An-Nisaa 4:148

An-Nisaa · from ayah 148

4:148

لَا یُحِبُّ اللّٰهُ الْجَهْرَ بِالسُّوْٓءِ مِنَ الْقَوْلِ اِلَّا مَنْ ظُلِمَ ؕ— وَكَانَ اللّٰهُ سَمِیْعًا عَلِیْمًا ۟لَا يُحِبُّ اللّٰهُ الۡجَــهۡرَ بِالسُّوۡٓءِ مِنَ الۡقَوۡلِ اِلَّا مَنۡ ظُلِمَ‌ؕ وَكَانَ اللّٰهُ سَمِيۡعًا عَلِيۡمًا‏

خدا اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ کوئی کسی کو علانیہ برا کہے مگر وہ جو مظلوم ہو۔ اور خدا (سب کچھ) سنتا (اور) جانتا ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Allah does not like the public mention of evil except by one who has been wronged. And ever is Allah Hearing and Knowing.

— Saheeh International

Juz 6 · Ruku 21 of surah · Ruku 1 of juz

Read the whole surah · Surah An-Nisaa

All translations of 4:148

اللہ اس کو پسند نہیں کرتا کہ آدمی بد گوئی پر زبان کھولے، الا یہ کہ کسی پر ظلم کیا گیا ہو، اور اللہ سب کچھ سننے اور جاننے والا ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

خدا اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ کوئی کسی کو علانیہ برا کہے مگر وہ جو مظلوم ہو۔ اور خدا (سب کچھ) سنتا (اور) جانتا ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

برائی کے ساتھ آواز بلند کرنے کو اللہ تعالیٰ پسند نہیں فرماتا مگر مظلوم کی اجازت ہے اور اللہ تعالیٰ خوب سنتا جانتا ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اللہ اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ کسی کی برائی علانیہ زبان پر لائی جائے، الا یہ کہ کسی پر ظلم ہوا ہو۔ اور اللہ سب کچھ سنتا، ہر بات جانتا ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اللہ پسند نہیں کرتا بری بات کا اعلان کرنا مگر مظلوم سے اور اللہ سنتا جانتا ہے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اﷲ کسی (کی) بری بات کا بآوازِ بلند (ظاہراً و علانیۃً) کہنا پسند نہیں فرماتا سوائے اس کے جس پر ظلم ہوا ہو (اسے ظالم کا ظلم آشکار کرنے کی اجازت ہے)، اور اﷲ خوب سننے والا جاننے والا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اللہ بری بات کے ساتھ آواز بلند کرنا پسند نہیں کرتا مگر جس پر ظلم کیا گیا ہو اور اللہ ہمیشہ سے سب کچھ سننے والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اللہ یہ پسند نہیں کرتا کہ کوئی شخص دوسرے کے متعلق علانیہ بری بات کرے الا یہ کہ اس پر ظلم ہوا ہو اور اللہ سب کچھ سننے والا اور جاننے والا ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اللہ بدزبانی کو پسند نہیں کرتا مگر یہ کہ کوئی مظلوم ہو۔ اللہ سننے والا اور جاننے والا ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اللہ پسند نہیں کرتا بری بات کو ظاہر کرنا، مگر جس پر ظلم کیا گیا ہو (کہ اس کا معاملہ اس سے مستثنیٰ ہے) اور اللہ (ہر کسی کی) سنتا سب کچھ جانتا ہے،

— مولانا اسحاق مدنی

اللہ منہ پھوڑ کر برائی کرنے کو (کسی کے لئے بھی) پسند نہیں کرتا سوا مظلوم کے اور اللہ تو ہے ہی خوب سننے والا خوج جاننے والا۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اللہ کو بالکل پسند نہیں ہے کہ کسی بری بات کو بلند آواز سے کہا جائے سوائے اس کے جس پر ظلم ہوا ہے اور اللہ سننے والا اور جاننے والا ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اللہ اس کو پسند نہیں کرتا کہ آدمی بدگوئی پر زبان کھولے، سوائے اس کے کہ کسی پر ظلم کیا گیا ہو اور اللہ سب کچھ سننے والا اور جاننے والا ہے

— محترمہ رفعت اعجاز

Allah does not like speaking evil publicly unless one has been wronged. Allah is All-Hearing, All-Knowing.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Allah does not like the evil words to be said openly except from anyone wronged. Allah is All-Hearing, All-Knowing.

— Muhammad Taqi Usmani

Allah does not like the evil words to be said openly except from anyone wronged. Allah is All-Hearing, All-Knowing.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Allah does not like that the evil should be uttered in public except by him who has been wronged. And Allah is Ever All-Hearer, All-Knower.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Allah loveth not the utterance of harsh speech save by one who hath been wronged. Allah is ever Hearer, Knower.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Allah does not like the public mention of evil except by one who has been wronged. And ever is Allah Hearing and Knowing.

— Saheeh International

God does not love public accusation unless one is truly wronged. God is All-hearing and All-knowing.

— Muhammad Sarwar

Allah does not love the public utterance of hurtful speech unless (it be) by one to whom injustice has been done; and Allah is Hearing, Knowing.

— Muhammad Habib Shakir

Allah approveth not the publishment of evil speech, unless by one who hath been wronged; and Allah is ever Hearing, Knowing.

— Abdul Majid Daryabadi

Allah loveth not that evil should be noised abroad in public speech, except where injustice hath been done; for Allah is He who heareth and knoweth all things.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 4:148

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 148–149

مظلوم کو فریاد کا حق ہے حضرت ابن عباس ؓ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ کسی مسلمان کو دوسرے کو بد دعا دینا جائز نہیں، ہاں جس پر ظلم کیا گیا ہو اسے اپنے ظالم کو بد دعا دینا جائز ہے اور وہ بھی اگر صبر و ضبط کرلے تو افضل یہی ہے۔ ابو داؤد میں ہے " حضرت عائشہ صدیقہ کی کوئی چیز چور چرا لے گئے تو آپ ان پر بد دعا کرنے لگیں۔ حضور رسول مقبول ﷺ نے یہ سن کر فرمایا ! کیوں اس کا بوجھ ہلکا کر رہی ہو ؟ " حضرت حسن بصری ؒ فرماتے ہیں اس پر بد دعا نہ کرنی چاہئے بلکہ یہ دعا کرنی چاہئے دعا (اللھم اعنی علیہ واستخرج حقی منہ) یا اللہ اس چور پر تو میری مدد کر اور اس سے میرا حق دلوا دے، آپ سے ایک اور روایت میں مروی…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 147–148

سورة النِّسَآء 175 شکر کے اصل معنی اعتراف نعمت یا احسان مندی کے ہیں۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ اگر تم اللہ کے ساتھ احسان فراموشی اور نمک حرامی کا رویہ اختیار نہ کرو، بلکہ صحیح طور پر اس کے احسان مند بن کر رہو، تو کوئی وجہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ خواہ مخواہ تمہیں سزا دے۔ ایک محسن کے مقابلہ میں صحیح احسان مندانہ رویہ یہی ہوسکتا ہے کہ آدمی دل سے اس کے احسان کا اعتراف کرے، زبان سے اس کا اقرار کرے اور عمل سے احسان مندی کا ثبوت دے۔ انہی تین چیزوں کے مجموعہ کا نام شکر ہے۔ اور اس شکر کا اقتضاء یہ ہے کہ اولاً آدمی احسان کو اسی کی طرف منسوب کرے جس نے دراصل احسان کیا ہے، کسی دوسرے کے احسان کے شکریہ اور نعمت کے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

خلاصہ تفسیر اللہ تعالیٰ بری بات زبان پر لانے کو (کسی کے لئے) پسند نہیں کرتے بجز مظلوم کے (کہ اپنے مظالم کی نسبت کچھ حکایت شکایت کرنے لگے تو وہ گناہ نہیں) اور اللہ تعالیٰ (مظلوم کی بات) خوب سنتے ہیں (اور ظالم کے ظلم کی حالت) خوب جانتے ہیں (اس میں اشارہ ہے کہ مظلوم کو بھی خلاف واقعہ کہنے کی اجازت نہیں اور ہرچند کہ ایسی شکایت جائز تو ہے لیکن) اگر نیک کام علانیہ کردیا اس کو خفیہ کرو (جس میں معاف کرنا بھی آ گیا) یا (بالخصوص) کسی (کی) برائی کو معاف کردو تو (زیادہ افضل ہے کیونکہ) اللہ تعالیٰ (بھی) بڑے معاف کرنے والے ہیں، (باوجودیکہ) پوری قدرت والے ہیں کہ (اپنے مجرموں سے ہر طرح انتقام لے سکتے ہیں،…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 148–149

148۔ 149:۔ لَا يُحِبُّ اللّٰهُ الْجَــهْرَ بِالسُّوْۗءِ مِنَ الْقَوْلِ اِلَّا مَنْ ظُلِمَ ۭ وَكَانَ اللّٰهُ سَمِيْعًا عَلِـــيْمًا۔ اِنْ تُبْدُوْا خَيْرًا اَوْ تُخْفُوْهُ اَوْ تَعْفُوْا عَنْ سُوْۗءٍ فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَفُوًّا قَدِيْرًا۔ تعین اشخاص کے ساتھ برائی کا اظہار صرف مظلوم کے لیے جائز ہے : یہ مسلمانوں کو اسی طرح کی ایک تنبیہ ہے جس طرح کی تنبیہ آیت 86 میں گزرچکی ہے جس طرھ وہاں منافقین سے جب اعراض کا حکم ہوا تو ساتھ ہی مسلمانوں کو یہ ہدایت کردی گئی کہ جو تمہیں سلام کرے تم اس کے سلام کا جواب دو اور مقصود اس سے یہ تھا کہ مبادا پرجوش مسلمان ان لوگوں سے لام کلام ہی بند کردیں جن پر ان کو…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

148۔ 1 شریعت نے تاکید کی ہے کہ کسی کے اندر برائی دیکھو تو اس کا چرچا نہ کرو بلکہ تنہائی میں اس کو سمجھاؤ۔ اسی طرح کھلے عام اور علی الاعلان برائی کرنا بھی سخت ناپسندیدہ ہے۔ ایک تو برائی کا ارتکاب ویسے ہی ممنوع ہے، چاہے پردے کے اندر ہی کیوں نہ ہو۔ دوسرا اسے سرعام کیا جائے یہ مزید ایک جرم ہے البتہ اس سے الگ ہے کہ ظالم کے ظلم کو تم لوگوں کے سامنے بیان کرسکتے ہو۔ جس سے ایک فائدہ یہ متوقع ہے کہ شائد وہ ظلم سے باز آجائے اور اس کی تلافی کی سعی کرے۔ دوسرا فائدہ یہ ہے لوگ اس سے بچ کر رہیں۔ حدیث میں آتا ہے کہ ایک شخص نبی ﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا اور کہا کہ مجھے میرا پڑوسی ایذا دیتا ہے۔ آپ ﷺ نے اس سے…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

75: یعنی کسی کی برائی بیان کرنا عام حالات میں جائز نہیں، البتہ اگر کسی پر ظلم ہوا ہو تو وہ اس ظلم کا تذکرہ لوگوں سے کرسکتا ہے، اس تذکرے میں ظالم کی جو برائی ہوگی معاف ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

پارہ نمبر 6 ایک نظر میں : پارہ ششم دو حصوں پر مشتمل ہے ۔ پہلا حصہ سورة النساء کے بقیہ حصہ پر مشتمل ہے ۔ سورة النساء کا آغاز پارہ چہارم کے آخر سے ہوا تھا پورا پارہ پنجم بھی اس پر مشتمل ہے اور پارہ ششم میں بھی اس کا کچھ آگیا ہے ۔ اس پارے کا دوسرا حصہ ‘ جو اس کا تقریبا تین چوتھائی حصہ ہے سورة مائدہ پر مشتمل ہے ۔ یہاں ہم اپنی بات کو صرف اس پارے کے حصہ اول ہی تک محدود رکھیں گے ۔ حصہ دوئم یعنی سورة مائدہ پر بحث سورة مائدہ کے موقع پر ہو گی ۔ جہاں ہم سورة مائدہ کی اہمیت اور اس کے موضوعات پر اسی طرح بحث کریں گے جس طرح ہم اس سے پہلے کی سورتوں پر کرچکے ہیں ۔ اگر اللہ کا تعاون شامل حال رہا ۔ سورة نساء پر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

1 یعنی اگر کسی میں دین یا دنیا کا عیب معلوم ہو تو اس کو مشہور نہ کرنا چاہئے۔ خدا تعالیٰ سب کی بات سنتا ہے اور سب کے کام کو جانتا ہے۔ ہر ایک کو اس کے موافق جزا دے گا اسی کو غیبت کہتے ہیں۔ البتہ مظلوم کو رخصت ہے کہ ظالم کا ظلم لوگوں سے بیان کرے۔ ایسے ہی بعض اور صورتوں بھی غیبت کی ہیں اور یہ حکم یہاں شاید اس لئے فرمایا کہ مسلمان کو چاہیے کہ کسی منافق کا نام مشہور نہ کرے اور علی الاعلان اس کو بدنام نہ کرے اس میں وہ بگڑ کر شاید بےباک ہوجائے بلکہ مبہم نصیحت کرے۔ منافق آپ سمجھ لے گا یا تنہائی میں نصیحت کرے۔ اس طرح شاید ہدایت قبول کرلے۔ چناچہ حضرت محمد ﷺ بھی ایسا ہی کرتے تھے کسی کا نام لے کر مشہور…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 148 لاَ یُحِبُّ اللّٰہُ الْجَہْرَ بالسُّوْٓءِ مِنَ الْقَوْلِ الاَّ مَنْ ظُلِمَ ط جس کا دل دکھا ہے ‘ جس کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے ‘ نہ صرف یہ کہ اس کے جواب میں اس کی زبان سے نکلنے والے کلمات پر گرفت نہیں ‘ بلکہ مظلوم کی دعا کو بھی قبولیت کی سند عطا ہوتی ہے۔ کسی فارسی شاعر نے اس مضمون کو اس طرح ادا کیا ہے : ؂ بترس از آہ مظلوماں کہ ہنگام دعا کر دن اِجابت از درِ حق بہر استقبال می آید کہ مظلوم کی آہوں سے ڈرو کہ اس کی زبان سے نکلنے والی فریاد ایسی دعا بن جاتی ہے جس کی قبولیت خود اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کا استقبال کرنے کے لیے عرش سے آتی ہے۔ وَکَان اللّٰہُ سَمِیْعًا عَلِیْمًا اسے سب معلوم ہے کہ جس…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

197 مظلوم کس کس سے شکوہ کرسکتا ہے ؟ یعنی مظلوم کو یہ حق پہنچتا ہے کہ وہ اللہ کے حضور ظالم کے لیے بددعا کرے یا حاکم کے سامنے ظالم کا ظلم بیان کر کے اس سے استغاثہ چاہے یا دوسرے لوگوں سے بیان کرے تاکہ وہ اس ظالم کا ہاتھ روکیں، یا کم از کم خود ظالم کے اس قسم کے ظلم سے بچ جائیں۔ یا مثلاً اگر کسی نے اسے گالی دی ہے تو وہ بھی ویسی ہی گالی دے دے۔ مگر زیادتی نہ کرے۔ اور ظالم کوئی بھی ہوسکتا ہے خواہ وہ مسلم ہو یا منافق، یہودی ہو یا کافر ہو۔ مظلوم کے علاوہ کسی کو یہ حق نہیں کہ کسی دوسرے کی بری بات لوگوں سے بیان کرتا پھرے اور اسی کا نام غیبت یا گلہ ہے جو گناہ کبیرہ ہے۔ جس کا مقصد محض کسی شخص کو دوسروں کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

379 ۔ آیت نے اخلاق کی اصطلاح میں غیبت وبدگوئی کو اور قانون کی زبان میں ہتک عزت کو بالکل ناجائز قرار دے دیا ہے۔ اور فردو جماعت، شخص وملت دونوں کے ہاتھ میں فلاح واصلاح کی ایک بڑی اصل دے دی ہے۔ (آیت) ” الجھر بالسوٓء من القول “۔ کے تحت میں پس پشت بھی کسی کے عیب کی تشہیر آگئی اور اس کے ردبرد تلخ کلامی بھی۔ بلاضرورت اور بلامصلحت شرعی کسی کی بد گوئی کسی حال میں بھی جائز نہیں، نہ سامنے نہ پیچھے۔ (آیت) ” الامن ظلم “۔ مظلوم البتہ اپنے دل کا بخار بک جھک کر بھی نکال سکتا ہے اور حاکم کے سامنے فریاد بھی لے جاسکتا ہے۔ انسان کے طبعی تقاضوں اور اضطراری یا نیم اضطراری ضرورتوں کا اس حد تک لحاظ بجز شریعت اسلامی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 148–151

آیت نمبر 148 تا 152 ترجمہ : اللہ کسی کی یہ بات پسند نہیں کرتا کہ کوئی کسی کی بدگوئی کرے یعنی بدگوئی پر سزا دے گا، البتہ مظلوم کو (بیان ظلم کی) اجازت ہے، یہ کہ اپنے ظالم کے ظلم کو افشا کرے اور اس کے لئے بد دعاء کرے، (تو اللہ اس افشاء ظلم پر مواخذہ نہ کرے گا) ، اور جو کچھ کہا جاتا ہے اللہ اس کو سننے والا ہے اور جو کچھ کیا جاتا ہے اس کو جاننے والا ہے، اور اگر تم اعمال نیک میں سے کوئی عمل اعلانیہ کرو یا اس کو چھپا کر کرو یا ظلم کو معاف کردو (تو بہت خوب ہے اسلئے کہ اللہ کی بھی یہی صفت ہے) کہ وہ (انتقام پر) قدرت رکھنے کے باوجود بڑا معاف کرنے والا ہے جو لوگ اللہ سے اور اس کے رسول سے کفر کرتے ہیں اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

لا یحب اللہ الجہر بالسوء من القول الا من ظلم . اللہ تعالیٰ بری بات زبان پر لانے کو پسند نہیں کرتا بجز مظلوم کے۔ جہر بالسوء (چلّا کر بری بات زبان سے کہنا) سے اس جگہ مراد عام ہے۔ چلا کر یا نہ ہو اللہ کو دونوں ناپسند ہیں مگر چلا کر بری بات کہنی زیادہ بری ہے چونکہ واقعہ سے تعلق چلا کر بری بات زبان پر لانے کا تھا اس لئے جہر بالسوئکا لفظ اختیار کیا۔ مظلوم کے لئے جہر بالسوئ کی اجازت کا یہ معنی ہے کہ مظلوم ظالم کے ظلم کی فریاد اور اس کے لئے بددعا کرسکتا ہے۔ بعض علماء کے نزدیک بدزبانی کرنے سے مراد ہے گالی دینا اگر کوئی گالی دے (تو ناجائز ہے لیکن) ویسی ہی گالی مظلوم دے سکتا ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(148) البتہ جس کو اس کی اجازت دی گئی جو مظلوم ہو، وہ مظلوم کی پکار کو سننے والا اور ظالم کی سزا کا جاننے والا ہے، یہ آیت حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے بارے میں نازل ہوئی ہے، انہوں نے ایک شخص کی زبان درازی پر اسے برا کہا تھا۔ شان نزول : (آیت) ”لا یحب اللہ الجہر“۔ (الخ) ہناد بن سری نے کتاب الزہد میں مجاہد سے روایت کیا ہے کہ یہ آیت یعنی اللہ تعالیٰ بری بات زبان پر لانے کو پسند نہیں کرتے، ماسوائے مظلوم کے، ایک شخص نے دوسرے شخص کو اپنے ہاں مہمان رکھا لیکن صحیح طور پر اس کی مہمان نوازی کا حق ادا نہ کیا، اس نے وہاں سے آنے کے بعد لوگوں سے کہنا شروع کیا کہ میں فلاں صاحب کا مہمان ہوا لیکن اس نے مہمان داری کا…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

لَا يُحِبُّ اللّٰهُ الْجَــهْرَ بالسُّوْۗءِ۔۔ : یعنی اگر کسی شخص میں کوئی دینی یا دنیوی عیب پایا جاتا ہے تو اسے سرعام ذلیل کرنا جائز نہیں اور نہ ہر شخص کو بتانا جائز ہے، کیونکہ یہ غیبت ہے اور غیبت قطعی حرام ہے، البتہ جب کوئی شخص ظلم پر اتر آئے تو مظلوم کو حق حاصل ہے کہ وہ اس کی زیادتی کے خلاف آواز بلند کرے، خصوصاً جہاں آواز بلند کرنے سے اس پر ظلم رک سکتا ہو، یا اس کا مداوا ہوسکتا ہو۔ اسی طرح لوگوں کو اس کے ظلم سے بچانے کے لیے اس کا عیب بیان کرنا بھی جائز ہے۔ حدیث کے راویوں پر جرح بھی اسی ضمن میں آتی ہے، کیونکہ ضعیف روایت بیان کرنا امت پر ظلم ہے۔ کوئی شخص باوجود وسعت کے دوسرے کا حق نہ دیتا ہو…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 148–149

آیت نمبر : 148۔ تا 149۔ اس میں تین مسائل ہیں : مسئلہ نمبر : (1) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” لا یحب اللہ الجھر بالسوٓء من القول “۔ کلام یہاں مکمل ہوئی، پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (آیت) ” الا من ظلم “۔ یہ استثنا پہلی کلام سے نہیں ہے، یہ محل نصب میں ہے یعنی جس پر ظلم کیا گیا ہو اسے یہ کہنا جائز ہے کہ فلاں نے مجھ پر ظلم کیا اور یہ بھی جائز ہے کہ یہ محل رفع میں ہو تقدیر کلام اس طرح ہو : ” لا یحب اللہ ان یجھر بالسوٓء الا من “ جمہور علماء کی قرات ظلم ظاء کے ضمہ اور لام کے کسرہ کے ساتھ اور لام کا ساکن کرنا بھی جائز ہے، اور جن علماء نے ظلم ظا اور کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے وہ زید بن اسلم، ابن ابی…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 148–149

(1) ابن جریر و ابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” لا یحب اللہ الجھر بالسوء من القول “ سے مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ اس بات کو پسند نہیں فرماتے کہ کوئی آدمی کسی کے لئے بددعا کرے مگر یہ کہ وہ مظلوم ہو کیونکہ اس کے لئے اجازت دی گئی کہ وہ ظال کے لئے بددعا کرے اگر وہ صبر کرے گا تو اس کے لئے بہتر ہے۔ (2) ابن جریر و ابن المنذر نے حسن (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ وہ آدمی جو ظلم کر رہا ہے اس کے لئے بددعا نہ کرے لیکن اس کو چاہئے کہ یوں کہے اے اللہ ! اس کے خلاف میری مدد کر۔ اے اللہ ! میرے لئے میرا حق اس سے نکلوا دے میرے اور اس کے زیادتی کے درمیان حائل ہوجا۔ (3) عبد…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ لاَ یُحِبُّ : نہیں پسند کرتا ] [ اللّٰہُ : اللہ ] [ الْجَہْرَ : نمایاں کرنا ] [ بِالسُّوْٓئِ : برائی کو ] [ مِنَ الْقَوْلِ : بات سے ] [ اِلاَّ : سوائے اس کے ] [ مَنْ : جس پر ] [ ظُلِمَ : ظلم کیا گیا ] [ وَکَانَ : ہو رہے ] [ اللّٰہُ : اللہ ] [ سَمِیْعًا : سننے والا ] [ عَلِیْمًا : جاننے والا ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

اللہ تعالیٰ بری بات کے ظاہر کرنے کو پسند نہیں فرماتا بری بات کا بیان کرنا۔ پھیلانا اور تجھ مجھ سے کہتے ہوئے پھرنا اللہ تعالیٰ کو پسند نہیں ہے۔ ہاں اگر کسی پر کوئی ظلم ہوا ہو تو وہ اپنی مظلومیت ظاہر کرنے کے لیے ظالم کا ظلم اور زیادتی بتائے تو یہ جائز ہے۔ اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ ظالم کے مقابلے میں مظلوم کی مدد بھی ہوجائے گی اور خود ظالم کو بھی اپنی زیادتی اور بدنامی کا احساس ہوگا جس کی وجہ سے وہ ظلم سے باز آجائے گا، مفسر ابن کثیر ؓ نے اس آیت کے ذیل میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے ایک واقعہ نقل کیا ہے کہ ایک شخص رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کیا کہ میرا ایک پڑوسی ہے جو مجھے تکلیف دیتا ہے۔ آپ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 148–152

حکم سنی ام۔ جو از شکایت ظالم برائے مظلوم وفضیلت عفو۔ قال تعالیٰ لایحب اللہ الجھر بالسوء۔۔۔ الی۔۔۔ قدیرا۔ ربط) گزشتہ آیات میں منافقین کے جبلی کج طبعی اور آیات خداوندی میں ان کی طعنہ زنی اور عیب جوئی اور مسلمانوں پر ان کے مظالم بیان کیے گئے اب ان آیات میں یہ نصیحت فرماتے ہیں کہ اللہ بڑا حلیم وکریم اور ستا رالعیوب ہے کسی کا عیب ظاہر کرنا اور کسی کی برائی کرنا اور کسی کا پردہ فاش کرنا پسند نہیں کرتا اسی طرح ہم کو بھی حلم اور پردہ پوشی سے کام لینا چاہیے ہاں مگر جس کسی پر ظلم ہوا ہو سو وہ مظلوم اگر ظالم کی برائی یا زیادتی کا افشا کرے تو کچھ مضائقہ نہیں لیکن اگر معاف کردے تو وہ اور بہتر ہے اس لیے کہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

96 یہ آیت یَا اَیُّھَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْا الْکٰفِرِیْنَ اَوْلِیَاءَ سے متعلق ہے اور اَلسُّوْء مِنَ الْقَوْلَ سے کلمہ کفر مراد ہے اور مَنْ ظُلِمَ سے جبر اور اکراہ مراد ہے مطلب یہ کہ پہلے منافقوں کو کافروں کی دوستی سے منع فرمایا جس سے مقصود یہ تھا کہ وہ خالص ایمان لے آئیں یہاں فرمایا ہاں اگر کافر تم پر جبر کریں اور زبردستی تم سے کلمہ کفر کہلوائیں تو اس وقت جان بچانے کے لیے کلمہ کفر زبان سے کہہ دو لیکن دل کی تصدیق اور خالص ایمان میں ذرہ بھر فرق نہ آنے پائے جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا۔ اِلَّا مَنْ اُکْرِہَ وَ قَلْبُہٗ مُطْمَئِنٌّ بِالْاِیْمَانِ (نحل رکوع 14) و قال المنیر معناہ الا…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 148–152

ربط آیات : گزشتہ درس میں اللہ تعالیٰ نے منافقوں کی بعض کارگزاریوں کا تذکرہ فرمایا تھا ، خاص طور پر ان کی کفار کے ساتھ دوستی کی مذمت بیان کی گئی تھی اور ساتھ ساتھ مومنوں کو یہ بات سمجھائی گئی تھی کہ وہ کافروں کو کسی صورت میں بھی اپنا دلی دوست نہ بنائیں۔ اللہ تعالیٰ نے یہ بھی واضح کیا کہ منافقوں کا کفار کے ساتھ دوستانہ حصول عزت کے لئے ہوتا ہے ، مگر انہیں کبھی عزت حاصل نہیں ہوسکتی کیونکہ یہ تو ساری کی ساری اللہ تعالیٰ کے پاس ہے جسے وہ عزت نہ دینا چاہے اسے دنیا میں کہیں عزت نصیب نہیں ہوسکتی۔ فرمایا عزت کا مالک تو اللہ ہے اور پھر دنیا میں سب سے زیادہ عزت والا اللہ کا رسول ہے اور اس کے بعد کامل…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

لَايُحِبُّ اللہُ الْجَــہْرَ بِالسُّوْۗءِ مِنَ الْقَوْلِ اِلَّا مَنْ ظُلِمَ۝ 0ۭ وَكَانَ اللہُ سَمِيْعًا عَلِـــيْمًا۝ 148 حب والمحبَّة : إرادة ما تراه أو تظنّه خيرا، وهي علی ثلاثة أوجه : - محبّة للّذة، کمحبّة الرجل المرأة، ومنه : وَيُطْعِمُونَ الطَّعامَ عَلى حُبِّهِ مِسْكِيناً [ الإنسان/ 8] . - ومحبّة للنفع، کمحبة شيء ينتفع به، ومنه : وَأُخْرى تُحِبُّونَها نَصْرٌ مِنَ اللَّهِ وَفَتْحٌ قَرِيبٌ [ الصف/ 13] . - ومحبّة للفضل، کمحبّة أهل العلم بعضهم لبعض لأجل العلم . ( ح ب ب ) الحب والحبۃ المحبۃ کے معنی کسی چیز کو اچھا سمجھ کر اس کا ارادہ کرنے اور چاہنے کے ہیں اور محبت تین قسم پر ہے : ۔ ( 1) محض…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 148–152

ترکیب : بالسوء ‘ الجہر سے متعلق ہے ای لایحب أن یجھر بالسوء من القول بیان ہے السوء کا الامن استثناء منقطع ہے موضع نصب میں بعض کہتے ہیں متصل ہے اے لا یحب ان یجھر بالسوء احد من ظلم فلا باس علیہ ان یخبر عن ظلم ظالمہ ویدعوا علیہ عند الحکام حقا مفعول مطلق ای حق ذلک حقا اور ممکن ہے کہ حال ہو ای اولئک ھم الکافرون غیر شک۔ تفسیر : منافقوں اور گنہگاروں کو توبہ و استفغار کرنے اور خدا کی طرف رجوع کرنے کا اس خوبی اور عمدہ پیرایہ سے بیان ہوا تھا کہ جس سے طبائعِ سلیمہ پر عمدہ اثر پڑتا ہے مگر بعض لوگ ان کے ایمان لانے اور خدا کی طرف رجوع کرنے کے بعد بھی ان کے عیوب گذشتہ بیان کرکے طعن و طنز کیا کرتے تھے اس…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 148–149

لاَ یُحِبُّ اللّٰہُ الْجَہْرَ بِالسُّوْٓئِ مِنَ الْقَوْلِ اِلَّا مَنْ ظُلِمَ ط وَکَانَ اللّٰہُ سَمِیْعًا عَلِیْمًا اِنْ تُبْدُوْا خَیْرًا اَوْ تُخْفُوْہُ اَوْ تَعْفُوْا عَنْ سُوْٓئٍ فَاِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَفُوًّا قَدِیْرًا ” اللہ بدزبانی کو پسند نہیں کرتامگر وہ شخص جس پر ظلم کیا گیا ہو اور اللہ تعالیٰ خوب سننے والا اور جاننے والا ہے۔ اگر تم کوئی نیکی ظاہر کرو یا اسے پوشیدہ رکھو ‘ یا کسی برائی سے درگزر کرو تو اللہ تعالیٰ معاف کرنے والا اور قدرت رکھنے والا ہے۔ “ (النسآء : 148 تا 149) ان آیتوں کی تشریح میں صاحب تدبر قرآن نے جو کچھ لکھا ہے وہ پڑھنے کے لائق ہے۔ اس لیے ہم اسی کو نقل کر رہے ہیں…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 148–149

فہم القرآن ربط کلام : سابقہ آیات میں منافقوں کی دین اور مسلمانوں کے بارے میں ہرزہ سرائی اور نماز میں جان بوجھ کر غفلت اختیار کرنے کی سزا بیان کرنے کے بعد تائب ہونے والوں کو قدر افزائی کا مژدہ سنایا۔ ہرزہ سرائی سے باز نہ آنے والوں کی ایذا رسانی کے مقابلے میں مومنوں کو ایک حدتک ان کے خلاف لب کشائی کرنے کی اجازت مرحمت فرمائی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ بد اخلاقی کے مقابلے میں بھی بدخلقی کو پسند نہیں کرتا لیکن انسان کمزور اور کم حوصلہ واقع ہوا ہے اس لیے دشمن کی ایذا رسائی کے مقابلہ میں مظلوم اور دکھیارے مسلمانوں کو اخلاقی حدود میں رہتے ہوئے یہ حق دیا گیا ہے کہ وہ ظالم کے ظلم کو آشکار اکر سکیں تاکہ مظلوم…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

جہر کا ذکر زیادہ نقیح کیلئے : آیت 148 : لَا یُحِبُّ اللّٰہُ الْجَہْرَ بِالسُّوْٓئِ مِنَ الْقَوْلِ اِلَّا مَنْ ظُلِمَ (اللہ تعالیٰ بری بات کو زبان پر لانے کو پسند نہیں کرتے سوائے مظلوم کے) اللہ تعالیٰ تو جہر اور غیر جہر تمام بری باتوں کا زبان پر لانا پسند نہیں کرتے مگر جہر زیادہ قبیح ہے اس لئے اس کو خصوصاً ذکر فرمایا۔ اگرچہ مظلوم اپنی بات ظالم کے متعلق کہہ سکتا ہے۔ الا کے ذریعہ ناپسندیدہ جہر میں سے مظلوم کی بات کو مستثنیٰ کردیا اور وہ یہ ہے کہ ظالم کے متعلق بد دعا کرے اور اس کے اندر پائی جانے والی برائی ذکر کرے۔ بعض کا کہنا کہ الجہر بالسوء سے مراد گالی دینا ہے۔ اگر مظلوم اسی طرح کی گالی دے تو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

(تفسیر) 148۔: (آیت)” لا یحب اللہ الجھر بالسوء من القول الا من ظلم “۔ اللہ تعالیٰ بری بات کو زبان پر لانا پسند نہیں کرتا بجز مظلوم کے جس پر ظلم کیا گیا ، مظلوم ظالم کے ظلم کی فریاد اور اس کے لیے بددعا کرسکتا ہے ، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت)” ولمن انتصر بعد ظلمہ فاولئک ما علیھم من سبیل “۔ حسن (رح) کا قول ہے وہ دعا کرے ان الفاظ میں ۔ اے اللہ ! اس کے معاملے میں میری مدد فرما ، اے اللہ ! اس سے میرے حق کی وصولیابی کی صورت مقدر فرما اور بعض نے کہا کہ اگر وہ اس کو گالی دینا چاہتا ہے تو اس کے مثل اس کو گالی دے اس پر زیادتی نہ کرے ، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ حضور اقدس ﷺ نے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 148–149

(148 ۔ 149) ۔ لڑائی کے وقت گالی کا منہ سے نکالنا منافقوں کی عادت ہے۔ چناچہ صحیحین میں عبد اللہ بن عمرو بن عاص ؓ کی حدیث 1 میں اس کا ذکر ہے لیکن لڑائی کے وقت پہلے پہل ایک شخص گالی منہ سے نکالے اور بعد اس کے دوسرا مظلوم شخص بغیر کسی زیادہتی کے اسی گالی کے جواب میں گالی دیوے تو وہ منافقانہ عادت میں داخل نہیں ہے اس لئے منافقوں کے ذکر میں اس طرح کی لڑائی جھگڑے کا تذکرہ فرما کر مظلوم شخص کو بری بات کے وبال سے مستثنیٰ فرما دیا مگر ساتھ ہی اس کے سمیعا علیما فرمایا جس کا مطلب یہ ہے کہ اگر مظلوم شخص بدلہ میں کچھ زیادتی کرے گا تو اللہ اس کا سنتاجانتا ہے اور اس زیادتی کا مواخذہ مظلوم سے کرے گا۔ صحیح مسم،…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 148–151

آیت 149 اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ وہ اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ کوئی علانیہ بری بات کہے، یعنی اللہ تعالیٰ اس شخص سے سخت ناراض ہوتا ہے اور اس پر سزا دیتا ہے۔ اس میں وہ تمام برے اقوال شامل ہیں جو تکلیف دہ اور صدمہ پہنچانے والے مثلاً گالی گلوچ، قذف اور سب دشتم کرنا۔ اس لئے کہ ایسے تمام اقوال سے منع کیا گیا ہے جنہیں اللہ تعالیٰ ناپسند کرتا ہے۔ اس آیت کریمہ کا مفہوم مخالف یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اچھی بات کو پسند کرتا ہے مثلاً ذکر الٰہی اچھا اور نرم پاکیزہ کلام، وغیرہ (الا من ظلم) ” مگر وہ جو مظلوم ہو۔ “ یعنی جس شخص پر ظلم کیا گیا ہو وہ ظلم کرنے والے کے لئے بد دعا کرسکتا ہے، شکایت کرسکتا…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 148–160

مظلوم کی آہ سے بچو قول باری ہے لایحب اللہ الجھربالتوء من القول الامن ظلم، اللہ اس کو پسند نہیں کرتا کہ آدمی بدگوئی پر زبان کھولے، الا یہ کہ کسی پر ظلم کیا گیا ہو۔ حضرت ابن عباس ؓ اور قتادہ کا قول ہے ” الایہ کہ مظلوم اپنے ظالم کے لئے بددعا کرے “۔ مجاہد سے ایک روایت ہے ” الایہ کہ مظلوم ظالم کی طرف سے ڈھائے جانے والے ظلم کی لوگوں کو اطلاع دے “۔ حسن اور سدی کا قول ہے ” الایہ کہ مظلوم ظالم سے اپنا بدلہ لے لے “۔ فرات بن سلیمان نے ذکر کیا ہے کہ عبدالکریم سے اس قول باری کے معنی پوچھے گئے تو انہوں نے کہا ” یہ وہ شخص ہے جو تمہیں برا بھلا کہتا ہے اور جواب میں تم بھی اسے برا بھلا کہہ دیتے ہو لیکن اگر وہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

384 اللہ بری بات کے ظاہر کرنے کو پسند نہیں فرماتا : کہ اس سے کئی طرح کے مفاسد جنم لیتے ہیں، بغض وعناد اور حسد و کینہ کے جذبات ابھرتے ہیں۔ برائی کے چرچے سے اس کی نشرو اشاعت ہوتی ہے اور اس کا استخفاف ظہور میں آتا ہے وغیرہ وغیرہ۔ واضح رہے کہ یہاں جہر سے مراد اعلان نہیں بلکہ مطلق اظہار وبیان ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ برائی کے اظہار وبیان کو پسند نہیں فرماتا اور یہاں پر برائی کے اظہار وبیان کا ذکر اس لیے فرمایا گیا کہ یہاں کفار و منافقین کے مفاسد کا ذکر چل رہا ہے۔ اس لیے اس سیاق وسباق کی مناسبت سے برائی کے اظہار کو بطور خاص ذکر فرمایا گیا ہے ورنہ اللہ پاک برائی کے اظہار کی طرح اس کے اخفاء و اسرار کو…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 148–149

مظلوم کا حق تشریح : ان آیات میں معاشرے کی اصلاح کا بہترین اصول بتایا گیا ہے۔ ایک طرف تو یہ اجازت دے دی گئی ہے کہ ظلم کے خلاف آواز ضرور اٹھائی جائے اور ظلم کے بدلے میں تم بھی اس پر اتنا ہی ظلم کرسکتے ہو لیکن بہترین عمل یہ ہے کہ تم اس کو معاف کر دو ۔ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ نیکی خواہ چھپا کر کی جائے یا علانیہ کی جائے دونوں صورتوں میں بہترین عمل ہے اور رب رحمن اس کی جزا ضرور دے گا۔ معاف کردینے سے دشمن دوست بن جائے گا اور یوں پھیلتی ہوئی دشمنی اور فساد بڑی آسانی سے سمٹ جائے گا۔ عدالتی کارروائی ظلم کو تو روک سکتی ہے مگر دلوں میں پلنے والی دشمنی ختم نہیں ہوسکتی۔ یہ اخلاقی درس جو قرآن نے دیا ہے بہترین…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 142–152

رکوع نمبر 21 ۔ آیات 142 تا 152 ۔ اسرار و معارف : منافقین درحقیقت اللہ کو دھوکا دینا چاہ رہے ہیں جب مومنین کو یا رسول اللہ ﷺ کو دھوکا دیا تو گویا خود اللہ کو دھوکا دینے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں کہ اعمالکا اجر تو اللہ کریم کی طرف سے ملے گا ہاں وقتی طور پر اللہ کے بندے دھوکا کھا جائیں گے اور منافق کو مسلمان سمجھ بیٹھیں گے اللہ کریم بھی انہیں اس جرم کی بہت سخت سزا دے گا۔ یہ ایسے بدبخت ہیں کہ نماز کے لیے بھی کھڑے ہوں گے تو نہایت بددلی کے ساتھ ویسے تو کسل سے سستی مراد ہوتی ہے مگر یہاں جسمانی سستی کی نسبت ایمانی سستیپائی جاتی ہے ورنہ بظاہر تو شاید بڑے اہتمام سے کھڑے ہوتے ہوں گے۔ کہ وہ پڑھتے ہی لوگوں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 1 یعنی اگر کسی میں کوئی دینی یا دنیو عیب پایا جاتا ہے تو اسے بر سرعام رسو انہ کیا جائے اور ہر شخص کو بتایا جائے کیونکہ یہ غیبت ہے او غیبت قطعی حرام ہے۔ البتہ جب کوئی شخص ظلم پر اتر آئے تو اس کے عیوب دوسروں کے سامنے بیان کرنے جائز ہیں حدیث اذکر وا الفاسق بما فیہ کی تحذ رہ الناس کہ فاسق کے فسق کو لوگوں کے سامنے بیان کرو تاکہ لوگ اس سے محتاط رہیں نیز کوئی شخص باوجود وسعت کے دوسرے کا حق نہ دیتا ہو تو اس کو طعن ملامت جائز ہے حدیث میں ہے لتی الو جد ظلم یحل عرضہ وعقو بتہ کہ کسی غنی آدمی کا صاحب حق کا حق ادانہ کرنا ظلم ہے جو اس کی آبرو اور عقوبت کو حلال کردیتا ہے۔ اسی طرح جو پہلے زیاتی کرے جیسے…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(4:148) لایحب اللہ الجھر۔ لایحب۔ فعل نفی مضارع۔ اللہ فاعل الجھر مفعول۔ الجھر۔ مصدر۔ زور سے کہنا۔ ظاہر کرنا۔ اصل میں دیکھنے یا سننے میں کسی چیز کے کھلم کھلا ظاہر ہونے کا نام جہر ہے جھر (فتح) جھرا وجھارا وجھرۃ۔ جھر بالامر۔ اعلان کرنا۔ جھر بالقول آواز بلند کرنا۔ جھر الصوت۔ آواز اٹھانا۔ کلمتہ جھرا و بالجھر میں نے اس سے کھلے اور صاف الفاظ میں بات کی۔ لن نؤمن لک حتی نری اللہ جھرۃ (2:55) کہ جب تک ہم خدا کو سامنے نمایاں طور پر نہ دیکھ لیں تم پر ایمان نہیں لائیں گے۔ ارنا اللہ جھرۃ (4:153) ہمیں نمایاں اور ظاہر طور پر خدا دکھا دو ۔ لا یحب اللہ کا مفعول ہے الجھر بالسوئ۔ بری چیز کا کھلم کھلا علی الاعلان…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 148–152

آیت نمبر 148-152 لغات القرآن : لایحب اللہ، اللہ کو پسند نہیں ہے۔ الجھر بالسوء، برائی کو کھلم کھلا کہنا۔ لم یفرقوا، نہیں تفریق کرتے۔ تشریح : وہ سب پکے کافر ہیں جو (1) نہ اللہ کو مانتے ہیں نہ رسالت کو یا (2) اللہ کو مانتے ہیں۔ رسالت کو نہیں مانتے یا (3) کسی رسول کو مانتے ہیں کسی کو نہیں مانتے۔ اور جو توحید اور شرک کے درمیان کوئی ایسی راہ ڈھونڈ رہے ہیں کہ اللہ بھی مل جائے اور صنم بھی۔ ان سب کے لئے بڑی ذلت کا عذاب بھڑک رہا ہے۔ دنیا کے مذاہب کو دیکھئے بہت سے مذاہب اللہ کو بلکہ کسی معبود کو نہیں مانتے۔ بہت سے مذاہب بہت سے معبودوں کو مانتے ہیں۔ ہندو بتوں کو، بدھ کنفیوشس کو لیکن سکھ رسالت ہی کو نہیں…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 148–149

گالی کی برائی اور توحید کا ذکر لڑائی کے وقت گالی کا منہ سے نکالنا منافقوں کی عادت ہے لیکن لڑائی کے وقت پہلے پہل ایک شخص لی منہ سے نکالے ، اور بعد اس کے دوسرا مظلوم بغیر کسی زیادتی کے اسی گالی کے جواب میں گالی دیوے تو وہ منافقانہ عادت میں داخل نہیں ہے ۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ آپس کے جھگڑے میں دو شخص گالیاں بکنے لگیں تو اس کا سارا وبال اس پر ہے جس نے پہلے پہل گالی منہ سے نکالی، بشرطیکہ شخص جواب کی حد سے نہ بڑھ جاوے ۔ شان نزول : یہ آیت حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے بارے میں نازل ہوئی ۔ ایک شخص آنحضرت ﷺ کی شان میں گستاخی کرتارہا ۔ آپ نے کئی بار سکوت کیا مگر وہ باز نہ آیا تو ایک مرتبہ آپ نے اس کو جواب دیا…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 142–149

[89] اللہ کو دھوکہ دینے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ نے دنیا میں اچھوں کی طرح بروں کو بھی مہلت عمل دے رکھی ہے لیکن شریر آدمی اس مہلت سے نڈر ہوجاتا ہے۔ وہ سمجھتا ہے میں جو کچھ بھی کئے جاؤں میرے لئے کچھ ہونے والا نہیں حالانکہ اس کے لئے سب کچھ ہونے والا ہے مگر اپنے مقررہ وقت پر۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 148–150

اظہار اساء ت : (ف 1) پیشتر کی آیات میں منافقین کی ایک ایک برائی کو واشگاف بیان کیا ہے تاکہ مسلمان انکے شر سے محفوظ رہیں ۔ ان دو آیتوں میں معذرت کی ہے کہ اللہ تعالیٰ کو تنقیص وتحقیر پسند نہیں ۔ الا یہ کہ شر واساءت حد سے بڑھ جائے اس صورت میں نقائص وقبائح کے اظہار میں کوئی مضائقہ نہیں پس منافقین کی مذمت وتذلیل محض مظلومانہ ہے ، ورنہ عیب پوشی اور عفو وحلم ہی بہترین جذبہ ہے ۔ (آیت) ” الجھر بالسوئ “۔ سے مراد وہ افعال ہیں جو فریق ثانی کو صورت تکلف محسوس ہوگا ، یہاں نہیں کیونکہ ان کا جواز کسی حال مین بھی درست نہیں ، قرآن حکیم نے اس سے بشدت روکا ہے چناچہ ارشاد ہے ۔ (آیت) ” ولا تنبزوا بالالقاب بئس…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

Explained with ayahs 147–148

ف 3 یقین جانو ! کہ منافق جہن مکہ سب سے نیچے طبقے میں جائیں گے اور اے مخاطب تو ان کے لئے ہرگز کوئی مددگار نہ پائے گا جو ان کو اس سے سزا بچا سکے مگر ہاں وہ لوگ اس عذاب سے مستثنیٰ ہیں جو نفاق سے توبہ کرلیں اور اپنے معاندانہ برتائو کی اصلاح کرلیں اور کافروں کو چھوڑ کر اللہ تعالیٰ پر پورا اعتماد اور توکل رکھیں اور اپنے دین کو اللہ تعالیٰ کی رضا مندی کے لئے خلاص کرلیں یعنی دین کے جو اعمال کریں وہ خالص اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لئے کریں ت و ایسے توبہ کرنے والے لوگ کامل مومنوں کے ہمراہ ہونگے اور عنقریب ان کاملین مومنین کو اللہ تعالیٰ بہت بڑا صلہ اور اجر عطا فرمائے گا اور جو لوگ ان کے ہمراہ ہوں گے ان…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 148–149

ف 2۔ یعنی مظلوم اگر اپنے ظالم کی نسبت حکایت شکایت کریں گے تو وہ گناہ نہیں۔ 3۔ اس میں اشارہ ہے کہ مظلوم کو خلاف واقع کہنے کی اجازت نہیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اللہ کے نزدیک منہ کھول کر کسی کی برائی پسندیدہ نہیں ہے ہاں ! مظلوم کا حق محفوظ ہے : 236: جماعتی زندگی کے اہم مسائل میں سے ایک یہ مسئلہ بھی ہے کہ جب کسی قوم میں کوئی برائی جنم لے چکی ہوتی ہے اور جڑ پکڑچ کی ہوتی ہے تو اس کا تدارک بلاشبہ ضروری ہوتا ہے اور اس تدارک کے لئے یہ بھی ضروری ہوتا ہے کہ اس تدارک کے لئے یہ بھی ضروری ہوتا ہے کہ اس برائی کی قباحت و شناعت ، اس کے نتائج بد اور اس کے مرتکین کا انجام قوم کے سامنے اس طرح کھول کر اور واضح طور پر رکھا جائے کہ جماعت کے افراد اس شر سے محفوظ رہیں لیکن اس کا انداز بیان ایسا ہو کہ جماعت کے عام افراد بعض افراد کو اپنے اندازہ اور اندیشہ سے نشانہ و ہدف نہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 145–148

The purpose in previous verses was to point out to some ugly traits of the hypocrites, though their punishment of being in Hell with disbelievers was also mentioned as a corollary to another subject. From this stage onwards, the purpose is to state their punishment clearly. Since the inherent effect of such impending punishment generates a sense of fear in a good-natured person which usually becomes the reason for early repentance, therefore, exemption from punishment has been promised to those who repent alongwith the incentive of good reward for them. The Meaning of sincerity The…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 147–148

175. Shukr denotes an acknowledgement of benefaction and a feeling of gratitude. This verse states if a person does not behave ungratefully towards God then there is no reason why God should punish him. The attitude of gratefulness to God consists of acknowledging His benefaction in one's heart, in confessing it in one's speech and by manifesting it in one's deeds. It is the sum-total of these which is termed shukr. This attitude requires: (1) that a person should ascribe the benefaction to its real source, letting no one share in either the gratitude or the acknowledgement of…

Read the full tafseer →