Explained with ayahs 144–147
کافر سے دوستی آگ سے دوستی کے مترادف ہے
کافروں سے دوستیاں کرنے سے ان سے دلی محبت رکھنے سے ان کے ساتھ ہر وقت اٹھنے بیٹھنے سے مسلمانوں کے بھید ان کو دینے سے اور پوشیدہ تعلقات ان سے قائم رکھنے سے اللہ تعالیٰ ایمانداروں کو روک رہا ہے جیسے اور آیت میں ہے (لَا يَتَّخِذِ الْمُؤْمِنُوْنَ الْكٰفِرِيْنَ اَوْلِيَاۗءَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِيْنَ ۚ وَمَنْ يَّفْعَلْ ذٰلِكَ فَلَيْسَ مِنَ اللّٰهِ فِيْ شَيْءٍ اِلَّآ اَنْ تَتَّقُوْا مِنْھُمْ تُقٰىةً ۭ وَيُحَذِّرُكُمُ اللّٰهُ نَفْسَهٗ ۭ وَاِلَى اللّٰهِ الْمَصِيْرُ) 3۔ آل عمران :28) مومنوں کو چاہئے کہ بجز مومنوں کے کفار سے دوستی نہ کریں ایسا کرنے والا اللہ کے ہاں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 147–148
سورة النِّسَآء 175
شکر کے اصل معنی اعتراف نعمت یا احسان مندی کے ہیں۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ اگر تم اللہ کے ساتھ احسان فراموشی اور نمک حرامی کا رویہ اختیار نہ کرو، بلکہ صحیح طور پر اس کے احسان مند بن کر رہو، تو کوئی وجہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ خواہ مخواہ تمہیں سزا دے۔
ایک محسن کے مقابلہ میں صحیح احسان مندانہ رویہ یہی ہوسکتا ہے کہ آدمی دل سے اس کے احسان کا اعتراف کرے، زبان سے اس کا اقرار کرے اور عمل سے احسان مندی کا ثبوت دے۔ انہی تین چیزوں کے مجموعہ کا نام شکر ہے۔ اور اس شکر کا اقتضاء یہ ہے کہ اولاً آدمی احسان کو اسی کی طرف منسوب کرے جس نے دراصل احسان کیا ہے، کسی دوسرے کے احسان کے شکریہ اور نعمت کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 145–147
خلاصہ تفسیر
بلاشبہ منافقین دوزخ کے سب سے نیچے کے طبقہ میں جائیں گے اور (اے مخاطب) تو ہرگز ان کا کوئی مددگار نہ پائے گا (جو ان کو اس سزا سے بچا سکے) لیکن (ان میں سے) جو لوگ (نفاق سے) توبہ کرلیں اور (مسلمانوں کے ساتھ جو ان کے ایذا رساں معاملات تھے ان کی اصلاح کرلیں (یعنی پھر ایسی باتیں نہ کریں) اور (کفار سے جو بغرض ان کی پناہ میں رہنے کے دوستی کرتے ہیں اس کو چھوڑ کر) اللہ تعالیٰ پر وثوق (اور توکل) رکھیں اور (ریاء کو چھوڑ کر) اپنے دین (یعنی اعمال) کو خالص اللہ ہی (کی رضا) کے لئے کیا کریں (غرض اپنے عقائد کی، عاملات کی اخلاق باطنی کی، اعمال کی، سب کی درستگی کرلیں) تو یہ (تائب) لوگ (ان مؤ منین) کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 145–147
145۔ 147:۔ اِنَّ الْمُنٰفِقِيْنَ فِي الدَّرْكِ الْاَسْفَلِ مِنَ النَّارِ ۚ وَلَنْ تَجِدَ لَھُمْ نَصِيْرًا۔ اِلَّا الَّذِيْنَ تَابُوْا وَاَصْلَحُوْا وَاعْتَصَمُوْا بِاللّٰهِ وَاَخْلَصُوْا دِيْنَھُمْ لِلّٰهِ فَاُولٰۗىِٕكَ مَعَ الْمُؤْمِنِيْنَ ۭ وَسَوْفَ يُؤْتِ اللّٰهُ الْمُؤْمِنِيْنَ اَجْرًا عَظِيْمًا۔ مَا يَفْعَلُ اللّٰهُ بِعَذَابِكُمْ اِنْ شَكَرْتُمْ وَاٰمَنْتُمْ ۭ وَكَانَ اللّٰهُ شَاكِرًا عَلِــيْمًا۔
الدرک الاسفل کا مفہوم : الدرک الاسفل، درک کے معنی اقصی قعر الشیء، یعنی کسی شے کا سب سے نچلا حصہ۔
دین بمعنی اطاعت : واخلصو دینہم : لفظ دین کے مختلف معانی پر ہم کہیں بحث کرچکے ہیں۔ ازاں جملہ اس…
Read the full tafseer →147۔ 1 شکر گزاری کا مطلب ہے کہ اللہ کے حکم کے مطابق برائیوں سے اجتناب اور عمل صالح کا اہتمام کرنا۔ یہ گویا اللہ کی نعمتوں کا عملی شکر ہے اور ایمان سے مراد اللہ کی توحید و ربوبیت پر اور نبی آخر الزمان حضرت محمد مصطفٰی ﷺ کی رسالت پر ایمان ہے۔
147۔ 2 یعنی جو اس کا شکر کرے گا، وہ قدر کرے گا، جو دل سے ایمان لائے گا، وہ اس کو جان لے گا اور اس کے مطابق وہ بہترین جزا دے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 142–147
84: اس کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ جو سمجھ رہے ہیں کہ انہوں نے اللہ کو دھوکا دے دیا، تو در حقیقت یہ خود ہی دھوکے میں پڑے ہوئے ہیں۔ کیونکہ اللہ کو کوئی دھوکا نہیں دے سکتا، اور اللہ تعالیٰ ان کو اس دھوکے میں پڑا رہنے دیتا ہے جو انہوں نے خود اپنے آپ کو اپنے اختیار سے دے رکھا ہے۔ اور اس جملے کا ایک ترجمہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اللہ ان کو دھکے میں ڈالنے والا ہے۔ اس ترجمے کی بنیاد پر اس کا ایک مطلب بعض مفسرین (مثلا حضرت حسن بصری) نے یہ بھی بیان کیا ہے کہ ان کو اس دھوکے کی سزا آخرت میں اللہ تعالیٰ اس طرح دے گا کہ شروع میں ان کو بھی مسلمانوں کے ساتھ کچھ دور لے جایا جائے گا۔ اور مسلمانوں کو جو نور عطا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 144–147
(آیت) ” نمبر 144 تا 147۔
یہ دوبارہ اہل ایمان کو پکار اور دعوت ہے اور یہاں پھر اس صفت اور لقب سے پکارا گیا جو انکو انہیں اس وقت کے ماحول سے ممیز کرتی ہے اور جس کی وجہ سے ان کا منہاج صاف ‘ ان کا طرز زندگی اور ان کا طرز متمیز ہوتا ہے اور یہی وہ صفت ہے جس کی وجہ سے وہ اللہ کی دعوت پر لبیک کہتے ہیں اور ہدایات الہیہ پر عمل کرتے ہیں ۔
اس صفت اور لقب سے ان کو اس لئے پکارا جاتا ہے کہ منافقین کی راہ اختیار نہ کریں ۔ اور وہ اس بات سے ڈریں کہ وہ اہل ایمان کو چھوڑ کر اہل کفر کو دوست بنائیں ۔ یہ پکار اس لئے دی گئی کہ اس وقت اسلامی معاشرے کو اس کی اشد ضرورت تھی کیونکہ ابھی تک اہل ایمان اور اہل کفر مثلا…
Read the full tafseer →7 یعنی اللہ تعالیٰ نیک کاموں کا قدرداں ہے اور بندوں کی سب باتوں کو خوب جانتا ہے۔ سو جو شخص اس کے حکم کو ممنونیت اور شکر گزاری کے ساتھ تسلیم کرتا ہے اور اس پر یقین رکھتا ہے تو اللہ تعالیٰ عادل رحیم کو ایسے شخص پر عذاب کرنے سے کوئی تعلق نہیں یعنی ایسے شخص کو ہرگز عذاب نہ دے گا وہ تو سرکش اور نافرمانوں کو عذاب دیتا ہے۔
Read the full tafseer →آیت 147 مَا یَفْعَلُ اللّٰہُ بِعَذَابِکُمْ
اللہ تعالیٰ معاذ اللہ کوئی ایذا پسند sadist ہستی نہیں ہے کہ اسے لوگوں کو دکھ پہنچا کر خوشی ہوتی ہو۔ اس طرح کے رویے تو perverted قسم کے انسانوں کے ہوتے ہیں ‘ جن کی شخصیتیں مسخ ہوچکی ہوتی ہیں ‘ جو دوسروں کو تکلیف میں دیکھتے ہیں تو خوش ہوتے ہیں ‘ دوسروں کو تکلیف اور کو فت پہنچا کر انہیں راحت حاصل ہوتی ہے۔ لیکن اللہ تو ایسا نہیں ہے۔ اس لیے فرمایا کہ اللہ تمہیں عذاب دے کر تم سے کیا لے گا ؟
اِنْ شَکَرْتُمْ وَاٰمَنْتُمْ ط وَکَان اللّٰہُ شَاکِرًا عَلِیْمًا
جو بندہ اس کے لیے کام کرے ‘ محنت کرے ‘ اللہ تعالیٰ اس کی قدر فرماتا ہے۔ اور جو کوئی جو کچھ بھی کرتا ہے…
Read the full tafseer →195 شکر کی تعریف اور اس کی ممانعت :۔ شکر کا معنیٰ اعتراف نعمت ہے اور اس کے تین مدارج ہیں (1) قلبی۔ یعنی انسان دل سے اللہ کے یا کسی کے حسانات کا اعتراف کرے۔ (2) قولی۔ تحدیث نعمت کے طور پر زبان سے بھی اس کا اقرار کرے اور اللہ کے احسانات کا دوسروں کے سامنے تذکرہ کرے (3) عملی۔ یعنی اس شکر کے اثرات اس کے اعضاء وجوارح سے بھی ظاہر ہوں۔ اور یہ تینوں درجات دراصل لازم و ملزوم ہیں۔ اور بالترتیب وجود میں آتے ہیں۔ انسان جب اللہ کے احسانات کا خیال کرتا ہے تو اس کا دل اللہ کی محبت اور وفاداری کے جذبات سے لبریز ہوجاتا ہے۔ پھر اسی وفور جذبات کا ہی یہ اثر ہوتا ہے کہ خود اکیلے بھی اور دوسروں کے سامنے بھی ان…
Read the full tafseer →378 ۔ خطاب منافقوں سے ہے، انہیں بتایا ہے کہ تمہاری سزا دینے پر اللہ تعالیٰ کا کوئی کام تو معلق ہے نہیں۔ یہ تو محض تمہارا کفر اور کفران نعمت ہے جو تمہیں جنت کی نعمتوں سے استفادہ کے ناقابل بنائے ہوئے ہے۔ اگر اپنے ان عقائد کو چھوڑ دو تو رحمت حق تو خود بخود تمہیں آلے گی۔ اس میں یہ تعلیم بھی آگئی کہ اسلام کا خدا مشرک اور جاہلی قوموں کے خونخوار وسفاک دیوی دیوتاؤں کی طرح نہیں جسے بندوں کے آزار دہی ہی میں لطف آرہا ہے۔ (آیت) ” شاکرا “۔ یعنی خدمت اور عبودیت اور اخلاص کا قدر دان۔ (آیت) ” علیما “۔ یعنی ہر ایک کے درجہ اخلاص سے واقف۔ آیت سے یہ مستنبط ہوتا ہے کہ مومن شاکر عذاب الہی سے بالکل دور رہے گا۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 146–147
اِلّا الَّذِیْنَ تابواو اصلحوا (الآیة) یعنی منافقین میں سے جو شخص اس میں مذکورہ چار چیزوں کا خلوص دل سے اہتمام کرے گا تو جہنم میں جانے کے بجائے جنت میں اہل ایمان کے ساتھ ہوگا اور اللہ تعالیٰ تم کو سزا سے کر کیا کرے گا ؟ اگر تم اس کے شکر گذار اور دل سے ایمان لاؤ تو اسے کیا پڑی ہے کہ وہ خواہ مخواہ تم کو سزا سے بلکہ وہ تو تمہارے ادنیٰ سے ادنی عمل کا قدر دان ہے بشرطیکہ خلوص دل سے ہو، اور وہ خوب جانتا ہے کہ کون اخلاص سے عمل کررہا ہے اور کون ریاء کاری کے طور پر۔
Read the full tafseer →ما یفعل اللہ بعذابکم ان شکرتم وامنتم اور اللہ تم کو عذاب دے کر کیا کرے گا اگر تم شکر گزاری کرو اور ایمان لے آؤ۔
استفہام انکاری اور تقریری ہے مطلب یہ ہے کہ اللہ شکر گزار مؤمن کو عذاب نہیں دے گا کیونکہ بندوں کو عذاب دینے سے نہ اس کے اقتدار میں اضافہ ہوجاتا ہے نہ عذاب دینے سے حکومت میں کوئی کمی آجاتی ہے۔ کسی فائدہ کا حاصل کرنا یا ضرر کو دفع کرنا تو عذاب دینے کا مقصد ہی نہیں ہے اللہ ہر نفع و نقصان سے پاک ہے البتہ اس کا دستور ہے کہ اس نے نتیجہ کو سبب سے وابستہ کردیا ہے بندوں کو عذاب دینے کے معاملہ میں بھی اس کا یہی دستور ہے جیسے مزاج کے بگڑنے سے مرض پیدا ہوتا ہے اگر ایمان اور شکر کی وجہ سے آدمی کی…
Read the full tafseer →(147) اور اللہ تعالیٰ تمہیں سزا دے کر کیا کریں گے اگر تم توحید خداوندی کے قائل ہوجاؤ اور ظاہری اور باطنی اعتبار سے ایمان لے آؤ وہ ذات تو معمولی سی نیکی کو قبول کرتی اور بہت زیادہ ثواب دیتی ہے وہ رب کریم شکر گزاروں اور ناشکری کرنے والے کو بخوبی جانتے ہیں۔
Read the full tafseer →مَا يَفْعَلُ اللّٰهُ بِعَذَابِكُمْ…... مقصد یہ بتانا ہے کہ عذاب کا باعث تمہارا شکر نہ کرنا اور ایمان نہ لانا ہے، ورنہ اللہ تعالیٰ کو کیا ضرورت ہے کہ تمہیں عذاب دے، سو اگر تم دل سے ایمان لے آؤ اور قول و فعل سے اللہ کی فرماں برداری کر کے اس کا شکر ادا کرو تو اللہ قدر دان ہے اور سب کچھ جانتا بھی ہے۔
Read the full tafseer →آیت نمبر : 147
استفہام بمعنی تقریر ہیں منافقین کے لیے، تقدیر یہ ہے تمہیں عذاب دینے میں اس کے لیے منفعت ہے اگر تم شکر کرو اور ایمان لاؤ اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ وہ شکر گزار مومن کو عذاب نہیں دے گا، اس کا اپنے بندوں کو عذاب دینا اس کی بادشاہی میں اضافہ نہیں کرتا اور ان کے برے افعال پر ان کو عذاب نہ دینا اس کی سلطنت میں کمی نہیں کرتا، مکحول نے کہا : جس میں یہ چار چیزیں ہوں اس کے حق میں یہ ہیں اور جس میں یہ تین چیزیں ہوں وہ اس کے خلاف ہیں، چار چیزیں جو انسان کے حق میں ہوتی ہیں۔ (1) شکر (2) ایمان (3) دعا (4) استغفار، اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (آیت) ” ما یفعل اللہ بعذابکم ان شکرتم وامنتم “ اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 145–147
(1) الفریابی و ابن ابی شیبہ وھناد و ابن ابی الدنیا وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے صفۃ النار میں ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ان المنفقین فی الدرک الاسفل “ سے مراد ہے کہ لوہے کے صندوق میں ان کو بند کردیا جائے گا اور دوسرے لفظ میں ” مبھمۃ علیہم “ یعنی وہ اس طرح بند ہوں گے ان کو کھولنے کی جگہ کو بھی نہیں پائیں گے۔
(2) عبد بن حمید وابن ابی حاتم نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ان المنفقین فی الدرک الاسفل “ میں ” الدرک الاسفل “ سے لوہے کے ایسے گھر مراد ہیں کہ ان کے دروازے ان پر فٹ کر دئیے جائیں گے (جو نہیں کھلیں گے) اور ان کے نیچے اور ان کے اوپر آگ جلائی جائے گی۔
(3) ابن…
Read the full tafseer →[ مَا : کیا ] [ یَفْعَلُ : کرے گا ] [ اللّٰہُ : اللہ ] [ بِعَذَابِکُمْ : تمہارے عذاب سے ] [ اِنْ : اگر ] [ شَکَرْتُمْ : تم لوگ شکر کرو ] [ وَاٰمَنْتُمْ : اور ایمان لائو ] [ وَکَانَ : اور ہے ] [ اللّٰہُ : اللہ ] [ شَاکِرًا : بھلائی کا حق ادا کرنے والا ] [ عَلِیْمًا : جاننے والا ]
Read the full tafseer →آخر میں (مَا یَفْعَلُ اللّٰہُ بِعَذَابِکُمْ اِنْ شَکَرْتُمْ وَاٰمَنْتُمْ ) مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو کسی کے سزا دینے سے کوئی نفع نہیں پہنچتا اس کا کوئی کام اٹکا ہو انہیں ہے جو تم کو سزا دینے سے پورا ہوجائے۔ وہ حکمت کے مطابق کافروں کو سزا دیتا ہے اور کفر بہت بڑا کفران نعمت ہے اگر شکر گزار بندے بنو جس کا تقاضا یہ ہے کہ ایمان قبول کرو تو عذاب نہ ہوگا۔
(وَ کَان اللّٰہُ شَاکِرًا عَلِیْمًا) (اور اللہ تعالیٰ قدر دان ہے) اصحاب ایمان کے ایمان کی اور اعمال صالحہ کی قدر دانی فرماتا ہے (اسے ہر چیز کا علم بھی ہے) سب کا ثواب عطا فرمائے گا۔
قال صاحب الروح صفحہ 179: ج 5 ای ایّ شیء یفعل اللّٰہ سبحانہ بسبب…
Read the full tafseer →خطاب بسوئے منافقین۔
قال تعالی، ما یفعل اللہ بعذابکم ان شکرتم۔۔۔ الی۔۔۔۔ علیما۔
اب آگے ان منافقین کو خطاب فرماتے ہیں کہ عذاب خداوندی کا دارومدار کفر اور فسوق اور عصیان پر ہے خواہ مخواہ اللہ تعالیٰ کسی کو عذاب نہیں دیتے کیا کرے گا اللہ تعالیٰ تم کو عذاب دے کر اگر تم واللہ کے شکر گزار ہوجا اور اللہ پر ایمان لے آو اور اللہ تعالیٰ بڑاہی قدردان اور دانا ہے تمہاری سب باتوں کو جانتا ہے اور تمہارے نیک کاموں کا قدردان ہے تو جو شخص اللہ کا شکر گزار اور فرمانبردار اور اطاعت شعار بندہ ہو تو وہ ایسے شخص کو ہرگز عذاب نہ دے گا وہ تو عذاب صرف انہی لوگوں کو دیتا ہے جو پرلے درجہ کے سرکش اور متمرد ہیں اور اس کا…
Read the full tafseer →95 یہ خطاب منافقوں سے ہے یعنی اگر تم اللہ تعالیٰ کے انعامات کی قدر شناسی کرو اور اخلاص کے ساتھ ایمان لے آؤ تو اسے کیا ضرورت ہے کہ وہ تمہیں بلا وجہ عذاب دے وہ تو قدر دان ہے اور سب کچھ جانتا ہے جو اس کی نعمتوں کا شکر ادا کرے اور اس پر خالص ایمان لائے وہ ضرور اس کو اچھا بدلہ دے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 142–147
ربط آیات
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے منافقین کی سزا کا ذکر کیا تھا کہ کافروں اور منافقوں سب کو جہنم میں اکٹھا کیا جائے گا ، منافق لوگ کافروں کے ساتھ تعلق جوڑتے ہیں اور ان کو اپنا دوست اور رفیق بناتے ہیں ان کے ہاں عزت تلاش کرتے ہیں تاکہ گردش آنے کی صورت میں ذلیل نہ ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے اس کا بھی رد فرمایا ، اور صاف حکم دیا کہ جب اللہ کی آیتوں کے ساتھ ٹھٹا کیا جارہا ہو ، تو ایسی مجلس میں کسی مومن کو بیٹھنے کی اجازت نہیں۔ ان منافقوں کا حال یہ ہے کہ کافروں کی مجلس میں جاکر ان کی خوشامد کرتے ہیں اور مومنوں کے پاس آکر ان کی چاپلوسی کرتے ہیں تاکہ ان دونوں گروہوں میں سے جن کا پہلو غالب ہو ، اسی کے…
Read the full tafseer →مَا يَفْعَلُ اللہُ بِعَذَابِكُمْ اِنْ شَكَرْتُمْ وَاٰمَنْتُمْ 0ۭ وَكَانَ اللہُ شَاكِرًا عَلِــيْمًا 147
ما
مَا في کلامهم عشرةٌ: خمسة أسماء، وخمسة حروف .
فإذا کان اسما فيقال للواحد والجمع والمؤنَّث علی حدّ واحد، ويصحّ أن يعتبر في الضّمير لفظُه مفردا، وأن يعتبر معناه للجمع .
فالأوّل من الأسماء بمعنی الذي
نحو : وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ ما لا يَضُرُّهُمْ [يونس/ 18] ثمّ قال : هؤُلاءِ شُفَعاؤُنا عِنْدَ اللَّهِ [يونس/ 18] لمّا أراد الجمع، وقوله : وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ ما لا يَمْلِكُ لَهُمْ رِزْقاً ... الآية [ النحل/ 73] ، فجمع أيضا، وقوله : بِئْسَما يَأْمُرُكُمْ بِهِ إِيمانُكُمْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 142–147
ترکیب : وھو خادعہم جملہ حال ہے اللہ سے ‘ کسالی حال ہے فاعل قاموا سے ‘ اسی طرح یراؤن الناس بھی حال۔ مذبذبین منصوب علی الذم ہے اور ممکن ہے کہ فاعل یذکرون سے حال ہو ہمزہ استفہام انکاری تریدون کا ضمیر انتم فاعل ان تجعلوا سلطانا مبینا مفعول اول جعل اللہ ثابت کے متعلق ہو کر مفعول ثانی اوالعکس یہ جملہ مفعول ہے تریدون ‘ کا من النار حال ہے الدرک الاسفل سے۔ مایفعل ما میں دو وجہ ہیں اول یہ کہ یہ استفہام کے لئے ہو اور یفعل کا مفعول واقع ہو کر محل نصب میں ہو ‘ بعذابکم متعلق ہے یفعل سے دوم یہ کہ مانا فیہ ہو المعنی لایعذبکم
تفسیر : یہ آیات بھی پہلی آیت کا تتمہ ہیں۔ ان میں منافقین کے اوصاف باقی ماندہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 145–147
اِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ فِی الدَّرْکِ الْاَسْفَلِ مِنَ النَّارِ ج وَلَنْ تَجِدَ لَہُمْ نَصِیْرًا لا اِلَّا الَّذِیْنَ تَابُوْا وَاَصْلَحُوْا وَاعْتَصَمُوْا بِاللّٰہِ وَ اَخْلَصُوْا دِیْنَہُمْ لِلّٰہِ فَاُولٰٓئِکَ مَعَ الْمُؤْمِنِیْنَ ط وَسَوْفَ یُؤْتِ اللّٰہُ الْمُؤْمِنِیْنَ اَجْرًا عَظِیْمًا مَایَفْعَلُ اللّٰہُ بِعَذَابِکُمْ اِنْ شَکَرْتُمْ وَاٰمَنْتُمْ ط وَکَانَ اللّٰہُ شَاکِرًا عَلِیْمًا
” بیشک منافقین دوزخ کے سب سے نچلے طبقہ میں ہوں گے۔ اور تم ہرگز ان کا کوئی مددگار نہ پائو گے۔ البتہ وہ لوگ جنھوں نے توبہ کی اور اپنی اصلاح کرلی اور اللہ کو مضبوطی سے پکڑ لیا اور اپنی اطاعت کو اللہ کے لیے خالص…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 146–147
فہم القرآن
ربط کلام : کفر اور منافقت سے سچی توبہ اور اپنے کیے کی اصلاح کرنے والوں کے لیے اجر عظیم کا وعدہ اور اس بات کی وضاحت کہ اللہ تعالیٰ بندوں کے کفر پر نہیں شکر پر راضی ہوتا ہے کیونکہ وہ مومنوں اور شکر گزاروں کا قدر دان ہے۔
اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم کی انتہا ہے کہ منافقوں کا کردار اور ان کا انجام ذکر کرنے کے باوجود ان کے لیے نہ صرف توبہ اور بخشش کا دروازہ کھلا رکھا بلکہ انہیں توبہ کرنے کی صورت میں انعام و اکرام اور مومنوں کی رفاقت کی خوشخبری سنائی ہے۔ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ تمہیں مومنوں کے ساتھ اجر عظیم سے سرفراز کرے گا اور تمہارے اعمال و خدمات کی قدر افزائی کی جائے گی بشرطیکہ گناہوں پر…
Read the full tafseer →تقدیم شکر کی حکمت :
آیت 147 : پھر دوبارہ تاکید سے سمجھایا۔ کہ وہ شاکر مومن کو عذاب نہ دیں گے۔ پس فرمایا : مَا یَفْعَلُ اللّٰہُ بِعَذَابِکُمْ اِنْ شَکَرْتُمْ (اور اللہ تعالیٰ تم کو عذاب دے کر کیا کریگا۔ اگر شکر گزاری کرو اللہ کے لئے) وَٰامَنْتُمْ (اور ایمان لے آئو) ما منصوب ہے یفعل کی وجہ سے۔ اور بمعنی ای شیٔ ہے۔ یعنی اس نے تمہیں عذاب دے کر کیا کرنا ہے۔
الایمان : انعام کرنے والے کی پہچان۔
الشکر : اعتراف نعمت۔
کفرِ منعم ہو یا نعمت یہ عناد ہے۔ اسی لئے کافر عذاب کا حقدار ہے۔ اور یہاں شکر کو ایمان سے مقدم لائے۔ کیونکہ عقل مند اپنے اوپر عظیم انعامات پاتا ہے جو اس کی خلقت یا حصول منافع میں حاصل ہو…
Read the full tafseer →147۔ (آیت)” ما یفعل اللہ بعذابکم ان شکرتم “۔ تم ان کی نعمتوں کا شرک ادا کرو (آیت)” وامنتم “ اس آیت میں کچھ لفظی تقدیم و تاخیر ہے۔ تقدیری عبارت اس طرح ہے اگر تم ایمان لاؤ اور تم اس کا شرک ادا کرو کیونکہ شکر فائدہ مند نہیں ہے جب دل میں ایمان نہ ہو استفہام تقرری ہے ۔ مؤمن شاکر کو عذاب نہیں دیا جائے گا اور کسی بندے کو عذاب دینے سے اس کی بادشاہت میں اضافہ نہیں ہوتا اور ان کے فعل پر ان کو چھوڑ دینے سے اس کی بادشاہت میں ذرہ برابر بھی کم نہیں ہوسکتا ، شکر کفر کی ضد ہے اور کفر کہتے ہیں نعمت کو چھپانا اور شکر یہ ہے کہ اس نعمت کا اظہار کیا جائے (آیت)” وکان اللہ شاکرا علیما “۔ اگر شکر کی نسبت اللہ کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 144–147
(144 ۔ 147) ۔ اوپر ذکر تھا کہ منافق لوگ یہود سے میل جول رکھتے تھے ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو منع فرمایا کہ وہ منافقوں کی سی عادت اختیار نہ کریں تفسیر خازن وغیرہ میں ان آیتوں کی شان نزول جو بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ بعض انصار اور یہود میں ہجرت سے پہلے کی دوستی اور دودھ پلانے کی رشتہ داری تھی ان انصارے اس تعلق کے باقی رکھنے کا مسئلہ آنحضرت ﷺ سے پوچھا 3 اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائی اور فرمایا کہ دین کے مخالف لوگوں سے میل جول رکھنا منافقوں کی عادت ہے جن کا ٹھکانہ جہنم کا ساتواں طبقہ ہے جس میں اور طبقوں سے زیادہ عذاب ہے کیونکہ ان لوگوں نے دنیا میں دلی کفر کے سوا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 145–147
145 تا 147
اللہ تبارک و تعالیٰ منافقین کے اجام کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے بیان فرماتا ہے کہ وہ جہنم کے سب سے نچلے درجے میں بد ترین عذاب میں مبتلا ہوں گے۔ وہ تمام کفار کے نیچے ہوں گے، کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ سے کفر کرنے اور رسول اللہ ﷺ کی عداوت میں کفار کے ساتھ شریک تھے مزید برآں وہ مکرو فریب اور اہل ایمان کے ساتھ مختلف اقسام کی عداوت رکھتے تھے اور یہ عداوت اس طرح رکھتے تھے کہ وہ محسوس نہیں ہوتی تھی بنا بریں ان پر اسلام کے احکام جاری ہوتے تھے اور اس بنید پر وہ اپنا استحقاق ظاہر کرتے تھے حالانکہ وہ اس کے مستحق نہ تھے۔ پس اس قسم کے مکرو فریب اور ہتھکنڈوں کی بنا پر سخت عذاب کے مستحق ہیں۔ کوئی ہستی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 144–147
مسلمانوں کو چھوڑ کر کفار کو دوست نہ بنائو
قول باری ہے یایھا الذین امنوالاتتخذوا الکافرین اولیاء من دون المومنین۔ اے ایمان والو ! مسلمانوں کو چھوڑ کر کافروں کو اپنا رفیق نہ بنائو) کیونکہ ولی وہ شخص ہوتا ہے جو اپنے رفیق کی مدد کر کے اور معاملات میں اس کا ہاتھ بٹا کر اس کی سرپرستی کرتا ہے۔ مومن اس لحاظ سے اللہ کا ولی ہوتا ہے کہ وہ اس کی اخلاص نیت کے ساتھ اطاعت کر کے اپنا رشتہ اس کے ساتھ جوڑتا ہے اور اللہ اہل ایمان کا اس لحاظ سے ولی ہوتا ہے کہ ان کی اطاعت پر جزا دے کر ان کی سرپرستی کرتا ہے۔ آیت کافروں سے مدد لینے ان کی معونت طلب کرنے ان کی طرف جھکائو ظاہر کرنے اور ان پر بھروسہ کرنے کی نہی کی…
Read the full tafseer →381 ایمان صادق کی دعوت ایک نہایت بلیغ انداز میں : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ تم لوگوں کو عذاب دے کر کیا کرے گا۔ آخر اس سے اس کی کیا غرض وابستہ ہوسکتی ہے ؟ اور اس کا اس میں کیا فائدہ ہوسکتا ہے ؟ استفہام انکاری ہے کہ کچھ بھی نہیں۔ نہ اس سے اس کی کوئی غرض وابستہ ہے اور نہ کوئی فائدہ مقصود ہے کیونکہ نہ تو اس کو تم سے کوئی نفع حاصل کرنا ہے، نہ کسی نقصان کا اس کو تم سے کوئی خطرہ ہوسکتا ہے، اور نہ اس نے تم سے کوئی بدلہ لینا ہے کہ وہ ایسے تمام تصورات سے اعلی وبالا اور ان سب چیزوں سے پاک ہے۔ تو پھر وہ تم کو عذاب دے گا کیوں ؟ اور عذاب دے کر کرے گا کیا ؟ پس اس کا کام عذاب دینا نہیں، رحمت کرنا اور بخشش…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 146–147
نجات کی راہ
تشریح : پہلے بھی بیان ہوچکا ہے کہ اللہ رب العزت اپنے بندوں پر بڑا مہربان ہے وہ تو ہر دم رحمتیں اور برکتیں نازل کرنے میں ہی خوش ہوتا ہے اسی لیے اس نے اپنے تمام بندوں کے لیے ہدایت کی راہیں کھول رکھی ہیں مگر جو بدنصیب ان پر نہیں چلتے ان کو بار بار خبردار کیا جاتا ہے کہ حساب کا دن ضرور آئے گا سزا اور جزا ضرور ملے گی پھر بھی جو اپنے اوپر ظلم کرنے سے باز نہیں آتے تو پھر ان کی نجات کے لیے ایک آخری دروازہ اللہ نے کھول رکھا ہے اور وہ ہے توبہ کا دروازہ۔ توبہ کرنے سے پہلے اللہ پر ایمان لاؤ جو نعمتیں اس نے تمہیں دے رکھی ہیں ان کے لیے اس کا شکر ادا کرو اپنے حال احوال درست کرو۔ اللہ کے قوانین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 142–152
رکوع نمبر 21 ۔ آیات 142 تا 152 ۔ اسرار و معارف :
منافقین درحقیقت اللہ کو دھوکا دینا چاہ رہے ہیں جب مومنین کو یا رسول اللہ ﷺ کو دھوکا دیا تو گویا خود اللہ کو دھوکا دینے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں کہ اعمالکا اجر تو اللہ کریم کی طرف سے ملے گا ہاں وقتی طور پر اللہ کے بندے دھوکا کھا جائیں گے اور منافق کو مسلمان سمجھ بیٹھیں گے اللہ کریم بھی انہیں اس جرم کی بہت سخت سزا دے گا۔ یہ ایسے بدبخت ہیں کہ نماز کے لیے بھی کھڑے ہوں گے تو نہایت بددلی کے ساتھ ویسے تو کسل سے سستی مراد ہوتی ہے مگر یہاں جسمانی سستی کی نسبت ایمانی سستیپائی جاتی ہے ورنہ بظاہر تو شاید بڑے اہتمام سے کھڑے ہوتے ہوں گے۔ کہ وہ پڑھتے ہی لوگوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 146–147
ف 8 جن منافقین کی اوپر مذمت کی ہے ان کی نجات کے لیے بطور استثنا چاباتیں فرمائیں ایک یہ کہ اپنے پچھلے رویہ پر نادم ہوں۔ دوسرے یہ کہ آئندہ کے لیے اپنی پوری طرح اصلاح کرلیں تیسرے یہ کہ اللہ تعالیٰ کی رسی مضبوط پکڑیں یعنی اس کی کتاب کے احکام پر پوری طرح عمل کریں چوتھی یہ کہ دین کا جو کام کریں خالص اللہ کی رضامندی حاصل کرنے کے لیے کریں۔ (احسن التفاسیر) یہ چاروں کام درجہ بدرجہ اور ایک دوسرے پر مترتب ہوتے ہیں۔ رازی )
Read the full tafseer →(4:147) ما استفہامیہ ہے۔ ای انہ تعالیٰ لا یعذب الشاکر المؤمن یعنی اللہ تعالیٰ شکر گزار اور مومن بندے کو عذاب نہ دے گا۔
کیا کرے گا اللہ تمہیں سزا دے کر اور تم شکر گزار اور مومن ہو۔
شاکرا۔ قدرشناس ۔ قدردان ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 146–147
آیت نمبر 146-147
لغات القرآن : اعتصموا، تم مظبوطی سے تھام لو۔ اخلصوا، انہوں نے خالص کرلیا۔ سوف یؤت، جلد ہی وہ دے گا مایفعل اللہ، اللہ کو کیا پڑی ہے۔ (اللہ تعالیٰ کیا کرے گا) ۔ شاکر، قدر کرنے والا۔
تشریح : گزشتہ آیت میں عذاب کا اتنا بڑا خوف دلا کر کہ ” بیشک منافقین دوزخ کے ارذل ترین طبقہ میں ڈالے جائیں گے “ ۔ اللہ نے امید ، توبہ، واپسی اور رحمت کا دروازہ بند نہیں کیا ہے۔ ایک مرتبہ پھر تلقین کی ہے کہ اے منافقو ! اب بھی موقع ہے توبہ کرلو، اپنی اصلاح کرلو، اللہ کا آسرا مضبوط تھام لو۔ ڈانواڈول نہ رہو اور دین اسلام کے لئے تمام خلوص اور خدمت کے ساتھ ڈٹ جاؤ۔ اگر تم واپس اسلام کی طرف پلٹ آؤ گے تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 143–147
ان آیتوں میں مسلمانوں کو منع فرمایا کہ وہ منافقوں کی سی عادت اختیار نہ کریں کہ دین کے مخالف لوگوں سے میل جول رکھنا منافقوں کی عادت ہے، جن کا ٹھکانا جہنم کا ساتواں طبقہ ہے۔ جو اور طبقوں سے زیادہ عذاب والا ہے۔ ان لوگوں نے ظاہری اسلام جتلا کر ایک طرح کی دغا بازی اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے کی تھی، جس کے سبب سے ان کی سزا میں قیامت کے دن سختی ہوگی۔ اور یہ بھی فرمایا کہ جو شخص منافقوں کی سی عادتیں اختیار کرتا ہے وہ اللہ کی خفگی اور اس کے عذاب کا یک سبب مول لیتا ہے جس سے ہر مسلمان کو بچنا چاہئے۔ جن منافقوں کی اوپر مذمت تھی ان کی نجات کے لئے یہ چار باتیں فرمائیں : (1) اول یہ کہ انہوں نے دو دل اپنے (ظاہر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 142–149
[89] اللہ کو دھوکہ دینے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ نے دنیا میں اچھوں کی طرح بروں کو بھی مہلت عمل دے رکھی ہے لیکن شریر آدمی اس مہلت سے نڈر ہوجاتا ہے۔ وہ سمجھتا ہے میں جو کچھ بھی کئے جاؤں میرے لئے کچھ ہونے والا نہیں حالانکہ اس کے لئے سب کچھ ہونے والا ہے مگر اپنے مقررہ وقت پر۔
Read the full tafseer →خدا کو عذاب پسند نہیں :
(ف 1) اس آیت میں اس حقیقت کی وضاحت ہے کہ اللہ کا غیظ وغضب بےسبب نہیں بھرتا لوگ اگر اس کی نعمتوں کا جائز استعمال کریں اور ہر وقت اظہار تشکر میں مصروف رہیں تو کوئی وجہ نہیں کہ وہ خواہ مخواہ عذاب بھیج دے ، اس کا عذاب تو اس وقت آتا ہے جب سرکشیاں حد سے بڑھ جائیں اور قوم میں ناشکری کی وبا عام ہوجائے اور ضرورت محسوس ہو کہ اصلاح و عبرت کے لئے ازمائشیں نازل کی جائیں ۔ گویا وہ پیکر رحمت وعفو ہے بجز ضروری اور ناگزیر حالات کے سزا نہیں دیتا ۔
حل لغات :
الدرک : طبقہ ، درجہ
شاکر : شکریہ قبول کرنے والا ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 147–148
ف 3 یقین جانو ! کہ منافق جہن مکہ سب سے نیچے طبقے میں جائیں گے اور اے مخاطب تو ان کے لئے ہرگز کوئی مددگار نہ پائے گا جو ان کو اس سے سزا بچا سکے مگر ہاں وہ لوگ اس عذاب سے مستثنیٰ ہیں جو نفاق سے توبہ کرلیں اور اپنے معاندانہ برتائو کی اصلاح کرلیں اور کافروں کو چھوڑ کر اللہ تعالیٰ پر پورا اعتماد اور توکل رکھیں اور اپنے دین کو اللہ تعالیٰ کی رضا مندی کے لئے خلاص کرلیں یعنی دین کے جو اعمال کریں وہ خالص اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لئے کریں ت و ایسے توبہ کرنے والے لوگ کامل مومنوں کے ہمراہ ہونگے اور عنقریب ان کاملین مومنین کو اللہ تعالیٰ بہت بڑا صلہ اور اجر عطا فرمائے گا اور جو لوگ ان کے ہمراہ ہوں گے ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 145–147
ف 1۔ اوپر منافقین کے قبائح وشنائع کا بیان مقصود تھا گو ایک مضمون کے ضمن میں ان کی سزائے جہنمیت کا بھی ذکر آگیا تھا آگے ان کی سزا کا بیان مقصود ہے اور چونکہ بیان سزا کا اثر فی نفسہ یہ ہے کہ سلیم المزاج آدمی کو خوف پیدا ہوجاتا ہے جو سبب ہوجاتا ہے توبہ کا۔ اس لیے سزا سے تائبین کا استثناء اور ان کی جزائے نیک کا بیان بھی فرمادیا۔
Read the full tafseer →اگر تم شکر گزاری اختیار کرلو اللہ آخر تم کو عذاب کیوں دے گا ؟
235: عذاب کی وعیدیں تم کو سنائیگئی ہیں کیوں ؟ اس لئے کہ تم اپنی اصلاح کرلو اور اس طرح ان وعیدوں کی زد سے بچ جائو اگر تم خود بچنے کا ارادہ کرو تو آخر تم پہلے جس حالت میں خواہ وہ نفاق کی ہے یا کفر کی تو کسی نے مجبور کر کے تم کو اس پر لگایا ہے وہ بھی تو تمہاری اختیاری بات ہے اگر اب بھیتم اصلاح کرلو تو آخر اللہ تم کو عذاب کیوں دے گا ؟ تم اپنینفس کی اصلاح کر کے دیکھو کیا عذاب ٹلتا ہے یا نہیں بلکہ یقین جان لو کہ اللہ تعالیٰ تو کسی کو عذاب دے کر بالکل خوش نہیں اس کی تو رضاہی یہ ہے کہ سب لوگ گناہوں سے بچ جائیں وہ ایک بالشت اللہ کی طرف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 145–148
The purpose in previous verses was to point out to some ugly traits of the hypocrites, though their punishment of being in Hell with disbelievers was also mentioned as a corollary to another subject.
From this stage onwards, the purpose is to state their punishment clearly. Since the inherent effect of such impending punishment generates a sense of fear in a good-natured person which usually becomes the reason for early repentance, therefore, exemption from punishment has been promised to those who repent alongwith the incentive of good reward for them.
The Meaning of sincerity
The…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 147–148
175. Shukr denotes an acknowledgement of benefaction and a feeling of gratitude. This verse states if a person does not behave ungratefully towards God then there is no reason why God should punish him.
The attitude of gratefulness to God consists of acknowledging His benefaction in one's heart, in confessing it in one's speech and by manifesting it in one's deeds. It is the sum-total of these which is termed shukr. This attitude requires:
(1) that a person should ascribe the benefaction to its real source, letting no one share in either the gratitude or the acknowledgement of…
Read the full tafseer →