Explained with ayahs 148–149
مظلوم کو فریاد کا حق ہے
حضرت ابن عباس ؓ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ کسی مسلمان کو دوسرے کو بد دعا دینا جائز نہیں، ہاں جس پر ظلم کیا گیا ہو اسے اپنے ظالم کو بد دعا دینا جائز ہے اور وہ بھی اگر صبر و ضبط کرلے تو افضل یہی ہے۔ ابو داؤد میں ہے " حضرت عائشہ صدیقہ کی کوئی چیز چور چرا لے گئے تو آپ ان پر بد دعا کرنے لگیں۔ حضور رسول مقبول ﷺ نے یہ سن کر فرمایا ! کیوں اس کا بوجھ ہلکا کر رہی ہو ؟ " حضرت حسن بصری ؒ فرماتے ہیں اس پر بد دعا نہ کرنی چاہئے بلکہ یہ دعا کرنی چاہئے دعا (اللھم اعنی علیہ واستخرج حقی منہ) یا اللہ اس چور پر تو میری مدد کر اور اس سے میرا حق دلوا دے، آپ سے ایک اور روایت میں مروی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 149–150
سورة النِّسَآء 177
اس آیت میں مسلمانوں کو ایک نہایت بلند درجہ کی اخلاقی تعلیم دی گئی ہے۔ منافق اور یہودی اور بت پرست سب کے سب اس وقت ہر ممکن طریقہ سے اسلام کی راہ میں روڑے اٹکانے اور اس کی پیروی قبول کرنے والوں کو ستانے اور پریشان کرنے پر تلے ہوئے تھے۔ کوئی بدتر سے بدتر تدبیر ایسی نہ تھی جو وہ اس نئی تحریک کے خلاف استعمال نہ کر رہے ہوں۔ اس پر مسلمانوں کے اندر نفرت اور غصہ کے جذبات کا پیدا ہونا ایک فطری امر تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں اس قسم کے جذبات کا طوفان اٹھتے دیکھ کر فرمایا کہ بدگوئی پر زبان کھولنا تمہارے خدا کے نزدیک کوئی پسندیدہ کام نہیں ہے۔ اس میں شک نہیں کہ تم مظلوم ہو اور اگر…
Read the full tafseer →معارف و مسائل
ان آیات میں سے پہلی آیت اور دوسری آیت دنیا سے ظلم و جور کے مٹانے کا ایک قانون ہے، مگر عام دنیا کے قوانین کی طرح نہیں جس کی حیثیت صرف آمرانہ ہوتی ہے، بلکہ ترغیب و ترہیب کے انداز کا ایک قانون ہے جس میں ایک طرف تو اس کی اجازت دے دیگئی ہے کہ جس شخص پر کوئی ظلم کرے تو مظلوم اس کے ظلم کی شکایت، یا کسی عدالت میں چارہ جوئی کرسکتا ہے، جو عین عدل و انصاف کا تقاضا اور انسداد جرائم کا ایک ذریعہ ہے لیکن اس کے ساتھ ایک قید بھی سورة نحل کی آیت میں مذکور ہے، وان عاقبتم فعاقیوا بمثل ماعوقبتم بہ ولئن صبرتم لھو خیر للصابرین (آیت نمبر 621) یعنی اگر کوئی شخص تم پر ظلم کرے تو تم بھی اس سے ظلم کا بدلہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 148–149
148۔ 149:۔ لَا يُحِبُّ اللّٰهُ الْجَــهْرَ بِالسُّوْۗءِ مِنَ الْقَوْلِ اِلَّا مَنْ ظُلِمَ ۭ وَكَانَ اللّٰهُ سَمِيْعًا عَلِـــيْمًا۔ اِنْ تُبْدُوْا خَيْرًا اَوْ تُخْفُوْهُ اَوْ تَعْفُوْا عَنْ سُوْۗءٍ فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَفُوًّا قَدِيْرًا۔
تعین اشخاص کے ساتھ برائی کا اظہار صرف مظلوم کے لیے جائز ہے : یہ مسلمانوں کو اسی طرح کی ایک تنبیہ ہے جس طرح کی تنبیہ آیت 86 میں گزرچکی ہے جس طرھ وہاں منافقین سے جب اعراض کا حکم ہوا تو ساتھ ہی مسلمانوں کو یہ ہدایت کردی گئی کہ جو تمہیں سلام کرے تم اس کے سلام کا جواب دو اور مقصود اس سے یہ تھا کہ مبادا پرجوش مسلمان ان لوگوں سے لام کلام ہی بند کردیں جن پر ان کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 149–150
149۔ 1 کوئی شخص کسی کے ساتھ ظلم یا برائی کا ارتکاب کرے تو شریعت نے اس حد تک بدلہ لینے کی اجازت دی ہے۔ جس حد تک اس پر ظلم ہوا ہے۔ آپس میں گالی گلوچ کرنے والے دو شخص جو کچھ کہیں اس کا گناہ پہل کرنے والے پر ہے (بشرطیکہ) مظلوم (جسے گالی دی گئی اس نے جواب میں گالی دی) زیادتی نہ کرے بدلہ لینے کے ساتھ ساتھ معافی اور درگزر کو زیادہ پسند فرمایا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ خود باوجود قدرت کاملہ کے عفو درگزر سے کام لینے والا ہے۔ اس لیے فرمایا " جَزَاۗءُ سَـيِّئَةٍۢ بِمِثْلِهَا " 10:27 (برائی کا بدلہ اسی کی مثل برائی ہے مگر جو درگزر کرے اور اصلاح کرلے تو اس کا اجر اللہ کے ذمے ہے) اور حدیث میں بھی ہے کہ معاف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 149–153
76: اشارہ یہ کیا جا رہا ہے کہ اگرچہ مظلوم کو شریعت نے یہ حق دیا ہے کہ وہ ظالم کے ظلم کی حد تک اس کی برائی کرے، لیکن اگر کوئی شخص مظلوم ہونے کے باوجود خطیہ اور علانیہ ہر حالت میں زبان سے ہمیشہ اچھی بات ہی نکالے، اور اپنا حق معاف کردے تو یہ اس کے لیے بڑے ثواب کا کام ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کی صفت بھی یہی ہے کہ وہ سزا پر قدرت رکھنے کے باوجود کثرت سے لوگوں کو معاف کردیتا ہے
Read the full tafseer →(آیت) ” ان تبدوا خیرا اوتخفوہ اوتعفوا عن سوء فان اللہ کان عفوا قدیرا (4 : 149) (لیکن اگر تم ظاہر و باطن میں بھلائی ہی کئے جاؤ ‘ یا کم از کم برائی سے درگزرکو ‘ تو اللہ کی صفت بھی یہی ہے کہ وہ بڑا معاف کرنیوالا ہے حالانکہ سزا دینے پر پوری قدرت رکھتا ہے۔ “ )
یوں اسلام کا منہاج تربیت نفس مومن اور جماعت مسلمہ کو ایک قدم اور بلند کردیتا ہے پہلا مرحلے میں کہا جاتا ہے کہ کسی شریف انسان کیلئے بدگوئی کے ساتھ منہ کھولنا اچھا نہیں ہے۔ اس مرحلے میں ایک استثنائی صورت یہ رکھی جاتی ہے کہ مظلوم بدگوئی کرکے بدلہ بھی لے سکتا ہے اور حصول انصاف کو بھی ممکن بنا سکتا ہے ۔ دوسرے مرحلے پر اہل ایمان کو آمادہ کیا جاتا…
Read the full tafseer →2 اس آیت میں مظلوم کو معافی کی رغبت دلانی منظور ہے کہ حق تعالیٰ زبردست اور قدرت والا ہو کر خطا والوں کی خطا بخشتا ہے۔ بندہ زیردست عاجز کو تو بطریق اولیٰ دوسروں کا قصور معاف کردینا چاہئے۔ خلاصہ یہ ہوا کہ مظلوم کو ظالم سے بدلہ لینا جائز ہے مگر افضل یہ ہے کہ صبر کرے اور بخش دے۔ آیت میں اشارہ ہے اس طرف کہ منافقوں کی اصلاح چاہتے ہو تو ان کی ایذاء اور شرارت پر صبر کرو اور نرمی اور پردہ سے ان کو سمجھاؤ۔ ظاہر کی طعن اور لعن سے بچو اور کھلا مخالف مت بناؤ۔
Read the full tafseer →آیت 149 اِنْ تُبْدُوْا خَیْرًا اَوْ تُخْفُوْہُ
جہاں تک تو خیر کا معاملہ ہے تم اسے بلند آواز سے کہو ‘ ظاہر کرو یا چھپاؤ برابر کی بات ہے۔ اللہ تعالیٰ کے لیے خیر تو ہر حال میں خیر ہی ہے ‘ عیاں ہو یا خفیہ۔
اَوْ تَعْفُوْا عَنْ سُوْٓءٍ فَاِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَفُوًّا قَدِیْرًا
اپنے ساتھ ہونے والی زیادتی کو معاف کردینا یقیناً نیکی کا ایک اونچا درجہ ہے۔ اس لیے یہاں ترغیب کے انداز میں مظلوم سے بھی کہا جا رہا ہے کہ اگرچہ تمہیں چھوٹ ہے ‘ تمہاری بدگوئی کی بھی تم پر کوئی گرفت نہیں ‘ لیکن زیادتی کی تلافی کا اس سے اعلیٰ اور بلند تر درجہ بھی ہے ‘ تم اس بلند درجے کو حاصل کیوں نہیں کرتے ؟ وہ یہ کہ تم اپنے ساتھ…
Read the full tafseer →198 عفو و درگزر :۔ اس کے برعکس اے مسلمانو ! اگر تم کسی زیادتی کا جواب بھلائی سے دو یا ظالم کو بددعا کی بجائے دعا دو یا علانیہ یا خفیہ اس کی بھلائی کی کوئی تدبیر سوچو یا اس کا قصور معاف بھی کردو تو یہ تمہارے حق میں بہت بہتر ہے۔ کیونکہ تمہارا پروردگار ہر طرح کی قدرت رکھنے کے باوجود ظالموں حتیٰ کہ مشرکوں اور کافروں کو رزق بھی دیئے جاتا ہے اور انہیں مہلت بھی دیئے جاتا ہے اور ضمناً ان آیات سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ جس طرح کسی کی برائی بیان کرنا یعنی غیبت گناہ کبیرہ ہے اسی طرح کسی کے عیب پر پردہ ڈالنا یا پردہ پوشی بہت بڑی نیکی ہے اب معافی اور پردہ پوشی کے متعلق چند احادیث ملاحظہ فرمائیے :
1۔ آپ نے…
Read the full tafseer →380 ۔ (جوبہر صورت افضل اور اولی ہے) انسان اپنے نفس کو ٹٹولے تو نظر آئے کہ کسی کے ساتھ حسن سلوک کرنے یا اس پر مال خرچ کرنے سے کہیں زیادہ شاق نفس پر یہ گزرتا ہے کہ کوئی ہمیں دکھ پہنچائے اور ہم اس سے درگزر کرجائیں، اور انتقام نہ لیں۔ اس لیے فعل خیر سے الگ اور ممتاز کرکے اس وصف چشم پوشی اور عدم انتقام کو بیان کیا ہے۔ فندب الی العفو و رغب فیہ (قرطبی)
381 ۔ اخلاقی حیثیت سے یہ تین مرتبے الگ الگ ہیں۔ اور انہیں یہاں کیسی صحیح ترتیب کے ساتھ بیان کیا ہے۔ (آیت) ” ان تبدوا خیرا “ پہلا درجہ تو یہ ہے کہ انسان نے نیکی کی۔ ساتھ ہی وہ اس کا اظہار واعلان بھی کردیتا ہے۔ خلق سے داد لینے کی خواہش ایک حد تک طبعی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 148–151
آیت نمبر 148 تا 152
ترجمہ : اللہ کسی کی یہ بات پسند نہیں کرتا کہ کوئی کسی کی بدگوئی کرے یعنی بدگوئی پر سزا دے گا، البتہ مظلوم کو (بیان ظلم کی) اجازت ہے، یہ کہ اپنے ظالم کے ظلم کو افشا کرے اور اس کے لئے بد دعاء کرے، (تو اللہ اس افشاء ظلم پر مواخذہ نہ کرے گا) ، اور جو کچھ کہا جاتا ہے اللہ اس کو سننے والا ہے اور جو کچھ کیا جاتا ہے اس کو جاننے والا ہے، اور اگر تم اعمال نیک میں سے کوئی عمل اعلانیہ کرو یا اس کو چھپا کر کرو یا ظلم کو معاف کردو (تو بہت خوب ہے اسلئے کہ اللہ کی بھی یہی صفت ہے) کہ وہ (انتقام پر) قدرت رکھنے کے باوجود بڑا معاف کرنے والا ہے جو لوگ اللہ سے اور اس کے رسول سے کفر کرتے ہیں اور…
Read the full tafseer →ان تبدوا خیرا اگر تم کوئی نیک کام علانیہ کرو۔ خیر سے مراد ہے طاعت اور فرماں برداری۔
بعض علماء نے یہ مطلب بیان کیا ہے کہ بجائے بری بات کہنے کے اگر تم ظالم کے ساتھ بھلائی کرنے کا اظہار کرو اور برائی کو بھلائی سے مٹا دو ۔
اوتخفوہ یا پوشیدہ طور پر کرو۔ بعض علماء کے نزدیک خیر سے مراد ہے مال یعنی ظاہر خیرات کرو یا چھپا کر۔
او تعفوا عن سوء یا برائی سے درگزر کرو یعنی ظالم کے ساتھ بھلائی اگرچہ نہ کرو مگر اس کے ظلم کو اپنے دلوں سے مٹا دو ۔ بیضاوی وغیرہ نے لکھا ہے کہ مظلوم کی طرف سے درگزر کرنا مقصود ہے اور بیان کی اصل غرض یہی ہے بھلائی کرنے کا ذکر تو بطور تمہید کیا گیا ہے کیونکہ آگے فرمایا ہے۔
فان اللہ…
Read the full tafseer →(149) اگر تم خوبی اور بھلائی کے ساتھ جواب دو اور اس کو گھٹیا نہ سمجھو یا ظلم پر درگزر کرو تو اللہ تعالیٰ مظلوم کو معاف کرنے والا اور ظالم کو اس کے ظلم کی سزا دینے والا ہے۔
Read the full tafseer →اِنْ تُبْدُوْا خَيْرًا اَوْ تُخْفُوْهُ اَوْ تَعْفُوْا۔۔ : اس آیت میں معاف کردینے کی ترغیب ہے، یعنی اگرچہ ظالم کا شکوہ یا اس کے حق میں بد دعا جائز ہے، تاہم عفو و درگزر سے کام لینا بہتر ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ خود پوری قدرت رکھنے کے باوجود بہت معاف کرنے والا ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”مال صدقے سے کم نہیں ہوتا اور معاف کردینے سے اللہ تعالیٰ بندے کی عزت میں اضافہ ہی کرتا ہے اور کوئی شخص اللہ کے لیے نیچا نہیں ہوتا مگر اللہ تعالیٰ اسے اونچا کردیتا ہے۔“ [ مسلم، البر والصلۃ، باب استحباب العفو والتواضع : 2588 ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 148–149
آیت نمبر : 148۔ تا 149۔
اس میں تین مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر : (1) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” لا یحب اللہ الجھر بالسوٓء من القول “۔ کلام یہاں مکمل ہوئی، پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (آیت) ” الا من ظلم “۔ یہ استثنا پہلی کلام سے نہیں ہے، یہ محل نصب میں ہے یعنی جس پر ظلم کیا گیا ہو اسے یہ کہنا جائز ہے کہ فلاں نے مجھ پر ظلم کیا اور یہ بھی جائز ہے کہ یہ محل رفع میں ہو تقدیر کلام اس طرح ہو : ” لا یحب اللہ ان یجھر بالسوٓء الا من “ جمہور علماء کی قرات ظلم ظاء کے ضمہ اور لام کے کسرہ کے ساتھ اور لام کا ساکن کرنا بھی جائز ہے، اور جن علماء نے ظلم ظا اور کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے وہ زید بن اسلم، ابن ابی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 148–149
(1) ابن جریر و ابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” لا یحب اللہ الجھر بالسوء من القول “ سے مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ اس بات کو پسند نہیں فرماتے کہ کوئی آدمی کسی کے لئے بددعا کرے مگر یہ کہ وہ مظلوم ہو کیونکہ اس کے لئے اجازت دی گئی کہ وہ ظال کے لئے بددعا کرے اگر وہ صبر کرے گا تو اس کے لئے بہتر ہے۔
(2) ابن جریر و ابن المنذر نے حسن (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ وہ آدمی جو ظلم کر رہا ہے اس کے لئے بددعا نہ کرے لیکن اس کو چاہئے کہ یوں کہے اے اللہ ! اس کے خلاف میری مدد کر۔ اے اللہ ! میرے لئے میرا حق اس سے نکلوا دے میرے اور اس کے زیادتی کے درمیان حائل ہوجا۔
(3) عبد…
Read the full tafseer →[ اِنْ : اگر ] [ تُبْدُوْا : تم لوگ نمایاں کرو ] [ خَیْرًا : کسی بھلائی کو ] [ اَوْ : یا ] [ تُخْفُوْہُ : چھپائو اس کو ] [ اَوْ : یا ] [ تَعْفُوْا : درگزر کرو ] [ عَنْ سُوْٓئٍ : کسی برائی سے ] [ فَاِنَّ : تو یقینا ] [ اللّٰہَ : اللہ ] [ کَانَ : ہے ] [ عَفُــوًّا : بےانتہا درگزر کرنے والا ] [ ؐقَدِیْرًا : قدرت رکھنے والا ]
Read the full tafseer →دوسری آیت میں فرمایا (اِنْ تُبْدُوْا خَیْرًا اَوْ تُخْفُوْہُ اَوْ تَعْفُوْا عَنْ سُوْٓءٍ فَاِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَفُوًّا قَدِیْرًا) (اگر تم خیر کو ظاہر کرو یا اس کو چھپاؤ یا برائی کو معاف کرو تو بلاشبہ اللہ تعالیٰ معاف فرمانے والا قدرت رکھنے والا ہے) اس آیت میں یہ بیان فرمایا کہ جو بھی خیر کا کام کرو گے ظاہراً ہو یا پوشیدہ (عبادت بدنی ہو یا مالی ہو) یا کسی ظلم و زیادتی کو معاف کر دو گے تو اللہ تعالیٰ معاف فرمانے والا ہے۔ قدرت والا ہے وہ تمہارے اعمال کا بدلہ دینے پر قادر ہے اور وہ معاف کرنے والا بھی ہے معاف کرنا بھی بہت بڑا نیک عمل ہے۔
سورة نور میں فرمایا (وَلْیَعْفُوْا وَلْیَصْفَحُوْا اَلاَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 148–152
حکم سنی ام۔ جو از شکایت ظالم برائے مظلوم وفضیلت عفو۔
قال تعالیٰ لایحب اللہ الجھر بالسوء۔۔۔ الی۔۔۔ قدیرا۔
ربط) گزشتہ آیات میں منافقین کے جبلی کج طبعی اور آیات خداوندی میں ان کی طعنہ زنی اور عیب جوئی اور مسلمانوں پر ان کے مظالم بیان کیے گئے اب ان آیات میں یہ نصیحت فرماتے ہیں کہ اللہ بڑا حلیم وکریم اور ستا رالعیوب ہے کسی کا عیب ظاہر کرنا اور کسی کی برائی کرنا اور کسی کا پردہ فاش کرنا پسند نہیں کرتا اسی طرح ہم کو بھی حلم اور پردہ پوشی سے کام لینا چاہیے ہاں مگر جس کسی پر ظلم ہوا ہو سو وہ مظلوم اگر ظالم کی برائی یا زیادتی کا افشا کرے تو کچھ مضائقہ نہیں لیکن اگر معاف کردے تو وہ اور بہتر ہے اس لیے کہ…
Read the full tafseer →97 یہ خطاب مومنوں سے ہے یعنی اگر تم علانیہ کسی پر احسان کرو یا چھپا کر یا کسی کی غلطیوں سے در گذر کرو تو یہ بہت ہی اچھی بات ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ باوجودیہ کہ قدرت کاملہ کا مالک ہے مگر پھر بھی گنہگاروں سے عفو و در گذر فرماتا ہے اس لیے بیشک منافقین کافروں سے دوستی رکھتے ہیں لیکن اس بناء پر تم ان کے خلاف اپنے دلوں میں بغض وعداوت اور انتقام کا جذبہ مت پیدا کرو بلکہ معاف کرو اور در گذر سے کام لو ممکن ہے تمہارا ایسا رویہ ان کے اخلاص کا باعث بن جائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 148–152
ربط آیات : گزشتہ درس میں اللہ تعالیٰ نے منافقوں کی بعض کارگزاریوں کا تذکرہ فرمایا تھا ، خاص طور پر ان کی کفار کے ساتھ دوستی کی مذمت بیان کی گئی تھی اور ساتھ ساتھ مومنوں کو یہ بات سمجھائی گئی تھی کہ وہ کافروں کو کسی صورت میں بھی اپنا دلی دوست نہ بنائیں۔ اللہ تعالیٰ نے یہ بھی واضح کیا کہ منافقوں کا کفار کے ساتھ دوستانہ حصول عزت کے لئے ہوتا ہے ، مگر انہیں کبھی عزت حاصل نہیں ہوسکتی کیونکہ یہ تو ساری کی ساری اللہ تعالیٰ کے پاس ہے جسے وہ عزت نہ دینا چاہے اسے دنیا میں کہیں عزت نصیب نہیں ہوسکتی۔ فرمایا عزت کا مالک تو اللہ ہے اور پھر دنیا میں سب سے زیادہ عزت والا اللہ کا رسول ہے اور اس کے بعد کامل…
Read the full tafseer →اِنْ تُبْدُوْا خَيْرًا اَوْ تُخْفُوْہُ اَوْ تَعْفُوْا عَنْ سُوْۗءٍ فَاِنَّ اللہَ كَانَ عَفُوًّا قَدِيْرًا 149
بدا
بَدَا الشیء بُدُوّاً وبَدَاءً أي : ظهر ظهورا بيّنا، قال اللہ تعالی: وَبَدا لَهُمْ مِنَ اللَّهِ ما لَمْ يَكُونُوا يَحْتَسِبُونَ [ الزمر/ 47]
( ب د و ) بدا
( ن ) الشئ یدوا وبداء کے معنی نمایاں طور پر ظاہر ہوجانا کے ہیں ۔ قرآن میں ہے :۔ وَبَدا لَهُمْ مِنَ اللَّهِ ما لَمْ يَكُونُوا يَحْتَسِبُونَ [ الزمر/ 47] اور ان کیطرف سے وہ امر ظاہر ہوجائے گا جس کا ان کو خیال بھی نہ تھا ۔
خير
الخَيْرُ : ما يرغب فيه الكلّ ، کالعقل مثلا، والعدل، والفضل، والشیء النافع، وضدّه :
الشرّ. قيل : والخیر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 148–152
ترکیب : بالسوء ‘ الجہر سے متعلق ہے ای لایحب أن یجھر بالسوء من القول بیان ہے السوء کا الامن استثناء منقطع ہے موضع نصب میں بعض کہتے ہیں متصل ہے اے لا یحب ان یجھر بالسوء احد من ظلم فلا باس علیہ ان یخبر عن ظلم ظالمہ ویدعوا علیہ عند الحکام حقا مفعول مطلق ای حق ذلک حقا اور ممکن ہے کہ حال ہو ای اولئک ھم الکافرون غیر شک۔
تفسیر : منافقوں اور گنہگاروں کو توبہ و استفغار کرنے اور خدا کی طرف رجوع کرنے کا اس خوبی اور عمدہ پیرایہ سے بیان ہوا تھا کہ جس سے طبائعِ سلیمہ پر عمدہ اثر پڑتا ہے مگر بعض لوگ ان کے ایمان لانے اور خدا کی طرف رجوع کرنے کے بعد بھی ان کے عیوب گذشتہ بیان کرکے طعن و طنز کیا کرتے تھے اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 148–149
لاَ یُحِبُّ اللّٰہُ الْجَہْرَ بِالسُّوْٓئِ مِنَ الْقَوْلِ اِلَّا مَنْ ظُلِمَ ط وَکَانَ اللّٰہُ سَمِیْعًا عَلِیْمًا اِنْ تُبْدُوْا خَیْرًا اَوْ تُخْفُوْہُ اَوْ تَعْفُوْا عَنْ سُوْٓئٍ فَاِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَفُوًّا قَدِیْرًا
” اللہ بدزبانی کو پسند نہیں کرتامگر وہ شخص جس پر ظلم کیا گیا ہو اور اللہ تعالیٰ خوب سننے والا اور جاننے والا ہے۔ اگر تم کوئی نیکی ظاہر کرو یا اسے پوشیدہ رکھو ‘ یا کسی برائی سے درگزر کرو تو اللہ تعالیٰ معاف کرنے والا اور قدرت رکھنے والا ہے۔ “ (النسآء : 148 تا 149)
ان آیتوں کی تشریح میں صاحب تدبر قرآن نے جو کچھ لکھا ہے وہ پڑھنے کے لائق ہے۔ اس لیے ہم اسی کو نقل کر رہے ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 148–149
فہم القرآن
ربط کلام : سابقہ آیات میں منافقوں کی دین اور مسلمانوں کے بارے میں ہرزہ سرائی اور نماز میں جان بوجھ کر غفلت اختیار کرنے کی سزا بیان کرنے کے بعد تائب ہونے والوں کو قدر افزائی کا مژدہ سنایا۔ ہرزہ سرائی سے باز نہ آنے والوں کی ایذا رسانی کے مقابلے میں مومنوں کو ایک حدتک ان کے خلاف لب کشائی کرنے کی اجازت مرحمت فرمائی گئی ہے۔
اللہ تعالیٰ بد اخلاقی کے مقابلے میں بھی بدخلقی کو پسند نہیں کرتا لیکن انسان کمزور اور کم حوصلہ واقع ہوا ہے اس لیے دشمن کی ایذا رسائی کے مقابلہ میں مظلوم اور دکھیارے مسلمانوں کو اخلاقی حدود میں رہتے ہوئے یہ حق دیا گیا ہے کہ وہ ظالم کے ظلم کو آشکار اکر سکیں تاکہ مظلوم…
Read the full tafseer →آیت 149 :
اس آیت میں معافی پر آمادہ کیا اور کوئی شخص کسی کی برائی کو سرعام نہ کہے خواہ بدلہ کے طور پر ہی ہو۔ مظلوم کے لئے ظالم کی مذمت مطلقاً اظہار کی اجازت کے بعد یہاں افضلیت کا ذکر کیا اور خیر کے ظاہر کرنے اور اخفاء کرنے کو معافی کا سبب قرار دیا۔ پس فرمایا۔
معافی پر آمادہ کیا :
اِنْ تُبْدُوْا خَیْرًا (اگر تم نیک کام علانیہ کرو) برائی کو سرعام بیان کرنے کی بجائے۔ اَوْ تُخْفُوْہُ (یا پوشیدہ طور پر کرو) پھر ان دونوں پر عفو کو بطور عطف ذکر کیا۔ اَوْ تَعْفُوْا عَنْ سُوْٓئٍ (یا برائی سے در گزر کرو) یعنی اپنے دلوں سے اس کو مٹا دو ۔
نکتہ : یہاں ابتداء اگرچہ خیر کے ابداء و اخفاء سے کی مگر اصل مقصود…
Read the full tafseer →149۔ (آیت)” ان تبدوا خیرا “ جو ایک نیکی کرے گا اس کو دس نیکیاں دی جائیں گی اگر ان کا ارادہ بھی کرلیا ۔ اگر ان نیکیوں پر عمل بھی نہ کیا ہو تو ایک نیکی لکھ دی جاتی ہے ۔ (آیت)” او تخفوہ “ اس سے مراد خیر ہے یا مال ہے ، اگر تم جو صدقہ دیتے ہو اس کو جہرا دو یا تم چھپا کر دو (آیت)” او تعفوا عن سوائ “ اس کے ظلم سے معاف کردیں گے (آیت)” فان اللہ کا عفوا قدیرا “۔ اور یہ بات اولی ہے کہ اللہ تعالیٰ ان سے درگزر کر دے گا قیامت کے دن ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 148–149
(148 ۔ 149) ۔ لڑائی کے وقت گالی کا منہ سے نکالنا منافقوں کی عادت ہے۔ چناچہ صحیحین میں عبد اللہ بن عمرو بن عاص ؓ کی حدیث 1 میں اس کا ذکر ہے لیکن لڑائی کے وقت پہلے پہل ایک شخص گالی منہ سے نکالے اور بعد اس کے دوسرا مظلوم شخص بغیر کسی زیادہتی کے اسی گالی کے جواب میں گالی دیوے تو وہ منافقانہ عادت میں داخل نہیں ہے اس لئے منافقوں کے ذکر میں اس طرح کی لڑائی جھگڑے کا تذکرہ فرما کر مظلوم شخص کو بری بات کے وبال سے مستثنیٰ فرما دیا مگر ساتھ ہی اس کے سمیعا علیما فرمایا جس کا مطلب یہ ہے کہ اگر مظلوم شخص بدلہ میں کچھ زیادتی کرے گا تو اللہ اس کا سنتاجانتا ہے اور اس زیادتی کا مواخذہ مظلوم سے کرے گا۔ صحیح مسم،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 148–151
آیت 149
اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ وہ اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ کوئی علانیہ بری بات کہے، یعنی اللہ تعالیٰ اس شخص سے سخت ناراض ہوتا ہے اور اس پر سزا دیتا ہے۔ اس میں وہ تمام برے اقوال شامل ہیں جو تکلیف دہ اور صدمہ پہنچانے والے مثلاً گالی گلوچ، قذف اور سب دشتم کرنا۔ اس لئے کہ ایسے تمام اقوال سے منع کیا گیا ہے جنہیں اللہ تعالیٰ ناپسند کرتا ہے۔ اس آیت کریمہ کا مفہوم مخالف یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اچھی بات کو پسند کرتا ہے مثلاً ذکر الٰہی اچھا اور نرم پاکیزہ کلام، وغیرہ (الا من ظلم) ” مگر وہ جو مظلوم ہو۔ “ یعنی جس شخص پر ظلم کیا گیا ہو وہ ظلم کرنے والے کے لئے بد دعا کرسکتا ہے، شکایت کرسکتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 148–160
مظلوم کی آہ سے بچو
قول باری ہے لایحب اللہ الجھربالتوء من القول الامن ظلم، اللہ اس کو پسند نہیں کرتا کہ آدمی بدگوئی پر زبان کھولے، الا یہ کہ کسی پر ظلم کیا گیا ہو۔ حضرت ابن عباس ؓ اور قتادہ کا قول ہے ” الایہ کہ مظلوم اپنے ظالم کے لئے بددعا کرے “۔ مجاہد سے ایک روایت ہے ” الایہ کہ مظلوم ظالم کی طرف سے ڈھائے جانے والے ظلم کی لوگوں کو اطلاع دے “۔ حسن اور سدی کا قول ہے ” الایہ کہ مظلوم ظالم سے اپنا بدلہ لے لے “۔ فرات بن سلیمان نے ذکر کیا ہے کہ عبدالکریم سے اس قول باری کے معنی پوچھے گئے تو انہوں نے کہا ” یہ وہ شخص ہے جو تمہیں برا بھلا کہتا ہے اور جواب میں تم بھی اسے برا بھلا کہہ دیتے ہو لیکن اگر وہ…
Read the full tafseer →387 جو بھی اچھائی تم کرو گے وہ خود تمہارے لیے ہی بہتر ہوگی : کہ اس کا فائدہ خود تم ہی لوگوں کو پہنچے گا اور یہ سب کچھ خود تمہارے ہی حق میں بہتر ہوگا۔ دنیا میں بھی، اور آخرت میں بھی۔ اور اس ضمن میں تمہیں اپنے رب مہربان کی صفات عفو و کرم کو اپنے سامنے رکھنا چاہیئے کہ جب وہ پوری قدرت رکھنے کے باوجود عفو و درگزر سے کام لیتا ہے تو تمہیں تو بطریق اولیٰ اس خلق کریم کو اپنانا چاہیئے اور اس طرح جو بھی کچھ تم کرو گے اس کا صلہ اور بدلہ پاؤ گے۔ پس جو بھی کوئی نیکی تم لوگ کروگے خواہ اس کو ظاہر کر کے کرو یا چھپا کر وہ ضائع نہیں جائے گی اور اس کا صلہ وثمرہ تم لوگوں کو بہرحال ملے گا کہ وہ رب غفور و رحیم بڑا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 148–149
مظلوم کا حق
تشریح : ان آیات میں معاشرے کی اصلاح کا بہترین اصول بتایا گیا ہے۔ ایک طرف تو یہ اجازت دے دی گئی ہے کہ ظلم کے خلاف آواز ضرور اٹھائی جائے اور ظلم کے بدلے میں تم بھی اس پر اتنا ہی ظلم کرسکتے ہو لیکن بہترین عمل یہ ہے کہ تم اس کو معاف کر دو ۔ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ نیکی خواہ چھپا کر کی جائے یا علانیہ کی جائے دونوں صورتوں میں بہترین عمل ہے اور رب رحمن اس کی جزا ضرور دے گا۔ معاف کردینے سے دشمن دوست بن جائے گا اور یوں پھیلتی ہوئی دشمنی اور فساد بڑی آسانی سے سمٹ جائے گا۔ عدالتی کارروائی ظلم کو تو روک سکتی ہے مگر دلوں میں پلنے والی دشمنی ختم نہیں ہوسکتی۔ یہ اخلاقی درس جو قرآن نے دیا ہے بہترین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 142–152
رکوع نمبر 21 ۔ آیات 142 تا 152 ۔ اسرار و معارف :
منافقین درحقیقت اللہ کو دھوکا دینا چاہ رہے ہیں جب مومنین کو یا رسول اللہ ﷺ کو دھوکا دیا تو گویا خود اللہ کو دھوکا دینے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں کہ اعمالکا اجر تو اللہ کریم کی طرف سے ملے گا ہاں وقتی طور پر اللہ کے بندے دھوکا کھا جائیں گے اور منافق کو مسلمان سمجھ بیٹھیں گے اللہ کریم بھی انہیں اس جرم کی بہت سخت سزا دے گا۔ یہ ایسے بدبخت ہیں کہ نماز کے لیے بھی کھڑے ہوں گے تو نہایت بددلی کے ساتھ ویسے تو کسل سے سستی مراد ہوتی ہے مگر یہاں جسمانی سستی کی نسبت ایمانی سستیپائی جاتی ہے ورنہ بظاہر تو شاید بڑے اہتمام سے کھڑے ہوتے ہوں گے۔ کہ وہ پڑھتے ہی لوگوں…
Read the full tafseer →ف 2 اس میں عفو کی ترغیب ہے (قرطبی) یعنی اگرچہ ظالم کا شکوہ یا اس کے حق میں بد دعاجائز ہے تاہم عفو درگزر سے کام لینا بہتر ہے حدیث میں ہے ولا زاد اللہ عبدا بعفوا الا عزا کہ جو شخص معاف کر یتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی عزت میں اضافہ کرتا ہے۔ (ابن کثیر) یہ دو جملے برو خیر کے تمام شعبوں پر مشتمل ہیں (کبیر )
Read the full tafseer →Explained with ayahs 149–150
(4:149) تبدوا۔ مضارع جمع مذکر حاضر۔ اصل میں تبدون تھا۔ ان کی وجہ سے نون اعرابی گرگیا۔ ابداء سے۔ تم ظاہر کرو۔
تعفوا عن۔ عفو سے جمع مذکر حاضر۔ یہ بھی اصل میں تعفون تھا۔ ان شرطیہ کی وجہ سے نون اعرابی گرگیا۔ عقاعن۔ معاف کرنا۔ سزا نہ دینا۔ تعفوا عن۔ تم برائی کو معاف کردو۔ تم دوگزر کرو۔ تم برائی کی سزا نہ دو ۔
عفوا۔ بروزن فعول عفو سے مبالغہ کا صیغہ ہے اور عفو کے معنی برائی سے یا گناہ سے درگزر کرنے کے ہیں۔ عفوا۔ بہت زیادہ معاف کرنے وعالا۔ یہ اللہ تعالیٰ کے اسماء حسنیٰ میں سے ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 148–152
آیت نمبر 148-152
لغات القرآن : لایحب اللہ، اللہ کو پسند نہیں ہے۔ الجھر بالسوء، برائی کو کھلم کھلا کہنا۔ لم یفرقوا، نہیں تفریق کرتے۔
تشریح : وہ سب پکے کافر ہیں جو (1) نہ اللہ کو مانتے ہیں نہ رسالت کو یا (2) اللہ کو مانتے ہیں۔ رسالت کو نہیں مانتے یا (3) کسی رسول کو مانتے ہیں کسی کو نہیں مانتے۔
اور جو توحید اور شرک کے درمیان کوئی ایسی راہ ڈھونڈ رہے ہیں کہ اللہ بھی مل جائے اور صنم بھی۔ ان سب کے لئے بڑی ذلت کا عذاب بھڑک رہا ہے۔
دنیا کے مذاہب کو دیکھئے بہت سے مذاہب اللہ کو بلکہ کسی معبود کو نہیں مانتے۔ بہت سے مذاہب بہت سے معبودوں کو مانتے ہیں۔ ہندو بتوں کو، بدھ کنفیوشس کو لیکن سکھ رسالت ہی کو نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 148–149
گالی کی برائی اور توحید کا ذکر لڑائی کے وقت گالی کا منہ سے نکالنا منافقوں کی عادت ہے لیکن لڑائی کے وقت پہلے پہل ایک شخص لی منہ سے نکالے ، اور بعد اس کے دوسرا مظلوم بغیر کسی زیادتی کے اسی گالی کے جواب میں گالی دیوے تو وہ منافقانہ عادت میں داخل نہیں ہے ۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ آپس کے جھگڑے میں دو شخص گالیاں بکنے لگیں تو اس کا سارا وبال اس پر ہے جس نے پہلے پہل گالی منہ سے نکالی، بشرطیکہ شخص جواب کی حد سے نہ بڑھ جاوے ۔ شان نزول : یہ آیت حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے بارے میں نازل ہوئی ۔ ایک شخص آنحضرت ﷺ کی شان میں گستاخی کرتارہا ۔ آپ نے کئی بار سکوت کیا مگر وہ باز نہ آیا تو ایک مرتبہ آپ نے اس کو جواب دیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 142–149
[89] اللہ کو دھوکہ دینے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ نے دنیا میں اچھوں کی طرح بروں کو بھی مہلت عمل دے رکھی ہے لیکن شریر آدمی اس مہلت سے نڈر ہوجاتا ہے۔ وہ سمجھتا ہے میں جو کچھ بھی کئے جاؤں میرے لئے کچھ ہونے والا نہیں حالانکہ اس کے لئے سب کچھ ہونے والا ہے مگر اپنے مقررہ وقت پر۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 148–150
اظہار اساء ت :
(ف 1) پیشتر کی آیات میں منافقین کی ایک ایک برائی کو واشگاف بیان کیا ہے تاکہ مسلمان انکے شر سے محفوظ رہیں ۔ ان دو آیتوں میں معذرت کی ہے کہ اللہ تعالیٰ کو تنقیص وتحقیر پسند نہیں ۔ الا یہ کہ شر واساءت حد سے بڑھ جائے اس صورت میں نقائص وقبائح کے اظہار میں کوئی مضائقہ نہیں پس منافقین کی مذمت وتذلیل محض مظلومانہ ہے ، ورنہ عیب پوشی اور عفو وحلم ہی بہترین جذبہ ہے ۔
(آیت) ” الجھر بالسوئ “۔ سے مراد وہ افعال ہیں جو فریق ثانی کو صورت تکلف محسوس ہوگا ، یہاں نہیں کیونکہ ان کا جواز کسی حال مین بھی درست نہیں ، قرآن حکیم نے اس سے بشدت روکا ہے چناچہ ارشاد ہے ۔ (آیت) ” ولا تنبزوا بالالقاب بئس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 149–150
ف 1 اللہ تعالیٰ اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ کوئی کسی کو علانیہ برا کہتا پھرے مگر ہاں وہ شخص کہ جس پر ظلم کیا گیا ہو یعنی مظلوم اپنے ظالم کی نسبت کچھ شکایت وغیرہ کا اظہار کرے تو گناہ نہیں اور اللہ تعالیٰ مظلوم کی خوب سننے والا اور ظالم کے ظلم کو خوب جاننے والا ہے اگر تم علانیہ کوئی بھلا کام کرو یا اس کو خفیہ کردیا کسی کی برائی کو معاف کردو تو یقین جانو ! کہ اللہ تعالیٰ بڑا درگذر اور معاف کرنیوالا اور بڑی قدرت والا ہے۔ (تیسیر)
حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یعنی کسی میں عیب دین یا دنیا معلوم کرے تو اس کو مشہور نہ کرے کیونکہ اللہ سنتا اور جانتا ہے وہ ہر کسی کی جزا دے گا اسی کو غنیب کہتے ہیں اس میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 148–149
ف 2۔ یعنی مظلوم اگر اپنے ظالم کی نسبت حکایت شکایت کریں گے تو وہ گناہ نہیں۔
3۔ اس میں اشارہ ہے کہ مظلوم کو خلاف واقع کہنے کی اجازت نہیں۔
Read the full tafseer →مسلما نوں کیلئے مزید ہد ایت کہ بھلائی کی بات کو چھپا ئو یا ظا ہر کرو لیکن بدی پر پردہ ہی بہتر ہے :
237: اصول یہ یاد رہنا چا ہئے کہ انسان خطا کا پتلا ہے اس لئے علاوہ انبیاء کرام کسی کو معصوم مت سمجھوہاں ! کسی بھلائی کی بات سنو تو اس کو فوراََ بیان کرو یا خاموش رہو تمہاری مر ضی کی بات ہے لیکن کسی کی بری بات سنو تو اس کو ہر حال میں چھپا ئو اس لئے کہ برائی کی اشا عت فی نفسہ بری چیز ہے لیکن حد اعتدال سے تجا وز کسی حال میں بھی صحیح نہیں ہے تم کو برائی کی اشاعت سے روکا گیا ہے یہ نہیں کہ کسی کی برائی کا نام لینا ہی حرام ہے بلکہ بعض اوقات اس کا بیان ضروریات اسلام میں سے ہے اشا عت اور ضروریات لو ذہن…
Read the full tafseer →Commentary
Out of these verses, the first (148) and the second (149) give a law to eradicate injustice and oppression from the world. But, this is not like the usual worldly laws which are limited to dictatory formulations. This, in turn, is the kind of law which tries a combination of persuasion and awe whereby, on the one hand, the victim of injustice has been permitted to protest against the perpetrator of injustice, or to go to a court of law to seek redress. All this is nothing but the basic demand of justice and, certainly, a source of eradication of crimes. But, along with this option,…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 149–150
177. This verse embodies a moral directive of very high value to the Muslims. The hypocrites, the Jews and the polytheists were all bent on placing all kinds of obstacles in the way of the spread of Islam: They eagerly persecuted the Muslims and used all possible means, however malicious, against them. Such an attitude inevitably created anger and resentment. It was in the context of this storm of bitter feelings that God told the Muslims that He did not consider speaking ill of people as praiseworthy. No doubt the Muslims had been wronged, and if a wronged person speaks out against a…
Read the full tafseer →