو کچھ کہیں اس کا گناہ پہل کرنے والے پر ہے (بشرطیکہ) مظلوم (جسے گالی دی گئی اس نے جواب میں گالی دی) زیادتی نہ کرے بدلہ لینے کے ساتھ ساتھ معافی اور درگزر کو زیادہ پسند فرمایا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ خود باوجود قدرت کاملہ کے عفو درگزر سے کام لینے والا ہے۔ اس لیے فرمایا " جَزَاۗءُ سَـيِّئَةٍۢ بِمِثْلِهَا " 10:27 (برائی کا بدلہ اسی کی مثل برائی ہے مگر جو درگزر کرے اور اصلاح کرلے تو اس کا اجر اللہ کے ذمے ہے) اور حدیث میں بھی ہے کہ معاف…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 149–153

76: اشارہ یہ کیا جا رہا ہے کہ اگرچہ مظلوم کو شریعت نے یہ حق دیا ہے کہ وہ ظالم کے ظلم کی حد تک اس کی برائی کرے، لیکن اگر کوئی شخص مظلوم ہونے کے باوجود خطیہ اور علانیہ ہر حالت میں زبان سے ہمیشہ اچھی بات ہی نکالے، اور اپنا حق معاف کردے تو یہ اس کے لیے بڑے ثواب کا کام ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کی صفت بھی یہی ہے کہ وہ سزا پر قدرت رکھنے کے باوجود کثرت سے لوگوں کو معاف کردیتا ہے

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 150–151

یہودیوں کا دعوی یہ تھا کہ وہ اپنے نبیوں پر ایمان رکھتے ہیں لیکن وہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت محمد ﷺ کی رسالتوں کا انکار کرتے تھے ۔ جبکہ نصاری کا موقف یہ تھا کہ وہ صرف حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی رسالت پر ایمان لاتے تھے اور حضرت محمد ﷺ کی رسالت کے وہ بھی منکر تھے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو الہ بھی سمجھتے تھے ۔ قرآن کریم نے ان دونوں کے موقف پر سخت گرفت کی ۔ اور اللہ اور اس کے انبیاء ورسل پر ایمان لانے کا جامع تصور پیش فرمایا جس کا خلاصہ یہ تھا کہ اللہ اور اس کے رسولوں کے درمیان تفریق کرنا بھی غلط ہے اور خود اللہ کے تمام رسولوں کے درمیان فرق کرکے بعض پر ایمان لانا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 150–151

3 یہاں سے ذکر ہے یہود کا۔ چونکہ یہود میں نفاق کا مضمون بہت تھا اور آپ کے زمانہ میں جو منافق تھے وہ یہود تھے یا یہودیوں سے ربط اور محبت رکھنے والے اور ان کے مشورہ پر چلنے والے تھے اس لئے قرآن شریف میں اکثر ان دونوں فریق کا ذکر اکٹھا فرمایا ہے۔ آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ جو لوگ اللہ سے اور اسکے رسولوں سے منکر ہیں اور اللہ اور اس کے رسولوں میں فرق کرنا چاہتے ہیں یعنی اللہ پر ایمان لاتے ہیں اور رسولوں پر ایمان نہیں لاتے اور بعض رسولوں کو مانتے ہیں اور بعض کو نہیں مانتے اور مطلب یہ ہے کہ اسلام اور کفر کے بیچ میں ایک نیا مذہب اپنے لئے نکالیں ایسے ہی لوگ اصل اور ڈھیٹ کافر ہیں۔ ان کے لئے خواری اور ذلت کا…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 150–151

آیت 150 اِنَّ الَّذِیْنَ یَکْفُرُوْنَ باللّٰہِ وَرُسُلِہٖ وَیُرِیْدُوْنَ اَنْ یُّفَرِّقُوْا بَیْنَ اللّٰہِ وَرُسُلِہٖ اکبر کے دین الٰہیکا بنیادی فلسفہ بھی یہی تھا کہ بس دین تو اللہ ہی کا ہے ‘ رسول ﷺ کی نسبت ضروری نہیں ‘ کیونکہ جب دین کی نسبت رسول کے ساتھ ہوجاتی ہے تو پھر دین رسول کے ساتھ منسوب ہوجاتا ہے کہ یہ دین موسیٰ علیہ السلام ہے ‘ یہ دین عیسیٰ علیہ السلام ہے ‘ یہ دین محمد ﷺ ہے۔ اگر رسولوں کا یہ تفرقی عنصر differentiating factor درمیان سے نکال دیا جائے تو مذاہب کے اختلافات کا خاتمہ ہوجائے گا۔ اللہ تو سب کا مشترک common ہے ‘ چناچہ جو دین اسی کے ساتھ منسوب ہوگا وہ دین الٰہی…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

199 اللہ اور اس کے رسولوں کے درمیان تفریق کا مطلب :۔ اللہ اور اس کے رسولوں کا انکار کرنے والوں سے مراد دہریہ نیچری، یا مادہ پرست ہیں اور کچھ لوگ ایسے ہیں کہ اللہ یا خالق کائنات کے وجود کو تو مانتے ہیں لیکن رسولوں کو نہیں مانتے ادر یہ بعض فلاسفروں اور سائنس دانوں کا طبقہ ہے کیونکہ ان کے نظریہ کے مطابق خالق کے بغیر کائنات کا وجود میں آنا اور اس میں ایسا مربوط اور منظم نظام پایا جانا عقلاً محال ہے۔ اور تیسرا گروہ وہ ہے جو اللہ پر اور اس کے بعض رسولوں پر ایمان لاتا ہے اور بعض پر نہیں لاتا۔ جیسے یہود نہ سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) پر اور نہ بعض دوسرے انبیاء پر ایمان لائے اور نہ نبی آخر الزمان پر۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

382 ۔ یہ ارشاد کن لوگوں کی طرف ہے ؟ اس باب میں بہت کچھ بحث ہوئی ہے۔ بہرحال اتنا تو صاف ہے کہ اصل ارشاد یہود کی جانب ہے جو انبیاء سابقین میں سے بہتوں کے تو قائل تھے۔ لیکن اپنے ہی سلسلہ کے انبیاء میں سے حضرت یحییٰ اور حضرت عیسیٰ (علیہما السلام) کے منکر تھے۔ اور پھر نبوت مصطفوی کے۔ لیکن قرآن کے الفاظ عام ہیں اور ان کے تحت میں نہ صرف مسیحی آجاتے ہیں، جو نبوت مصطفوی کے تو صاف منکر، اور رسالت مسیح (علیہ السلام) کے بھی منکر ہو کر الوہیت مسیح (علیہ السلام) کے قائل ہوگئے ہیں۔ بلکہ آج کل کے بہت سے ” آزاد خیال “ اور ” روشن خیال “ بھی اس ذلیل میں آجاتے ہیں۔ یورپ میں ایک فرقہ (خدا پرستوں) کا کہلاتا ہے،…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 148–151

آیت نمبر 148 تا 152 ترجمہ : اللہ کسی کی یہ بات پسند نہیں کرتا کہ کوئی کسی کی بدگوئی کرے یعنی بدگوئی پر سزا دے گا، البتہ مظلوم کو (بیان ظلم کی) اجازت ہے، یہ کہ اپنے ظالم کے ظلم کو افشا کرے اور اس کے لئے بد دعاء کرے، (تو اللہ اس افشاء ظلم پر مواخذہ نہ کرے گا) ، اور جو کچھ کہا جاتا ہے اللہ اس کو سننے والا ہے اور جو کچھ کیا جاتا ہے اس کو جاننے والا ہے، اور اگر تم اعمال نیک میں سے کوئی عمل اعلانیہ کرو یا اس کو چھپا کر کرو یا ظلم کو معاف کردو (تو بہت خوب ہے اسلئے کہ اللہ کی بھی یہی صفت ہے) کہ وہ (انتقام پر) قدرت رکھنے کے باوجود بڑا معاف کرنے والا ہے جو لوگ اللہ سے اور اس کے رسول سے کفر کرتے ہیں اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ان الذین یکفرون باللہ ورسلہ جو لوگ اللہ اور اس کے پیغمبروں کا انکار کرتے ہیں۔ بغوی نے لکھا ہے یہ آیت یہودیوں کے حق میں نازل ہوئی کیونکہ یہودیوں نے جب محمد ﷺ کا اور قرآن کا اور عیسیٰ ( علیہ السلام) اور انجیل کا انکار کیا تو گویا سب پیغمبروں کا انکار کیا کیونکہ ہر پیغمبر دوسرے کی تصدیق کرتا ہے اور چونکہ اللہ کے احکام کا انہوں نے انکار کیا تھا تو گویا اللہ کا انکار کردیا۔ ویریدون ان یفرقوا بین اللہ ورسلہ اور چاہتے ہیں اللہ کے اور اس کے پیغمبروں کے درمیان فرق رکھنا کہ اللہ کو تو مانتے ہیں اور پیغمبروں کا انکار کرتے ہیں جیسے مشرک (کہ صرف خدا کو مانتے ہیں) اور یہودی کہ اللہ اور موسیٰ ( علیہ السلام)…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 150–151

(150۔ 151) یعنی کعب اور اس کے ساتھی نبوت اور اسلام میں فرق چاہتے ہیں اور بعض کتابوں اور بعض رسولوں پر ایمان لاتے اور بعض کا انکار کرتے ہیں اور یہ چاہتے ہیں کہ کفر و ایمان کے بیچ ایک نیا مفاد پرستانہ راستہ نکال لیں، ہم نے ان یہود وغیرہ کے لیے آخرت میں سخت ترین عذاب تیار کر رکھا ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

اِنَّ الَّذِيْنَ يَكْفُرُوْنَ باللّٰهِ وَرُسُلِهٖ…. منافقین کے قبیح اعمال و اقوال بیان کرنے کے بعد اب یہاں سے اہل کتاب (یہود و نصاریٰ) کے خیالات و شبہات اور ان کی تردید کا بیان شروع ہو رہا ہے اور یہ سلسلہ سورت کے آخر تک چلا گیا ہے۔ (رازی) اللہ تعالیٰ کو ماننا اور رسالت و نبوت کو نہ ماننا کفر ہے۔ (قرطبی) اس لیے کہ اللہ کا ماننا یہی ہے کہ زمانے کے پیغمبرکا حکم مانے، اس کے بغیر اللہ کا ماننا غلط ہے۔ (موضح) نیز اللہ کے احکام ماننے سے انکار اس کا بندہ ہونے سے انکار ہے اور بندگی (عبادت) سے انکار کا مطلب کائنات کو بنانے والے کا انکار ہے۔ وَيُرِيْدُوْنَ اَنْ يُّفَرِّقُوْا بَيْنَ اللّٰهِ وَرُسُلِهٖ۔۔…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 150–151

آیت نمبر : 150 تا 151۔ اس آیت میں تین مسائل ہیں : مسئلہ نمبر : (1) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” ان الذین یکفرون “۔ پہلے مشرکین ومنافقین کا ذکر فرمایا تو اب اہل کتاب میں سے کفار کا ذکر فرمایا، کیونکہ انہوں نے حضرت محمد ﷺ کا انکار کیا تھا، اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا کہ محمد ﷺ کا انکار تمام انبیاء کا انکار ہے، کیو کہ ہر نبی نے اپنی قوم کو حضرت محمد ﷺ اور تمام انبیاء پر ایمان لانے کا حکم فرمایا۔ (آیت) ” یریدون ان یفرقوا بین اللہ ورسلہ “۔ کا معنی یہ ہے اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے اور اس کے رسل پر ایمان لانے میں فرق کرنا، اللہ تعالیٰ نے یہ بیان فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسل پر ایمان لانے میں…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 150–152

(1) عبد بن حمید و ابن جریر نے قتادہ (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ یہ لوگ یہودی اور نصرانی اللہ کے دشمن ہیں یہودی تورات اور موسیٰ پر ایمان لائے اور انجیل اور عیسیٰ کا انکار کیا (اسی طرح) نصرانی انجیل اور عیسیٰ پر ایمان لائے اور قرآن اور محمد ﷺ کا انکار کیا انہوں نے یہودیت اور نصرانیت کو اپنا لیا جو (دونوں کی اپنی طرف سے) اختراع ہیں (اور) اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہیں ہیں اور لوگوں نے اسلام کو چھوڑا حالانکہ یہی اللہ کا دین ہے جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں کو بھیجا۔ امام ابن جریر (رح) نے سدی اور ابن جریج رحہما اللہ سے اسی طرح روایت کیا۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ اِنَّ : بیشک ] [ الَّذِیْنَ : جو لوگ ] [ یَکْفُرُوْنَ : انکار کرتے ہیں ] [ بِاللّٰہِ : اللہ کا ] [ وَرُسُلِہٖ : اور اس کے رسولوں کا ] [ وَیُرِیْدُوْنَ : اور چاہتے ہیں ] [ اَنْ : کہ ] [ یُّفَرِّقُوْا : وہ فرق کریں ] [ بَیْنَ اللّٰہِ وَرُسُلِہٖ : اللہ اور اس کے رسولوں کے درمیان ] [ وَیَــقُوْلُوْنَ : اور وہ لوگ کہتے ہیں کہ ] [ نُــؤْمِنُ : ہم ایمان لاتے ہیں ] [ بِبَعْضٍ : کسی پر ] [ وَّنَــکْفُرُ : اور انکار کرتے ہیں ] [ بِبَعْض : کسی کا ] [ وَّیُرِیْدُوْنَ : اور چاہتے ہیں ] [ اَنْ : کہ ] [ یَّــتَّخِذُوْا : وہ بنائیں ] [ بَیْنَ ذٰلِکَ : اس کے درمیان ] [ سَبِیْلاً : ایک راستہ ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 150–152

اللہ تعالیٰ پر اور اس کے تمام رسولوں پر ایمان لانا فرض ہے صاحب معالم التنزیل صفحہ 494: ج 1 میں لکھتے ہیں کہ آیت (اِنَّ الَّذِیْنَ یَکْفُرُوْنَ باللّٰہِ وَ رُسُلِہٖ ) یہودیوں کے بارے میں نازل ہوئی یہ لوگ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لائے اور توریت پر ایمان لائے اور عزیر (علیہ السلام) پر ایمان لائے اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ پر ایمان نہ لائے ان کے ساتھ کفر کیا اور انجیل اور قرآن کے بھی منکر ہوئے۔ ان لوگوں نے ایسا راستہ نکالا کہ اللہ پر تو ایمان لائیں اور اس کے رسولوں میں سے بعض پر ایمان لائیں اور بعض کا انکار کریں۔ جو شخص صرف اللہ پر ایمان لائے اور کسی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 148–152

حکم سنی ام۔ جو از شکایت ظالم برائے مظلوم وفضیلت عفو۔ قال تعالیٰ لایحب اللہ الجھر بالسوء۔۔۔ الی۔۔۔ قدیرا۔ ربط) گزشتہ آیات میں منافقین کے جبلی کج طبعی اور آیات خداوندی میں ان کی طعنہ زنی اور عیب جوئی اور مسلمانوں پر ان کے مظالم بیان کیے گئے اب ان آیات میں یہ نصیحت فرماتے ہیں کہ اللہ بڑا حلیم وکریم اور ستا رالعیوب ہے کسی کا عیب ظاہر کرنا اور کسی کی برائی کرنا اور کسی کا پردہ فاش کرنا پسند نہیں کرتا اسی طرح ہم کو بھی حلم اور پردہ پوشی سے کام لینا چاہیے ہاں مگر جس کسی پر ظلم ہوا ہو سو وہ مظلوم اگر ظالم کی برائی یا زیادتی کا افشا کرے تو کچھ مضائقہ نہیں لیکن اگر معاف کردے تو وہ اور بہتر ہے اس لیے کہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 150–151

98 یہ اہل کتاب یعنی یہود کے لیے زجر ہے۔ وَیُرِیْدُوْنَ میں واؤ تفسیریہ ہے یعنی وہ چاہتے ہیں کہ اللہ پر تو ایمان لے آئیں لیکن اس کے تمام رسولوں پر ایمان نہ لائیں وَیَقُوْلُوْنَ نُوْمِنُ بِبَعْضٍ وَ نَکْفُرُ بِبَعْضٍ بلکہ وہ کہتے ہیں ہم بعض رسولوں پر تو ایمان لاتے ہیں اور بعض کو نہیں مانتے یہ لوگ ایمان اور کفر کے درمیان ایک راستہ نکالنا چاہتے ہیں لیکن یاد رکھو یہ لوگ پکے کافر ہیں ان کے کفر میں رائی برابر شک و شبہ کی گنجائش نہیں اور وہ بالکل ان کافروں کی طرح پورے اور کامل کافر ہیں جو تمام پیغمبروں کے منکر ہیں والمعنی اولئک ہم الکافرون کفرا کاملا ثابتا حقا یقینا (کبیر ج 3 ص 497) وَ اَعْتَدْنَا سے…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 148–152

ربط آیات : گزشتہ درس میں اللہ تعالیٰ نے منافقوں کی بعض کارگزاریوں کا تذکرہ فرمایا تھا ، خاص طور پر ان کی کفار کے ساتھ دوستی کی مذمت بیان کی گئی تھی اور ساتھ ساتھ مومنوں کو یہ بات سمجھائی گئی تھی کہ وہ کافروں کو کسی صورت میں بھی اپنا دلی دوست نہ بنائیں۔ اللہ تعالیٰ نے یہ بھی واضح کیا کہ منافقوں کا کفار کے ساتھ دوستانہ حصول عزت کے لئے ہوتا ہے ، مگر انہیں کبھی عزت حاصل نہیں ہوسکتی کیونکہ یہ تو ساری کی ساری اللہ تعالیٰ کے پاس ہے جسے وہ عزت نہ دینا چاہے اسے دنیا میں کہیں عزت نصیب نہیں ہوسکتی۔ فرمایا عزت کا مالک تو اللہ ہے اور پھر دنیا میں سب سے زیادہ عزت والا اللہ کا رسول ہے اور اس کے بعد کامل…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اِنَّ الَّذِيْنَ يَكْفُرُوْنَ بِاللہِ وَرُسُلِہٖ وَيُرِيْدُوْنَ اَنْ يُّفَرِّقُوْا بَيْنَ اللہِ وَرُسُلِہٖ وَيَقُوْلُوْنَ نُؤْمِنُ بِبَعْضٍ وَّنَكْفُرُ بِبَعْضٍ۝ 0ۙ وَّيُرِيْدُوْنَ اَنْ يَّتَّخِذُوْا بَيْنَ ذٰلِكَ سَبِيْلًا۝ 150ۙ كفر الكُفْرُ في اللّغة : ستر الشیء، ووصف اللیل بِالْكَافِرِ لستره الأشخاص، والزّرّاع لستره البذر في الأرض، وأعظم الكُفْرِ : جحود الوحدانيّة أو الشریعة أو النّبوّة، والکُفْرَانُ في جحود النّعمة أكثر استعمالا، والکُفْرُ في الدّين أكثر، والکُفُورُ فيهما جمیعا قال : فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99] ( کر ) الکفر اصل میں کفر کے معنی کیس چیز کو چھپانے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 148–152

ترکیب : بالسوء ‘ الجہر سے متعلق ہے ای لایحب أن یجھر بالسوء من القول بیان ہے السوء کا الامن استثناء منقطع ہے موضع نصب میں بعض کہتے ہیں متصل ہے اے لا یحب ان یجھر بالسوء احد من ظلم فلا باس علیہ ان یخبر عن ظلم ظالمہ ویدعوا علیہ عند الحکام حقا مفعول مطلق ای حق ذلک حقا اور ممکن ہے کہ حال ہو ای اولئک ھم الکافرون غیر شک۔ تفسیر : منافقوں اور گنہگاروں کو توبہ و استفغار کرنے اور خدا کی طرف رجوع کرنے کا اس خوبی اور عمدہ پیرایہ سے بیان ہوا تھا کہ جس سے طبائعِ سلیمہ پر عمدہ اثر پڑتا ہے مگر بعض لوگ ان کے ایمان لانے اور خدا کی طرف رجوع کرنے کے بعد بھی ان کے عیوب گذشتہ بیان کرکے طعن و طنز کیا کرتے تھے اس…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 150–152

اِنَّ الَّذِیْنَ یَکْفُرُوْنَ بِاللّٰہِ وَ رُسُلِہٖ وَ یُرِیْدُوْنَ اَنْ یُّفَرِّقُوْا بَیْنَ اللّٰہِ وَ رُسُلِہٖ وَ یَقُوْلُوْنَ نُؤْمِنُ بِبَعْضٍ وَّ نَکْفُرُ بِبَعْضٍ لا وَّیُرِیْدُوْنَ اَنْ یَّتَّخِذُوْا بَیْنَ ذٰلِکَ سَبِیْلًا لا اُولٰٓئِکَ ہُمُ الْکٰفِرُوْنَ حَقًّا ج وَاَعْتَدْنَا لِلْکٰفِرِیْنَ عَذَابًامُّہِیْنًا وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰہِ وَ رُسُلِہٖ وَ لَمْ یُفَرِّقُوْا بَیْنَ اَحَدٍ مِّنْہُمْ اُولٰٓئِکَ سَوْفَ یُؤْتِیْہِمْ اُجُوْرَہُمْ ط وَکَانَ اللّٰہُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا ع ” بیشک جو لوگ کفر کرتے ہیں اللہ اور اس کے رسولوں کے ساتھ اور چاہتے ہیں کہ فرق کریں اللہ اور اس کے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 150–151

فہم القرآن ربط کلام : منافقوں کے بعد کفار کی ایک اور قسم اور ان کے کفر کا بیان۔ یہاں کفار کے ایسے کفر کی نشاندہی کی گئی ہے جس سے کچھ لوگ مخلص مسلمانوں کو مغالطہ دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ اگر کوئی شخص نبی آخر الزمان ﷺ یا کسی ایک نبی کا انکار کرتا ہے تو اسے اسلام سے خارج نہیں سمجھنا چاہیے ایسے لوگ بھول جاتے ہیں کہ ایمان کا پہلا اور آخری تقاضا یہ ہے کہ ہر حال میں اللہ تعالیٰ کا حکم تسلیم کیا جائے۔ اللہ تعالیٰ نے جس ایمان کا انسان سے مطالبہ کیا ہے اس کے کئی اجزاء ہیں جسے شرعی اصطلاح میں ایمان مفصّل کہا جاتا ہے جب تک ایمان کے تمام اجزاء کو تسلیم نہیں کیا جاتا کسی آدمی کو ایمان دار کہلوانے کا حق…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 150 : اِنَّ الَّذِیْنَ یَکْفُرُوْنَ بِاللّٰہِ وَرُسُلِہٖ وَ یُرِیْدُوْنَ اَنْ یُّفَرِّقُوْا بَیْنَ اللّٰہِ وَرُسُلِہٖ وَیَقُوْلُوْنَ نُؤْمِنُ بِبَعْضٍ وَّنَکْفُرُ بِبَعْضٍ (بیشک وہ لوگ جو اللہ اور اس کے رسولوں کا انکار کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ اللہ اور اس کے پیغمبروں کے درمیان فرق رکھیں اور کہتے ہیں ہم بعض پیغمبروں کو مانتے ہیں اور بعض کو سچا نہیں مانتے) جیسے یہود جنہوں نے حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) اور حضرت محمد ﷺ کا انکار کیا اور اسی طرح انجیل اور قرآن مجید کا انکار کیا۔ اور نصرانیوں کی طرح کہ جنہوں نے حضرت محمد ﷺ اور قرآن کا انکار کیا۔ وَّیُرِیْدُوْنَ اَنْ یَّـتَّخِذُوْا بَیْنَ ذٰلِکَ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

150۔ (آیت)” ان الذین یکفرون باللہ ورسولہ “۔ یہ آیت یہود کے بارے میں نازل ہوئی کہ وہ موسیٰ (علیہ السلام) اور توریت اور عزیر (علیہ السلام) پر ایمان لائے اور عیسیٰ (علیہ السلام) کا انکار کردیا اور انجیل کا انکار کر دے اور محمد ﷺ اور قرآن کریم کا انکار کیا ۔ (آیت)” ویریدون ان یفرقوا بین ۔۔۔۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔۔۔۔۔ بین ذلک سبیلا “۔ وہ راستہ جو یہود اور مسلمانوں کے درمیان ہے اور وہ راستہ جس پر وہ چلتے ہیں ۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 150–152

(150 ۔ 152) ۔ منافقوں کے ذکر کے بعد ان آیتوں میں یہود کا ذکر ہے۔ قرآن شریف میں اکثر جگہ منافقوں کا اور یہود کا ذکر اس لئے ساتھ آیا ہے کہ منافقوں کی اور یہود کی حالت ملتی جلتی ہے کیونکہ جس طرح منافق لوگ ظاہر میں اپنے آپ کو اسلام کا پابند کہتے ہیں اور حقیقت میں اسلام کے پابند نہیں ہیں۔ بہت سی آیتیں تورات کی انہوں نے بدل ڈالی ہیں۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ بدسلوکی انہوں نے کی وہ بالکل تورات کے برخلاف ہے تورات کے موافق نبی آخر الزماں کا پہلے انہیں اقرار تھا۔ لیکن نبی آخر الزمان کے پیدا ہونے کے بعد ان کی نبوت کے منکر ہوگئے جو ان کا انکار تورات کے برخلاف ہے۔ عبادہ بن صامت ؓ کی صحیحین میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 148–151

آیت 149 اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ وہ اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ کوئی علانیہ بری بات کہے، یعنی اللہ تعالیٰ اس شخص سے سخت ناراض ہوتا ہے اور اس پر سزا دیتا ہے۔ اس میں وہ تمام برے اقوال شامل ہیں جو تکلیف دہ اور صدمہ پہنچانے والے مثلاً گالی گلوچ، قذف اور سب دشتم کرنا۔ اس لئے کہ ایسے تمام اقوال سے منع کیا گیا ہے جنہیں اللہ تعالیٰ ناپسند کرتا ہے۔ اس آیت کریمہ کا مفہوم مخالف یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اچھی بات کو پسند کرتا ہے مثلاً ذکر الٰہی اچھا اور نرم پاکیزہ کلام، وغیرہ (الا من ظلم) ” مگر وہ جو مظلوم ہو۔ “ یعنی جس شخص پر ظلم کیا گیا ہو وہ ظلم کرنے والے کے لئے بد دعا کرسکتا ہے، شکایت کرسکتا…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 148–160

مظلوم کی آہ سے بچو قول باری ہے لایحب اللہ الجھربالتوء من القول الامن ظلم، اللہ اس کو پسند نہیں کرتا کہ آدمی بدگوئی پر زبان کھولے، الا یہ کہ کسی پر ظلم کیا گیا ہو۔ حضرت ابن عباس ؓ اور قتادہ کا قول ہے ” الایہ کہ مظلوم اپنے ظالم کے لئے بددعا کرے “۔ مجاہد سے ایک روایت ہے ” الایہ کہ مظلوم ظالم کی طرف سے ڈھائے جانے والے ظلم کی لوگوں کو اطلاع دے “۔ حسن اور سدی کا قول ہے ” الایہ کہ مظلوم ظالم سے اپنا بدلہ لے لے “۔ فرات بن سلیمان نے ذکر کیا ہے کہ عبدالکریم سے اس قول باری کے معنی پوچھے گئے تو انہوں نے کہا ” یہ وہ شخص ہے جو تمہیں برا بھلا کہتا ہے اور جواب میں تم بھی اسے برا بھلا کہہ دیتے ہو لیکن اگر وہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

388 رسول کا انکار اللہ کے ساتھ کفر ہے : سو جو لوگ چاہتے ہیں کہ وہ تفریق کریں اللہ اور اس کے رسولوں کے درمیان اور اس طرح وہ اس کے رسولوں پر ایمان نہیں لاتے، خواہ سب پر، خواہ بعض پر۔ تو وہ یقینا کفر پر ہیں۔ پس معلوم ہوا کہ رسول کا انکار اور اس کے ساتھ کفر خدا کے ساتھ کفر ہے ۔ والعیاذ با اللہ ۔ پس اللہ تعالیٰ پر ایمان کا دعویٰ جب ہی صحیح اور معتبر ہوسکتا ہے جبکہ اس کے سب رسولوں پر ایمان لایا جائے۔ پس جو لوگ اللہ کے رسولوں پر ایمان نہیں رکھتے انکے ایمان کا کوئی اعتبار نہیں خواہ سب پر ایمان نہ لائیں، جیسا کہ دور حاضر کے بہت سے ملحدین کا کہنا اور ماننا ہے کہ ان لوگوں کے نزدیک رسول جو کچھ کہتے ہیں…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 150–151

مکمل کفر اور اس کی سزا تشریح : ان آیات میں کفار کے کفر کی خوب وضاحت کی گئی ہے کیونکہ وہ کہتے ہیں ہم کچھ رسولوں پر ایمان لاتے ہیں کچھ پر ایمان نہیں لاتے گویا وہ اپنی طرف سے ایک نیا دین بنانا چاہتے ہیں۔ کیونکہ اسلام میں ہرگز اجازت نہیں کہ کچھ رسولوں کو مانو اور کچھ کو نہ مانو۔ تو اللہ رب العزت فرماتے ہیں یہ لوگ پکے کافر ہیں اور ان کے لیے ہم نے ایسی سزا تیار کرکے رکھی ہے جو ان کو ذلیل و خوار کر دے گی۔ کیونکہ اللہ پر ایمان لانا اس کے رسول پر اور ان تمام رسولوں پر جو پہلے گزر چکے نیز ان تمام کتابوں پر ایمان لانا جو ان تمام رسولوں پر نازل کی گئیں اور روز آخرت پر ایمان لانا، جو شخصان میں سے کسی ایک…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 142–152

رکوع نمبر 21 ۔ آیات 142 تا 152 ۔ اسرار و معارف : منافقین درحقیقت اللہ کو دھوکا دینا چاہ رہے ہیں جب مومنین کو یا رسول اللہ ﷺ کو دھوکا دیا تو گویا خود اللہ کو دھوکا دینے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں کہ اعمالکا اجر تو اللہ کریم کی طرف سے ملے گا ہاں وقتی طور پر اللہ کے بندے دھوکا کھا جائیں گے اور منافق کو مسلمان سمجھ بیٹھیں گے اللہ کریم بھی انہیں اس جرم کی بہت سخت سزا دے گا۔ یہ ایسے بدبخت ہیں کہ نماز کے لیے بھی کھڑے ہوں گے تو نہایت بددلی کے ساتھ ویسے تو کسل سے سستی مراد ہوتی ہے مگر یہاں جسمانی سستی کی نسبت ایمانی سستیپائی جاتی ہے ورنہ بظاہر تو شاید بڑے اہتمام سے کھڑے ہوتے ہوں گے۔ کہ وہ پڑھتے ہی لوگوں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 3 منافقین کے قبائح بیان کرنے کے بعد یہاں سے اہل کتاب (یہود نصاری ٰ ) کے خیالات اور شبہات اور ان کی تر دید کا بیان شروع ہو رہا ہے اور یہ سلسلئہ بینا سورت کے آخرتک چلا گیا ہے (کبیر) اللہ تعالیٰ کو ماننا اور رسالت و نبوت اور شرئع کا انکار کفر ہے (قرطبی) اس لیے کہ اللہ کا ماننا یہی ہے کہ زمانہ کے پیغمبر کا حکم مانے اس کے بغیر اللہ کا ماننا غلط ہے۔ (مو ضح) نیز شرائع کا انکار عبودیت کا انکار ہے اور عبودیت کا انکار صانع کے انکار کو مستلزم ہے (قرطبی)4 مراد اہل کتاب ہیں اور عطف تفسیری ہے (قرطبی) یہود حضرت موسیٰ ٰ ( علیہ السلام) پر ایمان رکھتے اور حضرت عیسیٰ ٰ ( علیہ السلام) اور حضرت عیسیٰ ٰ ( علیہ…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 149–150

(4:149) تبدوا۔ مضارع جمع مذکر حاضر۔ اصل میں تبدون تھا۔ ان کی وجہ سے نون اعرابی گرگیا۔ ابداء سے۔ تم ظاہر کرو۔ تعفوا عن۔ عفو سے جمع مذکر حاضر۔ یہ بھی اصل میں تعفون تھا۔ ان شرطیہ کی وجہ سے نون اعرابی گرگیا۔ عقاعن۔ معاف کرنا۔ سزا نہ دینا۔ تعفوا عن۔ تم برائی کو معاف کردو۔ تم دوگزر کرو۔ تم برائی کی سزا نہ دو ۔ عفوا۔ بروزن فعول عفو سے مبالغہ کا صیغہ ہے اور عفو کے معنی برائی سے یا گناہ سے درگزر کرنے کے ہیں۔ عفوا۔ بہت زیادہ معاف کرنے وعالا۔ یہ اللہ تعالیٰ کے اسماء حسنیٰ میں سے ہے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 148–152

آیت نمبر 148-152 لغات القرآن : لایحب اللہ، اللہ کو پسند نہیں ہے۔ الجھر بالسوء، برائی کو کھلم کھلا کہنا۔ لم یفرقوا، نہیں تفریق کرتے۔ تشریح : وہ سب پکے کافر ہیں جو (1) نہ اللہ کو مانتے ہیں نہ رسالت کو یا (2) اللہ کو مانتے ہیں۔ رسالت کو نہیں مانتے یا (3) کسی رسول کو مانتے ہیں کسی کو نہیں مانتے۔ اور جو توحید اور شرک کے درمیان کوئی ایسی راہ ڈھونڈ رہے ہیں کہ اللہ بھی مل جائے اور صنم بھی۔ ان سب کے لئے بڑی ذلت کا عذاب بھڑک رہا ہے۔ دنیا کے مذاہب کو دیکھئے بہت سے مذاہب اللہ کو بلکہ کسی معبود کو نہیں مانتے۔ بہت سے مذاہب بہت سے معبودوں کو مانتے ہیں۔ ہندو بتوں کو، بدھ کنفیوشس کو لیکن سکھ رسالت ہی کو نہیں…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 150–152

جس کا مطلب یہ ہے کہ کہ تم اس کے بندوں سے درگز کرو وہ تم سے درگزر فرمائے گا ۔ تم زمین والوں پر رحم کرو آسمان والا تم پر رحم کرے گا ۔ شان نزول : یہ آیت یہود اور نصاری کے حق میں نازل ہوئی کہ یہود حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لائے اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور آنحضرت ﷺ کے ساتھ کفر کیا ۔ بعض رسولوں پر ایمان لانا انہیں کفر سے نہیں بچاتا ۔ کیونکہ ایک نبی کا انکار بھی تمام انبیاء کے برابر ہے ۔ پھر فرمایا جو توریت کے موافق نبی آخر الزماں ﷺ اور سب انبیاء (علیہ السلام) کو مانتے ہیں یہ لوگ پورے ایمان دار ہیں ۔ ان کو عقبیٰ میں بڑا اجر ملنے والا ہے ۔ اگر ان کے کچھ گناہ ہوں گے تو ان کی توحید کے سبب…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 148–150

اظہار اساء ت : (ف 1) پیشتر کی آیات میں منافقین کی ایک ایک برائی کو واشگاف بیان کیا ہے تاکہ مسلمان انکے شر سے محفوظ رہیں ۔ ان دو آیتوں میں معذرت کی ہے کہ اللہ تعالیٰ کو تنقیص وتحقیر پسند نہیں ۔ الا یہ کہ شر واساءت حد سے بڑھ جائے اس صورت میں نقائص وقبائح کے اظہار میں کوئی مضائقہ نہیں پس منافقین کی مذمت وتذلیل محض مظلومانہ ہے ، ورنہ عیب پوشی اور عفو وحلم ہی بہترین جذبہ ہے ۔ (آیت) ” الجھر بالسوئ “۔ سے مراد وہ افعال ہیں جو فریق ثانی کو صورت تکلف محسوس ہوگا ، یہاں نہیں کیونکہ ان کا جواز کسی حال مین بھی درست نہیں ، قرآن حکیم نے اس سے بشدت روکا ہے چناچہ ارشاد ہے ۔ (آیت) ” ولا تنبزوا بالالقاب بئس…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

Explained with ayahs 149–150

ف 1 اللہ تعالیٰ اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ کوئی کسی کو علانیہ برا کہتا پھرے مگر ہاں وہ شخص کہ جس پر ظلم کیا گیا ہو یعنی مظلوم اپنے ظالم کی نسبت کچھ شکایت وغیرہ کا اظہار کرے تو گناہ نہیں اور اللہ تعالیٰ مظلوم کی خوب سننے والا اور ظالم کے ظلم کو خوب جاننے والا ہے اگر تم علانیہ کوئی بھلا کام کرو یا اس کو خفیہ کردیا کسی کی برائی کو معاف کردو تو یقین جانو ! کہ اللہ تعالیٰ بڑا درگذر اور معاف کرنیوالا اور بڑی قدرت والا ہے۔ (تیسیر) حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یعنی کسی میں عیب دین یا دنیا معلوم کرے تو اس کو مشہور نہ کرے کیونکہ اللہ سنتا اور جانتا ہے وہ ہر کسی کی جزا دے گا اسی کو غنیب کہتے ہیں اس میں…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 150–151

ف 4۔ اس قول اور اس عقیدے سے اللہ کے ساتھ بھی انکار لازم آگیا اور سب رسولوں کے ساتھ بھی کیونکہ اللہ نے ہر رسول نے سب رسولوں کو رسول کہا ہے جب بعض کا انکار ہوا تو اللہ کی اور بقیہ رسولوں کی تکذیب ہوگئی جو کہ ضد ہے تصدیق اور ایمان کی۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

مسلمانوں کی اخلاقی حالت کو درست کرنے کا نسخہ الہی ! کوئی استعمال کرکے تو دیکھے : 238 : اخلاقی حیثیت سے یہ تینوں مر تبے الگ الگ ہیں یہاں کیسی صحیح تر تیب کے ساتھ بیان کیا ہے پہلادرجہ یہ ہے کہ انسان نے نیکی کی اور سا تھ ہی وہ اس کا اظہارا علان بھی کردیتا ہے ‘ کیوں ؟ اس لئے کہ خلق سے داد لینے کی خواہش ایک حد تک طبعی ہے۔ وہ ظا ہر نہیں کرے گا تو داد ملے گی ؟ فرما یا نیکی تو یہ بھی ہے لیکن ـ” ان تُبدُواخَیراََ “ اس لئے اس سے اونچا درجہ یہ ہے کہ نیکی کرے اور خلق سے داد و صلہ کی پر وا ہی نہ رکھے بلکہ اس کو خلق کے علم میں آنے ہے نہ دے بشرطیکہ اس لئے اس کو اس کے بعد بیان فرمایا کی ” اَوتُخفُوہُ “ تیسرا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 150–151

Salvation depends on Islam This clear verdict of the Holy Qur'an has exposed the rudderless and crooked ways of those who, in an effort to appear tolerant in dealings with peoples of other faiths, would like to present their religion and religious beliefs as gifts on a platter. By doing so, they wish to tell - despite and contrary to the clear injunctions of the Qur'an and Sunnah - people of other faiths that Muslims do not think that salvation depends on Islam alone and a Jew could keep to his or her creed and a Christian to his or hers and yet, both could look forward to salvation; though,…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 149–150

177. This verse embodies a moral directive of very high value to the Muslims. The hypocrites, the Jews and the polytheists were all bent on placing all kinds of obstacles in the way of the spread of Islam: They eagerly persecuted the Muslims and used all possible means, however malicious, against them. Such an attitude inevitably created anger and resentment. It was in the context of this storm of bitter feelings that God told the Muslims that He did not consider speaking ill of people as praiseworthy. No doubt the Muslims had been wronged, and if a wronged person speaks out against a…

Read the full tafseer →